Explained with ayahs 43–45
مشرکین کی مذمت۔
اللہ تعالیٰ مشرکوں کی مذمت بیان فرماتا ہے کہ وہ بتوں اور معبودان باطلہ کو اپنا سفارشی اور شفیع سمجھتے ہیں، اس کی نہ کوئی دلیل ہے نہ حجت اور دراصل انہیں نہ کچھ اختیار ہے نہ عقل و شعور۔ نہ ان کی آنکھیں نہ ان کے کان، وہ تو پتھر اور جمادات ہیں جو حیوانوں میں درجہا بدتر ہیں۔ اس لئے اپنے نبی کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دو ، کوئی نہیں جو اللہ کے سامنے لب ہلا سکے آواز اٹھا سکے جب تک کہ اس کی مرضی نہ پالے اور اجازت حاصل نہ کرلے، ساری شفاعتوں کا مالک وہی ہے۔ زمین و آسمان کا بادشاہ تنہا وہی ہے۔ قیامت کے دن تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اس شفاعتوں کا مالک وہی ہے۔ زمین و آسمان کا بادشاہ…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 63
یعنی کسی کا یہ زور نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں خود سفارشی بن کر اٹھ ہی سکے، کجا کہ اپنی سفارش منوا لینے کی طاقت بھی اس میں ہو۔ یہ بات تو بالکل اللہ کے اختیار میں ہے کہ جسے چاہے سفارش کی اجازت دے اور جسے چاہے نہ دے۔ اور جس کے حق میں چاہے کسی کو سفارش کرنے دے اور جس کے حق میں چاہے نہ کرنے دے۔ (شفاعت کے اسلامی عقیدے اور مشرکانہ عقیدے کا فرق سمجھنے کے لیے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں تفہیم القرآن جلد اوّل، ص 194۔ 543۔ جلد دوم۔ صفحات 262۔ 275۔ 276۔ 356۔ 368۔ 449۔ 556۔ 557۔ 562۔ جلد سوم، صفحات 126۔ 127۔ 155۔ 156۔ 252۔ جلد چہارم، السّبا، حاشیہ 40)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
خلاصہ تفسیر
اللہ ہی قبض (یعنی معطل) کرتا ہے ان جانوں کو (جن کا وقت موت آ گیا ہے) ان کی موت کے وقت (مکمل طور پر کہ زندگی بالکل ختم ہوجائے) اور ان جانوں کو بھی جن کو موت نہیں آئی ان کے سونے کے وقت (یہ تعطل بالکلیہ نہیں ہوتا ایک حیثیت حیات کی باقی رہ جاتی ہے مگر ادراک نہیں رہتا اور موت کی صورت میں نہ ادراک رہتا ہے نہ حیات) پھر (اس معطل کرنے کے بعد) ان جانوں کو تو (بدن کی طرف عود کرنے سے) روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم فرما چکا ہے اور باقی جانوں کو (جو نیند کی وجہ سے معطل ہوگئی تھیں اور ابھی ان کی موت کا وقت نہیں آیا) ایک میعاد معین (یعنی مدت) تک کیلئے آزاد کردیتا ہے (کہ پھر واپس جا کر بدن میں…
Read the full tafseer →(آیت 44)
شفاعت کے باب میں قیود و شرائط
فرمایا کہ ان نادانوں کو بتا دو کہ شفاعت تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے اس کے حضور میں کوئی اس کے ازن کے بددن کسی کی سفارش کی جرأت نہیں کر سے گا اذن کے بعد جو زبان کھولے گا وہ صرف اس کے لئے زبان کھولے گا جس کے لئے اس کو اجازت دی گئی ہے۔ پھر وہ وہی بات کہے گا جو بالکل حق ہوگی خدا کے آگے کوئی غلط بات کہنے کی کسی کے لئے گنجائش نہیں ہوگی۔ سفارش کے لئے یہ تمام قیدیں اور شرطیں نہایت تفصیل سے خود قرآن میں بیان ہوئی ہیں اور ان کی وضاحت ان کے محل میں ہم کرتے آ رے ہیں۔ وہی حقیقت جامع الفاظ میں یہاں فرمائی گی ہے کہ شفاعت تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے جو لوگ یہ…
Read the full tafseer →44۔ 1 یعنی شفاعت کی تمام اقسام کا مالک صرف اللہ ہی ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش ہی نہیں کرسکے گا، پھر صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کیوں نہ کی جائے تاکہ وہ راضی ہوجائے اور شفاعت کے لئے کوئی سہارا ڈھونڈھنے کی ضرورت ہی نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
15: اس سے مراد وہ من گھڑت دیوتا ہیں جن کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سفارشی سمجھ رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
آیت نمبر 41 تا 44
انآ انزلنا علیک الکتٰب للناس بالحق (39: 41) ” ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کی ہے “۔ اس کتاب کی ماہیت سچائی ہے۔ یہ جو طرز زندگی اور منہاج حیات انسان کو عطا کرتی ہے ، وہ برحق ہے۔ اس کا قانون برحق ہے اور یہی وہ سچائی ہے جس سے زمین و آسمان قائم ہیں اور وہ نظام جو اس کتاب نے انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اور وہ ضابطہ جو اللہ نے اس کائنات کے چلانے کے لیے وضع کیا ، دونوں حق ہیں اور باہم ہم آہنگ اور متوافق ہیں۔ یہ سچائی لوگوں کے لیے نازل کی ہے کہ لوگ اس سے ہدایات لے اس کے مطابق زندگی بسر کریں اور آپ اس حق کے مبلغ ہیں۔ اور یہ فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ اپنے لیے راہ…
Read the full tafseer →7 یعنی فی الحال بھی زمین و آسمان میں اس کی سلطنت ہے اور آئندہ بھی اس کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے تو اس کی اجازت و خوشنودی کے بغیر کس کی مجال ہے جو زبان ہلا سکے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ یعنی " اللہ کے روبرو سفارش ہے پر اللہ کے حکم سے، نہ تمہارے کہے سے جب موت آئے کسی کے کہے سے عزرائیل نہیں چھوڑتا۔ "
Read the full tafseer →آیت 44 { قُلْ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا } ”آپ ﷺ کہیے کہ شفاعت ُ کل کی کل اللہ کے اختیار میں ہے۔“
قیامت کے دن جو کوئی بھی کسی کی شفاعت کرے گا تو وہ اللہ کی اجازت سے ہی کرے گا ‘ اور پھر کسی شفاعت کا قبول کرنا یا نہ کرنا بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کوئی بات اللہ سے منوا لے۔
{ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ } ”آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے لیے ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹا دیے جائو گے۔“
Read the full tafseer →60 سفارش سے متعلق جملہ اختیارات اللہ کو ہیں :۔ اس آیت میں سفارش کا ضابطہ واضح فرما دیا کہ سفارش کے جملہ اختیارات تو اللہ کو ہیں اور سفارش تو وہ کرسکے گا جسے اللہ اجازت دے گا۔ اب کیا تمہیں معلوم ہے کہ جن بتوں کو یا ان کی روحوں کو یا بزرگوں کو تم نے شفیع بنا رکھا ہے یا سمجھ رکھا ہے انہیں سفارش کی اجازت بھی دے گا یا نہیں ؟ سفارش کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ سفارش اسی کے حق میں قبول ہوگی جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو۔ کیا تم بتاسکتے ہو کہ اللہ تمہارے حق میں سفارش کی کسی کو اجازت دے دے گا ؟ گویا جس سفارش پر تم بھروسہ کئے بیٹھے ہو اس کا خیال دل سے نکال دو ۔ یعنی اگر سفارش کرنے والا اپنی مرضی سے…
Read the full tafseer →58۔ یعنی اس وقت بھی کائنات کے طول وعرض میں حکومت اسی اللہ کی ہے اور آخرت میں بھی فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہوگا۔ (آیت) ” قل ...... جمیعا “۔ مشرک قوموں نے تو علی العموم اور اہل کتاب میں سے مسیحیوں نے شفاعت کو بھی ایک شعبہ الوہیت کا قرار دے کر شافع کو مستقلا ایک قادر و متصرف ہستی سمجھ لیا ہے۔ اور عملا اسی سے اپنا تعلق جوڑے رکھنا کافی سمجھتے ہیں جس کے بعد خالق کائنات سے تعلق قائم رکھنے کی بھی چنداں ضرورت نہیں، شفاعت اس معنی میں اور اس مفہوم کے ساتھ ایک تمامتر مشرکانہ عقیدہ ہے، اور قرآن مجید نے اس معنی میں کسی غیر اللہ کے شافع ہونے سے تمامتر انکار کیا ہے اور بتایا ہے کہ اختیار و تصرف یکسر حق تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
آیت نمبر 42 تا 52
ترجمہ : اللہ ہی قبض کرتا ہے روحوں کو ان کی موت کے وقت اور جن کی موت نہیں آتی ہے انہیں ان کی نیند میں قبض کرلیتا ہے، یعنی ان کو نیند میں قبض کرلیتا ہے، پھر جن پر موت کا حکم لگ چکا ہے انہیں تو روک لیتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقرر وقت تک کیلئے چھوڑ دیتا ہے یعنی ان کی موت کے وقت تک، اور چھوڑی ہوئی روح تمییز ہے جس کے بغیر روح حیات باقی رہ سکتی ہے، اس کا عکس ممکن نہیں یقیناً ان مذکورہ باتوں میں غور و فکر کرنے والے لوگوں کے لئے بہت سی نشانیاں ہیں لہٰذا اس بات کو سمجھ لیں گے کہ جو ذات اس پر قادر ہے وہ بعث (بعد الموت) پر بھی قادر ہے، اور قریش نے اس معاملہ میں غور و فکر نہیں کیا،…
Read the full tafseer →قل اللہ الشفاعۃ جمیعا آپ کہہ دیجئے کہ سفارش تو تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ یعنی کوئی بھی کسی امر میں اسکی اجازت اور رضامندی کے بغیر سفارش کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔
لہ ملک السموت والارض ثم الیہ ترجعون تمام آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اسی کی ہے اور اسی کے پاس تم لوٹا کرلے جائے جاؤ گے۔ یعنی قیامت کے دن اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے ‘ اس وقت بھی اسی کی حکومت ہوگی۔
Read the full tafseer →آپ فرما دیجیے کہ آخرت میں تمام تر سفارش اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے اور بارش اور نباتات سب کے خزانوں پر اسی کی حکمرانی ہے اور آخرت میں تم سب اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيْعًا ۭ۔۔ : لفظ ”للہ“ پہلے آنے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا۔ یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ سفارش کی تمام صورتوں کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کر ہی نہیں سکتا، اس لیے اسی کو پکارنا چاہیے، کیونکہ وہ اجازت دے گا تو کوئی سفارش کرے گا۔ سفارش ہی نہیں آسمان و زمین کی بادشاہی اسی کی ہے، کسی اور کا دخل نہ سفارش میں ہے نہ بادشاہی میں، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی اللہ کے روبرو سفارش ہے، پر اللہ کے حکم سے، نہ کہ تمہارے کہے سے، جب موت آئے کسی کے کہے سے عزرائیل نہیں چھوڑتا۔“ (موضح) (یاد رہے ! ملک الموت کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–45
43 ۔ 45:۔ ام اتخذوا من دون اللہ شفعا بلکہ انہوں نے اپنے بتوں کو شفیع بنا لیا ہے۔ کلام میں ایسی چیز ہے جو لم کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے تقدیر کلام یوں ہے لم یتفکروا لیکن انہوں نے اپنے معبودوں کو شفیع بنا لیا ہے۔ قل او لو کانو لا یملکون شیئا اے اے محمد ! انہیں کہو کیا تم انہیں شفیع بناتے ہو اگرچہ یہ شفاعت میں سے کسی چیز کے مالک نہیں اور نہ ہی یہ عقل رکھتے ہیں کیونکہ یہ جمادات ہیں ‘ یہ استفہام انکاری ہے۔ قل للہ الشفاعۃ جمیعا یہ اس میں بیان ہے کہ شفاعت صرف اللہ وحدہ لا شریک کے لئے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ) البقرہ (255: یعنی اس کی شفاعت کے بغیر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام اتخذوا من دون اللہ شفعآء “ (کیا انہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو سفارش کرنے والا بنا دیا ہے) یعنی شفعاء سے مراد ہے معبود باطلہ۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) ابن المنذر و بیہقی (رح) نے البعث والنشور میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل للہ الشفاعۃ جمیعا “ (فرما دیجئے ساری سفارش اللہ کے لئے ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی سفارش نہیں کرسکتا مگر اس کی اجازت سے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذا ذکر اللہ وحدہ اشمازت “ (اور جب تنہا اللہ کا ذکر کیا…
Read the full tafseer →قُلْ لِّلّٰهِ [آپ ﷺ کہیے اللہ ہی کی ہے ] الشَّفَاعَةُ [کل سفارش ] جَمِيْعًا ۭ [ساری کی ساری ] لَهٗ [اس کی ہے ] مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [زمین اور آسمانوں کی بادشاہت ] ثُمَّ اِلَيْهِ [پھر اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ سفارش کے بارے میں ہر طرح کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے وہ جسے چاہے گا اور جس کے لیے چاہے گا سفارش کرنے کی اجازت دے گا، اس کے یہاں مشرک اور کافر کی بخشش نہیں۔ اس لیے جو بندے اس کے نزدیک شفاعت کرنے کے اہل ہیں انبیاء کرام اور ملائکہ عظام انہیں کافروں اور مشرکوں کی سفارش کرنے کی اجازت نہ دی جائے گی لہٰذا شرک و کفر میں مبتلا رہنا اور اپنے معبودوں کی سفارش کا بخشش کے لیے سہارا لینا یہ سراپا جہالت اور حماقت اور گمراہی ہے، اس بیان سے مشرکین کے اس سوال کا جواب بھی واضح ہوگیا ہے کہ ہم نے تو فرشتوں کو اور بعض پیغمبروں کو بھی الوہیت میں شریک کر رکھا ہے وہ تو شفاعت کے اہل ہیں اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
بیان قدرت خداوندی و اثبات حشروتنبیہ برشناعت مشرکین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا ....... الی ....... اذا ھم یستبشرون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے منکرین کی رد میں اپنی قدرت کاملہ کا ذکر فرمایا تھا اور اس سے غرض نبی کریم ﷺ کو تسلی دینی تھی، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا تھا کہ قیامت کے روز مجرمین کا انجام خود ان کی نظروں کے سامنے آجائے گا اب ان آیات میں قیامت اور قیامت کے روز انسانوں کی حق تعالیٰ شانہ کے سامنے پیشی کا ایک منظر بیان کیا جارہا ہے اور یہ منظر ایسی ایک حالت ہے جو ہر روز وشب ہر انسان پر واقع ہوتی ہے وہ انسان کا سونا جو بمنزلہ موت ہے اور بیدار ہونا جو…
Read the full tafseer →45:۔ ” قل للہ الخ “ یہ مشرکین کے زعم باطل کا جواب ہے کہ مشرکین کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے مزعومہ معبودوں کو عند اللہ شفیع غالب مانیں۔ شفاعت تو اللہ کے ساتھ مختص ہے وہ جسے چاہے اور جس کے حق میں چاہے سفارش کرنے کی اجازت دے۔ شفاعت کی اجازت صرف انبیاء (علیہم السلام) اور صلحائے امت کو ملے گی۔ اور وہ بھی صرف ان لوگوں کے حق میں جنہوں نے اپنی زندگی میں شرک نہیں کیا اور اگر کیا ہے تو مرنے سے پہلے توبہ کرلی ہے۔ ” لہ ملک السموات الخ “ ساری کائنات کی حکومت و سلطنت اللہ کے لیے ہے اور وہ اپنی مرضی اور اختیار سے اس میں تصرف کرتا ہے اس لیے اس کی بارگاہ میں کوئی شفیع قاہر نہیں۔ آخرت میں بھی سب اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تردید فرمائی ، کچھ دلائل قدرت بیان کیے ہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) پر طعن کرنے والوں کا رد کیا ، پھر فرمایا کہ نفع ونقصان کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے لہذا اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے ، پھر آگے تنبیہہ فرمائی کہ تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو میں اپنے مشن کی تکمیل میں مصروف ہوں تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ صحیح راستے پر کون ہے اور گمراہی میں کون بھٹک رہا ہے نیز یہ بھی کہ دائمی عذاب کس پر مسلط ہوتا ہے اور کون اس سے بچتا ہے پھر قرآن پاک کی ہدایت اور راہنمائی کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو نازل فرمایا ہے جو اس سے ہدایت پائے گا اس میں…
Read the full tafseer →قُلْ لِّلہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِيْعًا 0 ۭ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0 ۭ ثُمَّ اِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ 44
شَّفَاعَةُ
: الانضمام إلى آخر ناصرا له وسائلا عنه، وأكثر ما يستعمل في انضمام من هو أعلی حرمة ومرتبة إلى من هو أدنی. ومنه : الشَّفَاعَةُ في القیامة . قال تعالی: لا يَمْلِكُونَ الشَّفاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمنِ عَهْداً
[ مریم/ 87] ، لا تَنْفَعُ الشَّفاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمنُ [ طه/ 109] ، لا تُغْنِي شَفاعَتُهُمْ شَيْئاً [ النجم/ 26] ، وَلا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضى[ الأنبیاء/ 28] ، فَما تَنْفَعُهُمْ شَفاعَةُ الشَّافِعِينَ [ المدثر/ 48] ، أي :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
ترکیب : ام منقطعۃ بمعنی بل۔ اولو کان الھمزۃ للانکار والوا وللعطف علی محذوف مقدرای یشفعون ولو کانوا الخ و جواب لو محذوف ای وان کانوا بھذہ الصفۃ تتخذونھم۔ جمیعًا حال من الشفاعۃ مصدر یطلق علی الواحد والکثیر ولھذا اصح وقوع الحال بجمیع منہ وحدہ انتصابہ علی الحال عند یونس و علی المصدر عند الخلیل و سیبویہ۔ اشماء زت الاشمز از النفور والانقباض۔ فاطر السمٰوٰت منصوب علی النداء عالم الغیب بدل منہ اوصفۃ للذین خبران ما فی الارضاسمھا جمیعًا حال منہ و مثلہ معطوف علی ماولذا الا نتصب لافتدوا جواب لو۔
تفسیر : بیان سابق کے بعد مشرکین یہ کہتے تھے کہ ہم ان بتوں کو یا وہ کہ جن کے نام کے بت ہیں، خدا اور خالق ومالک…
Read the full tafseer →قُلْ لِّـلّٰـہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا ط لَـہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (الزمر : 44)
(کہہ دیجیے کہ شفاعت تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے، آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ )
شفاعتِ حق کی وضاحت
آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ انھوں نے شفاعت کا جو غلط عقیدہ اختیار کر رکھا ہے اس کا سبب دراصل یہ ہے کہ انھوں نے اپنے طور پر یہ گمان کرلیا ہے کہ بعض ہستیاں اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت مقبول اور زورآور ہیں۔ اس تصور کی بنیاد پر انھوں نے شفاعت کی امیدیں ان سے وابستہ کرلیں اور اپنی قربانیوں اور مختلف اعمال سے وہ ان نام نہاد ہستیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
فہم القرآن
ربط کلام : جو سونے کے بعد اٹھنے پر اختیار نہیں رکھتے وہ رب ذوالجلال کے سامنے اپنی مرضی سے سفارش کس طرح کرسکتے ہیں ؟
اس آیۃ مبارکہ سے چار آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ کفار اور مشر کین سے پوچھو کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ان کا جواب یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین و آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ جب زمین و آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس میں سے کوئی چیز بھی اللہ کے سوا کسی نے پیدا نہیں کی تو پھر تم کس بنیاد پر یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں کو اپنی خدائی میں کچھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ جس بنیاد پر بزرگ سفارش کریں گے اور وہ مسترد نہ ہو…
Read the full tafseer →قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيْعًا (کہہ دیجیے سفارش تو تمام تر اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے)
نحو : جمیعا حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (تمام آسمانوں و زمین کی سلطنت اسی ہی کی ہے) یہ للہ الشفاعۃ کو اور پختہ کرنے کیلئے لایا گیا۔ کیونکہ جب بادشاہی ہر چیز پر اسی ہی کی ہے۔ اور شفاعت بھی ملک سے ہے۔ تو شفاعت کا مالک وہی ہوا۔ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ (پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے) یہ ماقبل سے متصل ہے مطلب یہ ہوا۔ آسمان و زمین کا مالک آج کے دن وہی ہے۔ پھر تم قیامت کے دن اسی کی بارگاہ میں لوٹائے جاؤ گے۔ پس اس دن بادشاہی اسی ہی کیلئے ہوگی جو دنیا وآخرت کا مالک ہے۔
Read the full tafseer →44، قل للہالشفاعۃ جمیعا، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اسکی اجازت کے بغیر کوئی سفارش نہ کرسکے گا۔ ، لہ ملک السموات والارض ثم الیہ ترجعون،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
43۔ 44۔ صحیح بخاری 1 ؎ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت اوپر گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں بعضے نیک لوگ جب مرگئے اور ان کے مرجانے کا قوم کے لوگوں کو رنج ہوا تو پہلے پہل شیطان نے قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی صورتوں کے بت بنا کر آنکھوں کے سامنے رکھ لئے جائیں تو ان نیک لوگوں کے آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا رنج کچھ کم ہوجائے گا پھر ان لوگوں کی نسل میں رفتہ رفتہ اس وسوسہ شیطانی نے ان بتوں کی پوجا اس وسوسہ سے پھیلا دی کہ جو کوئی نیک لوگوں کی مورتوں کو پوجے گا تو یہ نیک لوگ بارگاہ الٰہی میں اس کی شفاعت کریں گے غرض اس وسوسہ شیطانی کا جو اثر قدیم سے بت پرستوں میں چلا…
Read the full tafseer →آیت 44
اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر سخت نکیر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو سفارشی بناتے ہیں، ان کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں، ان سے مانگتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ (قل) ان کی جہالت اور ان کے خود اسختہ معبودوں کے عبادت کے مستحق نہ ہونے کو واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے : (اولو کانوا) ” خواہ وہ “ یعنی جن کو تم نے اپنا سفارشی بنا رکھا ہے (لایملکون شیآء) زمین اور آسمان میں چھوٹی یا بڑی، کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہ ہوں بلکہ (ولا یعقلون) ان میں عقل ہی نہیں کہ وہ مدح کے مستحق ہوں کیونکہ یہ جمادات، پتھر، درخت بت یا مرے ہوئے لوگ ہیں۔ کیا اس شخص میں بس نے اپن کو اپنا معبود بنایا ہے، کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
84 زندگی اور موت اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کی زندگی اور اس کی موت اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی روحیں قبض کرتا ہے سب جانداروں کی ان کی موت کے وقت "۔ ہر جاندار اور ہر انسان کی۔ جب چاہے اور جیسے چاہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو تمہاری موت اے انسانو ! کسی بھی وقت کسی بھی طرح اور کسی بھی جگہ آسکتی ہے۔ سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، گھر میں، گھر سے باہر، سفر میں، حضر میں، زمین پر، فضا میں، بحر میں، بر میں، دن کے وقت، رات کے وقت۔ کسی بیماری یا اندورنی خرابی سے یا کسی بیرونی حادثے سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
حیات بعد الموت کی دلیل
تشریح : طبی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو نیند کا نظام جو اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے بلکہ تمام جانداروں کیلئے بنا رکھا ہے یہ جسم کیلئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح ہوا، خوارک، پانی اور روشنی جانداروں کی بقا کیلئے ضروری ہے۔ نیند کے بارے میں بڑی تفصیل سے لکھا جا چکا ہے اب مختصراً عرض یہ ہے کہ جسم کے تمام اعضاء کو کچھ دیر کیلئے اس قدر سکون چاہیے ہوتا ہے کہ جس قدر سکون موت میں مل جاتا ہے۔ کیونکہ نیند میں روح کافی حد تک جسم سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ مگر اس کا رابطہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور معجزانہ نظام سے یوں رکھتا ہے کہ جو نہی جسمانی اعضاء کی تھکن دور ہوجاتی ہے، روح دوبارہ جانداروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–52
رکوع نمبر 5 ۔ آیات 42 ۔ تا۔ 52:
اسرار و معارف :
یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں کہ جس کی موت آتی ہے اللہ ہی اس کی روح قبض فرما لیتا ہے یعنی اس کا تعلق بدن اور اس میں تصرفات سے اللہ کے حکم سے توڑ دیا جاتا ہے اور جس کی موت نہیں آتی اس کے لیے نیند کی حالت کو سمجھنا ہی کافی ہے کہ اس میں بھی روح بدن میں تصرفات سے روک دی جاتی ہے ہاں اس کا ایک گونہ تعلق باقی رکھا جاتا ہے پھر جس کا وقت پورا ہوچکا ہو اسے بدن میں واپسی سے روک دیا جاتا ہے اور جن کا ابھی وقت باقی ہے انہیں اس خاص مدت تک لوٹا دیا جاتا ہے یعنی انسان کا عجز اور اللہ کے دست قدرت کی گرفت میں ہونا نیند اور موت سے واجح ہے اور یہ بہت بڑی دلیل ہے…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی کسی کو کسی کے لئے اس کے اذن کے بغیر سفارش کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ( دیکھئے بقرہ : 255، انبیاء : 28)10 نہ کہ کسی اور کی طرف۔
Read the full tafseer →(39:44) قل للّٰہ الشفاعۃ جمیعا۔ فرما دیجئے ان کو کہ سفارش تمام تر تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے یہ علت ہے لا یملکون کی۔ یعنی جب تمام تر سفارش اللہ ہی کے اختیار میں ہے تو ان کو اس بابت اختیار کہاں سے آیا۔ لہ ملک السموت والارض۔ یہ استیناف تعلیلی ہے ایک دوسری علت یا وجہ کہ کیوں سب سفارش صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے یہ اس لئے کہ ارض و سماوات کا کلی مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر کسی دوسرے کے اختیار میں کیا رہا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
لغات القرآن آیت نمبر 43 تا 46 : شفعائ ( شفیع) (سفارش کرنے والے ، شفاعت کرنے والے) اشمازت (وہ کڑھنے اور جلنے لگے) فاطر ( پیدا کرنے والا) تحکم (تو فیصلہ کرے گا) تحکم ( تو فیصلہ کرے گا) عباد (بندے)
تشریح : آیت نمبر 43 تا 46 :۔
اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نہایت وضاحت سے ارشاد فرما دیا ہے کہ زندگی اور موت یہ سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی زندگی دیتا ہے اور نہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو موت آتی ہے۔ کفار و مشرکین بھی اس بات کو سمجھتے تھے مگر زبان سے نہیں کہتے تھے بلکہ اپنے بےحقیقت بتوں کے متعلق ان کا گمان یہ تھا کہ وہ کل قیامت کے دن ان کی سفارش کر کے اللہ کے عذاب سے انہیں بچا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
(ف 1) مشرکین بتوں کی نسبت دعوی رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں ان کے سفارشی ہیں ان ہی کی سفارش سے کام بنتے ہیں، اسی لیے ان کی عبادت کی جاتی ہے سواول تو شفیع ہونے سے معبود لازم نہیں آتا، دوسرے شفیع بھی وہ بن سکتا ہے جسے اللہ کی طرف سے شفاعت کی اجازت ہو، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے شفاعت کا اذن دیتا ہے بتوں کو اس نے شفیع نہیں بنایا، اور عبادت نے خدا کے سوا کسی کی بھی جائز نہیں ، پس آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا کے لیے ہے وہ ہر چیز کا مالک ہے تم سب قیامت میں اس کے پاس لوٹ کرجاؤ گے جزاوسزا پاؤ گے۔
Read the full tafseer →[30] یعنی ان لوگوں کو بتادو کہ سفارش تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس کے حضور میں کوئی اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کی جرأت نہ کرسکے گا۔ اجازت ملنے کے بعد جو شخص زبان کھولے گا وہ صرف اسی بات کے لئے جس کے لئے اسے اجازت دی جائے گی اور وہی بات کہے گا جو بالکل حق ہوگی۔ اللہ کے آگے غلط بات کہنے کی کسی کے لئے گنجائش نہ ہوگی۔ سفارش کے لئے یہ قیود و شرائط نہایت تفصیل سے خود قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ وہی حقیقت جامع الفاظ میں یہاں بیان ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
قیامت پر ایک دلیل
1: حشر ونشر پر ایک نہایت عمدہ دلیل پیش فرمائی ہے ۔ کہ دیکھو کہ موت اور نیند میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے ۔ جس خدا کو یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ تمہاری بیداری کو چھین لے اور اس کو خواب بےہوشی کی کیفیات سے بدل دے ۔ اور پھر جب مناسب سمجھے بیدار کردے ۔ وہ خدا اس چیز پر بھی قادر ہے ۔ کہ جب تم موت کی نیند سوجاؤ۔ اس وقت بھی تمہیں پھر جب چاہے اٹھا کھڑا کرے ۔ کیونکہ جس نے بیداری اور نیند کے نظام کو وضع کیا ہے وہی موت اور حیات پر بھی اختیار رکھتا ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے ۔ کہ خود انسانی زندگی معارف سے پر ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صاحب فکر وہوش سوچیں ۔ اور بغیر ادنیٰ تامل کے یہ نہ کہہ دیا…
Read the full tafseer →(44) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ شفاعت اور سفارش تو تمام تر اللہ ہی کے اختیار میں اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے تمام آسمانوں اور زمین کی حکومت کا وہی مالک و متصرف ہے پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے ؟ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی شفاعت کا وہی مالک ہے صاحب کشاف نے کہا ہے کہ شفاعت وہ باتوں پر موقوف ہے اول شفیع کو اجازت ہو دوسرے یہ کہ مشفوع لہ سے اللہ تعالیٰ راضی ہو اور وہ قابل مغفرت ہو یہاں دونوں باتیں مفقود ہیں شفیع اگر شیاطین اور ارواح خبیثہ ہوں تو اجازت مفقود اور اگر ملائکہ اور ارواح طیبہ ہوں تو مشفوع لہ کا قابل مغفرت ہونا مفقود اور چونکہ شفاعت ہی کی توقع پر ان کو معبود بنایا تھا اور ان کی عبادت اسی…
Read the full tafseer →ف 1۔ اوپر توحید کے ضمن میں مشرکین کے مکابرہ وعناد کا بیان ہے چونکہ مکابرہ وعناد موجب حزن مبلغ ہوتا ہے، اس لئے آگے آپ کے تسلیہ کے لئے ایک دعا کی تعلیم اور بیان جزا سے تسلیہ اور مضمون دعا کی تتمیم فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے کہ شفاعت کا اختیار کلی تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
44۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کے ذریعہ سے اس طرح کے نظریات گھڑنے والوں کو پیغام پہنچایا جا رہا ہے کہ خوب کان کھول کر سن لو کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے کسی کا یہ ذور نہیں ہے کہ اس کے حضور سفارشی بن کر اٹھ سکے کجا یہ کہ اپنی سفارش منوا لینے کی طاقت بھی اس میں ہو۔ ہاں ! یہ بات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے چاہے سفارش کی اجازت دے اور جسے چاہے نہ دے اور یہ بھی کہ جب تک اس کی طرف سے اجازت نہ ملے کوئی نہیں جو کسی دوسرے کے کہنے پر سفارش کے لیے کھڑا ہوجائے اور اس کی سفارش پیش کر دے پھر جن کو تم نے بزعم خویش سفارشی بنا لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–45
Commentary
The time to sleep and the time to die: How is the soul exacted and what is the difference between the two
In verse 42, it was said: اللَّـهُ يَتَوَفَّى الْأَنفُسَ حِينَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا (Allah fully takes away the souls [ of the people ] at the time of their death, and [ of ] those who do not die, in their sleep.). The word: تَوَفَّی (tawaffa) literally means to receive, to take back, exact. In this verse, Allah Ta’ ala has stated very clearly and emphatically that the spirits or souls (arwah) of living beings are under the free will and discretionary…
Read the full tafseer →63 That is, "Not to speak of getting his intercession granted, no one has the power to stand before Allah as an intercessor. The right to grant or not to grant anyone the permission to intercede with Him exclusively rests with Allah. Then He may allow intercession for whomever He may please and forbid for whomever He may please. " (For understanding the difference between the Islamic concept of intercession and the polytheistic concept, see Al-Baqarah: 255, Al-An`am: 51, Yunus: 3, 18, Hud: 105, Ar-Ra`d 11, An-Naml: 73, 84, Ta Ha: 109-110, Al-Anbiya': 23, Al-Hijr: 76, and the E.N.'s thereof…
Read the full tafseer →