Az-Zumar 39:34

Az-Zumar · from ayah 34

39:34

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ؕ— ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَ ۟ۚۖلَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ ؕ ذٰ لِكَ جَزٰٓؤُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

وہ جو چاہیں گے ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہے۔ نیکوکاروں کا یہی بدلہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will have whatever they desire with their Lord. That is the reward of the doers of good -

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 4 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:34

انہیں اپنے رب کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ جو چاہیں گے ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس (موجود) ہے۔ نیکوکاروں کا یہی بدلہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے لیے ان کے رب کے پاس (ہر) وه چیز ہے جو یہ چاہیں، نیک لوگوں کا یہی بدلہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کو اپنے پروردگار کے پاس ہر وہ چیز ملے گی جو وہ چاہیں گے۔ یہ ہے نیک لوگوں کا بدلہ

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہی ڈر والے ہیں، ان کے لےیے ہے، جو وہ چاہیں اپنے رب کے پاس، نیکوں کا یہی صلہ ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُن کے لئے وہ (سب نعمتیں) ان کے رب کے پاس (موجود) ہیں جن کی وہ خواہش کریں گے، یہی محسنوں کی جزا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ کچھ ہے جو وہ چاہیں گے، یہی نیکی کرنے والوں کی جزا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں موجود ہے۔ نیکی کرنے والوں کا یہی بدلہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے لئے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے خوب کاروں کا !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کو اپنے رب کے یہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے یہ صلہ ہے نیکوکاروں کا

— مولانا اسحاق مدنی

وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس سب کچھ ہے یہ صلہ ہے اہل اخلاص کا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کے لیے اپنے رب کے پاس وہ سب کچھ ہے جو یہ چاہیں گے۔ یہی بدلہ ہے نیکوکاروں کا !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ جو چاہیں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس موجود ہے، نیکوکاروں کا یہی بدلہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They shall have from their Lord all that they wish for. That is the reward of those that do good,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For them, with their Lord, there is what they wish. That is the reward of those who are good in their deeds,

— Muhammad Taqi Usmani

For them, with their Lord, there is what they wish. That is the reward of those who are good in their deeds,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They shall have all that they will desire with their Lord. That is the reward of the doers of good.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They shall have what they will of their Lord's bounty. That is the reward of the good:

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will have whatever they desire with their Lord. That is the reward of the doers of good -

— Saheeh International

They will receive whatever they want from their Lord. Thus is the reward of the righteous ones.

— Muhammad Sarwar

They shall have with their Lord what they please; that is the reward of the doers of good;

— Muhammad Habib Shakir

Theirs will be whatsoever they will desire with their Lord: that is the hire of the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

They shall have all that they wish for, in the presence of their Lord: such is the reward of those who do good:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:34

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–35

مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا۔ مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند وبالا ذات پاک اور برتر تھی، ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کردیا کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں۔ ان کی بدخصلت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّمَر 53 یہ بات ملحوظ رہے کہ یہاں فی الجنّۃ (جنت میں) نہیں بلکہ عِنْدَ رَبِّھِمْ (ان کے رب کے ہاں) کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے رب کے ہاں تو بندہ مرنے کے بعد ہی پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے آیت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں پہنچ کر ہی نہیں بلکہ مرنے کے وقت سے دخول جنت تک کے زمانے میں بھی مومن صالح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہی رہے گا۔ وہ عذاب برزخ سے، روز قیامت کی سختیوں سے، حساب کی سخت گیری سے، میدان حشر کی رسوائی سے، اپنی کوتاہیوں اور قصوروں پر مواخذہ سے لازماً بچنا چاہے گا اور اللہ جل شانہ اس کی یہ ساری خواہشات پوری فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–35

سارے اعمال مظالم اور حقوق کے بدلے میں دے دیے جاویں گے مگر ایمان نہیں دیا جائے گا تفسیر مظہری میں مذکورہ سب روایات حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مظلوموں کے حقوق میں ظالم کے اعمال دے دینے کا جو ذکر آیا ہے، اس سے مراد ایمان کے علاوہ دوسرے اعمال ہیں، کیونکہ جتنے مظالم ہیں وہ سب عملی گناہ ہیں، کفر نہیں ہیں اور عملی گناہوں کی سزا محدود ہوگی بخلاف ایمان کے کہ وہ ایک غیر محدود عمل ہے۔ اس کی جزا بھی غیر محدود یعنی ہمیشہ جنت میں رہنا ہے اگرچہ وہ گناہوں کی سزا بھگتنے اور کچھ عرصہ جہنم میں رہنے کے بعد ہو اس کا حاصل یہ ہے کہ جب ظالم کے اعمال صالحہ علاوہ ایمان کے سب مظلوموں کو دے کر ختم ہوجائیں گے۔ صرف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لھم مایشآئون عند ربھم ط ذلک جزاوا المحسنین (34) یہ نہایت جامع الفاظ میں ان کا صلہ بیان فرما دیا کہ ان کے لئے وہ سب کچھ ان کے رب کے پاس ہوگا جو وہ چاہیں گے ان کی خواہشوں اور چاہتوں کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہ جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی ہر آرزو پوری کر دے گا۔ عندربھم کے الفاظ سے یہ بات نکلی کہ بندوں کے لئے سب سے اونچا متربہ خدا کا قرب ہے نہ کہ اس کی ذات میں ضم ہوجانا جیسا کہ صوفیوں کے ایک گروہ نے سمجھا ہے۔ ذلک جزوء المحسنین یہ ایک تنبیہ ہے کہ یہ صلہ جو بیان ہوا ہے خوب کاروں کے لئے ہے۔ قرآن پر ایمان کا ہر مدعی اس کا حق نہیں ہوگا۔ اس کے حق دار صرف وہی ہوں گے جو ایمان کے ساتھ احسان کا حق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

34۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ ان کے گناہ بھی معاف فرما دے گا، ان کے درجے بھی بلند فرمائے گا، کیونکہ ہر مسلمان کی اللہ سے یہی خواہش ہوتی ہے علاوہ ازیں جنت میں جانے کے بعد ہر مطلوب چیز بھی ملے گی۔ 34۔2 محسنین کا ایک مفہوم تو یہ ہے جو نیکیاں کرنے والے ہیں دوسرا وہ جو اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتے ہیں جیسے حدیث میں احسان کی تعریف کی گئی ہے ان تعبد اللہ کانک تراہ فانہ لم تکن تراہ فانہ یراک تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور ممکن نہ ہو تو یہ ضرور ذہن میں رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے تیسرا جو لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور اچھا برتاؤ کرتے ہیں چوتھا ہر نیک عمل کو اچھے طریقے سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–41

13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 34 یہ ایک جامع انداز تعبیر ہے جو بھی چیز دل مومن کو مرغوب ہو اور جس کی چاہت اس کے دل میں پیدا ہو وہ اس کے لیے اس کے رب کے ہاں تیار ہوگی۔ یہ اس کا حق ہوگا ، جس میں کوئی خسارہ نہ ہوگا اور نہ کوئی حصہ اس کا ضائع ہوگا۔ ذٰلک جزاء المحسنین (39: 34) ” یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزاء “۔ اور یہ اس لیے کہ اللہ نے ان کے لیے بھلائی اور جس عزت افزائی کا ارادہ فرمالیا تھا وہ حقیقت بن جائے اور عدل سے آگے بڑھ کر ان کے ساتھ فضل وکرم کا معاملہ کرے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 34–35

3 یعنی اللہ تعالیٰ متقین و محسنین کو ان کے بہتر کاموں کا بدلہ دے گا اور غلطی سے جو برا کام ہوگیا وہ معاف کرے گا (تنبیہ) شاید " اسوآ " اور " احسن " (صیغہ تفضیل) اس لیے اختیار فرمایا کہ بڑے درجہ والوں کی ادنیٰ بھلائی اوروں کی بھلائیوں سے اور ادنیٰ برائی اوروں کی برائیوں سے بھاری سمجھی جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 34 { لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَ } ”ان کے لیے اپنے رب کے پاس وہ سب کچھ ہے جو یہ چاہیں گے۔ یہی بدلہ ہے نیکوکاروں کا !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

50 ہر انسان موت کے دروازے پر پہنچتے ہی اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ لہذا اللہ کے انعامات کا سلسلہ یہیں سے شروع ہوجاتا ہے اور دخول جنت سے پہلے کافی مراحل ہیں جہاں ایسے متقین پر اللہ کی عنایات ہوں گی۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی خواہشات پوری فرمائے گا۔ مثلاً وہ چاہیں گے کہ عذاب قبر سے بھی محفوظ رہیں اور روز قیامت کی ہولناکیوں اور حساب و کتاب میں سختی سے بھی تو ان کی ایسی خواہشات پوری کی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

45۔ جنت کی نعمتیں بےشمار، اور لامتناہی ہیں۔ یہاں حیرت انگیزایجاز و جامعیت کے ساتھ بیان کردیا کہ اہل جنت کو وہ سب کچھ مل جائے گا، جو وہ چاہیں گے۔ (آیت) ” الذی ...... بہ “۔ یعنی رسول اور انکے متبعین۔ الذی جاء بالصدق الانبیاء والذی صدق بہ الاتباع (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–41

آیت نمبر 32 تا 41 ترجمہ : اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو اللہ پر (یعنی) اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرے جھوٹ باندھے اور سچ یعنی قرآن جب اس کے پاس آئے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ہاں کیوں نہیں ؟ اور جو شخص سچی بات لایا اور وہ نبی ﷺ ہیں اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہ مومن ہیں الَّذی، الَّذِیْنَ کے معنی میں ہے یہی ہیں شرک سے بچنے والے لوگ ان کیلئے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے ایمان کے ذریعہ اپنے اوپر احسان کرنے والوں کا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور انہوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کا اچھا صلہ دے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لھم ما یشاء ون عند ربھم ذلک جزا المحسنین ان کیلئے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہے ‘ جو وہ چاہیں گے۔ یہ صلہ ہے نیکوکاروں کا۔ یعنی جنت میں جو کچھ چاہیں گے ‘ وہ ان کے رب کے پاس موجود ہے۔ ذٰلِکَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ یعنی یہ صلہ ہے نیکوں کے نیکی کرنے کا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 33–34

(33۔ 34) اور جو ذات توحید اور قرآن حکیم لے کر آئے یعنی نبی اکرم اور اس کی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں نے تصدیق کی ایسے ہی لوگ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے ہیں وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے جنت میں سب کچھ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَهُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ: چونکہ وہ دنیا میں وہ کام کرتے رہے جو ان کا رب چاہتا تھا، اس لیے اس کے بدلے میں رب تعالیٰ کے ہاں انھیں وہ کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے، فرمایا : (هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ) [ الرحمٰن : 60 ] ”نیکی کا بدلا نیکی کے سوا کیا ہے۔“ ذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْمُحْسِنِيْنَ : یہاں کچھ عبارت محذوف ہے : ”لِأَنَّھُمْ کَانُوْا مُحْسِنِیْنَ“ کیونکہ وہ نیکی کرنے والے تھے اور نیکی کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔ ”احسان“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (58) ، یوسف (36) اور قصص (14 اور 77)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–35

32 ۔ 35:۔ پس اس سے زیا دہ وہ ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے اور تکذیب کرتا ہے اور تکذیب کرتا ہے اس کی جب وہ اس کے پاس آیا، کیا جہنم میں کفار کا ٹھکانا نہیں ہے۔ اور وہ ہستی جو اس سچ کو لے کر آئی اور جنہوں نے اس سچائی کی تصد یق کی یہی ہیں جو پرہیز گار ہیں۔ انہیں ملے گا جو چا ہے گے اپنے رب کے پاس سے، یہ صلہ ہے محسوس کا تاکہ ڈھانپ لے اللہ تعالیٰ ان سے ان کے بدترین اعمال کو اور عطا فرمائے انہیں انکے بہترین اعمال کا جو وہ کرتے تھے، ، اس آدمی سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہے اور یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد اور شریک ہے اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے الیس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–35

1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ وکذب بالصدق “ (اس شخص سے زیادہ بےانصاف کون ہے جس نے اللہ پر دروغ گوئی کی اور اس نے سچائی کو جھٹلایا) میں ” صدق “ سے مراد قرآن ہے اور ” وصدق بہ “ سے مرد ہے۔ 2:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذی جآء بالصدق “ (جو سچائی کو لایا) یعنی الا الہ الا اللہ کو (آیت ) ” وصدق بہ “ (اور اس کی تصدیق کی) یعنی رسول اللہ ﷺ کی (آیت ) ” اولئک ھم المتقون “ (یہی لوگ ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَهُمْ [ان کے لئے ہے ] مَّا [وہ جو ] يَشَاۗءُوْنَ [وہ لوگ چاہیں گے ] عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ [اپنے رب کے پاس ] ذٰلِكَ [یہ ] جَزَاۗءُ الْمُحْسِنِيْنَ [خوب کاروں کی جزا ہے ] نوٹ۔ 1: آیت 34 میں فی الجنۃ نہیں بلکہعند ربھم کے الفاظ ارشاد ہوئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اپنے رب کے ہاں تو بندہ مرنے کے بعد ہی پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے آیت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں پہنچ کر ہی نہیں بلکہ مرنے کے وقت سے دخول جنت تک کے زمانے میں بھی مومن صالح کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہی رہے گا۔ وہ عذاب برزخ سے، روز قیامت کی سختیوں سے، حساب کی سخت گیری سے، میدان حشر کی رسوائی سے، اپنی کوتاہیوں اور قصوروں پر مواخذہ سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آگے ان کی جزا (لَہُمْ مَا یَشَاءُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ) (ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے) (ذٰلِکَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور یہ بدلہ ہے اچھے کام کرنے والوں کا۔ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–37

تنبیہ وتہدید بر تکذیب حق وصداقت وبیان حسرت وملال مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ ..... الی ..... بعزیز ذی انتقام : (رابط) گذشتہ آیات میں موحد و مشرک کی حقیقت ایک مثال کے رنگ میں بیان کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا کہ شرک کا انجام سوائے حیرت و اضطراب اور ناکامی کے اور کچھ نہیں حقیقی اطمینان و سکون وانسان کی اصل فلاح وسعادت توحید خداوندی اور صرف اپنے ایک ہی رب کے ساتھ رشتہ حیات وابستہ کرلینے میں ہے اب ان آیات میں ان بد نصیبوں پر تنبیہ فرمائی جارہی ہے جن کا کام اللہ پر بہتان باندھنا اور اللہ کے رسولوں کی تردید وتکذیب کرنا ہے اور یہ کہ ایسے بدنصیب تباہی سے کبھی نہیں بچ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 34–35

36:۔ ” لہم ما یشاءون الخ “ انہیں اپنے مہربان رب کی طرف سے ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ اخلاص اور للہیت کے ساتھ نیک کام کرنے والوں کی یہی جزا ہے۔ ” لیکفر اللہ عنہم الخ “ یہ ” لہم ما یشاءون الخ “ کی علت ہے یعنی یہ انعام واکرام اس لیے ہے تاکہ ان کے تمام قصور معاف کردے اور ان کے اعمال صالحہ کا ان کو بدلہ دے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–41

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور شرک کی مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام صرف ایک آقا کی ملکیت اور دوسرا کئی آقاؤں کا غلام ہے جو ہیں بھی ضدی اور جھگڑالو ، تو ظاہر ہے کہ ایک آقاوالا غلام سکون و اطمینان میں ہوگا جب کہ کئی آقاؤں کا غلام سخت مشکل میں ہوگا ، کیونکہ اسے کئی مالکوں کے انکار کی تعمیل کرنا ہوگی ، اسی طرح موحد آدمی جو صرف ایک وحدہ لا شریک کو پکارتا ہے وہ اطمینان میں ہوگا اور کئی معبودوں کا پرستار مشرک مشکل میں پھنس جائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا قیامت والے دن تم سب اکٹھے ہو کے اور آپس میں جھگڑا کرو گے ، دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ کی گئی کمی بیشی وہاں دہرائی جائے گی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَہُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ۝ 0 ۭ ذٰلِكَ جَزٰۗؤُاالْمُحْسِـنِيْنَ۝ 3 4ۚۖ شاء والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْماً لِلْعِبادِ [ غافر/ 31] ، ومعلوم أنه قد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–35

ترکیب : اذ جاء ظرف لکذب بالصدق ای کذب القرآن فی وقت مجیئہ ای من غیر تدبر و تفکر مثویٰ المقام من ثویٰ ثیوی ثواء و ثویا مثل مضی مضاء و مضیا اذا قام بہ۔ الذی جائالموصول فی موضع رفع بالابتداء اولئکالجملۃ خبرہ والمبتداء و ان کا مفرد الفظا ولکنہ فی معنی الجمع لانہ یراد بہ الجنس لیکفر اللام متعلقہ بمحذوف اسوء اسم تفضیل و قیل بمعنی اسئی ویجزی معطوف علی یکفربا حسن اضافۃ الشی الیٰ بعضہ للتوضیح۔ تفسیر : قیامت میں خصوصیت اور فیصلہ ہونے کا بیان فرما کر نیک و بددونوں فریقوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ کون حق پر اور مستحق نجات و درجات ہے اور کون ناحق پر اور قابل عذاب ہے ؟ فقال فمن اظلم ممن کذب کہ اس سے بڑھ کر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 34–35

لَہُمْ مَّا یَشَّآئُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الْمُحْسِنِیْنَ ۔ لِیُکَفِّرَاللّٰہُ عَنْھُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ عَمِلُوْا وَیَجْزِیَھُمْ اَجْرَھُمْ بِاَحْسَنِ الَّذِیْ کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الزمر : 34، 35) (ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، یہ ہے بہترین نیکی کرنے والوں کی جزا۔ تاکہ اللہ مٹا دے ان سے ان کے بدترین اعمال کو جو انھوں نے کیے تھے، اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے ان کے لحاظ سے ان کو اجر عطا فرمائے۔ ) قرآن کی علمبرداری کرنے والوں کے لیے حیران کن انعامات جنھوں نے قرآن اور اسلام کی علمبرداری کی اور جن لوگوں نے ان کی تصدیق کی اور انھیں سپورٹ کیا،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–35

فہم القرآن ربط کلام : حق کو جھٹلانے والے کے مقابلے میں سچائی کی تصدیق کرنے والے کا مقام اور صلہ۔ جو شخص لوگوں کے سامنے سچائی کے ساتھ آیا اور جس نے سچائی کی حمایت کی وہی لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جس کی وہ تمنا کریں گے۔ نیکی کرنے والوں کو اس طرح ہی صلہ دیا جائے گا۔ حق لانے والے سے مراد سرور دوعالم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ تصدیق کرنے والوں میں سر فہرست صحابہ کرام (علیہ السلام) کی جماعت ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ ( علیہ السلام) کو حق بات کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کیا اور دل و جان کے ساتھ حق کا ساتھ دیا۔ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ ؓ کے بعدہر آدمی اس صلہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 33–34

وَالَّذِيْ جَاۗءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖٓ (اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور اس کو سچ جانا) ۔ رسول اللہ ﷺ سچ لے کر آنے والے ہیں اور اس پر ایمان لائے۔ اس سے آپ کی ذات گرامی اور وہ سب مراد ہیں جنہوں نے آپ کی اتباع کی۔ جیسا کہ اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) خود اور آپ کی قوم مراد ہے۔ ولقد آتینا موسیٰ الکتاب لعلہم یہتدون (المومنون :49) ۔ اسی لیے فرمایا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُتَّـقُوْنَ (تو یہ لوگ پرہیز گار ہیں) قول زجاج : علی مرتضی ؓ سے مروی ہے کہ وَالَّذِيْ جَاۗءَ بِالصِّدْقِ سے محمد ﷺ مراد ہیں اور الذی صدق بہ سے ابوبکر صدیق ؓ مراد ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ جاء بالصدق تو محمد ﷺ ہیں اور صدق بہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 33–34

جاء بالصدق وصدق بہ کی مختلف تفاسیر 33، والذی جاء بالصدق وصدق بہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ، والذی جاء بالصدق، یعنی رسول اللہ ﷺ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کو لائے اور رسول اللہ ﷺ نے خود اس کی تصدیق بھی کی اور مخلوق تک اس کو پہنچایا اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ، والذی جاء بالصدق، سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں کہ وہ قرآن لائے اور اس کی محمد ﷺ نے تصدیق کی اور اس کو قبول کیا اور کلبی اور ابوالعالیہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ، والذی جاء بالصدق، سے رسول اللہ ﷺ اور، وصدق بہ، سے ابوبکر صدیق ؓ مراد ہیں اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ، والذی جاء بالصدق ، رسول اللہ ﷺ اور ، وصدق بہ، سے مؤ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–34

32۔ 34۔ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرنا اور اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرانا یا بتوں کے نام پر جانور چھوڑ کر ان کو حرام قرار دینا بھی اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ و کذب بالصدق اس کا مطلب قرآن کو جھٹلانا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے پھر فرمایا کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے والوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے پھر فرمایا اللہ کے رسول جو اللہ کا کلام لوگوں کی ہدایت کے لئے لائے اور امت میں کے وہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ جنہوں نے اللہ کے کلام کو دل سے سچا جان کر اس کی نصیحت کے موافق عمل کیا۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہ اسی وقت موجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–35

آیت 32 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں (ممن کذب علی اللہ) ” جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا “ یا تو کسی ایسی چیز کو اس کی طرف منسوب کیا جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دی کہ وہ یوں کہتا ہے یا یوں خبر دیتا ہے یا اس طرح کا حکم دیتا ہے، جبکہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔ اگر کسی نے جہالت کی بنا پر ایسی بات کہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے : (آیت) ” اور (اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام ٹھہرا دیا) یہ کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔ “ ورنہ یہ بدترین…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 34–35

74 اہل جنت کی شاہانہ زندگی کا ایک اہم پہلو : کہ " وہاں پر ان کو وہ سب کچھ ملے گا جس کی یہ خواہش کریں گے " ۔ سبحان اللہ !۔ جنت کی زندگی کیسی شاہانہ بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر عمدہ اور اعلیٰ وارفع زندگی ہوگی کہ وہاں جنتی انسان کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ جبکہ دنیا میں یہ بات کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی۔ نیز اسی سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی شان کرم و عطا اور نوازش و بخشش کا بھی کسی قدر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان جب حیات مستعار کی اس مختصر و محدود فرصت کو اپنی خواہشات کو کچل کر حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے مطابق گزارتا ہے تو اس کے صلہ و عوض میں وہ اس کو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–41

سچوں اور جھوٹوں کے احوال تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ مومن کی شان بہت بلند ہے اس کا رتبہ بڑا اونچا ہے اور اس پہ زندگی پُر وقار اور آخرت کی زندگی پُر آسائش، آرام دہ، بہترین اور ہمیشہ رہنے والی ہوگی ایسا کیوں نہ ہو کہ جب مومن کا آقا بہترین ہے جو مالک کون و مکان، واحدہ لا شریک، سب پر غالب، مالک یوم الدین، بہترین انصاف کرنے والا، شاندار عالی مرتبہ، غفور ورحیم، نعمتیں اور برکتیں دینے والا اور جنت و دوزخ کا مالک تو بھلا اس قدر علیم وخبیر اپنے بندوں کو کبھی اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ البتہ اللہ سے منکر ہونے والوں کی یہ دنیا بھی خراب اور آخرت کی دنیا تو بہت ہی خراب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–41

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 41: اسرار و معارف : اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے اور اس کے ساتھ دوشرے شریک ماننے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے یا پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی کے پاس حق بات پہنچے اور وہ اسے جھٹلا دے تو اس کی سزا بھی یقیناً یہی ہے کہ کافروں کو جہنم میں ٹھکانہ دیا جائے ان کے مقابل جو بھی حق بات کرے اللہ کا رسول یا آپ ﷺ سے حاصل کرکے کوئی مسلمان اور پھر دوسرا جو اس کی تصدیق کرے اور اسے سچ مانے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا تعلق اللہ سے ہے۔ ان کا فیصلہ روز حشر یہ ہوگا کہ جو نعمت چاہیں گے ملے گی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ایسے ہی نوازا جائے گا بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 34–35

ف 7 یعنی اسے معاف فرما دے گا، جب برے سے برا عمل معاف ہوگیا تو ظاہر ہے کہ اس سے کم تر درجہ کے عمل تو بدرجہ ولی معاف ہوجائیں گے۔8 یعنی انہیں بدلہ ان کے اعمال کے لحاظ سے دیا جائے گا جو ان کے نامہ اعمال میں بہترین ہوں گے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے کم تر درجہ کے اعمال بھی بہترین بھنا دیئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:34) مایشاء ون ۔ میں ما موصولہ ہے یشاء ون ۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب ۔ شاء یشاء مشیۃ باب فتح مصدر۔ جو وہ چاہیں گے۔ ذلک : ای حصول کل ما یشاؤنہ۔ خواہش کے مطابق ہر شے کا مل جانا۔ جزاء المحسنین ۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ احسان مصدر سے۔ مضاف مضاف الیہ ۔ نیکوکاروں کا صلہ یعنی انکی نیکی کرنے کا صلہ

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–37

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 37 : اظلم ( بڑا ظالم) مثوی ( ٹھکانہ) اسوا ( برا کیا) ذی انتقام ( بدلہ لینے والا) تشریح : آیت نمبر 32 تا 37 :۔ توحید خالص اور کفر و شرک پر عمل کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ واقعی بڑا ظالم اور بےانصاف ہے جس کے پاس قرآن کریم جیسی سچائی اور پیغام پہنچ گیا ہو اور اس نے بغیر سوچے سمجھے محض اپنی جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کا انکار کردیا ہو ، یقینا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جن کے پاس اللہ کا سچا پیغام پہنچا اور انہوں نے اس کی تصدیق کی تو یہ اہل تقویٰ ہیں انہیں آخرت میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور اگر ان سے کوئی کوتاہی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–35

شرک کابیان۔ (ف 1) اللہ کے شریک اور اولاد قرار دینا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اور جو انبیاء سچی باتیں خدا کی طرف سے لائے ان کو سنتے ہی جھٹلانے لگاسوچنے سمجھنے کی تکلیف بھی گوارانہ کی بلاشبہ جو شخص سچائی کا اتنا دشمن ہو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے اور ان سے ظالموں کاٹھکانہ دوزخ کے سوا اور کہاں ہوگا، پھر فرمایا جو سچا دین اور قرآن شریف رسول کریم لوگوں کی ہدایت کے لیے لائے اور امت میں کے وہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ جنہوں نے اللہ کے رسول اور کلام کو دل سے سچاجان کر اس کی نصیحت کے موافق عمل کیا، اس کاٹھکانہ جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہ اسی وقت موجود ہوجائیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 33–35

[32] جو سچی بات لے کر آیا وہ پیغمبر ہے اور سچی بات قرآن اور جس نے اس کی تصدیق کی وہ مسلمان۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: ان آیتوں میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے ۔ جو صدق وحقانیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آتے ہیں ۔ اور پھر کچھ ایسے نفوس ان کو مل جاتے ہیں ۔ جو آگے بڑھ کر تصدیق میں سبقت کرتے ہیں ۔ یہ لوگ تقویٰ کی گراں قدر نعمت سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ یہ مومنانہ فراست سے بھانپ جاتے ہیں ۔ کہ اللہ کے پیغمبر جو کچھ لاتے ہیں ۔ وہ جھوٹ نہیں ہوسکتا ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے انشراح صدر کے بیشمار موقع پیدا کردیتا ہے ۔ اور انہیں حق کو قبول کرلینے میں کوئی تامل نہیں ہوتا ۔ ارشاد ہے کہ یہ دونوں حاملیں حق وصداقت اور ان کی پیروی کرنے والے اللہ کے نزدیک مقام اتقار پر فائز ہیں ۔ اور منصب احسان سے بہرہ مند ہیں ان کے لئے جنت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(34) ان متقیوں کے لئے ان کے پروردگار کے ہاں ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی وہ چاہت اور خواہش کریں گے یہ ہر خواہش کی تکمیل بدلا اور صلہ ہے نکوکاروں کا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–34

ف 7۔ ایسے شخص کا اظلم ہونا بھی ظاہر ہے، اور اظلم کا مستحق عقوبت اعظم ہونا بھی ظاہر ہے اور عقوبت اعظم جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سچائی کی تصدیق کرنے والے اپنے رب کے پاس وہ کچھ پائیں گے جس کی ان کو خواہش ہو گی 34۔ وہ لوگ جنہوں نے اس سچائی کو تصدیق کی جس سچائی کو لے کر محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے اگرچہ مدارج کے لحاظ سے ان کے درجات میں فرق ہوگا تاہم ان کے جو انعامات رکھے گئے ہیں ان سے وہ برابر مستفید ہوں گے اور ان کے درجات کا لحاظ ضرور رکھا جائے گا لیکن یہ وعدہ تو سب سے موجود ہے کہ جو ان کی خواہش ہوگی وہ ان کے سامنے پیش کردیا جائے گا اور یہ بھی نہیں کہ کسی خواہش کے لیے ان کو انتظار کرنا پڑے رہی یہ بات کہ اس وقت ان کی خواہش کیا ہوگی ؟ اس کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہاں ! اس وقت دنیا میں انسان کو جن چیزوں کی خواہش ہوتی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–35

All deeds will be given against oppressions and infringement of rights, but one's 'iman (faith) will not be given After having reported all Hadith narrations cited above, it has been said in Tafsir Mazhari that the thing mentioned about giving the deeds of the oppressor in settlement of the rights of the oppressed means deeds other than 'iman (faith). The reason is that all oppressions and injustices are acts of sin. They are not kufr or disbelief. And the punishment of sinful deeds will be limited as against 'iman (faith) which is a limitless deed. Its reward too is limitless, that is,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

53 One should note that the words used here are inch Rabbi-him (with their Lord) and not fil-jannah (in Paradise), and obviously man reaches in the presence of his Lord just after death. Therefore, the intention of the verse seems to be: Not only after entering Paradise but right from the time of death till his entry into Paradise also AIlah will treat the righteous believer in the same kind manner. The believer will certainly desire to be saved from the torment of barzakh. from the severities of the Day of Resurrection and Judgment, from the humiliation of the Plain of Gathering and from the…

Read the full tafseer →