Explained with ayahs 49–52
انسان کا ناشکرا پن۔
اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ مشکل کے وقت تو وہ آہ وزاری شروع کردیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہوجاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہوگئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقل مندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات یوں نہیں بلکہ دراصل عقل مندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 69
یعنی رزق کی تنگی و کشادگی اللہ کے ایک دوسرے ہی قانون پر مبنی ہے جس کے مصالح کچھ اور ہیں۔ اس تقسیم رزق کا مدار آدمی کی اہلیت و قابلیت، یا اس کے محبوب و مغضوب ہونے پر ہرگز نہیں ہے۔ (اس مضمون کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، صفحات 202۔ 212۔ 221۔ 274۔ 275۔ 322۔ 334۔ 457۔ جلد سوم، صفحات 26۔ 77۔ 78۔ 139۔ 189۔ 191۔ 192۔ 259۔ 260۔ 283۔ 284۔ 513۔ 516۔ 662۔ 664۔ جلد چہارم، حواشی سورة سبا 54 تا 60۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
(آیت) وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْنَ۔ حضرت سفیان ثوری نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا کہ ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے، ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے۔ یہ آیت انہیں سے متعلق ہے جو دنیا میں نیک کام لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے تھے۔ اور لوگ بھی ان کو نیک سمجھتے تھے وہ خود بھی اس دھوکہ میں تھے کہ یہ اعمال ان کے لئے نجات آخرت کا ذریعہ بنیں گے۔ مگر چونکہ ان میں اخلاص نہیں تھا اس لئے اللہ کے نزدیک ایسے نیک اعمال کا کوئی اجر وثواب نہیں، اس لئے وہاں اچانک ان کے گمان کے خلاف عذاب و عتاب ہونے لگے گا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →آیت 52
رزق و فضل اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے
بعینیہ یہی مضمون سورة روم آیت 37 میں بھی گزر چکا ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ وہاں المریروا کے الفاظ ہیں اور یہاں اولم یعلموا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص آنکھیں رکھنے والا اور عقل سے کام لینے والا ہو تو اس امر میں اس کے لئے کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہے کہ رزق و فضل کا تعلق انسان کے علم و اختیار نہیں بلکہ تمام تر اللہ تعالیٰ کی مشیت و حکمت سے ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے۔ کتنے ہیں جو بغیر سعی و تدبیر کے چاندی کا چمچہ منہ میں لے کر اس دنیا میں پیدا ہوتے ہیں اور کتنے ہیں جو رات دن دنیا ہی کی فکر میں سر کھپاتے ہیں اور دنیا…
Read the full tafseer →49۔ 1 یعنی رزق کی کشادگی اور تنگی میں بھی اللہ کی توحید کے دلائل ہیں یعنی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں صرف اسی کا حکم و تصرف چلتا ہے اسی کی تدبیر موثر اور کارگر ہے اسی لیے وہ جس کو چاہتا ہے رزق فراواں سے نواز دیتا ہے اور جس کو حاہتا ہے فقر وتنگ دستی میں مبتلا کردیتا ہے اس کے ان فیصلوں میں جو اس کی حکمت ومشیت پر مبنی ہوتے ہیں کوئی دخل انداز ہوسکتا ہے نہ ان میں رد وبدل کرسکتا ہے تاہم یہ نشانیاں صرف اہل ایمان ہی کے لیے ہیں کیونکہ وہی ان پر غور وفکر کر کے ان سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ کی مغفرت حاصل کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
17: مثلاً قارون نے یہی بات کہی تھی کہ مجھے جو دولت ملی ہے، وہ میرے علم و ہنر کی وجہ سے ملی ہے۔ دیکھئے سورة قصص : 78
Read the full tafseer →آیت نمبر 52
یہ تو اللہ کی نشانیاں ہیں کہ وہ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم دیتا ہے ، اور ان نشانات سے راہ ہدایت لینا چاہے ، نہ یہ کہ ان نشانات الہیہ کو کفر وضلالت کا ذریعہ بنایا جائے
Read the full tafseer →1 یعنی دنیا میں محض روزی کا کشادہ یا تنگ ہونا کسی شخص کے مقبول یا مردود ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ نہ روزی کا ملنا کچھ عقل و ذہانت اور علم و لیاقت پر منحصر ہے۔ دیکھ لو کتنے بیوقوف یا بدمعاش چین اڑا رہے ہیں، اور کتنے عقلمند اور نیک آدمی فاقے کھینچتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی عقل دوڑانے اور تدبیر کرنے میں کوئی کمی نہیں کرتا پھر ایک کو روزی کشادہ ہے ایک کو تنگ۔ جان لو کہ (صرف) عقل کا کام نہیں " (کہ اپنے اوپر روزی کشادہ کرلے) بلکہ یہ تقسیم رزاق حقیقی کی حکمت و مصلحت کے تابع اور اسی کے ہاتھ میں ہے۔
Read the full tafseer →آیت 52 { اَوَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ } ”کیا یہ جانتے نہیں کہ اللہ ہی ہے جو کشادہ کردیتا ہے رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کردیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے۔“
{ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ماننے والے ہیں۔“
Read the full tafseer →70 رزق کا انحصار مشیئت الٰہی پر ہے :۔ نشانیوں سے مرادیہ ہے کہ رزق کی اس کمی بیشی کی حکمتوں پر غور صرف اہل ایمان ہی کرتے ہیں۔ کیونکہ رزق کے حصول کا مسئلہ ایسا مسئلہ ہے جس کا انحصار محض اللہ کی مرضی اور حکمت پر ہے۔ رزق کا انحصار نہ عقل پر ہے نہ علم پر، نہ قابلیت اور تجربہ پر، نہ جسمانی قوت اور استعداد پر۔ سب انسان ہی یہ چاہتے ہیں اور اس کام کے لئے بھرپور کوشش بھی کرتے ہیں کہ انہیں زیادہ سے زیادہ مال و دولت حاصل ہو۔ الا ماشاء اللہ مگر تھوڑے ہی لوگ ہوتے ہیں جو آسودہ حال ہوتے ہیں زیادہ ایسے ہی ہوتے ہیں جو رزق کی تنگی کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں۔ اگر رزق کا انحصار عقل پر ہوتا تو بیوقوف بھوکے مرجاتے۔…
Read the full tafseer →68۔ یعنی اس قانون رزق، اس ضابطہ معاشیات کی باگ بھی ایک فاعل مختار، ایک قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے، نادان مشرک واسطہ کو مقصود سمجھ بیٹھتا ہے اور صاحب ایمان کی صاحب فہم بھی ہوتا ہے، علت حقیقی کو سمجھے رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : اللہ ہی قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی ہے انہیں ان کی نیند میں قبض کرلیتا ہے، یعنی ان کو نیند میں قبض کرلیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کیلئے چھوڑ دیتا ہے یعنی ان کی موت کے وقت تک، اور چھوڑی ہوئی روح تمییز ہے جس کے بغیر روح حیات باقی رہ سکتی ہے، اس کا عکس ممکن نہیں یقیناً ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لہٰذا اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جو ذات اس پر قادر ہے وہ بعث (بعد الموت) پر بھی قادر ہے، اور قریش نے اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کیا،…
Read the full tafseer →اولم یعلموا ان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر ان فی ذلک لایت لقوم یومنون کیا ان
کو معلوم نہیں کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ‘ رزق کی فراخی دیتا ہے اور (جس کو کم دینا چاہتا ہے اس کو) نپی تلی روزی دیتا ہے۔ اس (رزق کی کشائش و تنگی) میں ایمان والوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں۔
استفہام انکاری ہے ‘ یعنی اللہ بطور آزمائش جس کو چاہتا ہے ‘ کشادہ حال کردیتا ہے اور بطور امتحان جس کو چاہتا ہے ‘ تنگ دست کردیتا ہے۔ لوگ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ یہ دولت ہم نے اپنی تدبیر سے کمائی اور اتنا نہیں جانتے کہ رزق کی تنگی ‘ فراخی اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ کبھی ایسے لوگ تنگدست ہوجاتے ہیں جو کمائی کے بہت طریقوں سے واقف ہوتے ہیں اور کبھی…
Read the full tafseer →کیا ان کفار مکہ کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ آزمائش کے طور پر جس کو چاہتا ہے مال وافر دیتا ہے اور ڈھیل کے طور پر جس پر چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے اس آزمائش اور تنگی میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں اور دلائل ہیں۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ۔۔ : پچھلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ موجودہ اور پہلے کفار کا دھوکے میں مبتلا ہونے کا باعث انھیں عطا ہونے والا مال اور دوسری نعمتیں ہیں۔ انھوں نے اپنی جہالت سے یہ سمجھا کہ مال و دولت کی کثرت ان کی اپنی مہارت و قابلیت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے اور یہ ان کے حق پر ہونے کی اور اللہ تعالیٰ کے ان پر خوش ہونے کی دلیل ہے۔ فرمایا، نہ رزق کی کشادگی کسی شخص کے علم و عقل یا مہارت پر موقوف ہے نہ اس کا تنگ ہونا کسی کے علم و عقل یا مہارت کی کمی کی وجہ سے ہے اور نہ اس کی زیادتی یا کمی اللہ تعالیٰ کے خوش یا ناخوش ہونے کی دلیل ہے، بلکہ یہ صرف اور صرف اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
49 ۔ 52:۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حضرت حذیفہ بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ قتادہ نے کہا : علی علم یعنی میرے نزدیک کمائی کی کئی صورتیں تھیں ان سے یہ بھی مروی ہے کہ علی علم کا معنی ہے (1) اس خیر کی وجہ سیجو میرے پاس تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : علی علم کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس علم کی بنا پر جو میری فضیلت کے بارے میں موجود تھا حضرت حسن بصری نے کہا : علی علم کا معنی ہے اس علم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کہ مجھے علم تھا کہ جب دنیا مینعطا کیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں میرا مقام و مرتبہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بلکہ یہ آزمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “ (جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں) یعنی ہم اس کو عطا فرماتے ہیں (آیت ) ” قال انما اوتیتہ علی علم “ (تو کہتا ہے یہ مجھے میری تدبیر سے ملی ہے) یعنی اس شرف پر جو اس نے مجھے عطا کیا۔
2:۔ عبد الرزاق (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “ یعنی جب ہم نے اس کو عطا کیا۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما اوتیتہ علی علم “ میں ” علی علم “ کا مطلب ہے کہ وہ خبر…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَعْلَمُوْٓا [اور کیا انھوں نے جانا ہی نہیں ] اَنَّ اللّٰهَ يَبْسُطُ [کہ اللہ کشادہ کرتا ہے ] الرِّزْقَ [رزق کو ] لِمَنْ يَّشَاۗءُ [اس کے لئے جس کے لئے وہ چاہتا ہے ] وَيَقْدِرُ ۭ [اور اندازے سے دیتا ہے ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ [بیشک اس میں یقینا نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ [ایسے لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
قولہ تعالیٰ (اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلٰمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) ذکرا لضمیر الاول لان النعمۃ بمعنی الانعام۔۔ المراد بھا المال وأنت الضمیر الثانی لرجوعھا الی النعمۃ واختیر لفظھا کما ختیر فی الال المعنی۔۔ )
اللہ تعالیٰ کا ارشاد (اِنَّمَآ اُوتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلٰمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) اس میں پہلی ضمیر کو مذکر اس لیے لایا گیا ہے انعام کے معنی میں ہے اور بعض نے کہا اس لیے کہ یہاں نعمۃ سے مراد مال ہے اور دوسری ضمیر کو اس لیے مونث لایا نعمۃ کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہاں نعمۃ کا لفظ مراد ہے جیسا کہ پہلی ضمیر لوٹانے کے وقت نعمۃ کا معنی مراد لیا گیا ہے۔
پانچویں آیت میں یہ بیان فرمایا کہ یہ جملہ ایسے شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–52
تسلی برائے نبی کریم ﷺ بضمن تلقین دعا وبیان بیچارگی عالم پیش قدرت رب کبریاء :۔
قال اللہ تعالیٰ : قل اللھم فاطر السموت والارض ......... الی ......... لقوم یؤمنون “۔
(ربط) گذشتہ آیات مجرمین ومنکرین کی سزا اور قیامت کے روز ان کی ذلت وندامت کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک عظیم دعا کی تلقین وتعلیم کے ضمن میں تسلی دی جارہی ہے تاکہ آپ ﷺ کفار کی مخالفت اور شدت عناد سے مغموم ومتأسف نہ ہوں، ارشاد فرمایا : کہہ دیجئے اے ہمارے پیغمبر اپنے پروردگار سے دعا ومناجات کرتے ہوئے اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ظاہر و باطن کے جاننے والے آپ ہی قیامت کے روز اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ…
Read the full tafseer →53:۔ ” اولم یعلموا الخ “ یہ چھٹی عقلی دلیل ہے گذشتہ دلائل سے علی سبیل الترقی۔ اس سے قبل انسان کے اتبدائی اور انتہائی احوال کا ذکر تھا۔ یہاں درمیانی حال مذکور ہے۔ یعنی روزی کی تنگی اور فراخی اللہ کی قدرت کاملہ کے واضح نشانات ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے اور وہی فاعل حقیقی ہے۔ لایات دالۃ علی ان الھوادث کافۃ من اللہ تعالیی شانہ والاسباب فی التحقیقۃ ملغاۃ (روح ج 24 ص 13) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تردید فرمائی ، کچھ دلائل قدرت بیان کیے ہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) پر طعن کرنے والوں کا رد کیا ، پھر فرمایا کہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے لہذا اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے ، پھر آگے تنبیہہ فرمائی کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو میں اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہوں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ صحیح راستے پر کون ہے اور گمراہی میں کون بھٹک رہا ہے نیز یہ بھی کہ دائمی عذاب کس پر مسلط ہوتا ہے اور کون اس سے بچتا ہے پھر قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت پائے گا اس میں…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَقْدِرُ 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 5 2ۧ
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
بسط
بَسْطُ الشیء : نشره وتوسیعه، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] والبِسَاط : الأرض المتسعة وبَسِيط الأرض : مبسوطه، واستعار قوم البسط لکل شيء لا يتصوّر فيه تركيب وتأليف ونظم، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] ،
( ب س ط )
بسط الشئ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے اور توسیع کرنے کے ہیں ۔ پھر استعمال میں کبھی دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ترکیب : نعمۃ نصبھا علی الحال ای نعمۃ کائنۃ منا اوتیتہ الضمیر یرجع الی النعمۃ وھی مونث لفظا ولکن یراد بھا الشیء ھذا علی ان تکون ما فی انما کافۃ وعلی علم حال من المرفوع او المنصوب وان جعلت ماموصولۃ فالضمیر الی ما الموصولۃ و علی علم خبرہ قدقالھا الضمیر الی الجملۃ وھی قولہ انما الخ۔
تفسیر : یہاں سے مشرکین کی ایک اور عادت بیان فرماتا ہے۔ فقال فاذا مس الانسان کہ جب ان میں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے بیماری یا رزق کی تنگی وغیرہ تو خدائے تعالیٰ کو پکارتا ہے اور جب خدا اس پر فضل کرتا ہے اور راحت اور آسائش دیتا ہے تو اس کو اپنی دانائی یا تدابیر اور کوشش کی طرف منسوب کرتا ہے فرماتا ہے۔ بلھی فتنۃ بلکہ…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّـؤْمِنُوْنَ ۔ (الزمر : 52)
(کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ )
رزق و فضل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اس پر مشاہدے سے استشہاد
گزشتہ آیات میں انسان کی اس گمراہی پر کھل کر تنقید کی گئی ہے کہ انسان جو کچھ کماتا ہے اور جو کچھ اسے ملتا ہے وہ اس کی اپنی تدبیر اور اس کی سعی اور کاوش کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس تصور کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص اس بات پر یقین…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس مال پر مال دار اتراتے ہیں اس کی حقیقت۔
کیا لوگوں کو معلوم نہیں کہ ” اللہ “ ہی رزق بڑھانے اور تنگ کرنے والا ہے۔ بلا شبہ اس میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اس فرمان میں پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی داتا نہیں۔ وہی ہر چیز کا مالک ہے اور وہ اپنی حکمت کے تحت لوگوں کو رزق عطا کرتا ہے۔ دوسرا سبق اس میں یہ پایا جاتا ہے کہ کسی مالدار کو اپنے مال پر اترانا نہیں چاہیے کیونکہ رزق کی کشادگی اور تنگی کسی کی لیاقت اور محنت پر منحصر نہیں۔ دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو شب و روز محنت کرتے ہیں مگر رزق کی کشادگی دیکھنا ان کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ کچھ…
Read the full tafseer →آیت، کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہی جس کو چاہتا ہے۔ آیت، زیادہ رزق دیتا ہے اور وہی تنگی بھی کردیتا ہے۔ تنگی رزق کردیتا ہے۔
ایک قول : وہ خوراک کی مقدار میں کردیتا ہے۔ آیت، اس میں ایمان والوں کیلئے نشانیاں ہیں۔ کیونکہ کوئی اللہ تعالیٰ کے سوا قابض و باسط نہیں۔
Read the full tafseer →52، اولم یعلموا ان اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ، ، اللہ جس کو چاہتا ہے روز وسیع کردیتا ہے۔ ، ویقدر، اور رزق تنگ کردیتا ہے جس کو چاہے۔ ، ان فی ذ(رح) لک لایات لقوم یؤمنون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
49۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان مشرکوں کے دل میں ایک نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جب ان کے بتوں کا اچھا ذکر ان کے کانوں تک پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ عادت شیطان کے بہکانے سے ہے کیونکہ ان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح سے بسی ہوئی ہے کہ تکلیف کے وقت سوا اللہ کے ان کے بت کچھ کام نہیں آتے اس واسطے تکلیف کے وقت خالص اللہ ہی سے یہ لوگ رفع تکلیف کی التجا کرتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی ناشکری ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان کی وہ تکلیف رفع کردیتا ہے تو کبھی اس رفع تکلیف کو اپنی تدبیروں کے اثر سے اور کبھی اپنی عزت اور شرافت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
آیت 49
اللہ تعالیٰ اناسن کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے (دعانا) تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے گڑا گڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ (ثم ادا خولنہ نعمۃ منا) ” پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کردیتے ہیں “ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کردیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی نا سپاسی اور اس کے احاسن کا اعتراف کرنے سے انکار ہے اور (قال انما او تیتہ علی علم) ” کہتا ہے : مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے “ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہوا ہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →97 روزی کی بست و کشاد اللہ ہی کی قبضہ قدرت و اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں کو اس حقیقت کا علم نہیں ہوا کہ اللہ ہی روزی کشادہ فرماتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے اور تنگ فرماتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے "۔ پس نہ تو روزی کی تنگی و فراخی اللہ پاک کے یہاں مقبول یا مردود ہونے کی دلیل ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کے لئے کسی کو غلط ذرائع اختیار کرنے کی اور اس وحدہ لاشریک کا در چھوڑ کر کسی اور کے آگے جھک مارنے کی ضرورت ہوسکتی ہے کہ روزی کی قبض و بسط کا یہ سارا سلسلہ محض اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کوئی شخص اگر آنکھیں کھول کر دیکھے اور عقل کی روشنی سے صحیح طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–52
اللہ کی کچھ اور قدرتیں
تشریح : یہ باتیں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول کی زبان سے بار بار لوگوں کو سناتا ہے اور قرآن کے ذریعہ سے بار بار ہماری آنکھوں کے سامنے لاتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے قدرت والا ہے۔ اس کے برابر کوئی نہیں ہوسکتا یہ کوئی غلط یا انہونی بات نہیں کیونکہ ہم خود اور ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ اس کو بنانے والا ایک ہی ہے ورنہ یہ نظم و ضبط جو کائنات کے کارخانے میں موجود ہے کبھی ایک سا نہ رہتا۔ وہ کیونکہ عالم الغیب ہے اور رحمن و رحیم ہے اس لیے بار بار بتا رہا ہے کہ نیکی کی راہیں اختیار کرو، شیطان کو دوست مت بناؤ کیونکہ نیکی کا راستہ جنت کو اور شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 42 ۔ تا۔ 52:
اسرار و معارف :
یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جس کی موت آتی ہے اللہ ہی اس کی روح قبض فرما لیتا ہے یعنی اس کا تعلق بدن اور اس میں تصرفات سے اللہ کے حکم سے توڑ دیا جاتا ہے اور جس کی موت نہیں آتی اس کے لیے نیند کی حالت کو سمجھنا ہی کافی ہے کہ اس میں بھی روح بدن میں تصرفات سے روک دی جاتی ہے ہاں اس کا ایک گونہ تعلق باقی رکھا جاتا ہے پھر جس کا وقت پورا ہوچکا ہو اسے بدن میں واپسی سے روک دیا جاتا ہے اور جن کا ابھی وقت باقی ہے انہیں اس خاص مدت تک لوٹا دیا جاتا ہے یعنی انسان کا عجز اور اللہ کے دست قدرت کی گرفت میں ہونا نیند اور موت سے واجح ہے اور یہ بہت بڑی دلیل ہے…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی روزی کی تنگی اور کشائش اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے جس کی حکمت ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔ اس کی کمی بیشی کا مدار ہرگز آدمی کے علم و عقل اور ہنر مندی پر نہیں ہے۔ کتنے عقل مند لوگ رات دن فکر معاش میں سر گردان رہتے ہیں مگر اتنا بھی نہیں پاتے جس سے اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پال سکیں اور کتنے جاہل نادان ہیں جو بےفکر وسعی لاکھوں روپے کے مالک ہیں اور نہ اسکی کمی بیشی کا مطلب ہے کہ جس کو زیادہ روزی دی جا رہی ہے وہ حق تعالیٰ کا پسندیدہ اور جسے کم روزی دی جا رہی ہے وہ اس کی غیر پسندیدہ بندہ ہے۔ بعض اوقات کسی آدمی کو زیادہ روزی اس لئے دی جاتی ہے کہ اس کا امتحان لیا جائے کہ آیا وہ شکر کرتا…
Read the full tafseer →(39:52) اولم یعلموا۔ ہمزہ استفہام انکای ہے واؤ کا عطف فعل محذوف پر ہے لم یعلموا مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ کیا وہ نہیں جانتے۔
یبسط مضارع واحد مذکر غائب بسط (باب نصر) مصدر، وہ کشادہ کرتا ہے۔ وہ مراخ کرتا ہے۔ وہ وسیع کرتا ہے۔ بسطۃ وبسطۃ فضیلت، قدرت، جسم کی بڑائی۔ علم کی وسعت۔ کمال کی افزونی، بسط کبھی بمقابلہ قدر آتا ہے (تنگ کردینا) جیسا کہ آیت ہذا میں اور کبھی بمقابلہ قبض آتا ہے (تنگ کردینا) جیسے واللّٰہ یقبض ویبسط (2:245) اللہ ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔
یقدر۔ مضارع واحد مذکر غائب قدر (باب ضرب) مصدر سے وہ تنگ کرتا ہے۔ قدر وقدرۃ بمعنی طاقت رکھنا اور قادر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 52 : بدا ( ظاہر ہوا) یحسبون (وہ گمان کرتے ہیں) کسبوا (انہوں نے کمایا) حاق ( چھا گیا) ما اغنی ( کام نہ آیا) یصیب ( پہنچے گا) معجزین ( عاجز اور بےبس کرنے والے) یبسط ( وہ کشادہ کرتا ہے ، کھولتا ہے) یقدر ( وہ تنگ کردیتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 52 :۔ قیام کے ہولناک دن جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان ، عمل صالح اور نیکی اختیار کرنے والوں اور کافروں اور مشرکین کے بےبنیاد عقیدوں اور عمل سے متعلق فیصلے فرمائیں گے تو ان میں سے ظالموں کا یہ حال ہوگا کہ عذاب الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بوکھلا جائیں گے اور اگر انکے پاس زمین کے سارے خزانے بلکہ اس سے بھی زیادہ خزانے ہوں گے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
اہل دوزخ کی حسرتیں۔
(ف 1) دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپرگزرا ، مثلا کبھی کہیں گے کیا اچھا ہو تاکہ آج ہم لوگ بھی پرہیزگاروں میں ہوتے، کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتاجوہم لوگوں کو پھر دنیا میں جانے کی اجازت مل جاتی ہے اور ہم اب کی دفعہ دنیا میں جاکر نیک کام کرتے اور پھر جنت میں پاتے، ان دوزخیوں کی ان حسرت کی باتوں کے جواب میں اللہ یہ فرمائے گا کہ اب حسرت کا کیا موقع ہے دنیا میں رہنے کا موقع بھی تم کو ملا اور اللہ کے رسول کی معرفت تمہارے پاس قرآن پہنچا اور حق و باطل کی راہیں واضح کردی گئی اور تم کو حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
[32] آزمائش سے اس بات کی آزمائش مراد ہے کہ آدمی نعمت پا کر اللہ کا شکر کرتا ہے یا ناشکری۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمت کو اپنی قابلیت کا صلہ سمجھے گا وہ اللہ کا شکر کیوں کرنے لگا۔
Read the full tafseer →ف 2: اس آیت میں بتلایا ہے کہ رزق کی کشائش اور تنگی محض اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ چاہے تو گدائے حقیر کو ایک لمحہ میں خزائن شاہی کا مالک بنادے اور چاہے تو چشم زون میں قارون صفت دولتمندوں کو نان شبینہ تک کا محتاج بنادے ۔ اس لئے یہ دولت اور تمول ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ انسان ان پر فخر کرے ۔ اور اپنے رب کو بھول جائے ۔
حل لغات :۔ خوللہ ۔ تحویل سے ہے بمعنی عطا کرنا ۔ دینا یبسط ۔ پھیلاتا ہے ۔ زیادہ دیتا ہے ۔
Read the full tafseer →(52) کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے روزی کو فراغ کردیتا ہے اور تنگ کردیتا ہے بلا شبہ اس بسط وقدر میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو اہل ایمان ہیں اور مانتے ہیں۔ یعنی یہ باتیں روز مرہ دیکھنے میں آتی ہیں کہ دو آدمیوں کے پاس ایک سا سرمایہ یہ ہے دونوں ایک ہی کام کرتے ہیں ایک بڑھتا چلا جاتا ہے اور ایک کمی میں چلا جاتا ہے بلکہ بعض دفعہ تھوڑے سرمائے والا آگے نکل جاتا ہے اور بڑے سرمائے والا رہ جاتا ہے روزی کا معاملہ ایسا ہے کہ کسی کو کنٹرول اور قابو میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت جس کو چاہتی ہے اس کی روزی فراخ کردیتی ہے اور جس کو چاہتی ہے اس کی روزی تنگ اور بقدر ضرورت ماپ…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی دلائل قائم ہیں کہ باسط و قابض وہی ہے، تدبیر و سوء تدبیر اس میں علت حقیقیہ نہیں پس ان دلائل کو جو شخص سمجھ لے گا وہ اپنی تدبیر کی طرف نسبت نہ کرے گا، بلکہ خدا کے منعم ہونے سے ذہول نہ کرے گا جو سبب ہوگیا تھا ابتلاء بالشرک کا بلکہ وہ موحد رہے گا اور ضراء وسراء میں اس کا حال و قال متناقض و متعارض نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →کیا ان کو معلوم نہیں ہے کہ اللہ ہی ہے جو رزق کو تنگ کرتا ہے اور کشادہ کرتا ہے
52۔ رزق کی تنگی اور فراخی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک قانون بنا دیا ہے اور اسی قانون کے تحت وہ رزق کشادہ کرتا ہے اور اسی قانون کے تحت وہ رزق تنگ کرتا ہے یہ بات اچھی طرح ان کو ذہن نشین کرلینی چاہیے کیونکہ اس کا تعلق کسی انسان کے نیک ہونے یا بد ہونے سے نہیں ہے۔ رزق کی تنگی اور فراخی کا معیار اگر عقل ہوتی تو بےعقل اور نادان لوگ اس دنیا میں بھوکوں مر جاتے ، پڑھے لکھے اور حساب کے ماہر سارا رزق اکٹھا کر کے لیے جاتے اور ان پڑھ اور حساب کتاب سے ناواقف سارے کے سارے ننگ ہوجاتے اور ان کو نان جویں بھی میسر نہ آتی حالانکہ ہم دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
In verse 47, it was said: وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ (And there will appear to them from Allah what they have never imagined.) The famous tabi` i, Sufyan Thawri recited this verse and said, 'Ruined are those who did good deeds only to pretend their piety before people. (He repeated this sentence twice) This verse is about them. They did good deeds in their mortal life to impress people, who took them to be good people. Even they themselves used to deceive themselves by thinking that these deeds will become a source of salvation for them in the Hereafter.…
Read the full tafseer →69 That is, "The Abundance or restriction of the provisions is based on another law of Allah, which has some other wisdom. The distribution of the provisions dces not at all depend on man's worthiness and ability, or on his being a favourite of Allah, or for being under His wrath. " (For details, see At-Taubah: 55, 69, 85; Yunus: 17; Hud: 3, 27; Ar-Ra`d: 26; Al-Kahf: 34-36; Ta Ha: 131-132; AI-Anbiya': 105; Al-Mu`min: Introductian and vv. 55-56; Ash-Shu'ara`: 111; AI-Qasas: 78, 89 and the E N. thereof. and E.N.'s 54 to 60 of Saba).
Read the full tafseer →