Az-Zumar 39:49

Az-Zumar · from ayah 49

39:49

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ؗ— ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا ۙ— قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰی عِلْمٍ ؕ— بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ۟فَاِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ اِذَا خَوَّلۡنٰهُ نِعۡمَةً مِّنَّا ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوۡتِيۡتُهٗ عَلٰى عِلۡمٍ‌ؕ بَلۡ هِىَ فِتۡنَةٌ وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏

جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when adversity touches man, he calls upon Us; then when We bestow on him a favor from Us, he says, "I have only been given it because of [my] knowledge." Rather, it is a trial, but most of them do not know.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 5 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:49

یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیں تو کہنے لگتا ہے کہ اسے تو میں محض اپنے علم کی وجہ سے دیا گیا ہوں، بلکہ یہ آزمائش ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ بے علم ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر انسان (کا حال یہ ہے کہ جب اس) کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے، اس کے بعد جب ہم اسے اپنی طرف سے کسی نعمت سے نوازتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ : ”یہ تو مجھے (اپنے) ہنر کی وجہ سے ملی ہے“۔ نہیں ! بلکہ یہ آزمائش ہے، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں بلاتا ہے پھر جب اسے ہم اپنے پاس سے کوئی نعمت عطا فرمائیں کہتا ہے یہ تو مجھے ایک علم کی بدولت ملی ہے بلکہ وہ تو آزمائش ہے مگر ان میں بہتوں کو علم نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت بخش دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ یہ نعمت تو مجھے (میرے) علم و تدبیر (کی بنا) پر ملی ہے، بلکہ یہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو کہتا ہے یہ مجھے ایک علم کی بنیاد ہی پر دی گئی ہے۔ بلکہ وہ ایک آزمائش ہے اور لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اسے اپنی نعمت سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے : مجھے تو یہ چیز علم (اور تجربہ) کی بنا پر حاصل ہوئی ہے (بات یوں نہیں) بلکہ یہ ایک آزمائش ہوتی ہے مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس جب انسان کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس پر اپنی طرف سے فضل کردیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مھے میری تدبیر کی بدلوت حاصل ہوا۔ بلکہ یہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اس انسان (کی تنگ ظرفی) کا عالم یہ ہے کہ جب اس کو چھو جاتی ہے کوئی تکلیف تو یہ ہم ہی کو پکارتا ہے لیکن جب ہم اس کو عطا کردیتے ہیں اپنی طرف سے کوئی نعمت تو یہ (اکڑ کر اور بپھر کر) کہتا ہے کہ یہ تو مجھے اپنے علم (و ہنر) کی بناء پر ملی ہے (نہیں) بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

جس وقت آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ ہم کو پکارتا ہے لیکن جب ہم اسے اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ یہ کہتا ہے کہ یہ مجھے (اپنی) تدبیر سے ملی ہے۔ اصل یہ ہے کہ وہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے لپیٹ دیتے ہیں اپنی نعمت میں تو وہ کہتا ہے مجھے تو یہ ملا ہے اپنے علم کی بنیاد پر بلکہ یہ تو ایک آزمائش ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اپنی طرف سے اس کو نعمتیں بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے میرے علم اور دانش کی وجہ سے ملی ہیں۔ نہیں بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے

— محترمہ رفعت اعجاز

When an affliction befalls man, he cries out to Us; but when We grant him a favour from Us, he says: “I have been granted this on account of my knowledge.” Nay; this (favour) is a test; but most of them do not know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When man is visited by a trouble, he prays to Us, but when, after that, We favor him with some blessing from Us, he says, :This is given to me because of (my) knowledge. No, but this is a trial, yet most of them do not know.

— Muhammad Taqi Usmani

When man is visited by a trouble, he prays to Us, but when, after that, We favor him with some blessing from Us, he says, :This is given to me because of (my) knowledge. No, but this is a trial, yet most of them do not know.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When harm touches man, he calls to Us (for help); then when We have changed it into a favor from Us, he says: "Only because of knowledge I obtained it." Nay, it is only a trial, but most of them know not!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Now when hurt toucheth a man he crieth unto Us, and afterward when We have granted him a boon from Us, he saith: Only by force of knowledge I obtained it. Nay, but it is a test. But most of them know not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when adversity touches man, he calls upon Us; then when We bestow on him a favor from Us, he says, "I have only been given it because of [my] knowledge." Rather, it is a trial, but most of them do not know.

— Saheeh International

When the human being is afflicted with hardship, he cries out to us for help. When We grant him a favor, he says, "I knew that I deserved it." In fact, it is only a test for him, but most people do not know this.

— Muhammad Sarwar

So when harm afflicts a man he calls upon Us; then, when We give him a favor from Us, he says: I have been given it only by means of knowledge. Nay, it is a trial, but most of them do not know.

— Muhammad Habib Shakir

When hurt toucheth a man he calleth on us, and thereafter, when We have changed it Unto a favour from Us, he saith: have been given itso only by force of my knowledge. Aye! it is a trial, but most of them know not.

— Abdul Majid Daryabadi

Now, when trouble touches man, he cries to Us: But when We bestow a favour upon him as from Ourselves, he says, "This has been given to me because of a certain knowledge (I have)!" Nay, but this is but a trial, but most of them understand not!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–52

انسان کا ناشکرا پن۔ اللہ تعالیٰ انسان کی حالت کو بیان فرماتا ہے کہ مشکل کے وقت تو وہ آہ وزاری شروع کردیتا ہے، اللہ کی طرف پوری طرح راجع اور راغب ہوجاتا ہے، لیکن جہاں مشکل ہوگئی جہاں راحت و نعمت حاصل ہوئی یہ سرکش و متکبر بنا۔ اور اکڑتا ہوا کہنے لگا کہ یہ تو اللہ کے ذمے میرا حق تھا۔ میں اللہ کے نزدیک اس کا مستحق تھا ہی۔ میری اپنی عقل مندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات یوں نہیں بلکہ دراصل عقل مندی اور خوش تدبیری کی وجہ سے اس نعمت کو میں نے حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بات یوں نہیں بلکہ دراصل یہ ہماری طرف کی آزمائش ہے گو ہمیں ازل سے علم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّمَر 65 یعنی جسے اللہ کے نام سے چڑ ہے اور اکیلے اللہ کا ذکر سن کر جس کا چہرہ بگڑنے لگتا ہے۔ سورة الزُّمَر 66 اس فقرے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ جانتا ہے کہ میں اس نعمت کا اہل ہوں، اسی لیے اس نے مجھے یہ کچھ دیا ہے، ورنہ اگر اس کے نزدیک میں ایک برا عقیدہ اور غلط کار آدمی ہوتا تو مجھے یہ نعمتیں کیوں دیتا۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تو مجھے میری قابلیت کی بنا پر ملا ہے۔ سورة الزُّمَر 67 لوگ اپنی جہالت و نادانی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جسے کوئی نعمت مل رہی ہے وہ لازماً اس کی اہلیت و قابلیت کی بنا پر مل رہی ہے، اور اس نعمت کا ملنا اس کے مقبول بارگاہ الہٰی ہونے کی علامت یا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–52

(آیت) وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْنَ۔ حضرت سفیان ثوری نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا کہ ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے، ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے۔ یہ آیت انہیں سے متعلق ہے جو دنیا میں نیک کام لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے تھے۔ اور لوگ بھی ان کو نیک سمجھتے تھے وہ خود بھی اس دھوکہ میں تھے کہ یہ اعمال ان کے لئے نجات آخرت کا ذریعہ بنیں گے۔ مگر چونکہ ان میں اخلاص نہیں تھا اس لئے اللہ کے نزدیک ایسے نیک اعمال کا کوئی اجر وثواب نہیں، اس لئے وہاں اچانک ان کے گمان کے خلاف عذاب و عتاب ہونے لگے گا۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 49 ایک مہلک مغالطہ اس سورة کی آیت 8 کے تحت اس کی وضاحت ہوچکی یہ۔ انسان کی یہ عجیب کمزوری ہے کہ جب اس کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تب تو وہ خدا سے فریاد کرتا ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت دور کر کے اس کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو وہ خدا اور اپنی مصیبت دونوں کو بھول جاتا ہے اور اس نعمت کو یا تو اس کو اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو وہ خدا اور اپنی مصیبت دونوں کو بھول جاتا ہے اور اس نعمت کو یا تو دوسروں کی طرف منسوب کرتا ہے کہ فلاں اور فلاں کی برکت اور بخشش سے یہ چیز مجھے حاصل ہوئی جیسا کہ آیت 8 میں ذکر ہے یا اس کو اپنی تدبیر اور اپنی حکمت و سائنس کا کرشمہ قرار دیتا ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 یہ انسان کا بہ اعتبار جنس ذکر ہے یعنی انسانوں کی اکثریت کا یہ حال ہے کہ جب ان کو بیماری فقر و فاقہ یا کوئی اور تکلیف پہنچتی ہے تو اس سے نجات پانے کے لیے اللہ سے دعائیں کرتا اور اس کے سامنے گڑگڑاتا ہے۔ 49۔ 2 یعنی نعمت ملتے ہی سرکشی اور طغیان کا راستہ اختیار کرلیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں اللہ کا کیا احسان ؟ یہ تو میری اپنی دانائی کا نتیجہ ہے۔ یا جو علم و ہنر میرے پاس ہے، اس کی بدولت یہ نعمتیں حاصل ہوئی ہیں یا مجھے معلوم تھا کہ دنیا میں یہ چیزیں مجھے ملیں گی کیونکہ اللہ کے ہاں میرا بہت مقام ہے۔ 49۔ 3 یعنی بات وہ نہیں ہے جو تو سمجھ رہا یا بیان کر رہا ہے بلکہ یہ نعمتیں تیرے لیے امتحان اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

16: یعنی ایک طرف تو کافر لوگ توحید کا انکار کرتے ہیں، اور دوسری طرف جب کوئی تکلیف آتی ہے تو بتوں کو نہیں، ہمیں پکارتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 49 یہ آیت انسانوں کے ایک ایسے نمونے کا ذکر کرتی ہے جو ہر جگہ اور ہر زمانے میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایسا نمونہ ہے جس کی فطرت نے سچائی تک رسائی حاصل نہیں کی۔ رب واحد کے عقیدے تک نہیں پہنچ سکی کہ اسے صحیح رویہ معلوم ہو اور خوشی اور غم کی حالت میں بھی وہ اپنا صحیح راستہ نہ بھولے۔ مصیبت ، انسانی فطرت کے اوپر سے خواہشات نفسانیہ کی جمی ہوئی دبیز تہوں کو دور کردیتی ہے اور مصنوعی عوامل کو ہٹا کر انسانی ضمیر کے اندر موجود سچائی نکھارتی ہے۔ جب انسان مشکلات سے دوچار ہوتا ہے تو اسے اللہ نظر آتا ہے ” جب کیا تنگ بتوں نے تو خدایاد آیا “ اب خدا کی تعریف ہونے لگتی ہے اور لوگ صرف اللہ وحدہ کی طرف متوجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جس کے ذکر سے چڑتا تھا مصیبت کے وقت اسی کو پکارتا ہے اور جن کے ذکر سے خوش ہوتا تھا انہیں بھول جاتا ہے۔ 5 یعنی قیاس یہ ہی چاہتا تھا کہ یہ نعمت مجھ کو ملے۔ کیونکہ مجھ میں اس کی لیاقت تھی اور اس کی کمائی کے ذرائع کا علم رکھتا تھا اور خدا کو میری استعداد و اہلیت معلوم تھی، پھر مجھے کیوں نہ ملتی۔ غرض اپنی لیاقت اور عقل پر نظر ی، اللہ کے فضل وقدرت پر خیال نہ کیا۔ 6 یعنی ایسا نہیں بلکہ یہ نعمت خدا کی طرف سے ایک امتحان ہے کہ بندہ اسے لے کر کہاں تک منعم حقیقی کو پہچانتا اور اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ اگر ناشکری کی گئی تو یہ ہی نعمت نقمت بن کر وبال جان ہوجائے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یہ جانچ ہے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 { فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَاز } ”تو جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے“ { ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰـہُ نِعْمَۃً مِّنَّا } ”پھر جب ہم اسے لپیٹ دیتے ہیں اپنی نعمت میں“ { قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ } ”تو وہ کہتا ہے مجھے تو یہ ملا ہے اپنے علم کی بنیاد پر۔“ وہ کہتا ہے کہ یہ تو میری سمجھ ‘ ذہانت و فطانت اور منصوبہ بندی کا کمال ہے۔ میں نے بہت پہلے یہ اندازہ کرلیا تھا کہ عنقریب اس چیز کی ڈیمانڈ آنے والی ہے ‘ چناچہ میں نے بر وقت فیکٹری لگا لی اور یوں میرے وارے نیارے ہوگئے۔ یہ مضمون سورة القصص کے آٹھویں رکوع میں قارون کے حوالے سے بڑی وضاحت کے ساتھ آچکا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

65 یعنی خوشحالی کے دور میں اپنے معبودوں کی شان بڑھاتے اور اللہ کی گھٹاتے ہیں۔ لیکن مصیبت پڑنے پر پھر اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور جن معبودوں کی شان بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے، مصیبت کے وقت وہ کام نہیں آتے۔ 66 اس جملہ کے تین مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ جو مال و دولت کی فراوانی مجھے نصیب ہوئی ہے۔ پہلے ہی اللہ کے علم میں تھی اور میرے مقدر میں لکھی ہوئی تھی۔ دوسرا یہ کہ اللہ کو میری استعداد معلوم تھی اور قیاس چاہتا تھا کہ مجھے یہ مال و دولت ملنی چاہئے۔ تیسرا یہ کہ جو کہ مجھے ملا ہے۔ میرے علم، میرے تجربہ اور میری استعداد کے مطابق ہی مجھے ملا ہے۔ 67 مال کی آزمائش بڑی سخت ہے۔ بحرین کے جزیہ کی رقم کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

64۔ عام بدسرشت انسان کی فطرت کا بیان ہے جہان اسے اطمینان حاصل ہوا، وہ اپنی ہر کامیابی کو اپنی سعی وحسن تدبیر کی جانب منسوب کرنے لگتا ہے اور جادۂ توحید سے ہٹ جاتا ہے۔ مجازی واسطوں اور وسیلوں کا ذکر مطلق صورت میں ممنوع نہیں، صرف اس صورت میں حرام ہے جب نظرفاعل حقیقی سے ہٹ جائے۔ 65۔ یعنی ہر نعمت خدا کی دی ہوئی اور واسطہ اسباب سے حاصل کی ہوئی دراصل بندوں کے حق میں آزمائش ہوتی ہے کہ نظر علت حقیقی پر رہتی ہے یا علت قریبی صوری پر ..... اور یہ مشرکین اس ایمانی حقیقت سے بھی جاہل ہیں۔ (آیت) ” ھی .... نعمۃ “۔ لفظ مؤنث ہے اور معنی کے اعتبار سے مذکر۔ اس لیے اس کے لئے ضمیریں مؤنث ومذکر دونوں جائز ہیں۔ (آیت)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–52

آیت نمبر 42 تا 52 ترجمہ : اللہ ہی قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی ہے انہیں ان کی نیند میں قبض کرلیتا ہے، یعنی ان کو نیند میں قبض کرلیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کیلئے چھوڑ دیتا ہے یعنی ان کی موت کے وقت تک، اور چھوڑی ہوئی روح تمییز ہے جس کے بغیر روح حیات باقی رہ سکتی ہے، اس کا عکس ممکن نہیں یقیناً ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لہٰذا اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جو ذات اس پر قادر ہے وہ بعث (بعد الموت) پر بھی قادر ہے، اور قریش نے اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کیا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاذا مس الانسان ضر دعانا ثم اذا خولنہ نعمۃ منا قال انما اوتیتہ علی علم بلھی فتنۃ ولکن اکثرھم لا یعلمون پھر جب (کافر) انسان کو کوئی تکلیف چھو جاتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے (لیکن) جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کردیتے ہیں تو کہتا ہے : یہ تو مجھے میری تقدیر سے ملی ہے (یہ نعمت یونہی نہیں ملتی) بلکہ یہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔ اَلْاِنْسَانَ (میں لام عہدی ہے ‘ اس) سے مراد ہے کافر انسان۔ بعض نے کہا : الف لام جنسی ہے ‘ لیکن کافروں کی کثرت ہے ‘ اسلئے جنس انسان سے کافر انسان مراد ہیں۔ ضُرٌّ کوئی سخت تکلیف۔ اس جملہ کا عطف وَاِذَا ذُکِرَ اللہ وَحْدَہٗ پر ہے ‘ اس سے مقصود ہے کافروں کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جس وقت کافر کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تکلیف کے ختم ہونے کے لیے پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا کردیتے ہیں تو کہتا ہے کہ مجھے جو کچھ مال ملا ہے وہ میری عقلمندی اور ہنر مندی سے ملا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی میری ہنر مندی دیکھ کردیا ہے بلکہ وہ نعمت تو ہماری طرف سے ایک آزمائش ہے مگر سب اس کو سمجھتے ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ۔۔ : ”خَوَّلَ یُخَوِّلُ“ کسی معاوضے کے بغیر کوئی عطیہ دینا۔ اس آیت میں مشرک انسان کی ایک اور قبیح صفت بیان کی گئی ہے کہ جب اسے کوئی بڑی تکلیف پہنچتی ہے، مثلاً فقر یا بیماری یا سیلاب یا طوفان وغیرہ، تو اپنے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر ایک اللہ کو پکارتا ہے، (”ثُمَّ“ تراخی کے لیے ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ نعمت کچھ مدت کے بعد ملتی ہے) پھر ایک مدت تک اس تکلیف میں رہنے اور بار بار لیٹے، بیٹھے اور کھڑے ہر حال میں اس سے فریاد کرنے اور اسے پکارنے کے بعد جب وہ اسے اس تکلیف سے نجات کی نعمت، یا کوئی بھی نعمت محض اپنے خاص فضل سے عطا کرتا ہے تو وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 49–52

49 ۔ 52:۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت حضرت حذیفہ بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ قتادہ نے کہا : علی علم یعنی میرے نزدیک کمائی کی کئی صورتیں تھیں ان سے یہ بھی مروی ہے کہ علی علم کا معنی ہے (1) اس خیر کی وجہ سیجو میرے پاس تھی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : علی علم کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس علم کی بنا پر جو میری فضیلت کے بارے میں موجود تھا حضرت حسن بصری نے کہا : علی علم کا معنی ہے اس علم کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے کہ مجھے علم تھا کہ جب دنیا مینعطا کیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں میرا مقام و مرتبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بلکہ یہ آزمائش…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–52

1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “ (جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرماتے ہیں) یعنی ہم اس کو عطا فرماتے ہیں (آیت ) ” قال انما اوتیتہ علی علم “ (تو کہتا ہے یہ مجھے میری تدبیر سے ملی ہے) یعنی اس شرف پر جو اس نے مجھے عطا کیا۔ 2:۔ عبد الرزاق (رح) عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ثم اذا خولنہ نعمۃ منا “ یعنی جب ہم نے اس کو عطا کیا۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما اوتیتہ علی علم “ میں ” علی علم “ کا مطلب ہے کہ وہ خبر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاِذَا مَسَّ [پھر جب کبھی چھوتی ہے ] الْاِنْسَانَ ضُرٌّ [انسان کو کوئی تکلیف ] دَعَانَا ۡ [تو وہ پکارتا ہے ہم کو ] ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ [پھر جب ہم عطا کرتے ہیں اس کو ] نِعْمَةً مِّنَّا ۙ [کوئی نعمت اپنے پاس سے ] قَالَ [تو وہ کہتا ہے ] اِنَّمَآ اُوْتِيْتُهٗ [مجھے تو بس دی گئی یہ (نعمت)] عَلٰي عِلْمٍ ۭ [ایک علم (کی بنا) پر ] بَلْ هِىَ فِتْنَةٌ [بلکہ (جبکہ) یہ ایک آزمائش ہے ] وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ [اور لیکن ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتے نہیں ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–52

قولہ تعالیٰ (اِنَّمَآ اُوْتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلٰمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) ذکرا لضمیر الاول لان النعمۃ بمعنی الانعام۔۔ المراد بھا المال وأنت الضمیر الثانی لرجوعھا الی النعمۃ واختیر لفظھا کما ختیر فی الال المعنی۔۔ ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد (اِنَّمَآ اُوتِیْتُہٗ عَلیٰ عِلٰمٍ بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) اس میں پہلی ضمیر کو مذکر اس لیے لایا گیا ہے انعام کے معنی میں ہے اور بعض نے کہا اس لیے کہ یہاں نعمۃ سے مراد مال ہے اور دوسری ضمیر کو اس لیے مونث لایا نعمۃ کی طرف لوٹ رہی ہے اور یہاں نعمۃ کا لفظ مراد ہے جیسا کہ پہلی ضمیر لوٹانے کے وقت نعمۃ کا معنی مراد لیا گیا ہے۔ پانچویں آیت میں یہ بیان فرمایا کہ یہ جملہ ایسے شخص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–52

تسلی برائے نبی کریم ﷺ بضمن تلقین دعا وبیان بیچارگی عالم پیش قدرت رب کبریاء :۔ قال اللہ تعالیٰ : قل اللھم فاطر السموت والارض ......... الی ......... لقوم یؤمنون “۔ (ربط) گذشتہ آیات مجرمین ومنکرین کی سزا اور قیامت کے روز ان کی ذلت وندامت کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک عظیم دعا کی تلقین وتعلیم کے ضمن میں تسلی دی جارہی ہے تاکہ آپ ﷺ کفار کی مخالفت اور شدت عناد سے مغموم ومتأسف نہ ہوں، ارشاد فرمایا : کہہ دیجئے اے ہمارے پیغمبر اپنے پروردگار سے دعا ومناجات کرتے ہوئے اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ظاہر و باطن کے جاننے والے آپ ہی قیامت کے روز اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

49:۔ ” فاذا مس الخ “ یہ زجر چہارم ہے بطور شکوی الانسان سے یا تو جنس انسان کی طرف اشارہ ہے اور جنس بشر کی صفت غالبہ کا بیان مقصود ہے اور یہ صفت مشرکین ہی میں اکثر پائی جاتی ہے یا لام عہدیہ اور اس سے مراد کفار ہیں۔ اخبار عن الجنس بما یغلب فیہ (بیضاوی) وقیل المراد بالانسان الکفرۃ (روح) ۔ مشرک انسان چونکہ کو پکارتا ہے جس کی وحدانیت کے ذکر سے ناک بھوں چڑھاتا تھا۔ ” فاذا رکبوا فی الفلک دعو وا اللہ مخلصین لہ الدین “ (عنکبوت رکوع 7) ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ محض اپنی مہربانی سے اس پر انعام واکرام کی بارش فرما کر اس کی تمام تکلیفیں دور کردیتا ہے تو اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اللہ کے احسانات کو اپنے حسن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–52

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تردید فرمائی ، کچھ دلائل قدرت بیان کیے ہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) پر طعن کرنے والوں کا رد کیا ، پھر فرمایا کہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے لہذا اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے ، پھر آگے تنبیہہ فرمائی کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو میں اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہوں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ صحیح راستے پر کون ہے اور گمراہی میں کون بھٹک رہا ہے نیز یہ بھی کہ دائمی عذاب کس پر مسلط ہوتا ہے اور کون اس سے بچتا ہے پھر قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت پائے گا اس میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا۝ 0 ۡثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰہُ نِعْمَۃً مِّنَّا۝ 0 ۙ قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِيْتُہٗ عَلٰي عِلْمٍ۝ 0 ۭ بَلْ ہِىَ فِتْنَۃٌ وَّلٰكِنَّ اَكْثَرَہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ 49 مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 49–52

ترکیب : نعمۃ نصبھا علی الحال ای نعمۃ کائنۃ منا اوتیتہ الضمیر یرجع الی النعمۃ وھی مونث لفظا ولکن یراد بھا الشیء ھذا علی ان تکون ما فی انما کافۃ وعلی علم حال من المرفوع او المنصوب وان جعلت ماموصولۃ فالضمیر الی ما الموصولۃ و علی علم خبرہ قدقالھا الضمیر الی الجملۃ وھی قولہ انما الخ۔ تفسیر : یہاں سے مشرکین کی ایک اور عادت بیان فرماتا ہے۔ فقال فاذا مس الانسان کہ جب ان میں سے کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے بیماری یا رزق کی تنگی وغیرہ تو خدائے تعالیٰ کو پکارتا ہے اور جب خدا اس پر فضل کرتا ہے اور راحت اور آسائش دیتا ہے تو اس کو اپنی دانائی یا تدابیر اور کوشش کی طرف منسوب کرتا ہے فرماتا ہے۔ بلھی فتنۃ بلکہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّدَعَانَا ز ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰـہُ نِعْمَۃً مِّنَّا لا قَالَ اِنَّمَآ اُوْتِیْتُـہٗ عَلٰی عِلْمٍ ط بَلْ ھِیَ فِـتْـنَـۃٌ وَّلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الزمر : 49) (جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے اور جب ہم اسے اپنے فضل سے نواز دیتے ہیں تو کہتا ہے یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے نہیں ! بلکہ یہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ) انسانی طبیعت کے تضادات انسانی طبیعت اپنے اندر عجیب تضادات رکھتی ہے جب تک انسان اللہ تعالیٰ سے وابستگی پیدا نہیں کرتا اور اسلامی تعلیمات کو اپنا نظام زندگی نہیں بناتا اس وقت تک نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–51

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے جہنم میں داخل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہوگی کہ جب انہیں دنیا میں تکلیف پہنچتی تھی تو صرف ایک رب کو پکارتے تھے اور جب انہیں کوئی نعمت دی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ یہ ہماری فہم و فراست کا نتیجہ ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ” اللہ “ کو یاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب اس کی تکلیف رفع کردیتا ہے اور اسے اپنی نعمت سے نوازتا ہے تو پھر وہ سمجھتا اور بعض مرتبہ زبان سے بھی کہتا ہے کہ یہ تو میری قابلیت کا نتیجہ ہے۔ بیماری کے بعد صحت کے بارے میں کہتا ہے کہ بروقت اور مناسب علاج کی وجہ سے صحت یاب ہوا ہوں۔ تونگری کے بارے میں برملا اظہار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت، پھر جب آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم کو پکارتا ہے اور جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطاء فرما دیتے ہیں۔ خول کا معنی ہم اس کو بطور فضل دے دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے خولنی، یعنی جبکہ وہ بغیر بدلے کے تمہیں دے دے۔ نعمۃ منا، اس پر وقف نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اذا کا جواب۔ آیت، تو کہتا ہے کہ تو مجھے تدبیر سے ملی ہے۔ یعنی میرے علم سے کہ میں اس کے ملنے کا استحقاق و فضیلت رکھتا تھا یا میرے ذرائع آمدنی کی وساطت سے جیسا کہ قارون نے کہا، علی علم عندی، (القصص :78) ۔ یہاں اوتیتہ میں ضمیر لائے جبکہ ضمیر مذکر اور مرجع مونث ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ نعمت کے معنی کے پیش نظر ضمیر لائے کیونکہ نعمۃ منا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

49، فاذامس الانسان ضر، سختی ، دعاناثم اذا خولناہ، ہم اس کو دیں ، نعمۃ مناقال انما اوتیتہ علی علم، یعنی اللہ کے علم پر کہ میں اس کا اصل ہوں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ میرے بارے میں خیرعلم کی وجہ سے اور کنایہ کو ذکر کیا ہے کیونکہ نعمت سے مراد انعام ہے۔ ، بلھی فتنۃ، یعنی یہ نعمت آزئش اور اللہ کی طرف سے ڈھیل اور امتحان ہے اور کہا گیا ہے کہ بلکہ وہ کلمہ جو اس نے کہا ہے وہ آزمائش ہے۔ ، ولکن اکثرھم لایعلمون، کہ یہ ڈھیل اور امتحان ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–52

49۔ 52۔ اوپر ذکر تھا کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان مشرکوں کے دل میں ایک نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جب ان کے بتوں کا اچھا ذکر ان کے کانوں تک پہنچ جاتا ہے تو یہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں ان آیتوں میں فرمایا کہ ان لوگوں کی یہ عادت شیطان کے بہکانے سے ہے کیونکہ ان کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح سے بسی ہوئی ہے کہ تکلیف کے وقت سوا اللہ کے ان کے بت کچھ کام نہیں آتے اس واسطے تکلیف کے وقت خالص اللہ ہی سے یہ لوگ رفع تکلیف کی التجا کرتے ہیں لیکن یہ ان لوگوں کی ناشکری ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے ان کی وہ تکلیف رفع کردیتا ہے تو کبھی اس رفع تکلیف کو اپنی تدبیروں کے اثر سے اور کبھی اپنی عزت اور شرافت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 49–52

آیت 49 اللہ تعالیٰ اناسن کے حال اور اس کی فطرت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے کہ جب اسے کوئی بیماری، شدت یا تکلیف پہنچتی ہے (دعانا) تو وہ اس نازل ہونے والی مصیبت کو دور کرنے کے لئے گڑا گڑا کر ہمیں پکارتا ہے۔ (ثم ادا خولنہ نعمۃ منا) ” پھر جب ہم اسے اپنی نعمت عطا کردیتے ہیں “ یعنی جب ہم اس کی تکلیف کو دور اور اس کی مشقت کو زائل کردیتے ہیں تو وہ اپنے رب کی نا سپاسی اور اس کے احاسن کا اعتراف کرنے سے انکار ہے اور (قال انما او تیتہ علی علم) ” کہتا ہے : مجھے تو یہ سب کچھ علم کے سبب دیا گیا ہے “ یعنی اللہ کی طرف سے علم کی بنا پر حاصل ہوا ہے اور میں اس کا اہل اور اس کا مستحق ہوں کیونکہ میں اس کے ہاں بہت…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 49–51

94 نعمت ذریعہ ابتلاء و آزمائش : سو انسان کو ملنے والی ہر نعمت ذریعہ ابتلاء و آزمائش ہے۔ چناچہ اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کو جو بھی کوئی نعمت ملتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور وہ اس کیلئے ابتلاء و آزمائش کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یعنی یہ آزمائش کہ بندہ اس پر شکر کرتا ہے یا ناشکری۔ اور اس نعمت کو وہ خیر اور نجات کا ذریعہ بناتا ہے یا شر اور عذاب کا باعث ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں جس کے باعث ایسا انسان راہ حق و ہدایت سے سرفراز ہونے کی بجائے الٹا ہلاکت و تباہی کے گڑھوں میں اوندھا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ انسان کو جو بھی کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–52

اللہ کی کچھ اور قدرتیں تشریح : یہ باتیں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول کی زبان سے بار بار لوگوں کو سناتا ہے اور قرآن کے ذریعہ سے بار بار ہماری آنکھوں کے سامنے لاتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے قدرت والا ہے۔ اس کے برابر کوئی نہیں ہوسکتا یہ کوئی غلط یا انہونی بات نہیں کیونکہ ہم خود اور ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ اس کو بنانے والا ایک ہی ہے ورنہ یہ نظم و ضبط جو کائنات کے کارخانے میں موجود ہے کبھی ایک سا نہ رہتا۔ وہ کیونکہ عالم الغیب ہے اور رحمن و رحیم ہے اس لیے بار بار بتا رہا ہے کہ نیکی کی راہیں اختیار کرو، شیطان کو دوست مت بناؤ کیونکہ نیکی کا راستہ جنت کو اور شیطان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–52

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 42 ۔ تا۔ 52: اسرار و معارف : یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جس کی موت آتی ہے اللہ ہی اس کی روح قبض فرما لیتا ہے یعنی اس کا تعلق بدن اور اس میں تصرفات سے اللہ کے حکم سے توڑ دیا جاتا ہے اور جس کی موت نہیں آتی اس کے لیے نیند کی حالت کو سمجھنا ہی کافی ہے کہ اس میں بھی روح بدن میں تصرفات سے روک دی جاتی ہے ہاں اس کا ایک گونہ تعلق باقی رکھا جاتا ہے پھر جس کا وقت پورا ہوچکا ہو اسے بدن میں واپسی سے روک دیا جاتا ہے اور جن کا ابھی وقت باقی ہے انہیں اس خاص مدت تک لوٹا دیا جاتا ہے یعنی انسان کا عجز اور اللہ کے دست قدرت کی گرفت میں ہونا نیند اور موت سے واجح ہے اور یہ بہت بڑی دلیل ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–49

ف 3 یا ” اس نعمت کے ملنے کا مجھے پہلے سے علم تھا “۔ یا ” اللہ کا علم تھا کہ میں اس نعمت کا مستحق ہوں “۔4 کہ آیا وہ اسے پا کر شکر بجا لاتا ہے یا نا شکری پر اتر آتا ہے۔5” کہ انہیں جو دولت اور نعمت ملی ہے اس سے اللہ تعالیٰ ان کا امتحان لینا چاہتا ہے “

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:49) مس۔ ماضی واحد مذکر غائب مس (باب نصر) مصدر۔ جس کے معنی چھونا۔ دکھ پہنچانا۔ اسی باب سے قربت صنفی یعنی جماع کے معنی میں آتا ہے مثلا وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن (2:237) اور اگر تم عورتوں کو انکے پاس جانے سے پہلے طلاق دیدو۔ الانسان۔ اس میں لاف لام عہد کا ہے اس سے مراد کافر انسان ہیں۔ اور بعض کے نزدیک ال جنسی ہے اور اس سے جنس انسان مراد ہے لیکن چونکہ کافروں کی کثرت کی وجہ سے جنس انسان سے کافر انسان مراد ہیں۔ ضر۔ تکلیف، ضرر، ایذائ۔ دعانا : دعا ماضی واحد مذکر غائب ضمیر فاعل الانسان کی طرف راجع ہے۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ اس نے ہمیں پکارا۔ بمعنی حال۔ وہ ہمیں پکارتا ہے۔ خولنہ : خولنا ماضی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–52

لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 52 : بدا ( ظاہر ہوا) یحسبون (وہ گمان کرتے ہیں) کسبوا (انہوں نے کمایا) حاق ( چھا گیا) ما اغنی ( کام نہ آیا) یصیب ( پہنچے گا) معجزین ( عاجز اور بےبس کرنے والے) یبسط ( وہ کشادہ کرتا ہے ، کھولتا ہے) یقدر ( وہ تنگ کردیتا ہے) تشریح : آیت نمبر 47 تا 52 :۔ قیام کے ہولناک دن جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان ، عمل صالح اور نیکی اختیار کرنے والوں اور کافروں اور مشرکین کے بےبنیاد عقیدوں اور عمل سے متعلق فیصلے فرمائیں گے تو ان میں سے ظالموں کا یہ حال ہوگا کہ عذاب الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بوکھلا جائیں گے اور اگر انکے پاس زمین کے سارے خزانے بلکہ اس سے بھی زیادہ خزانے ہوں گے تو وہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–52

اہل دوزخ کی حسرتیں۔ (ف 1) دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپرگزرا ، مثلا کبھی کہیں گے کیا اچھا ہو تاکہ آج ہم لوگ بھی پرہیزگاروں میں ہوتے، کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتاجوہم لوگوں کو پھر دنیا میں جانے کی اجازت مل جاتی ہے اور ہم اب کی دفعہ دنیا میں جاکر نیک کام کرتے اور پھر جنت میں پاتے، ان دوزخیوں کی ان حسرت کی باتوں کے جواب میں اللہ یہ فرمائے گا کہ اب حسرت کا کیا موقع ہے دنیا میں رہنے کا موقع بھی تم کو ملا اور اللہ کے رسول کی معرفت تمہارے پاس قرآن پہنچا اور حق و باطل کی راہیں واضح کردی گئی اور تم کو حق…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 49–52

[32] آزمائش سے اس بات کی آزمائش مراد ہے کہ آدمی نعمت پا کر اللہ کا شکر کرتا ہے یا ناشکری۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نعمت کو اپنی قابلیت کا صلہ سمجھے گا وہ اللہ کا شکر کیوں کرنے لگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 45–49

اللہ کے نام سے چِڑ 2: اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ مشرکین کو توحید سے کس درجہ نفرت ہے اور بتوں سے کس حد تک محبت ہے ۔ ان کے سامنے جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اور وحدیت کے معارف عالیہ سے ان کو بہرہ مند کیا جاتا ہے ۔ اور بتلایا جاتا ہے ۔ کہ اسی کا آستانہ جلال و عظمت اس قابل ہے ۔ کہ انسان اس کے سامنے جھکے ۔ تو ان کے دلوں میں انقباض پیدا ہوجاتا ہے ۔ اور بشرے سے سخت بیزاری ٹپکنے لگتی ہے ۔ تو چاہیے یہ تھا کہ اللہ کا نام ان کے لئے وجہ تسکین ہوتا ۔ جب ان کا نام لیا جاتا ۔ تو ان کے قلوب میں روشنی اور شگفتگی پیدا ہوجاتی ۔ مگر یہاں فطرت مسخ ہوچکی ہے ۔ یہ لوگ اللہ کے نام سے منقبض ہوتے ہیں ۔ اور جب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(49) جس وقت انسان کو کوئی تکلیف اور سختی پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی خاص نعمت عطا فرماتے ہیں تو کہنے لگتا ہے سوائے اس کے نہیں کہ یہ تو مجھ کو میرے علم کی بنا پر ملی ہے یہ بات نہیں بلکہ وہ ایک آزمائش ہے مگر ان کے اکثر لوگ اس بات کو سمجھتے نہیں۔ یعنی ایک طرف تو یہ حالت کہ اللہ تعالیٰ کے نام سے نفرت کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کی یہ حالت ہے کہ ان میں سے جب کسی کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو اس وقت ہم کو پکارتا ہے اور ہم جب کوئی احسان کردیتے ہیں تو کہتا ہے مجھے اس کا پہلے ہی سے علم تھا کہ مجھ کو یہ نعمت ملنے والی ہے یا یہ کہ اللہ مجھ کو اور میرے استحقاق کو جانتا تھا اسی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 49–50

ف 4۔ آزمائش اس لئے کہ دیکھیں اس کے ملنے پر ہم کو بھول جاتا ہے اور کفر کرتا ہے یا یاد رکھتا ہے اور شکر کرتا ہے۔ اور اسی آزمائش کے لئے بعض نعمتوں میں اسباب وکسب کا واسطہ بھی رکھ دیا ہے۔ اس سے اور زیادہ آزمائش ہوگئی کہ دیکھیں اس علت صوریہ پر نظر کرتا ہے یا علت حقیقیہ پر۔ 5۔ اس لئے اس کو اپنی تدبیر کا نتیجہ بتلاتے ہیں اور مبتلائے شرک رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایسے انسانوں کی حالت ہی یہ ہے کہ پکڑے گئے تو چیخنے لگے ، چھوڑے گئے تو خوش ہو گئے 49۔ ایسے انسانوں کی حالت جن کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا دنیوی زندگی میں اس طرح رہی کہ جب کسی تکلیف میں مبتلا ہوئے تو اس وقت اپنے رب کریم کو پکارنے لگے اور گڑگڑا کر اور رو رو کر دعائیں مانگنے لگے اور فریادیں کرنے لگے اور جب اس عذاب سے اس دکھ اور مصیبت سے نجات مل گئے اور اللہ تعالیٰ نے انعامات کی بارش برسا دی تو اس وقت بھی ان کے منہ سے یہ بات نہ نکلی کہ اللہ نے احسان فرمایا اور میری مشکل آسان کر کے مجھے اپنی نعمتوں سے نوازا بلکہ اس وقت بھی وہ اپنی قابلیت کی ڈینگیں مانے لگے اور اپنی ماہرت لوگوں کو جتانے لگے اور کہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–52

In verse 47, it was said: وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ (And there will appear to them from Allah what they have never imagined.) The famous tabi` i, Sufyan Thawri recited this verse and said, 'Ruined are those who did good deeds only to pretend their piety before people. (He repeated this sentence twice) This verse is about them. They did good deeds in their mortal life to impress people, who took them to be good people. Even they themselves used to deceive themselves by thinking that these deeds will become a source of salvation for them in the Hereafter.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

65 "The man" : the one who has aversion to Allah and whose face is distorted on hearing Allah alone being mentioned. 66 This sentence can have two meanings: (1) "That Allah knows that I stn worthy of this blessing; that is why He has given me All this, otherwise He would not have blessed me if I had been an evil and wicked person in His sight;" and (2) `that I have attained to this by virtue of my ability." 67 People ignorantly think that whoever is being blessed by Allah in some way is being so blessed necessarily on account of his worth and ability and that the same is a sign or proof of…

Read the full tafseer →