Az-Zumar 39:27

Az-Zumar · from ayah 27

39:27

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ ۟ۚوَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُوۡنَ‌ۚ‏

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have certainly presented for the people in this Qur'an from every [kind of] example - that they might remember.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:27

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دیں ہیں کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کر لیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی خاطر ہر قسم کی مثالیں بیان کی ہیں، تاکہ لوگ سبق حاصل کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی کہاوت بیان فرمائی کہ کسی طرح انہیں دھیان ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور درحقیقت ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کر سکیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کی ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان کردی ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی تذکیر کے لئے ہر قسم کی تمثیلیں بیان کردی ہیں تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بلاشبہ ہم نے بیان کیا لوگوں کے لئے اس قرآن میں ہر عمدہ مضمون تاکہ یہ سبق لیں (اور نصیحت حاصل کریں)

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی ہدایت کے لئے ہر قسم کے مضمون بیان کردیئے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کرتے رہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے انسانوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں شاید کہ وہ سبق حاصل کریں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے لوگوں کو سمجھانے کیلئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

— محترمہ رفعت اعجاز

We have indeed propounded for mankind all kinds of parables in this Qur'an that they may take heed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And We have cited for people all sorts of examples in this Qur‘an, so that they may receive the message

— Muhammad Taqi Usmani

And We have cited for people all sorts of examples in this Qur‘an, so that they may receive the message

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed We have put forth for men, in this Qur'an every kind of parable in order that they may remember.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And verily We have coined for mankind in this Qur'an all kinds of similitudes, that haply they may reflect;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have certainly presented for the people in this Qur'an from every [kind of] example - that they might remember.

— Saheeh International

We have given all kinds of examples for the human being in this Quran so that perhaps he may take heed.

— Muhammad Sarwar

And certainly We have set forth to men in this Quran similitudes of every sort that they may mind.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We have propounded for mankind in this Qur'an all kinds of similitudes, that haply they may be admonished.

— Abdul Majid Daryabadi

We have put forth for men, in this Qur'an every kind of Parable, in order that they may receive admonition.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–31

فیصلے روز قیامت کو ہوں گے۔ چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آجاتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چناچہ ارشاد ہے (ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ 28؀) 30۔ الروم :28) اللہ نے تمہارے لئے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو۔ ایک اور آیت میں ہے ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لئے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کرلیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–27

سورة الزُّمَر 44 کسی ضرب کو آدمی اپنے منہ پر اس وقت لیتا ہے جبکہ وہ بالکل عاجز و بےبس ہو۔ ورنہ جب تک وہ مدافعت پر کچھ بھی قادر ہوتا ہے وہ اپنے جسم کے ہر حصے پر چوٹ کھاتا رہتا ہے مگر منہ پر مار نہیں پڑنے دیتا۔ اس لیے یہاں اس شخص کی انتہائی بےبسی کی تصویر یہ کہہ کر کھینچ دی گئی ہے کہ وہ سخت مار اپنے منہ پر لے گا۔ سورة الزُّمَر 45 اصل میں لفظ " کسب " استعمال ہوا ہے جس سے مراد قرآن مجید کی اصطلاح میں جزا و سزا کا وہ استحقاق ہے جو آدمی اپنے عمل کے نتیجے میں کماتا ہے۔ نیک عمل کرنے والے کی اصل کمائی یہ ہے کہ وہ اللہ کے اجر کا مستحق بنتا ہے۔ اور گمراہی و بد راہی اختیار کرنے والے کی کمائی وہ سزا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–28

خلاصہ تفسیر بھلا جو شخص اپنے منہ کو قیامت کے روز سخت عذاب کی سپر بنا دے گا اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو تو کیا یہ (گرفتار عذاب) اور جو ایسا نہ ہو برابر ہو سکتے ہیں (اور کفار ان عذابوں کو سن کر انکار نہ کریں کیونکہ) جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا سو ان پر عذاب ایسے طور پر آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا سو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی دنیوی زندگی میں بھی رسوائی کا مزہ چکھایا۔ (کہ زمین میں دھنس جانے اور چہرہ بگڑ جانے اور آسمان سے پتھر برسنے وغیرہ کے عذاب سے دنیا میں بدنام ہوئے) اور آخرت کا عذاب اور بھی بڑا ہے کاش یہ لوگ سمجھ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 27–28

(آیت 28-27) قرآن کی ایک خاص صفت ضرب مثل کے معنی حکمت و موعظت کی باتیں تمثیل کے اسلوب میں پیش کرنا ہے۔ تمثیل کا اسلوب حقائق کی تعلیم و تفہیم کے لئے سب سے زیادہ مئوثر ہوتا ہے، بالخصوص ان حقائق کی تعلیم کے لئے جن کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہو۔ اس وجہ سے انبیاء (علیہم السلام) اس صفت کلام سے بہت زیادہ کام لیتے ہیں۔ تورات، انجیل زبور سب امثال سے معمور ہیں اور حضرت سلیمان ؑ کے صحیفہ حکمت کا تو نام ہی امثال ہے۔ اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے ضرب مثل کا محاورہ مجرد حکمت کی بات کہنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہونے لگا عام اس سے کہ وہ تمثیل کی صورت میں ہو یا عام اسلوب میں اس کی تحقیق اس کے محل میں بیان ہوچکی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 26–27

27۔ 1 یعنی لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں باتیں بیٹھ جائیں اور وہ نصیحت حاصل کریں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–28

12: یہ دوزخ کے ایک خوفناک پہلو کی منظر کشی ہے۔ عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ انسان جب کوئی تکلیف دہ چیز اپنی طرف آتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں یا پاؤں سے اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن دوزخ میں یہ اس لیے ممکن نہیں ہوگا کہ ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہوں گے، اس لیے جسم سے عذاب کو روکنے کی کوئی اور صورت نہیں ہوگی، سوائے اس کے کہ چہرے ہی کو آگے کر کے اسے ڈھال بنایا جائے، لیکن ظاہر ہے کہ چہرے پر روکنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ چہرے کو تکلیف سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–29

آیت نمبر 27 تا 29 اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کی جو موحد ہے اور کسی ایسے بندے کی جو مشرک ہے ، یہ مثال دیتا ہے کہ ان کی مثال ہے جیسے ایک غلام ایک شخص کی خالص ملکیت ہو اور دوسرا کئی مختلف الحیال مالکان کے درمیان مشترکہ ہو۔ اس مشترکہ غلام میں مختلف مالکان کے علیحدہ علیحدہ مطالبے ہیں۔ اور یہ بیچارہ انکے درمیان حیران وپریشان ہے۔ کوئی ادھر کھینچتا ہے ، کوئی ادھر۔ وہ اسے کوئی ایک پروگرام نہیں دیتے اور اس بیچارے کی یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ انکی متضاد فرمائشیں شروع کرسکے کیونکہ وہ اسکے رخ کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور اسکی خواہشات کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور ایک ایک کا غلام یکسو ہے۔ اس کو مالک نے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–28

5 یعنی ان کا نہ سمجھنا اپنی غفلت اور حماقت سے ہے۔ قرآن کے سمجھانے میں کوئی کمی نہیں قرآن تو بات بات کو مثالوں اور دلیلوں سے سمجھاتا ہے تاکہ لوگ ان میں دھیان کر کے اپنی عاقبت درست کریں۔ قرآن ایک صاف عربی زبان کی کتاب ہے جو اس کے مخاطبین اولین کی مادری زبان تھی۔ اس میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں۔ سیدھی اور صاف باتیں ہیں جن کو عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ کسی طرح کا اختلال اور کجی اس کے مضامین یا عبارت میں نہیں۔ جن باتوں کو منوانا چاہتا ہے، نہ ان کا ماننا مشکل، اور جن چیزوں پر عمل کرانا چاہتا ہے نہ ان پر عمل کرنا محال، غرض یہ ہے کہ لوگ بسہولت اس سے مستفید ہوں۔ اعتقادی و عملی غلطیوں سے بچ کر چلیں۔ اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 { وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ } ”اور ہم نے انسانوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کردی ہیں“ مختلف احکام و مسائل کو قرآن میں کھول کھول کر اور اسلوب بدل بدل کر بیان کردیا گیا ہے۔ { لَّعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ } ”شاید کہ وہ سبق حاصل کریں۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 اس سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہم نے شرک کی تردید میں ہر طرح کی مثالیں دلائل کے ساتھ پیش کردی ہیں تاکہ لوگوں کو اصل حقیقت سمجھنے میں کوئی دشواری نہ رہے اور اس سے مراد دین کی سب ضروری باتیں بھی ہوسکتی ہیں جن میں اوامرو نواہی بھی شامل ہیں۔ ایسی بنیادی باتیں سب قرآن میں موجود ہیں اور سنت رسول اللہ سے ان کا مطلب اور مفہوم پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔ یعنی ہر شخص کو دین سے متعلق جملہ ہدایات کتاب و سنت سے مل سکتی ہیں۔ اور اسے اپنے دین کی حفاظت کے لئے قرآن کریم اور حدیث کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–28

40۔ (ہر نافرمانی سے) (آیت) ” قرانا “۔ یہاں پہلا وصف القران کا یہ بیان ہوا کہ وہ ایک پڑھی جانے والی چیز ہے، چناچہ قیامت تک مسجدوں میں پڑھا جائے گا، محرابوں میں سنایا جائے گا، گھروں میں اور مدرسوں میں اس کی تلاوت ہوتی رہے گی، معتقدوں کا نہیں منکروں کا بیان ہے، کہ ” قرآن “ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے، (انسائیکلوپیڈیابرٹانیکامقالہ قرآن، طبع یازدہم) (آیت) ” عریبا “۔ یعنی فصیح وبلیغ واضح، والمراد انہ اعجز الفصحاء والبلغاء عن معارفتہ (کبیر) (آیت) ” غیر ذی عوج “۔ یعنی جس کے اندر کجی کسی طرح کی بھی نہیں، نہ لفظی نہ معنوی۔ یہ قرآن مجید کا تیسرا وصف بیان ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–31

آیت نمبر 22 تا 31 ترجمہ : بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل لعلھم یتذکرون۔ اور ہم نے لوگوں کی ہدایت کیلئے اس قرآن میں ہر قسم کے (ضروری) عمدہ مضامین بیان کئے ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ہم نے لوگوں کی ہدایت کے لیے اس قرآن حکیم میں ہر قسم کے عمدہ مضامین بیان کیے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَــقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ۔۔ : مثال کے ساتھ بات کرنے سے وہ بات جلد سمجھ میں آجاتی ہے اور خوب ذہن نشین ہوجاتی ہے، خصوصاً ایسی مثالیں جن کا آدمی کی اپنی زندگی اور گردوپیش کی اشیاء سے تعلق ہو اور اسے روز مرہ ان سے واسطہ پڑتا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر قسم کی مثالیں بیان فرمائی ہیں، جیسا کہ اپنی توحید سمجھانے کے لیے آدمیوں کو خود ان کی مثالیں دے کر سمجھایا۔ دیکھیے سورة روم (28) اور نحل (75، 76)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–28

27 ۔ 28:۔ یعنی ہر ایسی مثال بیان کی ہے جس کے لوگ محتاج ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کے فرمان ہے : ما فرطنا فی الکتب من شی) الانعام (38: ایک قول یہ کیا گیا ہے یعنی ہم نے سابقہ امتوں کو ہلاکت کا جو ذکر کیا ہے وہ ان کے لئے مثال ہے ممکن ہے کہ ان سے نصیحت حاصل کرین۔ قرآنا عریبا حال ہونے کی حیثیت سے منصوب ہے اخفش نے کہا : کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان فی ھذا القرآن معرفہ ہے۔ عی بن سلیمان نے کہا : عربیا حال ہونے کی حدیث سے منصوب ہے قرآنا یہ حال کی تمہید کے لئے ہے جس طرح تو کہتا ہے : مورت بزید رجلا صالحا تو تیرا قول صالحا حال کی حیثیت سے منصوب ہے۔ زجاج نے کہا : عربیا حال کی حدیثیت سے منصوب ہے اور قرآنا تاکید…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–27

1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افمن یتقی بوجھہ سوٓ ء العذاب یوم القیمۃ “ (بھلا جو شخص جو اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کی سپر بنادے) یعنی اس کو چہرہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا اور یہ اس قول کی طرح ہے (جیسے فرمایا) (آیت ) ” افمن یلقی فی النار خیرام من یاتی امنا یوم القیمۃ “ (فصلت آیت 40) (بھلا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا بہتر ہے یا جو آئے گا امن میں ہو کر قیامت کے دن) 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اسے آگ کی طرف لایا جائے گا ہاتھ بندھے ہوئے پھر اس میں پھینک دیا جائے گا تو سب سے پہلے اس کے چہرے کو آگ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَــقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ [اور بیشک ہم نے بیان کیا ہے لوگوں کے لئے ] فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ [اس قرآن میں ] مِنْ كُلِّ مَثَلٍ [ہر ایک مثال سے ] لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ [شاید کہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 27–28

(وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ ) (الآیتین) ان دو آیتوں میں قرآن مجید کی صفات بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کے عمدہ مضامین بیان کردئیے ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور یہ بھی فرمایا کہ قرآن عربی میں ہے (جسے اولین مخاطبین اہل عرب سمجھتے اور جانتے ہیں اور اس کی فصاحت اور بلاغت سے بھی واقف ہیں) تیسری بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن میں ذرا بھی کجی نہیں ہے نہ اس میں لفظی رکاکت ہے نہ فصاحت میں اختلال ہے نہ معنوی طور پر اس میں کوئی تناقض ہے آخر میں فرمایا (لَعَلَّہُمْ یَتَّقُوْنَ ) تاکہ یہ لوگ قرآن کی تکذیب سے باز آئیں اور اللہ جل شانہٗ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–31

تمثیل حق و باطل وفرق درمیان عبد مومن ومطیع وبندۂ مشرک وعاصی : (ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ جس کسی کا دل اللہ نے ایمان کے لئے کھول دیا وہ ہدایت وسعادت کی روشنی پر ہے تو ایسا شخص جس کو نور ہدایت حاصل ہوچکا وہ اس بدنصیب انسان کی طرح نہیں ہوسکتا جو کفر وگمراہی کی تاریکیوں میں مبتلا ہے اب ان آیات میں حق و باطل کی تمثیل اور مومن و مشرک کے فرق کو ایک حسی مثال میں پیش کیا جارہا ہے اور یہ بیان کیا جارہا ہے ان حقائق کو سمجھانے میں قرآن کریم نے تو کوئی کمی نہیں کی دلیلوں سے سمجھا دیا مثالوں سے واضح کردیا اس کے بعد بھی اگر کوئی نہ سمجھے اور نہ مانے تو یہ اس کی حماقت و غفلت ہے قرآن کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–28

30:۔ ” ولقد ضربنا الخ “ یہ آئندہ تمثیل کے لیے تمہید ہے۔ ہم نے قرآن میں ہر نوع کی مثالیں بیان کی ہیں جن کی موقع و محل کے مطابق ضرورت تھی تاکہ لوگ خوب سمجھ لیں اور نصیحت حاصل کریں۔ جیسا کہ مومن اور مشرک کی ایک مثال آگے آرہی ہے۔ ” قرانا عرب یا الخ “ یہ ھذا سے حال واقع ہے (روح) ، یہ قرآن خالص عربی میں ہے فصاحت و بلاغت، مضامین کی سنجیدگی، دلائل کی پختگی، واقعات کی صحت اور دیگر ہر پہلو سے وہ کامل و مکمل ہے اس میں کسی قسم کی کمی، کجی اور کوتاہی نہیں، یہ بلند پایہ کتاب اس لیے نازل کی گئی تاکہ لوگ اس کی تعلیمات کو مانیں اور ان پر عمل کریں اور اللہ کی نافرمانی اور معصیت سے بچیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–31

ربط آیات : شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کے انجام اور ان کو ملنے والے انعام واکرام کا ذکر فرمایا ، نیز مختصر طور پر مشرکوں اور کافروں کی سزا کو بیان فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں بھی ذلت ورسوائی کا سامنا کریں گے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہوگا ، فرمایا یہ لوگ محض غفلت اور بیوقوفی کی بناء پر ایمان اور وحدانیت کا انکار کرتے ہیں وگرنہ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن کریم نازل فرما کر ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں مختلف قسم کی مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں ، اگر اب بھی یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ ان کی اپنی حماقت ہے قرآن نے تو توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو مثالوں کے ذریعے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَــقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمْ يَتَذَكَّرُوْنَ۝ 27ۚ ضَرْبُ المَثلِ هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ [ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ، ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] خدا ایک مثال بیان فرماتا ہے ۔ وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–31

ترکیب : قراناً حال مؤکدۃ من ھذا و تسمی حالاً موطئۃ لان الحال فی الاصل ھو عرب یا و قرانا تو طئۃ لہ نحو جاءنی زید رجلا صالحا ھذا قول الاخفش ویمکن ان ینتصب علی المدح رجلاقال الکسائی منصوب لکونہ تفسیر المثل وقیل منصوب بنزع الخافض ای ضرب اللہ مثلاً برجل وقیل رجلا مفعول اول و مثلا مفعول ثان فیہ شرکاء الجملۃ صفتہ لرجل، و فی تتعلق بمتشاکسون سلما بفتح السین و کسرھا وسالما مصدر وصف بہ للمبالغۃ والتشاکس التخالف۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ قاسی القلب لوگوں کے عذاب آخرت کی کیفیت بیان فرما چکا تو دنیا میں بھی ان پر عذاب نازل ہونے کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال کذب الذین کہ ان سے پہلے لوگوں نے جو بڑے سخت دل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–28

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا غَیْرَذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ ۔ (الزمر : 27، 28) (ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر قسم کی مثالیں بیان کردیں تاکہ وہ دھیان کریں۔ ایک عربی قرآن کی صورت میں جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں تاکہ وہ برے انجام سے بچیں۔ ) قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب ضربِ مثل کا معنی ہے مثال بیان کرنا۔ لیکن اس سے مراد بالعموم حکمت و مؤعظت کی کسی بات کو تمثیل کے انداز میں یا بغیر تمثیل کے بیان کرنا ہے۔ حکمت و مؤعظت تو تمام آسمانی کتابوں کا موضوع رہا ہے۔ البتہ تمثیل کا پیرایہ بھی آسمانی کتابوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–28

فہم القرآن ربط کلام : ظالموں کو عذاب میں مبتلا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انہیں بارہا دفعہ سمجھایا تاکہ یہ عذاب سے بچ جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ضابطہ ہے کہ اس وقت تک کسی قوم کو عذاب نہیں دیتا جب تک ان کے پاس حق کا پیغام نہ پہنچ جائے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے پہلی اقوام کے پاس انبیائے کرام (علیہ السلام) بھیجے جو انہیں ٹھوس دلائل اور مؤثر انداز میں سمجھاتے رہے۔ اسی اصول کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرمایا اور قرآن مجید میں مختلف امثال کے ذریعے لوگوں کو نصیحتیں فرمائیں تاکہ لوگ کفر و شرک اور ہر قسم کی نافرمانیوں سے بچ کر قرآن کی ہدایت کے مطابق زندگی گزاریں۔ قرآن مجید عربی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

27: وَلَقَدْضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے واسطے ہر قسم کے عمدہ مضامین بیان کئے ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں) تذکر نصیحت پانے کو کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 27۔ ، ولقد ضربنا للناس فی ھذا القرآن من کل مثل لعلھم یتذکو ون، نصیحت حاصل کرلیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–28

27۔ 28۔ مطلب یہ ہے کہ شرک کی برائیوں اور توحید کی خوبیوں کی مثالیں قرآن شریف میں لوگوں کے سمجھنے کے لئے بیان کردی گئی ہیں مثلاً سورة الرعد میں جو مثال اسی باب میں بیان فرمائی اس کا حاصل یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر بتوں یا کسی اور سے مدد چاہتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جس طرح کوئی پیاسا آدمی پانی سے دور کھڑا ہو کر اس امید میں رہے کہ پانی خود بخود اس کے منہ میں آجائے گا انجام اس بجا امید کا یہی ہوگا کہ پانی خود بخود کسی کے منہ تک آنے کی قدرت نہیں رکھتا اس لئے وہ شخص پیاسا ہی رہے گا اب جس طرح پانی میں کسی کے منہ تک آنے کی قدرت نہیں یہی حال مشرکوں کی پوجا کی مورتوں اور مورتوں کی اصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–31

آیت 27 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیا کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے (لعلھم یتذکرون) ” تاکہ وہ نصیحت پکڑیں “ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد ان پر عمل کریں۔ (آیت) ” یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لئے بہت سہل ہے (غیر ذی عرج) یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

62 قرآن حکیم میں ہر عمدہ مضمون کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ بیان فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے لوگوں کیلئے اس قرآن میں ہر عمدہ مضمون بیان کیا "۔ راہ حق و ہدایت کی توضیح و تشریح کے لئے اور اس کو ان کے لئے اتنا اور اس حد تک صاف اور واضح کردیا کہ اب اس میں کسی طرح کا کوئی خفا و غموض باقی نہیں رہ گیا۔ جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ میں نے تم کو ایسی صاف و سیدھی اور واضح شاہراہ پر چھوڑ دیا ہے کہ اس کی رات بھی اس کے دن کی طرح روشن ہے۔ اس سے ٹیڑھا نہیں ہوگا مگر وہی شخص جس کے نصیب میں ہی ہلاکت لکھ دی گئی ہو ۔ " تَرَکْتُکُمْ عَلَی الْمَحَجَّۃِ الْبَیْضَائَ لَیْلُہَا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–27

نرم دل لوگ قرآن سے ہدایت حاصل کرتے ہیں تشریح : جب ہم اللہ کہتے ہیں تو ہمیں اس سپر پاور کا خیال آتا ہے جس نے ہمارے لیے اس قدر ڈھیر ساری چیزیں بنا دی ہیں پانی جو زندگی کی انتہائی بڑی، ضروری اور اہم چیز ہے۔ وافر مقدار میں مفت ہی مفت اور انتہائی شاندار نظام کے ساتھ کھاری پانی بھاپ کے ذریعے پاک صاف اور میٹھا ہو کر دور دراز علاقوں تک بڑے مناسب وقت پر پہنچ جاتا ہے۔ برف، نہروں، چشموں، ندی، نالوں، دریاؤں، کنوؤں اور سمندروں کے ذریعہ کس قدر منظم طریقے سے ہر ہر جاندار کو ہر وقت بڑے مناسب طریقے سے ملتا چلا جاتا ہے۔ صرف یہ ایک نظام، پانی کی سپلائی کا دیکھ کر اس نظام کے بنانے والے اور چلانے والے کی جتنی بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–31

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31: اسرار و معارف : اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی ہر قسم کے اولہ و امثلہ سے سمجھایا گیا ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو مثال بیان ہو رہی ہے یہ اس کے لئے تمہید ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:27) لعلہم یتذکرون ۔ (تاکہ وہ نصیحت پکڑیں) ضربنا للناس فی ھذا القران من کل مثل کی علت ہے۔ یعنی یہ مثالیں اس لئے بیان کی ہیں تاکہ یہ نصیحت پکڑیں۔ یتذکرون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ تذکر (تفعل) مصدر سے۔ بمعنی نصیحت پکڑنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–31

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 31 :۔ ذوقوا ( چکھو) اذاق ( اس نے چکھایا) الخزی (رسوائی ، ذلت) عوج ( کجی ، ٹیڑھ پن) متشکسون (بد اخلاق لوگ) میت (مرنا) تختصمون (تم جھگڑو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 31 :۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین جن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا فرمایا ہے کیا وہ قیامت کے دن اپنے چہروں کو اس آگ سے بچا سکیں گے جو ان کو جھلس کر رکھ دے گی جب ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب وہ اپنے کئے ہوئے برے اعمال کا مزہ چکھیں ۔ فرمایا جائے گا کہ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اس طرح اچانک عذاب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–28

(ف 2) اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے لوگوں کے ہدایت کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کردی، اب بھی نہ سمجھنا اپنی غفلت اور حماقت سے ہے ، قرآن کے سمجھانے میں کوئی کمی نہیں کہ قرآن تو بات بات کو مثالوں اور دلیلوں سے سمجھاتا ہے تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں اور اپنی عاقبت درست کریں، قرآن ایک صاف عربی زبان کی کتاب ہے جو اس میں کوئی ٹیڑھی ترچھی بات نہیں سیدھی اور صاف باتیں ہیں جن کو عقل سلیم قبول کرتی ہیی کس طرح کا اختلاف اس کے مضامین یا عبارت مین نہیں جن باتوں کو منوانا چاہتا ہے نہ ان کا ماننا مشکل اور جن چیزوں پر عمل کرانا چاہتا ہے نہ ان پر عمل کرانا محال ، غرض یہ کہ لوگ بہ سہولت اس سے مستفید ہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–28

[17] آدمی کا قاعدہ ہے کہ سامنے سے جب حملہ ہو تو ہاتھوں پر روکتا ہے مگر منہ پر مار پڑنے نہیں دیتا۔ کسی ضرب کو آدمی اسی وقت اپنے منہ پر لیتا ہے جب وہ انتہائی بےبس ہو۔ کیونکہ دوزخی کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے، اس لئے عذاب کی تھپیڑیں سیدھی منہ پر پڑیں گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–28

قرآن کی بہت بڑی خوبی 1: قرآن حکیم کی اس خوبی کا تذکرہ ہے ۔ کہ اس کے مضامین کو ہر انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ اس میں احکام بھی ہیں ۔ قصص بھی ہیں اور واقعات بھی ۔ اس میں باریک اور دقیق نکات بھی ہیں ۔ اور زندگی کی محسوس ضروریات بھی ۔ اس میں منطقی استدلال بھی ہیں اور فطرت کے مشاہدات بھی ۔ ہر ذوق اور ہر فکر کے لوگوں کے لئے اس میں رشدوہدایت کا وافر سامان موجود ہے ۔ ایک عامی اور سطحی عقل والا بھی اس میں تسکین محسوس کرے گا ۔ اور ایک بلند پرواز فلسفی اور حکیم بھی ۔ یہ کتاب دماغ کو بھی متاثر کرتی ہے اور دل کی لطیف کیفیات کو بھی ۔ یہ عربی میں نازل کی گئی ہے ۔ تاکہ تعبیر معانی میں کوئی ابہام اور اجمال…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) اور بلا شبہ ہم نے اس قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں اور عمدہ مضامین بیان کئے ہیں تاکہ یہ لوگ سوچیں اور نصیحت قبول کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 24–27

ف 3۔ سپر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی عادت ہے کہ جو کوئی اس پر حربہ ضربہ کرتا ہے ہاتھ پر روکتا ہے، مگر وہاں ہاتھ پاوں جکڑے ہوں گے، اس لئے سب منہ ہی پر لے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم میں ہم نے لوگوں کی نصیحت کے لیے مثالیں بیان کی ہیں 27۔ قرآن کریم میں لوگوں کے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان کی گئی ہیں تاکہ بات ان کی سمجھ میں آسکے اور وہ اس سے نصیحت حاصل کرسکیں لیکن بہت ہی کم ایسا ہوا ہے کہ لوگوں نے کبھی ان مثالوں کے سمجھنے کی کوشش کی ہو۔ جن لوگوں کی زبان میں یہ نازل ہوا وہ بھی اس کو سرسری نگاہ ہی سے پڑھتے ہیں اور جن کی زبان میں وہ نازل ہوا انہوں نے بھی کبھی اس کو سمجھنے کو کوشش نہیں کہ بلکہ ان کو مذہبی راہنمائوں کی اکثریت نے صرف تلاوت کرلینے ہی سے اجر وثواب کا مستحق قرار دے کر سمجھنے اور سوچنے کی طرف سے ان کی رغبت ہی کو بالکل ہٹا دیا ہے گویا اس کا نزول بےسمجھے سوچے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–29

Commentary Verse أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجْهِهِ (Tell Me about the one who tries to save himself from the worst punishment with his face ...) carries a description of the terrifying scenario of Jahannam. If one faces something hurtful in his mortal life, he tries to fight it off by using his hands and feet as defensive shields to protect his face. But, refuge with Allah, the people of Jahannam will not be able to use even their hands and feet to defend themselves. The punishment that comes will fall directly on their faces. Even if he wished to ward off the punishment in defense, he would have…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–27

44 One takes a blow on one's face only when one is absolutely helpless and powerless, otherwise until one has some power to resist, one goes on receiving the blows on the other parts of one's body but saves one's face. Therefore, here the extreme state of helplessness of a person has been depicted, saying that he will receive the severe punishment on his face. 45 The word kasab, in the Qur'anic terminology, implies one's descrying and earning a reward and punishment in consequence of one's actions and deeds. The real earning of a doer of good is that he becomes worthy of Allah's reward, and…

Read the full tafseer →