Explained with ayahs 27–31
فیصلے روز قیامت کو ہوں گے۔
چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آجاتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چناچہ ارشاد ہے (ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ 28) 30۔ الروم :28) اللہ نے تمہارے لئے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو۔ ایک اور آیت میں ہے ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لئے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کرلیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
سورة الزُّمَر 51
پچھلے فقرے اور اس فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے موقع و محل اور سیاق وسباق پر غور کر کے ہر صاحب فہم آدمی خود بھر سکتا ہے۔ اس میں یہ مضمون پوشیدہ ہے کہ اس اس طرح تم ایک صاف سیدھی بات سیدھے طریقے سے ان لوگوں کو سمجھا رہے ہو اور یہ لوگ نہ صرف یہ کہ ہٹ دھرمی سے تمہاری بات رد کر رہے ہیں، بلکہ اس کھلی صداقت کو دبانے کے لیے تمہارے درپے آزار ہیں۔ اچھا، ہمیشہ نہ تمہیں رہنا ہے نہ انہیں۔ دونوں کو ایک دن مرنا ہے۔ انجام سب کے سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
(آیت) اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ۔ لفظ میت بتشدید الیاء اس کو کہتے ہیں جو زمانہ مستقبل میں مرنے والا ہو اور میت بسکون الیاء اس کو کہتے ہیں جو مر چکا ہو۔ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور آپ کے دشمن اور احباب بھی سب مرنے والے ہیں۔ مقصد اس کے بیان کرنے سے سب کو فکر آخرت کی طرف متوجہ کرنا اور عمل آخرت میں لگنے کی ترغیب دینا ہے۔ اور ضمناً یہ بھی بتلا دینا ہے کہ افضل الخلائق اور سید الرسل ہونے کے باوجود موت سے رسول اللہ ﷺ بھی مستثنیٰ نہیں۔ تاکہ آپ کی وفات کے بعد ان لوگوں میں اس پر اختلاف پیدا نہ ہو۔ (از قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(آیت 31-30)
آنحضرت صلعم کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے وعید
یہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے تہدید و وعید ہے کہ توحید اور شرک کا یہ قضیہ آج چھڑا ہوا ہے ایک دن خدا کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم بھی مرنے والے ہو اور یہ تمہارے مخالفین بھی ایک دن مریں گے پھر تم اور وہ دو فریقوں کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں پیش ہوں گے۔ تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ان کو کیا بتایا اور سکھایا۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اس کا کیا جواب دیا۔ پھر حقیقی اور آخری فیصلہ وہاں ہوگا کہ کون حق پہ تھا اور کون ناحق پر مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی کٹ حجتی اور ہٹ دھرمی پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
31۔ 1 یعنی اے پیغمبر ! آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہمکنار ہو کر اس دنیا سے ہمارے پاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہوسکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین و جاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–41
13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
درس نمبر 219 ایک نظر میں
یہ سبق اس سے ماقبل کے تمام اسباق پر ایک تبصرہ ہے۔ آسمانوں سے پانی کے نزول کی نشانی بیان کرنے کے بعد مردہ زمین پر روئیدگی پیدا ہوکر فصل کاٹنے تک کی نشانی کے بعد ، اور اللہ کی جانب سے نازل ہونے والی اس کتاب کی نشانیوں کے بعد اور قرآنی امثال کے بیان کے بعد اور نبی ﷺ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ اکثر لوگ نہیں جانتے ، یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اب بعث بعد الموت کے بعد ہی اللہ تمام حقائق کا فیصلہ کر دے گا۔ لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو
انکی تکذیب کا بدلہ مل جائے گا اور وہ اس کے مستحق ہوں گے۔ اور بچوں کو سچائی کا وہ صلہ مل جائے گا جس کے وہ مستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
8 یعنی جیسے مشرک اور موحد میں جو اختلاف ہے اس کا اثر قیامت کے دن علیٰ رؤس الاشہاد ظاہر ہوگا جس وقت پیغمبر اور امتی سب اکٹھے کیے جائیں گے اور کفار، انبیاء اور مومنین کے مقابلہ میں جھگڑے اور حجتیں نکالیں گے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " کافر منکر ہوں گے کہ ہم کو کسی نے حکم نہیں پہنچایا پھر فرشتوں کی گواہی اور زمین و آسمان کے ہاتھ کی گواہی سے ثابت ہوگا۔ " کہ اس ادعاء میں جھوٹے ہیں۔ اسی طرح دوسرے تمام جھگڑوں کا فیصلہ بھی اس دن پروردگار کے سامنے ہوگا۔ بہتر یہ ہی ہے کہ لفظ " اختصام " کو عام رکھا جائے تاکہ احادیث و آثار کے خلاف نہ ہو۔
Read the full tafseer →آیت 30 { اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّـیِّتُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! یقینا موت آپ پر بھی وارد ہوگی اور یہ سب بھی مرنے والے ہیں۔“
Read the full tafseer →46 کفار مکہ بسا اوقات یہ آرزو کرتے تھے کہ اگر یہ نبی مرجائے تو سارے جھگڑے ختم ہوجائیں۔ اس آیت میں ان کی اسی بری آرزو کا نہایت سنجیدہ انداز میں جواب دیا گیا ہے اور اس نبی کو ہی مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ اگر آپ کو موت آتی ہے تو یہ کیا موت سے بچ سکتے ہیں ؟ پھر یہ کیا معلوم پہلے موت کس کو آئے گی ؟ موت آنے کی حد تک تو سب یکساں ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ موت کے بعد کس کا انجام بخیر ہوگا۔ اور کون اپنی سرکشی کی پاداش میں ماخوذ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
43۔ (اور وہ دن عملی فیصلہ کے صدور وظہورکا ہوگا) یہاں رسول اللہ ﷺ کو تشفی دی ہے کہ آپ زیادہ غم وتردد کو راہ نہ دیں۔ آپ کو بھی دنیا سے گزر کر اپنے رب تک پہنچنا ہے اور ان منکرین کو بھی یہیں آنا ہے، یہ خود آکر اپنے کیے کو بھگت لیں گے۔ (آیت) ” انک میت “۔ خطاب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ لیکن جو حکم یہاں بیان ہوا ہے وہ امت کے لیے بھی عام ہے۔ والضمیر فی انک خطاب للرسول وتدخل معہ امتہ فی ذلک (بحر) ضمنا موافق و مخالف، دوست، دشمن سب کو یہ تعلیم مل گئی کہ نبی مرسل غیر فانی وفنا پذیر ہی ہوتا ہے۔ (آیت) ” تختصمون “۔ یہ جھگڑنے والے اور استغاثہ لانے والے کون لوگ ہوں گے ؟ مومن و کافر بھی ہوں گے اور ظالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے…
Read the full tafseer →انک میت وانھم میتون۔ بلاشبہ آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے ‘
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(30۔ 31) اور آپ ان کی باتوں پر غم نہ کریں عنقریب آپ کو بھی لوٹ کر جانا ہے اور ان کفار مکہ کو بھی، پھر قیامت کے دن تم حجت و دلیل کے ساتھ اپنے اپنے مقدمات اپنے رب کے سامنے پیش کرو گے یعنی حضرت نبی اکرم اور کفار مکہ۔
Read the full tafseer →اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْن : یعنی اگر یہ نہیں مانتے تو نہ مانیں، ہمیشہ نہ تجھے رہنا ہے نہ ان کو، یقیناً تو مرنے والا ہے اور یقیناً وہ بھی مرنے والے ہیں۔ اس میں نبی ﷺ کے لیے وعدہ اور بشارت ہے کہ آپ کی دنیا کی محنت و مشقت اور تمام رنج ختم ہونے والے ہیں اور آپ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور ہمیشہ کی راحت و آرام والی جنت میں جانے والے ہیں، اور کافروں کے لیے وعید ہے کہ ان کی مہلت ختم ہونے والی ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے پیش ہو کر اپنے کفر و شرک کا حساب دینے والے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں نبی ﷺ اور تمام مسلمانوں کو ان کی موت یاد دلا کر اس کی تیاری کی یاد دہانی بھی ہے۔
3 اس آیت میں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
30 ۔ 31:۔۔ بیشک آپ نے بھی دنیا سے انتقال فرما نا ہے اور انہوں نے بھی مرنا ہے، پھر تم سب روز حشر اپنے رب کے حضور میں آ پس میں جھگڑئو گے ابن محیصن، ابن ابی عبلہ، عیسیٰ بن ابی اسحاق نے اسے انک ما ئت وا نھم مائتن پڑ ھا ہے یہ اچھی قراءت ہے، حضرت عبد زبیر نے بھی یہی قراءت کی ہے اس قسم کا الف شاز قراءتوں میں حزف کردیا جاتا ہے۔ انہ لما را اض من ھذا الطعا م۔ حضرت حسن بصر ی، فراء اور کسائی نے میت پڑھا ہے یہ لم یمت و سیموت سے مشتق ہے المیت جب تخفیف کے ساتھ پڑھیں اس سے مراد وہ شخص جس سے روح الگ ہوجائے اسی وجہ یہاں اس میں تخفیف نہیں کی گئی۔ قتا دہ نے کہا ؛ نبی کر یم ﷺ کو آپ کی ذات اور تمہیں تمہاری ذا توں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1:۔ عبد بن حمید (رح) و نسائی (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) ابن مردویہ (رح) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک زمانہ تک رہے اور ہم یہ گمان کرتے رہے تھے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی اور جو اہل کتاب ہم سے پہلے گزرے ہیں ان کے بارے میں بھی (آیت) ” انک میت وانہم میتون (30) ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ (بلاشبہ آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے پھر تم سب قیامت کے دن جھگڑو گے اپنے مقدمات پیش کروگے) ہم اپنے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ہم کس طرح آپس میں جھگڑیں گے حالانکہ ہمارا نبی ایک ہے اور ہماری کتاب ایک ہے ؟ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ہمارا بعض، بعض کے چہروں…
Read the full tafseer →اِنَّكَ مَيِّتٌ [بیشک آپ ﷺ مردہ ہوں گے ] وَّاِنَّهُمْ مَّيِّتُوْنَ [اور بیشک یہ لوگ (بھی) مردہ ہوں گے ] ۔
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (اِِنَّکَ مَیِّتٌ وَاِِنَّہُمْ مَیِّتُوْنَ ) (بلاشبہ آپ مرنے والے ہیں اور بلاشبہ یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔ )
مطلب یہ کہ آپ منکرین کے بارے میں غمگین نہ ہوں یہ لوگ دنیا میں آپ کی بات نہیں مانتے قیامت کے دن فیصلہ ہوجائے گا اہل ایمان جنت میں اور اہل کفر دوزخ میں ہوں گے جیسا کہ آئندہ آیات میں بیان فرمایا۔
تفسیر جلالین میں لکھا ہے کہ اہل مکہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کا انتظار کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ اس شخص کو موت آجائے تو ہماری جان چھوٹ جائے گی اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب کرکے فرمایا کہ آپ بھی وفات پانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی مرنا ہے۔ دنیا سے تو سب کو ہی جانا ہے اگر یہ لوگ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
تمثیل حق و باطل وفرق درمیان عبد مومن ومطیع وبندۂ مشرک وعاصی :
(ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ جس کسی کا دل اللہ نے ایمان کے لئے کھول دیا وہ ہدایت وسعادت کی روشنی پر ہے تو ایسا شخص جس کو نور ہدایت حاصل ہوچکا وہ اس بدنصیب انسان کی طرح نہیں ہوسکتا جو کفر وگمراہی کی تاریکیوں میں مبتلا ہے اب ان آیات میں حق و باطل کی تمثیل اور مومن و مشرک کے فرق کو ایک حسی مثال میں پیش کیا جارہا ہے اور یہ بیان کیا جارہا ہے ان حقائق کو سمجھانے میں قرآن کریم نے تو کوئی کمی نہیں کی دلیلوں سے سمجھا دیا مثالوں سے واضح کردیا اس کے بعد بھی اگر کوئی نہ سمجھے اور نہ مانے تو یہ اس کی حماقت و غفلت ہے قرآن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
33:۔ ” انک میت الخ “ یہ شبہ مقدرہ کا جواب ہے۔ شبہ یہ تھا مشرکین کہتے تھے جب تک یہ زندہ ہیں اس وقت تک تو یہ ہمارا اور ہمارے معبودوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ ہاں البتہ موت ہی اس سے ہمیں خلاصی دلا سکتی ہے۔ جب یہ مرجائے گا تو قصہ پاک ہوجائے گا۔ جیسا کہ دوسری ان کا قول اس طرح نقل کیا گیا ہے ” ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون “ (طور رکوع 2) ۔ جواب میں ارشاد فرمایا موت سے سے کسی مفر نہیں۔ اگر وہ آپ کیلئے موت کے منتظر ہیں تو وہ خود کب تک زندہ رہیں گے۔ جس طرح آپ موت سے دو چار ہونے والے ہیں اسی طرح وہ بھی لقمہ اجل بننے والے ہیں۔ پھر قیامت کے دن تم خدا کے سامنے جھگڑا کرو گے۔ مشرکین کہیں گے۔ ” ماجاءنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
ربط آیات :
شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کے انجام اور ان کو ملنے والے انعام واکرام کا ذکر فرمایا ، نیز مختصر طور پر مشرکوں اور کافروں کی سزا کو بیان فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں بھی ذلت ورسوائی کا سامنا کریں گے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہوگا ، فرمایا یہ لوگ محض غفلت اور بیوقوفی کی بناء پر ایمان اور وحدانیت کا انکار کرتے ہیں وگرنہ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن کریم نازل فرما کر ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں مختلف قسم کی مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں ، اگر اب بھی یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ ان کی اپنی حماقت ہے قرآن نے تو توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو مثالوں کے ذریعے…
Read the full tafseer →اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّہُمْ مَّيِّتُوْنَ 30ۡ
موت
أنواع الموت بحسب أنواع الحیاة :
فالأوّل : ما هو بإزاء القوَّة النامية الموجودة في الإنسان والحیوانات والنّبات
. نحو قوله تعالی:
يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الروم/ 19] ، وَأَحْيَيْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ ق/ 11] .
الثاني : زوال القوّة الحاسَّة . قال : يا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هذا
[ مریم/ 23] ، أَإِذا ما مِتُّ لَسَوْفَ أُخْرَجُ حَيًّا [ مریم/ 66] .
الثالث : زوال القوَّة العاقلة، وهي الجهالة .
نحو : أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] ، وإيّاه قصد بقوله : إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتى[ النمل/ 80] .
الرابع : الحزن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
ترکیب : قراناً حال مؤکدۃ من ھذا و تسمی حالاً موطئۃ لان الحال فی الاصل ھو عرب یا و قرانا تو طئۃ لہ نحو جاءنی زید رجلا صالحا ھذا قول الاخفش ویمکن ان ینتصب علی المدح رجلاقال الکسائی منصوب لکونہ تفسیر المثل وقیل منصوب بنزع الخافض ای ضرب اللہ مثلاً برجل وقیل رجلا مفعول اول و مثلا مفعول ثان فیہ شرکاء الجملۃ صفتہ لرجل، و فی تتعلق بمتشاکسون سلما بفتح السین و کسرھا وسالما مصدر وصف بہ للمبالغۃ والتشاکس التخالف۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ قاسی القلب لوگوں کے عذاب آخرت کی کیفیت بیان فرما چکا تو دنیا میں بھی ان پر عذاب نازل ہونے کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال کذب الذین کہ ان سے پہلے لوگوں نے جو بڑے سخت دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
اِنَّـکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ ۔ ثُمَّ اِنَّـکُمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ ۔ (الزمر : 30، 31)
(اے پیغمبر ! بیشک آپ بھی مرنے والے ہیں اور یقینا وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔ پھر تم لوگ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔ )
مَیِّتٌ ” یا “ کی تشدید کے ساتھ، اس کو کہتے ہیں جو زمانہ مستقبل میں مرنے والا ہو اور مَیْت ” یا “ کے سکون کے ساتھ اس کو کہتے ہیں جو مرچکا ہو۔
نبی کریم ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو تنبیہ
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی ہے اور مخالفین کے لیے تہدید اور تنبیہ ہے۔ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ آپ جس طرح نہایت سادہ اور عام فہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
فہم القرآن
ربط کلام : بےعلمی کی انتہا اور اس کے برے نتائج۔
مکہ کے ابتدائی سالوں کی بات ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ قرآن مجید کے دلائل اور اس میں دی جانے والی امثال کے ذریعے توحید و رسالت اور آخرت کا عقیدہ بیان فرماتے تو مکہ کے بڑے بڑے لوگ لاجواب ہوجاتے لیکن عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کہتے کہ محمد ﷺ کی خود ساختہ دعوت از خود ختم ہوجائے گی تھوڑے سے انتظار کی ضرورت ہے اس کے مرنے کے بعد اس کا قصہ بالکل پاک ہوجائے گا۔ نہ اس کا بیٹا ہے جو اس کے مشن کو جاری رکھ سکے اور نہ اس کے ساتھی اتنے زیادہ ہیں جو ہمارا مقابلہ کرسکیں۔ اس موقعہ پر انہیں یہ جواب دیا گیا کہ ان کا کہنا ہے کہ آپ ﷺ کو موت آجائے گی۔ کیا آپ کو…
Read the full tafseer →موت سب پر ہے تو کسی کے انتظار موت سے اس میں فرق نہیں :
30: اِنَّکَ مَیِّتٌ (آپ کو بھی مرنا ہے) یعنی عنقریب آپ پر موت آئے گی۔ وَّ اِنَّہُمْ مَّیِتُوْنَ (اور ان کو بھی مرنا ہے) مَیْتٌ تخفیف سے وہ جس پر موت اترے۔
قولِ خلیل :
ابو عمرو نے یہ شعر پڑھا ؎
وتسألنی تفسیر مَیّتٌ وَمَیْتٍ ٭ فدونک وقد فسرت ان کنت تعقل
فمن کان ذا روحٍ فذلک مَیّتٌ ٭ وما المیْتُ الامن الی القبر یحمل
جس پر موت آئندہ طاری ہوگی وہ میت ہے اور جو مرچکا اور اس کو قبر کی طرف لے جایا جارہا ہو۔ وہ مَیْتٌہے۔ کفار قریش رسول اللہ ﷺ کے متعلق موت کے منتظر تھے۔ پس اس میں خبر دی گئی کہ موت تو ان کو بھی آئے گی۔ پھر کسی کے انتظار موت کا کیا…
Read the full tafseer →30، انک میت، یعنی عنقریب آپ وفات پاجائیں گے۔ ، انھم میتون، یعنی عنقریب تم مرجاؤ گے۔ فراء اور کسائی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ لفظ میت یاء کی شد کے ساتھ ، وہ شخص جو ابھی مرا نہیں اور عنقریب مرجائے گا اور میت تخفیف کے ساتھ وہ شخص جس کی روح جدا ہوگئی ہو اس لیے یہاں تخفیف نہیں کی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
29۔ 31 شرک کی برائی اور توحید کی خوبی کی جس طرح ایک مثال اوپر گزری اس طرح کی یہ دوسری مثال ہے عرب میں غلاموں کا بہت دستور ہے۔ اس دستور کے موافق کسی غلام کا ایک آقا ہے اور کسی کے کئی آقا ہیں۔ پچھلی صورت میں آقا تو جدا جھگڑے رہتے ہیں مثلاً کوئی غلام کو بازار میں بھیج کر خریدو فروخت کی خدمت چاہتا ہے اور کوئی غلام سے گھر کا کام لینا چاہتا ہے غلام جدا کش مکش میں رہتا ہے کہ ایک آقا کی خدمت کرے تو دوسرا ناراض ہوجاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں 1 ؎ کہ یہ مثال مشرک اور صاحب توحید کے باب میں ہے کہ کیونکہ جو شخص ایک آقا کا غلام ہے اس کا آقا اس کی خبر گیری کرتا ہے اور وہ اپنے آقا کی دل سے خدمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت 27
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیا کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے (لعلھم یتذکرون) ” تاکہ وہ نصیحت پکڑیں “ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد ان پر عمل کریں۔
(آیت) ” یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لئے بہت سہل ہے (غیر ذی عرج) یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →68 موت کا مزہ ہر کسی نے بہرحال چکھنا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ آپ نے بھی ۔ اے پیغمبر۔ مرنا ہے اور یقینا ان سب نے بھی بہرحال مرنا ہے "۔ تو پھر ان دشمنانِ حق کے لئے آپ کی موت سے خوشی کا کون سا موقع ہوسکتا ہے جو یہ اس کی انتظار میں لگے ہیں ؟ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { اَمْ یَقُوْلُوْن شَاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْن } ۔ یعنی ان کا کہنا یہ تھا کہ یہ ایک شاعر ہے جس نے باقی لوگوں اور دوسرے شاعروں کی طرح مر مٹ جانا ہے اور اس طرح اس کا لایا ہوا دین بھی ختم ہوجائے گا۔ لہٰذا اس کے حادثہ موت تک انتظار کرلو۔ اس کے بعد معاملہ خود ٹھیک ہوجائے گا۔ تو اس پر ان بدبختوں کو بتایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
مومن اور کافر کی مثال
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی بات کو بڑے آسان اور عام فہم الفاظ میں یوں بیان کردیا ہے کہ اگر کوئی جاہل سے جاہل بندہ بھی اس پر غور کرے گا تو توحید کے نور سے منور ہوئے بغیر نہ رہ سکے گا۔ کتنی پیاری مثال ہے سب سے پہلے یہ یقین کرلیں کہ ہم اللہ کے ” عبد “ یعنی غلام ہیں۔ ہم اپنے آپ کو اس غلامی سے ہرگز آزاد نہیں رکھ سکتے اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا آقا انتہائی مہربان، بہت قریب، مشفق، رہنمائی کر کے مشکلات سے بچانے والا اور ماں کی شفقت اور محبت سے کئی گنا زیادہ ہم سے محبت کرنے والا ہے۔ ہماری دعاؤں کو قبول کرنا۔ تکلیفیں دور کرنا، اونچ نیچ سے آگاہ کرنا ہماری تکلیفیں دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31:
اسرار و معارف :
اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی اگر یہ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ ہمیشہ نہ آپ ﷺ کو رہنا ہے اور نہ ان کو، دونوں کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔ یہ آیت منجملہ ان آیات کے جن سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کے رحلت فرما ہوجانے پر استدلال کیا جبکہ بہت سے صحابہ ؓ جن میں سر فہرست حضرت عمر ؓ تھے۔ اسے تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(39:30) انک میت۔ بیشک آپ کو بھی مرنا ہے۔ میت صفت مشبہ کا صیغہ ہے جو دوام و ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔ ہر شخص کی موت یقینی ہے۔ اسی لئے یہاں بجائے فعل مضارع کے (تموت وتموتون کے) میت ومیتون استعمال کیا گیا ہے۔ فرا اور کسائی کی تحقیق ہے کہ میت اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو آئندہ مرنے وال ہو ابھی مرا نہ ہو۔ اور میت اس کا بھی کہتے ہیں کہ جس کی جان نکل چکی ہو اس لئے میت اور میتون بہ تشدید ی فرمایا ۔
محلی نے لکھا ہے کہ کفار مکہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جلد وفات پاجائیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ آپ بھی یقینا مریں گے اور وہ یعنی کفار مکہ یا سب لوگو بھی مریں گے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کی وفات سے ان کو خوشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–31
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 31 :۔ ذوقوا ( چکھو) اذاق ( اس نے چکھایا) الخزی (رسوائی ، ذلت) عوج ( کجی ، ٹیڑھ پن) متشکسون (بد اخلاق لوگ) میت (مرنا) تختصمون (تم جھگڑو گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 31 :۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین جن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا فرمایا ہے کیا وہ قیامت کے دن اپنے چہروں کو اس آگ سے بچا سکیں گے جو ان کو جھلس کر رکھ دے گی جب ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب وہ اپنے کئے ہوئے برے اعمال کا مزہ چکھیں ۔ فرمایا جائے گا کہ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اس طرح اچانک عذاب…
Read the full tafseer →(ف 2) اس میں کفار کا رد ہے جو نبی ﷺ کی وفات کا انتظار کیا کرتے تھے انہیں فرمایا گیا کہ خود مرنے والے ہوکر دوسرے کی موت کا انتظار کرنا حماقت ہے کفار تو زندگی میں بھی مرے ہوئے ہیں اور انبیاء کی موت ایک آن کے لیے ہوتی ہے پھر انہیں حیات عطا فرمائی جاتی ہے اس پر بہت شرعی دلیلیں قائم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[18] یہ مثال مشرک اور موحد کی ہے۔ مشرک کا دل کئی طرف بٹا ہوا ہوتا ہے۔ اور کتنے ہی جھوٹے معبودوں کو خوش کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کے برخلاف موحد صرف ایک اللہ کا بندہ اور پوری دلجمعی کے ساتھ اس کے خوش رکھنے کی فکر میں ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی خوشنودی کے بعد کسی کی خوشنودی کی ضرورت نہیں۔[19] یعنی اللہ کا شکر ہے کہ تم خود بھی اپنے دلوں میں ان دونوں حالتوں کا فرق محسوس کرتے ہو۔
[20] یعنی ایک آقا کی غلامی اور بہت سے آقاؤں کی غلامی کا فرق تو خوب جانتے ہیں مگر ایک اللہ کی بندگی اور بہت سے الہٰوں کی بندگی کا فرق نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 3: یعنی جہاں تک موت کا تعلق ہے ۔ وہ سب کے لئے مقدرات میں سے ہے ۔ آپ بھی باوجود اس جلالت قدر کے اس سے دوچار ہونگے ۔ اور یہ عظمائے قریش بھی ۔ پھر قیامت میں یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ کون حق پر تھا ۔ اور کون باطل پر ۔
حل لغات :۔ مثل ۔ انداز بیان ۔ مراد عمدہ مضامین عوج ۔ کجی متشابصون ۔ باہم دست وگریباں
Read the full tafseer →(30) اے پیغمبر کچھ شک نہیں کہ آپ کو بھی مرنا ہے اور یقینا ان منکروں کو بھی مرنا ہے…-
یعنی اگر یہ لوگ نہیں مانتے تو آپ غم نہ کیجئے یہاں سے آپ کو بھی جانا ہے اور ان کو بھی جانا ہے یعنی ہمیشہ یہاں کوئی بھی رہنے والا نہیں بلکہ قیامت میں سب کو ایک جگہ ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 5۔ پہلی مثال مشترک کی ہے کہ ہمیشہ ڈانواڈول رہتا ہے کبھی غیر اللہ کی طرف دوڑتا ہے، کبھی خدا کی طرف، پھر کبھی غیر اللہ میں بھی ایک پر اطمینان نہیں ہوتا، کبھی کسی کی طرف رجوع کرتا ہے کبھی کسی کی طرف۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! آپ کو بھی مرنا ہے اور ان لوگوں کو بھی
30۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ جو بات ان کو تفہیم کرا رہے ہیں یہ لوگ اس کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ آپ ان کو ایک صاف اور سیدھی بات کی دعوت دیتے ہیں ، ان کو مثالیں دے کر سمجھاتے ہیں اور یہ لوگ ہیں کہ اپنی ہٹ دھرمی پر بدستور قائم ہیں اور آپ کی بات کو بزور رد کر رہے ہیں اور اس کھلی صداقت کو دبانے کے لیے تمہارے درپے آزار ہیں معلوم ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ یہ محاورہ بالکل صحیح ہے کہ لاتوں کے بھوت باتون سے نہیں مانتے۔ آپ ان کو باتوں ہی باتوں میں سمجھانا چاہتے ہیں اور اس طرح کی باتوں پر وہ کان دھرنے کے نہیں ہیں ۔ اب آپ ان کی طرف سے بےغم…
Read the full tafseer →Commentary
In verse 30, it was said: إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ (Verily, you are to die and they are to die). The word: مَيِّتٌ (mayyit) with a doubling sound on the letter: اَلیاء (al-ya) denotes someone who will die in the future and مَیت (mait) with the letter al-ya' remaining quiescent, someone who has died. In this verse, the address is to the Holy Prophet ﷺ and it is being said to him that he too is to die and so are his friends and foes, who will also die. The objective behind the statement is to alert and persuade everyone to be concerned about the Hereafter and be ready…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
51 There is a subtle gap between the preceding sentence and this, which can be filled by every intelligent person himself by a little consideration of the context. It contains this theme: "You are making every effort to make the people understand a simple thing in a simple way, but they are not only showing stubbornness with regard to what you say and rejecting it but are also bent upon harming you in order to suppress the manifest truth. Well, neither you are immortal nor they : both you and they have to die one day: then, each of you will experience his own end."
Read the full tafseer →