Az-Zumar 39:33

Az-Zumar · from ayah 33

39:33

وَالَّذِیْ جَآءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ ۟وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ

اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the one who has brought the truth and [they who] believed in it - those are the righteous.

— Saheeh International

Juz 24 · Ruku 4 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:33

اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو سچے دین کو ﻻئے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ سچی بات لے کر آئیں اور خود بھی اسے سچ مانیں وہ ہیں جو متقی ہیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور وہ جنہوں نے ان کی تصدیق کی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو شخص سچ لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ ہی تو متقی ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ شخص جو سچ لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ بچنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو شخص سچی بات لایا اور جس نے اس کی تصدیق کی۔ یہی لوگ پرہیزگار ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو سچی بات لے کر آیا اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو سچی بات لے کر آیا اور (جنہوں نے) اس کی تصدیق کی تو یہی لوگ ہیں پرہیزگار

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور (خود بھی) اس کو سچ جانا تو یہی لوگ تو پرہیزگار ہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ شخص جو سچائی لے کر آیا اور وہ جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ ہیں کہ جو متقی ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But he who brought the Truth, and those who confirmed it as true, such are the ones who shall be guarded against the chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for the one who has come with the truth and believed it to be true, then such people are the ones who are God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani

As for the one who has come with the truth and believed it to be true, then such people are the ones who are God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he who has brought the truth and (those who) believed therein, they are those who have Taqwa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And whoso bringeth the truth and believeth therein - Such are the dutiful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the one who has brought the truth and [they who] believed in it - those are the righteous.

— Saheeh International

Those who have brought the truth and have acknowledged it are those who have fear of God.

— Muhammad Sarwar

And he who brings the truth and (he who) accepts it as the truth-- these are they that guard (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever bringeth the truth, and whosoever giveth credence thereto - these! they are the God-fearing.

— Abdul Majid Daryabadi

And he who brings the Truth and he who confirms (and supports) it - such are the men who do right.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:33

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 32–35

مشرکین کی سزا اور موحدین کی جزا۔ مشرکین نے اللہ پر بہت جھوٹ بولا تھا اور طرح طرح کے الزام لگائے تھے، کبھی اس کے ساتھ دوسرے معبود بتاتے تھے، کبھی فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں شمار کرنے لگتے تھے، کبھی مخلوق میں سے کسی کو اس کا بیٹا کہہ دیا کرتے تھے، جن تمام باتوں سے اس کی بلند وبالا ذات پاک اور برتر تھی، ساتھ ہی ان میں دوسری بدخصلت یہ بھی تھی کہ جو حق انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی اللہ تعالیٰ نازل فرماتا یہ اسے بھی جھٹلاتے، پس فرمایا کہ یہ سب سے بڑھ کر ظالم ہیں۔ پھر جو سزا انہیں ہونی ہے اس سے انہیں آگاہ کردیا کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہی ہے۔ جو مرتے دم تک انکار و تکذیب پر ہی رہیں۔ ان کی بدخصلت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّمَر 52 مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جو مقدمہ ہونا ہے اس میں سزا پانے والے کون ہوں گے، یہ بات تم آج ہی سن لو۔ سزا لازماً انہی ظالموں کو ملنی ہے جنہوں نے یہ جھوٹے عقیدے گھڑے کہ اللہ کے ساتھ اس کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں کچھ دوسری ہستیاں بھی شریک ہیں، اور اس سے بھی زیادہ بڑھ کر ان کا ظلم یہ ہے کہ جب ان کے سامنے سچائی پیش کی گئی تو انہوں نے اسے مان کر نہ دیا بلکہ الٹا اسی کو جھوٹا قرار دیا جس نے سچائی پیش کی۔ رہا وہ شخص جو سچائی لایا اور وہ لوگ جنہوں نے اس کی تصدیق کی، تو ظاہر ہے کہ اللہ کی عدالت سے ان کے سزا پانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–35

سارے اعمال مظالم اور حقوق کے بدلے میں دے دیے جاویں گے مگر ایمان نہیں دیا جائے گا تفسیر مظہری میں مذکورہ سب روایات حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مظلوموں کے حقوق میں ظالم کے اعمال دے دینے کا جو ذکر آیا ہے، اس سے مراد ایمان کے علاوہ دوسرے اعمال ہیں، کیونکہ جتنے مظالم ہیں وہ سب عملی گناہ ہیں، کفر نہیں ہیں اور عملی گناہوں کی سزا محدود ہوگی بخلاف ایمان کے کہ وہ ایک غیر محدود عمل ہے۔ اس کی جزا بھی غیر محدود یعنی ہمیشہ جنت میں رہنا ہے اگرچہ وہ گناہوں کی سزا بھگتنے اور کچھ عرصہ جہنم میں رہنے کے بعد ہو اس کا حاصل یہ ہے کہ جب ظالم کے اعمال صالحہ علاوہ ایمان کے سب مظلوموں کو دے کر ختم ہوجائیں گے۔ صرف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 32–33

(آیات 30-32) عذاب الٰہی کا فیصلہ وہاں جو فیصلہ ہوگا اس کی یہ پیشگی خبر دے دی ہے کہ اس وقت ان سے بڑھ کر محروم القسمت اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والا کون ہوگا جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور پھر جب اس جھوٹ کی اصالح کے لئے اللہ نے سچی چیز اتاری تو اس کی تکذیب کردی اللہ پر جھوٹ باندھنے سے مراد شرک ہے اس لئے کہ مشرکین اپنے مزعومہ شرکاء کے متعلق بالکل جھوٹ موٹ یہ دعیٰ کرتے ہیں کہ خدا نے ان کو اپنا شریک بنایا ہے حالانکہ خدا نے ان کے باب میں کوئی دلیل نہیں اتاری۔ صدق سے مراد یہاں قرآن ہے اس لئے کہ ہر باب میں اس نے اختلاف رفع کر کے حق بات سامنے رکھ دی ہے۔ اذ جآء کی قید سے مقصود اتمام حجت کے پہلو کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

33۔ 1 اس سے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ مراد ہیں جو سچا دین لے کر آئے۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے اور اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو توحید کی دعوت دیتا اور اللہ کی شریعت کی طرف کی رہنمائی کرتا ہے۔ 33۔ 2 بعض اس سے حضرت ابوبکر صدیق مراد لیتے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لائے۔ بعض نے اسے بھی عام رکھا ہے، جس میں سب مومن شامل ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ کو سچا مانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–41

13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی خدا سے ڈرنے والوں کی شان یہ ہوتی ہے کہ سچی بات لائیں، ہمیشہ سچ کہیں، اور سچ کی تصدیق کریں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جو سچی بات لے کر آیا وہ نبی، اور جس نے سچ مانا وہ مومن ہے۔ " (گویا دونوں جملوں کا مصداق علیحدہ ہے)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 33 { وَالَّذِیْ جَآئَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖٓ } ”اور وہ شخص جو سچائی لے کر آیا اور وہ جس نے اس کی تصدیق کی“ گزشتہ آیت کی طرح یہاں بھی دونوں احتمالات موجود ہیں۔ یعنی یہ الگ الگ دو کردار بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں خوبیاں کسی ایک ہی شخص میں پائی جائیں کہ وہ راست باز بھی ہے اور حق کی تصدیق کرنے والابھی۔ لیکن اس آیت کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ یہاں وَالَّذِیْ جَآئَ بِالصِّدْقِ سے مراد محمد ٌ رسول اللہ ﷺ ہیں جو اللہ کی طرف سے حق اور سچائی لے کر آئے ہیں اور وَصَدَّقَ بِہٖٓ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق رض ہیں جنہوں نے اس سچائی کی بلا حیل و حجت تصدیق کی۔ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

49 یہ آیت سابقہ آیت کا عکس ہے۔ اور اس کا مصداق ایک بھی ہوسکتا ہے اور دو الگ الگ بھی۔ یعنی جو شخص خود بھی سچ بات پیش کرتا ہے۔ سچ ہی بولتا ہے اور اگر کوئی سچی بات اس کے سامنے پیش کی جائے تو اس کی تصدیق بھی کردیتا ہے تو ایسا شخص فی الواقع متقی ہے اور دوسری صورت میں سچ بولنے والا تو رسول ہے۔ اور اس کی تصدیق کرنے والے مومنین ہیں۔ اور ایسے لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 33–34

45۔ جنت کی نعمتیں بےشمار، اور لامتناہی ہیں۔ یہاں حیرت انگیزایجاز و جامعیت کے ساتھ بیان کردیا کہ اہل جنت کو وہ سب کچھ مل جائے گا، جو وہ چاہیں گے۔ (آیت) ” الذی ...... بہ “۔ یعنی رسول اور انکے متبعین۔ الذی جاء بالصدق الانبیاء والذی صدق بہ الاتباع (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–41

آیت نمبر 32 تا 41 ترجمہ : اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ یعنی کوئی نہیں جو اللہ پر (یعنی) اس کی طرف شرک اور ولد کی نسبت کرے جھوٹ باندھے اور سچ یعنی قرآن جب اس کے پاس آئے تو اس کو جھٹلائے کیا ایسے کافروں کا جہنم ٹھکانہ نہیں ہے ہاں کیوں نہیں ؟ اور جو شخص سچی بات لایا اور وہ نبی ﷺ ہیں اور جنہوں نے اس کی تصدیق کی وہ مومن ہیں الَّذی، الَّذِیْنَ کے معنی میں ہے یہی ہیں شرک سے بچنے والے لوگ ان کیلئے ان کے رب کے پاس (ہر) وہ چیز ہے جو وہ چاہیں گے یہ صلہ ہے ایمان کے ذریعہ اپنے اوپر احسان کرنے والوں کا تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کے برے عملوں کو دور کر دے اور انہوں نے جو نیک اعمال کئے ہیں ان کا اچھا صلہ دے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین جاء بالصدق وصدق بہ اولئک ھم المتقون اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور خود بھی اسکو سچا مانا ‘ یہی لوگ اہل تقویٰ ہیں (یعنی اللہ سے ڈرنے والے پرہیزگار ہیں) ۔ اَلَّذِیْ جَآء بالصِّدْقِ الخ (سے صرف رسول اللہ ﷺ ہی مراد نہیں ہیں بلکہ) تمام انبیاء اور مؤمنوں کو یہ لفظ شامل ہے ‘ کیونکہ اگلی آیت میں اولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ بصیغۂ جمع فرمایا ہے۔ حضرت ابن مسعود کی قرأت میں والَّذِیْنَ جَآءُوْا بالصِّدْقِ آیا ‘ اس سے بھی قول کی تصدیق ہوتی ہے ‘ لیکن حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ (صدق یعنی) لَآ اِلٰہَ الاَّ اللہ کو رسول اللہ ﷺ لائے اور آپ کے خود اسکی تصدیق کی ‘ یعنی لوگوں تک اس کو پہنچایا ‘ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 33–34

(33۔ 34) اور جو ذات توحید اور قرآن حکیم لے کر آئے یعنی نبی اکرم اور اس کی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں نے تصدیق کی ایسے ہی لوگ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے ہیں وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے جنت میں سب کچھ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْ جَاۗءَ بالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖٓ‘ وَالَّذِيْ سے مراد پہلے گروہ کے بالمقابل گروہ ہے اور پہلی آیت کے ”مَنْ“ کی طرح اس آیت میں ”وَالَّذِيْ“ عموم کے لیے ہے، اس سے مراد نبی ﷺ اور ہر وہ شخص ہے جو آپ ﷺ کی دعوت لے کر اٹھ کھڑا ہو، کیونکہ یہ لوگ سچی بات لانے والے بھی ہیں اور اسے سچ ماننے والے بھی۔ سچ لے کر آنے کے ساتھ اس کی تصدیق کی شرط اس لیے لگائی کہ بعض اوقات آدمی سچ بیان کردیتا ہے، مگر اپنے تکبرّ کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس لیے تعریف کے قابل وہی ہے جس میں صدق اور تصدیق دونوں پائی جائیں، کیونکہ اس کا صدق اس کے علم کی دلیل ہے اور تصدیق اس کی تواضع اور تکبرّ سے پاک ہونے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–35

32 ۔ 35:۔ پس اس سے زیا دہ وہ ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے اور تکذیب کرتا ہے اور تکذیب کرتا ہے اس کی جب وہ اس کے پاس آیا، کیا جہنم میں کفار کا ٹھکانا نہیں ہے۔ اور وہ ہستی جو اس سچ کو لے کر آئی اور جنہوں نے اس سچائی کی تصد یق کی یہی ہیں جو پرہیز گار ہیں۔ انہیں ملے گا جو چا ہے گے اپنے رب کے پاس سے، یہ صلہ ہے محسوس کا تاکہ ڈھانپ لے اللہ تعالیٰ ان سے ان کے بدترین اعمال کو اور عطا فرمائے انہیں انکے بہترین اعمال کا جو وہ کرتے تھے، ، اس آدمی سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولتا ہے اور یہ گمان رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد اور شریک ہے اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے الیس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–35

1:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ وکذب بالصدق “ (اس شخص سے زیادہ بےانصاف کون ہے جس نے اللہ پر دروغ گوئی کی اور اس نے سچائی کو جھٹلایا) میں ” صدق “ سے مراد قرآن ہے اور ” وصدق بہ “ سے مرد ہے۔ 2:۔ ابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذی جآء بالصدق “ (جو سچائی کو لایا) یعنی الا الہ الا اللہ کو (آیت ) ” وصدق بہ “ (اور اس کی تصدیق کی) یعنی رسول اللہ ﷺ کی (آیت ) ” اولئک ھم المتقون “ (یہی لوگ ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْ [اور وہ جو ] جَاۗءَ بِالصِّدْقِ [آیا سچائی کے ساتھ ] وَصَدَّقَ بِهٖٓ [اور اس نے تصدیق کی اس کی ] اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ] هُمُ الْمُتَّـقُوْنَ [ہی متقی ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد اہل ایمان کا حال بتایا (وَالَّذِیْ جَاء بالصِّدْقِ ) (اور جو شخص سچی بات کو لے کر آیا) اس کا عموم تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور جو حضرات ان کے کام میں لگے حق کے داعی بنے ان سب کو شامل ہے (وَصَدَّقَ بِہٖ ) (اور جس نے سچی بات کی تصدیق کی) (اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ) (یہ لوگ پرہیز کرنے والے ہیں) شرک سے کفر سے گناہوں سے بچتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے ” الصدق “ (سچی بات) سے کلمہ (لا الہ الا اللّٰہ) اور (الذی جآء) سے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–37

تنبیہ وتہدید بر تکذیب حق وصداقت وبیان حسرت وملال مکذبین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فمن اظلم ممن کذب علی اللہ ..... الی ..... بعزیز ذی انتقام : (رابط) گذشتہ آیات میں موحد و مشرک کی حقیقت ایک مثال کے رنگ میں بیان کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا کہ شرک کا انجام سوائے حیرت و اضطراب اور ناکامی کے اور کچھ نہیں حقیقی اطمینان و سکون وانسان کی اصل فلاح وسعادت توحید خداوندی اور صرف اپنے ایک ہی رب کے ساتھ رشتہ حیات وابستہ کرلینے میں ہے اب ان آیات میں ان بد نصیبوں پر تنبیہ فرمائی جارہی ہے جن کا کام اللہ پر بہتان باندھنا اور اللہ کے رسولوں کی تردید وتکذیب کرنا ہے اور یہ کہ ایسے بدنصیب تباہی سے کبھی نہیں بچ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

35:۔ ” والذی جاء الخ “ یہ منکرین کے مقابلے میں مومنین کا حال اور ان کے لیے بشارتِ اخروی ہے۔ جو شخص پیغامِ حق لے کر آیا۔ صرف لے کر ہی نہیں آیا بلکہ دل و جان سے اسے مانتا بھی ہے تو ایسے لوگ ہی حقیقت میں خدا سے ڈرنے والے اور پرہیز گار ہیں۔ اس سے رسول اللہ ﷺ اور بالتبع صحابہ کرام ؓ مراد ہیں اور ” الصدق “ سے پیغام حق یعنی پیغام توحید مراد ہے۔ الموصول عبادرۃ عن رسول اللہ ﷺ کما اخرجہ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الاسماء والصفات عن ابن عباس و فسر الصدق بلا الہ الا اللہ والمؤمنون داخلون بدلالۃ السیاق وحکم التبعیۃ الخ (روح ج 24 ص 2) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–41

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور شرک کی مثال بیان فرمائی کہ ایک غلام صرف ایک آقا کی ملکیت اور دوسرا کئی آقاؤں کا غلام ہے جو ہیں بھی ضدی اور جھگڑالو ، تو ظاہر ہے کہ ایک آقاوالا غلام سکون و اطمینان میں ہوگا جب کہ کئی آقاؤں کا غلام سخت مشکل میں ہوگا ، کیونکہ اسے کئی مالکوں کے انکار کی تعمیل کرنا ہوگی ، اسی طرح موحد آدمی جو صرف ایک وحدہ لا شریک کو پکارتا ہے وہ اطمینان میں ہوگا اور کئی معبودوں کا پرستار مشرک مشکل میں پھنس جائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا قیامت والے دن تم سب اکٹھے ہو کے اور آپس میں جھگڑا کرو گے ، دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ کی گئی کمی بیشی وہاں دہرائی جائے گی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْ جَاۗءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖٓ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُتَّـقُوْنَ۝ 33 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 32–35

ترکیب : اذ جاء ظرف لکذب بالصدق ای کذب القرآن فی وقت مجیئہ ای من غیر تدبر و تفکر مثویٰ المقام من ثویٰ ثیوی ثواء و ثویا مثل مضی مضاء و مضیا اذا قام بہ۔ الذی جائالموصول فی موضع رفع بالابتداء اولئکالجملۃ خبرہ والمبتداء و ان کا مفرد الفظا ولکنہ فی معنی الجمع لانہ یراد بہ الجنس لیکفر اللام متعلقہ بمحذوف اسوء اسم تفضیل و قیل بمعنی اسئی ویجزی معطوف علی یکفربا حسن اضافۃ الشی الیٰ بعضہ للتوضیح۔ تفسیر : قیامت میں خصوصیت اور فیصلہ ہونے کا بیان فرما کر نیک و بددونوں فریقوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ کون حق پر اور مستحق نجات و درجات ہے اور کون ناحق پر اور قابل عذاب ہے ؟ فقال فمن اظلم ممن کذب کہ اس سے بڑھ کر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْ جَآئَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖٓ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ۔ (الزمر : 33) ( اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جنھوں نے اس کی تصدیق کی، وہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ ) جو مقدمہ اللہ تعالیٰ کے حضور قیامت کے دن پیش ہوگا اس کے دو فریق ہوں گے، ایک تو وہ کافر جنھوں نے نبی کریم ﷺ کی دعوت کو نہ صرف ماننے سے انکار کیا بلکہ آنحضرت ﷺ کی بھی تکذیب کی۔ اس فریق کے بارے میں فیصلہ اوپر کی آیت میں سنا دیا گیا اور ان کے انجام کی بھی خبر دے دی گئی۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں دوسرے فریق کے بارے میں فیصلہ سنایا جارہا ہے۔ اس فریق میں ایک تو نبی کریم ﷺ ہیں اور دوسرے آپ کے فرمانبردار اور متبع لوگ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–35

فہم القرآن ربط کلام : حق کو جھٹلانے والے کے مقابلے میں سچائی کی تصدیق کرنے والے کا مقام اور صلہ۔ جو شخص لوگوں کے سامنے سچائی کے ساتھ آیا اور جس نے سچائی کی حمایت کی وہی لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جس کی وہ تمنا کریں گے۔ نیکی کرنے والوں کو اس طرح ہی صلہ دیا جائے گا۔ حق لانے والے سے مراد سرور دوعالم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ تصدیق کرنے والوں میں سر فہرست صحابہ کرام (علیہ السلام) کی جماعت ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ ( علیہ السلام) کو حق بات کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کیا اور دل و جان کے ساتھ حق کا ساتھ دیا۔ اللہ کے رسول ﷺ اور صحابہ ؓ کے بعدہر آدمی اس صلہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 33–34

وَالَّذِيْ جَاۗءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖٓ (اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور اس کو سچ جانا) ۔ رسول اللہ ﷺ سچ لے کر آنے والے ہیں اور اس پر ایمان لائے۔ اس سے آپ کی ذات گرامی اور وہ سب مراد ہیں جنہوں نے آپ کی اتباع کی۔ جیسا کہ اس آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) خود اور آپ کی قوم مراد ہے۔ ولقد آتینا موسیٰ الکتاب لعلہم یہتدون (المومنون :49) ۔ اسی لیے فرمایا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُتَّـقُوْنَ (تو یہ لوگ پرہیز گار ہیں) قول زجاج : علی مرتضی ؓ سے مروی ہے کہ وَالَّذِيْ جَاۗءَ بِالصِّدْقِ سے محمد ﷺ مراد ہیں اور الذی صدق بہ سے ابوبکر صدیق ؓ مراد ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ جاء بالصدق تو محمد ﷺ ہیں اور صدق بہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 33–34

جاء بالصدق وصدق بہ کی مختلف تفاسیر 33، والذی جاء بالصدق وصدق بہ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ، والذی جاء بالصدق، یعنی رسول اللہ ﷺ کلمہ توحید لا الہ الا اللہ کو لائے اور رسول اللہ ﷺ نے خود اس کی تصدیق بھی کی اور مخلوق تک اس کو پہنچایا اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ، والذی جاء بالصدق، سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں کہ وہ قرآن لائے اور اس کی محمد ﷺ نے تصدیق کی اور اس کو قبول کیا اور کلبی اور ابوالعالیہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ، والذی جاء بالصدق، سے رسول اللہ ﷺ اور، وصدق بہ، سے ابوبکر صدیق ؓ مراد ہیں اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ، والذی جاء بالصدق ، رسول اللہ ﷺ اور ، وصدق بہ، سے مؤ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 32–34

32۔ 34۔ اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کرنا اور اللہ کو صاحب اولاد ٹھہرانا یا بتوں کے نام پر جانور چھوڑ کر ان کو حرام قرار دینا بھی اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ و کذب بالصدق اس کا مطلب قرآن کو جھٹلانا کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے پھر فرمایا کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں اور اللہ کے کلام کو جھٹلانے والوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے پھر فرمایا اللہ کے رسول جو اللہ کا کلام لوگوں کی ہدایت کے لئے لائے اور امت میں کے وہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ جنہوں نے اللہ کے کلام کو دل سے سچا جان کر اس کی نصیحت کے موافق عمل کیا۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہ اسی وقت موجود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 32–35

آیت 32 اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں (ممن کذب علی اللہ) ” جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا “ یا تو کسی ایسی چیز کو اس کی طرف منسوب کیا جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دی کہ وہ یوں کہتا ہے یا یوں خبر دیتا ہے یا اس طرح کا حکم دیتا ہے، جبکہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔ اگر کسی نے جہالت کی بنا پر ایسی بات کہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے : (آیت) ” اور (اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام ٹھہرا دیا) یہ کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔ “ ورنہ یہ بدترین…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

73 متقی اور فائز المرام لوگوں کا ذکر : سو اس ارشاد سے دوزخیوں کے مقابلے میں جنتیوں اور فائز المرام لوگوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی وہ متقی اور پرہیزگار لوگ جو بچ گئے کفر و شرک کی ظلمتوں اور معاصی وذنوب کے اندھیروں سے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ بچ گئے دوزخ کی آگ اور اس کے ہولناک عذاب سے۔ اور ان کو نواز دیا گیا ربِّ رحمن کی رحمتوں اور عنایتوں سے۔ اور وہ سرفراز ہوگئے جنت کی سدا بہار نعمتوں سے ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ بِمَحْضِ مَنِّہٖ وَکَرَمِہ وَہُوَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ ۔ بہرکیف یہ دوزخیوں کے مقابلے میں جنتیوں کا بیان ہے۔ یعنی دوسرے فریق کا اور اس سے قرآن کے لانے والے اور اس کی تصدیق کرنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–41

سچوں اور جھوٹوں کے احوال تشریح : ان آیات کو پڑھنے کے بعد بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ مومن کی شان بہت بلند ہے اس کا رتبہ بڑا اونچا ہے اور اس پہ زندگی پُر وقار اور آخرت کی زندگی پُر آسائش، آرام دہ، بہترین اور ہمیشہ رہنے والی ہوگی ایسا کیوں نہ ہو کہ جب مومن کا آقا بہترین ہے جو مالک کون و مکان، واحدہ لا شریک، سب پر غالب، مالک یوم الدین، بہترین انصاف کرنے والا، شاندار عالی مرتبہ، غفور ورحیم، نعمتیں اور برکتیں دینے والا اور جنت و دوزخ کا مالک تو بھلا اس قدر علیم وخبیر اپنے بندوں کو کبھی اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ البتہ اللہ سے منکر ہونے والوں کی یہ دنیا بھی خراب اور آخرت کی دنیا تو بہت ہی خراب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–41

رکوع نمبر 4 ۔ آیات 32 تا 41: اسرار و معارف : اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے اور اس کے ساتھ دوشرے شریک ماننے سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے یا پھر یہ بہت بڑا ظلم ہے کہ کسی کے پاس حق بات پہنچے اور وہ اسے جھٹلا دے تو اس کی سزا بھی یقیناً یہی ہے کہ کافروں کو جہنم میں ٹھکانہ دیا جائے ان کے مقابل جو بھی حق بات کرے اللہ کا رسول یا آپ ﷺ سے حاصل کرکے کوئی مسلمان اور پھر دوسرا جو اس کی تصدیق کرے اور اسے سچ مانے ایسے لوگ ہیں کہ جن کا تعلق اللہ سے ہے۔ ان کا فیصلہ روز حشر یہ ہوگا کہ جو نعمت چاہیں گے ملے گی اور خلوص دل سے اطاعت کرنے والوں کو ایسے ہی نوازا جائے گا بلکہ بتقاضائے بشریت ان سے جو خطائیں ہوئی ہوں گی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 مراد نبی ﷺ ہیں اور ہر وہ شخص جو آپ ﷺ کی دعوت لے کر کھڑا ہوا۔5 مراد تمام مومن ہیں۔6 یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں عذاب سے محفوظ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:33) الذی جاء بالصدق وصدق بہ : الذی اسم موصول ، مبتداء جاء بالصدق وصدق بہ متعلق مبتدا۔ اولئک ہم المتقون۔ خبر۔ الصدق۔ سچ ۔ سچی بات۔ صداق بمعنی لا الہ الا اللّٰہ۔ صدق یصدق باب نصر کا مصدر ہے۔ صدق باب تفعیل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الصدق کی طرف راجع ہے اس نے اس کی تصدیق کی۔ الذی جاء بالصدق وصدق بہ کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) الذی جاء ۔۔ سے مراد رسول کریم ﷺ ہیں۔ اور صدق بہ میں ضمیر فاعل کا مرجع بھی وہی ہیں۔ یعنی وہ سچ لائے اور اس کی تصدیق بھی کی۔ (2) الذی جاء سے مراد رسول کریم ﷺ ہیں اور صدق بہ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔ (3) الذی جاء سے مراد حضرت جبرائیل…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 32–37

لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 37 : اظلم ( بڑا ظالم) مثوی ( ٹھکانہ) اسوا ( برا کیا) ذی انتقام ( بدلہ لینے والا) تشریح : آیت نمبر 32 تا 37 :۔ توحید خالص اور کفر و شرک پر عمل کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ واقعی بڑا ظالم اور بےانصاف ہے جس کے پاس قرآن کریم جیسی سچائی اور پیغام پہنچ گیا ہو اور اس نے بغیر سوچے سمجھے محض اپنی جہالت ، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس کا انکار کردیا ہو ، یقینا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ تو جہنم ہی ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جن کے پاس اللہ کا سچا پیغام پہنچا اور انہوں نے اس کی تصدیق کی تو یہ اہل تقویٰ ہیں انہیں آخرت میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور اگر ان سے کوئی کوتاہی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 32–35

شرک کابیان۔ (ف 1) اللہ کے شریک اور اولاد قرار دینا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے اور جو انبیاء سچی باتیں خدا کی طرف سے لائے ان کو سنتے ہی جھٹلانے لگاسوچنے سمجھنے کی تکلیف بھی گوارانہ کی بلاشبہ جو شخص سچائی کا اتنا دشمن ہو اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے اور ان سے ظالموں کاٹھکانہ دوزخ کے سوا اور کہاں ہوگا، پھر فرمایا جو سچا دین اور قرآن شریف رسول کریم لوگوں کی ہدایت کے لیے لائے اور امت میں کے وہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ جنہوں نے اللہ کے رسول اور کلام کو دل سے سچاجان کر اس کی نصیحت کے موافق عمل کیا، اس کاٹھکانہ جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہیں جس چیز کو ان کا جی چاہے گا وہ اسی وقت موجود ہوجائیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 33–35

[32] جو سچی بات لے کر آیا وہ پیغمبر ہے اور سچی بات قرآن اور جس نے اس کی تصدیق کی وہ مسلمان۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–33

سب سے بڑا ظلم 1: مشرکین مکہ کے دو جرم تھے ۔ ایک تو یہ کہ وہ اللہ کی جانب ان عقائد کو منسوب کرتے ۔ جن سے ان کی ذات والا صفات انکار کرتی ہے اور دوسرا یہ کہ وہ کتاب صدق وحقانیت کی مخالفت کرے اس لئے وہ صحیح معنوں میں ظالم تھے ۔ اور بےانصاف ۔ کیونکہ اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہوسکتا ہے ۔ کہ انسان اللہ کی دی ہوئی بصیرت سے کام نہ لے ۔ اور خود اپنی حقیقت سے آگاہ نہ ہو ۔ خدا کے لئے اولاد کو ثابت کرے ۔ اور اس طرح عقل وخرد اور بصیرت ووجدان کی صریحاً مخالفت کرے ۔ پھر یہی نہیں جب اس کو بتلایا جائے کہ تم راہ راست پر گامزن نہیں ہو ۔ تو اس کو جھٹلائے ۔ کیا اس سے زیادہ محرومی اور شقاوت کی کوئی اور صورت ہوسکتی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(33) اور وہ لوگ جو سچی بات لے کر آئے اور خود بھی اس سچی بات کی تصدیق کی تو یہی لوگ ڈرانے والے اور پرہیزگار۔ چونکہ مفسرین کے اس آیت کی تفسیر میں کئی قول ہیں اس لئے ترجمہ اور تیسیر ہیں ان کی رعایت کی گئی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو سچ لایا وہ نبی اور جس نے سچ مانا وہ مومون۔ وہ لوگ جو سچ لائے اس میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام جو خدا کی طرف سے دین حق لے کر آئے یارسول کی طرف سے کوئی دین حق کی تبلیغ کے لئے کہیں گیا سب شامل ہیں اور رسول یارسول کے رسول نے خود بھی تصدیق کی اور دین حق کو سچا جانا یعنی خود صادق بھی اور مصدق بھی تو ان لوگوں کو متقی فرمایا۔ بعض حضرات نے فرمایا صادق رسول اور اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–34

ف 7۔ ایسے شخص کا اظلم ہونا بھی ظاہر ہے، اور اظلم کا مستحق عقوبت اعظم ہونا بھی ظاہر ہے اور عقوبت اعظم جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ شخص جو سچائی لے کر آیا اور جن لوگوں نے اس سچائی کو قبول کیا وہی متقین ہیں 33۔ سچائی لے کر آنے والا کون ہے ؟ وہی نبی اعظم وآخر محمد ﷺ جن کے سینہ اقدس پر قرآن کریم نازل کیا گیا اور آپ نے اس سچائی کو لوگوں تک پہنچایا اور پھر وہ لوگ جنہوں نے اس سچائی کی سب سے پہلے تصدیق کی اور صحابہ کرام کی جماعت قرار پائی یہی وہ متقی اور پرہیز گار لوگ ہیں جن کے اتقاء اور پرہیزگاری کا اعلان رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے کیا گیا ہے۔ ایک سچائی ہر حلل میں اور ہر دور میں سچائی ہی رہے گی لیکن وہ لوگ جو سچائی کو ظاہر ہوتے ہی مان گئے اور اس کی تصدیق کی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کی ان کے درجات ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–35

All deeds will be given against oppressions and infringement of rights, but one's 'iman (faith) will not be given After having reported all Hadith narrations cited above, it has been said in Tafsir Mazhari that the thing mentioned about giving the deeds of the oppressor in settlement of the rights of the oppressed means deeds other than 'iman (faith). The reason is that all oppressions and injustices are acts of sin. They are not kufr or disbelief. And the punishment of sinful deeds will be limited as against 'iman (faith) which is a limitless deed. Its reward too is limitless, that is,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

52 It means this: "As to who will receive punishment in the trial before Allah on the day of Resurrection, you should note it well that the punishment inevitably will be inflicted on those wicked people who invented a false creed that there were other associates also with AIlah, who had a share in His Being, authority, powers and rights, and worse than that, when the truth was presented before them, they not only paid no heed to it, but, on the contrary, treated the one who presented it as an impostor. As far as the person who came with the truth, and those who affirmed faith in him, are…

Read the full tafseer →