Az-Zumar 39:37

Az-Zumar · from ayah 37

39:37

وَمَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ ؕ— اَلَیْسَ اللّٰهُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ ۟وَمَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّضِلٍّ‌ ؕ اَ لَيۡسَ اللّٰهُ بِعَزِيۡزٍ ذِى انتِقَامٍ

اور جس کو خدا ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا خدا غالب (اور) بدلہ لینے والا نہیں ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whoever Allah guides - for him there is no misleader. Is not Allah Exalted in Might and Owner of Retribution?

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 4 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:37

اور جسے وہ ہدایت دے اُسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں، کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس کو خدا ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا خدا غالب (اور) بدلہ لینے والا نہیں ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جسے وه ہدایت دے اسے کوئی گمراه کرنے واﻻ نہیں کیا اللہ تعالیٰ غالب اور بدلہ لینے واﻻ نہیں ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جسے اللہ راہ راست پر لے آئے اسے کوئی راستے سے بھٹکانے والا نہیں۔ کیا اللہ زبردست، انتقام لینے والا نہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی بہکانے والا نہیں، کیا اللہ عزت والا بدلہ لینے والا نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جسے اللہ ہدایت سے نواز دے تو اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ بڑا غالب، انتقام لینے والا نہیں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جسے اللہ راہ پر لے آئے، پھر اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ سب پر غالب، انتقام لینے والا نہیں ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جسے اللہ ہدایت دے دے اسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں۔ کیا اللہ سب پر غالب اور انتقام لینے والا نہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جس کو خدا ہدایت بخشے تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ غالب و صاحب انتقام نہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جس کو اللہ راہ پر لے آئے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا کیا اللہ سب پر غالب اور بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور جسے اللہ ہدایت دیا سے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ زبردست (اور) انتقام پر قادر نہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس کو اللہ ہدایت دے دے توا سے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں تو کیا اللہ زبردست انتقام لینے والا نہیں ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ غالب (اور) بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

And he whom Allah guides to the Right Way, none can lead him astray. Is not Allah the Most Mighty, the Lord of Retribution?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And whomsoever Allah gives guidance, for him there is no one to misguide. Is it not that Allah is Mighty, Powerful to avenge?

— Muhammad Taqi Usmani

And whomsoever Allah gives guidance, for him there is no one to misguide. Is it not that Allah is Mighty, Powerful to avenge?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whomsoever Allah guides, for him there will be no misleader. Is not Allah Almighty, Possessor of Retribution

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he whom Allah guideth, for him there can be no misleader. Is not Allah Mighty, Able to Requite (the wrong)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whoever Allah guides - for him there is no misleader. Is not Allah Exalted in Might and Owner of Retribution?

— Saheeh International

Who can mislead one whom God has guided? Is God not Majestic and Revengeful?

— Muhammad Sarwar

And whom Allah guides, there is none that can lead him astray; is not Allah Mighty, the Lord of retribution?

— Muhammad Habib Shakir

And whomsoever Allah guideth, for him there shall be no misleader. Is not Allah Mighty, and Lord of Retribution?

— Abdul Majid Daryabadi

And such as Allah doth guide there can be none to lead astray. Is not Allah Exalted in Power, (Able to enforce His Will), Lord of Retribution?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–40

بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے۔ ایک قرأت میں (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 36؀ۚ) 39۔ الزمر :36) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی (ترمذی وغیرہ) اے نبی ﷺ یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّمَر 56 یعنی یہ بھی ہدایت سے ان کی محرومی ہی کا کرشمہ ہے کہ ان احمقوں کو اپنے ان معبودوں کی طاقت و عزت کا تو بڑا خیال ہے۔ مگر انہیں اس بات کا خیال کبھی نہیں آتا کہ اللہ بھی کوئی زبردست ہستی ہے اور شرک کر کے اس کی جو توہین یہ کر رہے ہیں اس کی بھی کوئی سزا انہیں مل سکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–41

خلاصہ تفسیر کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ (خاص محمد ﷺ کی حفاظت) کے لئے کافی نہیں (یعنی وہ تو سب ہی کی حفاظت کے لئے کافی ہے تو اپنے محبوب خاص بندے کے لئے کیوں کافی نہ ہوگا) اور یہ لوگ (ایسے احمق ہیں کہ حفاظت خداوندی سے تجاہل کر کے) آپ کو ان (جھوٹے معبودوں) سے ڈرانے والے ہیں جو خدا کے سوا (تجویز کر رکھے) ہیں (حالانکہ وہ خود بےجان عاجز ہیں اور قادر بھی ہوتے تو خدا کی حفاظت کے مقابلہ میں عاجز ہی ہوتے) اور (اصل بات یہ ہے کہ) جس کو خدا گمراہ کرے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں اور جس کو وہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں (آگے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر کر کے ان کی حماقت کو ظاہر کیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 36–37

6۔ آگے کا مضمون آیات 52-36 آگے نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ تمہیں اپنے دیویوں دیوتائوں سے ڈرا رہے ہیں ان کو بتا دو کہ اس رب کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے کوئی بھی مجھے نہ نفع پہنچا سکتا نہ نقصان وہ جو کچھ کرسکتے ہیں، ان سے کہو کہ وہ کر دیکھیں تم اپنا کام بےخوف و خطر کئے چلے جائو تمہارے اوپر صرف تمہارے فرض کی ذمہ داری ہے ان کے کفر و ایمان کی کوئی ذمہ داری متہارے اوپر نہیں ہے۔ اگر ان لوگوں و مزعومہ شفاعت پر بھروسہ ہے تو اس کی حقیقت بھی ان پر واضح کردو اور اگر ان کو اپنی موجودہ دنیوی کامیابیوں کا غرہ ہے تو اس کے بےثباتی بھی ان کو بتا دو … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 7۔ الفاظ کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 جو اس کو ہدایت سے نکال کر گمراہی کے گڑھے میں ڈال دے یعنی ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہے گمراہ کر دے اور جس چاہے ہدایت سے نوازے۔ 37۔ 2 کیوں نہیں، یقینا ہے۔ اس لئے کہ اگر یہ لوگ کفر وعناد سے باز نہ آئے، تو یقینا وہ اپنے دوستوں کی حمایت میں ان سے انتقام لے گا اور انہیں عبرت ناک انجام سے دو چار کرے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–41

13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–40

درس نمبر 220 ایک نظر میں اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔ اس کے بعد حضور اکرم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 36–37

4 چند آیات پہلے (ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْهِ شُرَكَاۗءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 39 ۔ الزمر :29) میں شرک کا رد اور مشرکین کا جہل بیان کیا گیا تھا۔ اس پر مشرکین پیغمبر (علیہ السلام) کو اپنے بتوں سے ڈراتے تھے کہ دیکھو تم ہمارے دیوتاؤں کی توہین کر کے ان کو غصہ نہ دلاؤ۔ کہیں تم کو (معاذ اللہ) بالکل خبطی اور پاگل نہ بنادیں۔ اس کا جواب دیا کہ جو شخص ایک زبردست خدا کا بندہ بن چکا، اسے ان عاجز اور بےبس خداؤں سے کیا ڈر ہوسکتا ہے ؟ کیا اس عزیز منتقم کی امداد و حمایت اس کو کافی نہیں جو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 37 { وَمَنْ یَّہْدِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّضِلٍّ } ”اور جس کو اللہ ہدایت دے دے توا سے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں۔“ { اَلَیْسَ اللّٰہُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ } ”تو کیا اللہ زبردست ‘ انتقام لینے والا نہیں ہے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 اللہ کی توہین کیسے ؟۔ ان مشرکوں کو اپنے اپنے معبودوں اور بزرگوں کی عزت کا تو بڑا خیال رہتا ہے اور اس غرض کے لئے وہ بہت سے قصے اور افسانے بھی گھڑ گھڑ کر لوگوں میں مشہور کرتے رہتے ہیں۔ مگر اس بات کا انہیں کبھی خیال نہیں آتا کہ ان سب کے اوپر ایک ایسی زبردست ہستی ہے جس کی یہ لوگ، اپنے معبودوں کی عزت بڑھانے کی آڑ میں زبردست توہین کر رہے ہیں۔ اور وہ ان سے پوری طرح انتقام بھی لے سکتی ہے اور انہیں یہ موٹی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ اللہ زبردست کے مقابلہ میں ان کے معبودوں کی حقیقت ہی کیا ہے۔ جو اللہ اکیلے کے پرستار کو اسطرح کی گیڈر بھبکیوں سے ہراساں کرنا چاہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

48۔ ہدایت وضلالت اپنے اسباب قریب وظاہری کے لحاظ سے بندہ کے افعال اختیاری میں ہیں۔ اور اسی لئے ان ثواب و عذاب بھی مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن اپنے اسباب بعید و حقیقی کے لحاظ سے تمامتر مشیت تکوینی الہی کے ماتحت ہیں اور اسی لئے ان کا انتساب مسبب الاسباب اور علت العلل کی حیثیت سے حق تعالیٰ کی جانب بھی درست ہے۔..... اور ان حواشی میں اس کی صراحت کئی بار کی جاچکی ہے۔ 49۔ کیوں نہیں، قادر ہے اور ضرور قادر ہے۔ اسلام کا خدا اپنے ہر ارادہ پر پوری طرح قادر، متصرف، حاکم ہے، بعض جاہلی مذہبوں کے دیوتاؤں کی طرح معذور بےبس نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–41

آیت نمبر 32 تا 41 ترجمہ : اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو اللہ پر (یعنی) اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرے جھوٹ باندھے اور سچ یعنی قرآن جب اس کے پاس آئے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ہاں کیوں نہیں ؟ اور جو شخص سچی بات لایا اور وہ نبی ﷺ ہیں اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہ مومن ہیں الَّذی، الَّذِیْنَ کے معنی میں ہے یہی ہیں شرک سے بچنے والے لوگ ان کیلئے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے ایمان کے ذریعہ اپنے اوپر احسان کرنے والوں کا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور انہوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کا اچھا صلہ دے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ومن یھد اللہ فما لہ من مضل الیس اللہ بعزیز ذی انتقام اور جس کو اللہ بےمدد چھوڑ دے اس کو کوئی راہ پر لانے والا نہیں ہے اور جس کو اللہ راہ پر لگا دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ زبردست (اور) انتقام لینے والا نہیں ہے ؟ وَیُخَوِّفُوْنَکَ بغوی نے لکھا ہے کہ بت پرست لوگ رسول اللہ ﷺ کو بتوں کی ناراضگی سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے : تم ان کو برا کہنے سے اپنی زبان روکو ‘ ورنہ یہ تمہیں بدحواس اور پاگل بنا دیں گے۔ عبدالرزاق نے بھی یہ روایت بیان کی ہے۔ وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ یعنی اللہ جس کو بےمدد چھوڑ دے کہ وہ اللہ کے اپنے بندہ کی حفاظت کیلئے کافی ہونے سے غافل ہوجائے اور ایسی چیزوں سے ڈرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جسے اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ہدایت فرمائے یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور دیگر صحابہ کرام اور کہا گیا ہے کہ اس سے حضور ہی کی ذات بابرکت مراد ہے اس کا کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت و سلطنت میں زبردست اور کافر سے انتقام لینے والا نہیں ؟

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّضِلٍّ : اور جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے، پھر کوئی اسے گمراہ کرنے والا نہیں۔ شیطان یا اس کے پیروکار اپنے حاجت رواؤں یا مشکل کشاؤں سے اسے جس قدر بھی ڈرائیں وہ کبھی نہ ان سے ڈرتا ہے اور نہ وہ اللہ کے سوا کسی سے امید رکھتا ہے۔ کفار کا اپنے خداؤں سے ڈرانے کے ذکر کے لیے دیکھیے سورة ہود (54) ، انعام (80 تا 82) اور سورة قمر (9)۔ اَلَيْسَ اللّٰهُ بِعَزِيْزٍ ذِي انْتِقَامٍ : کیا اللہ تعالیٰ سب پر غالب نہیں کہ جو اس کی پناہ میں ہو کوئی اس کی ہوا کی طرف بھی نہیں دیکھ سکتا ؟ اور کیا وہ اپنی اور اپنے دوستوں کی خاطر بہت بڑے انتقام والا نہیں (انْتِقَامٍ کی تنوین تعظیم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 36–37

36 ۔ 37:۔ الیس اللہ بکاف عبدہ ‘۔ کاف سے یاء حذف کردی گئی ہے کیونکہ یاء خود بھی ساکن ہے اور اس کے بعد تنوین بھی ساکن ہے اصل تو یہ تھا کہ وقف میں یاء کو حذف نہ کیا جاتا کیونکہ تنوین زائل ہے مگر اسے حذف کردیا گیا ہے تاکہ عملم ہو کہ فصل میں بھی یہی صورتحال ہے عربوں میں ایسے بھی ہیں کہ وقف کی صورت میں بھی یاء کو باقی رکھتے ہیں وجہ اس کی اصل کو ملحوظ رکھنا ہے وہ کہتے ہیں : کافی عام قراء کی قراءت عبدہ ہے مراہ حضور ﷺ کی ذات ہے اللہ تعالیٰ کی ذات مشرکین کی وعید اور ان کے مکر کے لئے کافی ہے۔ حمزہ اور کسائی نے عبادہ پڑھا ہے (1) وہ انیباء ہیں یا انبیاء اور مومن ہیں۔ ابو عبید نے جمع کے صیغہ کی قراءت کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–37

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الیس اللہ بکاف عبدہ “ (اپنے بندے کے لئے کیا اللہ کافی نہیں ہیں) میں عبد سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ 2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھے ایک آدمی نے کہا کہ مشرکوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا، آپ ہمارے مبعودوں کو برا کہنے سے باز آجائیے کیا تو ان کو حکم دے گا تو وہ تجھ کو مخبط الحواس بنادیں گے تو یہ (آیت) ” ویخوفونک بالذین من دونہ “ نازل ہوئی (اور وہ آپ ﷺ کو ڈراتے ہیں اللہ کے علاوہ جھوٹے خداؤں سے) 3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویخوفونک بالذین من دونہ “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ [اور جس کو ہدایت دے اللہ ] فَمَا لَهٗ [تو نہیں ہے اس کے لئے ] مِنْ مُّضِلٍّ ۭ [کوئی بھی بھٹکانے والا ] اَلَيْسَ اللّٰهُ [کیا اللہ ] بِعَزِيْزٍ [بالادست ] ذِي انْتِقَامٍ [بدلہ لینے والا نہیں ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَمَنْ یَّہْدِی اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّضِلٍّ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِعَزِیْزٍ ذِیْ انْتِقَامٍ ) (اور جسے اللہ ہدایت دیدے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔ کیا اللہ عزت والا بدلہ لینے والا نہیں ہے ؟ ) جو لوگ بت پرست ہیں وہ اپنے معبودوں کے ضرر پہنچانے سے ڈرتے ہیں اللہ کے قادر اور کافی اور عزیز (غالب) ہونے اور انتقام لینے کی قدرت ہونے پر ان کی نظر نہیں، جو باطل نے خود تجویز کر رکھے ہیں اپنی گمراہی سے ان میں نفع و ضرور سمجھتے ہیں اور ان سے خود بھی ڈرتے ہیں اور دوسروں کو بھی ڈراتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–37

تنبیہ وتہدید بر تکذیب حق وصداقت وبیان حسرت وملال مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ ..... الی ..... بعزیز ذی انتقام : (رابط) گذشتہ آیات میں موحد و مشرک کی حقیقت ایک مثال کے رنگ میں بیان کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا کہ شرک کا انجام سوائے حیرت و اضطراب اور ناکامی کے اور کچھ نہیں حقیقی اطمینان و سکون وانسان کی اصل فلاح وسعادت توحید خداوندی اور صرف اپنے ایک ہی رب کے ساتھ رشتہ حیات وابستہ کرلینے میں ہے اب ان آیات میں ان بد نصیبوں پر تنبیہ فرمائی جارہی ہے جن کا کام اللہ پر بہتان باندھنا اور اللہ کے رسولوں کی تردید وتکذیب کرنا ہے اور یہ کہ ایسے بدنصیب تباہی سے کبھی نہیں بچ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

38:۔ ” و من یھد الخ “ اور جن لوگوں کے سینے اللہ ایمان کے لیے کھول دیتا ہے۔ اور نور ہدایت ان کے گوشت پوست میں سما جاتا ہے وہ کسی کے بہکانے پھسلانے سے ہرگز گمراہ نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مہربانی اور توفیق سے راہ ہدایت پر قائم اور ثابت قدم رکھتا ہے۔ ” الیس اللہ الخ “ کیا اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے پر قادر نہیں ؟ استفہام انکاری ہے یعنی وہ اپنے دشمنوں پر غالب اور ان سے انتقام لینے پر قادر ہے۔ معاندین کو توفیق ہدایت سے محروم کردینا بھی انتقام میں داخل ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–41

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور شرک کی مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام صرف ایک آقا کی ملکیت اور دوسرا کئی آقاؤں کا غلام ہے جو ہیں بھی ضدی اور جھگڑالو ، تو ظاہر ہے کہ ایک آقاوالا غلام سکون و اطمینان میں ہوگا جب کہ کئی آقاؤں کا غلام سخت مشکل میں ہوگا ، کیونکہ اسے کئی مالکوں کے انکار کی تعمیل کرنا ہوگی ، اسی طرح موحد آدمی جو صرف ایک وحدہ لا شریک کو پکارتا ہے وہ اطمینان میں ہوگا اور کئی معبودوں کا پرستار مشرک مشکل میں پھنس جائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا قیامت والے دن تم سب اکٹھے ہو کے اور آپس میں جھگڑا کرو گے ، دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ کی گئی کمی بیشی وہاں دہرائی جائے گی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ يَّہْدِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّضِلٍّ۝ 0 ۭ اَلَيْسَ اللہُ بِعَزِيْزٍ ذِي انْتِقَامٍ۝ 37 الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 36–40

تفسیر : کفار مکہ کا اپنے معبودوں کی نسبت اعتقاد بڑھا ہوا تھا، ان کو نافع وضار جانتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ جو ان کو نہیں مانتا اس کو برباد کردیں گے۔ عامہ ہنود کا بھی کالی بھوانی وغیرہما کی نسبت اب تک یہی اعتقاد ہے، اس لیے وہ اپنے معبودوں کی برائی سن کر نبی ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے، چناچہ عبدالرزاق نے معمر سے نقل کیا ہے کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے حضرت ﷺ سے کہا تھا یا تو ہمارے معبودوں کی برائی سے باز آؤ ورنہ ہم ان سے کہہ دیں گے وہ تم کو سڑی کردیں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اس خیال کے غلط کرنے کو اول اپنی مدد اور حمایت کا بھروسہ دلاتا ہے۔ فقال الیس اللہ بکاف عبدہ کہ کیا خدا اپنے بندے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 36–37

اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ط وَیُخَوِّفُوْنَـکَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَـہٗ مِنْ ھَادٍ ۔ وَمَنْ یَّھْدِاللّٰہُ فَمَا لَـہٗ مِنْ مُّضِلٍّ ط اَلَیْسَ اللّٰہُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ ۔ (الزمر : 36، 37) (اے پیغمبر ! کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے، یہ آپ کو اس کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں، اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور جس کو اللہ ہدایت دے تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں۔ ) قریش کی ایک فطری گمراہی کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی قریش کی ایک فکری گمراہی کے حوالے سے نبی کریم ﷺ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–37

فہم القرآن ربط کلام : حق کی تصدیق اور تبلیغ کرنے والوں کے لیے آخرت کے اجر کے ساتھ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دستگیری کا اعلان۔ حق بات کو قبول اور اس کا پرچار کرنا بالخصوص توحید باری تعالیٰ کا پرچار کرنا ہمیشہ سے مشکل ترین کام رہا ہے۔ جس شخص نے بھی توحیدِباری تعالیٰ کا پرچار کرنے کی کوشش کی۔ کفر و شرک کے دلدادہ لوگوں نے اس کا جینا دوبھر کردیا۔ اس راستے میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کرنا پڑا۔ مشرکین نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جسمانی اذّیتوں میں مبتلا کرنے کے ساتھ انہیں اعصابی اور فکری طور پر توڑے دینے کی کوشش کی۔ ” اللہ “ کی توحید کا پرچار اور حق کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

العزیز، غالب و محافظ۔ ذی انتقام وہ اپنے اعداء سے انتقام لے گا۔ پھر ان کو بتلایا کہ بتوں کی عبادت کے باوجود وہ اس بات کے اقراری ہیں کہ خالق ارض و سماء اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 37۔ ، ومن یھد اللہ فمالہ من مضل الیس اللہ بعزیز ذی انتقام، اپنی سلطنت میں ب اقتدار ہے اور اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–37

36۔ 37۔ جن آیتوں میں مشرکین مکہ کے بتوں کی مذمت ہوتی تھی ان آیتوں کو سن کر یہ مشرک لوگ اللہ کے رسول ﷺ کو اپنے ٹھاکروں کی طرف ڈراتے تھے کہ ان مشرکوں کے ٹھاکر آپ کو کوئی نقصان پہنچا دیویں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر ارشاد فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول کی حمایت کے لئے کافی ہے بغیر مرضی اللہ کی کسی کی کیا مجال ہے جو اللہ کے رسول کو کچھ نقصان پہنچا سکے۔ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکوں کو اپنے ٹھاکروں کی بےبسی معلوم ہوچکی ہے اس پر بھی یہ لوگ اپنے ٹھاکروں کو صاحب اختیار جو گنتے ہیں اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کے علم غیب میں یہ لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں کیونکہ جو لوگ اللہ کے علم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 36–37

آیت 36 (الیس اللہ بکاف عبدہ) ” کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے۔ “ یعنی کیا یہ اللہ کا اپنے اس بندے پر جو دو کرم اور اس کی عنایت نہیں جو اس کی عبودیت پر قائم ہے، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ بندہ جو تمام مخلوق میں عبودیت کے کامل ترین مرتبے پر فائز ہے، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور میں ان کے لئے کافی ہوگا اور جو کوئی آپ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے آپ کی مدافعت کرے گا۔ (ویخوفونک بالذین من دونہ) یعنی یضلل اللہ فمالہ من ھاد ومن یھد اللہ فمالہ من مضل) ” اور اللہ جسے گمراہی میں مبتلا کر دے تو کوئی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 37–39

77 اللہ کی عطا و بخشش کو کوئی روک نہیں سکتا : کہ سب کچھ اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس کو اللہ راہ راست پر لے آئے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا "۔ یعنی جس کو وہ نور حق و ہدایت سے سرفراز فرما دیتا ہے اس کے صدق و اخلاص اور طلب صادق کی بنا پر۔ تو اس سے اس کی اس نعمت کو کوئی چھین نہیں سکتا۔ سو ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اسی کی بخشش و عنایت سے ملتی ہے اور اسکا اصل مدارو انحصار انسان کے باطن اور اس کے قلب و نیت پر ہے۔ جسکے قلب و باطن کی دنیا درست ہوگی اور اس کے اندر نور حق و ہدایت کیلئے تڑپ اور طلب صادق پائی جائے گی وہ واہب مطلق اس کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–41

سچوں اور جھوٹوں کے احوال تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ مومن کی شان بہت بلند ہے اس کا رتبہ بڑا اونچا ہے اور اس پہ زندگی پُر وقار اور آخرت کی زندگی پُر آسائش، آرام دہ، بہترین اور ہمیشہ رہنے والی ہوگی ایسا کیوں نہ ہو کہ جب مومن کا آقا بہترین ہے جو مالک کون و مکان، واحدہ لا شریک، سب پر غالب، مالک یوم الدین، بہترین انصاف کرنے والا، شاندار عالی مرتبہ، غفور ورحیم، نعمتیں اور برکتیں دینے والا اور جنت و دوزخ کا مالک تو بھلا اس قدر علیم وخبیر اپنے بندوں کو کبھی اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ البتہ اللہ سے منکر ہونے والوں کی یہ دنیا بھی خراب اور آخرت کی دنیا تو بہت ہی خراب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–41

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 41: اسرار و معارف : اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے اور اس کے ساتھ دوشرے شریک ماننے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے یا پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی کے پاس حق بات پہنچے اور وہ اسے جھٹلا دے تو اس کی سزا بھی یقیناً یہی ہے کہ کافروں کو جہنم میں ٹھکانہ دیا جائے ان کے مقابل جو بھی حق بات کرے اللہ کا رسول یا آپ ﷺ سے حاصل کرکے کوئی مسلمان اور پھر دوسرا جو اس کی تصدیق کرے اور اسے سچ مانے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا تعلق اللہ سے ہے۔ ان کا فیصلہ روز حشر یہ ہوگا کہ جو نعمت چاہیں گے ملے گی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ایسے ہی نوازا جائے گا بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 یعنی یہ کفار جو گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں اور آپ ﷺ کو اپنے معبودوں کا خوف دلاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے یہ جھوٹے معبود کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اصل طاقت اللہ تعالیٰ کی ہے وہ اپنے دشمنوں سے جب چاہے اور جس طرح چاہے انتقام لے سکتا ہے۔ (قرطبی) اس زمانہ کے مشرک اور قبروں کے گدی نشین مج اور بھی جو بزرگوں ولیوں کو پکارتے ہیں۔ لوگوں کو ڈراتے ہیں کہ اگر بزرگوں کا انکار کرو گے تو وہ تمہیں تباہ و برباد کردیں گے اور ایسی باتوں سے احمق نادان ڈر جاتے ہیں اور ان کی پوجا کرنے لگتے ہیں۔ سو یہ سب بزرگوں پر افتراء ہے اور یہ لوگ گمراہ ہیں۔ (حلیفہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:37) من مضل۔ اسم فاعل واحد مذکر اضلال (افعال) مصدر۔ گمراہ کرنے والا۔ صاحب تفسیر الماجدی (رح) اس آیۃ کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔ ہدایت اور ضلالت اپنے اسباب قریب و ظاہری کے لحاظ سے بندہ کے افعال اختیاری میں ہیں اور اسی لئے ان پر ثواب و عذاب مرتب ہوتے ہیں۔ لیکن اپنے اسباب بعید اور حقیقی کے لحاظ سے تمام تر مشیت تکوینی الٰہی کے ماتحت ہوتے ہیں ۔ اور اسی لئے ان کا انتساب مسبب الاسباب اور علت العلل کی حیثیت سے حق تعالیٰ کی جانب بھی درست ہے۔ الیس اللّٰہ بعزیز ذی انتقام۔ الیس اللّٰہ ملاحظہ ہو 39:36 ۔ متذکرہ بالا۔ عزیز ۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے (بحالت جر) بمعنی فاعل۔ غالب ، زبردست ذی۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–37

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 37 : اظلم ( بڑا ظالم) مثوی ( ٹھکانہ) اسوا ( برا کیا) ذی انتقام ( بدلہ لینے والا) تشریح : آیت نمبر 32 تا 37 :۔ توحید خالص اور کفر و شرک پر عمل کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ واقعی بڑا ظالم اور بےانصاف ہے جس کے پاس قرآن کریم جیسی سچائی اور پیغام پہنچ گیا ہو اور اس نے بغیر سوچے سمجھے محض اپنی جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کا انکار کردیا ہو ، یقینا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جن کے پاس اللہ کا سچا پیغام پہنچا اور انہوں نے اس کی تصدیق کی تو یہ اہل تقویٰ ہیں انہیں آخرت میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور اگر ان سے کوئی کوتاہی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

(ف 2) شان نزول : جن آیتوں میں مشرکین مکہ کے بتوں کی مذمت ہوئی تھی ان آیتوں کو سن کر یہ مشرک لوگ نبی ﷺ کو اپنے بتوں کی طرف سے ڈراتے تھے کہ یہ بت آپ کو کوئی نقصان پہنچادیویں گے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے محمد ﷺ کی حمایت کے لیے کافی ہے بغیرمرضی اللہ کی کسی کی کیا مجال ہے جو اللہ کے رسول کو کچھ نقصان پہنچاسکے، مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکوں کو اپنے بتوں کی بےبسی معلوم ہوچکی ہے اس پر بھی یہ لوگ اپنے بتوں کو صاحب اختیار گنتے ہیں یہ لوگ گمراہ ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کو کوئی راہ راست پر لانے والا نہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–39

[24] مشرکین نبی کو اپنے بتوں کے قہروغضب سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ بتوں کی برائی بیان کرنے سے باز آجائیں ورنہ وہ آپ کو نقصان پہنچائیں گے یا ہلاک کردیں گے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: واضح رہے کہ اس کے معنے سیاق وسباق کے لحاظ سے یہی ہیں ۔ کہ حضور اللہ کی حفاظت اور نگہبانی میں ہیں ۔ اس لئے دشمن اپنے عزائم مشؤمہ میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ اور حضور کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔ اس سے مراد کفایت دینی نہیں ہے ۔ جیسا کہ بعض ملاحدہ نے سمجھا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(37) اور اللہ تعالیٰ جس کی رہنمائی فرمائے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں کیا اللہ تعالیٰ کمال قوت کا مالک اور بدلا لینے والا نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تجھ کو ڈراتے ہیں یعنی تو بتوں کو نہیں مانتا تو وہ تجھ پر غضب ہوں گے کچھ تیرا کردیں گے سو جس کی مدد پر اللہ ہو ان کا برا کون کرسکے۔ خلاصہ : یہ کہ جس کا کارساز اللہ تعالیٰ ہو اس کو بتوں سے اور مخلوق سے ڈرانا ایک مضحکہ خیز چیز ہے وہ تو رب کے لئے کافی ہے اور بالخصوص آپ سو اس کے پیغمبر ہیں تو کیا آپ کے لئے کافی نہیں ہے۔ بات اصل یہ ہے کہ جو گمراہی کو پسند کرچکے ہیں اور اللہ تعالیٰ لے ان کو ان کی گمراہی میں چھوڑ دیا ہے تو ان کو کوئی ہدایت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی اللہ تعالیٰ صفت ناصریت میں کامل اور عبد خاص منصوریت کے قابل اور آلہہ باطلہ قدرت اور نصرت سے عاطل، پھر یہ تخویف عین ضلالت و محض جہالت نہیں تو کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا 37۔ اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے دے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو ہدایت دی اور لوگوں کے لیے ہادی بنا کر بھیج دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی تبلیغ کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود جن کی مت ماری گئی ہے وہ آپ کو بھی گمراہ سمجھتے اور کہتے ہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ ان کے اور ان کے آباء و اجداد کے بنائے ہوئے معبودوں کو اور ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو تسلیم نہیں کرتے اور توحید الہٰی کا درس دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اور جن کو تم نے اپنے مشکل کشا اور حاجت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–41

Commentary In the first verse (36), it was said: أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (Is Allah not sufficient for (the protection of) His slave?). This verse was revealed in the background of an event. The disbelievers had threatened the Holy Prophet ﷺ and his noble Sahabah by saying that, should they act irreverently against their idols, they would never escape the curse of these idols, something very lethal to face. In reply, they were told: Is Allah not sufficient for His slave? Therefore, some commentators have taken: عَبْدَه (abdahu: His slave) here to mean a particular slave of Allah,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

56 That is, "This also is a result of their lack of guidance that the foolish people esteem highly the power and honour of their deities but they never think that Allah also is Almighty and they can also be punished for insulting Him by the shirk they are committing against Him. "

Read the full tafseer →