Explained with ayahs 36–40
بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے۔
ایک قرأت میں (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 36ۚ) 39۔ الزمر :36) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی (ترمذی وغیرہ) اے نبی ﷺ یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 57
ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا من احب ان یکون اقوی الناس فلیتوکل علیٰ اللہ، ومن احب ان یکون اغنی الناس فلیکن بما فی ید اللہ عزو جل اوثق منہ بما فی یدیہ، ومن احب ان یکون اکرم الناس فلیتق اللہ عزو جلّ۔ " جو شخص چاہتا ہو کہ سب انسانوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ پر توکل کرے۔ اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے بڑھ کر غنی ہوجائے اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ بھروسہ رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے زیادہ عزت والا ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ عز و جل سے ڈرے۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
خلاصہ تفسیر
کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ (خاص محمد ﷺ کی حفاظت) کے لئے کافی نہیں (یعنی وہ تو سب ہی کی حفاظت کے لئے کافی ہے تو اپنے محبوب خاص بندے کے لئے کیوں کافی نہ ہوگا) اور یہ لوگ (ایسے احمق ہیں کہ حفاظت خداوندی سے تجاہل کر کے) آپ کو ان (جھوٹے معبودوں) سے ڈرانے والے ہیں جو خدا کے سوا (تجویز کر رکھے) ہیں (حالانکہ وہ خود بےجان عاجز ہیں اور قادر بھی ہوتے تو خدا کی حفاظت کے مقابلہ میں عاجز ہی ہوتے) اور (اصل بات یہ ہے کہ) جس کو خدا گمراہ کرے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں اور جس کو وہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں (آگے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر کر کے ان کی حماقت کو ظاہر کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →آیت 38
مشرکین کا تضاد فکر
یعنی یہ لوگ تضاد فکر میں مبتلا ہیں۔ ایک طرف تو ان کا حال یہ ہے کہ ان سے سوال کرو کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے تو اس کا جواب دیں گے کہ اللہ ! دوسری طرف یہ اللہ کے سوا دوسروں کو اللہ کی خدائی میں شریک بنائے بیٹھے ہیں اور ان سے تم کو بھی ڈرا رہے ہیں۔ گویا ان کے خیال میں خدا خالق تو ہے لیکن اپنی پیدا کی ہوئی دنیا کا مالک اور اس میں تمصرف نہیں ہے۔ ان نادانوں سے پوچھو کہ خدا مجھے کوئی گزند پہنچانا چ ہے تو کیا تمہارے یہ فرضی دیوی دیوات مجھے اس سے بچالیں گے ؟ اسی طرح اگر وہ مجھے اپنے کسی فضل سے نوازنا چاہے تو کیا تمہاری اینٹ پتھر کی یہ مورتیاں اس کا ہاتھ پکڑ لیں گی۔…
Read the full tafseer →38۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے مذکورہ سوال ان کے سامنے پیش کیا، تو انہوں نے کہا کہ واقعی وہ اللہ کی تقدیر کو نہیں ٹال سکتے، البتہ وہ سفارش کریں گے، جس پر یہ ٹکڑا نازل ہوا کہ مجھے تو میرے معاملات میں اللہ ہی کافی ہے۔
38۔ 2 جب سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے تو پھر دوسروں پر بھروسہ کرنے کا کیا فائدہ ؟ اس لئے اہل ایمان صرف اس پر توکل کرتے ہیں، اس کے سوا کسی پر اعتماد نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–41
13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
درس نمبر 220 ایک نظر میں
اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔
اس کے بعد حضور اکرم…
Read the full tafseer →1 یعنی ایک طرف تو خداوند قدوس جو خود تمہارے اقرار کے موافق تمام زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اور دوسری طرف پتھر کی بیجان مورتیں یا عاجز مخلوق جو سب مل کر بھی خدا کی بھیجی ہوئی ادنیٰ سے ادنیٰ تکلیف و راحت کو اس جگہ سے نہ ہٹا سکے۔ تم ہی بتاؤ، دونوں میں سے کس پر بھروسہ کیا جائے اور کس کو اپنی مدد کے لیے کافی سمجھا جائے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے بھی کہا تھا (اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ ) 11 ۔ ہود :54) جس کا جواب حضرت ہود نے یہ دیا۔ ( اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ 54ۙ مِنْ دُوْنِهٖ فَكِيْدُوْنِيْ…
Read the full tafseer →آیت 38 { وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ } ”اور اے نبی ﷺ ! اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو وہ یقینا یہی کہیں گے کہ اللہ نے !“
{ قُلْ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلْ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ} ”تو ان سے کہیے کہ ذرا غور کرو ! جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا ‘ اگر اللہ نے میرے لیے کسی تکلیف کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا وہ تمہارے معبود اس تکلیف کو دور کرسکیں گے ؟“
دراصل مشرکین ِمکہ ّاللہ تعالیٰ کو سب سے بڑے معبود کے طور پر تو مانتے تھے لیکن ساتھ ہی انہوں نے بہت سے چھوٹے…
Read the full tafseer →54 یہ بات تو مشرکین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ زمین و آسمان یعنی اس کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اور خالق اپنی پیدا کی ہوئی یا بنائی ہوئی چیز میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اور ایسے تصرف کا اختیار خالق کے علاوہ دوسری کسی ہستی کو نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص جب کہ وہ خود بھی اللہ کی مخلوق اور اسی کے زیر تصرف ہے۔ اب ایک طرف تو اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق میں تصرف کے وسیع اختیارات رکھتا ہے اور دوسری طرف جو بھی معبود ہوگا بہرحال وہ اللہ کی مخلوق ہی ہوگا اور اللہ کے مقابلہ میں اس کا کچھ اختیار بھی نہیں چل سکتا اب بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کس پر بھروسا کرنا چاہئے اور کس کو اپنی مدد کے لئے کافی…
Read the full tafseer →50۔ بعض جاہلی مذاہب ایک خالق کائنات کے تو مقرومعترف ہیں، لیکن ساتھ ہی کائنات میں دخل، تصرف و حکومت کیلئے دوسرے دوسرے دیوی دیوتا بھی مان رکھے ہیں، پانی فلاں دیوتا برساتے ہیں، دولت فلاں دیوی دلواتی ہیں، وقس علی ہذا ...... مشرکین قریش کا مذہب بھی اسی قسم کا شرک تھا۔ قرآن مجید نے انکے اسی مسلمہ اول کو بار بار یاددلا کر اور توحید کے مطالبات ومضمرات کو ان پر واضح کرکے ان پر جرح کی ہے۔
51۔ (جس کے بعد تمہاری اور تمہارے بتوں کی مخالفت کی کچھ پروا باقی نہیں رہ جاتی) (آیت) ” حسبی اللہ “۔ جب خدا پر تکیہ کرلیا تو اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کے ماتحت کائنات میں جتنی بھی مخلوقات ہیں۔ اب کسی کی طرف سے کھٹکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
آیت نمبر 32 تا 41
ترجمہ : اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو اللہ پر (یعنی) اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرے جھوٹ باندھے اور سچ یعنی قرآن جب اس کے پاس آئے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ہاں کیوں نہیں ؟ اور جو شخص سچی بات لایا اور وہ نبی ﷺ ہیں اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہ مومن ہیں الَّذی، الَّذِیْنَ کے معنی میں ہے یہی ہیں شرک سے بچنے والے لوگ ان کیلئے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے ایمان کے ذریعہ اپنے اوپر احسان کرنے والوں کا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور انہوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کا اچھا صلہ دے…
Read the full tafseer →ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ قل افرایتم ما تدعون من دون اللہ ان
ارادنی اللہ بضر ھل ھن کشفت ضرہ او ارادنی برحمۃ ھل ھن ممسکت رحمتہ اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو (یہی) کہیں گے کہ اللہ نے (ان کو پیدا کیا) آپ ان سے کہئے کہ بھلا پھر یہ تو بتاؤ کہ اللہ کے سوا تم جن معبودوں کو پوجتے ہو ‘ اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا (تمہارے) یہ معبود اس کی دی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ‘ یا اگر وہ اپنی رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا یہ معبود اس کی (عطا کردہ) رحمت کو روک سکتے ہیں ؟
وَلَءِنْ سَاَلْتَھُمْ یعنی اگر آپ کفار مکہ سے پوچھیں۔
لَیَقُوْلُنَّ اللہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
اور اگر آپ کفار سے دریافت کریں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے پیدا کیا تو پھر آپ ان سے فرمایئے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ جن معبودوں یعنی لات و عزی وغیرہ کو تم پوجتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا یہ لات و عزی اس کی دی ہوئی تکلیف و سختی کو مجھ سے دور کرسکتے ہیں یا اللہ تعالیٰ مجھے عافیت میں رکھنا چاہیے تو کیا یہ تمہارے لات و عزی وغیرہ مجھ سے اس کی دی ہوئی عافیت کو روک سکتے ہیں کہ تم مجھے بھی ان کی پوجا کے لیے کہتے ہو ؟
آپ فرما دیجیے کہ بس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسا کرتے ہیں یا یہ کہ مومنین کے لیے…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ سَاَلْــتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ۔۔ : اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور ان کے قول و عمل کے تضاد کو اجاگر کیا ہے۔ فرمایا، اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً کہیں گے، اللہ تعالیٰ نے۔ اس اقرار کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جب خالق وہ ہے تو مالک بھی وہی ہے، پھر کسی اور کے پاس کسی طرح کے نفع یا نقصان کا کیا اختیار ہوسکتا ہے۔ اس لیے اس اقرار کے بعد انھیں اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کے نفع یا نقصان کا اختیار نہ رکھنے کا اقرار کروانے کے لیے فرمایا، ان سے کہیے کہ پھر یہ بتاؤ کہ وہ ہستیاں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
38 ۔ 41:۔ ولن سالتھم اے محمد ! ﷺ اگر آپ ان سے پوچھیں لیقولن یہ امر واضح کیا کہ وہ بتوں کی عبادت کرنے کے باوجود یہ اقرار کیا کرتے تھے کہ خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے جب اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے تو وہ تجھے اپنے ان معبودوں سے کیسے ڈراتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں جب کہ اس کا رسول ہے جس نے ان کی پیدا کیا اور آسمانوں و زمین کو پیدا کیا۔
قل افرائیتم اے محمد ! ﷺ جب انہوں نے یہ اعتراف کرلیا ہے تو اب ان سے کہو : مجھے بتائو اگر اللہ تعالیٰ مجھے تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا یہ بت تکلیف کو رفع کردیں گے اور اگر وہ مجھے رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا وہ اس رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل افراء یتم ما تدعون من دون اللہ “ (فرما دیجئے تم بتاؤ جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے علاوہ) یعنی بتوں کو۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا (آیت ) ” ھل ھن کشفت ضرہ “ کیا اس کی دی ہوئی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں) یہاں کا شفاف مضاف ہے اس طرح (آیت) ” ممسکت رحمتہ “ (یہ کیا ہے کوئی) ہٹانے والے یا اس کی رحمت کو روکنے والے۔
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” وما انت علیہم بوکیل “ یعنی حفاظت کرنے والے (نگہبان) (واللہ اعلم )
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ [اور بیشک اگر ] سَاَلْــتَهُمْ [آپ ﷺ پوچھیں گے ان سے ] مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ [کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ] لَيَقُوْلُنَّ [تو وہ لازما کہیں گے ] اللّٰهُ ۭ [اللہ نے ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اَفَرَءَيْتُمْ [تو کیا تم لوگوں نے غور کیا ] مَّا [ان چیزوں پر جن کو ] تَدْعُوْنَ [تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [اللہ کے علاوہ (کہ)] اِنْ اَرَادَنِيَ [اگر ارادہ کرے میرے لئے ] اللّٰهُ [اللہ ] بِضُرٍّ [کسی تکلیف کا ] هَلْ هُنَّ [تو کیا وہ سب (چیزیں)] كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖٓ [اس کی (ڈالی ہوئی) تکلیف کو کھولنے والی ہیں ] اَوْ اَرَادَنِيْ بِرَحْمَةٍ [یا وہ ارادہ کرے میرے لئے کسی…
Read the full tafseer →اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیے کہ یہ بتاؤ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ اس سوال کا جواب ان کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جب وہ جواب دے دیں (زبان حال سے یا قال سے) تو آپ ان سے فرمائیں کہ اب یہ بتاؤ کہ تم نے جو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں کیا انہیں ایسی قدرت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ضرر پہنچانا چاہے تو یہ اسے دور کردیں یا اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر رحمت فرمانا چاہے تو یہ اس کی رحمت کو روک دیں، اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دکھ تکلیف کو اس کے سواء کوئی دور نہیں کرسکتا اور اس کی رحمت کو کوئی نہیں روک سکتا، جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
بیان قدرت خداوندی وعدم استطاعت پر مدافعت عذاب :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ولئن سالتھم من خلق السموت والا رض ...... الی ....... علیھم بوکیل “۔
(ربط) مضمون سابق میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یہ فرمایا گیا تھا کہ مجرمین کو بس اللہ ہی کا عذاب سرکوبی کے لیے بہت کچھ ہے اور یہ مجرم اس عذاب خداوندہی سے کسی طرح نہیں بچ سکتے کیونکہ اللہ عزیز ذوانتقام ہے اب ان آیات میں اللہ رب العزت اپنی اس قدرت و طاقت کا ذکر فرمارہا ہے جو خود ان منکرین کو تسلیم ہے، مقصد یہ ہے کہ مشرکین کا یہ لغو اور بعید از عقل طریقہ کہ آپ ﷺ کو اپنے معبودوں سے ڈراتے ہیں اور حال یہ ہے کہ اگر ان سے پوچھو کہ آسمان و زمین کس نے پیدا کیا…
Read the full tafseer →39:۔ ” ولئن سالتھم الخ “ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے لیکن علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ اگر آپ مشرکین سے سوال کریں کہ بتاؤ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یقینا یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے، ” قل افرءیتم الخ “ یہ پہلا بڑا ثمرہ ہے۔ یہ گذشتہ دلائل توحید کا مفصل ثمرہ و نتیجہ ہے۔ دلائل سابقہ تو تم نے سن ہی لیے۔ اب ذرا سوچ سمجھ کر اور انصاف سے بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے کسی تکلیف میں مبتلا کرنا چاہے تو کیا تمہارے مزعومہ کارساز جن کو تم اللہ کے سوا مصائب میں پکارتے ہو، اللہ کی لائی ہوئی تکلیف کو دور کرسکیں گے ؟ یا اگر اللہ مجھ پر رحمت فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو مجھ سے روک سکیں گے ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور شرک کی مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام صرف ایک آقا کی ملکیت اور دوسرا کئی آقاؤں کا غلام ہے جو ہیں بھی ضدی اور جھگڑالو ، تو ظاہر ہے کہ ایک آقاوالا غلام سکون و اطمینان میں ہوگا جب کہ کئی آقاؤں کا غلام سخت مشکل میں ہوگا ، کیونکہ اسے کئی مالکوں کے انکار کی تعمیل کرنا ہوگی ، اسی طرح موحد آدمی جو صرف ایک وحدہ لا شریک کو پکارتا ہے وہ اطمینان میں ہوگا اور کئی معبودوں کا پرستار مشرک مشکل میں پھنس جائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا قیامت والے دن تم سب اکٹھے ہو کے اور آپس میں جھگڑا کرو گے ، دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ کی گئی کمی بیشی وہاں دہرائی جائے گی…
Read the full tafseer →وَلَىِٕنْ سَاَلْــتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللہُ 0 ۭ قُلْ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ اَرَادَنِيَ اللہُ بِضُرٍّ ہَلْ ہُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ اَوْ اَرَادَنِيْ بِرَحْمَۃٍ ہَلْ ہُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِہٖ 0 ۭ قُلْ حَسْبِيَ اللہُ 0 ۭ عَلَيْہِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ 38
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ.
( س ء ل ) السؤال
( س ء ل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
تفسیر : کفار مکہ کا اپنے معبودوں کی نسبت اعتقاد بڑھا ہوا تھا، ان کو نافع وضار جانتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ جو ان کو نہیں مانتا اس کو برباد کردیں گے۔ عامہ ہنود کا بھی کالی بھوانی وغیرہما کی نسبت اب تک یہی اعتقاد ہے، اس لیے وہ اپنے معبودوں کی برائی سن کر نبی ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے، چناچہ عبدالرزاق نے معمر سے نقل کیا ہے کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے حضرت ﷺ سے کہا تھا یا تو ہمارے معبودوں کی برائی سے باز آؤ ورنہ ہم ان سے کہہ دیں گے وہ تم کو سڑی کردیں گے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ اس خیال کے غلط کرنے کو اول اپنی مدد اور حمایت کا بھروسہ دلاتا ہے۔ فقال الیس اللہ بکاف عبدہ کہ کیا خدا اپنے بندے…
Read the full tafseer →وَلَئِنْ سَاَلْتَھُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط قُلْ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ھَلْ ھُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ھَلْ ھُنَّ مُمْسِکٰتُ رَحْمَتِہٖ ط قُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ ط عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُوْنَ ۔ (الزمر : 38)
(اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ کہیں گے اللہ نے، آپ ان سے کہئے کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ یہ چیزیں جن کو تم پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو یہ کیا مجھے اس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی یا اللہ مجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ کی توحید اور دین حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں سے ایک سوال۔
قرآن مجید نے اللہ کی توحید سمجھانے اور دین حق کی پہچان کروانے کے لیے ہر زاویہ سے کوشش فرمائی ہے کہ لوگ اللہ کی توحید کا اقرار کریں جو دین حق کی مرکزی اور پہلی اساس ہے۔ مشرکین کی سوئی ہوئی حِس کو بیدار کرنے کے لیے سوال کیا جارہا ہے کہ اے حبیب ﷺ ! اگر آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اب ان سے پھر سوال کریں کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سواپکارتے ہو اگر مجھے اللہ کی طرف سے تکلیف پہنچے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ؟ اگر میرا رب…
Read the full tafseer →بتوں کے حملہ سے تو اللہ بچائے مگر اللہ تعالیٰ کی اتاری تکلیف سے تمہیں کون بچائے گا۔
قراءت : حمزہ کے علاوہ باقی قراء نے ارادنی یاء کے فتحۃ سے پڑھا۔ الضر سے مرض یا فقر یا اس کے علاوہ کوئی تکلیف مراد ہے۔
رحمت سے صحت یا مالداری اسی طرح کی اور چیزیں مراد ہیں۔
کاشفات ضرہ، اور ممسکات رحمتہ کو بصری نے تنوین کے ساتھ اصل کی بنیاد پر پڑھا ہے۔ مسئلہ کو بطور فرض کے اپنی ذات کے سلسلہ میں ذکر فرمایا کیونکہ کفار آپ کو بتوں کے مجنون بنا دینے اور حملہ آور ہونے سے ڈراتے تھے۔ پس آپ کو حکم دیا گیا کہ پہلے ان کے سامنے بار دیگر فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا تمام جہان کا خالق ہے۔ پھر اس بات کے پختہ کرنے کے بعد…
Read the full tafseer →38، ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ قل افرایتم ماتدعون من دون اللہ ان ارادنی اللہ بضر، سختی اور مصیبت۔ ، ھل ھن کاشفات ضرہ اوارادنی برحمۃ، نعمت اور برکت کے ساتھ ، ھل ھن ممسکات رحمۃ، اہل بصرہ نے، کاشفات، اور، ممسکات، کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اور ، ضرہ، اور ، رحمۃ، کو راء اور تاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر تنوین اور راء اور تائ کی زیر کے ساتھ اضافت کے ساتھ پڑھا ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو وہ خاموش ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو فرمایا کہ، قل حسبی اللہ، میرا بھروسہ اور اعتماداسی پر ہے۔ ، علیہ یتوکل المتوکلون،…
Read the full tafseer →38۔ صحیح بخاری 1 ؎ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا رنج قوم کے لوگوں کو بہت تھا شیطان نے موقعہ پا کر قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی صورت کے بت بنا کر نگاہ کے رو برو رکھ لئے جاویں۔ تو ان نیک لوگوں کے آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا رنج کچھ کم ہوجاوے گا۔ قوم کے لوگوں نے اس شیطانی وسوسہ کے موافق عمل کیا۔ اور پھر رفتہ رفتہ اس ملعون نے اس وسوسہ سے جہان میں یہ بات پھیلائی کہ جو کوئی نیک لوگوں کی مورتوں کو پوجے گا تو یہ نیک لوگ بارگاہ الٰہی میں اس کی شفاعت کریں گے۔ اسی واسطے مشرک لوگ پشت در پشت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
آیت 38
یعنی اگر آپ ان گمراہ لوگوں سے پوچھیں، جو آپ کو اللہ کے سوا خود اسختہ معبودوں سے ڈراتے ہیں جبکہ آپ نے ان کے خلاف انہی کے نفسوں سے دلیل قائم کی ہے اور ان سے کہیں : (من خلق السموت والارض) ” آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ “ تو یہ مشرکین اس بات کو ثابت کرنے سے قاصر رہیں گے کہ ان کی تخلیق میں ان کے معبودوں کا کچھ حصہ ہے۔ (لقولن اللہ) وہ ضرور کہیں گے کہ اس کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا۔ (قل) اللہ تعالیٰ کی قدرت واضح ہونے کے بعد ان کے معبودوں کی بےبسی ثابت کرتے ہونے کہہ دیجیے : (افر یتم) مجھے بتاؤ (ماتدعون من دون اللہ ان ارادنی اللہ بضر) ” جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
77 اللہ کی عطا و بخشش کو کوئی روک نہیں سکتا : کہ سب کچھ اسی وحدہ لا شریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور جس کو اللہ راہ راست پر لے آئے اس کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا "۔ یعنی جس کو وہ نور حق و ہدایت سے سرفراز فرما دیتا ہے اس کے صدق و اخلاص اور طلب صادق کی بنا پر۔ تو اس سے اس کی اس نعمت کو کوئی چھین نہیں سکتا۔ سو ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے۔ اسی کی بخشش و عنایت سے ملتی ہے اور اسکا اصل مدارو انحصار انسان کے باطن اور اس کے قلب و نیت پر ہے۔ جسکے قلب و باطن کی دنیا درست ہوگی اور اس کے اندر نور حق و ہدایت کیلئے تڑپ اور طلب صادق پائی جائے گی وہ واہب مطلق اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
سچوں اور جھوٹوں کے احوال
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ مومن کی شان بہت بلند ہے اس کا رتبہ بڑا اونچا ہے اور اس پہ زندگی پُر وقار اور آخرت کی زندگی پُر آسائش، آرام دہ، بہترین اور ہمیشہ رہنے والی ہوگی ایسا کیوں نہ ہو کہ جب مومن کا آقا بہترین ہے جو مالک کون و مکان، واحدہ لا شریک، سب پر غالب، مالک یوم الدین، بہترین انصاف کرنے والا، شاندار عالی مرتبہ، غفور ورحیم، نعمتیں اور برکتیں دینے والا اور جنت و دوزخ کا مالک تو بھلا اس قدر علیم وخبیر اپنے بندوں کو کبھی اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ البتہ اللہ سے منکر ہونے والوں کی یہ دنیا بھی خراب اور آخرت کی دنیا تو بہت ہی خراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 41:
اسرار و معارف :
اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے اور اس کے ساتھ دوشرے شریک ماننے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے یا پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی کے پاس حق بات پہنچے اور وہ اسے جھٹلا دے تو اس کی سزا بھی یقیناً یہی ہے کہ کافروں کو جہنم میں ٹھکانہ دیا جائے ان کے مقابل جو بھی حق بات کرے اللہ کا رسول یا آپ ﷺ سے حاصل کرکے کوئی مسلمان اور پھر دوسرا جو اس کی تصدیق کرے اور اسے سچ مانے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا تعلق اللہ سے ہے۔ ان کا فیصلہ روز حشر یہ ہوگا کہ جو نعمت چاہیں گے ملے گی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ایسے ہی نوازا جائے گا بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی…
Read the full tafseer →ف 12 مقاتل کہتے ہیں کہ یہ جملہ یعنی ” حسبی اللہ “ اس وقت نازل ہوا جب نبی ﷺ نے کفار مکہ سے مذکورہ دونوں سوال کئے اور وہ جواب میں خاموش رہے۔ ( شوکانی)13 حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص یہ چاہے کہ سب لوگوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کرے اور جو شخص یہ چاہے کہ سب لوگوں سے زیادہ غنی ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر زیادہ تکیہ کرلے اس مال و دولت جو اس کے پاس موجود ہے اور جو شخص یہ چاہے کہ وہ سب لوگوں سے زیادہ عزت والا ہو، اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار نہ کرے۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(39:38) سالتھم : میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔
لیقولن : لام تاکید کے لئے ہے یقولن مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر غائب وہ ضرور کہیں گے۔
اللّٰہ فعل محذوف کا فاعل ہے ای خلقہن اللّٰہ اللہ تعالیٰ نے ان (ارض و سماوات) کو پیدا کیا ہے۔
قل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ای قل یا محمد ﷺ
افرایتم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ جب یہ رایتم پر داخل ہوتا ہے تو اخبرونی (مجھے خبر دو ) کے معنی دیتا ہے۔ الفاء شرط مقدر کے جواب میں ہے۔ ای اذا کان خالق العالم العلوی واسفلی ھو اللّٰہ عزوجل کما اقررتم فاخبرونی۔ جب جیسا کہ تم نے اقرار کرلیا ہے کہ عالم بالا اور عالم زیریں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو پھر مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41 : سالت (تو نے پوچھا) کاشفت ( کھولنے والے) ممسکت ( روکنے والے) حسبی ( مجھے کافی ہے) یخزی (ذلیل و رسوا کرتا ہے) یحل ( حلال ہوتا ہے) عذاب مقیم ( نہ ٹلنے والا عذاب) وکیل ( کام بنانے والا)
تشریح آیت نمبر 38 تا 41 :۔ جیسا کہ اس سے پہلی آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ کفار و مشرکین نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ہمارے بتوں کو برا نہ کہا کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے یہ معبود ناراض ہو کر آپ کو کوئی شدید نقصان پہنچا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ ان کفار سے یہ پوچھئے کہ یہ زمین و آسمان اور اس کے اس نظام کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کیا اس اللہ نے پیدا نہیں کیا جس کے ہاتھ…
Read the full tafseer →روح کابیان۔
(ف 1) اگر تم ان کفار سے پوچھو گے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے پس تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ مخلوقات کے پیدا کرنے میں جب ان بتوں کا کچھ دخل نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی تکلیف کو ٹال دینے یا راحت کو تکلیف سے بدل دینے میں نہ ان کو کچھ دخل ہے ، نہ ان کے نقصان پہنچانے سے میں کچھ ڈرتا ہوں مجھ کو تو فقط اللہ ہی کافی ہے جس پر سب کا بھروسہ ہے اور جس کے اختیار میں ساری مخلوقات کا نفع اور نقصان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
[24] مشرکین نبی کو اپنے بتوں کے قہروغضب سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ بتوں کی برائی بیان کرنے سے باز آجائیں ورنہ وہ آپ کو نقصان پہنچائیں گے یا ہلاک کردیں گے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
بےاختیار بت
3: بت پرستوں اس حقیقت واقعہ سے آگاہ فرمایا ہے ۔ کہ جہاں تک کائنات نظام حیات کا تعلق ہے ۔ یہ تمہارے دیوتا اور معبود محض بےکار ہیں ۔ ان کو اس کارگاہ عمل میں کوئی اختیار حاصل نہیں ۔ اگر میں کسی دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہوجاؤں تو کیا وہ اس روگ کو دور کرسکتے ہیں ؟ اور میری مصیبتوں کو مسرتوں اور خوشیوں سے بدل سکتے ہیں ۔ اور اگر اللہ کا مجھ پر فضل ہو ۔ تو کیا اس کو اپنے اختیارات سے روک سکتے ہیں ۔ یہ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے ۔ تو پھر مجھے کیوں اس بودے عقیدے کی طرف بلاتے ہو ۔ کہ میں بےاختیار بتوں کے سامنے جھکوں ۔
حل لغات :۔ بکاف ۔ یعنے صاحب کفایت ۔ کافی ذی انتقام ۔ سزادینے والا ۔ عربی میں…
Read the full tafseer →(38) اور اگر آپ ان سے اے پیغمبر سوال کریں اور دریافت کریں کہ بھلا آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہ اس کا جواب یقینا یہی دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں آپ ان سے فرمائیے کہ بھلا یہ تو بتائو کہ جن معبودوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف اور دکھ پہنچانا چاہے تو کیا یہ تمہارے معبود اس کے بھیجے ہوئے ضرر اور دکھ کو مجھ سے دور کرسکتے ہیں اور دکھ کو ہٹا سکتے ہیں یا اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی مہربانی کرنی چاہے تو کیا تمہارے وہ معبود اس کی مہربانی کو مجھ سے روک سکتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو کافی ہے بھروسہ کرنے والوں کو چاہیے کہ اسی کی…
Read the full tafseer →ف 3۔ پس میں بھی اسی پر توکل رکھتا ہوں اور تمہارے خلاف وعناد کی کچھ پروا نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →آپ ان سے سوال کریں کہ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ تو کہیں گے اللہ
38۔ غور کا مقام ہے کہ قریش مکہ کو خود قرآن کریم نے مشرک کہہ ہے اور ایک بار نہیں بار بار کہا ہے اور پھر خود ہی ان مشرکوں سے باربار یہ سوال کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کو ان سے سوال کرنے کا ارشاد فرمایا ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں بھی کہا گا ہے اور اس سے قبل سورة العنکبوت کی آیت 61 ، 63 ، سورة لقمان کی آیت 25 میں بھی ان سے اسی طرح سوال کرنے کا فرمایا گیا ہے اور جب بھی سوال کیا ہے خود ہی اس کا جواب دے دیا گیا کہ یہ لوگ آپ سے ضرور کہیں گے کہ ” آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا اللہ ہے “ اور یہ جواب اس لیے دیا ہے کہ وہ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
Commentary
In the first verse (36), it was said: أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (Is Allah not sufficient for (the protection of) His slave?). This verse was revealed in the background of an event. The disbelievers had threatened the Holy Prophet ﷺ and his noble Sahabah by saying that, should they act irreverently against their idols, they would never escape the curse of these idols, something very lethal to face. In reply, they were told: Is Allah not sufficient for His slave?
Therefore, some commentators have taken: عَبْدَه (abdahu: His slave) here to mean a particular slave of Allah,…
Read the full tafseer →57 Ibn Abi Hatim has related from Ibn `Abbas that the Holy Prophet said: 'The person who desires that he should become most powerful among men should repose his trust in Allah; and the person who desires that he should become the wealthiest among men should have more trust in that which is with Allah than that which is in his own hand; and the person who desires that he should become most honourable among men should fear Allah Almighty."
Read the full tafseer →