Az-Zumar 39:53

Az-Zumar · from ayah 53

39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤی اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ؕ— اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ؕ— اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۟قُلۡ يٰعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا‌ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ

(اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "O My servants who have transgressed against themselves [by sinning], do not despair of the mercy of Allah. Indeed, Allah forgives all sins. Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful."

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 6 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:53

(اے نبیؐ) کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور و رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : ”اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ یقینا وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیجئے: اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر لی ہے! تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ سارے گناہ معاف فرما دیتا ہے، وہ یقینا بڑا بخشنے والا، بہت رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، بیشک اللہ سب کے سب گناہ بخش دیتا ہے۔ بیشک وہی تو بےحدبخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ لوگوں سے کہہ دیجئے : اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقینا سارے ہی گناہ معاف کردیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا وہ بڑا ہی غفور رحیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو (ان سے میری طرف سے کہ) اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے زیادتی کی اپنی جانوں پر کہ مایوس نہ ہوؤ تم اللہ کی رحمت سے بیشک اللہ (اپنے کرم و عنایت سے) بخشش فرماتا ہے سب گناہوں کی بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ (میری طرف سے) کہہ دیجئے کہ اے میرے بندوجو اپنے اوپر زیادتیاں کرچکے ہو اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو۔ بیشک اللہ سارے گناہ معاف کردے گا۔ بیشک وہ بڑا غفور ہے بڑا رحیم ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا یقینا اللہ سارے گناہ معاف فرما دے گا یقینا وہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ! میری طرف سے لوگوں کو کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے نامید نہ ہونا اللہ تو سب گناہوں کی بخشش دیتا ہے اور وہ تو بخشنے والا مہربان ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them, (O Prophet): “My servants who have committed excesses against themselves, do not despair of Allah's Mercy. Surely Allah forgives all sins. He is Most Forgiving, Most Merciful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say (on My behalf), :O servants of Mine who have acted recklessly against their own selves, do not despair of Allah‘s mercy. Surely, Allah will forgive all sins. Surely, He is the One who is the Most-Forgiving, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Say (on My behalf), :O servants of Mine who have acted recklessly against their own selves, do not despair of Allah‘s mercy. Surely, Allah will forgive all sins. Surely, He is the One who is the Most-Forgiving, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "O My servants who have transgressed against themselves! Despair not of the mercy of Allah, verily, Allah forgives all sins. Truly, He is Oft-Forgiving, Most Merciful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: O My slaves who have been prodigal to their own hurt! Despair not of the mercy of Allah, Who forgiveth all sins. Lo! He is the Forgiving, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "O My servants who have transgressed against themselves [by sinning], do not despair of the mercy of Allah. Indeed, Allah forgives all sins. Indeed, it is He who is the Forgiving, the Merciful."

— Saheeh International

(Muhammad), tell my servants who have committed injustice to themselves, "Do not despair of the mercy of God. God certainly forgives all sins. He is All-forgiving and All-merciful."

— Muhammad Sarwar

Say: O my servants! who have acted extravagantly against their own souls, do not despair of the mercy of Allah; surely Allah forgives the faults altogether; surely He is the Forgiving the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: my bondmen who have committed extravagance against themselves despair not of the mercy of Allah; verily Allah will forgive the sins altogether. Verily He! He is the Forgiving, the Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "O my Servants who have transgressed against their souls! Despair not of the Mercy of Allah: for Allah forgives all sins: for He is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 53–59

توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ۔ اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لئے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ کی باتیں اور آپ کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 53–54

سورة الزُّمَر 70 بعض لوگوں نے ان الفاظ کی یہ عجیب تاویل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو خود " اے میرے بندو " کہہ کر لوگوں سے خطاب کرنے کا حکم دیا ہے لہٰذا سب انسان نبی ﷺ کے بندے ہیں۔ یہ درحقیقت ایک ایسی تاویل ہے جسے تاویل نہیں بلکہ قرآن کی بد ترین معنوی تحریف اور اللہ کے کلام کے ساتھ کھیل کہنا چاہیے۔ جاہل عقیدت مندوں کا کوئی گروہ تو اس نکتے کو سن کر جھوم اٹھے گا، لیکن یہ تاویل اگر صحیح ہو تو پھر پورا قرآن غلط ہوا جاتا ہے، کیونکہ قرآن تو از اول تا آخر انسانوں کو صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ قرار دیتا ہے، اور اسکی ساری دعوت ہی یہ ہے کہ تم ایک اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ محمد ﷺ خود بندے تھے۔ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–54

خلاصہ تفسیر آپ (ان سوال کرنے والوں کے جواب میں میری طرف سے) کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو جنہوں نے (کفر و شرک کر کے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم خدا کی رحمت سے ناامید مت ہو (اور خیال نہ کرو کہ ایمان لانے کے بعد گزشتہ کفر و شرک پر مواخذہ ہوگا سو یہ بات نہیں بلکہ) بالیقین اللہ تعالیٰ (اسلام کی برکت سے) تمام (گزشتہ) گناہوں کو (گو کفر و شرک ہی کیوں نہ ہو) معاف فرما دے گا واقعی وہ بڑا بخشنے والا، بڑی رحمت کرنے والا ہے اور (چونکہ اس معافی کی شرط اور طریقہ کفر سے توبہ کرنا اور اسلام لانا ہے، اس لئے) تم (کفر سے توبہ کرنے کے لئے) اپنے رب کی طرف رجوع کرو اور (اسلام قبول کرنے میں) اس کی فرمانبرداری کرو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

8۔ آگے کا مضمون آیات 63-52 آگے مشرکین کو دعوت دی ہے کہ تم نے خدا سے بدگمان اور مایوس ہو کر شرک و شفاعت کے جو چور دروازے پیدا کئے ہیں، یہ تمہاری نجات کی راہ نہیں کھولیں گے بلکہ تمہاری نامرادی میں اضافہ کا سبب ہوں گے فلاح کی راہ یہ ہے کہ صدق دل کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو اور اس بہترین کتاب کی پیروی کرو جو اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے اتاری ہے ورنہ یاد رکھو کہ جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنی نالائقی پر سر پیٹو گے لیکن اس وقت تمہارا پچھتانا تمہارے لئے کچھ سود مند نہیں ہوگا۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔ 9۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت آیت 54 مشرکین کے ایک اہم کا ازالہ شرک و شفاعت کے عوامل میں سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی مغفرت کی وسعت کا بیان ہے۔ اسراف کے معنی ہیں گناہوں کی کثرت اور اس میں افراط۔ ' اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ' کا مطلب ہے کہ ایمان لانے سے قبل یا توبہ و استغفار کا احساس پیدا ہونے سے پہلے کتنے بھی گناہ کئے ہوں، انسان یہ نہ سمجھے کہ میں بہت زیادہ گنہگار ہوں، مجھے اللہ تعالیٰ کیونکر معاف کرے گا ؟ بلکہ سچے دل سے اگر ایمان قبول کرلے گا یا توبہ کرلے گا تو اللہ تعالیٰ تمام گناہ معاف فرما دے گا۔ شان نزول کی روایت سے بھی یہی مفہوم ثابت ہوتا ہے کچھ کافر و مشرک تھے جنہوں نے کثرت سے قتل اور زنا کاری کا ارتکاب کیا تھا یہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ آپ ﷺ کی دعوت…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–75

18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 221 ایک نظر میں اس سے پہلے سبق میں بتایا گیا تھا کہ قیامت کے دن ظالمون کے حالات کیا ہوں گے۔ ولوان للذین۔۔۔۔۔۔ به یستھزءون (39: 47 تا 48) ” اگر ان ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو ، اور اتنی ہی اور بھی ، تو یہ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے ۔ وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے۔ وہاں اپنی کمائی کے سارے برے نتائج ان پر کھل جائیں گے جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں “۔ اس لیے اس سبق میں توبہ کا دروازہ کھولا جاتا ہے اور کوئی کس قدر گناہوں کا مرتکب کیوں نہ ہوگیا ہو ، اسے دعوت دی جاتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یہ آیت ارحم الراحمین کی رحمت بےپایاں اور عفو و درگزر کی شان عظیم کا اعلان کرتی ہے اور سخت سے سخت مایوس العلاج مریضوں کے حق میں اکسیر شفاء کا حکم رکھتی ہے۔ مشرک، ملحد، زندیق، مرتد، یہودی، نصرانی، مجوسی، بدعتی، بدمعاش، فاسق، فاجر کوئی ہو آیت ہذا کو سننے کے بعد خدا کی رحمت سے بالکلیہ مایوس ہوجانے اور آس توڑ کر بیٹھ جانے کی اس کے لیے کوئی وجہ نہیں۔ کیونکہ اللہ جس کے چاہے سب گناہ معاف کرسکتا ہے کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ پھر بندہ ناامید کیوں ہو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے دوسرے اعلانات میں تصریح کردی گئی کہ کفر و شرک کا جرم بدون توبہ کے معاف نہیں کرے گا۔ لہذا (اِنَّ اللّٰهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53 { قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے !“ قُلْ یٰعِبَادِیْکا اندازِ تخاطب اس سورت میں یہاں دوسری مرتبہ آیا ہے۔ اس سے پہلے آیت 10 میں ارشاد ہوا : { قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے : اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو“۔ اب یہاں گویا پھر سے یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ اب تک کی زندگی اگر تم لوگوں نے غفلت میں گزار دی ہے تو اب بھی وقت ہے ‘ اب بھی ہوش میں آ جائو ! اور اگر تم نے اب تک اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تو : { لَا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

71 اسلام لانے سے پہلے گناہ معاف ہوجاتے ہیں :۔ اس آیت کے انداز سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ کسی سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور ان لوگوں کے لئے پیغام امید لے کر آئی ہے جو دور جاہلیت میں قتل، زنا، چوری، ڈاکے اور ایسے ہی سخت گناہوں میں غرق رہ چکے تھے اور اس بات سے مایوس تھے کہ یہ قصور کبھی معاف نہ ہوسکیں گے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : 1۔ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ مشرکوں نے بہت خون کئے تھے اور بکثرت زنا کرتے رہے، وہ آپ کے پاس آکر کہنے لگے : آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس دین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ اچھا ہے۔ کیا اچھا ہو اگر آپ ہمیں یہ بتادیں کہ ہمارا اسلام لانا ہمارے گناہوں کا کفارہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

69۔ (یہ خیال کرکے کہ اللہ تعالیٰ کفر وشرک کے معاف کرنے پر قادر نہیں) یہ رد ہے ان مذاہب پر جو خدا کے وجود کے تو قائل ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ وہ عفوذنوب پر قادر نہیں۔ (آیت) ” الذین اسرفوا علی انفسھم “۔ اسراف علی النفس سے مراد کفر وشرک سے ہے 70۔ (اسلام کی برکت سے) یعنی اب جب تم کفر وشرک ترک کر کے ایمان لارہے تو اب کیا ڈر ہے۔ اب تو تمہارے سارے گناہ دھل جائیں گے، دوسرے مذاہب کی تنگی کا تو ذکر ہی نہیں۔ خود مسیحیت جیسے لینت و شفقت وترحم پر ناز ہے اس کا حال انجیل کی زبانی سنیے :” میں تم سے کہتا ہوں کہ آدمیوں کا ہر گناہ اور کفر تو معاف کیا جائے گا مگر جو کفر روح کے حق میں ہو وہ معاف نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–63

آیت نمبر 53 تا 63 ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا تقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا آپ کہہ دیجئے کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے (کفر و شرک کر کے) اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں ‘ تم اللہ کی رحمت سے نراس مت ہو۔ یقیناً اللہ (تمہارے) تمام (گذشتہ) گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ یعنی کفر و معاصی کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو حد سے بڑھ کر مجرم بنا دیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا : اسراف سے مراد کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ہے۔ لاَ تَقْنَطُوْا یعنی اگر تم ایمان لے آئے اور توبہ کرلی تو اللہ کی مہربانی اور مغفرت سے ناامید نہ ہو۔ مغفرت کیلئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

آپ فرما دیجیے کہ اے میرے بندو جنہوں نے کفر و شرک کر کے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں کہ تم اللہ کی مغفرت سے مایوس مت ہو اللہ اس شخص کے تمام گناہوں کو جو کفر سے توبہ کرے اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے معاف فرمائے گا وہ توبہ کی حالت میں مرنے والے پر بڑی رحمت فرمانے والا ہے۔ شان نزول : قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ (الخ) بخاری و مسلم کی حدیث اس آیت کے بارے میں سورة فرقان میں گزر چکی ہے۔ ابن ابی حاتم نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مکہ مکرمہ کے مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور طبرانی اور حاکم نے حضرت ابن عمر سے روایت نقل کی ہے کہ فرماتے ہیں کہ ہم کہا کرتے تھے کہ فساد…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ۔۔ : سورت کی ابتدا سے یہاں تک مختلف طریقوں سے شرک کی تردید اور مشرکین کو وعید کا ایک لمبا سلسلہ چلا آ رہا ہے، جس کی پروا بظاہر کافر و مشرک لوگ نہیں کرتے، مگر اللہ تعالیٰ کے اس قدر پرزور کلام سے ان کے دلوں میں خوف کا پیدا ہونا ایک فطری چیز ہے، جو حد سے بڑھ جائے تو نتیجہ یاس اور ناامیدی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر جگہ ڈرانے کے ساتھ بشارت کا بیان بھی ضرور فرماتا ہے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ اس کے بندے ناامید ہو کر اس کی جناب میں آنے کی جرأت ہی نہ کریں، اور بشارت اور ترغیب کے ساتھ ترہیب اور ڈرانے کا بیان بھی فرماتا ہے، تاکہ وہ بےخوف نہ ہوجائیں، جیسا کہ جراح نشتر بھی لگاتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 53–59

53 ۔ 59:۔ قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا یقنطو امن (رح) اگر تو چاہے تو یاء کو حذف کر دے کیونکہ ندا بھی حذف کا موقع ہے۔ نحا نے کہا : اس میں نمایاں ترین وہ روایت ہے جسے محمد بن اسحاق نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ اور وہ حضرت عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں (1) جب ہم نے ہجرت کا ارادہ کرلیا تو میں ‘ ہشام بن عاص بن وائل سہمی اور عیاش بن ابی ربعہ بن عتبہ نے عہد و پیمان کیا کہا : ہمارے اکٹھے ہونے کی جگہ بنو غفار کا کنواں ہے ہم نے کہا : جو ہم سے پیچھے رہ گیا تو وہ محبوس سمجھا جائے گا پس اس کا ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہیں اور عیاش عتبہ پہنچ گئے اور ہشام کو ہم سے روک لیا گیا اسے آزمائش میں ڈالا گی اپس وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “ (آپ فرما دیجئے کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے کفر و شرک کرکے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں) کہ (یہ آیت) مکہ کے مشرکوں کے بارے میں ہے۔ 2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) و طبرانی (رح) وحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) فی الدلائل ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے (اس آیت کو) لکھا پھر ہشام بن عاص کی طرف بھیجا۔ توبہ سے ہر گناہ معاف ہوجاتا ہے : 3:۔ طبرانی (رح) وابن المردویہ و بیہقی نے شعب الایمان میں (بسند لین) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حمزہ ؓ کے قاتل وحشی بن حرب کی طرف قاصد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ (میرا) پیغام دیں (کہ)] يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ [اے میرے وہ بندو جنہوں نے ] اَسْرَفُوْا [زیادتی کی ] عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ [اپنی جانوں پر ] لَا تَقْنَطُوْا [تم لوگ مایوس مت ہو ] مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کی رحمت سے ] اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ ] يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ [بخش دیتا ہے گناہوں کو ] جَمِيْعًا ۭ [سب کو ] اِنَّهٗ [بیشک وہ ] هُوَ الْغَفُوْرُ [ہی بےانتہا بخشنے والا ] الرَّحِيْمُ [ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] ۔ نوٹ۔ 1: آیت 53 میں خطاب تمام انسانون سے ہے۔ جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ عام انسانوں کو مخاطب کرکے یہ بات ارشاد فرمانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کے بغیر سارے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ کا اعلان، انابت الی اللہ کا حکم، مکذبین اور متکبرین کی بدحالی اللہ تعالیٰ حکیم ہے، سمیع ہے، بصیر ہے، علیم ہے، خبیر ہے، قہار ہے، غفار ہے، وہ گناہوں پر مواخذہ بھی فرماتا ہے اور معاف بھی فرما دیتا ہے اس کی مغفرت بہت بڑی ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کی شان غفاریت کا عام اعلان کیا اور فرمایا۔ (قُلْ یٰعِبٰدِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ) (آپ میرے ان بندوں سے فرما دیجیے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں) کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ میں تو بہت بڑا گنہگار ہوں میری بخشش کیسے ہوگی جتنا بڑا بھی جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–63

بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔ (ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 53–54

54:۔ ” قل یٰعبادی الخ “ یہ ترغیب الی التوحید ہے۔ میرے پیغمبر ! میرے ان بندوں سے کہہ دیں جنہوں نے شرک کی وجہ سے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے کہ وہ میری رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ بلکہ شرک سے سچی توبہ کر کے صرف مجھے ہی پکاریں تو میں ان کے سارے گناہ معاف کردوں گا۔ کیونکہ غفور و رحیم میں ہی ہوں۔ ان اھل مکۃ قالوا یزعم محمدان من عبدالوثن وقتل النفس بغیر حق لم یغفر لہ فکیف ولم نہاجر و قد عبدانا الاوثان و قتلنا النفس فنزلت (بیضاوی) ۔ شان نزول اگرچہ خاص ہے لیکن مفہوم کے لحاظ سے آیت کا حکم عام ہے۔ اور اس میں ہر گنہگار کو اللہ کی رحمت ومغفرت کی امید دلائی گئی ہے۔ ” وانیبوا الی ربکم الخ “ اور معاصی کو ترک کر کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 53–63

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رکوع نمبر 3 قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ۝ 0 ۭ اِنَّ اللہَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا۝ 0 ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۝ 53 عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–59

ترکیب : ان تقول۔ مفعول لہ ای کر اہتہ ان تقول۔ وقال الکوفیون، لئلا تقول۔ حسرتی الالف مبدل من یاء المتکلم و ان کنت ان مخففۃ من الثقیلۃ ای انی۔ تفسیر : وعید کے بعد اپنے بندوں سے مغفرت کا وعدہ فرماتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی عادت ہے۔ فقال قل یا عبادی الذین اسرفوا الخ کہ اے محمد ﷺ میرے ان بندوں سے کہہ دے کہ جنہوں نے اپنے لیے زیادتی کی ہے۔ یعنی گناہ کئے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ویں کیونکہ وہ سب گناہ بخش دیتا ہے، وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں، اس کے یہ معنی ہیں کہ گناہ گار یہ نہ سمجھیں کہ اب کسی طرح سے ہمارے گناہوں کی خدا تعالیٰ کے یہاں معافی ہی نہیں بلکہ وہ غفار…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا ط اِنَّـہٗ ھُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ۔ (الزمر : 53) (اے پیغمبر کہہ دیجیے، اے میرے بندوں جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ، یقینا اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے، وہ بڑا ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ) خطاب کا مفہوم آیت کے شروع میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ لوگوں سے یہ بات کہیں۔ اس کے فوراً بعد اے میرے بندو ! کہہ کر خطاب فرمایا گیا ہے۔ صاحب تفہیم القرآن اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں مال کی کمی، بیشی کے بارے میں ایک غلط فہمی کا ازالہ فرمایا ہے۔ اب گناہگاروں کی غلط فہمی دور کی جارہی ہے : گناہگار بالخصوص بڑے بڑے جرائم کرنے والوں کو ہمیشہ سے غلط فہمی رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے گناہ کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اس غلط فہمی کی بنیاد پر کچھ لوگ جرائم میں آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ انہیں موت آ لیتی ہے۔ کچھ لوگ یہ یقین کرلیتے ہیں کہ جب تک فلاں قبر والے یا زندہ بزرگ کو راضی نہیں کریں گے اس وقت تک ہماری توبہ قبول نہ ہوگی۔ اس غلط فہمی کو ان لوگوں نے مزید پختہ کیا جو مذہب کی آڑ میں مال بٹورتے اور لوگوں کی حرمتوں سے کھیلتے ہیں۔ اس لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہ آیت دنیا اور مافیہا سے بڑھ کر ہے : قل، کہہ دیجیے۔ اے محمد ﷺ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، آیت، اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنے اوپر زیادتیاں کی ہیں۔ گناہوں میں اسراف و غلو اختیار کر کے اپنے اوپر زیادتیاں کرلی ہیں۔ آیت، تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید مت ہو یقینا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ لاتقنطوا کا معنی مایوس نہ ہو۔ قراءت۔ علی، بصری نے لاتقنطوا نون کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ الذنوب سے شرک کے علاوہ گناہ مراد ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کی قراءت میں یغفر الذنوب جمیعا ولا یبالی ہے اور مبالات کی نفی کی نظیر خوف کی نفی ہے جو اس آیت میں پائی جاتی ہے۔ ولا یخاف عقباھا (الشمس : 15) ۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

قل یعبادی الذ ین اسرفواعلی انفسھم کی تفسیر 53، قل یا عبادی الذ ین اسرفواعلی انفسھم لاتقنطوامن رحمۃ اللہ ، سعید بن جبیر (رح) کا بیان ہے وہ ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ کچھ مشرک ایسے تھے جنہوں نے بہت آدمیوں کو قتل کیا تھا اور ارتکاب زنا بھی بہت کیا تھا۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس امر کی دعوت دیتے ہیں ، وہ ہے تو اچھا کیا آپ بتائیں گے کہ اس سے ہماری بداعمالیوں کا بھی کفارہ ہوجائے گا ؟ اس پر سورة فرقان کی آیت ، والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر۔۔۔۔۔۔۔ غفورارحیما، تک اور آیت ، قل یا عبادی الذین اسرفواعلی انسھم الخ، نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 53–58

53۔ 58۔ اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے اکثر مفسر تو یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک اور کفر بھی داخل ہے اور جس رحمت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے حامل نہیں ہوسکتی کیونکہ ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ کفر اور شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا اور بعضے مفسر یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک و کفر داخل نہیں ہے اس لئے جس رحمت کا ذکر اس آیت میں ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ صحیح مسلم ابودائود اور نسائی میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 53–60

آیت 53 اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انہیں اپنی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہے، چناچہ : (قل) اے رسول اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو ! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (آیت) ” اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے “ یعنی جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کشواں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی (لاتقنطوا من رحمۃ اللہ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ کہ اپنے آپ کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

99 اللہ کے بندوں کے لیے اعلان رحمت کا حکم وارشاد اور اہل بدعت کے ایک مظالطے کا جواب : سو پیغمبر کو خطاب کر کے اس اعلان رحمت کی ہدایت فرمائی گئی کہ " ۔ ان سے میری طرف سے ۔ کہو کہ اے میرے وہ بندو جنہوں نے زیادتی کرلی اپنی جانوں پر "۔ یعنی آپ ہمارے رسول اور نمائندہ ہونے کے اعتبار سے ہمارا یہ پیغام ہمارے بندوں کو پہنچا دیں۔ سو یہ ارشاد ربانی بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح کہ بادشاہ کا کوئی نمائندہ بادشاہ کی طرف سے کوئی فرمان اس کی رعایا کو پڑھ کر سناتا ہے۔ تو اس کے لئے وہ بعینہ وہی الفاظ اور وہی صیغے دوہراتا اور استعمال کرتا ہے جو بادشاہ نے کہے ہوتے ہیں۔ اور وہ انہیں اپنی طرف منسوب کرکے اس طرح کہتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–61

عذاب اور ثواب کے صاف صاف احکامات تشریح : ان آیات میں پھر یہی اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ جب بھی تمہارے دلوں کو اللہ کا پیغام بھا جائے تو اس کی طرف چل پڑو یہ نہ سوچو کہ اوہو تمام عمر تو کفر میں گزر گئی اب کیا ہوگا۔ اس مقام پر چند خاص باتیں اچھی طرح یاد رکھیں۔ 1 ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے توبہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے توبہ کرو۔ 2 ۔ موت سے پہلے توبہ کرو کیونکہ موت کے وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔ 3 ۔ قیامت کے دن یہ حیلہ ہرگز قبول نہ ہوگا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوا کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی ﷺ تک برابرنبی اور پیغمبر لوگوں کی ہدایت کیلئے مسلسل آتے رہے ہیں۔ 4 ۔ جو نیک کام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 53–63

رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63: اسرار و معارف : نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی اے نبی ﷺ ! میرے بندوں سے خطاب کر کے کہہ دیجئے۔ واضح رہے کہ تمام لوگ مسلمان ہوں یا کافر، انبیاء ( علیہ السلام) و الیاء ہوں یا فرشتے سب اللہ کے بندے ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بھی متعدد آیات میں بندہ کہہ کر خطاب فرمایا ہے۔11 یعنی کفر و شرک اور گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو دوزخ کا مستحق بنا لیا۔ یہاں اسراف میں اور گناہوں کے علاوہ کفر و شرک بھی داخل ہے۔12 یہ رحمت مقید بہ توبہ ہے کیونکہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتا۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ ہم اتنے گناہ کرچکے ہیں اب ہماری بخشش کیونکر ہوگی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اس کی رحمت بڑی وسیع ہے اور ہر انسان کے سامنے توبہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:53) قل : ای قل یا محمد۔ خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے۔ عبادی۔ مضاف مضاف الیہ۔ عبد کی جمع ہے اور ی ضمیر واحد متکلم کی ہے : میرے بندو۔ اس میں اضافت عہد کی ہے یعنی اس سے مراد اللہ کے بندے ہیں۔ ناکہ امر قل کے مخاطب کے۔ کیونکہ یہ اضافت بلاشک و شبہ ہر ایک کے علم میں موجود ہے۔ قرآن کریم میں عبادی 17 جگہ آیا ہے اور ہر جگہ اجافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہے۔ قل یعبادی فرما دیجئے : اے اللہ کے بندو ! یہاں اللہ کے بندوں سے مراد المؤمنون المذنبون ہے وہ مومن جن سے گناہ سرزد ہوگئے ہوں۔ یا وہ جنہوں نے اسلام لانے سے قبل گناہ کا ارتکاب کیا ہو۔ الذین اسرفوا علی انفسھم یہ جملہ عبادی کی صفت ہے بمعنی جنہوں نے اپنی جانوں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 53–63

لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 53–55

مصیبت کے وقت خدا کو یاد کرنا چاہیے۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب اکیلے خدا کا ذکر کیا جاتا ہے اور کلمہ توحید ، لا الہ الا اللہ کہا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل جو آخرت وقیامت کے قائل نہیں نفرت کرتے ہیں اور وہ بہت تنگ دل اور پریشان ہوتے ہیں اور ناگواری کا اثر ان کے چہروں پر ظاہر ہوجاتا ہے اور جب خدا کے اور شریکوں کا ذکر ہوتا ہے یعنی لات وعزی منات وغیرہ بتوں کا تو وہ خوش ہوتے ہیں آگے فرمایا تم جو اللہ سے دعا مانگو اسی کی طرف متوجہ ہو اور کہواے اللہ ہم کو خبر دے بہتری کا ارادہ ہمارے ساتھ ہو تو آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جو باتیں بندوں سے پوشیدہ ہیں ان کا بھی واقف عالم ہے اور جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 53–59

[33] یہ آیت اللہ تعالیٰ کی رحمت بےپایاں اور عفو و درگزر کی شان عظیم کا اعلان کرتی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے جیسا کہ اس کے بعد والی آیت سے واضح ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ ما سے روایت ہے کہ کچھ لوگ جو قتل، زنا، ڈاکے اور دوسرے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے تھے انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ جس دین کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں وہ ہے تو بہت اچھا مگر جب ہم بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرچکے ہیں اب اگر ہم مسلمان بھی ہوگئے تو کیا ہمارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 1: یعنی اے وہ لوگو ! جو گناہوں کی کثرت سے گھبراگئے ہو ۔ آؤ اور اسلام میں داخل ہوجاؤ۔ اور اس کے پیش کردہ مقام عبودیت کو حاصل کرلو ۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری تمام لغزشوں اور کوتاہیوں پر خط تنسیخ کھینچ دیا جائے گا ۔ تمہارے پہلے تمام جرائم بخش دیئے جائینگے ۔ اور تمہاری مایوسیوں کو رحمتوں اور بخششوں سے بدل دیا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(53) اے پیغمبر آپ میری طرف سے کہہ دیجئے اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اور حد سے تجاوز کیا ہے تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللہ تعالیٰ تمام گناہ بخش دے گا واقعی وہ بڑی بخشش کرنے والا نہایت رحم کرنے والا۔ چونکہ اوپر کی آیتوں میں شرک کی مذمت کا بیان تھا ہوسکتا ہے کہ بعض مشرکوں کو یہ خیال ہوا ہو کہ ہم ایسے گناہ کرنے کے بعد اب کس طرح مسلمان ہوسکتے ہیں اور ایمان لانے سے ہم کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نامید ہونے کی کوئی وجہ نہیں اللہ تعالیٰ ایمان لانے اور توبہ کرنے کے بعد تمام گناہوں کو بخش دے گا اور سب کی مغفرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی یہ خیال نہ کرو کہ ایمان لانے کے بعد گزشتہ کفر و شرک پر مواخذہ ہوگا، سو یہ بات نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میرے بندوں کو کہہ دو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے کہ وہ رحمت سے مایوس نہ ہوں 53۔ زیر نظر آیت رحمت بےپایاں کا ذکر کھول کر کر رہی ہے اس لیے ضروری ہے کہ اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ رحمت الہٰی کیا ہے ؟ قرآن ِ کریم کہتا ہے کہ کائناتِ ہستی میں جو کچھ بھی خوبی و کمال ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ رحمت الہٰی کا ظہور ہے۔ بلاشبہ جب ہم کائناتِ ہستی کے اعمال و مظاہر پر غور کرتے ہیں تو سب سے پہلی حقیقت جو ہمارے سامنے آتی ہے وہ اللہ رب کریم کا نظام ربوبیت ہے کیونکہ فطرت سے ہماری پہلی شناسائی ربوبیت ہی کی ذریعہ ہوتی ہے لیکن جب علم و ادراک کی راہ میں چند قدم آگے بڑ تھے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ربوبیت سے بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–54

Commentary Verse 53 opens with the words: قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَ‌فُوا (0 servants of Mine who have acted recklessly against their own selves, do not despair of Allah's mercy. Surely, Allah will forgive all sins.). Taba` i, Said Ibn Jubayr reports from Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ that there were some people who had killed a lot of people unjustly and had committed a lot of shameful acts. They came to the Holy Prophet ﷺ and submitted before him, 'The religion you invite us to is, no doubt, very good, but we have a problem. We think about all those major sins we have already committed.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–54

70 Some commentators have given a strange interpretation to these words. They say that Allah Himself has commanded the Holy Prophet to address the people as "My servants" therefore, all men are the servants of the Holy Prophet. This interpretation is no interpretation at all but a worst distortion of the meaning of the Qur'an and indeed tampering with the Word of Allah. If this interpretation were correct, it would falsify and negate the whole Qur'an. For the Qur'an, from the beginning to the end, establishes the concept that men are the servants of Allah alone, and its whole message revolves…

Read the full tafseer →