Explained with ayahs 32–35
مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا۔
مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند وبالا ذات پاک اور برتر تھی، ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کردیا کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں۔ ان کی بدخصلت…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 54
نبی ﷺ پر جو لوگ ایمان لائے تھے، زمانہ جاہلیت میں ان سے اعتقادی اور اخلاقی دونوں ہی طرح کے بد ترین گناہ سرزد ہوچکے تھے۔ اور ایمان لانے کے بعد انہوں نے صرف یہی ایک نیکی نہ کی تھی کہ اس جھوٹ کو چھوڑ دیا جسے وہ پہلے مان رہے تھے اور وہ سچائی قبول کرلی جسے حضور ﷺ نے پیش فرمایا تھا، بلکہ مزید براں انہوں نے اخلاق، عبادات اور معاملات میں بہترین اعمال صالحہ انجام دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے وہ بدترین اعمال جو جاہلیت میں ان سے سرزد ہوئے تھے ان کے حساب سے محو کردیے جائیں گے، اور ان کو انعام ان اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال میں سب سے بہتر ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
سارے اعمال مظالم اور حقوق کے بدلے میں دے دیے جاویں گے مگر ایمان نہیں دیا جائے گا
تفسیر مظہری میں مذکورہ سب روایات حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مظلوموں کے حقوق میں ظالم کے اعمال دے دینے کا جو ذکر آیا ہے، اس سے مراد ایمان کے علاوہ دوسرے اعمال ہیں، کیونکہ جتنے مظالم ہیں وہ سب عملی گناہ ہیں، کفر نہیں ہیں اور عملی گناہوں کی سزا محدود ہوگی بخلاف ایمان کے کہ وہ ایک غیر محدود عمل ہے۔ اس کی جزا بھی غیر محدود یعنی ہمیشہ جنت میں رہنا ہے اگرچہ وہ گناہوں کی سزا بھگتنے اور کچھ عرصہ جہنم میں رہنے کے بعد ہو اس کا حاصل یہ ہے کہ جب ظالم کے اعمال صالحہ علاوہ ایمان کے سب مظلوموں کو دے کر ختم ہوجائیں گے۔ صرف…
Read the full tafseer →آیت 35
روز جزا کی غایت
یہ غایت بیان ہئوی ہے اس روز جزا کی جس کا ذکر اوپر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دن اس لئے مقرر فرمایا ہے کہ اپنے خوب کار بندوں کے دامن سے ان کے اعمال کے بدتر اثرات کو جھاڑ دے اور ان اعمال کا جو خوب تر صلہ ہے اس سے ان کو نوازے یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ اس دنیا میں آدمی نہ اپنے برے اعمال کے اثرات و نتائج ہی سے کما حقہ آگا ہو سکتا نہ اپنے اچھے اعمال کے صلہ کے قدر و یمت ہی سے یہ دنیا چند روزہ ہے اور اس جزا یا سزا کا تعلق ایک ایسی دنیا سے ہے جس کی سزا بھی ابدی ہے اور جزا بھی اسی وجہ سے آیت میں اسرا اور احسن کے الفاظ استعمال ہوئے مدعا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ روز جزا اسی لئے مقرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
36۔ 1 اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے، تمام انبیاء (علیہم السلام) اور مومنین اس میں شامل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آپ کو غیر اللہ سے ڈراتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب آپ کا حامی و ناصر ہو تو آپ کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ ان سب کے مقابلے میں آپ کو کافی ہے
۔ 36۔ 2 جو اس گمراہی سے نکال کر ہدایت کے راستے پر لگا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–41
13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 35
اس لیے کہ عدل تو یہ ہوگا کہ نیکیوں کا بھی حساب کیا جائے اور برائیوں کا بھی حساب کیا جائے اور پھر دونوں پر سزا وجزاء دی جائے۔۔۔ لیکن اللہ یہاں فضل وکرم کرے گا۔ اللہ اپنے متقی بندوں پر اپنے کرم کی تجلی کرے گا۔ یوں کہ ان کے بہت برے اعمال کو قلم زد کردے گا۔ لہٰذا میزان میں ان کا کوئی حساب نہ ہوگا اور ان کو اجر بھی احسن طریقے سے دے گا ، یعنی ان کے استحقاق سے زیادہ ۔ چناچہ ان کے ترازو میں ان کی نیکیوں کو زیادہ زن دے دیا جائے گا۔ یہ اللہ کا فضل ہوگا اور یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ جسے چاہے ، یہ فضل دے۔ ہاں اللہ نے اپنے ڈرنے والے بندوں کیلیے یہ وعدہ کردیا ہے لہٰذا ایسا ہی ہوگا اور اہل تقویٰ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
3 یعنی اللہ تعالیٰ متقین و محسنین کو ان کے بہتر کاموں کا بدلہ دے گا اور غلطی سے جو برا کام ہوگیا وہ معاف کرے گا (تنبیہ) شاید " اسوآ " اور " احسن " (صیغہ تفضیل) اس لیے اختیار فرمایا کہ بڑے درجہ والوں کی ادنیٰ بھلائی اوروں کی بھلائیوں سے اور ادنیٰ برائی اوروں کی برائیوں سے بھاری سمجھی جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 35 { لِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنْہُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا } ”تاکہ اللہ ان سے دور کر دے ان کے ُ برے اعمال کو“
ظاہر بات ہے کہ انبیاء کرام علیہ السلام تو معصوم ہیں۔ ان سے اگر بر بنائے طبع بشری کسی غلط بات کا امکان پیدا ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ انہیں اس کے صدور سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن انبیاء علیہ السلام کے علاوہ تو ہر شخص سے غلطی اور خطا کا امکان ہے۔ چناچہ اوپر کی آیات میں جن متقین اور محسنین کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ ان کی خطائوں اور لغزشوں کو معاف فرما کر ان کے نامہ ہائے اعمال کو برائیوں اور گناہوں سے بالکل پاک کر دے گا۔
{ وَیَجْزِیَہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ کَانُوْا…
Read the full tafseer →51 یعنی ایسے متقین نے اگر اپنے دور جاہلیت میں کچھ گناہ کے کام کئے بھی تھے تو اللہ ان کو محو کر دے گا۔ پھر اسلام لانے کے بعد انہوں نے جو اچھے کام کئے تھے ان میں سے جو کام سب سے بہتر ہوگا اسی کی جزا کے مطابق دوسرے عملوں کی بھی جزا دی جائے گی خواہ وہ اس پایہ کے نہ ہوں۔
Read the full tafseer →46۔ (آیت) ” اسوا الذی عملوا “۔ اہل اخلاص کو اجر کا پورا پورا ملنا تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن یہاں تصریح ایک دوسری چیز کی بھی ہے۔ (یعنی ان کی تکفیر ذنوب کی ..... گویا اہل اخلاص (محسنین) بھی ذنوب ومعاصی سے خالی نہ ہوں گے۔ اس میں رد نکل آیا ایک طرف تو ان غالی صوفیہ ومشائخ کا جو اولیاء وصالحین کو ذنوب ومعاصی سے ماوراء ومنزہ، سمجھنے لگتے ہیں اور دوسری طرف ان خارجی اور نیم خارجی فرقوں کا جو زلات ومعاصی کی بناء پر مومنین کو دائرہ ایمان سے خارج کردیا کرتے ہیں۔ (آیت) ” ویجزیھم ....... یعملوں “۔ مقاتل بن سلیمان نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ انہیں محاسن کا معاوضہ ملے گا، سیئات کی سزا نہ ملے گی، قال مقاتل لیجزیھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
آیت نمبر 32 تا 41
ترجمہ : اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو اللہ پر (یعنی) اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرے جھوٹ باندھے اور سچ یعنی قرآن جب اس کے پاس آئے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ہاں کیوں نہیں ؟ اور جو شخص سچی بات لایا اور وہ نبی ﷺ ہیں اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہ مومن ہیں الَّذی، الَّذِیْنَ کے معنی میں ہے یہی ہیں شرک سے بچنے والے لوگ ان کیلئے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے ایمان کے ذریعہ اپنے اوپر احسان کرنے والوں کا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور انہوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کا اچھا صلہ دے…
Read the full tafseer →لیکفر اللہ عنھم اسوا الذی علموا ویجزیھم اجرھم باحسن الذی کانوا یعلمون تاکہ اللہ
ان سے ان کے برے اعمال (کی سزا) کو دور کر دے (یعنی معاف کر دے اور قیامت کے دن چھپائے رکھے) اور ان کے نیک کاموں کے عوض ان کو ان کا ثواب عطا فرمائے۔ اَسْوَاَ (بہت برے) بطور مبالغہ ( کلام کو پرزور بنانے کیلئے) فرمایا ‘ کیونکہ جب سب سے برے اعمال کو اللہ معاف فرما دے گا تو کم درجہ کے برے اعمال کی معافی تو بہرحال ہو ہی جائے گی۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ کبیرہ گناہ معاف ہوجائیں گے ‘ پس معتزلہ کا قول غلط ہے جو عفو کبائر کے قائل نہیں۔ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا کہنے سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ ہر گناہ کو جو ان سے صادر ہو…
Read the full tafseer →یہ موحدین کا اعزازو احترام ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کردے اور ان کے نیک کاموں کے بدلے ان کو ان کا ثواب دے۔
Read the full tafseer →لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ عَمِلُوْا ”لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ“ محذوف فعل ”أَعْطَاھُمْ ذٰلِکَ“ کے متعلق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ انھیں یہ جزا دے گا، تاکہ وہ ان سے وہ بدترین عمل دور کر دے جو انھوں نے کیے۔۔ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کے ساتھ عدل سے بڑھ کر فضل کا معاملہ فرمائے گا۔ عدل یہ ہے کہ نیکیوں اور برائیوں کو برابر شمار کرکے جزا دی جائے، جب کہ فضل یہ ہے کہ برائی صرف ایک لکھی جائے اور نیکی دس گنا سے سات سو گنا یا بےحساب لکھی جائے، فرمایا : (قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ ۭ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ ۭ وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ۭ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
32 ۔ 35:۔ پس اس سے زیا دہ وہ ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے اور تکذیب کرتا ہے اور تکذیب کرتا ہے اس کی جب وہ اس کے پاس آیا، کیا جہنم میں کفار کا ٹھکانا نہیں ہے۔ اور وہ ہستی جو اس سچ کو لے کر آئی اور جنہوں نے اس سچائی کی تصد یق کی یہی ہیں جو پرہیز گار ہیں۔ انہیں ملے گا جو چا ہے گے اپنے رب کے پاس سے، یہ صلہ ہے محسوس کا تاکہ ڈھانپ لے اللہ تعالیٰ ان سے ان کے بدترین اعمال کو اور عطا فرمائے انہیں انکے بہترین اعمال کا جو وہ کرتے تھے، ،
اس آدمی سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہے اور یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد اور شریک ہے اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے الیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ وکذب بالصدق “ (اس شخص سے زیادہ بےانصاف کون ہے جس نے اللہ پر دروغ گوئی کی اور اس نے سچائی کو جھٹلایا) میں ” صدق “ سے مراد قرآن ہے اور ” وصدق بہ “ سے مرد ہے۔
2:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذی جآء بالصدق “ (جو سچائی کو لایا) یعنی الا الہ الا اللہ کو (آیت ) ” وصدق بہ “ (اور اس کی تصدیق کی) یعنی رسول اللہ ﷺ کی (آیت ) ” اولئک ھم المتقون “ (یہی لوگ ہیں…
Read the full tafseer →لِيُكَفِّرَ اللّٰهُ عَنْهُمْ [تاکہ دور کر دے اللہ ان سے ] اَسْوَاَ الَّذِيْ [اس کے برے سے برے کو جو ] عَمِلُوْا [انھوں نے عمل کئے ] وَيَجْزِيَهُمْ [اور وہ بدلے میں ان کو دے گا ] اَجْرَهُمْ [ان کی اجرت ] بِاَحْسَنِ الَّذِيْ [اس کے بہترین سے جو ] كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [وہ لوگ عمل کرتے تھے ] ۔
Read the full tafseer →(لِیُکَفِّرَ اللّٰہُ عَنْہُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَیَجْزِیَہُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (تاکہ اللہ ان کے برے کاموں کا کفارہ کردے اور انہیں ان اعمال کا اچھے سے اچھا اجر دے جو وہ کیا کرتے تھے) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کا انعام جو پہلے ہی سے اس دنیا میں بتادیا ہے یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر یقین رکھتے ہوئے اچھے اچھے کام کریں تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے بموجب ان کے برے اعمال کا کفارہ فرما دے اور ان کے اچھے اعمال کا بدلہ دیدے۔ قال صاحب الروح ای وعدھم اللّٰہ جمیع مایشآء ونہ من زوال المضار و حصول المسار لیکفر عنھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
تنبیہ وتہدید بر تکذیب حق وصداقت وبیان حسرت وملال مکذبین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ ..... الی ..... بعزیز ذی انتقام :
(رابط) گذشتہ آیات میں موحد و مشرک کی حقیقت ایک مثال کے رنگ میں بیان کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا کہ شرک کا انجام سوائے حیرت و اضطراب اور ناکامی کے اور کچھ نہیں حقیقی اطمینان و سکون وانسان کی اصل فلاح وسعادت توحید خداوندی اور صرف اپنے ایک ہی رب کے ساتھ رشتہ حیات وابستہ کرلینے میں ہے اب ان آیات میں ان بد نصیبوں پر تنبیہ فرمائی جارہی ہے جن کا کام اللہ پر بہتان باندھنا اور اللہ کے رسولوں کی تردید وتکذیب کرنا ہے اور یہ کہ ایسے بدنصیب تباہی سے کبھی نہیں بچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
36:۔ ” لہم ما یشاءون الخ “ انہیں اپنے مہربان رب کی طرف سے ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ اخلاص اور للہیت کے ساتھ نیک کام کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔ ” لیکفر اللہ عنہم الخ “ یہ ” لہم ما یشاءون الخ “ کی علت ہے یعنی یہ انعام واکرام اس لیے ہے تاکہ ان کے تمام قصور معاف کردے اور ان کے اعمال صالحہ کا ان کو بدلہ دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور شرک کی مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام صرف ایک آقا کی ملکیت اور دوسرا کئی آقاؤں کا غلام ہے جو ہیں بھی ضدی اور جھگڑالو ، تو ظاہر ہے کہ ایک آقاوالا غلام سکون و اطمینان میں ہوگا جب کہ کئی آقاؤں کا غلام سخت مشکل میں ہوگا ، کیونکہ اسے کئی مالکوں کے انکار کی تعمیل کرنا ہوگی ، اسی طرح موحد آدمی جو صرف ایک وحدہ لا شریک کو پکارتا ہے وہ اطمینان میں ہوگا اور کئی معبودوں کا پرستار مشرک مشکل میں پھنس جائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا قیامت والے دن تم سب اکٹھے ہو کے اور آپس میں جھگڑا کرو گے ، دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ کی گئی کمی بیشی وہاں دہرائی جائے گی…
Read the full tafseer →لِيُكَفِّرَ اللہُ عَنْہُمْ اَسْوَاَ الَّذِيْ عَمِلُوْا وَيَجْزِيَہُمْ اَجْرَہُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِيْ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 35
لام
اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه :
الأول :
الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع .
الثاني : للملک والاستحقاق،
ولیس نعني بالملک ملک العین بل قد يكون ملکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
ترکیب : اذ جاء ظرف لکذب بالصدق ای کذب القرآن فی وقت مجیئہ ای من غیر تدبر و تفکر مثویٰ المقام من ثویٰ ثیوی ثواء و ثویا مثل مضی مضاء و مضیا اذا قام بہ۔ الذی جائالموصول فی موضع رفع بالابتداء اولئکالجملۃ خبرہ والمبتداء و ان کا مفرد الفظا ولکنہ فی معنی الجمع لانہ یراد بہ الجنس لیکفر اللام متعلقہ بمحذوف اسوء اسم تفضیل و قیل بمعنی اسئی ویجزی معطوف علی یکفربا حسن اضافۃ الشی الیٰ بعضہ للتوضیح۔
تفسیر : قیامت میں خصوصیت اور فیصلہ ہونے کا بیان فرما کر نیک و بددونوں فریقوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ کون حق پر اور مستحق نجات و درجات ہے اور کون ناحق پر اور قابل عذاب ہے ؟ فقال فمن اظلم ممن کذب کہ اس سے بڑھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
لَہُمْ مَّا یَشَّآئُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَ ۔ لِیُکَفِّرَاللّٰہُ عَنْھُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَیَجْزِیَھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الزمر : 34، 35)
(ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، یہ ہے بہترین نیکی کرنے والوں کی جزا۔ تاکہ اللہ مٹا دے ان سے ان کے بدترین اعمال کو جو انھوں نے کیے تھے، اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے ان کے لحاظ سے ان کو اجر عطا فرمائے۔ )
قرآن کی علمبرداری کرنے والوں کے لیے حیران کن انعامات
جنھوں نے قرآن اور اسلام کی علمبرداری کی اور جن لوگوں نے ان کی تصدیق کی اور انھیں سپورٹ کیا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
فہم القرآن
ربط کلام : حق کو جھٹلانے والے کے مقابلے میں سچائی کی تصدیق کرنے والے کا مقام اور صلہ۔
جو شخص لوگوں کے سامنے سچائی کے ساتھ آیا اور جس نے سچائی کی حمایت کی وہی لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جس کی وہ تمنا کریں گے۔ نیکی کرنے والوں کو اس طرح ہی صلہ دیا جائے گا۔ حق لانے والے سے مراد سرور دوعالم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ تصدیق کرنے والوں میں سر فہرست صحابہ کرام (علیہ السلام) کی جماعت ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ ( علیہ السلام) کو حق بات کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کیا اور دل و جان کے ساتھ حق کا ساتھ دیا۔ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ ؓ کے بعدہر آدمی اس صلہ…
Read the full tafseer →آیت میں اسوا اور احسن کی اضافت۔ یہ اضافۃ الشی الی ماھو بعضہ من غیر تفضیل کے قبیل سے ہے جیسا کہ کہتے ہیں۔ الاشج اعدل بنی مروان۔ اشج بنومروان سے ہیں۔ اب ان کا عدل بنی مروان میں سے کسی کو تفضیل دینے کے بغیر ہے۔
Read the full tafseer →35، لیکفر اللہ عنھم اسوا الذی عملوا، ان کو مغفرت کے ساتھ ڈھا نپ لے گا۔ ، ویجزیھم اجرھم باحسن الذی کانوایعملون، مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے نیک اعمال کا ان کو بدلہ دیں گے اور ان کے برے اعمال کا بدلہ نہ دیں گے۔
Read the full tafseer →35۔ برائی جو شامت نفس کے سبب کی وجہ سے آدمی کو ہوجاتی ہے اس کے دور کرنے کی چند صورتیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں ایک تو توبہ ہے صحیحین 1 ؎ میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس وقت آدمی گناہ کرے اور پھر اپنے گناہ کا اقرار کرے۔ اور شرماوے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ اور اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے جب تک قیامت کے قریب آفتاب مغرب کی طرف سے نکلے گا۔ اس وقت تک دنیا میں جو گناہ گار لوگ ہوں گے ان کی توبہ قبول ہوسکتی ہے۔ صحیح مسلم 2 ؎ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مغرب کی طرف سے آفتاب نکلنے سے پہلے جو شخص توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
آیت 32
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں (ممن کذب علی اللہ) ” جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا “ یا تو کسی ایسی چیز کو اس کی طرف منسوب کیا جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دی کہ وہ یوں کہتا ہے یا یوں خبر دیتا ہے یا اس طرح کا حکم دیتا ہے، جبکہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔ اگر کسی نے جہالت کی بنا پر ایسی بات کہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے : (آیت) ” اور (اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام ٹھہرا دیا) یہ کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔ “ ورنہ یہ بدترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
74 اہل جنت کی شاہانہ زندگی کا ایک اہم پہلو : کہ " وہاں پر ان کو وہ سب کچھ ملے گا جس کی یہ خواہش کریں گے " ۔ سبحان اللہ !۔ جنت کی زندگی کیسی شاہانہ بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر عمدہ اور اعلیٰ وارفع زندگی ہوگی کہ وہاں جنتی انسان کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ جبکہ دنیا میں یہ بات کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی۔ نیز اسی سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی شان کرم و عطا اور نوازش و بخشش کا بھی کسی قدر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان جب حیات مستعار کی اس مختصر و محدود فرصت کو اپنی خواہشات کو کچل کر حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے مطابق گزارتا ہے تو اس کے صلہ و عوض میں وہ اس کو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
سچوں اور جھوٹوں کے احوال
تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ مومن کی شان بہت بلند ہے اس کا رتبہ بڑا اونچا ہے اور اس پہ زندگی پُر وقار اور آخرت کی زندگی پُر آسائش، آرام دہ، بہترین اور ہمیشہ رہنے والی ہوگی ایسا کیوں نہ ہو کہ جب مومن کا آقا بہترین ہے جو مالک کون و مکان، واحدہ لا شریک، سب پر غالب، مالک یوم الدین، بہترین انصاف کرنے والا، شاندار عالی مرتبہ، غفور ورحیم، نعمتیں اور برکتیں دینے والا اور جنت و دوزخ کا مالک تو بھلا اس قدر علیم وخبیر اپنے بندوں کو کبھی اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ البتہ اللہ سے منکر ہونے والوں کی یہ دنیا بھی خراب اور آخرت کی دنیا تو بہت ہی خراب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–41
رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 41:
اسرار و معارف :
اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے اور اس کے ساتھ دوشرے شریک ماننے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے یا پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی کے پاس حق بات پہنچے اور وہ اسے جھٹلا دے تو اس کی سزا بھی یقیناً یہی ہے کہ کافروں کو جہنم میں ٹھکانہ دیا جائے ان کے مقابل جو بھی حق بات کرے اللہ کا رسول یا آپ ﷺ سے حاصل کرکے کوئی مسلمان اور پھر دوسرا جو اس کی تصدیق کرے اور اسے سچ مانے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا تعلق اللہ سے ہے۔ ان کا فیصلہ روز حشر یہ ہوگا کہ جو نعمت چاہیں گے ملے گی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ایسے ہی نوازا جائے گا بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 7 یعنی اسے معاف فرما دے گا، جب برے سے برا عمل معاف ہوگیا تو ظاہر ہے کہ اس سے کم تر درجہ کے عمل تو بدرجہ ولی معاف ہوجائیں گے۔8 یعنی انہیں بدلہ ان کے اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال میں بہترین ہوں گے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے کم تر درجہ کے اعمال بھی بہترین بھنا دیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →(39:35) لیکفر اللّٰہ۔ لام تعلیل کا ہے۔ یکفر مضارع منصوب (بوجہ عمل لام تعلیل) واحد مذکر غائب ۔ کفر یکفر تکفیر (تفعیل) مصدر سے۔ تاکہ وہ دور کر دے۔ الکفر کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کا چھپا لیتی ہے۔ لسان العرب میں سے اصل الکفر تغطیۃ الشی تغطیۃ تستھل کہ یعنی کفر کا اصل معنی یہ ہے کہ کسی چیز کو اس طرح ڈھانپ دینا کہ اس چیز کا نام و نشان بھی دکھائی نہ دے۔ اسے سے کفر بمعنی انکار وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوت یا انکار نعمت ہے۔
اسوا۔ سب سے بڑا۔ سوء سے جس کے معنی برا ہونے کے ہیں۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے یہاں کسی دوسرے گناہ کے مقابلہ میں زیادہ برا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 37 : اظلم ( بڑا ظالم) مثوی ( ٹھکانہ) اسوا ( برا کیا) ذی انتقام ( بدلہ لینے والا)
تشریح : آیت نمبر 32 تا 37 :۔ توحید خالص اور کفر و شرک پر عمل کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ واقعی بڑا ظالم اور بےانصاف ہے جس کے پاس قرآن کریم جیسی سچائی اور پیغام پہنچ گیا ہو اور اس نے بغیر سوچے سمجھے محض اپنی جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کا انکار کردیا ہو ، یقینا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہو سکتا ہے۔
لیکن وہ لوگ جن کے پاس اللہ کا سچا پیغام پہنچا اور انہوں نے اس کی تصدیق کی تو یہ اہل تقویٰ ہیں انہیں آخرت میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور اگر ان سے کوئی کوتاہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
شرک کابیان۔
(ف 1) اللہ کے شریک اور اولاد قرار دینا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اور جو انبیاء سچی باتیں خدا کی طرف سے لائے ان کو سنتے ہی جھٹلانے لگاسوچنے سمجھنے کی تکلیف بھی گوارانہ کی بلاشبہ جو شخص سچائی کا اتنا دشمن ہو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے اور ان سے ظالموں کاٹھکانہ دوزخ کے سوا اور کہاں ہوگا، پھر فرمایا جو سچا دین اور قرآن شریف رسول کریم لوگوں کی ہدایت کے لیے لائے اور امت میں کے وہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ جنہوں نے اللہ کے رسول اور کلام کو دل سے سچاجان کر اس کی نصیحت کے موافق عمل کیا، اس کاٹھکانہ جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہ اسی وقت موجود ہوجائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
[32] جو سچی بات لے کر آیا وہ پیغمبر ہے اور سچی بات قرآن اور جس نے اس کی تصدیق کی وہ مسلمان۔
Read the full tafseer →ف 3: تکفیر سئیات سے یا تو یہ مراد ہے کہ عاملہ کفر میں ان سے گناہ سرزد ہوئے تھے ۔ ان کو معاف کردیا جائے گا ۔ اور ان کے مقابلہ میں انہیں بہترین اجر سے نواز جائیگا ۔ اور یا یہ مقصد کہ اگر ایمان کی نعمت حاصل ہے ۔ تو پھر وہ لغزشیں اور کبائر جن کا صدور بتقاضائے بشریت ہوا ہے ۔ بخش دی جائیں گی ۔ اور ان کے نیک کاموں کا نہایت عمدہ اجر ملے گا ۔
حل لغات :۔ مثویٰ ۔ ٹھکانہ ۔ جگہ ۔ ثویٰ یثوی سے ہے ۔
Read the full tafseer →(35) یہ صلہ اس لئے مقرر ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے ان کی برائیوں کو جو انہوں نے کی تھیں دور فرمادے اور ان کو ان اچھے کاموں کے عوض جو وہ کیا کرتے تھے صلہ عطا فرمائے۔ یعنی ان متقیوں کو ان کے حسب دل خواہ آسائش و آرام میسر ہو ان کی برائیاں حسب مراتب ان سے دور کردی جائیں گی اور ان سے زائل کردی جائیں گی اور ان کے اچھے کاموں کا ان کا اجر اور صلہ دیا جائیگا چونکہ متقیوں میں صادق اور مصدق دونوں شامل ہیں اس لئے ہم نے حسب مراتب کی قید لگادی ہے اور اسوالٓذی میں تفصیل معنی مراد نہیں ہیں معمولی لغزش بھی انبیا کے لئے سوء اور برائی ہے۔ حسنات الابرار سیآت المقربین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 1۔ اوپر کی کئی آیتوں میں احقاق توحید وابطال شرک ہے ایسے مضامین سن کر کفار مشرکین آپ سے کہتے کہ ہمارے معبودوں سے گستاخی نہ کیجئے، ورنہ ہم ان سے درخواست کر کے آپ کو مجنون کرادیں گے۔ چناچہ اس پر آیت ویخوفونک نازل ہوئی اسی طرح اور بھی خلاف وعناد کی باتیں کرتے تھے، آپ مغموم و مہموم ہوتے، آگے آپ کے تسلیہ کے مضامین ہیں جن میں سے بعض میں آپ کو مخاطب اور بعض میں مجیب بنانا مقصود ہے۔
Read the full tafseer →اہل جنت کے ان اعمال کے مٹادیا جائے گا جو بحیثیت انسان کمزوری کے باعث ہوئے۔
35۔ انسانی کمزوریوں سے ایک انسان ہونے کے ناطے انسان مشکل ہی سے بچ سکتا ہے انسان کے لیے یہ بات اس کے کمالات میں سے ہے کہ جب کوئی غلطی اس سے سرزد ہو تو وہ اس پر مصر نہ ہو بلکہ فورا اس کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ازالہ کی فکر کرے اگر وہ غلطی کسی انسان سے متعلق ہے تو اسی انسان کے سامنے کھلے دل سے ہار مان لے اور اگر اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے متعلق ہے تو اس کے سامنے تائب ہوجائے ، معافی طلب کرنے والا بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ اس نے کوئی غلطی کی ہی نہ ہو بلکہ معافی طلب کر کے اس کے عوض وہ ایک بہت بڑی نیکی کا مستحق قرار پاتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
All deeds will be given against oppressions and infringement of rights, but one's 'iman (faith) will not be given
After having reported all Hadith narrations cited above, it has been said in Tafsir Mazhari that the thing mentioned about giving the deeds of the oppressor in settlement of the rights of the oppressed means deeds other than 'iman (faith). The reason is that all oppressions and injustices are acts of sin. They are not kufr or disbelief. And the punishment of sinful deeds will be limited as against 'iman (faith) which is a limitless deed. Its reward too is limitless, that is,…
Read the full tafseer →54 The people who believed in the Holy Prophet had happened to commit most heinous sins, both ideological and moral, in the days of ignorance, and after affirmation of the faith the good that they did was not only that they gave up the falsehood they had been professing and accepted the Truth that the Holy Prophet had presented, but in addition, they had performed the best righteous acts in morality. devotion and in their dealing's with others, Allah says: The worst deeds that they had committed in the days of ignorance will be wiped off from their account, and they will be rewarded for the…
Read the full tafseer →