Explained with ayahs 36–40
بھروسہ کے لائق صرف اللہ عزوجل کی ذات ہے۔
ایک قرأت میں (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 36ۚ) 39۔ الزمر :36) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندے کو کافی ہے۔ اسی پر ہر شخص کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اس نے نجات پالی جو اسلام کی ہدایت دیا گیا اور بقدر ضرورت روزی دیا گیا اور قناعت بھی نصیب ہوئی (ترمذی وغیرہ) اے نبی ﷺ یہ لوگ تجھے اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں۔ یہ ان کی جہالت و ضلالت ہے، اور اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، جس طرح اللہ کے راہ دکھائے ہوئے شخص کو کوئی…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 55
کفار مکہ نبی ﷺ سے کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے معبودوں کی شان میں گستاخیاں کرتے ہو اور ان کے خلاف زبان کھولتے ہو۔ تمہیں معلوم نہیں ہے کہ یہ کیسی زبردست با کرامت ہستیاں ہیں۔ ان کی توہین تو جس نے بھی کی وہ برباد ہوگیا۔ تم بھی اگر اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو یہ تمہارا تختہ الٹ دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
خلاصہ تفسیر
کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ (خاص محمد ﷺ کی حفاظت) کے لئے کافی نہیں (یعنی وہ تو سب ہی کی حفاظت کے لئے کافی ہے تو اپنے محبوب خاص بندے کے لئے کیوں کافی نہ ہوگا) اور یہ لوگ (ایسے احمق ہیں کہ حفاظت خداوندی سے تجاہل کر کے) آپ کو ان (جھوٹے معبودوں) سے ڈرانے والے ہیں جو خدا کے سوا (تجویز کر رکھے) ہیں (حالانکہ وہ خود بےجان عاجز ہیں اور قادر بھی ہوتے تو خدا کی حفاظت کے مقابلہ میں عاجز ہی ہوتے) اور (اصل بات یہ ہے کہ) جس کو خدا گمراہ کرے اس کا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں اور جس کو وہ ہدایت دے اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں (آگے خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا ذکر کر کے ان کی حماقت کو ظاہر کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
6۔ آگے کا مضمون آیات 52-36
آگے نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جو لوگ تمہیں اپنے دیویوں دیوتائوں سے ڈرا رہے ہیں ان کو بتا دو کہ اس رب کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے کوئی بھی مجھے نہ نفع پہنچا سکتا نہ نقصان وہ جو کچھ کرسکتے ہیں، ان سے کہو کہ وہ کر دیکھیں تم اپنا کام بےخوف و خطر کئے چلے جائو تمہارے اوپر صرف تمہارے فرض کی ذمہ داری ہے ان کے کفر و ایمان کی کوئی ذمہ داری متہارے اوپر نہیں ہے۔ اگر ان لوگوں و مزعومہ شفاعت پر بھروسہ ہے تو اس کی حقیقت بھی ان پر واضح کردو اور اگر ان کو اپنی موجودہ دنیوی کامیابیوں کا غرہ ہے تو اس کے بےثباتی بھی ان کو بتا دو … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
7۔ الفاظ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
36۔ 1 اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے، تمام انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین اس میں شامل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کو غیر اللہ سے ڈراتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب آپ کا حامی و ناصر ہو تو آپ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ ان سب کے مقابلے میں آپ کو کافی ہے
۔ 36۔ 2 جو اس گمراہی سے نکال کر ہدایت کے راستے پر لگا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–41
13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
درس نمبر 220 ایک نظر میں
اس سورت کا یہ سفر تمام اسفار سے زیادہ طویل اور وسیع ہے۔ اس میں عقیدہ توحید کو مختلف زاویوں سے لیا گیا ہے اور اس کے بارے میں نہایت ہی حساس دلائل دیئے گئے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی متنوع دلائل ہیں۔ اس سبق کا آغاز ایک سچے مومن کی قلبی کیفیات سے کیا گیا ہے ، جو صرف اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔ اللہ ہی کو بڑی قوت سمجھتا ہے اور اللہ کے سوا تمام حقیر اور کمزور قوتوں کو خاطر ہی میں نہیں لاتا۔ اس لیے وہ ان تمام قوتوں سے قطع تعلق کرکے اپنے امور اور ان کے امور کا فیصلہ قیامت کے دن پر چھوڑ دیتا ہے اور وہ اپنے راستے پر ثابت قدمی ، اعتماد اور یقین کے ساتھ گامزن رہتا ہے۔
اس کے بعد حضور اکرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
4 چند آیات پہلے (ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْهِ شُرَكَاۗءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 39 ۔ الزمر :29) میں شرک کا رد اور مشرکین کا جہل بیان کیا گیا تھا۔ اس پر مشرکین پیغمبر (علیہ السلام) کو اپنے بتوں سے ڈراتے تھے کہ دیکھو تم ہمارے دیوتاؤں کی توہین کر کے ان کو غصہ نہ دلاؤ۔ کہیں تم کو (معاذ اللہ) بالکل خبطی اور پاگل نہ بنادیں۔ اس کا جواب دیا کہ جو شخص ایک زبردست خدا کا بندہ بن چکا، اسے ان عاجز اور بےبس خداؤں سے کیا ڈر ہوسکتا ہے ؟ کیا اس عزیز منتقم کی امداد و حمایت اس کو کافی نہیں جو…
Read the full tafseer →آیت 36 { اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ } ”کیا اللہ کافی نہیں ہے اپنے بندے کے لیے ؟“
یہاں بالخصوص نبی اکرم ﷺ اور تبعاً اہل ِایمان کی تسلی مقصود ہے کہ آپ لوگ مطمئن رہیں ‘ اللہ آپ کی مدد اور حفاظت کے لیے کافی ہے۔ لیکن بات میں زور پیدا کرنے کے لیے سوالیہ انداز اختیار فرمایا گیا ہے۔
{ وَیُخَوِّفُوْنَکَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ } ”اور اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آپ کو ڈراتے ہیں ان سے جو اس کے علاوہ ان کے معبود ہیں۔“
یہ لوگ اپنے جھوٹے معبودوں کی طرف سے آپ علیہ السلام کو دھمکیاں دیتے ہیں کہ آپ پر ان کی کوئی پھٹکار پڑجائے گی۔ اسی طرح سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی آپ علیہ السلام کی قوم نے دھمکی دی تھی…
Read the full tafseer →52 مشرکوں کا اپنے معبودوں کے انتقام سے ڈرنا :۔ اس جملہ کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں۔ جو اکثر آپ سے کہا کرتے تھے کہ ہمارے معبودوں کی توہین کرنا چھوڑ دو ۔ ان کی شان میں جس کسی نے گستاخی کی وہ تباہ و برباد ہو کے رہ گیا۔ لہذا اگر تم ایسی باتوں سے باز نہ آئے تو تمہارا بھی یہی حشر ہوگا۔ اسی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو کافی نہیں ؟ واضح رہے کہ یہ خطاب صرف مشرکین مکہ کے لئے مختص نہیں بلکہ ہر دور کے اور ہر جگہ کے مشرکوں کے لئے ہے۔ دور کیوں جائیں۔ اپنے ہاں کے ہی اولیاء اللہ کے متداول تذکرے ملاحظہ فرما لیجئے۔ ان میں آپ کو ایسا خاصا مواد مل جائے گا کہ فلاں شخص نے فلاں…
Read the full tafseer →47۔ مشرکین عرب کے کمال حمق کا بیان ہے۔ اللہ کے نام سے ایک معبود اعظم کے وہ بھی قائل تھے۔ باوجود اس کے رسول اللہ ﷺ کو اپنے گڑھے ہوئے دیوی دیوتاؤں کے قہر وغضب وانتقام سے ڈراتے تھے۔ ان دیوتاؤں کا اولا تو وجود ہی فرضی ووہمی اور پھر اگر حقیقی بھی ہو تو خود انہیں لوگوں کے مسلمات کے لحاظ سے یہ خدائے اعظم کے مقابلہ میں تو پست اور ہیچ ہی تھے۔ آیت کا مفہوم وسیع تر بھی ہے۔ اہل حق کو اہل باطل طرح طرح پر دھمکیاں دیتے آئے اور ڈراتے آئے ہیں، کبھی اپنے دیوی دیوتاؤں سے ڈراتے ہیں اور کہیں دنیوی حکومت وقوت سے۔ قرآن مجید جواب دیتا ہے کہ کائنات کی ہر ممکن مخالفانہ قوت سے دفاع کے لئے حق تعالیٰ خود بالکل کافی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
آیت نمبر 32 تا 41
ترجمہ : اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو اللہ پر (یعنی) اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرے جھوٹ باندھے اور سچ یعنی قرآن جب اس کے پاس آئے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ہاں کیوں نہیں ؟ اور جو شخص سچی بات لایا اور وہ نبی ﷺ ہیں اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہ مومن ہیں الَّذی، الَّذِیْنَ کے معنی میں ہے یہی ہیں شرک سے بچنے والے لوگ ان کیلئے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے ایمان کے ذریعہ اپنے اوپر احسان کرنے والوں کا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور انہوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کا اچھا صلہ دے…
Read the full tafseer →الیس اللہ بکاف عبدہ کیا اللہ اپنے بندے (یعنی محمد ﷺ کی حفاظت اور نصرت) کیلئے کافی نہیں ہے ؟
استفہام انکاری ہے اور انکار نفی ‘ پرزور ثبوت پر دلالت کرتا ہے ‘ یعنی ضرور کافی ہے۔
ویخوفونک بالذین من دونہ ومن یضلل اللہ فما لہ من ہاد۔ اور یہ لوگ آپ کو ان (جھوٹے معبودوں) سے ڈراتے ہیں جو اللہ کے سوا (انہوں نے بنا رکھے) ہیں
Read the full tafseer →کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندہ خاص محمد کی حفاظت کے لیے یا یہ کہ حضرت خالد بن ولید کی حفاظت کے لیے کافی نہیں۔
اور یہ آپ کو ان جھوٹے معبودوں یعنی لات و عزی وغیرہ سے جو اللہ کے سوا ہیں ڈراتے ہیں۔ چناچہ آپ سے کہتے ہیں کہ ان بتوں کو برا بھلا مت کہو ورنہ آپ کو پریشان کردیں گے اور جسے اللہ تعالیٰ اپنے دین سے گمراہ کرے یعنی ابوجہل وغیرہ اسے کوئی دین خداوندی کا راستہ بتانے والا نہیں۔
شان نزول : وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ (الخ)
عبدالرزاق نے محمد سے روایت کی ہے کہ مجھے ایک شخص نے بیان کیا کہ کفار مکہ نے رسول اکرم سے کہا کہ آپ ہمارے بتوں کو برا بھلا کہنے سے باز آجائیں ورنہ ہم اپنے بتوں سے…
Read the full tafseer →اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ : اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ وہ مومنوں کو جنت میں جو چاہیں گے عطا کرے گا اور ان کے بدترین اعمال دور کرے گا، ساتھ ہی بیان فرمایا کہ دنیا میں بھی وہ انھیں تمام کاموں کے لیے کافی ہوجائے گا اور تمام دشمنوں سے بھی کافی ہوجائے گا۔ اس بات کو نہایت قوت اور زور سے بیان کرنے کے لیے اسے سوالیہ انداز میں بیان فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ؟ یعنی یقیناً وہ اپنے بندے محمد ﷺ کے لیے اور اپنے ہر بندے کے لیے کافی ہے۔
وَيُخَوِّفُوْنَكَ بالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ۔۔ : کافر رسول اللہ ﷺ کو اپنے معبودوں سے ڈراتے اور کہتے کہ ہمارے معبودوں کی برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36 ۔ 37:۔ الیس اللہ بکاف عبدہ ‘۔ کاف سے یاء حذف کردی گئی ہے کیونکہ یاء خود بھی ساکن ہے اور اس کے بعد تنوین بھی ساکن ہے اصل تو یہ تھا کہ وقف میں یاء کو حذف نہ کیا جاتا کیونکہ تنوین زائل ہے مگر اسے حذف کردیا گیا ہے تاکہ عملم ہو کہ فصل میں بھی یہی صورتحال ہے عربوں میں ایسے بھی ہیں کہ وقف کی صورت میں بھی یاء کو باقی رکھتے ہیں وجہ اس کی اصل کو ملحوظ رکھنا ہے وہ کہتے ہیں : کافی عام قراء کی قراءت عبدہ ہے مراہ حضور ﷺ کی ذات ہے اللہ تعالیٰ کی ذات مشرکین کی وعید اور ان کے مکر کے لئے کافی ہے۔ حمزہ اور کسائی نے عبادہ پڑھا ہے (1) وہ انیباء ہیں یا انبیاء اور مومن ہیں۔ ابو عبید نے جمع کے صیغہ کی قراءت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الیس اللہ بکاف عبدہ “ (اپنے بندے کے لئے کیا اللہ کافی نہیں ہیں) میں عبد سے مراد محمد ﷺ ہیں۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھے ایک آدمی نے کہا کہ مشرکوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا، آپ ہمارے مبعودوں کو برا کہنے سے باز آجائیے کیا تو ان کو حکم دے گا تو وہ تجھ کو مخبط الحواس بنادیں گے تو یہ (آیت) ” ویخوفونک بالذین من دونہ “ نازل ہوئی (اور وہ آپ ﷺ کو ڈراتے ہیں اللہ کے علاوہ جھوٹے خداؤں سے)
3:۔ عبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویخوفونک بالذین من دونہ “…
Read the full tafseer →اَلَيْسَ اللّٰهُ [کیا اللہ ] بِكَافٍ [کفایت کرنے والا نہیں ہے ] عَبْدَهٗ ۭ [اپنے بندے کی ] وَيُخَوِّفُوْنَكَ [اور یہ لوگ ڈراتے ہیں آپ ﷺ کو ] بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۭ [ان سے جو اس (اللہ) کے علاوہ ہیں ] وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ [اور جس کو بھٹکا دے اللہ ] فَمَا لَهٗ [تو نہیں ہے اس کے لئے ] مِنْ هَادٍ [کوئی بھی رہنمائی کرنے والا ] ۔
Read the full tafseer →بندہ کو اللہ کافی ہے، اللہ کے سوا تکلیف کو کوئی دور نہیں کرسکتا اور اس کی رحمت کو کوئی روک نہیں سکتا
جب رسول اللہ ﷺ مشرکین کو توحید کی دعوت دیتے تھے وہ لوگ برا مانتے تھے ایک دن ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ دیکھو ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑ دو ورنہ ہم اپنے معبودوں سے کہیں گے کہ تمہیں ایسا کردیں کہ تمہارے ہوش و حواس قائم نہ رہیں، اس پر آیت کریمہ (اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہُ ) نازل ہوئی۔
اور بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خالد بن لید ؓ کو بھیجا تھا کہ عزیٰ بت کو توڑ دیں جب یہ وہاں پہنچے تو وہاں کے بت خانہ کا جو ذمہ دار بنا ہوا تھا اس نے کہا دیکھو میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں اس بت کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
تنبیہ وتہدید بر تکذیب حق وصداقت وبیان حسرت وملال مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ ..... الی ..... بعزیز ذی انتقام :
(رابط) گذشتہ آیات میں موحد و مشرک کی حقیقت ایک مثال کے رنگ میں بیان کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا کہ شرک کا انجام سوائے حیرت و اضطراب اور ناکامی کے اور کچھ نہیں حقیقی اطمینان و سکون وانسان کی اصل فلاح وسعادت توحید خداوندی اور صرف اپنے ایک ہی رب کے ساتھ رشتہ حیات وابستہ کرلینے میں ہے اب ان آیات میں ان بد نصیبوں پر تنبیہ فرمائی جارہی ہے جن کا کام اللہ پر بہتان باندھنا اور اللہ کے رسولوں کی تردید وتکذیب کرنا ہے اور یہ کہ ایسے بدنصیب تباہی سے کبھی نہیں بچ…
Read the full tafseer →37:۔ ” الیس اللہ بکاف عبدہ “ یہ تنبیہہ ہے مشرکین کو جو آنحضرت ﷺ کو اپنے معبودوں سے ڈراتے تھے متنبیہ اور خبردار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ خاص محمد ﷺ کے لیے کافی ہے جو ہر خوف و خطر سے محفوظ رکھے گا۔ ” ویخوفونک الخ “ دلائل، ثمرات اور تنبیہہ کے بعد مشرکین کے خیال خام کا رد فرمایا۔ مشرکین آنحضرت ﷺ کو دھمکی دیتے تھے کہ آپ ہمارے معبودوں کی توہین کرتے ہیں۔ آپ اس سے باز آجائیں ورنہ وہ آپ کو تکلیف پہنچائیں گے۔ قالوا : اتسب الھتنا ؟ لئن لم تکف عن ذکرھا لتخبلنک او تصیبنک بسوء (قرطبی ج 15 ص 658) ۔ اس کا تفصیلی رد آگے ثمرہ میں آرہا ہے۔ ” ومن یضلل الخ “ ان کا یہ خیال سراسر گمراہی پر مبنی ہے۔ بھلا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور شرک کی مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام صرف ایک آقا کی ملکیت اور دوسرا کئی آقاؤں کا غلام ہے جو ہیں بھی ضدی اور جھگڑالو ، تو ظاہر ہے کہ ایک آقاوالا غلام سکون و اطمینان میں ہوگا جب کہ کئی آقاؤں کا غلام سخت مشکل میں ہوگا ، کیونکہ اسے کئی مالکوں کے انکار کی تعمیل کرنا ہوگی ، اسی طرح موحد آدمی جو صرف ایک وحدہ لا شریک کو پکارتا ہے وہ اطمینان میں ہوگا اور کئی معبودوں کا پرستار مشرک مشکل میں پھنس جائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا قیامت والے دن تم سب اکٹھے ہو کے اور آپس میں جھگڑا کرو گے ، دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ کی گئی کمی بیشی وہاں دہرائی جائے گی…
Read the full tafseer →اَلَيْسَ اللہُ بِكَافٍ عَبْدَہٗ 0 ۭ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِہٖ 0 ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ 36ۚ
كفى
الكِفَايَةُ : ما فيه سدّ الخلّة وبلوغ المراد في الأمر . قال تعالی: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ
[ الأحزاب/ 25] ، إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] . وقوله : وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] قيل : معناه : كفى اللہ شهيدا، والباء زائدة . وقیل : معناه : اكْتَفِ بالله شهيدا «1» ، والکُفْيَةُ من القوت : ما فيه كِفَايَةٌ ، والجمع : كُفًى، ويقال : كَافِيكَ فلان من رجل، کقولک : حسبک من رجل .
( کی ) الکفایۃ
وہ چیز جس سے ضرورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
تفسیر : کفار مکہ کا اپنے معبودوں کی نسبت اعتقاد بڑھا ہوا تھا، ان کو نافع وضار جانتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ جو ان کو نہیں مانتا اس کو برباد کردیں گے۔ عامہ ہنود کا بھی کالی بھوانی وغیرہما کی نسبت اب تک یہی اعتقاد ہے، اس لیے وہ اپنے معبودوں کی برائی سن کر نبی ﷺ کو ڈرایا کرتے تھے، چناچہ عبدالرزاق نے معمر سے نقل کیا ہے کہ مجھ سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ مشرکین نے حضرت ﷺ سے کہا تھا یا تو ہمارے معبودوں کی برائی سے باز آؤ ورنہ ہم ان سے کہہ دیں گے وہ تم کو سڑی کردیں گے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ اس خیال کے غلط کرنے کو اول اپنی مدد اور حمایت کا بھروسہ دلاتا ہے۔ فقال الیس اللہ بکاف عبدہ کہ کیا خدا اپنے بندے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ ط وَیُخَوِّفُوْنَـکَ بِالَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَـہٗ مِنْ ھَادٍ ۔ وَمَنْ یَّھْدِاللّٰہُ فَمَا لَـہٗ مِنْ مُّضِلٍّ ط اَلَیْسَ اللّٰہُ بِعَزِیْزٍ ذِی انْتِقَامٍ ۔ (الزمر : 36، 37)
(اے پیغمبر ! کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے، یہ آپ کو اس کے سوا دوسروں سے ڈراتے ہیں، اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور جس کو اللہ ہدایت دے تو اس کو کوئی گمراہ کرنے والا نہیں، کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں۔ )
قریش کی ایک فطری گمراہی کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی
قریش کی ایک فکری گمراہی کے حوالے سے نبی کریم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
فہم القرآن
ربط کلام : حق کی تصدیق اور تبلیغ کرنے والوں کے لیے آخرت کے اجر کے ساتھ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دستگیری کا اعلان۔
حق بات کو قبول اور اس کا پرچار کرنا بالخصوص توحید باری تعالیٰ کا پرچار کرنا ہمیشہ سے مشکل ترین کام رہا ہے۔ جس شخص نے بھی توحیدِباری تعالیٰ کا پرچار کرنے کی کوشش کی۔ کفر و شرک کے دلدادہ لوگوں نے اس کا جینا دوبھر کردیا۔ اس راستے میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا انبیائے کرام (علیہ السلام) کو کرنا پڑا۔ مشرکین نے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو جسمانی اذّیتوں میں مبتلا کرنے کے ساتھ انہیں اعصابی اور فکری طور پر توڑے دینے کی کوشش کی۔ ” اللہ “ کی توحید کا پرچار اور حق کے…
Read the full tafseer →مان لو ورنہ انتقام الٰہی تمہارا منتظر ہے : اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۔ ہمزہ استفہام انکاری کو حرف نفی پر داخل کیا گیا۔ جس سے کفایت کا اثبات اور پختگی ہوگئی۔ عبدہ سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں۔
قراءت : حمزہ، علی نے عباد پڑھا ہے۔ اس صورت میں انبیاء مومنین مراد ہونگے۔ یہ اس ارشاد کی طرح ہے۔ انا کفیناک المستہزئین (الحجر :95) ۔
وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۔ یعنی ان بتوں سے جنو کو انہوں نے اس کے سوا معبود تجویز کر رکھا ہے۔ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے کہا ہمارے معبود تمہیں نقصان پہنچائیں گے اور مخبوط الحواس کردیں گے کیونکہ تم ان کے عیب نکالتے ہو۔
Read the full tafseer →36، الیس اللہ بکاف عبدہ ، یعنی محمد ﷺ اور ابوجعفر اور حمزہ اور کسائی رحمہم اللہ نے (عبادہ) جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی انبیاء (علیہم السلام) ۔ ان کی قوم نے ان کے بارے میں برائی کا ارادہ کیا۔ جیسا کہ خود باری تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ، وھمت کل امۃ برسولھم لیا خذوہ، تو اللہ تعالیٰ ان کون کے دشمنوں کے شر سے کافی ہوگیا۔ ، ویخوفونک بالذین من دونہ، اور یہ کو برابھلا کہنے سے باز آجائیں یا آپ کو ان کی طرف سے جنون یا کوئی مصیبت پہنچے گی۔ ، ومن یضلل اللہ فمالہ من ھاد،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ 37۔ جن آیتوں میں مشرکین مکہ کے بتوں کی مذمت ہوتی تھی ان آیتوں کو سن کر یہ مشرک لوگ اللہ کے رسول ﷺ کو اپنے ٹھاکروں کی طرف ڈراتے تھے کہ ان مشرکوں کے ٹھاکر آپ کو کوئی نقصان پہنچا دیویں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر ارشاد فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول کی حمایت کے لئے کافی ہے بغیر مرضی اللہ کی کسی کی کیا مجال ہے جو اللہ کے رسول کو کچھ نقصان پہنچا سکے۔ مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکوں کو اپنے ٹھاکروں کی بےبسی معلوم ہوچکی ہے اس پر بھی یہ لوگ اپنے ٹھاکروں کو صاحب اختیار جو گنتے ہیں اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کے علم غیب میں یہ لوگ گمراہ ٹھہر چکے ہیں کیونکہ جو لوگ اللہ کے علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت 36
(الیس اللہ بکاف عبدہ) ” کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے۔ “ یعنی کیا یہ اللہ کا اپنے اس بندے پر جو دو کرم اور اس کی عنایت نہیں جو اس کی عبودیت پر قائم ہے، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ بندہ جو تمام مخلوق میں عبودیت کے کامل ترین مرتبے پر فائز ہے، یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور میں ان کے لئے کافی ہوگا اور جو کوئی آپ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے آپ کی مدافعت کرے گا۔ (ویخوفونک بالذین من دونہ) یعنی یضلل اللہ فمالہ من ھاد ومن یھد اللہ فمالہ من مضل) ” اور اللہ جسے گمراہی میں مبتلا کر دے تو کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →75 اللہ کافی ہے اپنے بندے کو ہر اعتبار سے : اس کی حفاظت کے لیے اور اس کی جملہ ضروریات و حاجات کے لیے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام کی صورت میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اللہ کافی نہیں اپنے بندے کو ؟ "۔ اسلوب بلاغت کے مطابق معنیٰ میں قوت اور زور پیدا کرنے کے لئے اس کو استفہام تقریری کی صورت میں ذکر میں فرمایا گیا ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ یعنی ہاں وہ ۔ وحدہ لا شریک۔ اپنے بندے کو کافی ہے۔ اور ہمیشہ اور ہر طرح سے کافی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور بندے سے مراد ہے اس کا خاص بندہ یعنی امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سو سب کا حاجت روا و مشکل کشا وہی اللہ وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پس کس قدر بدنصیب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
سچوں اور جھوٹوں کے احوال
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ مومن کی شان بہت بلند ہے اس کا رتبہ بڑا اونچا ہے اور اس پہ زندگی پُر وقار اور آخرت کی زندگی پُر آسائش، آرام دہ، بہترین اور ہمیشہ رہنے والی ہوگی ایسا کیوں نہ ہو کہ جب مومن کا آقا بہترین ہے جو مالک کون و مکان، واحدہ لا شریک، سب پر غالب، مالک یوم الدین، بہترین انصاف کرنے والا، شاندار عالی مرتبہ، غفور ورحیم، نعمتیں اور برکتیں دینے والا اور جنت و دوزخ کا مالک تو بھلا اس قدر علیم وخبیر اپنے بندوں کو کبھی اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ البتہ اللہ سے منکر ہونے والوں کی یہ دنیا بھی خراب اور آخرت کی دنیا تو بہت ہی خراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 41:
اسرار و معارف :
اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے اور اس کے ساتھ دوشرے شریک ماننے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے یا پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی کے پاس حق بات پہنچے اور وہ اسے جھٹلا دے تو اس کی سزا بھی یقیناً یہی ہے کہ کافروں کو جہنم میں ٹھکانہ دیا جائے ان کے مقابل جو بھی حق بات کرے اللہ کا رسول یا آپ ﷺ سے حاصل کرکے کوئی مسلمان اور پھر دوسرا جو اس کی تصدیق کرے اور اسے سچ مانے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا تعلق اللہ سے ہے۔ ان کا فیصلہ روز حشر یہ ہوگا کہ جو نعمت چاہیں گے ملے گی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ایسے ہی نوازا جائے گا بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی اگر اسے اللہ تعالیٰ کی حمایت حاصل ہے۔ ( اور ظاہر ہے کہ حاصل ہے) تو کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے۔10 کفار مکہ نبی ﷺ سے کہا کرتے کہ ہمارے معبودوں کی شان میں گستاخی نہ کیا کرو اور ان کے خلاف زبان نہ کھولا کرو اور نہ یہ ناراض ہو کر تم پر کوئی آفت نازل کردیں گے۔ اس کے جواب میں فرمایا :” الیس اللہ بکاف عندہ “۔
Read the full tafseer →(39:36) الیس اللّٰہ۔ استفہام انکاری ہے۔ اور انکار نفی پر زور ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔ الیس اللّٰہ بکاف عبدہ یعنی اللہ اپنے بندے کے لئے (اس کی حفاظت اور نصرت کے لئے) ضرور کافی ہے۔
کاف۔ کفایۃ سے اسم فاعل واحد مذکر کافی۔ کفایت کرنے والا۔ کف مادہ۔
عبدہ میں ہ ضمیر کا مرجع اللّٰہ ہے۔ اس کا بندہ۔ یہاں عبد سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ جیسا کہ آگے یخرفونک سے ظاہر ہے۔ اہل قریش و دیگر بت پرست رسول اللہ ﷺ کو بتوں کی ناراضگی سے ڈراتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ تم ان کو برا کہنے سے اپنی زبان کو روک لو ورنہ تمہیں بدحواس اور پاگل بنادیں گے۔
ویخوفونک یخوفون مضارع جمع مذکر غائب۔ تخویف (تفعیل) مصدر سے خوف مادہ۔ وہ ڈراتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 37 : اظلم ( بڑا ظالم) مثوی ( ٹھکانہ) اسوا ( برا کیا) ذی انتقام ( بدلہ لینے والا)
تشریح : آیت نمبر 32 تا 37 :۔ توحید خالص اور کفر و شرک پر عمل کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ واقعی بڑا ظالم اور بےانصاف ہے جس کے پاس قرآن کریم جیسی سچائی اور پیغام پہنچ گیا ہو اور اس نے بغیر سوچے سمجھے محض اپنی جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کا انکار کردیا ہو ، یقینا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہو سکتا ہے۔
لیکن وہ لوگ جن کے پاس اللہ کا سچا پیغام پہنچا اور انہوں نے اس کی تصدیق کی تو یہ اہل تقویٰ ہیں انہیں آخرت میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور اگر ان سے کوئی کوتاہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(ف 2) شان نزول :
جن آیتوں میں مشرکین مکہ کے بتوں کی مذمت ہوئی تھی ان آیتوں کو سن کر یہ مشرک لوگ نبی ﷺ کو اپنے بتوں کی طرف سے ڈراتے تھے کہ یہ بت آپ کو کوئی نقصان پہنچادیویں گے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے محمد ﷺ کی حمایت کے لیے کافی ہے بغیرمرضی اللہ کی کسی کی کیا مجال ہے جو اللہ کے رسول کو کچھ نقصان پہنچاسکے، مکہ کے قحط کے وقت ان مشرکوں کو اپنے بتوں کی بےبسی معلوم ہوچکی ہے اس پر بھی یہ لوگ اپنے بتوں کو صاحب اختیار گنتے ہیں یہ لوگ گمراہ ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کردے اس کو کوئی راہ راست پر لانے والا نہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
[24] مشرکین نبی کو اپنے بتوں کے قہروغضب سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ بتوں کی برائی بیان کرنے سے باز آجائیں ورنہ وہ آپ کو نقصان پہنچائیں گے یا ہلاک کردیں گے۔ یہاں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →ف 1: حضور کو کفار مکہ دھمکی دیتے تھے ۔ کہ اگر آپ بت پرستی کی مذمت سے باز نہ آئے ۔ تو ہمارے معبود آپ کو سخت ترین نقصان پہنچائیں گے ۔ اس کا جواب دیا ہے ۔ کہ اللہ اپنے اس بندے کی پوری پوری حفاظت کرے گا ۔ اور تم کو اور تمہارے معبودوں کو موقع نہیں دے گا ۔ کہ اسے ذرہ برابر بھی گزند پہنچا سکو ۔ یہ گمراہی کا عقیدہ ہے ۔ اور جس شخص سے اللہ تعالیٰ توفیق ہدایت چھین لے ۔ پھر کوئی اس کو منزل مقصود تک نہیں پہنچا سکتا ۔ اور جس شخص کے سینہ کو وہ کھول دے ۔ اور توفیق قبولیت عطا فرمائے ۔ وہ کبھی گمراہ نہیں ہوسکتا ۔
Read the full tafseer →(36) کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے محمد ﷺ کے لئے کافی اور کارساز نہیں ہے اور اے پیغمبر یہ کافر آپ کو اللہ تعالیٰ کے سوا اور دوسروں سے ڈراتے ہیں اور جس گم کردہ راہ کو اللہ تعالیٰ بےراہ رکھے اس کو کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 1۔ اوپر کی کئی آیتوں میں احقاق توحید وابطال شرک ہے ایسے مضامین سن کر کفار مشرکین آپ سے کہتے کہ ہمارے معبودوں سے گستاخی نہ کیجئے، ورنہ ہم ان سے درخواست کر کے آپ کو مجنون کرادیں گے۔ چناچہ اس پر آیت ویخوفونک نازل ہوئی اسی طرح اور بھی خلاف وعناد کی باتیں کرتے تھے، آپ مغموم و مہموم ہوتے، آگے آپ کے تسلیہ کے مضامین ہیں جن میں سے بعض میں آپ کو مخاطب اور بعض میں مجیب بنانا مقصود ہے۔
Read the full tafseer →نادان آپ کو ڈراتے ہیں ، کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ہے ؟
36۔ زیر نظر آیت میں ایک بہت پرانی گمراہی کا ذکر کیا جا رہا ہے یہ گمراہی گزشتہ قوموں میں بھی عام تھی خود نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی تھی اور آض بھی بدستور قائم ہے۔ گزشتہ قوموں کے ذکر میں بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ تقریبا ہر قوم نے اپنے نبی سے یہ بات کہی کہ ہمیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تجھے ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے یا یہ کہ اگر آپ نے یہ تبلیغ اسی طرح جاری رکھی تو ضرور ایسا ہوگا کہ ہمارے بزرگوں سے کسی کی مار تم کو لگ جائے گی اور یہی بات نبی اعظم وآخر محمد ﷺ سے کفار مکہ نے کہی تھی کہ تم ہمارے بزرگوں کی شان میں جو گستاخیاں کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
Commentary
In the first verse (36), it was said: أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (Is Allah not sufficient for (the protection of) His slave?). This verse was revealed in the background of an event. The disbelievers had threatened the Holy Prophet ﷺ and his noble Sahabah by saying that, should they act irreverently against their idols, they would never escape the curse of these idols, something very lethal to face. In reply, they were told: Is Allah not sufficient for His slave?
Therefore, some commentators have taken: عَبْدَه (abdahu: His slave) here to mean a particular slave of Allah,…
Read the full tafseer →55 The disbelievers of Makkah used to say to the Holy Prophet, "You behave insolently in respect of our deities and utter rude words against them : you do not know how powerful they are and what miraculous powers they possess. Anybody who dishonoured them was ruined. If you also do not desist from what you say against them, you too will be annihilated. "
Read the full tafseer →