Explained with ayahs 27–31
فیصلے روز قیامت کو ہوں گے۔
چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آجاتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چناچہ ارشاد ہے (ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ 28) 30۔ الروم :28) اللہ نے تمہارے لئے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو۔ ایک اور آیت میں ہے ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لئے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کرلیں۔…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 48
اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور توحید کے فرق اور انسان کی زندگی پر دونوں کے اثرات کو اس طرح کھول کر بیان فرما دیا ہے کہ اس سے زیادہ مختصر الفاظ میں اتنا بڑا مضمون اتنے مؤثر طریقے سے سمجھا دینا ممکن نہیں ہے۔ یہ بات ہر آدمی تسلیم کرے گا کہ جس شخص کے بہت سے مالک یا آقا ہوں، اور ہر ایک اس کو اپنی اپنی طرف کھینچ رہا ہو، اور وہ مالک بھی ایسے بد مزاج ہوں کہ ہر ایک اس سے خدمت لیتے ہوئے دوسرے مالک کے حکم پر دوڑنے کی اسے مہلت نہ دیتا ہو، اور ان کے متضاد احکام میں جس کے حکم کی بھی وہ تعمیل سے قاصر رہ جائے وہ اسے ڈانٹنے پھٹکارنے ہی پر اکتفا کرتا ہو بلکہ سزا دینے پر تل جاتا ہو، اس کی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ نے (موحد اور مشرک کے بارے میں) ایک مثال بیان فرمائی کہ ایک شخص ہے (غلام) جس میں کئی ساتھی ہیں جن میں باہم ضدا ضدی (بھی) ہے اور ایک اور شخص ہے کہ پورا ایک ہی شخص کا (غلام) ہے (تو) کیا ان دونوں کی حالت یکساں (ہو سکتی) ہے (اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں، پہلا شخص تکلیف میں ہے کہ ہمیشہ متحیر رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں کس کا نہ مانوں۔ دوسرا آرام میں ہے کہ ایک ہی شخص سے تعلق ہے۔ پس پہلی مثال شرک کی ہے کہ ہمیشہ ڈانواں ڈول رہتا ہے۔ کبھی غیر اللہ کی طرف دوڑتا ہے، کبھی خدا کی طرف۔ پھر غیر اللہ میں بھی ایک پر اطمینان نہیں ہوتا۔ کبھی کسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کبھی کسی کی طرف۔…
Read the full tafseer →(آیت 29)
توحید اور شرک کی تمثیل
یہ توحید اور شرک کی حقیقت ایک تمثیل سے سمجھائی ہے کہ مشرک کی مثال ایک ایسے غلام کی ہے جو بیک وقت متعدد مختلف الاغراض آقائوں کی غلامی میں ہے اور موحد کی مثال ایک ایسے غلام کی ہے جو ایک ہی آقا کی غلامی میں ہے۔ اس کے بعد سوال کیا ہے کہ غور کرو کہ کیا دونوں غلاموں کا حال یکساں ہوگا ؟ مطلب یہ ہے کہ کوئی غلام بھی اس بات پر راضی نہیں ہوتا کہ ایک آقا کی غلامی کی جگہ اس کو ایک سے زیادہ مختلف الاغراض اور برسر نزاع آقائوں کی غلامی کرنی پڑے۔ انسانی فطرت ایک خدا کی غلامی پر تو اس وجہ سے راضی و مطمئن ہے کہ اس کے اندر جو افتقار و احتیاج ہے خدا کو مانے بغیر اس کا کوئی حل نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
29۔ 1 اس میں مشرک (اللہ کا شریک ٹھہرانے والے) اور مخلص (صرف ایک اللہ کے لئے عبادت کرنے والے) کی مثال بیان کی گئی ہے یعنی ایک غلام ہے جو کئی شخصوں کے درمیان مشترکہ ہے، چناچہ وہ آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک غلام ہے جس کا مالک صرف ایک ہی شخص ہے، اس کی ملکیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں غلام برابر ہوسکتے ہیں ؟ نہیں یقینا نہیں۔ اسی طرح وہ مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے اور وہ مخلص مومن، جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا برابر نہیں ہوسکتے۔
29۔ 2 اس بات پر کہ اس نے حجت قائم کردی۔
29۔ 3 اسی لئے اللہ کے ساتھ شرک کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–41
13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیت نمبر 27 تا 29
اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کی جو موحد ہے اور کسی ایسے بندے کی جو مشرک ہے ، یہ مثال دیتا ہے کہ ان کی مثال ہے جیسے ایک غلام ایک شخص کی خالص ملکیت ہو اور دوسرا کئی مختلف الحیال مالکان کے درمیان مشترکہ ہو۔ اس مشترکہ غلام میں مختلف مالکان کے علیحدہ علیحدہ مطالبے ہیں۔ اور یہ بیچارہ انکے درمیان حیران وپریشان ہے۔ کوئی ادھر کھینچتا ہے ، کوئی ادھر۔ وہ اسے کوئی ایک پروگرام نہیں دیتے اور اس بیچارے کی یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ انکی متضاد فرمائشیں شروع کرسکے کیونکہ وہ اسکے رخ کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور اسکی خواہشات کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور ایک ایک کا غلام یکسو ہے۔ اس کو مالک نے ایک…
Read the full tafseer →6 یعنی کئی حصہ دار ایک غلام یا نوکر میں شریک ہیں۔ اور ہر حصہ دار اتفاق سے کج خلق، بےمروت اور سخت ضدی واقع ہوا ہے، چاہتا ہے کہ غلام تنہا اس کے کام میں لگا رہے دوسرے شرکاء سے سروکار نہ رکھے۔ اس کھینچ تان میں ظاہر ہے غلام سخت پریشان اور پراگندہ دل ہوگا۔ برخلاف اس کے جو غلام پورا ایک کا ہو، اسے ایک طرح کی یکسوئی اور طمانیت حاصل ہوگی اور کئی آقاؤں کو خوش رکھنے کی کشمکش میں گرفتار نہ ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں غلام برابر نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح کتنے ہی جھوٹے معبودوں کو خوش رکھنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کے برخلاف موحد کی کل توجہات و خیالات اور دوا و دوش کا ایک مرکز ہے۔ وہ پوری دلجمعی کے ساتھ اس کے خوش…
Read the full tafseer →آیت 29 { ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِیْہِ شُرَکَآئُ مُتَشَاکِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ } ”اللہ نے مثال بیان فرمائی ہے ایک شخص کی جس میں بہت سے آپس میں ضد رکھنے والے آقا شریک ہیں اور ایک وہ شخص ہے جو پورے طور پر ایک ہی آقا کا غلام ہے۔“
یہ تمثیل ”توحید عملی“ کا مفہوم واضح کرنے کے لیے بیان فرمائی جا رہی ہے۔ یہ دو غلاموں کی حالت کا تقابل ہے۔ ایک غلام کے کئی آقا ہیں اور وہ بھی ضدی ‘ مختلف الاغراض اور مختلف مزاج رکھنے والے۔ اور دوسرا غلام وہ ہے جس کا ایک ہی آقا ہے۔ مقامِ غور ہے کہ اگر چار آپس میں ضد رکھنے والے اور تند خو آدمیوں نے مل کر ایک غلام خرید رکھا ہے تو اس غلام کی جان تو ہر…
Read the full tafseer →44 ایک انسان کے مختلف اور متشاکس آ قا کون کون سے ہیں ؟ تشاکس کے معنی بخل، تند خوئی اور بدمزاجی کی وجہ سے ایک دوسرے سے اپنے اپنے حق کے لئے کھینچا تانی کرنا ہے۔ مثال یہ ہے کہ ایک غلام کے ایک نہیں بلکہ متعدد آقا ہیں۔ اور ہر ایک کا جی یہ چاہتا ہے کہ وہ غلام کو اپنے ہی کام میں لگائے رکھے اور جتنا اس کا حق بنتا ہے اس سے زیادہ اس سے محنت لے۔ دوسروں کی خدمت خواہ وہ کرسکے یا نہ کرے۔ پھر وہ تند خو اور بدسرشت بھی ہیں ان میں سے ہر شخص اس غلام سے ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتا ہے اور بدسلوکی سے بھی پیش آتا ہے۔ تو بتاؤ اس غلام کا کیا حال ہوگا اور وہ کس مشکل اور مصیبت میں پڑا ہوگا اور دوسرے غلام کا مالک صرف ایک ہی ہے تو…
Read the full tafseer →41۔ (ظاہر ہے کہ نہیں ہے، بلکہ دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے) مومن مخلص ساری فکروں کو چھوڑ چھاڑ صرف ایک سے لو لگائے رہتا ہے۔ مثال کے ذریعہ سے بندۂ مومن و مشرک کے درمیان تقابل اور ان کے فرق کو واضح کرنا ہے۔ (آیت) ” رجلا ......... متشکسون “۔ ایسا شخص ایک تو غلام و محکوم، اپنے ہر ارادہ سے محروم، اور پھر مالک ایک نہیں متعدد۔ غلام حیران ومتردد کہ کس کا کہا مانوں، کس کا نہ مانوں۔ یہ روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ اللہ سے غافل ملحد و مشرک دنیا میں سخت ترین کشاکش میں گرفتار رہا کرتا ہے۔ (آیت) ” رجلا سلما لرجل “۔ مومن مخلص ساری فکروں کو چھوڑ چھاڑ صرف ایک سے لو لگائے رہتا ہے۔
ع : جو غم ہوا اسے غم جاناں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے…
Read the full tafseer →ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکاء متشکسون ورجلا سلما لرجل ھل یستوین مثلا اللہ نے
(موحد و مشرک کے فرق کو واضح کرنے کیلئے) ایک مثال بیان کی کہ ایک شخص (غلام) ہے جس میں کئی ساجھی ہیں جن میں باہم ضدا ضدی بھی ہے اور ایک اور شخص (غلام) ہے جو (صرف) ایک ہی شخص کا ہے۔ کیا دونوں کی حالت یکساں ہوسکتی ہے ؟
مُتَشٰکِسُوْنَ باہم اختلاف رکھنے والے ‘ یعنی ایسا مشترک غلام ‘ مشرک کی طرح ہے۔ مشرک بھی متعدد معبودوں کا دعویٰ کرتا اور ان کی پوجا کرتا ہے اور مشترک غلام بھی کشاکش میں مبتلا رہتا ہے ‘ کبھی کوئی مالک اس کو کھینچتا ہے ‘ کبھی دوسرا مالک۔ اپنے اپنے مختلف کاموں میں باری باری سے اس غلام کو تمام مالک لگائے رکھتے…
Read the full tafseer →تو کیا ان دونوں کی حالت ایک جیسی ہوسکتی ہے اسی طرح مومن و کافر ہرگز برابر نہیں ہوسکتے الحمدللہ کہ وحدانیت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے مگر مگر اکثر ان میں سے قرآنی مثالوں کو نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلً۔ :”رَجُلٌ شَکِسٌ“ ضدی، بدخلق، جھگڑنے والا آدمی۔ ”مُتَشٰكِسُوْنَ“ باب تفاعل سے جمع مذکر اسم فاعل ہے، اس باب میں تشارک پایا جاتا ہے، ایک دوسرے سے ضد کرنے والے، جھگڑنے والے۔ یہ مشرک اور موحّد کی مثال ہے، مشرک جو کئی معبودوں کی عبادت کرتا ہے اس کی مثال اس آدمی کی ہے جو کئی آقاؤں کا غلام ہے، جو اس کے مالک ہونے میں شریک ہیں اور سب بدخو، ضدی اور ایک دوسرے سے جھگڑنے والے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ غلام اسی کے کام میں لگا رہے اور ہر ایک اسے اپنے مطلب کا حکم دیتا ہے، اسے دوسروں کے کام سے کوئی سروکار نہیں، وہ حیران ہے کہ کس کا حکم بجا لائے۔ پھر ان میں سے کوئی بھی اس…
Read the full tafseer →کسائی نے کہا رجلا کو نصب دی گئی ہے کیونکہ یہ مثلا کی تفسیر و وضاحت ہے اگر تو چاہے تو حرف جر کے حذف کے ساتھ اسے نصب دے تقدیر کلام یہ ہوگی ضرب اللہ مثلا برجل۔
فراء نے کہا : متشکسون کا معنی ہے مختلفون یعنی مختلف۔ مبرد نے کہا : اس کا معنی ہے سخت ترش۔ یہ شکس یشکس شکسا فھو شکس سے مشتق ہے جس طرح عسر یعسر عسر فھو عسر ہے یہ کہا جاتا ہے رجل شکس ‘ شرس ‘ ضرس ‘ ضبس یہ بھی کہا جاتا ہے : رجل ضبس و ضبیس اس کا معنی ہے بد خلق سخت مزاج ہونا ‘ یہ جوہری نے کہا۔ رجل شکس سخت اخلاق والا۔ راجز نے کہا :
شکس عبوس عنبس غدور
محل استدلال شکس ہے۔
یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے قوم شکس جس طرح رجل صدق اور قوم صدق ہے۔
شکس شکاسۃ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکآء متشکسؤن “ (اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی کہ ایک شخص غلام جس میں کئی ساجھی ہے) یعنی وہ آدمی جو کئی معبودوں کی عبادت کرتا ہے۔ اور یہ مثال اللہ تعالیٰ نے بت پرستوں کے لئے بیان فرمائی (آیت ) ” ورجلا سلما “ یعنی وہ آدمی جو ایک معبود کی عبادت کرتا ہے اور یہ مثال اللہ نے اپنی ذات کے لئے بیان فرمائی ہے۔
مشرکین مصیبت میں :
2:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کہ (آیت ) ” ضرب اللہ مثلا رجلا فیہ شرکآء متشکسؤن “ (اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک آدمی کی ایک مثال بیان فرمائی جس میں کئی…
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا [بیان کی اللہ نے مثال ] رَّجُلًا [ایک ایسے مرد کی ] فِيْهِ [جس میں (شریک ہیں)] شُرَكَاۗءُ مُتَشٰكِسُوْنَ [باہم مخالفت کرنے والے کچھ شرکاء ] وَرَجُلًا [اور ایک ایسے مرد کی ] سَلَمًا [جو پورا کا پورا ہے ] لِّرَجُلٍ ۭ [ایک مرد کے لئے ] هَلْ يَسْتَوِيٰنِ [کیا یہ دونوں برابر ہیں ] مَثَلًا ۭ [بلحاظ مثال کے ] اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭ [(حجت تمام ہوئی) اللہ کا شکر ہے ] بَلْ اَكْثَرُهُمْ [بلکہ ان کے اکثر ] لَا يَعْلَمُوْنَ [جانتے نہیں ہیں ] ۔
ش ک س
(س) شکسا بدمزاج ہونا۔
(تفاعل) تشاکسا ایک دوسرے کی مخالفت کرنا۔
متشاکس اسم الفاعل ہے۔ باہم مخالفت کرنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 29 ۔
نوٹ۔…
Read the full tafseer →(الْحَمْدُ لِلَّہِ ) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہدایت نازل فرمائی اور توحید کی دعوت دی اور مشرکوں کی گمراہی اور حماقت سے آگاہ فرمایا۔
(بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) (بلکہ ان میں اکثر وہ لوگ ہیں جو نہیں سمجھتے) حق اور ناحق میں تمیز کرنا ہی نہیں چاہتے۔
(قولہ تعالیٰ ” متشاکسون “ قال الراغب فی مفرداتہ الشکس : السئ الخلق وقولہ شرکاء متشاکسون ای متشاجرون لشکاسۃ خلقھم۔۔ اھ قال صاحب الروح والمعنی ضرب اللّٰہ تعالیٰ مثلاً للمشرک حسبما یقود الیہ مذھبہ من ادعاء کل من معبودیہ عبودیتہ عبدا یتشارک فیہ جماعۃ متشاجرون لشکاسۃ اخلاقھم وسوء طبائعھم یتجاذبونہ ویتعاورونہ فی معماتھم المتباینۃ فی تحیرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
تمثیل حق و باطل وفرق درمیان عبد مومن ومطیع وبندۂ مشرک وعاصی :
(ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ جس کسی کا دل اللہ نے ایمان کے لئے کھول دیا وہ ہدایت وسعادت کی روشنی پر ہے تو ایسا شخص جس کو نور ہدایت حاصل ہوچکا وہ اس بدنصیب انسان کی طرح نہیں ہوسکتا جو کفر وگمراہی کی تاریکیوں میں مبتلا ہے اب ان آیات میں حق و باطل کی تمثیل اور مومن و مشرک کے فرق کو ایک حسی مثال میں پیش کیا جارہا ہے اور یہ بیان کیا جارہا ہے ان حقائق کو سمجھانے میں قرآن کریم نے تو کوئی کمی نہیں کی دلیلوں سے سمجھا دیا مثالوں سے واضح کردیا اس کے بعد بھی اگر کوئی نہ سمجھے اور نہ مانے تو یہ اس کی حماقت و غفلت ہے قرآن کے…
Read the full tafseer →ٖ 31:۔ ” ضرب اللہ الخ “ یہ مومن اور مشرک کی تمثیل ہے ایک وہ غلام ہے جس میں بہت سے آدمی شریک ہیں۔ جو نہایت بد اخلاق، جھگڑا لو اور انصاف ناپسند ہیں۔ ان میں ہر ایک بوقت ضرورت اس کو اپنی خدمت کے لیے بلاتا ہے۔ اب وہ پریشان حیران ہے کہ کس کے حکم کی تعمیل کرے۔ ایک کو خوش رکھتا ہے تو دوسرا ناخوش ہے۔ دوسرے کو راضی کرتا ہے تو تیسرا ناراض ہے۔ اور ایک وہ غلام ہے جس کا صرف ایک آقا ہے اور وہ پورے اخلاص کے ساتھ اس کی خدمت کرتا اور اس کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ خود ہی فیصلہ کرو۔ یہ دونوں غلام برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا ان کا حال یکساں ہے ؟ اگر نہیں تو دونوں میں سے کس کا حال اچھا ہے ؟ مشرک کی مثال پہلے غلام کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
ربط آیات :
شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کے انجام اور ان کو ملنے والے انعام واکرام کا ذکر فرمایا ، نیز مختصر طور پر مشرکوں اور کافروں کی سزا کو بیان فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں بھی ذلت ورسوائی کا سامنا کریں گے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہوگا ، فرمایا یہ لوگ محض غفلت اور بیوقوفی کی بناء پر ایمان اور وحدانیت کا انکار کرتے ہیں وگرنہ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن کریم نازل فرما کر ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں مختلف قسم کی مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں ، اگر اب بھی یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ ان کی اپنی حماقت ہے قرآن نے تو توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو مثالوں کے ذریعے…
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيْہِ شُرَكَاۗءُ مُتَشٰكِسُوْنَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ 0 ۭ ہَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا 0 ۭ اَلْحَمْدُ لِلہِ 0 ۭ بَلْ اَكْثَرُہُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 29
ضَرْبُ المَثلِ
هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ
[ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ،
ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
ترکیب : قراناً حال مؤکدۃ من ھذا و تسمی حالاً موطئۃ لان الحال فی الاصل ھو عرب یا و قرانا تو طئۃ لہ نحو جاءنی زید رجلا صالحا ھذا قول الاخفش ویمکن ان ینتصب علی المدح رجلاقال الکسائی منصوب لکونہ تفسیر المثل وقیل منصوب بنزع الخافض ای ضرب اللہ مثلاً برجل وقیل رجلا مفعول اول و مثلا مفعول ثان فیہ شرکاء الجملۃ صفتہ لرجل، و فی تتعلق بمتشاکسون سلما بفتح السین و کسرھا وسالما مصدر وصف بہ للمبالغۃ والتشاکس التخالف۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ قاسی القلب لوگوں کے عذاب آخرت کی کیفیت بیان فرما چکا تو دنیا میں بھی ان پر عذاب نازل ہونے کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال کذب الذین کہ ان سے پہلے لوگوں نے جو بڑے سخت دل…
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً رَّجُلاً فِیْہِ شُرَکَآئُ مُتَشٰکِسُوْنَ وَرَجُلاً سَلَمًا لِّرَجُلٍ ط ھَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلاً ط اَلْحَمْدُلِلّٰہِ ج بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الزمر : 29)
(اللہ مثال بیان فرماتا ہے ایک غلام کی جس کی ملکیت میں کئی مختلف الاغراض، کج خلق آقا شریک ہیں، اور ایک دوسرے غلام کی جو پورے کا پورا ایک آقا کی ملک ہے، کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوگا ! الحمدللہ، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔ )
مُتَشٰکِسُوْنَ ، اس کا مصدر تَشَاکُسْ ہے۔ اس کا معنی تخالف ہے۔ شُرَکَآئُ مُتَشٰکِسُوْنَ ، ایسے شرکاء کو کہتے ہیں جو مختلف الاغراض ہوں، کج خلق ہوں، باہمی چشمک اور رقابت رکھتے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید میں بیان کی گئی امثال میں سے ایک مثال۔
قرآن مجید کی پہلی اور بنیادی دعوت ” اللہ “ کی ذات اور اس کی صفات کا شعور حاصل کرنا اور اس کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنا ہے اس لیے توحید کو مختلف انداز اور امثال کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔ مشرک اور موحد کے درمیان فرق سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے دو آدمیوں کی مثال دی ہے۔ ان میں سے ایک شخص وہ ہے جو کئی آقاؤں کا زر خرید غلام ہے۔ جو مختلف مزاج رکھنے والے اور ایک دوسرے سے بڑھ کر بد اخلاق ہیں۔ اس غلام کو ایک مالک اپنی طرف بلاتا ہے اور دوسرا اپنے پاس آنے کا حکم دیتا ہے۔ ایک آقا اپنی مرضی کا کام دیتا ہے اور دوسرا اس کے الٹ ڈیوٹی لگاتا…
Read the full tafseer →مشترک غلام اور منفرد آقا کا غلام میں فرق :
29: ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَـلاً رَّجُلًا فِیْہِ شُرَکَآ ئُ مُتَشَاکِسُوْنَ (اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی کہ جس میں کئی ساجھی ہیں جن میں باہم اختلاف ہے) متشاکسون کا معنی باہمی منازعت اور اختلاف رکھنے والے وَرَجُلًا سَلَمًا (اور ایک اور شخص ہے کہ پورا ایک ہی شخص کا ہے) سلماً یہ مصدر ہے باب سلِمَ معنی ذا سلامۃ سلامتی والا لِّرَجُلٍ (یعنی جو شرکت سے بچا ہوا)
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے سالماؔ پڑھا ہے۔ خالص اسی ہی کا ہو۔
ھَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَـلاً (کیا ان دونوں کی حالت یکساں ہے) مثلاً کا معنی حالت ہے یہ تمیز ہے۔ معنی یہ ہے کیا ان دونوں کی حالت و کیفیت…
Read the full tafseer →29، ضرب اللہ مثلا رجلا، کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ رجلا پر نصب اس وجہ سے ہے کہ یہ مثلا کی تفسیر ہے۔ ، فیہ شرکاء متشاکسون، جھگڑالو، اختلاف کرنے والے، بداخلاق ، عرب کہتے ہیں ، رجل شکس شرس، جب کوئی شخص بداخلاق لوگوں سے مخالفت کرنے والا اور انصاف پر راضی نہ ہوتا ہو۔ ، ورجلا سلما لرجل ، اہل مکہ اور بصرہ نے ، سالما، الف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اس کے لیے خا (رح) لص نہ اس میں کوئی شریک ہو اور نہ کوئی جھگڑا کرنے والا اور دیگر حضرات نے، سلما، لام کے زبر کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور وہ ایسا شخص جس میں کوئی جھگڑا کرنے والا نہ ہو یہ مشتق ہے ان کے قول ، ھولک سلم، سے یعنی تیرے لیے خالص ہے ۔ اس میں تجھ سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
29۔ 31 شرک کی برائی اور توحید کی خوبی کی جس طرح ایک مثال اوپر گزری اس طرح کی یہ دوسری مثال ہے عرب میں غلاموں کا بہت دستور ہے۔ اس دستور کے موافق کسی غلام کا ایک آقا ہے اور کسی کے کئی آقا ہیں۔ پچھلی صورت میں آقا تو جدا جھگڑے رہتے ہیں مثلاً کوئی غلام کو بازار میں بھیج کر خریدو فروخت کی خدمت چاہتا ہے اور کوئی غلام سے گھر کا کام لینا چاہتا ہے غلام جدا کش مکش میں رہتا ہے کہ ایک آقا کی خدمت کرے تو دوسرا ناراض ہوجاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں 1 ؎ کہ یہ مثال مشرک اور صاحب توحید کے باب میں ہے کہ کیونکہ جو شخص ایک آقا کا غلام ہے اس کا آقا اس کی خبر گیری کرتا ہے اور وہ اپنے آقا کی دل سے خدمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت 27
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیا کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے (لعلھم یتذکرون) ” تاکہ وہ نصیحت پکڑیں “ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد ان پر عمل کریں۔
(آیت) ” یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لئے بہت سہل ہے (غیر ذی عرج) یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →65 موحد اور مشرک کے بارے میں ایک مثال کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایک تو وہ شخص ہے جس کی ملکیت میں کئی ضدی مالک شریک ہوں "۔ جس کی بنا پر ان میں سے ہر ایک اس کو اپنی طرف کھینچتا اور اپنی مقصد براری کے لئے بلاتا ہو۔ اور یہ حیران و پریشان ہو کہ ایسے میں کس کس کو راضی کرے۔ سو یہی حال مشرک کا ہوتا ہے کہ اس کا دل بیک وقت کئی شریکوں میں لٹکا اور پھنسا ہوتا ہے۔ اور وہ ایک طرف تو فطرت میں موجود توحید کے داعیہ کیخلاف برسرپیکار ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ کئی قسم کے خودساختہ معبودوں کی کشمکش میں مبتلا رہتا ہے۔ جبکہ مومن موحد خدائے واحد کی عبادت سے سرشار اور مطمئن البال رہتا ہے۔ سو توحید امن و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
مومن اور کافر کی مثال
تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی بات کو بڑے آسان اور عام فہم الفاظ میں یوں بیان کردیا ہے کہ اگر کوئی جاہل سے جاہل بندہ بھی اس پر غور کرے گا تو توحید کے نور سے منور ہوئے بغیر نہ رہ سکے گا۔ کتنی پیاری مثال ہے سب سے پہلے یہ یقین کرلیں کہ ہم اللہ کے ” عبد “ یعنی غلام ہیں۔ ہم اپنے آپ کو اس غلامی سے ہرگز آزاد نہیں رکھ سکتے اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا آقا انتہائی مہربان، بہت قریب، مشفق، رہنمائی کر کے مشکلات سے بچانے والا اور ماں کی شفقت اور محبت سے کئی گنا زیادہ ہم سے محبت کرنے والا ہے۔ ہماری دعاؤں کو قبول کرنا۔ تکلیفیں دور کرنا، اونچ نیچ سے آگاہ کرنا ہماری تکلیفیں دور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31:
اسرار و معارف :
اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی وہ بیک وقت کئی جھگڑالو آقائوں کا غلام ہے جن میں سے ہر آقا اسے اپنی طرف کھینچتا ہے۔11 اسے صرف اسی کو راضی رکھنا ہے اور اسی کے حکموں پر چلنا ہے۔ دوسروں سے کوئی غرض نہیں۔12 یعنی ایسی واضح مثال ان کی سمجھ میں نہیں آتی، اس سے بڑی نادانی اور کیا ہوگی ؟
Read the full tafseer →(39:29) ضرب اللّٰہ مثلا رجلا فیہ شرکاء متشکسون۔ مثلا مفعول ضرب ، رجلا بدل ہے مثلا کا۔ شرکاء مبتداء فیہ خبر مقدم ۔ متشکسون مبتداء کی صفت اور پورا جملہ فیہ شرکاء متشکسون صفت ہے رجلا کی۔ فیہ میں ہ ضمیر کا مرجع رجلا ہے
متشاکسون۔ اسم فاعل جمع مذکر تشاکس تفاعل مصدر سے باہم جھگڑنے والے۔ باہم مخالفت کرنے والے۔ شکس یشکس شکاسۃ (باب کرم) اور شکس یشکس لشکس (باب سمع) بدمزاج ہونا۔
لہٰذا متشاکسون بدمزاج۔ مختلف المزاج۔ باہم مخالفت کرنے والے۔ رجلا مابعد کی عبارت بتاتی ہے کہ یہ ایک غلام شخص کی مثال ہے جس کے کئی مالک ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اللہ تعالیٰ ایک مثال دیتا ہے کہ ایک غلام ہے جس میں کئی ساجھی ہیں جو باہم ضد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–31
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 31 :۔ ذوقوا ( چکھو) اذاق ( اس نے چکھایا) الخزی (رسوائی ، ذلت) عوج ( کجی ، ٹیڑھ پن) متشکسون (بد اخلاق لوگ) میت (مرنا) تختصمون (تم جھگڑو گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 31 :۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین جن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا فرمایا ہے کیا وہ قیامت کے دن اپنے چہروں کو اس آگ سے بچا سکیں گے جو ان کو جھلس کر رکھ دے گی جب ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب وہ اپنے کئے ہوئے برے اعمال کا مزہ چکھیں ۔ فرمایا جائے گا کہ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اس طرح اچانک عذاب…
Read the full tafseer →(ف 1) اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی ایک بندہ تو ایسا ہے کہ اس کے بہت سے مالک شریک ہیں اور وہ سب آپس میں مختلف طبیعت کے ہیں ایک ایک بات خوش دوسرا ناراض کوئی کچھ کہتا ہے کہ کوئی کچھ کوئی کہیں بھیجتا ہے کوئی کہیں، آیا ایسا بندہ سب کو خوش کرسکتا ہے کبھی نہیں سب اس سے ناراض رہیں گے اور ایک بندہ ایسا ہے کہ اس کا مالک ایک ہی ہے وہ ہر وقت اس ایک ہی کی طرف متوجہ ہوکر رہتا ہے خالص دل سے اس کو مالک جانتا ہے آیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ان دونوں کا ایک حال ہوسکتا ہے ہرگز نہیں ، الحمدللہ حق واضح ہوگیا سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں کہ کیسے اعلی مطالب وحقائق کو کیسی صاف اور دل نشین مثالوں اور شواہد سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[18] یہ مثال مشرک اور موحد کی ہے۔ مشرک کا دل کئی طرف بٹا ہوا ہوتا ہے۔ اور کتنے ہی جھوٹے معبودوں کو خوش کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کے برخلاف موحد صرف ایک اللہ کا بندہ اور پوری دلجمعی کے ساتھ اس کے خوش رکھنے کی فکر میں ہے اور سمجھتا ہے کہ اس کی خوشنودی کے بعد کسی کی خوشنودی کی ضرورت نہیں۔[19] یعنی اللہ کا شکر ہے کہ تم خود بھی اپنے دلوں میں ان دونوں حالتوں کا فرق محسوس کرتے ہو۔
[20] یعنی ایک آقا کی غلامی اور بہت سے آقاؤں کی غلامی کا فرق تو خوب جانتے ہیں مگر ایک اللہ کی بندگی اور بہت سے الہٰوں کی بندگی کا فرق نہیں سمجھتے۔
Read the full tafseer →ف 2: اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ نفسیاتی طور پر ایک شخص ایک وقت میں ایک ہی آقا پر قناعت کرسکتا ہے ۔ اور وہ شخص جس کے کئی آقاہوں ۔ ہمیشہ دکھ اور تکلیف محسوس کریگا ۔ اس سے یہ نہیں ہوسکے گا ۔ کہ اپنے طرز عمل سے سب کو خوش رکھے ۔ اسی طرح وہ پاکباز اور پاک نفس انسان جو صرف ایک آستانہ وحدت و جلال کا ہو رہتا ہے ۔ روحانی طور پر اس شخص سے کہیں عافیت میں ہے جس کی عقیدت کئی لوگوں میں اور کئی شخصیتوں میں منقسم ہے ۔
Read the full tafseer →(29) اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ ایک شخص غلام ہے جس میں بہت سے مالک شریک ہیں یہ شر کا بھی آپس میں ایک دوسرے کے سخت مخالف اور بداخلاق ہیں اور ایک اور شخص غلام ہے جو سالم ایک ہی شخص کا مملوک ہے کیا ان دونوں غلاموں کی حالت یکساں ہوسکتی ہے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہیں مگر ان کافروں کے اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ کیا عجب مثال ہے فرض کرو ایک غلام کے چند آقا ہیں وہ اپنی خدمت کے لئے طلب کرتا ہے یہ اپنی خدمت کے لئے طلب کرتا ہے نان نفقہ میں ایک دوسرے پر ٹالتا ہے آقائوں میں کھینچا تانی ہے اس کے کام میں دیر ہوجائے تو یہ ناراض اس کے حکم کی تعمیل میں تاخیر ہوجائے تو وہ ناراض غرض یہ غلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 5۔ پہلی مثال مشترک کی ہے کہ ہمیشہ ڈانواڈول رہتا ہے کبھی غیر اللہ کی طرف دوڑتا ہے، کبھی خدا کی طرف، پھر کبھی غیر اللہ میں بھی ایک پر اطمینان نہیں ہوتا، کبھی کسی کی طرف رجوع کرتا ہے کبھی کسی کی طرف۔
Read the full tafseer →لوگوں کی تفہیم کے لیے ایک مثال اس جگہ مزید بیان کی گئی ہے
29۔ شرک کیا ہے ؟ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی ذات وصفات میں کسی دوسری کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے اور یہی وہ روحانی بیماری ہے جو تمام روحانی بیماریوں کی ماں ہے اور ساری روحانی بیماریوں سے زیادہ مہلک ثابت ہوتی ہے اور روح بیمار ہو تو جسم کی صحت و توانائی بالکل بیکار ہوجاتی ہے اگرچہ بیمار کو اس کا احساس تک نہ ہو۔ اس کی مثال قرآن کریم نے دو انسانوں کے مفروضہ سے بیان کی ہے ایک انسان وہ ہے جس میں ایک سے زیادہ کئی ایک آدمی شریک ہیں اور وہ سب کا ملازم وکارندہ ہے اور سب کے حکم کی تعمیل اس کے ذمہ لازم و ضروری ہے اس کے مقابلہ میں ایک دوسرا آدمی ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
Commentary
Verse أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجْهِهِ (Tell Me about the one who tries to save himself from the worst punishment with his face ...) carries a description of the terrifying scenario of Jahannam. If one faces something hurtful in his mortal life, he tries to fight it off by using his hands and feet as defensive shields to protect his face. But, refuge with Allah, the people of Jahannam will not be able to use even their hands and feet to defend themselves. The punishment that comes will fall directly on their faces. Even if he wished to ward off the punishment in defense, he would have…
Read the full tafseer →48 Allah in this parable has explained the difference between shirk and Tauhid and the impact each has on human life so clearly that it is not possible to put across such a vast theme so concisely and effectively in other words. Everyone will admit that the person who has many masters, each one pulling hire to himself, and the masters also so ill-tempered that no one spares him time in his service to obey the other, and no one rests content only with threatening and cursing him if he fails to carry out his command from among the contradictory commands of the other masters, but is bent upon…
Read the full tafseer →