Explained with ayahs 27–31
فیصلے روز قیامت کو ہوں گے۔
چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آجاتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چناچہ ارشاد ہے (ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ 28) 30۔ الروم :28) اللہ نے تمہارے لئے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو۔ ایک اور آیت میں ہے ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لئے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کرلیں۔…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 46
یعنی یہ کسی غیر زبان میں نہیں آیا ہے کہ مکہ اور عرب کے لوگ اسے سمجھنے کے لیے کسی مترجم یا شارح کے محتاج ہوں، بلکہ یہ ان کی اپنی زبان میں ہے جسے یہ براہ راست خود سمجھ سکتے ہیں۔
سورة الزُّمَر 47
یعنی اس میں اینچ پینچ کی بھی کوئی بات نہیں ہے کہ عام آدمی کے لیے اس کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش آئے۔ بلکہ صاف صاف سیدھی بات کہی گئی ہے جس سے ہر آدمی جان سکتا ہے کہ یہ کتاب کس چیز کو غلط کہتی ہے اور کیوں، کس چیز کو صحیح کہتی ہے اور کس بنا پر، کیا منوانا چاہتی ہے اور کس چیز کا انکار کرانا چاہتی ہے، کن کاموں کا حکم دیتی ہے اور کن کاموں سے روکتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
خلاصہ تفسیر
بھلا جو شخص اپنے منہ کو قیامت کے روز سخت عذاب کی سپر بنا دے گا اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو تو کیا یہ (گرفتار عذاب) اور جو ایسا نہ ہو برابر ہو سکتے ہیں (اور کفار ان عذابوں کو سن کر انکار نہ کریں کیونکہ) جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا سو ان پر عذاب ایسے طور پر آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا سو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی دنیوی زندگی میں بھی رسوائی کا مزہ چکھایا۔ (کہ زمین میں دھنس جانے اور چہرہ بگڑ جانے اور آسمان سے پتھر برسنے وغیرہ کے عذاب سے دنیا میں بدنام ہوئے) اور آخرت کا عذاب اور بھی بڑا ہے کاش یہ لوگ سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(آیت 28-27)
قرآن کی ایک خاص صفت
ضرب مثل کے معنی حکمت و موعظت کی باتیں تمثیل کے اسلوب میں پیش کرنا ہے۔ تمثیل کا اسلوب حقائق کی تعلیم و تفہیم کے لئے سب سے زیادہ مئوثر ہوتا ہے، بالخصوص ان حقائق کی تعلیم کے لئے جن کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہو۔ اس وجہ سے انبیاء (علیہم السلام) اس صفت کلام سے بہت زیادہ کام لیتے ہیں۔ تورات، انجیل زبور سب امثال سے معمور ہیں اور حضرت سلیمان ؑ کے صحیفہ حکمت کا تو نام ہی امثال ہے۔ اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے ضرب مثل کا محاورہ مجرد حکمت کی بات کہنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا عام اس سے کہ وہ تمثیل کی صورت میں ہو یا عام اسلوب میں اس کی تحقیق اس کے محل میں بیان ہوچکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
29۔ 1 اس میں مشرک (اللہ کا شریک ٹھہرانے والے) اور مخلص (صرف ایک اللہ کے لئے عبادت کرنے والے) کی مثال بیان کی گئی ہے یعنی ایک غلام ہے جو کئی شخصوں کے درمیان مشترکہ ہے، چناچہ وہ آپس میں جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک غلام ہے جس کا مالک صرف ایک ہی شخص ہے، اس کی ملکیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں غلام برابر ہوسکتے ہیں ؟ نہیں یقینا نہیں۔ اسی طرح وہ مشرک جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے اور وہ مخلص مومن، جو صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا برابر نہیں ہوسکتے۔
29۔ 2 اس بات پر کہ اس نے حجت قائم کردی۔
29۔ 3 اسی لئے اللہ کے ساتھ شرک کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
12: یہ دوزخ کے ایک خوفناک پہلو کی منظر کشی ہے۔ عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ انسان جب کوئی تکلیف دہ چیز اپنی طرف آتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں یا پاؤں سے اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن دوزخ میں یہ اس لیے ممکن نہیں ہوگا کہ ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہوں گے، اس لیے جسم سے عذاب کو روکنے کی کوئی اور صورت نہیں ہوگی، سوائے اس کے کہ چہرے ہی کو آگے کر کے اسے ڈھال بنایا جائے، لیکن ظاہر ہے کہ چہرے پر روکنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ چہرے کو تکلیف سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
آیت نمبر 27 تا 29
اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کی جو موحد ہے اور کسی ایسے بندے کی جو مشرک ہے ، یہ مثال دیتا ہے کہ ان کی مثال ہے جیسے ایک غلام ایک شخص کی خالص ملکیت ہو اور دوسرا کئی مختلف الحیال مالکان کے درمیان مشترکہ ہو۔ اس مشترکہ غلام میں مختلف مالکان کے علیحدہ علیحدہ مطالبے ہیں۔ اور یہ بیچارہ انکے درمیان حیران وپریشان ہے۔ کوئی ادھر کھینچتا ہے ، کوئی ادھر۔ وہ اسے کوئی ایک پروگرام نہیں دیتے اور اس بیچارے کی یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ انکی متضاد فرمائشیں شروع کرسکے کیونکہ وہ اسکے رخ کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور اسکی خواہشات کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور ایک ایک کا غلام یکسو ہے۔ اس کو مالک نے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
5 یعنی ان کا نہ سمجھنا اپنی غفلت اور حماقت سے ہے۔ قرآن کے سمجھانے میں کوئی کمی نہیں قرآن تو بات بات کو مثالوں اور دلیلوں سے سمجھاتا ہے تاکہ لوگ ان میں دھیان کر کے اپنی عاقبت درست کریں۔ قرآن ایک صاف عربی زبان کی کتاب ہے جو اس کے مخاطبین اولین کی مادری زبان تھی۔ اس میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں۔ سیدھی اور صاف باتیں ہیں جن کو عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ کسی طرح کا اختلال اور کجی اس کے مضامین یا عبارت میں نہیں۔ جن باتوں کو منوانا چاہتا ہے، نہ ان کا ماننا مشکل، اور جن چیزوں پر عمل کرانا چاہتا ہے نہ ان پر عمل کرنا محال، غرض یہ ہے کہ لوگ بسہولت اس سے مستفید ہوں۔ اعتقادی و عملی غلطیوں سے بچ کر چلیں۔ اور…
Read the full tafseer →آیت 28 { قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ } ”ہم نے اسے بنا دیا ہے قرآن عربی ‘ اس میں کوئی کجی نہیں ہے ‘ شاید کہ وہ تقویٰ کی روش اختیار کریں۔“
ہم نے اس قرآن کو فصیح وبلیغ عربی میں اتارا ہے۔ اس کی زبان بہت سادہ اور سلیس ہے۔ اس حوالے سے سورة القمر میں یہ آیت چار مرتبہ دہرائی گئی ہے : { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ 4 } ”اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان بنا دیا ہے ‘ تو ہے کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے والا ؟“
Read the full tafseer →43 قرآن ٹھیٹھ عربی زبان میں کیوں ہے :۔ قرآن اگر کسی دوسری زبان میں ہوتا تو اسے سمجھنے کے لئے ترجمانوں کے علاوہ اور بھی کئی قسم کی دشواریاں پیش آسکتی تھیں۔ یہ ان کی اپنی مادری اور ٹھیٹھ زبان میں ہے جسے سب لوگ بآسانی سمجھ سکتے ہیں پھر اس میں جو باتیں مذکور ہیں وہ صاف اور سیدھی ہیں جنہیں ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ اس کے انداز بیان اور دلائل میں کوئی الجھاؤ یا پیچیدگی نہیں۔ علاوہ ازیں جو احکام اس میں بیان کئے گئے ہیں ان پر عمل کرنا محال نہیں اور لوگ بسہولت ان پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں اور جو لوگ کسی بھی درجہ میں معذور ہیں ان کے لئے رخصتوں یا مراعات کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
40۔ (ہر نافرمانی سے) (آیت) ” قرانا “۔ یہاں پہلا وصف القران کا یہ بیان ہوا کہ وہ ایک پڑھی جانے والی چیز ہے، چناچہ قیامت تک مسجدوں میں پڑھا جائے گا، محرابوں میں سنایا جائے گا، گھروں میں اور مدرسوں میں اس کی تلاوت ہوتی رہے گی، معتقدوں کا نہیں منکروں کا بیان ہے، کہ ” قرآن “ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے، (انسائیکلوپیڈیابرٹانیکامقالہ قرآن، طبع یازدہم) (آیت) ” عریبا “۔ یعنی فصیح وبلیغ واضح، والمراد انہ اعجز الفصحاء والبلغاء عن معارفتہ (کبیر) (آیت) ” غیر ذی عوج “۔ یعنی جس کے اندر کجی کسی طرح کی بھی نہیں، نہ لفظی نہ معنوی۔ یہ قرآن مجید کا تیسرا وصف بیان ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے…
Read the full tafseer →قرانا عربیا غیر ذی عوج لعلھم یتقون عربی میں نازل کیا جس میں ذرا کجی نہیں (اور) تاکہ لوگ ڈریں۔
مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ہر طرح کا عمدہ مضمون جو دینی امور پر غور کرنے والوں کیلئے ضروری ہے۔
غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ یعنی اس میں کسی طرح کا اختلال نہیں۔ مستقیم سے غیر ذی عوج کا لفظ زیادہ بلیغ ہے (ہر قسم کی کجی کی نفی کر رہا ہے) اور معانی (میں اختلال نہ ہونے) کیلئے یہ لفظ مخصوص ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ اس میں کوئی اختلاف (بیان) نہیں۔ مجاہد نے کہا : اس میں کوئی اشتباہ اور شک نہیں۔ سدی نے کہا : یہ مخلوق نہیں (خرابی ‘ اختلاف اور شک تو مخلوق کے کلام میں ہوتا ہے اور یہ مخلوق ہی نہیں ہے) امام…
Read the full tafseer →اور قرآن جس کی شان یہ ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے اور توحید اور احکام اور بیان حدود میں توریت، انجیل، زبور اور تمام آسمانی کتب میں سے کسی کا مخالف نہیں اور سدی غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کلام خداوندی غیر مخلوق ہے تاکہ لوگ قرآن کریم کے ذریعے سے جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے ان کو منع کیا ہے ان سے ڈریں۔
اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کی مثال بیان فرمائی ہے کہ ایک شخص ہے جس کے کئی مالک ہیں کہ جن میں آپسی مخالفت بھی ہے کہ ایک مالک تو ایک کام کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور دوسرا مالک اس سے روکتا ہے یہی حالت کافر کی ہے کہ مختلف معبودوں کو پوجتا ہے اور ایک اور شخص کہ خالص ایک ہی شخص کا غلام ہے یہ…
Read the full tafseer →قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ۔ : ’ۚقُرْاٰنًا عَرَبِيًّا“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یوسف (2) ”3“ میں تنوین کی وجہ سے نفی عام ہوگئی ہے، یعنی اس میں کسی قسم کی کوئی کجی نہیں۔ یہ مفہوم ”غَیْرَ مُعَوَّجٍ“ (جو کجی والا نہیں) سے حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورة کہف کی آیت (1) یہ دونوں آیات اگلی آیت میں آنے والی مثال کے لیے تمہید کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27 ۔ 28:۔ یعنی ہر ایسی مثال بیان کی ہے جس کے لوگ محتاج ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کے فرمان ہے : ما فرطنا فی الکتب من شی) الانعام (38: ایک قول یہ کیا گیا ہے یعنی ہم نے سابقہ امتوں کو ہلاکت کا جو ذکر کیا ہے وہ ان کے لئے مثال ہے ممکن ہے کہ ان سے نصیحت حاصل کرین۔
قرآنا عریبا حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے اخفش نے کہا : کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان فی ھذا القرآن معرفہ ہے۔ عی بن سلیمان نے کہا : عربیا حال ہونے کی حدیث سے منصوب ہے قرآنا یہ حال کی تمہید کے لئے ہے جس طرح تو کہتا ہے :
مورت بزید رجلا صالحا تو تیرا قول صالحا حال کی حیثیت سے منصوب ہے۔ زجاج نے کہا : عربیا حال کی حدیثیت سے منصوب ہے اور قرآنا تاکید…
Read the full tafseer →1:۔ الآجری فی الشریعۃ وابن مردویہ (رح) و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) قرانا عربیا غیر ذی عوج “ (عربی قرآن نازل کیا جس میں ذرا کجی نہیں تاکہ لوگ ڈریں) میں (آیت ) ” غیر ذی عوج “ سے مراد ہے کہ وہ مخلوق نہیں۔
2:۔ دیلمی (رح) نے مسند الفردوس میں انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے (آیت) قرانا عربیا غیر ذی عوج “ کے بارے میں فرمایا کہ قرآن غیر مخلوق ہے۔
قرآن کلام اللہ غیر مخلوق ہے :
3:۔ ابن الشاہین السنۃ میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قرآن اللہ کا کلام ہے (اور) غیر مخلوق ہے۔
4: ابن ابی حاتم نے السنۃ میں و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں…
Read the full tafseer →قُرْاٰنًا [(ہم نے اتارا) ایک ایسا قرآن ] عَرَبِيًّا [جو عربی (زبان) والا ہے ] غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ [جو پیچیدگی والا نہیں ہے ] لَّعَلَّهُمْ يَتَّـقُوْنَ [شاید کہ یہ لوگ تقوی اختیار کریں ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ ) (الآیتین) ان دو آیتوں میں قرآن مجید کی صفات بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کے عمدہ مضامین بیان کردئیے ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور یہ بھی فرمایا کہ قرآن عربی میں ہے (جسے اولین مخاطبین اہل عرب سمجھتے اور جانتے ہیں اور اس کی فصاحت اور بلاغت سے بھی واقف ہیں) تیسری بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن میں ذرا بھی کجی نہیں ہے نہ اس میں لفظی رکاکت ہے نہ فصاحت میں اختلال ہے نہ معنوی طور پر اس میں کوئی تناقض ہے آخر میں فرمایا (لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ ) تاکہ یہ لوگ قرآن کی تکذیب سے باز آئیں اور اللہ جل شانہٗ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
تمثیل حق و باطل وفرق درمیان عبد مومن ومطیع وبندۂ مشرک وعاصی :
(ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ جس کسی کا دل اللہ نے ایمان کے لئے کھول دیا وہ ہدایت وسعادت کی روشنی پر ہے تو ایسا شخص جس کو نور ہدایت حاصل ہوچکا وہ اس بدنصیب انسان کی طرح نہیں ہوسکتا جو کفر وگمراہی کی تاریکیوں میں مبتلا ہے اب ان آیات میں حق و باطل کی تمثیل اور مومن و مشرک کے فرق کو ایک حسی مثال میں پیش کیا جارہا ہے اور یہ بیان کیا جارہا ہے ان حقائق کو سمجھانے میں قرآن کریم نے تو کوئی کمی نہیں کی دلیلوں سے سمجھا دیا مثالوں سے واضح کردیا اس کے بعد بھی اگر کوئی نہ سمجھے اور نہ مانے تو یہ اس کی حماقت و غفلت ہے قرآن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
30:۔ ” ولقد ضربنا الخ “ یہ آئندہ تمثیل کے لیے تمہید ہے۔ ہم نے قرآن میں ہر نوع کی مثالیں بیان کی ہیں جن کی موقع و محل کے مطابق ضرورت تھی تاکہ لوگ خوب سمجھ لیں اور نصیحت حاصل کریں۔ جیسا کہ مومن اور مشرک کی ایک مثال آگے آرہی ہے۔ ” قرانا عرب یا الخ “ یہ ھذا سے حال واقع ہے (روح) ، یہ قرآن خالص عربی میں ہے فصاحت و بلاغت، مضامین کی سنجیدگی، دلائل کی پختگی، واقعات کی صحت اور دیگر ہر پہلو سے وہ کامل و مکمل ہے اس میں کسی قسم کی کمی، کجی اور کوتاہی نہیں، یہ بلند پایہ کتاب اس لیے نازل کی گئی تاکہ لوگ اس کی تعلیمات کو مانیں اور ان پر عمل کریں اور اللہ کی نافرمانی اور معصیت سے بچیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
ربط آیات :
شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کے انجام اور ان کو ملنے والے انعام واکرام کا ذکر فرمایا ، نیز مختصر طور پر مشرکوں اور کافروں کی سزا کو بیان فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں بھی ذلت ورسوائی کا سامنا کریں گے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہوگا ، فرمایا یہ لوگ محض غفلت اور بیوقوفی کی بناء پر ایمان اور وحدانیت کا انکار کرتے ہیں وگرنہ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن کریم نازل فرما کر ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں مختلف قسم کی مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں ، اگر اب بھی یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ ان کی اپنی حماقت ہے قرآن نے تو توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو مثالوں کے ذریعے…
Read the full tafseer →قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ يَتَّـقُوْنَ 28
قرآن
والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
ترکیب : قراناً حال مؤکدۃ من ھذا و تسمی حالاً موطئۃ لان الحال فی الاصل ھو عرب یا و قرانا تو طئۃ لہ نحو جاءنی زید رجلا صالحا ھذا قول الاخفش ویمکن ان ینتصب علی المدح رجلاقال الکسائی منصوب لکونہ تفسیر المثل وقیل منصوب بنزع الخافض ای ضرب اللہ مثلاً برجل وقیل رجلا مفعول اول و مثلا مفعول ثان فیہ شرکاء الجملۃ صفتہ لرجل، و فی تتعلق بمتشاکسون سلما بفتح السین و کسرھا وسالما مصدر وصف بہ للمبالغۃ والتشاکس التخالف۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ قاسی القلب لوگوں کے عذاب آخرت کی کیفیت بیان فرما چکا تو دنیا میں بھی ان پر عذاب نازل ہونے کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال کذب الذین کہ ان سے پہلے لوگوں نے جو بڑے سخت دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ ۔ (الزمر : 27، 28)
(ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کردیں تاکہ وہ دھیان کریں۔ ایک عربی قرآن کی صورت میں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں تاکہ وہ برے انجام سے بچیں۔ )
قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب
ضربِ مثل کا معنی ہے مثال بیان کرنا۔ لیکن اس سے مراد بالعموم حکمت و مؤعظت کی کسی بات کو تمثیل کے انداز میں یا بغیر تمثیل کے بیان کرنا ہے۔ حکمت و مؤعظت تو تمام آسمانی کتابوں کا موضوع رہا ہے۔ البتہ تمثیل کا پیرایہ بھی آسمانی کتابوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کو عذاب میں مبتلا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں بارہا دفعہ سمجھایا تاکہ یہ عذاب سے بچ جائیں۔
اللہ تعالیٰ کا یہ ضابطہ ہے کہ اس وقت تک کسی قوم کو عذاب نہیں دیتا جب تک ان کے پاس حق کا پیغام نہ پہنچ جائے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے پہلی اقوام کے پاس انبیائے کرام (علیہ السلام) بھیجے جو انہیں ٹھوس دلائل اور مؤثر انداز میں سمجھاتے رہے۔ اسی اصول کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرمایا اور قرآن مجید میں مختلف امثال کے ذریعے لوگوں کو نصیحتیں فرمائیں تاکہ لوگ کفر و شرک اور ہر قسم کی نافرمانیوں سے بچ کر قرآن کی ہدایت کے مطابق زندگی گزاریں۔ قرآن مجید عربی…
Read the full tafseer →28: قُرْ ٰانًا عَرَبِیًّا (جس کی کیفیت یہ ہے کہ وہ عربی قرآن ہے) یہ حال مؤکدہ ہے جیسے کہتے ہیں جاءنی زید رجلا صالحًا و انسانًا عاقلا۔ اس میں رجلاً اور انسانًا کو بطور تاکید لائے ہیں۔ یا نمبر 2۔ منصوب علی المدح ہے۔ غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ (جس میں ذرا ٹیڑھ نہیں) وہ مستقیم اور تناقص و اختلاف سے پاک ہے۔
نکتہ : آیت میں مستقیم نہیں فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اس میں کبھی ٹیڑھ ہوا ہی نہیں۔
ایک قول :
یہ ہے العوج سے شک مراد ہے۔ لَّعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ (تاکہ یہ لوگ ڈریں) اور کفر سے بچ جائیں۔
Read the full tafseer →28، قرانا عریبا، حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ ، غیرذی عوج ، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مختلف نہیں ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی اشتباہ نہیں ہے۔ سدی (رح) فرماتے ہیں یہ مخلوق نہیں ہے اور یہ بات مالک بن انس (رح) سے بھی مروی ہے اور سفیان بن عیینہ اور ستر (70) تابعین سے نقل کیا گیا ہے کہ قرآن مجید نہ خالق ہے اور مخلوق ۔ ، لعلھم یتقون ، کفر اور تکذیب سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27۔ 28۔ مطلب یہ ہے کہ شرک کی برائیوں اور توحید کی خوبیوں کی مثالیں قرآن شریف میں لوگوں کے سمجھنے کے لئے بیان کردی گئی ہیں مثلاً سورة الرعد میں جو مثال اسی باب میں بیان فرمائی اس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں یا کسی اور سے مدد چاہتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جس طرح کوئی پیاسا آدمی پانی سے دور کھڑا ہو کر اس امید میں رہے کہ پانی خود بخود اس کے منہ میں آجائے گا انجام اس بجا امید کا یہی ہوگا کہ پانی خود بخود کسی کے منہ تک آنے کی قدرت نہیں رکھتا اس لئے وہ شخص پیاسا ہی رہے گا اب جس طرح پانی میں کسی کے منہ تک آنے کی قدرت نہیں یہی حال مشرکوں کی پوجا کی مورتوں اور مورتوں کی اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت 27
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیا کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے (لعلھم یتذکرون) ” تاکہ وہ نصیحت پکڑیں “ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد ان پر عمل کریں۔
(آیت) ” یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لئے بہت سہل ہے (غیر ذی عرج) یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →63 قرآن حکیم ہر قسم کے عوج اور کجی سے پاک : سو ارشاد فرمایا گیا " ایک ایسے عظیم الشان عربی قرآن کی صورت میں جس میں کسی طرح کی کوئی کجی نہیں "۔ کسی بھی طرح کی کوئی کجی خواہ اس کا تعلق زبان وبیان اور کلمات و تراکیب سے ہو اور خواہ معانی و مطالب اور تفہیم وادا سے۔ ہر اعتبار سے یہ کتاب، کتاب مبین اور صاف وصریح اور سراسر حق و صدق ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے عربی زبان کی اس کتاب حکیم کے ذریعے نہایت فصیح وبلیغ زبان اور انتہائی موثر اور ہر دلعزیز اسلوب میں انسان کیلئے ان تمام باتوں کو واضح فرما دیا جو اس کی دنیا و آخرت کی فلاح کیلئے ضروری ہیں۔ اب اگر انسان اس سے منہ موڑے گا تو وہ اپنی ہی ہلاکت کا سامان کرے…
Read the full tafseer →قرآن مجید عربی زبان میں نازل ہوا
تشریح : پچھلی آیات میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ قرآن پاک میں انسان، اس کی زندگی، زندگی گزارنے کے اصول اور پوری کائنات کے بارے میں بڑی وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے تاکہ بندے کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی لیے پیغمبر کی زبان کے مطابق آسمانی کتاب نازل ہوتی ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ عرب میں پیدا ہوئے پلے بڑھے اور عرب ہی آپ کے ارد گرد رہتے تھے۔ ظاہر ہے مادری زبان کو سمجھنا بےحد آسان ہوتا ہے۔ پھر یوں سمجھ لیجئے کہ یہ قرآن کی ہی برکت ہے کہ عربی زبان 15 صدیاں گزر جانے کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوئی جبکہ یہ اصولی بات ہے کہ ہر زبان وقت کے ساتھ ساتھ اس قدر بدل جاتی ہے کہ اس کی گرامر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31:
اسرار و معارف :
اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو…
Read the full tafseer →ف 8 جو مکہ اور تمام جزیزہ عرب کی اپنی زبان ہے وہ لوگ ہیں جو قرآن کے اولین محاطب ہیں۔9 کہ عرب کا عامی بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →(39:28) قرانا عربیا : قرانا حال مؤکدہ ہے ھذا سے۔ اسے حال موطئہ بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ فی الاصل حال عربیا ہے اور قرانا اس کا توطئہ ہے جیسے ہم کہتے ہیں جاءنی زید رجلا صالحا وانسانا عاقلا۔ کہ حال اصل صالحا وعاقلا ہے رجلا وانسانا تاکید کے لئے لائے گئے ہیں۔
غیر ذی عوج۔ جو کجی والا نہ ہو۔ جس میں کسی قسم کی کجی نہ ہو۔ یہاں مستقیم کا استعمال نہیں کیا۔ کیونکہ مستقیم سے غیر ذی عوج زیادہ بلیغ ہے یہ ہر قسم کی کجی کی نفی کرتا ہے اور معانی میں اختلال نہ ہونے کے لئے یہ لفظ زیادہ مخصوص ہے۔ غیر حرف استثناء ذی عوج مضاف مضاف الیہ۔ (ٹیڑھا ۔ کجی والا) ۔
قاعدہ : لفظ غیر کے بعد مستثنیٰ اگر واقع ہو تو مجرور ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–31
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 31 :۔ ذوقوا ( چکھو) اذاق ( اس نے چکھایا) الخزی (رسوائی ، ذلت) عوج ( کجی ، ٹیڑھ پن) متشکسون (بد اخلاق لوگ) میت (مرنا) تختصمون (تم جھگڑو گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 31 :۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین جن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا فرمایا ہے کیا وہ قیامت کے دن اپنے چہروں کو اس آگ سے بچا سکیں گے جو ان کو جھلس کر رکھ دے گی جب ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب وہ اپنے کئے ہوئے برے اعمال کا مزہ چکھیں ۔ فرمایا جائے گا کہ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اس طرح اچانک عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے لوگوں کے ہدایت کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی، اب بھی نہ سمجھنا اپنی غفلت اور حماقت سے ہے ، قرآن کے سمجھانے میں کوئی کمی نہیں کہ قرآن تو بات بات کو مثالوں اور دلیلوں سے سمجھاتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں اور اپنی عاقبت درست کریں، قرآن ایک صاف عربی زبان کی کتاب ہے جو اس میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں سیدھی اور صاف باتیں ہیں جن کو عقل سلیم قبول کرتی ہیی کس طرح کا اختلاف اس کے مضامین یا عبارت مین نہیں جن باتوں کو منوانا چاہتا ہے نہ ان کا ماننا مشکل اور جن چیزوں پر عمل کرانا چاہتا ہے نہ ان پر عمل کرانا محال ، غرض یہ کہ لوگ بہ سہولت اس سے مستفید ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
[17] آدمی کا قاعدہ ہے کہ سامنے سے جب حملہ ہو تو ہاتھوں پر روکتا ہے مگر منہ پر مار پڑنے نہیں دیتا۔ کسی ضرب کو آدمی اسی وقت اپنے منہ پر لیتا ہے جب وہ انتہائی بےبس ہو۔ کیونکہ دوزخی کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے، اس لئے عذاب کی تھپیڑیں سیدھی منہ پر پڑیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
قرآن کی بہت بڑی خوبی
1: قرآن حکیم کی اس خوبی کا تذکرہ ہے ۔ کہ اس کے مضامین کو ہر انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس میں احکام بھی ہیں ۔ قصص بھی ہیں اور واقعات بھی ۔ اس میں باریک اور دقیق نکات بھی ہیں ۔ اور زندگی کی محسوس ضروریات بھی ۔ اس میں منطقی استدلال بھی ہیں اور فطرت کے مشاہدات بھی ۔ ہر ذوق اور ہر فکر کے لوگوں کے لئے اس میں رشدوہدایت کا وافر سامان موجود ہے ۔ ایک عامی اور سطحی عقل والا بھی اس میں تسکین محسوس کرے گا ۔ اور ایک بلند پرواز فلسفی اور حکیم بھی ۔ یہ کتاب دماغ کو بھی متاثر کرتی ہے اور دل کی لطیف کیفیات کو بھی ۔ یہ عربی میں نازل کی گئی ہے ۔ تاکہ تعبیر معانی میں کوئی ابہام اور اجمال…
Read the full tafseer →(28) اس قرآن کریم کی کیفیت یہ ہے کہ یہ عربی زبان کا قرآن ہے اس میں کسی قسم کی پیچیدگی اور کجی نہیں تاکہ یہ لوگ اس کی تکذیب سے بچیں۔ یعنی عمدہ مضامین اور مثالیں تاکہ ان کو سوچنے اور سمجھنے کا موقعہ ملے اور یہ نصیحت پکڑیں پھر یہ قرآن کریم عربی زبان میں ہے چونکہ اہل عرب مخاطب اول ہیں اس لئے عربی میں نازل فرمایا تاکہ ان کو خود سمجھ کر دوسری کو سمجھانے میں آسانی ہو کتاب میں کوئی کجی اور ہیر پھیر نہیں بالکل سیدھی کتاب ہے جیسا کہ سورة کہف کی ابتدائی آیتوں میں بیان ہوچکا ہے۔
بہرحال ہدایت کے لئے جیسی کتاب کی ضرورت تھی وہ سب باتیں اس میں علی وجہ الکمال مذکور ہیں مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ کفر سے بچیں اور…
Read the full tafseer →ف 4۔ پس کتاب الہدایت ہونے کے لئے جن صفات کمال کی ضرورت تھی، قرآن ان پر حاوی ہے، لیکن اگر ان ہی کی استعداد فاسد ہو تو کیا کیا جاوے۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کا نزول عربی زبان میں ہے جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے
28۔ جہاں اور جس جگہ قرآن کریم کا نزول ہوا وہ لوگ وہی زبان بولتے تھے جس زبان میں قرآن کریم کا نزول ہوا اس لیے ان کے لیے بلاشبہ اس وقت سمجھنا کوئی مشکل نہیں تھا کیونکہ ان کو سمجھانے کے لیے کسی مترجم یا شارح اور مفسر کی کوئی ضرورت نہیں تھی جس پر قرآن کریم نازل ہوا تھا وہ بھی اس زبان سے اچھی طرح واقف تھا اس نے اس کے مطابق عمل کر کے ناخواندہ لوگوں کو عملی طور پر بتا دیا کہ قرآن کریم کا مفہوم کیا ہے اگر وہ اس کو سمجھنے کی ذرا بھی کوشش کرتے تو ان کے لیے تو بالکل سہل تھا کوئی بات اس میں اس طرح نہیں کی گئی کہ وہ صاف اور سیدھی نہ ہو اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
Commentary
Verse أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجْهِهِ (Tell Me about the one who tries to save himself from the worst punishment with his face ...) carries a description of the terrifying scenario of Jahannam. If one faces something hurtful in his mortal life, he tries to fight it off by using his hands and feet as defensive shields to protect his face. But, refuge with Allah, the people of Jahannam will not be able to use even their hands and feet to defend themselves. The punishment that comes will fall directly on their faces. Even if he wished to ward off the punishment in defense, he would have…
Read the full tafseer →46 That is, "It has not been sent down in a foreign language so that the people of Makkah and Arabia should stand in need of a translator or interpreter, but it is in their own language, which they can understand directly."
47 That is, "There is nothing of double-dealing in it so that a common man should find it difficult to understand, but everything has been presented in it in a straightforward manner, from which everyone can know what this Book states as wrong and why, what it states as right and on what ground, what it wants the people to accept and what it wants them to reject, and what…
Read the full tafseer →