Explained with ayahs 46–48
صبح وشام کے بعض وظائف۔
مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی ﷺ سے اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ فرماتا ہے کہ تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہوگا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے۔ حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن ؒ حضرت عائشہ ؓ سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے ؟ آپ فرماتے ہیں اس دعا سے (ترجمہ) یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
سورة الزُّمَر 64
یہ بات قریب قریب ساری دنیا کے مشرکانہ ذوق رکھنے والے لوگوں میں مشترک ہے، حتّیٰ کہ مسلمانوں میں بھی جن بد قسمتوں کو یہ بیماری لگ گئی ہے وہ بھی اس عیب سے خالی نہیں ہیں۔ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں۔ لیکن حالت یہ ہے کہ اکیلے اللہ کا ذکر کیجیے تو ان کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں، ضرور یہ شخص بزرگوں اور اولیاء کو نہیں مانتا، جبھی تو بس اللہ ہی اللہ کی باتیں کیے جاتا ہے۔ اور اگر دوسروں کا ذکر کیا جائے تو ان کے دلوں کی کلی کھل جاتی ہے اور بشاشت سے ان کے چہرے دمکنے لگتے ہیں۔ اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اصل میں دلچسپی اور محبت کس سے ہے۔ علامہ آلوسی نے روح…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ (ان کی شدت عناد سے محزون نہ ہو جئے اور اللہ سے دعا میں یہ) کہئے کہ اے اللہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے باطن اور ظاہر کے جاننے والے آپ ہی (قیامت کے روز) اپنے بندوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ فرما دیں گے جن میں باہم وہ اختلاف کرتے تھے۔ (یعنی آپ ان معاندین کی فکر میں نہ پڑیئے، بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے وہ خود عملی فیصلہ کردیں گے) اور (اس فیصلہ کے وقت یہ حالت ہوگی) کہ اگر ظلم (یعنی شرک وکفر) کرنے والوں کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں اور ان چیزوں کے ساتھ اتنی چیزیں اور بھی ہوں تو وہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب سے چھوٹ جانے کے لئے (بےتامل) ان کو دینے لگیں (گو مقبول…
Read the full tafseer →آیت 46
نبی صلعم کو منکرین آخرت سے اعراض اور آخرت کی تیاری کی تلقین
یہ نبی ﷺ کو دعا تلقین فرمائی گی ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اب ان لوگوں کا معاملہ حقیقت کا مواجہہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ اسی میں جئیں اور اسی میں مریں گے البتہ تم دعا کرو کہ اے آسمانوں اور زمین کو عدم سے وجود میں لانے والے اور غائب و حاضر کے جاننے والے تو ایک دن ان تمام اختلافات کا فیصہل فرمائے گا جن میں تیرے بندے اختلاف کر رہے ہیں یعنی ایک ایسا دن تو ضرور لائے گا جس میں تیرے کامل عدل کا ظہور ہوگا۔ چونکہ اسی عدل کامل کے ظہور پر اس دنیا کے باغایت ہونے کا انحصار ہے اور اسی کے ظہور سے خدا کا ایک عادل اور حکیم خدا ہونا ثابت…
Read the full tafseer →46۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کو تہجد کی نماز کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے اللھم رب چبریل ومیکائیل واسرفیل فاطر السموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
15: اس سے مراد وہ من گھڑت دیوتا ہیں جن کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سفارشی سمجھ رکھا تھا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 46
یہ اس فطرت کی پکار ہے جو زمین و آسمان کو دیکھ رہی ہو۔ اور اس کے لیے یہ بات مشکل ہو کہ وہ اللہ کی ذات کے سوا کسی کو الہہ مان سکے جو خالق ارض وسما ہے۔ لہٰذا یہ فطرت اس کی طرف اعتراف اور اقرار کے ساتھ متوجہ ہوتی ہے اور اللہ کی تعریف و تمجید ان صفات کے ساتھ کرتی ہے جو اس کے لائق ہیں یعنی ” اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے “۔
علم الغیب والشھادۃ (39: 46) ” اے حاضر و غائب کو جاننے والے “۔ اے ظاہر و باطن کو جاننے والے۔
انت۔۔۔۔ یختلفون (39: 46) ” تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہتے ہیں “۔ کیونکہ قیامت کے دن تو وہی حاکم ہوگا۔ اور سب نے قیامت میں اسی کے…
Read the full tafseer →2 یعنی جب ایسی موٹی باتوں میں بھی جھگڑے ہونے لگے اور اللہ کا اتنا وقار بھی دلوں میں باقی نہ رکھا تو اب تیرے ہی سے فریاد ہے۔ تو ہی ان جھگڑوں کا عملی فیصلہ فرمائے گا۔
Read the full tafseer →آیت 46 { قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ } ”آپ ﷺ کہیے : اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! غائب اور حاضر کے جاننے والے !“
{ اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ } ”یقینا تو ُ فیصلہ کرے گا اپنے بندوں کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔“
Read the full tafseer →62 مشرکوں کو سمجھانے کے بعد دعا : یعنی جب اتنی موٹی موٹی باتوں میں بھی اختلاف اور جھگڑے ہونے لگیں۔ اللہ کے وقار اور اس کی عظمت کا احساس تک نہ رہے۔ اور ساری وفاداریاں اور نیاز مندیاں اللہ کے بجائے اللہ کے پیاروں کے لئے ہی وقف ہو کر رہ جائیں۔ تو اے اللہ ! اب تجھ سے فریاد ہے اور تیرا ہی حوصلہ ہے جو یہ سب کچھ برداشت کئے جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے۔ اور ان کا فیصلہ قیامت کے دن پر ٹال رکھا ہے۔ جب کوئی شخص حق بات سننے کو تیار نہ ہو اور ناحق جھگڑا کرتا ہو تو ہر شخص کو یہ دعا پڑھنی چاہئے۔ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو سکھائی ہے۔
Read the full tafseer →60۔ الفاظ دعاء کے اندر توحید کی اعلی تعلیم نہایت حکیمانہ انداز سے آگئی ہے، دعاء کا حاصل بس یہی ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش میں کوئی تیرا شریک نہیں، علم غیب میں کوئی تیرا شریک نہیں، قادر وحاکم ہونے میں کوئی تیرا شریک نہیں۔ خالق تو ہے، عالم الغیب تو ہے، مالک روز جزا تو ہے، ہمہ داں، ہمہ بیں تو ہی ہے۔ (آیت) ” فاطر السموت والارض “۔ قدرت کامل میں کوئی تیرا شریک نہیں۔ (آیت) ” علم الغیب والشھادۃ “۔ علم کامل میں کوئی تیرا شریک نہیں۔ (آیت) ” انت ...... یختلفون “۔ فیصلہ روز جزا میں کوئی تیرا شریک نہیں۔ توحید میں غلطی وگمراہی کے عموما یہی تین راستے رہے ہیں۔ آیت نے سب کی تردید کردی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : اللہ ہی قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی ہے انہیں ان کی نیند میں قبض کرلیتا ہے، یعنی ان کو نیند میں قبض کرلیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کیلئے چھوڑ دیتا ہے یعنی ان کی موت کے وقت تک، اور چھوڑی ہوئی روح تمییز ہے جس کے بغیر روح حیات باقی رہ سکتی ہے، اس کا عکس ممکن نہیں یقیناً ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لہٰذا اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جو ذات اس پر قادر ہے وہ بعث (بعد الموت) پر بھی قادر ہے، اور قریش نے اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کیا،…
Read the full tafseer →قل اللھم فاطر السموت والارض علم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادت فی ما
کانوا فیہ یختلفون آپ کہئے : اے اللہ ! اے آسمانوں کے اور زمین کے پیدا کرنے والے ! باطن اور ظاہر کو جاننے والے ! (قیامت کے دن) تو ہی اپنے بندوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔
جب رسول اللہ ﷺ مشرکوں اور کافروں کے معاملہ میں سخت حیران ہوگئے اور ان کی دشمنی اور بدخلقی سے عاجز آگئے تو اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ اسی سے دعا اور التجا کریں کیونکہ وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ‘ تمام احوال سے وہی واقف ہے۔ جو چیز ہم سے غائب ہے یا ہمارے مشاہدہ میں ہے ‘ وہ سب کا عالم ہے۔
اَنْتَ تَحْکُمُ یعنی اہل حق کو فتح یاب کرے گا اور باطل…
Read the full tafseer →آپ اس طرح دعا فرمایے اے اللہ ہمارے ساتھ بھلائی فرمایئے اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے اے ظاہر و باطن کے جاننے والے تو ہی قیامت کے دن اپنے بندوں کے درمیان دین کی ان باتوں کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔
Read the full tafseer →قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ : کفار کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے جو مشقتیں اٹھائیں اور ان کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ کو جو تکلیفیں پہنچیں اور توحید کے واضح دلائل کے سامنے لاجواب ہو کر بھی وہ جس طرح شرک پر ڈٹے رہے، اس پر آپ ﷺ کو تسلی دینے کے لیے حکم دیا گیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور سارا معاملہ اس کے سپرد کریں، کیونکہ وہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے اور مخلوق کے تمام حاضر و غائب احوال کو جاننے والا ہے۔ اس لیے ان اسماء وصفات کے وسیلے سے اس سے دعا کریں کہ جب تیری توحید جیسی روشن اور واضح بات میں بھی جھگڑے ہونے لگے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
46 ۔ 48:۔ فاطر المسوت والارض یہ منصوب ہے کیونکہ یہ منادی ہے اور مضاف ہے اسی طرح علم الغیب بھی ہے۔ سیبویہ کے نزدیک اس کا نعت ہونا جائز نہیں۔
صحیح مسلم میں حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا : نبی کریم ﷺ کسی چیز سے نماز کا آغاز کیا کرتے تھے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا : آپ رات کو اٹھتے تو نماز کا آغاز ان الفاظ سے کرتے اللھم رب جبریل و میکائیل و اسرافیل فاطر السموت والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اے اللہ ! جبریل ‘ میکائیل و اسرافیل کے رب ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ! اے غیب و شہادت کو جاننے والے ! تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
1:۔ مسلم و ابوداؤد و بیہقی (رح) نے الاسماء جو الصفات میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تو اپنی نماز کو ان کلمات سے شروع فرماتے : اے اللہ جبرئیل (علیہ السلام) ، میکائل (علیہ السلام) اور اسرافیل (علیہ السلام) کے رب، پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کو حاضر اور غیب کے جاننے والے اپنے بندوں کے درمیان آپ ہی فیصلہ فرمائیے۔ ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں مجھے ہدایت دیجئے جب میں حق سے اختلاف کروں تیری اجازت سے بلاشبہ آپ ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں سیدھے راستے کی طرف۔
Read the full tafseer →قُلِ [آپ ﷺ کہیے ] اللّٰهُمَّ [اے اللہ ] فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [اے زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والے ] عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ [اے شہادہ اور غیب کے جاننے والے ] اَنْتَ تَحْكُمُ [تو ہی فیصلہ کرے گا ] بَيْنَ عِبَادِكَ [اپنے بندوں کے درمیان ] فِيْ مَا [اس میں ] كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ [یہ لوگ اختلاف کرتے تھے جس میں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
رسول اللہ ﷺ کو ایک خاص دعا کی تلقین، انسان کی بدخلقی اور بدحالی کا تذکرہ
یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں :
(اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) (اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے غیب اور شہادۃ کے جاننے والے آپ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے ان باتوں کے بارے میں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں) رسول اللہ ﷺ کے مخاطبین جو رویہ اختیار کرتے، تکلیف پہنچاتے، اور تکذیب کرتے تھے اس سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی، تسلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–52
تسلی برائے نبی کریم ﷺ بضمن تلقین دعا وبیان بیچارگی عالم پیش قدرت رب کبریاء :۔
قال اللہ تعالیٰ : قل اللھم فاطر السموت والارض ......... الی ......... لقوم یؤمنون “۔
(ربط) گذشتہ آیات مجرمین ومنکرین کی سزا اور قیامت کے روز ان کی ذلت وندامت کے بیان پر مشتمل تھیں اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کو ایک عظیم دعا کی تلقین وتعلیم کے ضمن میں تسلی دی جارہی ہے تاکہ آپ ﷺ کفار کی مخالفت اور شدت عناد سے مغموم ومتأسف نہ ہوں، ارشاد فرمایا : کہہ دیجئے اے ہمارے پیغمبر اپنے پروردگار سے دعا ومناجات کرتے ہوئے اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ظاہر و باطن کے جاننے والے آپ ہی قیامت کے روز اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ…
Read the full tafseer →47:۔ ” قل اللہم الخ “ یہ دوسرا مفصل ثمرہ ہے۔ ” اللہم “ موصوف ” فاطر السموات الخ “ اس کی صفت، مقصود بالنداء آخر میں مقدر ہے۔ مقصود بالنداء کی کوئی تخصیص نہیں البتہ بقرینہ حدیث بعض مفسرین نے اھدنی لما اختلف فیہ من الھق مقدر مان ہے (جلالین، خازن) ۔ ایسے روشن اور قطعی دلائل کے بعد بھی اگر معاندین نہ مانیں تو آپ اللہ سے یوں دعا مانگا کریں کہ اے اللہ ان صفات مذکورہ والے مجھے اس ہدایت پر قائم رکھ اور قیامت کے دن ہمارے اور ان منکرین کے درمیان فیصلہ فرما۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تردید فرمائی ، کچھ دلائل قدرت بیان کیے ہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) پر طعن کرنے والوں کا رد کیا ، پھر فرمایا کہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے لہذا اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے ، پھر آگے تنبیہہ فرمائی کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو میں اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہوں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ صحیح راستے پر کون ہے اور گمراہی میں کون بھٹک رہا ہے نیز یہ بھی کہ دائمی عذاب کس پر مسلط ہوتا ہے اور کون اس سے بچتا ہے پھر قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت پائے گا اس میں…
Read the full tafseer →قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْ مَا كَانُوْا فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ 46
«اللهم»
قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا .
فطر
أصل الفَطْرِ : الشّقُّ طولا،
وفِطْرَةُ اللہ : هي ما رکز فيه من قوّته علی معرفة الإيمان، وهو المشار إليه بقوله : وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ [ الزخرف/ 87] ، وقال : الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ فاطر/ 1]
(ط ر ) الفطر
( ن ض ) اس کے اصل معنی کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل۔ اولو کان الھمزۃ للانکار والوا وللعطف علی محذوف مقدرای یشفعون ولو کانوا الخ و جواب لو محذوف ای وان کانوا بھذہ الصفۃ تتخذونھم۔ جمیعًا حال من الشفاعۃ مصدر یطلق علی الواحد والکثیر ولھذا اصح وقوع الحال بجمیع منہ وحدہ انتصابہ علی الحال عند یونس و علی المصدر عند الخلیل و سیبویہ۔ اشماء زت الاشمز از النفور والانقباض۔ فاطر السمٰوٰت منصوب علی النداء عالم الغیب بدل منہ اوصفۃ للذین خبران ما فی الارضاسمھا جمیعًا حال منہ و مثلہ معطوف علی ماولذا الا نتصب لافتدوا جواب لو۔
تفسیر : بیان سابق کے بعد مشرکین یہ کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو یا وہ کہ جن کے نام کے بت ہیں، خدا اور خالق ومالک…
Read the full tafseer →قُلِ اللّٰھُمَّ فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَاکَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (الزمر : 46)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، حاضروغائب کے جاننے والے تو اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کے باب میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ )
مشرکین کے رویہ کے خلاف آنحضرت ﷺ کی دعا
گزشتہ آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ مشرکین کا رویہ، جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی وحدت اور الوہیت کا ذکر فرماتے یہ ہوگیا تھا کہ وہ اس ذکر سے ہی کبیدہِ خاطر ہوتے اور کڑھنے لگتے۔ چناچہ اس رویئے کے پیش نظر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بیشک مشرک اللہ تعالیٰ کی توحید کے ذکر سے ناراض اور دوسروں کے ذکر پر خوش ہوتے ہیں۔ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس بات کی پرواہ کیے بغیر صرف ایک رب کا ذکر کرنا اور اسی سے مانگنا ہے۔
اے رسول ﷺ اپنے رب سے دعا کیجیے ! الٰہی ! تو ہی زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کرنے والا اور تو ہی ہر چیز کے ظاہر اور باطن کو جاننے والا ہے اور تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ مشرک اللہ کی وحدت کے ذکر پر ناراض اور اپنے معبودوں کے ذکر پر خوش ہوتے ہیں اور اہل توحید سے جھگڑا کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ تمہیں مشرکین کی مخالفت کی…
Read the full tafseer →بارگاہ الٰہی میں مشرکین کے خلاف محاکمہ : آیت، کہہ دیجیے کہ اے اللہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے۔ ای یا فاطر یہ وصف نہیں جیسا مبرد و فراء کہتے ہیں۔ آیت، ظاہر و باطن کے جاننے والے، پوشیدہ اور اعلانیہ کو جاننے والے۔ آیت، آپ ہی فیصلہ فرمائیں گے، آیت، اپنے بندوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ فرمائیں گے جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے، ہدایت اور گمراہی میں سے، ایک قول یہ ہے یہ پیغمبر ﷺ کی طرف سے مشرکین کے متعلق اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محاکمہ ہے۔
قول ربیع بن المسیب۔ یہ آیت ان آیات میں سے ہے جس کے پڑھنے وقت کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے۔ ربیع بن خثیم یہ بہت کم گفتگو کیا کرتا تھا۔ اس کو قتل حسین ؓ کی…
Read the full tafseer →تفسیر 46۔۔۔۔۔۔۔۔ ، قل اللھم فاطرالسموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوافیہ یختلفون، ابو سلمہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اپنی نماز کس چیز سے شروع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ (علیہ السلام) یہ کہتے تھے، اللھم رب جبرئیل ومیکا ئیل اوسرافیل فاطرالسموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوافیہ یختلفون اھدنی لمااختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
45۔ 46۔ مشرکین مکہ جو کہتے تھے کہ ہم نیک لوگوں کی مورتوں کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ وہ نیک لوگ بار گاہ الٰہی میں سفارش کریں گے ان مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں دیا تھا جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ نیک لوگ بجائے سفارش کے ان مشرکوں کے شرک سے اپنی بیزاری ظاہر کریں گے دوسرا جواب اس بات کا ان آیتوں میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی جن آیتوں میں اکیلے اللہ کا نام آئے تو ان آیتوں کو سن کر ان اللہ کے سامنے کھڑے ہونے والے منکروں کے دل میں نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جب ان کے بتوں کا نام آئے تو ان کے دل خوش ہوجاتے ہیں یہ سفارش کی امید کا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ مشرکوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
آیت 45
اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکین کے حال اور ان کے شرک کے تقاضوں کا ذکر کرتا ہے۔ (وذا ذکر اللہ وحدہ) ” جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے “ یعنی جب اس کی توحید کا ذکر کیا جاتا ہے، دین کو صرف اسی کے لئے خالص کر کے عمل کرنے اور اس کے سوا دیگر معبودوں کو چھوڑنے کے لئے کہا جاتا ہے جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، تو وہ منقبض ہوجاتے ہیں، نفرت کرتے ہیں اور شدید ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔ (واذا ذکر الذین من دونہ) اور جب اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں اور خود اسختہ معبودوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور دعوت دینے والا ان کی عبادت اور ان کی مدح کی دعوت دیتا ہے (اذھم یستبشرون) تو وہ اپنے معبودوں کا ذکر سن کر فرحت اور خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →90 ہٹ دھرموں کا معاملہ اللہ کے حوالے : سو اس سے ہٹ دھرموں کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے۔ اور ایک برابر جاننے والے نہاں وعیاں کے۔ تو ہی فیصلہ فرمائے گا اپنے بندوں کے درمیان ان تمام باتوں کے بارے میں جن میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں۔ پس تو ہی اے میرے مالک ! میرے لئے کافی ہوجا اور مجھے راہ حق پر ثابت قدم رکھ۔ جیسا کہ صحیح مسلم اور سنن ابوداؤ وغیرہ میں اسماء وصفات کے ضمن میں ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ سے تفصیلاً مروی ہے۔ سو اس میں پیغمبر کو یہ تلقین فرمائی گئی ہے کہ آپ ان ہٹ دھرم لوگوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–52
اللہ کی کچھ اور قدرتیں
تشریح : یہ باتیں اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول کی زبان سے بار بار لوگوں کو سناتا ہے اور قرآن کے ذریعہ سے بار بار ہماری آنکھوں کے سامنے لاتا ہے کہ اللہ سب سے بڑا ہے قدرت والا ہے۔ اس کے برابر کوئی نہیں ہوسکتا یہ کوئی غلط یا انہونی بات نہیں کیونکہ ہم خود اور ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ اس کو بنانے والا ایک ہی ہے ورنہ یہ نظم و ضبط جو کائنات کے کارخانے میں موجود ہے کبھی ایک سا نہ رہتا۔ وہ کیونکہ عالم الغیب ہے اور رحمن و رحیم ہے اس لیے بار بار بتا رہا ہے کہ نیکی کی راہیں اختیار کرو، شیطان کو دوست مت بناؤ کیونکہ نیکی کا راستہ جنت کو اور شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 42 ۔ تا۔ 52:
اسرار و معارف :
یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جس کی موت آتی ہے اللہ ہی اس کی روح قبض فرما لیتا ہے یعنی اس کا تعلق بدن اور اس میں تصرفات سے اللہ کے حکم سے توڑ دیا جاتا ہے اور جس کی موت نہیں آتی اس کے لیے نیند کی حالت کو سمجھنا ہی کافی ہے کہ اس میں بھی روح بدن میں تصرفات سے روک دی جاتی ہے ہاں اس کا ایک گونہ تعلق باقی رکھا جاتا ہے پھر جس کا وقت پورا ہوچکا ہو اسے بدن میں واپسی سے روک دیا جاتا ہے اور جن کا ابھی وقت باقی ہے انہیں اس خاص مدت تک لوٹا دیا جاتا ہے یعنی انسان کا عجز اور اللہ کے دست قدرت کی گرفت میں ہونا نیند اور موت سے واجح ہے اور یہ بہت بڑی دلیل ہے…
Read the full tafseer →ف 12 یہ دعا ہے جو گویا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ایسے موقع پر پڑھنے کے لئے سکھائی ہے جب لوگ حق بات سنیں اور ناحق جھگڑے کئے جائیں۔ بہت سی احادیث میں اس مضمون کی ادعیہ مذکور ہیں۔ ( شوکانی)
Read the full tafseer →(39:46) قل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ یہ امر دعا کے لئے ہے جیسا کہ اگلی عبارت سے ظاہر ہے۔
اللّٰہم۔ اے اللہ۔ یا اللہ۔
فاطر السموت۔ علم الغیب۔ میں فاطر اور علم منادی ہیں اور اضافت کی وجہ سے منصوب ہیں۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ۔ اور اے غیب و شہادت کے جاننے والے۔
تحکم۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو حکم کرے گا، تو فیصلہ کرے گا۔ یہاں آخریہ معنی مراد ہیں اسی معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل (4:58) اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو۔ آیت ہذا میں انت تحکم بمعنی انت وحدک تقدر ان تحکم (واحد تو ہی فیصلہ کی طاقت رکھتا ہے) آیا ہے۔
ما کانوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 46 : شفعائ ( شفیع) (سفارش کرنے والے ، شفاعت کرنے والے) اشمازت (وہ کڑھنے اور جلنے لگے) فاطر ( پیدا کرنے والا) تحکم (تو فیصلہ کرے گا) تحکم ( تو فیصلہ کرے گا) عباد (بندے)
تشریح : آیت نمبر 43 تا 46 :۔
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرما دیا ہے کہ زندگی اور موت یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی زندگی دیتا ہے اور نہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو موت آتی ہے۔ کفار و مشرکین بھی اس بات کو سمجھتے تھے مگر زبان سے نہیں کہتے تھے بلکہ اپنے بےحقیقت بتوں کے متعلق ان کا گمان یہ تھا کہ وہ کل قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے اللہ کے عذاب سے انہیں بچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
شرک کابیان۔
(ف 1) نبی ﷺ کے پاس کچھ مشرک لوگ آئے اور کہنے لگے کہ جس دین کی آپ ہم لوگوں کو رغبت دلاتے ہیں اور وہ دین تو اچھا ہے لیکن ہم نے بڑے بڑے گناہ کیے ہیں اگر اس کی پکڑ نہ ہو تو ہم کو اس دین کے قبول کرنے میں کچھ عذر نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اللہ تعالیٰ کی غفور رحیم کی صفت کے آگے کسی گناہ کی اگرچہ حقیقت نہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ شرک بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوسکتا، اس لیے ہر مشرک کو عذاب کے آجانے کے بےبسی سے پہلے شرک کو چھوڑنا اور اس سے آئندہ کے لیے توبہ کرنی چاہیے اور شرک کے علاوہ گناہوں کی معافی بغیر توبہ کے بھی اللہ کی ذات سے رکھنی چاہیے ہاں جو مشرک شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
[31] یہ شرک و سفارش کے وجود میں آنے کے ایک بہت بڑے سبب کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ آخرت اللہ تعالیٰ کے عدل کامل اور جزاوسزا کے ظہور کا دن ہے اور اس کے ماننے سے انسان پر نہایت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس وجہ سے جو لوگ ان ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ شرک و سفارش کی آڑ لیتے ہیں۔ وہ ایمان و عمل کے تقاضے پورے کرنے کا نہ حوصلہ رکھتے ہیں نہ اپنے نفس کی خواہشوں پر کوئی پابندی ہی قبول کرنے کو تیار ہیں، لہذا اول تو وہ آخرت کو مانتے ہی نہیں اور اگر مانتے بھی ہیں تو شرک و سفارش کا عقیدہ ایجاد کر کے آخرت کے تمام
خطرات سے اپنے زعم کے مطابق وہ اپنے آپ کو محفوظ کرلیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اگر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
اللہ کے نام سے چِڑ
2: اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ مشرکین کو توحید سے کس درجہ نفرت ہے اور بتوں سے کس حد تک محبت ہے ۔ ان کے سامنے جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اور وحدیت کے معارف عالیہ سے ان کو بہرہ مند کیا جاتا ہے ۔ اور بتلایا جاتا ہے ۔ کہ اسی کا آستانہ جلال و عظمت اس قابل ہے ۔ کہ انسان اس کے سامنے جھکے ۔ تو ان کے دلوں میں انقباض پیدا ہوجاتا ہے ۔ اور بشرے سے سخت بیزاری ٹپکنے لگتی ہے ۔ تو چاہیے یہ تھا کہ اللہ کا نام ان کے لئے وجہ تسکین ہوتا ۔ جب ان کا نام لیا جاتا ۔ تو ان کے قلوب میں روشنی اور شگفتگی پیدا ہوجاتی ۔ مگر یہاں فطرت مسخ ہوچکی ہے ۔ یہ لوگ اللہ کے نام سے منقبض ہوتے ہیں ۔ اور جب…
Read the full tafseer →(46) اے پیغمبر آپ یوں دعا کیجئے اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے چھپے اور کھلے کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔ یعنی آپ ان بدکرداروں کی مخالفت اور سرکشی کی فکر نہ کیجئے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا کیجئے کیونکہ حقیقی اور عملی فیصلہ ان سب باتوں کا اسی کے سامنے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
ف 3۔ یعنی آپ ان مکابرین کی فکر میں نہ پڑیئے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے وہ عملی فیصلہ کردیں گے۔
Read the full tafseer →اللہ ہی ان کے درمیان فیسلہ کرے گا جس میں یہ لوگ اختلاف کرتے ہیں
46۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ خود اپنے پیارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو دعا سکھا رہے ہیں کہ مشرکوں کی کارستانیوں کو دیکھ کر جب دل تنگ ہوجائیں اور ان کو سمجھا سمجھا کر تھک جائیں تو اپنے رب ذوالجلال والاکرام سے اس طرح دعا کیا کریں ” اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ، پوشیدہ اور حاضر کے جاننے والے تو اپنے بندوں کی ان باتوں میں جن میں یہ جھگڑتے ہیں فیصلہ فرما دے “ کہ تیرے سوا کسی اور سے یہ فیصلہ ممکن نہیں کیونکہ ان کو ہزار بار کوئی سمجھائے لیکن یہ سمجھ ہی نہیں سکتے اس لیے کہ ان کا اختلاف ایسا نہیں جو کسی دلیل پر مبنی ہو…
Read the full tafseer →In verse 46, it was said: قُلِ اللَّـهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (Say, "0 Allah, Creator of the heavens and the earth...). According to a narration of Sayyidna ` Abd-ur-Rahman Ibn ` Awf ؓ appearing in Sahih Muslim, he says, "I asked Sayyidah ` A'ishah ؓ L as to what it was from which the Holy Prophet ﷺ began his nightly prayer (tahajjud)? She said, 'When he rose for the salah of tahajjud, he used to recite this prayer:
اَللَّھُمَّ رَبَّ جِبرِیلَ وَ میکَایٔیلَ وَ اِسرَافِیلَ ، فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ عالِمَ الغَیبِ وَ الشَّھَادَۃِ اَنتِ تَحکُمُ بَینَ عِبَادِکَ فِیمَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
64 This evil is common to almost all polytheistic people of the world, and even some unfortunate Muslims also suffer from it, They profess with the tongue that they believe in Allah, but when One Allah alone is mentioned before them, their faces arc distorted, and they say, "This man certainly does not believe in the saints and holy men; that is why he talks of Allah and Allah alone. " And if others besides Allah arc mentioned, they are delighted, and their faces brighten up with joy. Their this attitude shows as to who is the actual object of their love and esteem. 'Allama Alusi, in his…
Read the full tafseer →