Explained with ayahs 49–52
انسان کا ناشکرا پن۔
اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ مشکل کے وقت تو وہ آہ وزاری شروع کردیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہوجاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہوگئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقل مندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات یوں نہیں بلکہ دراصل عقل مندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
سورة الزُّمَر 68
مطلب یہ ہے کہ جب ان کی شامت آئی تو وہ قابلیت بھی دھری رہ گئی جس کا انہیں دعویٰ تھا، اور یہ بات بھی کھل گئی کہ وہ اللہ کے مقبول بندے نہ تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر ان کی یہ کمائی مقبولیت اور صلاحیت کی بنا پر ہوتے تو شامت کیسے آجاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
(آیت) وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْنَ۔ حضرت سفیان ثوری نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا کہ ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے، ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے۔ یہ آیت انہیں سے متعلق ہے جو دنیا میں نیک کام لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے تھے۔ اور لوگ بھی ان کو نیک سمجھتے تھے وہ خود بھی اس دھوکہ میں تھے کہ یہ اعمال ان کے لئے نجات آخرت کا ذریعہ بنیں گے۔ مگر چونکہ ان میں اخلاص نہیں تھا اس لئے اللہ کے نزدیک ایسے نیک اعمال کا کوئی اجر وثواب نہیں، اس لئے وہاں اچانک ان کے گمان کے خلاف عذاب و عتاب ہونے لگے گا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →فاصابھم سیات ماکسبوا ط والذین ظلموا من ھولآء سیصیتم سیات ماکسبوا وما ھم بمعجزین 51
یعنی جو لوگ اس قسم کے خبط میں مبتلا ہوئے بالآخر ان کے اعمال کے برے نتائج ان کے سامنے آئے۔ فرمایا کہ ان لوگوں یعنی قریش کے لوگوں میں سے بھی جن لوگوں نے اس ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کے آگے بھی ان کے برے اعمال اور ان کی بری کمائی کے نتائج آ کے رہیں گے اور جب ہم ان کو پکڑیں گے تو وہ ہمارے قابو سے باہر نہ نکل سکیں گے۔
Read the full tafseer →51۔ 1 برائیوں سے مراد ان کی برائیوں کی جزا ہے ان کو مشاکلت کے اعتبار سے سیئات کہا گیا ہے ورنہ برائی کی جزا برائی نہیں ہے جیسے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا میں ہے فتح القدیر
49۔ 2 یہ کفار مکہ کو تنبیہ ہے چناچہ ایسا ہی ہوا یہ بھی گزشتہ قوموں کی طرح قحط قتل واسارت وغیرہ سے دو چار ہوئے اللہ کی طرف سے آئے ہوئے ان عذابوں کو یہ روک نہیں سکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
17: مثلاً قارون نے یہی بات کہی تھی کہ مجھے جو دولت ملی ہے، وہ میرے علم و ہنر کی وجہ سے ملی ہے۔ دیکھئے سورة قصص : 78
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت نمبر 50 تا 51
یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے قبل کے بدفطرت لوگوں نے کہے تھے۔ نہ ان کا علم ان کے کام آیا ، نہ ان کا اقتدار انہیں بچا سکا ۔ اور نہ ان کی ٹیکنالوجی اور اللہ کے عذاب نے انہیں آلیا۔ یہ ان کی آزمائش تھی اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ اور اللہ کو عاجز کرنے والا کوئی نہیں۔ انسان جیسی ضعیف مخلوق اللہ کو کیسے عاجز کرسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے ان کو مال واقتدار دیا تو یہ اللہ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اور یہ حکمت اللہ خود ہی جانتا ہے کہ وہ کسی کو مال واقتدار کی فراوانی کیوں دیتا ہے۔ اصل بات ہوتی ہے اس کی
مشیت اور اس کی آزمائش۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
7 چناچہ قارون نے یہ ہی کہا تھا۔ اس کا جو حشر ہوا وہ پہلے گزر چکا۔
8 یعنی جیسے پہلے مجرموں پر ان کی شرارتوں کا وبال پڑا، موجود الوقت مشرکین پر بھی پڑنے والا ہے۔ جس وقت اللہ تعالیٰ ان کو سزا دینا چاہے گا یہ روپوش ہو کر یا اور کسی تدبیر سے اس کو تھکا نہیں سکتے۔
Read the full tafseer →آیت 51 { فَاَصَابَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْا } ”پس انہیں اس کے بدنتائج پہنچ گئے جو وہ کماتے تھے۔“
{ وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ ہٰٓؤُلَآئِ } ”اور ان میں سے بھی جو لوگ ظلم شرک کی روش اختیار کریں گے“
{ سَیُصِیْبُہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْالا وَمَا ہُمْ بِمُعْجِزِیْنَ } ”ان کو پہنچ کر رہیں گے ان کے کرتوتوں کے برے نتائج ‘ اور وہ اللہ کو عاجز کردینے والے نہیں ہیں۔“
Read the full tafseer →69 مال کی کشادگی اللہ کی رضا کی دلیل نہیں :۔ پہلی قومیں بھی اس غلط فہمی میں مبتلا رہیں کہ ہماری آسودہ حالی اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارا پروردگار ہم سے راضی اور خوش ہے۔ پھر اس بات کو وہ اپنے آبائی شرکیہ دین کی صداقت پر دلیل لاتے تھے۔ سو انہیں ان باتوں کا جو انجام دیکھنا پڑا وہ سب کو معلوم ہے اور اب جو مشرکین انہی کی ڈگر پر چل رہے ہیں تو یہ بھی ایسے ہی انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ یہ کہیں بھاگ کر اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
Read the full tafseer →67۔ (خدا تعالیٰ کو اور خدائی تدبیروں کی) یعنی انہیں سزا بہرحال مل کر رہے گی، جیسا کہ ان کے قبل والوں کو ملتی رہی ہے۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ سے مراد مشرکین ہیں۔ اور میں (آیت) ” من ھؤلآء “ میں من بیانیہ ہے۔ اے المشرکین ومن للبیان فانھم کلھم کانوا ظالمین (روح) اے من ھؤلآء المشرکین (بیضاوی) (آیت) ” سیات ماکسبوا “۔ سیات سے مراد جزاء سیات ہے اور یہ استعمال عام ہے۔ اے جزاء سیات اعمالھم وقد یسمی جزاء السیءۃ سیءۃ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : اللہ ہی قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی ہے انہیں ان کی نیند میں قبض کرلیتا ہے، یعنی ان کو نیند میں قبض کرلیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کیلئے چھوڑ دیتا ہے یعنی ان کی موت کے وقت تک، اور چھوڑی ہوئی روح تمییز ہے جس کے بغیر روح حیات باقی رہ سکتی ہے، اس کا عکس ممکن نہیں یقیناً ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لہٰذا اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جو ذات اس پر قادر ہے وہ بعث (بعد الموت) پر بھی قادر ہے، اور قریش نے اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کیا،…
Read the full tafseer →فاصابھم سیات ما کسبوا والذین ظلموا من ھولاء سیصیبھم سیات ما کسبوا وماھم بمعجزین ان کی تمام بداعمالیاں ان پر آپڑیں اور ان میں سے جو ظالم (یعنی کافر) ہیں ‘ ان کی بداعمالیاں بھی ان پر عنقریب آ پڑنے والی ہیں ‘ اور یہ (خدا تعالیٰ کو) ہرا نہیں سکتے۔
الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مقاتل نے کہا : اس سے مراد قارون ہے ‘ قارون نے کہا تھا : اِنَّمَا اوتیتہ علٰی عِلْم عِنْدِی اور چونکہ اس کے ساتھی اس کے اس قول سے متفق تھے ‘ اس لئے سب کو اس قول کا قائل قرار دیا۔
فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ یعنی وہ خزانے جن کی کنجیاں ایک طاقتور گروہ اٹھایا کرتا تھا ‘ کچھ کام نہ آئے۔
سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(50۔ 51) اے محمد یہ بات آپ کی قوم سے پہلے قارون نے بھی کہی تھی تو عذاب خداوندی کے سامنے ان کی باتیں اور کارروائیاں اور غیر اللہ کی پرستش اور اموال کا جمع کرنا کچھ کام نہ آیا۔
تو ان تمام برے اعمال کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہو اور ان کفار مکہ میں سے جو مشرک ہیں تو ان سے پہلے لوگوں کی طرح ان کو بھی ان کی بداعمالیوں کی سزائیں ابھی ملنے والی ہیں اور یہ عذاب خداوندی سے بچ نہیں سکتے۔
Read the full tafseer →فَاَصَابَهُمْ سَـيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا ۭ : ”سَـيِّاٰتُ“ سے مراد ان کے اعمال کے برے نتائج اور وبال ہیں، یعنی ان کے اعمالِ بد کے نتائج ان پر مختلف عذابوں کی صورت میں آپڑے۔
وَالَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰٓؤُلَاۗءِ۔۔ : یہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے اور بعد کے تمام کفار کو تنبیہ ہے کہ اگر پہلے لوگوں کی طرح وہ بھی ناشکری اور ظلم (کفر و شرک) سے باز نہ آئے تو ان کے اعمال کے برے نتائج بہت جلد ان پر آپڑیں گے۔
وَمَا هُمْ بِمُعْجِزِيْنَ : ”بِمُعْجِزِيْنَ“ کی باء نفی کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”وہ ہرگز عاجز کرنے والے نہیں ہیں۔“ یعنی جب ان کے اعمال کے برے نتائج اور وبال مختلف عذابوں کی صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
49 ۔ 52:۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حضرت حذیفہ بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ قتادہ نے کہا : علی علم یعنی میرے نزدیک کمائی کی کئی صورتیں تھیں ان سے یہ بھی مروی ہے کہ علی علم کا معنی ہے (1) اس خیر کی وجہ سیجو میرے پاس تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : علی علم کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس علم کی بنا پر جو میری فضیلت کے بارے میں موجود تھا حضرت حسن بصری نے کہا : علی علم کا معنی ہے اس علم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کہ مجھے علم تھا کہ جب دنیا مینعطا کیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں میرا مقام و مرتبہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بلکہ یہ آزمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “ (جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں) یعنی ہم اس کو عطا فرماتے ہیں (آیت ) ” قال انما اوتیتہ علی علم “ (تو کہتا ہے یہ مجھے میری تدبیر سے ملی ہے) یعنی اس شرف پر جو اس نے مجھے عطا کیا۔
2:۔ عبد الرزاق (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “ یعنی جب ہم نے اس کو عطا کیا۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما اوتیتہ علی علم “ میں ” علی علم “ کا مطلب ہے کہ وہ خبر…
Read the full tafseer →فَاَصَابَهُمْ [تو آلگیں ان کو ] سَـيِّاٰتُ مَا [اس کی برائیاں جو ] كَسَبُوْا ۭ [انھوں نے کمائی کی ] وَالَّذِيْنَ ظَلَمُوْا [اور جنہوں نے ظلم کیا ] مِنْ هٰٓؤُلَاۗءِ [ان الوگوں میں سے ] سَيُصِيْبُهُمْ [آلگیں گی ان کو (بھی)] سَـيِّاٰتُ مَا [اس کی برائیاں جو ] كَسَبُوْا ۙ [انھوں نے کمائی کی ] وَمَا هُمْ [یہ لوگ نہیں ہیں ] بِمُعْجِزِيْنَ [عاجز کرنے والے (ہم کو)] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
قولہ تعالیٰ (اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلٰمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) ذکرا لضمیر الاول لان النعمۃ بمعنی الانعام۔۔ المراد بھا المال وأنت الضمیر الثانی لرجوعھا الی النعمۃ واختیر لفظھا کما ختیر فی الال المعنی۔۔ )
اللہ تعالیٰ کا ارشاد (اِنَّمَآ اُوتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلٰمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) اس میں پہلی ضمیر کو مذکر اس لیے لایا گیا ہے انعام کے معنی میں ہے اور بعض نے کہا اس لیے کہ یہاں نعمۃ سے مراد مال ہے اور دوسری ضمیر کو اس لیے مونث لایا نعمۃ کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہاں نعمۃ کا لفظ مراد ہے جیسا کہ پہلی ضمیر لوٹانے کے وقت نعمۃ کا معنی مراد لیا گیا ہے۔
پانچویں آیت میں یہ بیان فرمایا کہ یہ جملہ ایسے شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–52
تسلی برائے نبی کریم ﷺ بضمن تلقین دعا وبیان بیچارگی عالم پیش قدرت رب کبریاء :۔
قال اللہ تعالیٰ : قل اللھم فاطر السموت والارض ......... الی ......... لقوم یؤمنون “۔
(ربط) گذشتہ آیات مجرمین ومنکرین کی سزا اور قیامت کے روز ان کی ذلت وندامت کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک عظیم دعا کی تلقین وتعلیم کے ضمن میں تسلی دی جارہی ہے تاکہ آپ ﷺ کفار کی مخالفت اور شدت عناد سے مغموم ومتأسف نہ ہوں، ارشاد فرمایا : کہہ دیجئے اے ہمارے پیغمبر اپنے پروردگار سے دعا ومناجات کرتے ہوئے اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ظاہر و باطن کے جاننے والے آپ ہی قیامت کے روز اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ…
Read the full tafseer →52:۔ ” فاصابہم الخ “ وہ اپنے کیے کی سزا پا کر رہے۔ ” والذین ظلموا الخ “ یہ مشرکین قریش کے لیے تخویف دنیوی ہے۔ جس طرھ اقوام گذشتہ کے مشرکین کو دنیا ہی میں اپنے کیے کی سزا مل گئی اسی طرح مشرکین قریش بھی دنیا میں اپنے کیے کی سزا مل گئی اسی طرح مشرکین قریش بھی دنیا میں اپنے کیے کی سزا پائیں گے۔ اور وہ اللہ کے عذاب کو نہ ورک سکیں گے اور نہ اس کے عذاب سے بچ ہی سکیں گے۔ چناچہ چنانچہ اللہ کا یہ عذاب مشرکین قریش پر قتل و قحط کی صورت میں نازل ہوا۔ ای سیصیبہم مثل ما اصاب اولئک فقتل صنادیدہم ببدر و حبس عنہم الرزق فقحطوا سبع سنین (مدارک ج 4 س 48) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تردید فرمائی ، کچھ دلائل قدرت بیان کیے ہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) پر طعن کرنے والوں کا رد کیا ، پھر فرمایا کہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے لہذا اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے ، پھر آگے تنبیہہ فرمائی کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو میں اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہوں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ صحیح راستے پر کون ہے اور گمراہی میں کون بھٹک رہا ہے نیز یہ بھی کہ دائمی عذاب کس پر مسلط ہوتا ہے اور کون اس سے بچتا ہے پھر قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت پائے گا اس میں…
Read the full tafseer →فَاَصَابَہُمْ سَـيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا 0 ۭ وَالَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ ہٰٓؤُلَاۗءِ سَيُصِيْبُہُمْ سَـيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا 0 ۙ وَمَا ہُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 51
( صاب) مُصِيبَةُ
والمُصِيبَةُ أصلها في الرّمية، ثم اختصّت بالنّائبة نحو : أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165] ، فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌالنساء/ 62] ، وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] ، وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] ، وأصاب : جاء في الخیر والشّرّ. قال تعالی:إِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ترکیب : نعمۃ نصبھا علی الحال ای نعمۃ کائنۃ منا اوتیتہ الضمیر یرجع الی النعمۃ وھی مونث لفظا ولکن یراد بھا الشیء ھذا علی ان تکون ما فی انما کافۃ وعلی علم حال من المرفوع او المنصوب وان جعلت ماموصولۃ فالضمیر الی ما الموصولۃ و علی علم خبرہ قدقالھا الضمیر الی الجملۃ وھی قولہ انما الخ۔
تفسیر : یہاں سے مشرکین کی ایک اور عادت بیان فرماتا ہے۔ فقال فاذا مس الانسان کہ جب ان میں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے بیماری یا رزق کی تنگی وغیرہ تو خدائے تعالیٰ کو پکارتا ہے اور جب خدا اس پر فضل کرتا ہے اور راحت اور آسائش دیتا ہے تو اس کو اپنی دانائی یا تدابیر اور کوشش کی طرف منسوب کرتا ہے فرماتا ہے۔ بلھی فتنۃ بلکہ…
Read the full tafseer →فَاَصَابَہُمْ سَیِّاٰتُ مَاکَسَبُوْا ط وَالَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ ھٰٓـؤُلَآئِ سَیُصِیْبُھُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْا لا وَمَا ھُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ۔ (الزمر : 51)
(پس ان کے اعمال کے برے نتائج ان کے سامنے آئے اور ان لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے اور یہ ہم کو عاجز کردینے والے نہیں ہیں۔ )
ہر قوم اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرتی ہے
اس آیت کریمہ میں یہ اصول بیان فرمایا گیا ہے کہ ہر شخص اور ہر قوم اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کرتی ہے اور اس میں کسی قوم کا استثنیٰ نہیں۔ ہر دور کے لوگ جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو اپنی ذاتی کاوشوں کا نتیجہ سمجھ کر ناشکری پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوگی کہ جب انہیں دنیا میں تکلیف پہنچتی تھی تو صرف ایک رب کو پکارتے تھے اور جب انہیں کوئی نعمت دی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ یہ ہماری فہم و فراست کا نتیجہ ہے۔
انسان کی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ” اللہ “ کو یاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب اس کی تکلیف رفع کردیتا ہے اور اسے اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو پھر وہ سمجھتا اور بعض مرتبہ زبان سے بھی کہتا ہے کہ یہ تو میری قابلیت کا نتیجہ ہے۔ بیماری کے بعد صحت کے بارے میں کہتا ہے کہ بروقت اور مناسب علاج کی وجہ سے صحت یاب ہوا ہوں۔ تونگری کے بارے میں برملا اظہار…
Read the full tafseer →آیت، پھر ان کی تمام بد اعمالیاں ان پر آپڑیں، ان کے برے اعمال کرنے کی سزا یا جزاء سیئہ کو سیئہ ملے ہوئے ہونے کی وجہ سے کہہ دیا جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا (الشوری :40) ۔ آیت، اور ان میں بھی جو ظالم ہیں۔ ظالم سے کافر مراد ہیں من ھؤلاء سے مشرکین قریش کی طرف اشارہ ہے۔ آیت، ان کی بد اعمالیاں ابھی پڑنے والی ہیں۔ ان کو اسی طرح کا عذاب و سزا پہنچے گا جیسا ان کو ملا چناچہ بدر میں صنادید قریش مارے گئے۔ رزق کی تنگی آگئی سات سال کے قحط میں مبتلا ہوئے۔ آیت، اور یہ ہرا نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نکلنے والے نہیں پھر ان پر وسعت کردی گئی سات سال بارشیں کی گئیں پھر ان کو کہا گیا۔
Read the full tafseer →تفسیر 51۔۔۔۔۔۔۔۔ ، فاصابھم سیئات ماکسبوا، ان کو اس کا بدلہ دیاجائے گا یعنی ان کو عذاب دیا جائے گا۔ پھر کفار مکہ سے وعدہ کیا گیا، والذین ظلموا من ھولاء سیصیبھم سیئات ماکسبوا وماھم بمعجزین، اور وہ عاجز کرنے والے نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کرجانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
49۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان مشرکوں کے دل میں ایک نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جب ان کے بتوں کا اچھا ذکر ان کے کانوں تک پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ عادت شیطان کے بہکانے سے ہے کیونکہ ان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح سے بسی ہوئی ہے کہ تکلیف کے وقت سوا اللہ کے ان کے بت کچھ کام نہیں آتے اس واسطے تکلیف کے وقت خالص اللہ ہی سے یہ لوگ رفع تکلیف کی التجا کرتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی ناشکری ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان کی وہ تکلیف رفع کردیتا ہے تو کبھی اس رفع تکلیف کو اپنی تدبیروں کے اثر سے اور کبھی اپنی عزت اور شرافت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
آیت 49
اللہ تعالیٰ اناسن کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے (دعانا) تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے گڑا گڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ (ثم ادا خولنہ نعمۃ منا) ” پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کردیتے ہیں “ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کردیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی نا سپاسی اور اس کے احاسن کا اعتراف کرنے سے انکار ہے اور (قال انما او تیتہ علی علم) ” کہتا ہے : مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے “ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہوا ہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
94 نعمت ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو انسان کو ملنے والی ہر نعمت ذریعہ ابتلاء و آزمائش ہے۔ چناچہ اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کو جو بھی کوئی نعمت ملتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور وہ اس کیلئے ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یعنی یہ آزمائش کہ بندہ اس پر شکر کرتا ہے یا ناشکری۔ اور اس نعمت کو وہ خیر اور نجات کا ذریعہ بناتا ہے یا شر اور عذاب کا باعث ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں جس کے باعث ایسا انسان راہ حق و ہدایت سے سرفراز ہونے کی بجائے الٹا ہلاکت و تباہی کے گڑھوں میں اوندھا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ انسان کو جو بھی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–52
اللہ کی کچھ اور قدرتیں
تشریح : یہ باتیں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول کی زبان سے بار بار لوگوں کو سناتا ہے اور قرآن کے ذریعہ سے بار بار ہماری آنکھوں کے سامنے لاتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے قدرت والا ہے۔ اس کے برابر کوئی نہیں ہوسکتا یہ کوئی غلط یا انہونی بات نہیں کیونکہ ہم خود اور ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ اس کو بنانے والا ایک ہی ہے ورنہ یہ نظم و ضبط جو کائنات کے کارخانے میں موجود ہے کبھی ایک سا نہ رہتا۔ وہ کیونکہ عالم الغیب ہے اور رحمن و رحیم ہے اس لیے بار بار بتا رہا ہے کہ نیکی کی راہیں اختیار کرو، شیطان کو دوست مت بناؤ کیونکہ نیکی کا راستہ جنت کو اور شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 42 ۔ تا۔ 52:
اسرار و معارف :
یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جس کی موت آتی ہے اللہ ہی اس کی روح قبض فرما لیتا ہے یعنی اس کا تعلق بدن اور اس میں تصرفات سے اللہ کے حکم سے توڑ دیا جاتا ہے اور جس کی موت نہیں آتی اس کے لیے نیند کی حالت کو سمجھنا ہی کافی ہے کہ اس میں بھی روح بدن میں تصرفات سے روک دی جاتی ہے ہاں اس کا ایک گونہ تعلق باقی رکھا جاتا ہے پھر جس کا وقت پورا ہوچکا ہو اسے بدن میں واپسی سے روک دیا جاتا ہے اور جن کا ابھی وقت باقی ہے انہیں اس خاص مدت تک لوٹا دیا جاتا ہے یعنی انسان کا عجز اور اللہ کے دست قدرت کی گرفت میں ہونا نیند اور موت سے واجح ہے اور یہ بہت بڑی دلیل ہے…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی خدا سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے بلکہ اسی کی طرف واپسی ہوگی اور اسے پورا اختیار ہوگا کہ انہیں جو سزا دینا چاہے، دے۔
Read the full tafseer →(39:51) اصابھم : ماضی واحد مذکر غائب اصابۃ (افعال) مصدر ۔ جس کے معنی پالینے کے ہیں۔ اصاب وہ آپہنچا۔ وہ آپڑا۔ اس نے پالیا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الذین من قبلہم۔ میں ۔ وہ ان پر آپڑیں۔
سیئات ماکسبوا۔ بدیاں جو انہوں نے کمائی تھیں (بصورت ما موصولہ) ۔ اعمال بد۔ (بصورت ما مصدریہ) نیز ملاحظہ ہو 39:48 ۔
اصابھم سیئات ما کسبوا۔ ان کے بد اعمال ان کو آلیں گے۔ بد اعمال سے مرادان کی سزا ہے۔ یعنی ان کے بد اعمال کی سزا ان پر آپڑے گی۔ سیئات کی سزا کو سیئات صرف تقابل کی وجہ سے قرار دیا۔ سمی جزاء السیئۃ سیئۃ للازدواج کقولہ تعالیٰ وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلہا (42:40)
والذین ظلموا من ھؤلائ : الذین ظلموا سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 52 : بدا ( ظاہر ہوا) یحسبون (وہ گمان کرتے ہیں) کسبوا (انہوں نے کمایا) حاق ( چھا گیا) ما اغنی ( کام نہ آیا) یصیب ( پہنچے گا) معجزین ( عاجز اور بےبس کرنے والے) یبسط ( وہ کشادہ کرتا ہے ، کھولتا ہے) یقدر ( وہ تنگ کردیتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 52 :۔ قیام کے ہولناک دن جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان ، عمل صالح اور نیکی اختیار کرنے والوں اور کافروں اور مشرکین کے بےبنیاد عقیدوں اور عمل سے متعلق فیصلے فرمائیں گے تو ان میں سے ظالموں کا یہ حال ہوگا کہ عذاب الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بوکھلا جائیں گے اور اگر انکے پاس زمین کے سارے خزانے بلکہ اس سے بھی زیادہ خزانے ہوں گے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
اہل دوزخ کی حسرتیں۔
(ف 1) دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپرگزرا ، مثلا کبھی کہیں گے کیا اچھا ہو تاکہ آج ہم لوگ بھی پرہیزگاروں میں ہوتے، کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتاجوہم لوگوں کو پھر دنیا میں جانے کی اجازت مل جاتی ہے اور ہم اب کی دفعہ دنیا میں جاکر نیک کام کرتے اور پھر جنت میں پاتے، ان دوزخیوں کی ان حسرت کی باتوں کے جواب میں اللہ یہ فرمائے گا کہ اب حسرت کا کیا موقع ہے دنیا میں رہنے کا موقع بھی تم کو ملا اور اللہ کے رسول کی معرفت تمہارے پاس قرآن پہنچا اور حق و باطل کی راہیں واضح کردی گئی اور تم کو حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
[32] آزمائش سے اس بات کی آزمائش مراد ہے کہ آدمی نعمت پا کر اللہ کا شکر کرتا ہے یا ناشکری۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمت کو اپنی قابلیت کا صلہ سمجھے گا وہ اللہ کا شکر کیوں کرنے لگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
تکلیف میں خدا یاد آتا ہے
1: قاعدہ ہے ۔ کہ بھوک اور افلاس سے دل میقل ہوجاتا ہے اور اس کا رنگ دور ہوجاتا ہے ۔ اور فطرت کے انواداس میں چمکنے لگتے ہیں ۔ جب کوئی شخص تکلیف اور دکھ میں مبتلا ہوتا ہے ۔ تو بےاختیاری جی چاہتا ہے کہ خدا کو یاد کیا جائے ۔ اس وقت دل پرے تمام حجابات اٹھ جاتے ہیں ۔ اور انسان اللہ کے نام کے ساتھ ایک خاص طرح کی تسکین اور طمانیت محسوس کرتا ہے ۔ اور کیفیت یہ ہوتی ہے ۔ کہ اٹھتے بیٹھتے اللہ کا ذکر ہے اس کی حمدوستائش ہے ۔ اور شکر وصبر کا مظاہرہ ہے ۔ اس وقت کی کیفیات خشوع اگر دیر تک لوح قلب پر مرقسم ہیں تو بلاشبہ انسانی دولایت اور قرب کے مراتب عالیہ سے مشرف ہوجائے مگر ہوتا یہ ہے…
Read the full tafseer →(51) پھران پہلوں پر ان بداعمالیوں اور بری کمائیوں کا اثر اور وبال آپڑا اور ان موجودہ لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں ان کی کمائیوں کی برائی اور ان کی بداعمالی کا اثر اور وبال ان پر پڑنے والا ہے اور ان کو پہنچے گا اور بہت جلد ان کو پہنچ کر رہے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کو تھکانے اور عاجز کرے والے نہیں ہیں۔ یعنی یہ کفار مکہ بھی عنقریب اپنے برے اعمال اور بری کمائیوں کا پھل پانے والے ہیں جیسا کہ قحط میں اور بدر کے دن قتل میں مبتلا کئے گئے اور اللہ تعالیٰ کو عاجز نہ کرسکے آگے پھر قدرت کا اظہار فرمایا۔
Read the full tafseer →ف 6۔ چناچہ بدر میں خوب سزا ہوئی۔
Read the full tafseer →پہلوں کو ان کے کیے کی سزا ملی اور ان کو اس کے کیے کی سزا ملے گی
51۔ گزشتہ قوموں کے لوگ بھی اسی طرح کی ڈینگیں مارتے تھے جس طرح کی یہ لوگ ڈینگیں مار رہے ہیں پھر جب ان کی شامت آئی تو ان کی ساری قابلیت دھری کی دھری رہ گئی جس قابلیت کے وہ دعویدار تھے اور ان کا سارا بھرم کھل گیا اور آج اے پیغمبر اسلام ! آپ کے زمانہ کے لوگ بھی وہی کچھ کر رہیے ہیں تو ظاہر ہے کہ ان کا انجام بھی یقینا وہی ہوگا جو گزشتہ قوموں کے لوگوں کا ہوا تھا۔ کیا ان کی صلاحیتیں ان کے کام آئیں جو ان کی صلاحیتیں ان کے کام آئیں گی حالانکہ ہٹ دھرمی کا نام صلاحیت نیں ھ ہوتا نہ ان ہی میں کوئی صلاحیت نام کی شے تھی اور نہ ہی ان میں ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
In verse 47, it was said: وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ (And there will appear to them from Allah what they have never imagined.) The famous tabi` i, Sufyan Thawri recited this verse and said, 'Ruined are those who did good deeds only to pretend their piety before people. (He repeated this sentence twice) This verse is about them. They did good deeds in their mortal life to impress people, who took them to be good people. Even they themselves used to deceive themselves by thinking that these deeds will become a source of salvation for them in the Hereafter.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
68 That is, "When they were seized for evil-doing, the ability of which they were so proud, did not avail them anything, and this also became known that they were not Allah's favourites. Evidently, if their earning had been due to their capability and their being favourites with Allah, they would not have been seized for evil-doing at all."
Read the full tafseer →