Explained with ayahs 53–59
توبہ تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ۔
اس آیت میں تمام نافرمانوں کو گو وہ مشرک و کافر بھی ہوں توبہ کی دعوت دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی ذات غفور و رحیم ہے۔ وہ ہر تائب کی توبہ قبول کرتا ہے۔ ہر جھکنے والی کی طرف متوجہ ہوتا ہے توبہ کرنے والے کے اگلے گناہ بھی معاف فرما دیتا ہے گو وہ کیسے ہی ہوں کتنے ہی ہوں کبھی کے ہوں۔ اس آیت کو بغیر توبہ کے گناہوں کی بخشش کے معنی میں لینا صحیح نہیں اس لئے کہ شرک بغیر توبہ کے بخشا نہیں جاتا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ بعض مشکرین جو قتل و زنا کے بھی مرتکب تھے حاضر خدمت نبوی ہو کر عرض کرتے ہیں کہ یہ آپ کی باتیں اور آپ کا دین ہمیں ہر لحاظ سے اچھا اور سچا معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
سورة الزُّمَر 72
کتاب اللہ بہترین پہلو کی پیروی کرنے کا مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے آدمی ان کی تعمیل کرے، جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے ان سے بچے، اور امثال اور قصوں میں جو کچھ اس نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ بخلاف اس کے جو شخص حکم سے منہ موڑتا ہے، منہیات کا ارتکاب کرتا ہے اور اللہ کے وعظ و نصیحت سے کوئی اثر نہیں لیتا وہ کتاب اللہ کے بدترین پہلو کو اختیار کرتا ہے، یعنی وہ پہلو اختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بدترین قرار دیتی ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ۔ اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ سے مراد قرآن ہے اور پورا قرآن احسن ہی ہے اور قرآن کو اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اس اعتبار سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ جتنی کتابیں تورات، انجیل، زبور، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں۔ ان سب میں احسن واکمل قرآن ہے۔ (قرطبی)۔
Read the full tafseer →آیت 55
قرآن میں اتمام حجت کے پہلو
یہ اسی اوپر والے مضمون کی وضاحت ہے کہ تمہارے لئے صحیح راہ یہ ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چزی تمہاری طرف اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو بہترین چیز سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے جس کے احسن الحدیث ہونے کا ذکر آیت 23 میں گزر چکا ہے دور سے آسمانی صحیفوں کے مقابل میں قرآن کی جو فضیلت حاصل ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ مثلاً یہ کہ قرآن خدا کی آخری اور کامل کتاب ہے۔
یہ تحریف کے تمام شوانب سے محفوظ ہے۔
یہ دنی فطرت کا داعی ہے اس وجہ سے پچھلی شریعتوں کے تشدد ات سے پاک ہے۔
خاص عربوں کے نقطہ نظر سے بھی اس کے چند پہلو قابل لحاظ ہیں۔ مثلاً
یہ نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
55۔ 1 یعنی عذاب آنے سے قبل توبہ اور عمل صالح کا اہتمام کرلو، کیونکہ جب عذاب آئے گا تو اس کا علم و شعور بھی نہیں ہوگا، اس سے مراد دنیاوی عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–75
18: یعنی اگر کسی شخص نے ساری زندگی کفر، شرک یا گناہوں میں گزاری ہے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اب اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسی ہے کہ مرنے سے پہلے پہلے جس وقت بھی انسان اپنی اصلاح کا پختہ ارادہ کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی پچھلی زندگی کی معافی مانگے اور توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
آیت نمبر 54 تا 55
انابت ، اسلام اور سرتسلیم خم کردینے کے دائرے میں لوٹ آنا ایک ہی مفہوم رکھتا ہے اور ایک ہی حقیقت ہے۔ اللہ کی اطاعت کے خطیرہ میں داخل ہونا ایک ایسا عمل ہے جس میں کوئی مراسم نہیں ، کوئی رکاوٹ نہیں ، کوئی واسطہ اور سفارش نہیں ، جو چاہے ، جس وقت چاہے ، اسلام کے سادہ سے نظام میں داخل ہوجائے۔
اسلام بندے اور رب کے درمیان بلاواسطہ دین ہے۔ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان بلاواسطہ تعلق ہے۔ گناہ گاروں میں سے واپس ہونا چاہے ، گمراہوں میں سے جو چاہے لوٹ آئے ، جو لوگ بھی جس قدر نافرمانی کرتے رہے ہیں وہ سر تسلیم خم کردیں اور واپس آجائیں ، دوازہ کھلا ہے۔ سایہ دار پناہ گاہ موجود ہے۔ تروتازہ اور…
Read the full tafseer →4 بہتر بات سے مراد قرآن کریم ہے۔ یعنی قرآنی ہدایت پر چل کر عذاب آنے سے پہلے اپنے مستقبل کی روک تھام کرلو۔ ورنہ معاً عذاب الٰہی اس طرح ایک دم آ دبائے گا کہ خبر بھی نہ ہوگی کہاں سے آگیا۔
Read the full tafseer →آیت 55 { وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ } ”اور پیروی کرو اس کے بہترین پہلو کی جو نازل کیا گیا ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے“
یہ مضمون اس سے پہلے آیت 18 میں بھی آچکا ہے ‘ وہاں پر { فَـیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗط } کے الفاظ آئے ہیں۔ گویا قرآن جو راستہ تم لوگوں کو دکھا رہا ہے اس میں بھی مختلف درجات ہیں۔ ان درجات کا ذکر سورة التوبہ کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : { وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ } آیت 100 ”اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘ اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی…
Read the full tafseer →73 اتباع احسن سے کیا مراد ہے ؟ اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ قرآن کریم سارے کا سارا ہی احسن الحدیث ہے۔ لہذا اس میں جو اوامر ہیں ان کی تعمیل کرے، نواہی سے اجتناب کرے امثال اور قصوں میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ اس کے برعکس جو شخص جو نہ اوامر کی تعمیل کرے نہ نواہی سے اجتناب کرے اور نہ وعظ و نصیحت سے کوئی اثر قبول کرے۔ ایسا شخص وہ پہلواختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بدترین پہلو قرار دیتی ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کے اوامر کو اچھی سے اچھی شکل میں بجا لائے۔ نواہی سے پوری طرح اجتناب کرے بلکہ جس بات میں شک ہو اسے بھی چھوڑ دے اور پندو نصیحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
73۔ یہ سب کافروں کی طرف سے قیامت میں پیش ہونے والے ممکن عذرات ہیں، یہاں ان سب کی جڑ ہی کاٹ دی گئی ہے۔ (آیت) ” احسن ماانزل الیکم “۔ مراد قرآن مجید ہے، اضافت محض بیانیہ ہے۔ یعنی وہ (آیت) ” احسن “ جو (آیت) ” ماانزل الیکم “۔ کی طرف منسوب ہے، یا قرآن کو غیر قرآن سے ممتاز کرتی ہے۔ ھو القران وکلہ حسن (قرطبی) (آیت) ” من ربکم “۔ رب کا لفظ لانے میں خود ایک بڑا ترغیبی پہلو آگیا ہے۔ یعنی وہ کلام تو اس کا نازل کیا ہوا ہے جو خود تمہارے حق میں سب سے زیادہ خیرخواہ ہے۔ (آیت) ” ان تقول “۔ ان یہاں لئلا کے مرادف ہے۔ اے لئلا تقول (مدارک) (آیت) ” نفس “۔ نفس صیغہ نکرہ میں اس لئے ہے کہ صرف نفس کافر مراد ہے۔ انما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
آیت نمبر 53 تا 63
ترجمہ : (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوجاؤ، تقنطوا نون کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ اور ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے تمام گناہوں کو معاف فرما دیں گے جس نے شرک سے توبہ کی ہوگی واقعی وہ بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے تم سب اپنے پروردگار کی طرف جھک جاؤ اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ (یعنی) عمل کو اس کے لئے خالص کرو اس سے قبل کہ تم پر عذاب آجائے پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اس عذاب کو ٹال کر، اگر تم توبہ نہ کرو اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل…
Read the full tafseer →واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم من قبل ان یاتیکم العذاب بغتۃ وانتم لا تشعرون
اور تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین ہدایت تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ‘ اس پر چلو ‘ قبل اس کے کہ اللہ کا عذاب ناگہاں تم پر آپڑے اور تم کو خیال بھی نہ ہو (کہ کہاں سے آیا اور کیسے آیا) ۔ اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ سے مراد ہے قرآن مجید ‘ کیونکہ ہر کلام سے یہ بہتر اور اعلیٰ ہے ‘ یا عزائم مراد ہیں (یعنی عزائم پر چلو ‘ رخصتوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ) ۔
Read the full tafseer →تم قرآن کریم پر چلو اس کے حلال کردہ امور کو حلال اور حرام کردہ باتوں کو حرام سمجھو اور محکمات پر عمل کرو اس کے متشابہات پر ایمان لاؤ اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تمہیں اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔
Read the full tafseer →وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ۔۔ : یہاں ”اَحْسَنَ“ کی اضافت ”مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ“ کی طرف اضافت بیانیہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی قرآن و حدیث کی پیروی کرو، جو ساری کی ساری ہی احسن اور دوسرے ہر کلام سے اچھی ہے، فرمایا : (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ) [ الزمر : 23 ] ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے۔“ مزید تفصیل سورة زمر کی آیات (17، 18) کی تفسیر میں دیکھیے۔
مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً : اچانک عذاب سے اس لیے ڈرایا کہ اس میں نہ سنبھلنے کی مہلت ملے گی نہ توبہ کی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
53 ۔ 59:۔ قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لا یقنطو امن (رح) اگر تو چاہے تو یاء کو حذف کر دے کیونکہ ندا بھی حذف کا موقع ہے۔ نحا نے کہا : اس میں نمایاں ترین وہ روایت ہے جسے محمد بن اسحاق نے نافع سے وہ حضرت ابن عمر ؓ اور وہ حضرت عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں (1) جب ہم نے ہجرت کا ارادہ کرلیا تو میں ‘ ہشام بن عاص بن وائل سہمی اور عیاش بن ابی ربعہ بن عتبہ نے عہد و پیمان کیا کہا : ہمارے اکٹھے ہونے کی جگہ بنو غفار کا کنواں ہے ہم نے کہا : جو ہم سے پیچھے رہ گیا تو وہ محبوس سمجھا جائے گا پس اس کا ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہیں اور عیاش عتبہ پہنچ گئے اور ہشام کو ہم سے روک لیا گیا اسے آزمائش میں ڈالا گی اپس وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
اعمال صالحہ کی پابندی :
1:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وانیبوا الی ربکم واسلموالہ “ (اور تم اپنے رب کی طرف رجوع کرو، اور اس کے لئے اسلام لے آؤ) یعنی اپنے رب کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے عبید بن یعلی (رح) سے روایت کیا کہ انابت سے مراد ہے دعا کرنا۔
3:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان تقول نفس یحسرتی علی ما فرطت “ (کبھی کل قیامت کے دن کوئی کہنے لگے کہ افسوس اس کوتاہی پر جو میں نے کی) یعنی اللہ تعالیٰ سبحانہ نے لوگوں کی بات کرنے سے پہلے بتادیا کہ وہ کیا بات کریں گے اور ان کے عمل کرنے سے…
Read the full tafseer →وَاتَّبِعُوْٓا [اور تم لوگ پیروی کرو ] اَحْسَنَ مَآ [اس کے بہترین کی جو ] اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ [اتارا گیا تمہاری طرف ] مِّنْ رَّبِّكُمْ [تمہارے رب کی طرف سے ] مِّنْ قَبْلِ اَنْ [اس سے پہلے کہ ] يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ [پہنچے تمہارے پاس عذاب ] بَغْتَةً [اچانک ] وَّ [اس حال میں کہ ] اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ [تم لوگ شعور نہ رکھتے ہو ] ۔
Read the full tafseer →(وَاتَّبِعُوْا اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ اِِلَیْکُمْ مِّنْ رَبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَ ) (اور اپنے رب کے پاس سے آئے ہوئے اچھے اچھے حکموں پر چلو قبل اس کے تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تم کو خیال بھی نہ ہو) اس آیت میں قرآن کریم کا اتباع کرنے کا حکم دیا ہے لفظ احسن اسم تفضیل کا صیغہ ہے اس کے بارے میں بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ حسن کے معنی ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے عزائم مراد ہیں جو رخصتوں اور اجازتوں کے مقابلے میں اختیار کیے جاتے ہیں اور ان کا ثواب زیادہ ہوتا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ہر عبادت میں جو افضل ترین اعمال ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
بیان ترتب عفو ونجات بر قبول اسلام۔ وہلاکت و حسرت برائے مجرمان رب انام :۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل یعبادی الذین اسرفوا ....... الی ....... اولئک ھم الخسرون “۔
(ربط) اس سے قبل چند آیات میں مشرکین کی مذمت اور ان کے دل آزار طریقوں کا بیان تھا اور ساتھ ہی نہایت مؤثر انداز میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی تھی، اس سلسلہ میں شرک وکفر کی گندگی اور مذمت کو سنتے ہوئے ممکن تھا کہ کسی کے دل میں قبول اسلام کی رغبت پیدا ہوتی اور ساتھ ہی یہ تصور بھی گذرسکتا تھا کہ جب انسان اس قدر ذلت اور گندگیوں میں آلودہ ہوچکا ایسی دنائت اور کمینہ پن کرچکا تو اب اس کو اپنی نجات اور عذاب خداوندی سے بچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
55:۔ ” واتبعوا الخ “ یہ پانچویں دلیل وحی ہے علی سبیل الترقی من الادنی الی الاعلی۔ پہلے فرمایا اعلان کرو میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا جو کچھ کہتا ہوں اللہ کی وحی سے کہتا ہوں۔ پھر فرمایا یہ کیسی عمدہ اور پر تاثیر کتاب ہے (دلیل وحی سوم) یہاں رمایا اس احسن واعلیٰ کتاب کی دل و جان سے پیروی کرو جو تمہارے خالق ومالک کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ قبل اس کے کہ اس کتاب کے احکام کی خلاف ورزی کی وجہ سے اچانک ہی تم پر اللہ کا عذاب آپہنچے اور تمہیں پتہ بھی نہ ہو۔ ” ان تقول الخ ای لئلا تقول الخ “ (روح) ۔ ” فی جنب اللہ “ اللہ کی جانب میں یعنی اس کی اطاعت اور توحید میں۔ یعنی اس احسن و اعلیٰ کتاب کی پیروی کرو تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں اور مشرکوں کی تردید فرمائی اور پھر عام انسانوں کی ناشکری کا حال اس طرح بیان فرمایا کہ جب انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملتی ہے ، آرام و راحت اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اسے اپنی عقل ، سمجھ ، ہنر اور تدبیر کا کمال سمجھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تو ہماری طرف سے آزمائش ہوتی ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے اور ناکام ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے مجرمین کی سزا کا ذکر فرمایا اور اپنی قدرت اور تصرف کا تذکرہ فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی خالصتا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتی ہے ، نیز…
Read the full tafseer →وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ 55ۙ
تبع
يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
ترکیب : ان تقول۔ مفعول لہ ای کر اہتہ ان تقول۔ وقال الکوفیون، لئلا تقول۔ حسرتی الالف مبدل من یاء المتکلم و ان کنت ان مخففۃ من الثقیلۃ ای انی۔
تفسیر : وعید کے بعد اپنے بندوں سے مغفرت کا وعدہ فرماتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی عادت ہے۔ فقال قل یا عبادی الذین اسرفوا الخ کہ اے محمد ﷺ میرے ان بندوں سے کہہ دے کہ جنہوں نے اپنے لیے زیادتی کی ہے۔ یعنی گناہ کئے ہیں کہ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو ویں کیونکہ وہ سب گناہ بخش دیتا ہے، وہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں، اس کے یہ معنی ہیں کہ گناہ گار یہ نہ سمجھیں کہ اب کسی طرح سے ہمارے گناہوں کی خدا تعالیٰ کے یہاں معافی ہی نہیں بلکہ وہ غفار…
Read the full tafseer →وَاتَّبِعُوْٓا اَحْسَنَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ بَغْتَۃً وَّاَنْتُمْ لاَ تَشْعُرُوْنَ ۔ (الزمر : 55)
(اور پیروی کرو اس بہترین چیز کی جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتاری گئی ہے، قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو اس کی خبر بھی نہ ہو۔ )
گزشتہ مضمون کی وضاحت
گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے اور اپنے آپ کو اس کے سپرد کردینے کا مفہوم یہ ہے کہ تمہارے رب نے جو بہترین چیز تمہاری طرف نازل کی ہے اس کی پیروی کرو۔ یہاں بہترین چیز سے مراد قرآن کریم ہے۔ کیونکہ اسی سورة کی آیت 23 میں قرآن کریم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–58
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ غفور الرّحیم ہے لہٰذا اس کی گرفت سے پہلے پہلے اس کے حضور حاضر ہوجاؤ۔ اس انتباہ میں دنیا اور آخرت کے دونوں عذاب شامل ہیں۔
گناہگاروں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ اگر اپنے رب کی بخشش اور رحمت چاہتے ہو تو فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرو قبل اس کے کہ تم پر عذاب نازل ہوجائے اور تمہیں اس کی خبر نہ ہوپائے۔ اس وقت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہو کہ کاش ! میں اپنے رب کے معاملے میں کوتاہی نہ کرتا اور نہ ہی اس کی آیات کو مذاق کرنے والوں میں شامل ہوتایا اس تمنا کا اظہار کرے کہ کاش ! میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پاکر متقی بن جاتا یا موت دیکھ کر کہے کہ ہائے افسوس ! میرے لیے کسی طرح دنیا…
Read the full tafseer →آیت، اور تم اپنے رب کے پاس آتے ہوئے اچھے اچھے حکموں پر چلو۔ یہ آیت اس آیت کی طرح الذین یسمتعون القول فیتبعون احسنہ (الزمر : 18) اور ارشاد الٰہی، آیت، اس سے قبل کہ تم پر اچانک عذاب آپڑے اور تم کو خیال بھی نہ ہو۔ یعنی تم اچانک پکڑ لیے جاؤ اور تم حالت غفلت میں ہو گویا تمہارا حال یہ ہے کہ تم شدت غفلت میں کسی چیز کا خطرہ محسوس نہیں کرتے ہو۔
Read the full tafseer →55، واتبعوا احسن ماانزل الیکم من ربکم ، یعنی قرآن ساراحسن ہے اور آیت کا معنی وہ ہے جو حسن (رح) نے فرمایا ہے کہ اس کی فرمانبرداری کو لازم پکڑو اور اس کی نافرمانی سے بچوکیون کہ قرآن میں قبیح کا ذکر ہے تاکہ تو اس سے بچے اور گھٹیا کا ذکر ہے تا کہ تو اس میں رغبت نہ کرے اور احسن کا تذکرہ ہے تا کہ تو اس کو ترجیح دے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں کہ احسن وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے کتاب میں حکم دیا ہے۔ ، من قبل ان یاتیکم العذاب بغتۃ وانتم لاتشعرون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–58
53۔ 58۔ اس آیت کی تفسیر میں علمائے مفسرین نے بڑا اختلاف کیا ہے اکثر مفسر تو یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک اور کفر بھی داخل ہے اور جس رحمت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے حامل نہیں ہوسکتی کیونکہ ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ کفر اور شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا اور بعضے مفسر یہ کہتے ہیں کہ جس زیادتی کا ذکر اس آیت میں ہے اس میں شرک و کفر داخل نہیں ہے اس لئے جس رحمت کا ذکر اس آیت میں ہے وہ رحمت بدون توبہ کی قید کے ہے۔ صحیح بخاری 1 ؎ صحیح مسلم ابودائود اور نسائی میں حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے جو شان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
آیت 53
اللہ تعالیٰ اپنے حد سے بڑھ جانے والے، یعنی بہت زیادہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والے، بندوں کو آگاہ کرتا ہے کہ اس کا فضل و کرم بہت وسیع ہے نیز انہیں اپنی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتا ہے، اس سے قبل کہ رجوع کرنا ان کے لئے ممکن نہ رہے، چناچہ : (قل) اے رسول اور جو کوئی دعوت دین میں آپ کا قائم مقام ہو ! اپنے رب کی طرف سے بندوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (آیت) ” اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے “ یعنی جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب کر کے اور علام الغیوب کی ناراضی کے امور میں کشواں ہو کر اپنے آپ پر زیادتی کی (لاتقنطوا من رحمۃ اللہ) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ کہ اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
103 فلاح ونجات کا ذریعہ اتباع قرآن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پیروی کرو تم اس بہترین کلام کی جو اتارا گیا تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے "۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کیلئے نجات کا ذریعہ قرآن حکیم کی پیروی ہے اور بس۔ پس اس کے اوامر پر عمل کرو اور اس کی نواہی سے بچو کہ یہی وہ کتاب کامل ہے جو گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کے اصولی مضامین کی امین و پاسدار ہے۔ اور رجوع الی اللہ کا صحیح راستہ یہی ہے کہ انسان اس کتاب ہدایت کی پیروی کرے کہ یہی وہ کتاب ہے جو قیامت تک تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے اتاری گئی ہے۔ جو سب سے عمدہ اور سب سے اعلیٰ وبالا کتاب ہے۔ اور جس کو اس سے پہلے اسی سورة کریمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–61
عذاب اور ثواب کے صاف صاف احکامات
تشریح : ان آیات میں پھر یہی اعلان کیا گیا ہے کہ اللہ غفور و رحیم ہے۔ جب بھی تمہارے دلوں کو اللہ کا پیغام بھا جائے تو اس کی طرف چل پڑو یہ نہ سوچو کہ اوہو تمام عمر تو کفر میں گزر گئی اب کیا ہوگا۔ اس مقام پر چند خاص باتیں اچھی طرح یاد رکھیں۔
1 ۔ توبہ کا دروازہ کھلا ہے توبہ کی شرائط پوری کرتے ہوئے توبہ کرو۔
2 ۔ موت سے پہلے توبہ کرو کیونکہ موت کے وقت توبہ قبول نہ ہوگی۔
3 ۔ قیامت کے دن یہ حیلہ ہرگز قبول نہ ہوگا کہ ہمیں تو معلوم ہی نہ ہوا کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری نبی ﷺ تک برابرنبی اور پیغمبر لوگوں کی ہدایت کیلئے مسلسل آتے رہے ہیں۔
4 ۔ جو نیک کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
رکوع نمبر 6 ۔ آیات 53 ۔ تا۔ 63:
اسرار و معارف :
نیز میرے جن بندوں سے خطا ہوئی اور گناہ سرزد ہوئے انہیں فرما دیجیے کہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں کہ موت سے پہلے قبول اسلام یا مومن کی توبہ تمام گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے اور اللہ ایسا کریم ہے کہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے کہ وہ بکشنے والا بھی ہے اور بہت بڑا رحم کرنے وال ابھی مگر توبہ اپنی شرائط کے ساتھ ہو نہ یہ کہ آدم یزبانی توبہ توبہ کہتا رہے اور عمل کی اصلاح نہ کرے بلکہ دل کی گہرائی سے اللہ کی طرف پلٹ جاؤ اور اللہ کی اطاعت اختیار کرلو پیشتر اس کے کہ تمہارے جرائم تم پر اچانک عذاب لانے کا سبب بن جائیں اور تم سمجھ بھی نہ سکو کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
ف 1 یعنی جب کوئی اور عذر نہ ملے تو اللہ تعالیٰ پر الزام دھرنے لگے کہ اسی نے مجھے ہدایت نہ دی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ اور قرآن کو اپنی طرف سے حجت تمام کردی ہے
Read the full tafseer →(39ـ:55) واتبعوا، جملہ ہذا معطوف ہے۔ جس کا عطف یا لاتقنطوا پر ہے یا و انیبوا پر ہے۔ اور تم پیروی کرو۔ اتبعوا فعل امر، جمع مذکر حاضر اتباع (افتعال) مصدر پیروی کرنا ۔ اتباع کرنا۔
احسن ما انزل الیکم من ربکم۔ احسن مضاف۔ ما انزل الیکم من ربکم مضاف الیہ جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کا بہتر ۔ یعنی اس کے بہترین پہلو۔ اور اس سے مراد صریحا القرآن ہے اور قرآن کے بہترین پہلو کی پیروی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اوامر کی تعمیل کرے اور نواہی سے بچتا رہے احکام کی پیروی کرے اور خصتوں کی طرف نہ جکھے۔
بعض نے اسے صفت و موصوف کے معنی میں لیا ہے اور جملہ کا ترجمہ کیا ہے کہ :۔ ” بہترین کلام جو تمہارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–63
لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 58 : لا تقنطوا (تم مایوس نہ ہو) انیبوا (تم پلٹ آئو) اسلموا (تم فرماں بردار بن جائو) لا تنصرون (تم مدد نہ کئے جائو گے) احسن ( بہترین) بغتہ (اچانک) لا تشعرون (تم سمجھتے نہیں ہو) فرطت (میں نے زیادتی کی) جنب (پہلو) السخرین ( مذاق اڑانے والے) کرۃ ( دوبارہ) المحسنین (نیکو کار ، نیکیاں کرنے والے)
تشریح : آیت نمبر 53 تا 58 :۔ علم دین کی روشنی نہ ہونے کی وجہ سے آدمی سے بعض مرتبہ وہ غلطیاں ہوجاتی ہیں جن پر وہ زندگی بھر شرمندہ رہتا ہے۔ سوائے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ہر خطاء سے معصوم ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس سے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ نہیں ہوا ۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
مصیبت کے وقت خدا کو یاد کرنا چاہیے۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب اکیلے خدا کا ذکر کیا جاتا ہے اور کلمہ توحید ، لا الہ الا اللہ کہا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل جو آخرت وقیامت کے قائل نہیں نفرت کرتے ہیں اور وہ بہت تنگ دل اور پریشان ہوتے ہیں اور ناگواری کا اثر ان کے چہروں پر ظاہر ہوجاتا ہے اور جب خدا کے اور شریکوں کا ذکر ہوتا ہے یعنی لات وعزی منات وغیرہ بتوں کا تو وہ خوش ہوتے ہیں آگے فرمایا تم جو اللہ سے دعا مانگو اسی کی طرف متوجہ ہو اور کہواے اللہ ہم کو خبر دے بہتری کا ارادہ ہمارے ساتھ ہو تو آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جو باتیں بندوں سے پوشیدہ ہیں ان کا بھی واقف عالم ہے اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–59
[33] یہ آیت اللہ تعالیٰ کی رحمت بےپایاں اور عفو و درگزر کی شان عظیم کا اعلان کرتی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے جیسا کہ اس کے بعد والی آیت سے واضح ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ ما سے روایت ہے کہ کچھ لوگ جو قتل، زنا، ڈاکے اور دوسرے بڑے بڑے گناہوں کے مرتکب ہوئے تھے انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ جس دین کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں وہ ہے تو بہت اچھا مگر جب ہم بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرچکے ہیں اب اگر ہم مسلمان بھی ہوگئے تو کیا ہمارے گناہ معاف ہوسکتے ہیں ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
وہاں مہلت نہیں ملے گی
3: غرض یہ ہے ۔ کہ اللہ کے تمام احکام حسن و جمال منطق سے آراستہ ہیں ۔ ان کی اطاعت کی صورت یہ ہے کہ دنیا میں ان کے منشاء کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ ایسا نہ ہو کہ نافرمانی کے بدلے اچانک اور غیر متوقع طور پر اللہ کا عذاب آجائے ۔ اور تم اس کی تلافی نہ کرسکو ۔ جب تم پر اچانک اللہ کا عذاب آجائے ۔ اس وقت تمہیں افسوس ہو ۔ اور تم کہو کہ ہم نے کیوں اللہ کے باب میں کوتاہی سے کام لیا ۔ تمہیں اس وقت یہ خیال نہ آئے ۔ کہ اگر اللہ دنیا میں ہمیں توفیق ہدایت سے بہرہ مند کرتا ۔ تو ہم ضرور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرتے ۔ یا تم یوں کہنے لگو ۔ کہ اگر اب کے مہلت ملے ۔ تو قطعاً صالح بننے کی کوشش…
Read the full tafseer →(55) اور تمہارے رب کی طرف سے جو اچھے اچھے احکام تمہارے نازل کئے گئے ہیں ان پرچلو اور ان کی پیروی کرو قبل اس کے اور اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب اس طرح آ واقع ہو کہ تم کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہو۔ احکام الٰہی تمام کے تمام اچھے ہیں جیسا کہ ہم فیبتحون احسنہ کی رشح میں ابھی عرض کرچکے ہیں۔
اس عذاب سے مراد بظاہر آخرت کا عذاب ہے جو نفخہ اولیٰ سے شروع ہوگا اور سب کے فنا ہوجانے کے بعد نفخہ ثانیہ پر اس عذاب کا ادراک اور انکشاف ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–59
ف 4۔ مراد اس سے عذاب آخرت ہے۔
Read the full tafseer →اس بہترین کلام کی پیروی کرو جو رب کریم کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے
55۔ ہر تحریر شدہ بات کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اور دوسرا برا۔ اچھا پہلو بلاشبہ بہترین پہلو کی لائے گا اور برے پہلو ہی کو بدترین قرار دیا جائے گا اب بہترین پہلو یہ ہوا کہ جن باتوں کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو کیا جائے اور جن سے روکا گیا ہے ان کے قریب تک نہ جائے اور جو امثال اور قصص بیان کیے گئے ہیں ان سے عبرت حاصل کرے اور اس کے خلاف جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات سے منہ پھیرتا ہے او سنی بات کو ان سنی کردیتا ہے ، منہیات کا ارتکاب کرتا ہے اور کلام اللہ کی ہدایات کی کوئی پروا نہیں کرتا بلاشبہ وہ اس کلام کے بدترین پہلو کو…
Read the full tafseer →In verse 55, it was said: وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم (and follow the best of what has been sent down to you). The second phrase أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ (the best of what has been sent down) means the Qur'an, and the whole Qur'an is but ahsan, the best - and the Qur'an can be called: اَحسَںَ و اکمل (best) also in the sense that out of all scriptures - Torah, Injil, Zabur - revealed from Allah Ta’ ala, the Qur'an is the best and the most perfect. (Qurtubi)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–61
72 "To follow the best aspect of the Book of Allah" means that one should carry out the Commands Allah has given and refrain from what He has forbidden, and learn lessons from what He has brought out in the parables and narratives. As against this, the one who turns away from Allah's Commands, indulges in the forbidden things, and dces not heed His admonitions, follows the worst aspect of the Book of AIlah, i.e. that aspect which the Divine Book has declared as the most evil.
Read the full tafseer →