Az-Zumar 39:45

Az-Zumar · from ayah 45

39:45

وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ ۚ— وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ۟وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ‌ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ

اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when Allah is mentioned alone, the hearts of those who do not believe in the Hereafter shrink with aversion, but when those [worshipped] other than Him are mentioned, immediately they rejoice.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 5 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:45

جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں، اور جب اُس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کایقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا (اور کا) ذکر کیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب کبھی تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل بیزار ہوجاتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یہ لوگ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے دل سمٹ جاتے ہیں ان کے جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر ہوتا ہے جبھی وہ خوشیاں مناتے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب تنہا اللہ ہی کا ذکر کیا جاتا ہے تو اُن لوگوں کے دل گھٹن اور کراہت کا شکار ہو جاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے، اور جب اللہ کے سوا اُن بتوں کا ذکر کیا جاتا ہے (جنہیں وہ پوجتے ہیں) تو وہ اچانک خوش ہو جاتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب اس اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل تنگ پڑجاتے ہیں جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور جب ان کا ذکر ہوتا ہے جو اس کے سوا ہیں تو اچانک وہ بہت خوش ہوجاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل گھٹ جاتے ہیں اور جب اللہ کے علاوہ دوسروں کا ذکر کیا جائے تو ان کی باچھیں کھل جاتی ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب صرف اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل کڑھتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر آتا ہے تو یہ خوش ہوجاتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو (شرک کے ماروں کا حال یہ ہوتا ہے کہ) کڑھنے (اور بگڑنے) لگتے ہیں دل ان لوگوں کے جو ایمان (و یقین) نہیں رکھتے آخرت پر اور جب ذکر کیا جاتا ہے اس کے سوا دوسروں کا تو یکایک کھل کھلا اٹھتے ہیں (شرک کے یہ روگی)

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت کا یقین نہیں رکھتے انکے دل منقبض ہونے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس وقت یہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ذکر کیا جاتا ہے اکیلے اللہ کا تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ُ کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تب وہ خوش ہوجاتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تو ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں“

— محترمہ رفعت اعجاز

When Allah alone is mentioned, the hearts of those who do not believe in the Hereafter contract with bitterness, but when deities apart from Allah are mentioned, they are filled with joy.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When Allah is mentioned alone, the hearts of those who do not believe in the Hereafter are filled with disgust, and when those (whom they worship) other than Him are mentioned, they become happy forthwith.

— Muhammad Taqi Usmani

When Allah is mentioned alone, the hearts of those who do not believe in the Hereafter are filled with disgust, and when those (whom they worship) other than Him are mentioned, they become happy forthwith.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when Allah Alone is mentioned, the hearts of those who believe not in the Hereafter are filled with disgust and when those besides Him are mentioned, behold, they rejoice!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when Allah alone is mentioned, the hearts of those who believe not in the Hereafter are repelled, and when those (whom they worship) beside Him are mentioned, behold! they are glad.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when Allah is mentioned alone, the hearts of those who do not believe in the Hereafter shrink with aversion, but when those [worshipped] other than Him are mentioned, immediately they rejoice.

— Saheeh International

When one God is mentioned, the hearts of those who do not believe in the Day of Judgment begin to shrink, but when the idols are mentioned, they rejoice.

— Muhammad Sarwar

And when Allah alone is mentioned, the hearts of those who do not believe in the hereafter shrink, and when those besides Him are mentioned, lo! they are joyful.

— Muhammad Habib Shakir

And when Allah alone is mentioned, then shrink with eversion the hearts of those who believe not in the Hereafter, and when those beside Him are mentioned, lo! they rejoice.

— Abdul Majid Daryabadi

When Allah, the One and Only, is mentioned, the hearts of those who believe not in the Hereafter are filled with disgust and horror; but when (gods) other than He are mentioned, behold, they are filled with joy!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 43–45

مشرکین کی مذمت۔ اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں۔ اس لئے اپنے نبی کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دو ، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کرلے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے۔ زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اس شفاعتوں کا مالک وہی ہے۔ زمین و آسمان کا بادشاہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 45–48

سورة الزُّمَر 64 یہ بات قریب قریب ساری دنیا کے مشرکانہ ذوق رکھنے والے لوگوں میں مشترک ہے، حتّیٰ کہ مسلمانوں میں بھی جن بد قسمتوں کو یہ بیماری لگ گئی ہے وہ بھی اس عیب سے خالی نہیں ہیں۔ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں۔ لیکن حالت یہ ہے کہ اکیلے اللہ کا ذکر کیجیے تو ان کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں، ضرور یہ شخص بزرگوں اور اولیاء کو نہیں مانتا، جبھی تو بس اللہ ہی اللہ کی باتیں کیے جاتا ہے۔ اور اگر دوسروں کا ذکر کیا جائے تو ان کے دلوں کی کلی کھل جاتی ہے اور بشاشت سے ان کے چہرے دمکنے لگتے ہیں۔ اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اصل میں دلچسپی اور محبت کس سے ہے۔ علامہ آلوسی نے روح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–45

خلاصہ تفسیر اللہ ہی قبض (یعنی معطل) کرتا ہے ان جانوں کو (جن کا وقت موت آ گیا ہے) ان کی موت کے وقت (مکمل طور پر کہ زندگی بالکل ختم ہوجائے) اور ان جانوں کو بھی جن کو موت نہیں آئی ان کے سونے کے وقت (یہ تعطل بالکلیہ نہیں ہوتا ایک حیثیت حیات کی باقی رہ جاتی ہے مگر ادراک نہیں رہتا اور موت کی صورت میں نہ ادراک رہتا ہے نہ حیات) پھر (اس معطل کرنے کے بعد) ان جانوں کو تو (بدن کی طرف عود کرنے سے) روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہے اور باقی جانوں کو (جو نیند کی وجہ سے معطل ہوگئی تھیں اور ابھی ان کی موت کا وقت نہیں آیا) ایک میعاد معین (یعنی مدت) تک کیلئے آزاد کردیتا ہے (کہ پھر واپس جا کر بدن میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 45 شفاعت باطل کا عقیدہ آخرت کی باز پرس یس فرار کے لئے ایک چور دروازہ ہے یہ شرک و شفاعت کے وجود میں آنے کے ایک بہت بڑے سبب کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ آخرت خدا کے عدل کامل اور جزاء و سزا کے ظہور کا دن ہے اور اس کے ماننے سے انسان پر نہایت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں اس وجہ سے جو لوگ ان ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ شرک و شفاعت کی آڑ لیتے ہیں وہ ایمان و عمل کے تقاضے پورے کرنے کا نہ حوصلہ رکھتے اور نہ اپنے نفس کی خواہشوں پر کوئی پابندی ہی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اس وجہ سے اول تو وہ آخرت کو مانتے ہی نہیں اور اگر مانتے بھی ہیں تو شرک و شفاعت کا عقیدہ ایجاد کر کے اس کے تمام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

45۔ 1 یا کفر اور استکبار، مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے جب یہ کہا جائے کہ معبود صرف ایک ہی ہے تو ان کے دل یہ بات ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ 45۔ 1 ہاں جب یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں یا وہ بھی آخر اللہ کے نیک بندے ہیں وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں وہ بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرسکتے ہیں تو پھر مشرکین بڑے خوش ہوتے ہیں منحرفین کا یہی حال آج بھی ہے جب ان سے کہا جائے کہ صرف یا اللہ مدد کہو کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے تو سیخ پا ہوجاتے ہیں یہ جملہ ان کے لیے سخت ناگوار ہوتا ہے لیکن جب یا علی مدد یا یارسول اللہ مدد کہا جائے اسی طرح دیگر مردوں سے استمداد واستغاثہ کیا جائے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–48

15: اس سے مراد وہ من گھڑت دیوتا ہیں جن کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سفارشی سمجھ رکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 45 یہ ایک حقیقی صورت حال کی نقشہ کشی ہے جو حضور اکرم ﷺ کے دور میں موجود تھی۔ اس وقت صورت یہ تھی کہ جب مشرکین کے خداؤں کا ذکر احترم سے کیا جاتا تو یہ مشرکین کھل اٹھتے اور بہت خوش ہوتے ۔ اور جب کلمہ توحید کا بیان ہوتا تو یہ لوگ مرجھا جاتے اور ان کی طبیعت میں انقباض پیدا ہوجاتا ۔۔۔۔ لیکن یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جو ہر زمان ومکان میں پائی جاتی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ وحدہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے اور صرف اللہ کی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے اور صرف اسلامی نظام اور اسلامی دستور ومنشور کی بات کی جائے تو ان کو سخت انقباض ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 مشرک کا خاصہ ہے کہ گو بعض وقت زبان سے اللہ کی عظمت و محنت کا اعتراف کرتا ہے، لیکن اس کا دل اکیلے خدا کے ذکر اور حمدو ثناء سے خوش نہیں ہوتا۔ ہاں دوسرے دیوتاؤں یا جھوٹے معبودوں کی تعریف کی جائے تو مارے خوشی کے اچھلنے لگتا ہے جس کے آثار اس کے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔ افسوس یہ ہی حال آج بہت سے نام نہاد مسلمانوں کا دیکھا جاتا ہے کہ خدائے واحد کی قدرت و عظمت اور اس کے علم کی لامحدود وسعت کا بیان ہو تو چہروں پر انقباض کے آثار ظاہر ہوتے ہیں مگر کسی پیر فقیر کا ذکر آجائے اور جھوٹی سچی کرامات اناپ شناپ بیان کردی جائیں تو چہرے کھل پڑتے اور دلوں میں جذبات مسرت و انبساط جوش مارنے لگتے ہیں۔ بلکہ بسا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 45 { وَاِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ } ”اور جب ذکر کیا جاتا ہے اکیلے اللہ کا تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ُ کڑھنے لگتے ہیں۔“ یہ اصلاً تو کفار کا ذکر ہے ‘ مگر مسلمانوں میں سے بھی جو مشرکانہ ذوق رکھتے ہیں ان کا یہی حال ہے کہ اگر کہیں صرف اللہ ہی کی بات ہو رہی ہو تو انہیں یہ اچھا نہیں لگتا۔ کسی تقریر یا وعظ میں اگر ساری گفتگو توحید پر ہی ہو تو عام طور پر لوگ گھبرا جاتے ہیں کہ یہ کیا بات ہوئی ؟ یہ کیسی تقریر ہے جس میں نہ تو اولیاء اللہ کی کرامات کا ذکر کیا جارہا ہے اور نہ ہی شان نبوت بیان ہو رہی ہے ! { وَاِذَا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

61 مشرکوں کی ایک پکی علامت توحید خالص سے چڑ :۔ اس آیت میں مشرکوں کی ایک پکی خصلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مشرک بتوں کے پجاری ہوں یا قبروں کے یا پیروں فقیروں کے نیز کسی بھی دور کے مشرک ہوں سب میں یہ خصلت پائی جاتی ہے کہ اگر اللہ اکیلے کی ہی صفات بیان کی جائیں اس کے محیرالعقول کارنامے بیان کیے جائیں اس کی حکمت سے لبریز آیات کی تشریح بیان کی جائے تو اس سے مشرکوں کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوتے بلکہ ان میں انقباض اور گھٹن پیدا ہونے لگتی ہے۔ اور بسا اوقات وہ بیان کرنے والے کو بتوں کا یا اولیاء اللہ کا منکر ہونے کا طعنہ دینے لگتے ہیں۔ اس کے بجائے اگر ولیوں کی کرامات بیان کی جائیں۔ اور یہ بتایا جائے کہ فلاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

59۔ توحید کامل کے ماننے والوں اور شرک آمیز عقیدۂ خدائی کے تسلیم کرنے والوں کے درمیان جو فرق عظیم ہوتا ہے اسے یہاں خوب واضح کردیا گیا ہے۔ خیر جو کھلے ہوئے مشرک ہیں ان کا حال تو ظاہر ہی ہے لیکن خود ہماری قوم میں جو جھوٹے پیروں، فقیروں، جن وپری، شہید مرد، اور شیخ سدو وغیرہ کے قائل ہیں خود ان کا کیا حال ہے ؟” یاشیخ عبدالقادر جیلانی شیئا للہ “ کا وظیفہ پڑھنے والے مصیبت کے وقت ” یا غوث، یا غوث “ پکارنے والے، اجمیر کی درگاہ کے اردگرد ” یا خواجہ تو ہی دیتا ہے، تو ہی دلواتا ہے “ کی صدائیں لگانے والے ہمارے درمیان کس کثرت سے ہیں !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–52

آیت نمبر 42 تا 52 ترجمہ : اللہ ہی قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی ہے انہیں ان کی نیند میں قبض کرلیتا ہے، یعنی ان کو نیند میں قبض کرلیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کیلئے چھوڑ دیتا ہے یعنی ان کی موت کے وقت تک، اور چھوڑی ہوئی روح تمییز ہے جس کے بغیر روح حیات باقی رہ سکتی ہے، اس کا عکس ممکن نہیں یقیناً ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لہٰذا اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جو ذات اس پر قادر ہے وہ بعث (بعد الموت) پر بھی قادر ہے، اور قریش نے اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کیا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت قلوب الذین لا یومنون بالاخرۃ واذا ذکر الذین من دونہ اذاھم یستبشرون اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ‘ بھچ جاتے ہیں (نفرت کرتے ہیں ‘ سکڑ جاتے ہیں) اور جب اللہ کے سوا اوروں کا ذکر کرتے ہیں تو وہ کھل جاتے ہیں (خوش ہوجاتے ہیں) یعنی بتوں کے تذکرے سے بڑے خوش ہوتے ہیں۔ بغوی نے حسب بیان مجاہد و مقاتل لکھا ہے اور ابن المنذر نے بھی اس قول کی نسبت مجاہد کی طرف کی ہے کہ یہ خوشی کافروں کو اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے سوۂ النجم پڑھی اور شیطان نے آپ کی قرأت کے اندر ومناۃ الثالثہ الاخرٰی کے آگے یہ الفاظ ملا دئیے تِلْکَ الْغَرَ انِیْقُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھو تو ان لوگوں کے دلوں میں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے نفرت و تنگی پیدا ہوتی ہے اور جب اس کے علاوہ لات و عزی کا تذکرہ ہوتا ہے تو اسی وقت یہ لوگ اپنے بتوں کے ذکر سے خوش ہوجاتے ہیں۔ شان نزول : وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ (الخ) ابن المنذر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ رسول اکرم کی کعبہ کے پاس سورة نجم کی تلاوت کرنے اور مشرکین کے اپنے بتوں کے تذکرہ پر خوش ہونے کے وقت نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ۔۔ : ”اِشْمَأَزَّ“ نفرت سے بھر گیا، تنگ پڑگیا۔ یہ بات دنیا بھر کے مشرکوں میں مشترک ہے، خواہ وہ نام کے مسلمان کیوں نہ ہوں کہ کوئی شخص اکیلے اللہ کا اور اس کی کبریائی اور توحید کا ذکر کرے تو ان کے دل نفرت سے بھر جاتے ہیں اور تنگ پڑجاتے ہیں اور ان کے چہروں پر ناگواری اور نفرت کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ شخص اولیاء اور بزرگوں کو نہیں مانتا، اسی لیے صرف اللہ ہی کی بات کرتا چلا جاتا ہے، نہ کسی ولی کی قوت و تصرف کا ذکر کرتا ہے جو (ان کے خیال میں) اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا تیر راستے سے واپس ہٹا لاتے ہیں اور نہ کسی دستگیر یا گنج بخش یا مشکل کشا کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 43–45

43 ۔ 45:۔ ام اتخذوا من دون اللہ شفعا بلکہ انہوں نے اپنے بتوں کو شفیع بنا لیا ہے۔ کلام میں ایسی چیز ہے جو لم کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے تقدیر کلام یوں ہے لم یتفکروا لیکن انہوں نے اپنے معبودوں کو شفیع بنا لیا ہے۔ قل او لو کانو لا یملکون شیئا اے اے محمد ! انہیں کہو کیا تم انہیں شفیع بناتے ہو اگرچہ یہ شفاعت میں سے کسی چیز کے مالک نہیں اور نہ ہی یہ عقل رکھتے ہیں کیونکہ یہ جمادات ہیں ‘ یہ استفہام انکاری ہے۔ قل للہ الشفاعۃ جمیعا یہ اس میں بیان ہے کہ شفاعت صرف اللہ وحدہ لا شریک کے لئے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ) البقرہ (255: یعنی اس کی شفاعت کے بغیر کوئی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 44–45

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام اتخذوا من دون اللہ شفعآء “ (کیا انہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو سفارش کرنے والا بنا دیا ہے) یعنی شفعاء سے مراد ہے معبود باطلہ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر و بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل للہ الشفاعۃ جمیعا “ (فرما دیجئے ساری سفارش اللہ کے لئے ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی سفارش نہیں کرسکتا مگر اس کی اجازت سے۔ 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت “ (اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ [اور جب ذکر کیا جاتا ہے اللہ کا ] وَحْدَهُ [اس کے واحد ہوتے ہوئے ] اشْمَاَزَّتْ [تو سکڑ جاتے ہیں ] قُلُوْبُ الَّذِيْنَ [ان کے دل جو ] لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ ۚ [ایمان نہیں رکھتے آخرت پر ] وَاِذَا ذُكِرَ [اور جب ذکر کیا جاتا ہے ] الَّذِيْنَ [ان لوگوں کا جو ] مِنْ دُوْنِهٖٓ [اس کے علاوہ ہیں ] اِذَا هُمْ [جب ہی وہ لوگ ] يَسْتَبْشِرُوْنَ [خوشیاں مناتے ہیں ] ۔ ش م ء ز افعلالا اشمئزازا کراہیت سے چہرہ کا سکڑ جانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 45 ۔ نوٹ۔ 2: آیت 45 میں جو بات کہی گئی ہے وہ قریب قریب ساری دنیا کے مشرکانہ ذوق رکھنے والے لوگوں میں مشترک ہے، حتی کہ مسلمانوں میں بھی جن بد…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–45

یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سفارش کے بارے میں ہر طرح کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے وہ جسے چاہے گا اور جس کے لیے چاہے گا سفارش کرنے کی اجازت دے گا، اس کے یہاں مشرک اور کافر کی بخشش نہیں۔ اس لیے جو بندے اس کے نزدیک شفاعت کرنے کے اہل ہیں انبیاء کرام اور ملائکہ عظام انہیں کافروں اور مشرکوں کی سفارش کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی لہٰذا شرک و کفر میں مبتلا رہنا اور اپنے معبودوں کی سفارش کا بخشش کے لیے سہارا لینا یہ سراپا جہالت اور حماقت اور گمراہی ہے، اس بیان سے مشرکین کے اس سوال کا جواب بھی واضح ہوگیا ہے کہ ہم نے تو فرشتوں کو اور بعض پیغمبروں کو بھی الوہیت میں شریک کر رکھا ہے وہ تو شفاعت کے اہل ہیں اوپر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–45

بیان قدرت خداوندی و اثبات حشروتنبیہ برشناعت مشرکین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا ....... الی ....... اذا ھم یستبشرون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے منکرین کی رد میں اپنی قدرت کاملہ کا ذکر فرمایا تھا اور اس سے غرض نبی کریم ﷺ کو تسلی دینی تھی، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا تھا کہ قیامت کے روز مجرمین کا انجام خود ان کی نظروں کے سامنے آجائے گا اب ان آیات میں قیامت اور قیامت کے روز انسانوں کی حق تعالیٰ شانہ کے سامنے پیشی کا ایک منظر بیان کیا جارہا ہے اور یہ منظر ایسی ایک حالت ہے جو ہر روز وشب ہر انسان پر واقع ہوتی ہے وہ انسان کا سونا جو بمنزلہ موت ہے اور بیدار ہونا جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

46:۔ ” واذا ذکر الخ “ یہ شکوی ہے۔ ان کا حال بھی عجیب ہے۔ اگر واقعی حقیقت ان کے سامنے پیش کی جائے یعنی کہا جائے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو تو اس سے ان کے دل متنفر ہوتے ہیں۔ لیکن اگر غیر اللہ کی پرستش اور عبادت کی اجازت دی جائے یا اللہ کے ساتھ ان کے معبودوں کا ذکر ہی کیا جائے تو بہت خوش ہوتے ہیں (واذا ذکر اللہ وحدہ) ای قیل لا الہ الا اللہ (اشمازت) انقبضت و نفرت (قلوب الذین لا یومنون بالاخرۃ واذا ذکر الذی من دونہ) ای الاوثان (اذا ھم یستبشرون) واذکر اللہ معہم اولم یذکر (جامع البیان ص 398) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–52

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تردید فرمائی ، کچھ دلائل قدرت بیان کیے ہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) پر طعن کرنے والوں کا رد کیا ، پھر فرمایا کہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے لہذا اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے ، پھر آگے تنبیہہ فرمائی کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو میں اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہوں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ صحیح راستے پر کون ہے اور گمراہی میں کون بھٹک رہا ہے نیز یہ بھی کہ دائمی عذاب کس پر مسلط ہوتا ہے اور کون اس سے بچتا ہے پھر قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت پائے گا اس میں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا ذُكِرَ اللہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ۝ 0 ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِذَا ہُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ۝ 45 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 43–48

ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل۔ اولو کان الھمزۃ للانکار والوا وللعطف علی محذوف مقدرای یشفعون ولو کانوا الخ و جواب لو محذوف ای وان کانوا بھذہ الصفۃ تتخذونھم۔ جمیعًا حال من الشفاعۃ مصدر یطلق علی الواحد والکثیر ولھذا اصح وقوع الحال بجمیع منہ وحدہ انتصابہ علی الحال عند یونس و علی المصدر عند الخلیل و سیبویہ۔ اشماء زت الاشمز از النفور والانقباض۔ فاطر السمٰوٰت منصوب علی النداء عالم الغیب بدل منہ اوصفۃ للذین خبران ما فی الارضاسمھا جمیعًا حال منہ و مثلہ معطوف علی ماولذا الا نتصب لافتدوا جواب لو۔ تفسیر : بیان سابق کے بعد مشرکین یہ کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو یا وہ کہ جن کے نام کے بت ہیں، خدا اور خالق ومالک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا ذُکِرَاللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ ج وَاِذَا ذُکِرَالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِذَا ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ۔ (الزمر : 45) (جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں، اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو وہ یکایک خوش ہوجاتے ہیں۔ ) انسان کی کمزوری یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ جن عظمتوں کو تسلیم کرتا اور ان سے ایمان کا رشتہ رکھتا ہے ان کو برابری کا درجہ نہیں دیتا بلکہ جن سے اس کی قلبی وابستگی زیادہ وہوتی ہے ہمیشہ ان کے ذکر سے خوش ہوتا اور ہمیشہ انھیں کے ذکر سے اپنی مجلسوں کو سجاتا ہے۔ اسی سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : سفارش کے ختیارات تمام کے تمام اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ وہ اپنی ذات، صفات کے اعتبار سے اکیلا ہے۔ اس بات کا کھول کر ذکر کیا جاتا ہے تو مشرک اسے برا سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا دائمی اور حقیقی مالک ہے۔ وہ اپنی مخلوق پر بلا شرکت غیرے اختیار رکھتا ہے۔ اس نے کسی اعتبار سے کسی کو بھی کوئی اختیار نہیں دیا۔ توحید کے اس پہلو کو کھول کر بیان کیا جائے تو مشرک کو یہ بات بری لگتی ہے جس بنا پر توحید کے بیان سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن جوں ہی بزرگوں کی جھوٹی، سچی کرامات اور ان کی شخصیت کا ذکر کیا جائے تو شرک سے محبت رکھنے والے لوگوں کے چہرے کھل جاتے ہیں۔ مشرکانہ ماحول کے غلبہ کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ (جب فقط اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے) ، یہاں معنی کا مدار وحدہ پر ہے۔ مطلب یہ ہے جب فقط اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اور اس کے ساتھ ان کے معبودوں کا ذکر نہیں کیا جاتا ہے۔ آیت (منقبض ہوتے ہیں) نفرت کرتے اور گھٹتے ہیں۔ آیت (ان لوگوں کے دل جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر آتا ہے) اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کے معبودوں کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔ یا ذکر نہ کیا جائے۔ آیت (تو اسی وقت وہ لوگ خوش ہوجاتے ہیں) کیونکہ وہ ان پر مفتون ہیں یا جب ان سے کہا جاتا ہے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شیک لہ، تو بھاگ کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ اس میں ان کے معبودوں کی نفی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

45، واذا ذکراللہ وحدہ اشمازت، نفرت کرتے ہیں ۔ ابن عباس ؓ، مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ توحید سے منقبض ہوجاتے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ تکبر کرتے ہیں اور اس کی اصل ، اشمئزاز، یعنی نفرت کرنا اور تکبر کرنا ہے۔ ، قلوب الذین لایؤمنون بالاخرۃ، ، واذا ذکرالذین من دونہ یعنی بت، اذا ھم یستبشرون، وہ خوش ہوتے ہیں۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب نبی کریم ﷺ نے سورة والنجم پڑھی تو شیطان نے آپ کے ارادہ میں یہ بات ڈال دی۔ ، تلک الغرانیق العلی، تو کفار اس سے خوش ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–46

45۔ 46۔ مشرکین مکہ جو کہتے تھے کہ ہم نیک لوگوں کی مورتوں کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ وہ نیک لوگ بار گاہ الٰہی میں سفارش کریں گے ان مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں دیا تھا جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ نیک لوگ بجائے سفارش کے ان مشرکوں کے شرک سے اپنی بیزاری ظاہر کریں گے دوسرا جواب اس بات کا ان آیتوں میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی جن آیتوں میں اکیلے اللہ کا نام آئے تو ان آیتوں کو سن کر ان اللہ کے سامنے کھڑے ہونے والے منکروں کے دل میں نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جب ان کے بتوں کا نام آئے تو ان کے دل خوش ہوجاتے ہیں یہ سفارش کی امید کا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ مشرکوں کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–47

آیت 45 اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے حال اور ان کے شرک کے تقاضوں کا ذکر کرتا ہے۔ (وذا ذکر اللہ وحدہ) ” جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے “ یعنی جب اس کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے، دین کو صرف اسی کے لئے خالص کر کے عمل کرنے اور اس کے سوا دیگر معبودوں کو چھوڑنے کے لئے کہا جاتا ہے جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، تو وہ منقبض ہوجاتے ہیں، نفرت کرتے ہیں اور شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ (واذا ذکر الذین من دونہ) اور جب اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور خود اسختہ معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور دعوت دینے والا ان کی عبادت اور ان کی مدح کی دعوت دیتا ہے (اذھم یستبشرون) تو وہ اپنے معبودوں کا ذکر سن کر فرحت اور خوشی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

89 مشرکوں کی عقیدئہ توحید سے چڑ اور علامہ آلوسی کا ایسے مشرکوں کے حال پر رونا : سو اس سے اہل کفر و شرک کی عقیدئہ توحید سے چڑ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ علامہ آلوسی بغدادی نے اپنے دور کے مشرکوں کے بارے میں یہی رونا رویا ہے۔ یہی حال آج کے کلمہ گو مشرکوں کا ہے کہ توحید خالص اور قرآن و سنت کے صاف بیان سے ان کے تیور بگڑنے اور انداز بدلنے لگتے ہیں۔ ان کے دل کڑھنے اور چہروں کے رنگ متغیر ہونے لگتے ہیں۔ اور جب اس کے برعکس ان کی خودساختہ سرکاروں اور ہستیوں اور ان سے متعلق جھوٹ موٹ کے قصے سنائے جائیں تو ان کے ذکر پر یہ لوگ اچھل پڑتے ہیں اور طرح طرح کے نعرے لگانے لگتے ہیں اور آہ و واہ کے ڈونگرے برسانے لگتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 42–45

حیات بعد الموت کی دلیل تشریح : طبی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو نیند کا نظام جو اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے بلکہ تمام جانداروں کیلئے بنا رکھا ہے یہ جسم کیلئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح ہوا، خوارک، پانی اور روشنی جانداروں کی بقا کیلئے ضروری ہے۔ نیند کے بارے میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے اب مختصراً عرض یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضاء کو کچھ دیر کیلئے اس قدر سکون چاہیے ہوتا ہے کہ جس قدر سکون موت میں مل جاتا ہے۔ کیونکہ نیند میں روح کافی حد تک جسم سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ مگر اس کا رابطہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور معجزانہ نظام سے یوں رکھتا ہے کہ جو نہی جسمانی اعضاء کی تھکن دور ہوجاتی ہے، روح دوبارہ جانداروں کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–52

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 42 ۔ تا۔ 52: اسرار و معارف : یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جس کی موت آتی ہے اللہ ہی اس کی روح قبض فرما لیتا ہے یعنی اس کا تعلق بدن اور اس میں تصرفات سے اللہ کے حکم سے توڑ دیا جاتا ہے اور جس کی موت نہیں آتی اس کے لیے نیند کی حالت کو سمجھنا ہی کافی ہے کہ اس میں بھی روح بدن میں تصرفات سے روک دی جاتی ہے ہاں اس کا ایک گونہ تعلق باقی رکھا جاتا ہے پھر جس کا وقت پورا ہوچکا ہو اسے بدن میں واپسی سے روک دیا جاتا ہے اور جن کا ابھی وقت باقی ہے انہیں اس خاص مدت تک لوٹا دیا جاتا ہے یعنی انسان کا عجز اور اللہ کے دست قدرت کی گرفت میں ہونا نیند اور موت سے واجح ہے اور یہ بہت بڑی دلیل ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 افسوس ہے کہ آج بھی یہی کیفیت بہت سے ان مسلمانوں کی ہے جو اولیاء پرستی کے مرضی میں مبتلا ہیں، ان کے سامنے اللہ کی خالص توحید کا ذکر ہو تو ان کے دل بھینچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں، یہ شخص ضرور اولیاء اللہ کا منکر ہے لیکن اگر اولیاء اللہ کے فضائل و کرامات کے من گھڑت قصے سنائے جائیں تو گویا ان کے دل کی کلی کھل جاتی ہے اور خوشی سے ان کے چہرے دمکنے لگتے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اصل محبت اور دلچسپی اللہ تعالیٰ سے نہیں بلکہ اپنے ان اولیاء سے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:45) اشمازت ماضی واحد مؤنث غائب اشمیزاز (افعیلال) مصدر سے منقبض یا گرفتہ ہوجانا۔ غم و غصہ سے اس طرح بھر جانا کہ چہرے سے رکاوٹ اور نفرت کا اظہار ہونے لگے۔ ش م ء ز مادہ۔ (ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں) ذکر۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ذکر سے (باب نصر) ذکر کیا گیا ۔ ذکر کیا جاتا ہے۔ ذکر کیا جائے۔ اذا ہم یستبشرون : اذا مفاجاتیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب الذین لایؤمنون بالاخرۃ کی طرف راجع ہے۔ یستبشرون مضارع جمع مذکر غائب استبشار (استفعال) مصدر وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ اذا ہم یستبشرون تو فورا اسی وقت وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 43–46

لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 46 : شفعائ ( شفیع) (سفارش کرنے والے ، شفاعت کرنے والے) اشمازت (وہ کڑھنے اور جلنے لگے) فاطر ( پیدا کرنے والا) تحکم (تو فیصلہ کرے گا) تحکم ( تو فیصلہ کرے گا) عباد (بندے) تشریح : آیت نمبر 43 تا 46 :۔ اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرما دیا ہے کہ زندگی اور موت یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی زندگی دیتا ہے اور نہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو موت آتی ہے۔ کفار و مشرکین بھی اس بات کو سمجھتے تھے مگر زبان سے نہیں کہتے تھے بلکہ اپنے بےحقیقت بتوں کے متعلق ان کا گمان یہ تھا کہ وہ کل قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے اللہ کے عذاب سے انہیں بچا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–46

شرک کابیان۔ (ف 1) نبی ﷺ کے پاس کچھ مشرک لوگ آئے اور کہنے لگے کہ جس دین کی آپ ہم لوگوں کو رغبت دلاتے ہیں اور وہ دین تو اچھا ہے لیکن ہم نے بڑے بڑے گناہ کیے ہیں اگر اس کی پکڑ نہ ہو تو ہم کو اس دین کے قبول کرنے میں کچھ عذر نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اللہ تعالیٰ کی غفور رحیم کی صفت کے آگے کسی گناہ کی اگرچہ حقیقت نہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا، اس لیے ہر مشرک کو عذاب کے آجانے کے بےبسی سے پہلے شرک کو چھوڑنا اور اس سے آئندہ کے لیے توبہ کرنی چاہیے اور شرک کے علاوہ گناہوں کی معافی بغیر توبہ کے بھی اللہ کی ذات سے رکھنی چاہیے ہاں جو مشرک شرک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 45–48

[31] یہ شرک و سفارش کے وجود میں آنے کے ایک بہت بڑے سبب کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ آخرت اللہ تعالیٰ کے عدل کامل اور جزاوسزا کے ظہور کا دن ہے اور اس کے ماننے سے انسان پر نہایت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس وجہ سے جو لوگ ان ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ شرک و سفارش کی آڑ لیتے ہیں۔ وہ ایمان و عمل کے تقاضے پورے کرنے کا نہ حوصلہ رکھتے ہیں نہ اپنے نفس کی خواہشوں پر کوئی پابندی ہی قبول کرنے کو تیار ہیں، لہذا اول تو وہ آخرت کو مانتے ہی نہیں اور اگر مانتے بھی ہیں تو شرک و سفارش کا عقیدہ ایجاد کر کے آخرت کے تمام خطرات سے اپنے زعم کے مطابق وہ اپنے آپ کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اگر ان…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 45–49

اللہ کے نام سے چِڑ 2: اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ مشرکین کو توحید سے کس درجہ نفرت ہے اور بتوں سے کس حد تک محبت ہے ۔ ان کے سامنے جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اور وحدیت کے معارف عالیہ سے ان کو بہرہ مند کیا جاتا ہے ۔ اور بتلایا جاتا ہے ۔ کہ اسی کا آستانہ جلال و عظمت اس قابل ہے ۔ کہ انسان اس کے سامنے جھکے ۔ تو ان کے دلوں میں انقباض پیدا ہوجاتا ہے ۔ اور بشرے سے سخت بیزاری ٹپکنے لگتی ہے ۔ تو چاہیے یہ تھا کہ اللہ کا نام ان کے لئے وجہ تسکین ہوتا ۔ جب ان کا نام لیا جاتا ۔ تو ان کے قلوب میں روشنی اور شگفتگی پیدا ہوجاتی ۔ مگر یہاں فطرت مسخ ہوچکی ہے ۔ یہ لوگ اللہ کے نام سے منقبض ہوتے ہیں ۔ اور جب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(45) اور جب تنہا صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اس اکیلے اور یگانہ معبود کا نام لیا جائے تو ان لوگوں کے دل جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے سخت کبیدہ متنفر اور منقبض ہوتے ہیں اور جہاں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کا ذکر کیا گیا تو اسی وقت یہ لوگ خوش ہوجاتے اور خوشیاں کرنے لگتے ہیں۔ یعنی جب کے قلوب کو آخرت کا یقین نہیں ہے ان بدنصیبوں کی حالت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور لا الہ الا اللہ کہا جائے تو ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو بھی ذکر کیا جائے یا فقط دوسروں ہی کا ذکر ہو تو یہ لوگ خوش ہونے لگتے ہیں۔ اگرچہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی بدون اس کے اذن کے کسی کی مجال نہیں کہ سفارش کرسکے، اور اذن کے لئے دو شرطیں ہیں۔ شفیع کا مقبول ہونا اور مشفوع لہ کا قابل مغفرت ہونا، پس جن ارواح کو یہ معبود قرار دیتے ہیں اگر وہ شیطاطین ہیں تو دونوں شرطیں مفقود، اور اگر وہ ملائکہ وغیرہم ہیں تو شرط ثانی مفقود۔ بہرحال اذن مفقود ہے، پس ان کی شفاعت بھی منفی ہے، اور یہی مبنی تھا ان کے معبود قرار دینے کا پس ان کی معبودیت باطل ٹھہری۔ اور حق تعالیٰ کی توحید ثابت ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب اللہ وحدہ لا شریک لہ کا ذکر آتا ہے تو مشرکوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں 45۔ بلاشبہ یہ بات اس وقت بھی تھی جب قرآن کریم نازل کیا جا رہا تھا اور آج بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے تو مشرکین کے دل گھٹنے لگتے ہیں۔ ان کے چہروں پر افسردگی چھا جاتی ہے اور رنگ زرد پڑجاتا ہے اور ماتھے ہیں کہ شکنوں سے پر ہوجاتے ہیں ، گال غصہ سے بھر جاتے ہیں اور ان کی حالت وکیفیت دیدنی ہوتی ہے ، ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ فرمایا اس لیے کہ ان لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہوتا اور اس دنیا میں جو انہوں نے آسرے اور سہارے بنا رکھے ہیں ان کی نفی ان کو کسی حال میں بھی پسند نہیں آتی اور جب اس مجلس میں یا کسی دوسری مجلس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–45

Commentary The time to sleep and the time to die: How is the soul exacted and what is the difference between the two In verse 42, it was said: اللَّـهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا (Allah fully takes away the souls [ of the people ] at the time of their death, and [ of ] those who do not die, in their sleep.). The word: تَوَفَّی (tawaffa) literally means to receive, to take back, exact. In this verse, Allah Ta’ ala has stated very clearly and emphatically that the spirits or souls (arwah) of living beings are under the free will and discretionary…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–48

64 This evil is common to almost all polytheistic people of the world, and even some unfortunate Muslims also suffer from it, They profess with the tongue that they believe in Allah, but when One Allah alone is mentioned before them, their faces arc distorted, and they say, "This man certainly does not believe in the saints and holy men; that is why he talks of Allah and Allah alone. " And if others besides Allah arc mentioned, they are delighted, and their faces brighten up with joy. Their this attitude shows as to who is the actual object of their love and esteem. 'Allama Alusi, in his…

Read the full tafseer →