Az-Zumar 39:50

Az-Zumar · from ayah 50

39:50

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰی عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ۟قَدۡ قَالَهَا الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those before them had already said it, but they were not availed by what they used to earn.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 5 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:50

یہی بات ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی کہہ چکے ہیں، مگر جو کچھ وہ کماتے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے اگلے بھی یہی بات کہہ چکے ہیں پس ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہی بات ان سے پہلے (کچھ) لوگوں نے بھی کہی تھی نتیجہ یہ ہوا کہ جو کچھ وہ کماتے تھے، وہ ان کے کام نہیں آیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان سے اگلے بھی ایسے ہی کہہ چکے تو ان کا کمایا ان کے کچھ کام نہ آیا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فی الواقع یہ (باتیں) وہ لوگ بھی کیا کرتے تھے جو اُن سے پہلے تھے، سو جو کچھ وہ کماتے رہے اُن کے کسی کام نہ آسکا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلا شبہ یہی بات ان لوگوں نے کہی جو ان سے پہلے تھے تو ان کے کام نہ آیا جو وہ کمایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ایسی ہی بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے گزر چکے۔ پھر وہ چیز ان کے کسی کام نہ آئی جو وہ کما رہے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے پہلے والوں نے بھی یہ بات کہی تو ان کی کمائی ان کے کچھ کام آنے والی نہ بنی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہی بات ان لوگوں نے بھی کہی جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں مگر (شامت آنے پر) ان کے کچھ کام نہ آسکی ان کی وہ کمائی جو وہ کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پیشتر ہوگذرے ہیں سو ان کی کارروائی ان کے کچھ بھی کام نہ آئی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان سے پہلوں نے بھی یہی بات کہی تھی تو جو کچھ بھی انہوں نے کمائی کی تھی وہ ان کے کسی کام نہ آسکی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوـگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے، تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Their predecessors also said the same, but their earnings proved of no avail to them,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The same was said by those before them, but what they used to earn was of no avail to them,

— Muhammad Taqi Usmani

The same was said by those before them, but what they used to earn was of no avail to them,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those before them said it, yet (all) that they had earned availed them not.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those before them said it, yet (all) that they had earned availed them not;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those before them had already said it, but they were not availed by what they used to earn.

— Saheeh International

People who lived before them had also said, "Our wealth has been earned by our own merits." What they had earned was of no benefit to them

— Muhammad Sarwar

Those before them did say it indeed, but what they earned availed them not.

— Muhammad Habib Shakir

Surely those who were before them said it, yet there availed them not that which they had been earning.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus did the (generations) before them say! But all that they did was of no profit to them.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–52

انسان کا ناشکرا پن۔ اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ مشکل کے وقت تو وہ آہ وزاری شروع کردیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہوجاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہوگئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقل مندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات یوں نہیں بلکہ دراصل عقل مندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 50–51

سورة الزُّمَر 68 مطلب یہ ہے کہ جب ان کی شامت آئی تو وہ قابلیت بھی دھری رہ گئی جس کا انہیں دعویٰ تھا، اور یہ بات بھی کھل گئی کہ وہ اللہ کے مقبول بندے نہ تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر ان کی یہ کمائی مقبولیت اور صلاحیت کی بنا پر ہوتے تو شامت کیسے آجاتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–52

(آیت) وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْنَ۔ حضرت سفیان ثوری نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا کہ ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے، ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے۔ یہ آیت انہیں سے متعلق ہے جو دنیا میں نیک کام لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے تھے۔ اور لوگ بھی ان کو نیک سمجھتے تھے وہ خود بھی اس دھوکہ میں تھے کہ یہ اعمال ان کے لئے نجات آخرت کا ذریعہ بنیں گے۔ مگر چونکہ ان میں اخلاص نہیں تھا اس لئے اللہ کے نزدیک ایسے نیک اعمال کا کوئی اجر وثواب نہیں، اس لئے وہاں اچانک ان کے گمان کے خلاف عذاب و عتاب ہونے لگے گا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قدقا لھا الذین من قبلھم فما اغنی عنھم ماکانوا یکسبون 50 یعنی یہ بات ان سے پہلے والوں نے بھی کہی۔ اشارہ انما اونیثہ علی علم والی بات کی طرف ہے کہ قریش کے ان متردین سے پہلے بھی یہ دعوے کنے والے گزر چکے ہیں جن میں سے ایک مدعی … ق اورن کے قول کا حوالہ اوپر گزرا فرمایا کہ اس غرور میں جو بھی مبتلاہئوے جب وہ خدا کی پکڑ میں آگئے تو وہ چیزیں ان کے کچھ بھی کام آنے والی نہیں بن سکیں جو بزعم خویش انہوں نے اپنی قابلیت اور سائنس کے ذریعہ سے حاصل کی تھیں۔ چناچہ ق اورن کی مثال خود قرآن میں بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو تجارت اور مالیات کا بڑا ماہ رسمجھتا تھا لیکن خدا نے اس کا سارا خزانہ اس کے سمیت زمین میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 جس طرح قارون نے بھی کہا تھا، لیکن بالاآخر وہ اپنے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا۔ فما اغنی میں ما استفہامیہ بھی ہوسکتا ہے اور نافیہ بھی دونوں طرح معنی صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 50–52

17: مثلاً قارون نے یہی بات کہی تھی کہ مجھے جو دولت ملی ہے، وہ میرے علم و ہنر کی وجہ سے ملی ہے۔ دیکھئے سورة قصص : 78

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 50–51

آیت نمبر 50 تا 51 یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے قبل کے بدفطرت لوگوں نے کہے تھے۔ نہ ان کا علم ان کے کام آیا ، نہ ان کا اقتدار انہیں بچا سکا ۔ اور نہ ان کی ٹیکنالوجی اور اللہ کے عذاب نے انہیں آلیا۔ یہ ان کی آزمائش تھی اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ اور اللہ کو عاجز کرنے والا کوئی نہیں۔ انسان جیسی ضعیف مخلوق اللہ کو کیسے عاجز کرسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے ان کو مال واقتدار دیا تو یہ اللہ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اور یہ حکمت اللہ خود ہی جانتا ہے کہ وہ کسی کو مال واقتدار کی فراوانی کیوں دیتا ہے۔ اصل بات ہوتی ہے اس کی مشیت اور اس کی آزمائش۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 50–51

7 چناچہ قارون نے یہ ہی کہا تھا۔ اس کا جو حشر ہوا وہ پہلے گزر چکا۔ 8 یعنی جیسے پہلے مجرموں پر ان کی شرارتوں کا وبال پڑا، موجود الوقت مشرکین پر بھی پڑنے والا ہے۔ جس وقت اللہ تعالیٰ ان کو سزا دینا چاہے گا یہ روپوش ہو کر یا اور کسی تدبیر سے اس کو تھکا نہیں سکتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 50 { قَدْ قَالَہَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”ان سے پہلوں نے بھی یہی بات کہی تھی“ مثلاً قارون بھی ایسے ہی دعوے کیا کرتا تھا۔ { فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”تو جو کچھ بھی انہوں نے کمائی کی تھی وہ ان کے کسی کام نہ آسکی۔“ جب اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا تو اپنی اس دولت کے بل پر وہ اللہ کے عذاب سے بچ نہ پایا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 انہیں لوگوں میں سے ایک قارون تھا۔ جس نے یہی بات کہی تھی کہ مجھے جو مال و دولت ملا ہے تو اس کی وجہ میرا ذاتی علم، تجربہ اور قابلیت ہے۔ پھر جب اسے اسی کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا تو اس وقت نہ اس کا مال و دولت کسی کام آسکا اور نہ جاہ و حشم۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

66۔ (اور یہی حشر آج کے منکرین کا بھی ہونا ہے) (آیت) ’ ’ قد ....... قبلھم “۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ یہ مغالطہ نفس بہت قدیم ہے، کچھ آج کا اور نو پیدا نہیں۔ (آیت) ” قالھا “۔ ضمیر مؤنث کلمہ کی جانب ہے۔ مؤنث علی تانیث الکلمۃ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–52

آیت نمبر 42 تا 52 ترجمہ : اللہ ہی قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی ہے انہیں ان کی نیند میں قبض کرلیتا ہے، یعنی ان کو نیند میں قبض کرلیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کیلئے چھوڑ دیتا ہے یعنی ان کی موت کے وقت تک، اور چھوڑی ہوئی روح تمییز ہے جس کے بغیر روح حیات باقی رہ سکتی ہے، اس کا عکس ممکن نہیں یقیناً ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لہٰذا اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جو ذات اس پر قادر ہے وہ بعث (بعد الموت) پر بھی قادر ہے، اور قریش نے اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کیا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قد قالھا الذین من قبلھم فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون۔ یہ بات (بعض) ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے گذر چکے ہیں ‘ سو ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 50–51

(50۔ 51) اے محمد یہ بات آپ کی قوم سے پہلے قارون نے بھی کہی تھی تو عذاب خداوندی کے سامنے ان کی باتیں اور کارروائیاں اور غیر اللہ کی پرستش اور اموال کا جمع کرنا کچھ کام نہ آیا۔ تو ان تمام برے اعمال کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہو اور ان کفار مکہ میں سے جو مشرک ہیں تو ان سے پہلے لوگوں کی طرح ان کو بھی ان کی بداعمالیوں کی سزائیں ابھی ملنے والی ہیں اور یہ عذاب خداوندی سے بچ نہیں سکتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَدْ قَالَهَا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی ان کفار قریش اور ان کے زمانے اور بعد میں آنے والے کفار سے پہلے بھی بہت سے لوگوں کا یہی عقیدہ اور یہی کہنا تھا، جیسا کہ قارون کو اس کی قوم نے نصیحت کی تو اس نے کہا : (اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰي عِلْمٍ عِنْدِيْ ۭ) [ القصص : 78 ] ”(یہ سب کچھ) مجھے تو ایک علم کی بنا پر دیا گیا ہے۔“ قارون کے واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة قصص (76 تا 82)۔ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ : یعنی یہ کہنے والوں پر کہ ”ہمیں سب کچھ ہمارے علم کی بنا پر دیا گیا ہے“ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا، جیسا کہ قارون کو اس کے مال و محلات سمیت زمین میں دھنسا دیا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–52

49 ۔ 52:۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حضرت حذیفہ بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ قتادہ نے کہا : علی علم یعنی میرے نزدیک کمائی کی کئی صورتیں تھیں ان سے یہ بھی مروی ہے کہ علی علم کا معنی ہے (1) اس خیر کی وجہ سیجو میرے پاس تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : علی علم کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس علم کی بنا پر جو میری فضیلت کے بارے میں موجود تھا حضرت حسن بصری نے کہا : علی علم کا معنی ہے اس علم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کہ مجھے علم تھا کہ جب دنیا مینعطا کیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں میرا مقام و مرتبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بلکہ یہ آزمائش…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–52

1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “ (جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں) یعنی ہم اس کو عطا فرماتے ہیں (آیت ) ” قال انما اوتیتہ علی علم “ (تو کہتا ہے یہ مجھے میری تدبیر سے ملی ہے) یعنی اس شرف پر جو اس نے مجھے عطا کیا۔ 2:۔ عبد الرزاق (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “ یعنی جب ہم نے اس کو عطا کیا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما اوتیتہ علی علم “ میں ” علی علم “ کا مطلب ہے کہ وہ خبر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَدْ قَالَهَا [کہہ چکے یہ (بات) ] الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ [وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ] فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ [پھر کام نہ آیا ان کے ] مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [وہ جو لوگ کمائی کرتے تھے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–52

قولہ تعالیٰ (اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلٰمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) ذکرا لضمیر الاول لان النعمۃ بمعنی الانعام۔۔ المراد بھا المال وأنت الضمیر الثانی لرجوعھا الی النعمۃ واختیر لفظھا کما ختیر فی الال المعنی۔۔ ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد (اِنَّمَآ اُوتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلٰمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) اس میں پہلی ضمیر کو مذکر اس لیے لایا گیا ہے انعام کے معنی میں ہے اور بعض نے کہا اس لیے کہ یہاں نعمۃ سے مراد مال ہے اور دوسری ضمیر کو اس لیے مونث لایا نعمۃ کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہاں نعمۃ کا لفظ مراد ہے جیسا کہ پہلی ضمیر لوٹانے کے وقت نعمۃ کا معنی مراد لیا گیا ہے۔ پانچویں آیت میں یہ بیان فرمایا کہ یہ جملہ ایسے شخص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–52

تسلی برائے نبی کریم ﷺ بضمن تلقین دعا وبیان بیچارگی عالم پیش قدرت رب کبریاء :۔ قال اللہ تعالیٰ : قل اللھم فاطر السموت والارض ......... الی ......... لقوم یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ آیات مجرمین ومنکرین کی سزا اور قیامت کے روز ان کی ذلت وندامت کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک عظیم دعا کی تلقین وتعلیم کے ضمن میں تسلی دی جارہی ہے تاکہ آپ ﷺ کفار کی مخالفت اور شدت عناد سے مغموم ومتأسف نہ ہوں، ارشاد فرمایا : کہہ دیجئے اے ہمارے پیغمبر اپنے پروردگار سے دعا ومناجات کرتے ہوئے اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ظاہر و باطن کے جاننے والے آپ ہی قیامت کے روز اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

51:۔ ” قد قالہا الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہی بات ان سے پہلے مشرکین نے بھی کہی تھی لیکن جب ہمارے عذاب نے دنیا ہی میں ان کو آلیا تو غیر اللہ کی پکار سے انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اور انہ ان کے خود ساختہ معبودوں نے ان ہیں اللہ کے عذاب سے بچایا۔ نہ کفر و شرک کام آیا۔ نہ مال و اولاد نے سہارا دیا۔ ای من اموال الدنیا او من اعمالہم وعقائدہم (جامع البیان ص 399) ۔ فما اغنی عنہم الکفر من العذاب شیئا (معالم و خازن ج 6 ص 79) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–52

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تردید فرمائی ، کچھ دلائل قدرت بیان کیے ہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) پر طعن کرنے والوں کا رد کیا ، پھر فرمایا کہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے لہذا اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے ، پھر آگے تنبیہہ فرمائی کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو میں اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہوں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ صحیح راستے پر کون ہے اور گمراہی میں کون بھٹک رہا ہے نیز یہ بھی کہ دائمی عذاب کس پر مسلط ہوتا ہے اور کون اس سے بچتا ہے پھر قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت پائے گا اس میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَدْ قَالَہَا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَمَآ اَغْنٰى عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۝ 50 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–52

ترکیب : نعمۃ نصبھا علی الحال ای نعمۃ کائنۃ منا اوتیتہ الضمیر یرجع الی النعمۃ وھی مونث لفظا ولکن یراد بھا الشیء ھذا علی ان تکون ما فی انما کافۃ وعلی علم حال من المرفوع او المنصوب وان جعلت ماموصولۃ فالضمیر الی ما الموصولۃ و علی علم خبرہ قدقالھا الضمیر الی الجملۃ وھی قولہ انما الخ۔ تفسیر : یہاں سے مشرکین کی ایک اور عادت بیان فرماتا ہے۔ فقال فاذا مس الانسان کہ جب ان میں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے بیماری یا رزق کی تنگی وغیرہ تو خدائے تعالیٰ کو پکارتا ہے اور جب خدا اس پر فضل کرتا ہے اور راحت اور آسائش دیتا ہے تو اس کو اپنی دانائی یا تدابیر اور کوشش کی طرف منسوب کرتا ہے فرماتا ہے۔ بلھی فتنۃ بلکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَدْ قَالَھَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَمَآ اَغْنٰی عَنْھُمْ مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (الزمر : 50) (یہی بات ان لوگوں نے بھی کہی جو ان سے پہلے گزرے ہیں، ان کے کسی کام نہ آیا جو وہ کماتے تھے۔ ) گزشتہ آیت کریمہ میں انسان کی جس گمراہی کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف دور کرکے اسے نعمتوں سے نوازتا ہے تو وہ تکلیف کو بھی بھول جاتا ہے اور نعمتیں دینے والے کو بھی۔ بلکہ ان نعمتوں اور خوشحالیوں کے بارے میں یہ دعویٰ کرنے لگتا ہے کہ یہ سب کچھ اس کی ذہنی صلاحیت اور قوت بازو کا نتیجہ ہے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–51

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوگی کہ جب انہیں دنیا میں تکلیف پہنچتی تھی تو صرف ایک رب کو پکارتے تھے اور جب انہیں کوئی نعمت دی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ یہ ہماری فہم و فراست کا نتیجہ ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ” اللہ “ کو یاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب اس کی تکلیف رفع کردیتا ہے اور اسے اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو پھر وہ سمجھتا اور بعض مرتبہ زبان سے بھی کہتا ہے کہ یہ تو میری قابلیت کا نتیجہ ہے۔ بیماری کے بعد صحت کے بارے میں کہتا ہے کہ بروقت اور مناسب علاج کی وجہ سے صحت یاب ہوا ہوں۔ تونگری کے بارے میں برملا اظہار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت، یہ بات ان لوگوں نے بھی کہی تھی، وہ بات یہی ہے انما اوتیتہ علی علم (الزمر :49) ۔ آیت، ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے۔ یعنی قارون اور اس کے حواری جب کہ اس نے کہا انما اوتیتہ علی علم عندہ اور اس کے حواری اس پر راضی اور خوش تھے گویا کہ انہوں نے بھی کہی تھی۔ اور یہ بھی درست ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہوں جو ان سے پہلے گزرے انہوں نے بھی اسی طرح کے کلمات کہے۔ آیت، پس ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی، ما یکسبون سے متاع دنیا اور جو اموال اس سے جمع کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

50۔ قدقالھا الذین من قبلھم، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی قارون نے کہا، انما اوتیتہ علی علم ھدی، فما اغنی عنھم ماکانو ایکسبون، پس ان کو کفر نے عذاب سے کچھ فائدہ نہ دیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–52

49۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان مشرکوں کے دل میں ایک نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جب ان کے بتوں کا اچھا ذکر ان کے کانوں تک پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ عادت شیطان کے بہکانے سے ہے کیونکہ ان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح سے بسی ہوئی ہے کہ تکلیف کے وقت سوا اللہ کے ان کے بت کچھ کام نہیں آتے اس واسطے تکلیف کے وقت خالص اللہ ہی سے یہ لوگ رفع تکلیف کی التجا کرتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی ناشکری ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان کی وہ تکلیف رفع کردیتا ہے تو کبھی اس رفع تکلیف کو اپنی تدبیروں کے اثر سے اور کبھی اپنی عزت اور شرافت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 49–52

آیت 49 اللہ تعالیٰ اناسن کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے (دعانا) تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے گڑا گڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ (ثم ادا خولنہ نعمۃ منا) ” پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کردیتے ہیں “ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کردیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی نا سپاسی اور اس کے احاسن کا اعتراف کرنے سے انکار ہے اور (قال انما او تیتہ علی علم) ” کہتا ہے : مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے “ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہوا ہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 49–51

94 نعمت ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو انسان کو ملنے والی ہر نعمت ذریعہ ابتلاء و آزمائش ہے۔ چناچہ اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کو جو بھی کوئی نعمت ملتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور وہ اس کیلئے ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یعنی یہ آزمائش کہ بندہ اس پر شکر کرتا ہے یا ناشکری۔ اور اس نعمت کو وہ خیر اور نجات کا ذریعہ بناتا ہے یا شر اور عذاب کا باعث ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں جس کے باعث ایسا انسان راہ حق و ہدایت سے سرفراز ہونے کی بجائے الٹا ہلاکت و تباہی کے گڑھوں میں اوندھا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ انسان کو جو بھی کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–52

اللہ کی کچھ اور قدرتیں تشریح : یہ باتیں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول کی زبان سے بار بار لوگوں کو سناتا ہے اور قرآن کے ذریعہ سے بار بار ہماری آنکھوں کے سامنے لاتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے قدرت والا ہے۔ اس کے برابر کوئی نہیں ہوسکتا یہ کوئی غلط یا انہونی بات نہیں کیونکہ ہم خود اور ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ اس کو بنانے والا ایک ہی ہے ورنہ یہ نظم و ضبط جو کائنات کے کارخانے میں موجود ہے کبھی ایک سا نہ رہتا۔ وہ کیونکہ عالم الغیب ہے اور رحمن و رحیم ہے اس لیے بار بار بتا رہا ہے کہ نیکی کی راہیں اختیار کرو، شیطان کو دوست مت بناؤ کیونکہ نیکی کا راستہ جنت کو اور شیطان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–52

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 42 ۔ تا۔ 52: اسرار و معارف : یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جس کی موت آتی ہے اللہ ہی اس کی روح قبض فرما لیتا ہے یعنی اس کا تعلق بدن اور اس میں تصرفات سے اللہ کے حکم سے توڑ دیا جاتا ہے اور جس کی موت نہیں آتی اس کے لیے نیند کی حالت کو سمجھنا ہی کافی ہے کہ اس میں بھی روح بدن میں تصرفات سے روک دی جاتی ہے ہاں اس کا ایک گونہ تعلق باقی رکھا جاتا ہے پھر جس کا وقت پورا ہوچکا ہو اسے بدن میں واپسی سے روک دیا جاتا ہے اور جن کا ابھی وقت باقی ہے انہیں اس خاص مدت تک لوٹا دیا جاتا ہے یعنی انسان کا عجز اور اللہ کے دست قدرت کی گرفت میں ہونا نیند اور موت سے واجح ہے اور یہ بہت بڑی دلیل ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 جیسے سورة قصص ( آیت 78) میں انہی الفاظ کے ساتھ قارون کا قول گزر چکا ہے۔7 مثال کے طور پر قارون ہی کا انجام دیکھ لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:50) قالہا۔ اس میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع قول انما اوتیتہ علی علم ہے یعنی اس سے پہلے بھی لوگ ایسی بڑ مارتے رہے ہیں۔ ضمیر مؤنث بدیں وجہ سے ہے کہ یہ ایک جملہ یا کلمہ ہے۔ فما اغنی عنھم ما کانوا یکسبون : ما اغنی ماضی منفی واحد مذکر غائب۔ اغناء (افعال) مصدر غنی کرنا۔ غنی بنانا۔ دولت دینا۔ مالدار کرنا۔ اغنی عنہ کافی ہونا ھذا ما یغنی عنک شیئا۔ یہ تجھے کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ما کانوا یکسبون ۔ ما موصولہ یا مصدریہ ہے۔ پہلی صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ جو (دولت) وہ کمایا کرتے تھے اس نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ دوسری صورت میں : ان کی کمائی ان کے کسی کام نہ آئی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–52

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 52 : بدا ( ظاہر ہوا) یحسبون (وہ گمان کرتے ہیں) کسبوا (انہوں نے کمایا) حاق ( چھا گیا) ما اغنی ( کام نہ آیا) یصیب ( پہنچے گا) معجزین ( عاجز اور بےبس کرنے والے) یبسط ( وہ کشادہ کرتا ہے ، کھولتا ہے) یقدر ( وہ تنگ کردیتا ہے) تشریح : آیت نمبر 47 تا 52 :۔ قیام کے ہولناک دن جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان ، عمل صالح اور نیکی اختیار کرنے والوں اور کافروں اور مشرکین کے بےبنیاد عقیدوں اور عمل سے متعلق فیصلے فرمائیں گے تو ان میں سے ظالموں کا یہ حال ہوگا کہ عذاب الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بوکھلا جائیں گے اور اگر انکے پاس زمین کے سارے خزانے بلکہ اس سے بھی زیادہ خزانے ہوں گے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–52

اہل دوزخ کی حسرتیں۔ (ف 1) دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپرگزرا ، مثلا کبھی کہیں گے کیا اچھا ہو تاکہ آج ہم لوگ بھی پرہیزگاروں میں ہوتے، کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتاجوہم لوگوں کو پھر دنیا میں جانے کی اجازت مل جاتی ہے اور ہم اب کی دفعہ دنیا میں جاکر نیک کام کرتے اور پھر جنت میں پاتے، ان دوزخیوں کی ان حسرت کی باتوں کے جواب میں اللہ یہ فرمائے گا کہ اب حسرت کا کیا موقع ہے دنیا میں رہنے کا موقع بھی تم کو ملا اور اللہ کے رسول کی معرفت تمہارے پاس قرآن پہنچا اور حق و باطل کی راہیں واضح کردی گئی اور تم کو حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–52

[32] آزمائش سے اس بات کی آزمائش مراد ہے کہ آدمی نعمت پا کر اللہ کا شکر کرتا ہے یا ناشکری۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمت کو اپنی قابلیت کا صلہ سمجھے گا وہ اللہ کا شکر کیوں کرنے لگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–51

تکلیف میں خدا یاد آتا ہے 1: قاعدہ ہے ۔ کہ بھوک اور افلاس سے دل میقل ہوجاتا ہے اور اس کا رنگ دور ہوجاتا ہے ۔ اور فطرت کے انواداس میں چمکنے لگتے ہیں ۔ جب کوئی شخص تکلیف اور دکھ میں مبتلا ہوتا ہے ۔ تو بےاختیاری جی چاہتا ہے کہ خدا کو یاد کیا جائے ۔ اس وقت دل پرے تمام حجابات اٹھ جاتے ہیں ۔ اور انسان اللہ کے نام کے ساتھ ایک خاص طرح کی تسکین اور طمانیت محسوس کرتا ہے ۔ اور کیفیت یہ ہوتی ہے ۔ کہ اٹھتے بیٹھتے اللہ کا ذکر ہے اس کی حمدوستائش ہے ۔ اور شکر وصبر کا مظاہرہ ہے ۔ اس وقت کی کیفیات خشوع اگر دیر تک لوح قلب پر مرقسم ہیں تو بلاشبہ انسانی دولایت اور قرب کے مراتب عالیہ سے مشرف ہوجائے مگر ہوتا یہ ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(50) یہ بات وہ لوگ بھی کہہ چکے ہیں جوان سے پہلے گزرے ہیں پھر جو کچھ وہ کرتے رہے وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آیا۔ یعنی قارون اور فرعون وغیرہ دوسرے کافر بھی یہی کہا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت نہ کرتے تھے جب آفت آئی تو ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 49–50

ف 4۔ آزمائش اس لئے کہ دیکھیں اس کے ملنے پر ہم کو بھول جاتا ہے اور کفر کرتا ہے یا یاد رکھتا ہے اور شکر کرتا ہے۔ اور اسی آزمائش کے لئے بعض نعمتوں میں اسباب وکسب کا واسطہ بھی رکھ دیا ہے۔ اس سے اور زیادہ آزمائش ہوگئی کہ دیکھیں اس علت صوریہ پر نظر کرتا ہے یا علت حقیقیہ پر۔ 5۔ اس لئے اس کو اپنی تدبیر کا نتیجہ بتلاتے ہیں اور مبتلائے شرک رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو انہوں نے کہا یہی بات ان کے پہلے لوگوں نے کہی تھی 50۔ جس طرح کی باتیں یہ لوگ کر رہے ہیں بالکل اسی طرح کی باتیں ان لوگوں نے بھی کہی تھیں جو ان سے پہلے تھے اور اس ناشکری اور ناقدری کے باعث ان سے وہ نعمتیں چھین لی گئی تھیں اور اس کے بعد ان کو ہولناک عذاب سے اچانک دوچار کردیا گیا تھا اور ان کو ان کی علمی قابلیت اور دانشمندی ، ان کا مال و دولت اور ان کا خاندانی وقار اور ان کے عہدوں کی بھر مار نہ بچا سکی اور ہماری گرفت سے یقینا یہ لوگ بھی نہیں بچ سکیں گے نہ تو وہی لوگ ہم کو عاجز کر پائے اور نہ ہی یہ لوگ عاجز کرسکیں گے۔ انسان ہر حال میں انسان ہے خواہ وہ کتنی ترقیاں حاصل کر جائے۔ کوئی دانش مند سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–52

In verse 47, it was said: وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ (And there will appear to them from Allah what they have never imagined.) The famous tabi` i, Sufyan Thawri recited this verse and said, 'Ruined are those who did good deeds only to pretend their piety before people. (He repeated this sentence twice) This verse is about them. They did good deeds in their mortal life to impress people, who took them to be good people. Even they themselves used to deceive themselves by thinking that these deeds will become a source of salvation for them in the Hereafter.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 50–51

68 That is, "When they were seized for evil-doing, the ability of which they were so proud, did not avail them anything, and this also became known that they were not Allah's favourites. Evidently, if their earning had been due to their capability and their being favourites with Allah, they would not have been seized for evil-doing at all."

Read the full tafseer →