Explained with ayahs 46–48
صبح وشام کے بعض وظائف۔
مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی ﷺ سے اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ فرماتا ہے کہ تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہوگا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے۔ حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن ؒ حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے ؟ آپ فرماتے ہیں اس دعا سے (ترجمہ) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
سورة الزُّمَر 64
یہ بات قریب قریب ساری دنیا کے مشرکانہ ذوق رکھنے والے لوگوں میں مشترک ہے، حتّیٰ کہ مسلمانوں میں بھی جن بد قسمتوں کو یہ بیماری لگ گئی ہے وہ بھی اس عیب سے خالی نہیں ہیں۔ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں۔ لیکن حالت یہ ہے کہ اکیلے اللہ کا ذکر کیجیے تو ان کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں، ضرور یہ شخص بزرگوں اور اولیاء کو نہیں مانتا، جبھی تو بس اللہ ہی اللہ کی باتیں کیے جاتا ہے۔ اور اگر دوسروں کا ذکر کیا جائے تو ان کے دلوں کی کلی کھل جاتی ہے اور بشاشت سے ان کے چہرے دمکنے لگتے ہیں۔ اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اصل میں دلچسپی اور محبت کس سے ہے۔ علامہ آلوسی نے روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
(آیت) وَبَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ يَكُوْنُوْا يَحْتَسِبُوْنَ۔ حضرت سفیان ثوری نے اس آیت کو پڑھ کر فرمایا کہ ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے، ہلاکت ہے ریاکاروں کے لئے۔ یہ آیت انہیں سے متعلق ہے جو دنیا میں نیک کام لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے تھے۔ اور لوگ بھی ان کو نیک سمجھتے تھے وہ خود بھی اس دھوکہ میں تھے کہ یہ اعمال ان کے لئے نجات آخرت کا ذریعہ بنیں گے۔ مگر چونکہ ان میں اخلاص نہیں تھا اس لئے اللہ کے نزدیک ایسے نیک اعمال کا کوئی اجر وثواب نہیں، اس لئے وہاں اچانک ان کے گمان کے خلاف عذاب و عتاب ہونے لگے گا۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →ویدالھم سیات ماکسبوا وحاق بھم ماکانوا بہ یستھزئون (48)
ایک اور اہم تنبیہ
اسی طرح انسان پر اس کے برے اعمال کے نتائج کی سنگینی بھی اس دنیا میں اس کے سامنے واضح نہیں ہوتی۔ وہ یہ اندازہ یہاں نہیں کر پاتا کہ اس نے فلاں عمل بدیا فکر بد کی جو فصل بوئی تھی وہ کس رنگ میں انچی اور کس نوع کے اور کتنے زہریلے برگ و بارلائی آخرت میں اس کے تمام افکار و اعمال کے نتائج اپنی اصلی شکل و صورت میں اس کے سامنے آجائیں گے اور وہ دیکھ لے گا کہ جن چیزوں کو اس نے حقیر سمجھا اور ان کا مذاق اڑایا آج وہ پوری طرح ان کے گھیرے میں آگیا۔
Read the full tafseer →48۔ 1 یعنی دنیا میں جن محارم و ما ثم کا وہ ارتکاب کرتے رہے تھے، اس کی سزا ان کے سامنے آجائے گی۔
48۔ 2 وہ عذاب انہیں گھیر لے گا جسے وہ دنیا میں ناممکن سمجھتے تھے، اس لئے کہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
15: اس سے مراد وہ من گھڑت دیوتا ہیں جن کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سفارشی سمجھ رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
آیت نمبر 47 تا 48
ایک ہولناک صورت حال کا جامہ پہنادیا گیا ہے۔ یہ قرآن ہی کرسکتا ہے ، یہ ظالم جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور شرک ظلم عظیم ہے ۔ اگر قیامت کے دن ان کے قبضے میں یہ پوری زمین ہو اور اس جیسی ایک اور زمین بھی اور وہ اس کے اور مافیہا کے واحد مالک ہوں تو وہ قیامت کے دن کے عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب کچھ دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ اور اس عذاب سے یہ لوگ رہائی نہ پاسکیں گے۔ ان جامع الفاظ کے اندر ایک دوسری دھمکی بھی چھپی ہوئی ہے۔
وبدالھم من اللہ مالم یکونوا یحتسبون (39: 47) ” اور اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے “۔ یہاں اس بات کا تذکرہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
3 یعنی جب قیامت کے دن ان اختلافات کا فیصلہ سنایا جائے گا اس وقت جو ظالم شرک کر کے خدا تعالیٰ کی شان گھٹاتے تھے ان کا سخت برا حال ہوگا۔ اگر اس روز فرض کیجیے کل روئے زمین کے خزانے بلکہ اس سے بھی زائد ان کے پاس موجود ہوں تو چاہیں گے کہ سب دے دلا کر کسی طرح اپنا پیچھا چھڑا لیں، جو بدمعاشیاں دنیا میں کی تھیں سب ایک ایک کر کے ان کے سامنے ہوں گی۔ اور ایسے قسم قسم کے ہولناک عذابوں کا مزہ چکھیں گے جو کبھی ان کے خیال و گمان میں بھی نہ گزرے تھے۔ غرض توحید خالص اور دین حق سے جو ٹھٹھا کرتے تھے اس کا وبال پڑ کر رہے گا اور جس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہ ان پر الٹ پڑے گا۔
Read the full tafseer →آیت 48 { وَبَدَا لَہُمْ سَیِّاٰتُ مَا کَسَبُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”اور ان کے سامنے آجائیں گے ان کی کمائی کے سارے ُ برے نتائج اور ان کو گھیرے میں لے لے گی وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔“
Read the full tafseer →64 اللہ کی گستاخی کیسے ہوتی ہے ؟ یعنی مشرکین اپنے معبودوں کی شان بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے معبودوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ قیامت کے دن ان کو ٹھیک طرح سے یہ علم ہوجائے گا کہ ہر طرح کا اختیار اور قدرت صرف اللہ کے پاس ہے اور ان کے معبود بالکل بےبس ہیں۔ اس دن وہ اللہ کی شان میں گستاخیوں کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اور اللہ کے جس عذاب کا صرف اس لیے مذاق اڑایا کرتے تھے کہ روز آخرت کے ہی منکر تھے، وہی عذاب انہیں ہر طرف سے گھیرے میں لے لے گا۔
Read the full tafseer →63۔ یہ غفلت کے پردے بس اسی دنیا کی حد تک ہیں۔ آخرت میں تو انکشاف تام بڑے سے بڑے منکر کو بھی ہو کر رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : اللہ ہی قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی ہے انہیں ان کی نیند میں قبض کرلیتا ہے، یعنی ان کو نیند میں قبض کرلیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کیلئے چھوڑ دیتا ہے یعنی ان کی موت کے وقت تک، اور چھوڑی ہوئی روح تمییز ہے جس کے بغیر روح حیات باقی رہ سکتی ہے، اس کا عکس ممکن نہیں یقیناً ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لہٰذا اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جو ذات اس پر قادر ہے وہ بعث (بعد الموت) پر بھی قادر ہے، اور قریش نے اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کیا،…
Read the full tafseer →وبدالھم سیات ما کسبوا (یعنی اعمال نامے ان کے سامنے آئیں گے تو) اپنے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوں
گی۔ اعمال سے مراد ہے شرک اور مسلمانوں پر ظلم کرنا۔
وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزؤن اور ان کو وہ عذاب گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ مَا کَانُوْا میں اگر مَا موصولہ قرار دیا جائے تو یہی ترجمہ ہوگا اور اگر مصدری مانا جائے تو ترجمہ اس طرح ہوگا : ان کو گھیر لے گی استہزاء کرنے کی سزا۔
Read the full tafseer →اور اس وقت ان کے سامنے ان کے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے۔
اور انبیائے کرام اور آسمانی کتب کا جو مذاق اڑایا کرتے تھے اس کی وجہ سے ان کو عذاب آگھیرے گا یا یہ مطلب ہے کہ جس عذاب کے ساتھ یہ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا۔
Read the full tafseer →وَبَدَا لَهُمْ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا۔۔ : اور ان کے سامنے ان کے اعمال کی برائیاں یعنی ان کے برے نتائج ظاہر ہوجائیں گے اور وہی عذاب جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گا۔ [ أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
46 ۔ 48:۔ فاطر المسوت والارض یہ منصوب ہے کیونکہ یہ منادی ہے اور مضاف ہے اسی طرح علم الغیب بھی ہے۔ سیبویہ کے نزدیک اس کا نعت ہونا جائز نہیں۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا : نبی کریم ﷺ کسی چیز سے نماز کا آغاز کیا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : آپ رات کو اٹھتے تو نماز کا آغاز ان الفاظ سے کرتے اللھم رب جبریل و میکائیل و اسرافیل فاطر السموت والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اے اللہ ! جبریل ‘ میکائیل و اسرافیل کے رب ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے غیب و شہادت کو جاننے والے ! تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
1:۔ مسلم و ابوداؤد و بیہقی (رح) نے الاسماء جو الصفات میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تو اپنی نماز کو ان کلمات سے شروع فرماتے : اے اللہ جبرئیل (علیہ السلام) ، میکائل (علیہ السلام) اور اسرافیل (علیہ السلام) کے رب، پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کو حاضر اور غیب کے جاننے والے اپنے بندوں کے درمیان آپ ہی فیصلہ فرمائیے۔ ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں مجھے ہدایت دیجئے جب میں حق سے اختلاف کروں تیری اجازت سے بلاشبہ آپ ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں سیدھے راستے کی طرف۔
Read the full tafseer →وَبَدَا لَهُمْ [اور ظاہر ہوئیں ان کے لئے ] سَيِّاٰتُ مَا [اس کی برائیاں جو ] كَسَبُوْا [انھوں نے کمائی کی ] وَحَاقَ بِهِمْ [اور گھیرے میں لے لیا ان کو ] مَّا [اس نے ] كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ [جو وہ لوگ مذاق اڑایا کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
رسول اللہ ﷺ کو ایک خاص دعا کی تلقین، انسان کی بدخلقی اور بدحالی کا تذکرہ
یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں :
(اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) (اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے غیب اور شہادۃ کے جاننے والے آپ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے ان باتوں کے بارے میں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں) رسول اللہ ﷺ کے مخاطبین جو رویہ اختیار کرتے، تکلیف پہنچاتے، اور تکذیب کرتے تھے اس سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی، تسلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–52
تسلی برائے نبی کریم ﷺ بضمن تلقین دعا وبیان بیچارگی عالم پیش قدرت رب کبریاء :۔
قال اللہ تعالیٰ : قل اللھم فاطر السموت والارض ......... الی ......... لقوم یؤمنون “۔
(ربط) گذشتہ آیات مجرمین ومنکرین کی سزا اور قیامت کے روز ان کی ذلت وندامت کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک عظیم دعا کی تلقین وتعلیم کے ضمن میں تسلی دی جارہی ہے تاکہ آپ ﷺ کفار کی مخالفت اور شدت عناد سے مغموم ومتأسف نہ ہوں، ارشاد فرمایا : کہہ دیجئے اے ہمارے پیغمبر اپنے پروردگار سے دعا ومناجات کرتے ہوئے اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ظاہر و باطن کے جاننے والے آپ ہی قیامت کے روز اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
48:۔ ” ولو ان الخ “ یہ تخویف اخروی ہے دنیا میں تو ضد میں آکر توحید کو نہ مانا اور اللہ کے سوا اوروں کو معبود بنایا اور سیدھی راہ بتانے والوں کی ایک نہ سنی آخرت میں ان کا حال یہ ہوگا کہ وہ خواہش کریں گے کہ اگر آج ساری دنیا کی دولت اور اتنی ہی اور دولت ان کے پاس ہو تو وہ فدیہ دے کر قیامت کے عذاب سے بچ جائیں۔ قیامت کے دن اللہ کی طرف سے انہیں ایسی ایسی سزائیں ملیں گی۔ جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوں گی اور ان کے سارے کرتوت اور جرائم ان کے سامنے ہوں گے اور جس عذاب کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہ انہیں گھیر لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تردید فرمائی ، کچھ دلائل قدرت بیان کیے ہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) پر طعن کرنے والوں کا رد کیا ، پھر فرمایا کہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے لہذا اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے ، پھر آگے تنبیہہ فرمائی کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو میں اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہوں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ صحیح راستے پر کون ہے اور گمراہی میں کون بھٹک رہا ہے نیز یہ بھی کہ دائمی عذاب کس پر مسلط ہوتا ہے اور کون اس سے بچتا ہے پھر قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت پائے گا اس میں…
Read the full tafseer →وَبَدَا لَہُمْ سَيِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ 48
بدا
بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47]
( ب د و ) بدا
( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا ۔
سَّيِّئَةُ :
الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل۔ اولو کان الھمزۃ للانکار والوا وللعطف علی محذوف مقدرای یشفعون ولو کانوا الخ و جواب لو محذوف ای وان کانوا بھذہ الصفۃ تتخذونھم۔ جمیعًا حال من الشفاعۃ مصدر یطلق علی الواحد والکثیر ولھذا اصح وقوع الحال بجمیع منہ وحدہ انتصابہ علی الحال عند یونس و علی المصدر عند الخلیل و سیبویہ۔ اشماء زت الاشمز از النفور والانقباض۔ فاطر السمٰوٰت منصوب علی النداء عالم الغیب بدل منہ اوصفۃ للذین خبران ما فی الارضاسمھا جمیعًا حال منہ و مثلہ معطوف علی ماولذا الا نتصب لافتدوا جواب لو۔
تفسیر : بیان سابق کے بعد مشرکین یہ کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو یا وہ کہ جن کے نام کے بت ہیں، خدا اور خالق ومالک…
Read the full tafseer →وَبَدَا لَھُمْ سَیِّاٰتُ مَاکَسَبُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الزمر : 48)
(اور سامنے آجائیں گے ان کے اعمال کے برے نتائج، اور گھیر لے گی ان کو وہ چیز جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے۔ )
ایک اور تنبیہ
انسان کی کمزوری ہے کہ وہ ہزار بگاڑ میں مبتلا ہو کر بھی ہمیشہ اپنے اعمال کی وکالت کرتا ہے۔ اور اگر کبھی کسی غلطی کو محسوس بھی کرے تو ہمیشہ اپنے آپ کو الائونس دینے کی کوشش کرتا ہے۔ فکر وعمل کی گمراہیاں اور اس کے نتائج کبھی اس کے سامنے کھلنے میں نہیں آتے۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول ایسے لوگوں کو اگر سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ کبھی انھیں خاطر میں نہیں لاتے۔ چناچہ ان ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرنے والا ہے لہٰذا قیامت کے دن ظالموں کے بارے میں جو فیصلہ ہوگا اس کا اعلان۔
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ظالموں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ صادر فرمائے گا۔ ظالم سے مراد ہر قسم کے ظالم ہیں۔ ان میں سرفہرست وہ ظالم ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں دوسروں کو شریک کیا ہوگا جس طرح یہودیوں نے عزیر (علیہ السلام) کو رب کا بیٹا قراردیا۔ عسائیوں نے حضرت مریم، حضرت عیسیٰ اور ذات کبریا کو شامل کر کے تثلیث کا عقیدہ بنایا۔ مشرکین مکہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی صفات بتوں اور فوت شدگان میں تصور کرتے…
Read the full tafseer →آیت، اور ان کے تمام برے اعمال ظاہر ہوجائیں گے، یعنی ان کے ان اعمال کی برائی جو وہ کیا کرتے تھے یا ان کی کمائی کی برائیاں جبکہ ان کے نامہائے اعمال پیش ہوں وہ ان پر پہلے مخفی تھے یا ان برائیوں کی سزا ظاہر کردی جائے گی۔ آیت، وحاق بہم، اور وہ ان کو آ کر گھیرے گی، اور ان پر اتر پڑے گی اور ان کا احاطہ کرے گی۔ آیت، جس کے ساتھ وہ استہزاء کرتے تھے، ان کے تمسخر کے بدلہ میں۔
Read the full tafseer →48، وبدالھم سیئات ماکسبوا، یعنی کے برے اعمال جیسے شرک کرنا اور اولیاء اللہ پر ظلم کرنا۔ ، وحاقبھم ماکانوایستھزون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
47۔ 48۔ حشر کے منکر لوگوں کے حق میں قیامت کو جو فیصلہ ہوگا اوپر اس کا ذکر تھا ان آیتوں میں اس عذاب کا ذکر ہے جو اس فیصلہ کا موافق ان لوگوں کو بھگتنا پڑے گا حاصل مطلب یہ ہے کہ جس عذاب کو یہ لوگ دنیا میں مسخرا پن سمجھتے تھے قیامت کے دن وہ عذاب ہوگا کہ ان کا وہم و گمان بھی دنیا میں یہاں تک نہیں پہنچتا تھا کہ ان کے لئے ایسا سخت عذاب آخرت میں تیار رکھا گیا ہے۔ اس عذاب کی سختی سے بےتاب ہو کر ان میں کا ہر شخص یہ آروز کرے گا کہ اگر اس کے پاس تمام دنیا کے مال و اسباب سے دوگنا مال و اسباب ہوتا تو اس کو جرمانہ کے طور پر داخل کر کے اس عذاب سے نجات حاصل کرلیتا۔ مگر اس دن تو سوائے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے…
Read the full tafseer →آیت 48
اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، مشرکین کے قول اور اس کی قباحت کا ذکر کیا۔ گویا نفوس اس انتظار میں ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان کے لئے (سوء العذاب) سخت ترین اور بدترین عذاب ہے جس طرح وہ سخت ترین اور بدترین کفر کی باتیں کیا کرتے تھے۔ فرض کیا زمین کا تمام سونا، چاندی، جواہرات، اس کے تمام حیوانات، اس کے تمام درخت اور کھیتیاں، اس کے تمام برتن اور اثاثے اور اتنا ہی سب کچھ اور ان کی ملکیت ہو اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے خرچ کریں تو ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →92 قیامت کے روز منکرین کے حال بد کا ذکر : سو اس سے قیامت کے روز کشف حقائق اور ظہور نتائج سے منکرین کی انتہائی بدحالی کی تصویر پیش فرما دی گئی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہاں ان کیلئے اللہ کی طرف سے وہ کچھ سامنے آئے گا جس کا انکو گمان بھی نہیں تھا۔ کیونکہ ان کا اس پر ایمان و یقین ہی نہیں تھا۔ اور کا کہنا اور ماننا یہ تھا کہ زندگی تو بس یہ دنیاوی زندگی ہی ہے۔ اسی میں ہمارا جینا اور مرنا ہے اور بس ۔ { اِنْ ھِیَ الِّا حَیَاتُنا الدُّنْیَا نَمُوْتُ ونَحْییٰ وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِِیْنَ } ۔ (المومنون : 37) ۔ سو اس سب کے برعکس جب یہ لوگ وہاں پر ان تمام غیبی حقائق کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے جن کی خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–52
اللہ کی کچھ اور قدرتیں
تشریح : یہ باتیں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول کی زبان سے بار بار لوگوں کو سناتا ہے اور قرآن کے ذریعہ سے بار بار ہماری آنکھوں کے سامنے لاتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے قدرت والا ہے۔ اس کے برابر کوئی نہیں ہوسکتا یہ کوئی غلط یا انہونی بات نہیں کیونکہ ہم خود اور ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ اس کو بنانے والا ایک ہی ہے ورنہ یہ نظم و ضبط جو کائنات کے کارخانے میں موجود ہے کبھی ایک سا نہ رہتا۔ وہ کیونکہ عالم الغیب ہے اور رحمن و رحیم ہے اس لیے بار بار بتا رہا ہے کہ نیکی کی راہیں اختیار کرو، شیطان کو دوست مت بناؤ کیونکہ نیکی کا راستہ جنت کو اور شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 42 ۔ تا۔ 52:
اسرار و معارف :
یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جس کی موت آتی ہے اللہ ہی اس کی روح قبض فرما لیتا ہے یعنی اس کا تعلق بدن اور اس میں تصرفات سے اللہ کے حکم سے توڑ دیا جاتا ہے اور جس کی موت نہیں آتی اس کے لیے نیند کی حالت کو سمجھنا ہی کافی ہے کہ اس میں بھی روح بدن میں تصرفات سے روک دی جاتی ہے ہاں اس کا ایک گونہ تعلق باقی رکھا جاتا ہے پھر جس کا وقت پورا ہوچکا ہو اسے بدن میں واپسی سے روک دیا جاتا ہے اور جن کا ابھی وقت باقی ہے انہیں اس خاص مدت تک لوٹا دیا جاتا ہے یعنی انسان کا عجز اور اللہ کے دست قدرت کی گرفت میں ہونا نیند اور موت سے واجح ہے اور یہ بہت بڑی دلیل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ف 3 یا ” اس نعمت کے ملنے کا مجھے پہلے سے علم تھا “۔ یا ” اللہ کا علم تھا کہ میں اس نعمت کا مستحق ہوں “۔4 کہ آیا وہ اسے پا کر شکر بجا لاتا ہے یا نا شکری پر اتر آتا ہے۔5” کہ انہیں جو دولت اور نعمت ملی ہے اس سے اللہ تعالیٰ ان کا امتحان لینا چاہتا ہے “
Read the full tafseer →(39:48) وبدالہم سیئات ماکسبوا : ای ظھر لہم ان پر ظاہر ہوں گے۔ سیئات برائیاں ، بدیاں۔ برے اعمال۔
کسبوا ماضی جمع مذکر۔ کسب مصدر (باب ضرب) کمائی کرنا۔ نفع کے لئے کوئی کام کرنا۔ خواہ نتیجہ اچھا نکلے یا برا۔ کسب کا استعمال قرآن مجید میں مندرجہ ذیل معنوں میں کیا گیا ہے :۔
(1) قلبی ارادہ اور نیت کی پختگی۔ جیسے ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم (2:225) لیکن جو (قسمیں) تم دلی ارادہ سے کھاؤ گے ان پر وہ (یعنی اللہ) مؤاخذہ کریگا۔
(2) اچھا برا قول یا فعل جیسے ثم توفی کل نفس ما کسبت (2:281) پھر ہر شخص اپنے اعمال کا (اچھا ہو یا برا) پورا پورا بدلہ پائے گا
(3) نیک کام کرنا۔ جیسے لہا ما کسبت (2:286) اچھے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
لغات القرآن آیت نمبر 47 تا 52 : بدا ( ظاہر ہوا) یحسبون (وہ گمان کرتے ہیں) کسبوا (انہوں نے کمایا) حاق ( چھا گیا) ما اغنی ( کام نہ آیا) یصیب ( پہنچے گا) معجزین ( عاجز اور بےبس کرنے والے) یبسط ( وہ کشادہ کرتا ہے ، کھولتا ہے) یقدر ( وہ تنگ کردیتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 47 تا 52 :۔ قیام کے ہولناک دن جب اللہ تعالیٰ اہل ایمان ، عمل صالح اور نیکی اختیار کرنے والوں اور کافروں اور مشرکین کے بےبنیاد عقیدوں اور عمل سے متعلق فیصلے فرمائیں گے تو ان میں سے ظالموں کا یہ حال ہوگا کہ عذاب الٰہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بوکھلا جائیں گے اور اگر انکے پاس زمین کے سارے خزانے بلکہ اس سے بھی زیادہ خزانے ہوں گے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
اہل دوزخ کی حسرتیں۔
(ف 1) دوزخی لوگ دوزخ میں سے جنتیوں کو طرح طرح کے عیش میں جب دیکھیں گے اس وقت دوزخی لوگ طرح طرح کی حسرت کی باتیں کریں گے جن کا ذکر اوپرگزرا ، مثلا کبھی کہیں گے کیا اچھا ہو تاکہ آج ہم لوگ بھی پرہیزگاروں میں ہوتے، کبھی کہیں گے کہ کیا اچھا ہوتاجوہم لوگوں کو پھر دنیا میں جانے کی اجازت مل جاتی ہے اور ہم اب کی دفعہ دنیا میں جاکر نیک کام کرتے اور پھر جنت میں پاتے، ان دوزخیوں کی ان حسرت کی باتوں کے جواب میں اللہ یہ فرمائے گا کہ اب حسرت کا کیا موقع ہے دنیا میں رہنے کا موقع بھی تم کو ملا اور اللہ کے رسول کی معرفت تمہارے پاس قرآن پہنچا اور حق و باطل کی راہیں واضح کردی گئی اور تم کو حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
[31] یہ شرک و سفارش کے وجود میں آنے کے ایک بہت بڑے سبب کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ آخرت اللہ تعالیٰ کے عدل کامل اور جزاوسزا کے ظہور کا دن ہے اور اس کے ماننے سے انسان پر نہایت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس وجہ سے جو لوگ ان ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ شرک و سفارش کی آڑ لیتے ہیں۔ وہ ایمان و عمل کے تقاضے پورے کرنے کا نہ حوصلہ رکھتے ہیں نہ اپنے نفس کی خواہشوں پر کوئی پابندی ہی قبول کرنے کو تیار ہیں، لہذا اول تو وہ آخرت کو مانتے ہی نہیں اور اگر مانتے بھی ہیں تو شرک و سفارش کا عقیدہ ایجاد کر کے آخرت کے تمام
خطرات سے اپنے زعم کے مطابق وہ اپنے آپ کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اگر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
اللہ کے نام سے چِڑ
2: اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ مشرکین کو توحید سے کس درجہ نفرت ہے اور بتوں سے کس حد تک محبت ہے ۔ ان کے سامنے جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اور وحدیت کے معارف عالیہ سے ان کو بہرہ مند کیا جاتا ہے ۔ اور بتلایا جاتا ہے ۔ کہ اسی کا آستانہ جلال و عظمت اس قابل ہے ۔ کہ انسان اس کے سامنے جھکے ۔ تو ان کے دلوں میں انقباض پیدا ہوجاتا ہے ۔ اور بشرے سے سخت بیزاری ٹپکنے لگتی ہے ۔ تو چاہیے یہ تھا کہ اللہ کا نام ان کے لئے وجہ تسکین ہوتا ۔ جب ان کا نام لیا جاتا ۔ تو ان کے قلوب میں روشنی اور شگفتگی پیدا ہوجاتی ۔ مگر یہاں فطرت مسخ ہوچکی ہے ۔ یہ لوگ اللہ کے نام سے منقبض ہوتے ہیں ۔ اور جب…
Read the full tafseer →(48) اور جو کام کرتے رہتے تھے ان کاموں کی برائیاں ان کے سامنے ظاہرہوجائیں گی اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہی عذاب ان کو گھیرلے گا۔ یعنی کفر کی حالت میں یہ لوگ جو اعمال کرتے رہے ہیں ان اعمال کی برائیاں ظاہر ہوجائیں گی اور جس عذاب کا استہزاء کیا کرتے تھے وہ عذاب ان کو گھیرلے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
ف 3۔ یعنی آپ ان مکابرین کی فکر میں نہ پڑیئے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے وہ عملی فیصلہ کردیں گے۔
Read the full tafseer →ان کی وہ ساری برائیاں ظاہر ہوجائیں گی جو وہ کماتے رہے تھے
48۔ دنیوی زندگی میں جو انہوں نے کمائی کی وہ اس وقت بھی سب پر روشن تھی لیکن ان کی دولت ، خاندان اور برادری واقتدار آڑے آیا اور کسی کو بولنے نہ دیا ہر ایک کے منہ پر مہر لگی رہی اور سب نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور اگر کوئی اللہ کا بندہ بول پڑا تو انہوں نے اپنے کارندوں ہی سے اس کی زبان کھنچوا دی لیکن جب ساری دنیا کے لوگ میدان حشر میں موجود ہیں اور سب کے سامنے ان کے پول کھولے جا رہے ہیں اور وہ ہیں کہ بےبسی کی تصویر بنے کھڑے ہیں اور عذاب ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے کھڑا ہے اور یہ عذاب ان کے اس استہزاء و مذاق کا نتیجہ ہے جو وہ دنیا میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
In verse 47, it was said: وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ (And there will appear to them from Allah what they have never imagined.) The famous tabi` i, Sufyan Thawri recited this verse and said, 'Ruined are those who did good deeds only to pretend their piety before people. (He repeated this sentence twice) This verse is about them. They did good deeds in their mortal life to impress people, who took them to be good people. Even they themselves used to deceive themselves by thinking that these deeds will become a source of salvation for them in the Hereafter.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
64 This evil is common to almost all polytheistic people of the world, and even some unfortunate Muslims also suffer from it, They profess with the tongue that they believe in Allah, but when One Allah alone is mentioned before them, their faces arc distorted, and they say, "This man certainly does not believe in the saints and holy men; that is why he talks of Allah and Allah alone. " And if others besides Allah arc mentioned, they are delighted, and their faces brighten up with joy. Their this attitude shows as to who is the actual object of their love and esteem. 'Allama Alusi, in his…
Read the full tafseer →