Explained with ayahs 24–26
ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن وامان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ جیسے فرمایا اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں۔ ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو۔ ایک اور آیت میں ہے جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن وامان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا ؟ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔ اگلے لوگوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
سورة الزُّمَر 44
کسی ضرب کو آدمی اپنے منہ پر اس وقت لیتا ہے جبکہ وہ بالکل عاجز و بےبس ہو۔ ورنہ جب تک وہ مدافعت پر کچھ بھی قادر ہوتا ہے وہ اپنے جسم کے ہر حصے پر چوٹ کھاتا رہتا ہے مگر منہ پر مار نہیں پڑنے دیتا۔ اس لیے یہاں اس شخص کی انتہائی بےبسی کی تصویر یہ کہہ کر کھینچ دی گئی ہے کہ وہ سخت مار اپنے منہ پر لے گا۔
سورة الزُّمَر 45
اصل میں لفظ " کسب " استعمال ہوا ہے جس سے مراد قرآن مجید کی اصطلاح میں جزا و سزا کا وہ استحقاق ہے جو آدمی اپنے عمل کے نتیجے میں کماتا ہے۔ نیک عمل کرنے والے کی اصل کمائی یہ ہے کہ وہ اللہ کے اجر کا مستحق بنتا ہے۔ اور گمراہی و بد راہی اختیار کرنے والے کی کمائی وہ سزا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
خلاصہ تفسیر
بھلا جو شخص اپنے منہ کو قیامت کے روز سخت عذاب کی سپر بنا دے گا اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو تو کیا یہ (گرفتار عذاب) اور جو ایسا نہ ہو برابر ہو سکتے ہیں (اور کفار ان عذابوں کو سن کر انکار نہ کریں کیونکہ) جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا سو ان پر عذاب ایسے طور پر آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا سو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی دنیوی زندگی میں بھی رسوائی کا مزہ چکھایا۔ (کہ زمین میں دھنس جانے اور چہرہ بگڑ جانے اور آسمان سے پتھر برسنے وغیرہ کے عذاب سے دنیا میں بدنام ہوئے) اور آخرت کا عذاب اور بھی بڑا ہے کاش یہ لوگ سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
یت 26-25)
قریش کو تنبیہ
یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ ان کو جس عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے اس کو مذاق نہ سمجھیں۔ آج حالات سازگار ہیں اس وجہ سے ان کی مسجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ عذاب کدھر سے آجائے گا۔ ان سے پہلے جو قومیں گزری ہیں وہ بھی اسی طرح کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اپنے رسولوں کو جھٹلاتی رہیں۔ بالآخر ان پر عذاب وہاں سے آدھمکا جہاں سے ان کو کوئی وہم و گمان بھی نہیں تھا۔
فاذا قھم اللہ الخزی فی الحیوہ الدنیا رسوائی کا عذاب ان قوموں پر اس وجہ سے آیا کہ اللہ کے رسولوں کے مقابل میں انہوں نے استکبار کا اظہار کیا اور پوری طرح اتمام حجت ہوجانے کے باوجود انہوں نے حق کی تکذیب کی۔ رسولوں کے باب میں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
27۔ 1 یعنی لوگوں کو سمجھانے کے لئے ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں باتیں بیٹھ جائیں اور وہ نصیحت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
12: یہ دوزخ کے ایک خوفناک پہلو کی منظر کشی ہے۔ عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ انسان جب کوئی تکلیف دہ چیز اپنی طرف آتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں یا پاؤں سے اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن دوزخ میں یہ اس لیے ممکن نہیں ہوگا کہ ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہوں گے، اس لیے جسم سے عذاب کو روکنے کی کوئی اور صورت نہیں ہوگی، سوائے اس کے کہ چہرے ہی کو آگے کر کے اسے ڈھال بنایا جائے، لیکن ظاہر ہے کہ چہرے پر روکنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ چہرے کو تکلیف سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت نمبر 25 تا 26
یہ ہے حال مکذبین کا دنیا اور آخرت دونوں میں۔ دنیا میں بھی اللہ نے ان کو شرمندہ اور ذلیل کیا۔ آخرت میں بھی ان کے لیے ایک عظیم عذاب انتظار میں ہے۔ اللہ کی سنت اپنا کام کرتی ہے۔ وہ اٹل ہے۔ اقوام رفتہ کا انجام پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ شاہد عادل ہے۔ اللہ کی دھمکی قائم ہے کہ وہ آخرت میں ان کو سزا دے گا۔ ان کے سامنے اب بھی فرصت کے لمحات موجود ہیں۔ ان کو غنیمت سمجھیں اور قرآن کی نصیحت سے ہدایت لیں۔
لوکانوا یعلمون (39: 26) ” کاش یہ لوگ جانتے “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
4 یعنی بہت قومیں تکذیب انبیاء کی بدولت دنیا میں ہلاک اور رسوا کی جا چکی ہیں۔ اور آخرت کا اشد عذاب جوں کا توں رہا۔ تو کیا موجودہ مکذبین مطمئن ہیں کہ ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا جائے گا۔ ہاں سمجھ ہوتی تو کچھ فکر کرتے۔
Read the full tafseer →آیت 26 { فَاَذَاقَہُمُ اللّٰہُ الْخِزْیَ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا } ”تو اللہ نے انہیں دنیا کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھا دیا۔“
{ وَلَـعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ 7 لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ } ”اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا !“
Read the full tafseer →41 دنیا میں سزامحض ظالم کا ہاتھ روکنے کے لئے دی جاتی ہے :۔ وہ اللہ کی آیات یا اس کی وعید کا مذاق اڑانے میں لگے رہے اور پیغمبروں سے یہی کہتے رہے کہ وہ عذاب کب آئے گا جس کی دھمکی دے رہے ہو۔ اسے لے کیوں نہیں آتے۔ وہ اپنے اس شغل میں ہی مگن تھے کہ انہیں اللہ کے عذاب نے آلیا اور یہ عذاب کوئی ان کے جرائم کی سزا نہیں تھی بلکہ اس طرح انہیں مزید ظلم اور زیادتیوں سے روک دیا گیا اور اصل سزا تو انہیں اس وقت دی جائے گی جب وہ میدان محشر میں پیش کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →39۔ آخرت کے معمولی اور ہلکے سے عذاب کا بھی دینا کے بڑے سے بڑے عذاب سے کیا مقابلہ ! وہ تو اس سے کہیں شدید تر ہوگا۔ کاش یہ منکرین اس کا کچھ سرسری سا اندازہ بھی رکھیں ! (آیت) ” الخزی ...... الدنیا “۔ یعنی وہ قومیں یا تو جہاد میں اہل ایمان کے ہاتھوں مغلوب ومنہزم ہوئیں، یا اور کسی عذاب ناگہانی سے ہلاک ہوگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے…
Read the full tafseer →فاذاقھم اللہ الخزی فی الحیوۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اکبر لو کانوا یعلمون سو اللہ نے ان
کو ایسی دنیوی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو اور بھی بڑا ہے۔ کاش ! یہ لوگ سمجھ جاتے (تو تکذیب انبیاء نہ کرتے) ۔
الْخِزْی ذلت ‘ جیسے صورتیں بگڑ جانا ‘ زمین میں دھنسایا جانا ‘ مارا جانا ‘ طوفان میں مبتلا ہوجانا ‘ غیبی چیخ سے جگر پھٹ جانا ‘ ان پر اوپر سے پتھر برسنا ‘ غرق کیا جانا وغیرہ۔
وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ یعنی آخرت میں جو عذاب ان کیلئے تیار ہے۔
اَکْبَرُ اس دنیوی عذاب سے بہت بڑا ہے ‘ شدید بھی ہے اور لازوال بھی ہے۔
لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ یعنی کاش وہ تکذیب انبیاء کے برے نتیجہ کو سمجھ…
Read the full tafseer →اور اللہ تعالیٰ نے اس دنیوی زندگی میں بھی ان کو عذاب کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو دنیاوی عذاب سے کہیں زیادہ سخت ہے کاش یہ سمجھتے مگر یہ تو سمجھتے ہی نہیں۔
Read the full tafseer →فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ الْخِــزْيَ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ۔۔ : دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ان عذابوں کے ذریعے سے انھیں رسوائی چکھائی اور آخرت کا عذاب ان سے کہیں زیادہ بڑا ہے، کیونکہ آخرت کی آگ دنیا کی آگ سے ستر (70) گنا زیادہ حرارت والی ہے، پھر دنیا کا عذاب تو ختم ہونے والا ہے، مگر آخرت کا عذاب ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ آخرت کا عذاب رسوائی میں بھی کہیں زیادہ ہے۔ دیکھیے سورة حمٰ السجدہ (16)۔
ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْن : یعنی وہ یہ بات جانتے ہی نہ تھے کہ آخرت کا عذاب کہیں زیادہ بڑا ہے، ورنہ وہ اس سے بےخوف نہ ہوتے۔ معلوم ہوا کہ اگر انھوں نے علم کے باوجود نافرمانی کی تو حقیقت میں وہ علم نہ تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
24 ۔ 26:۔ افمن یتقی بوجھہ سوء الغزاب عطا اور ابن زید نے کہا : اس کے ہاتھ جکڑ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا اس کے جسم میں سے جس سب سے پہلے آگ مس کرے گی وہ اس کا منہ ہوگا۔ مجاہد نے کہا : اسے منہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا (1) ۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد کافر ہے اسے آگ میں پھینکا جائے گا اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ جکڑے ہوئے ہونگے اس کی گردن پر کبریت کی بری چتان ہوگی جس طرح بڑا پہار ہوتا ہے پتھر میں آگ بھڑک اٹھے گی جب کہ وہ اس کی گردن کے معلق ہوگا اس کی گرمی اس کی گردن پر پہنچے گی وہ طوقوں کی وجہ سے آگ کو چہرے سے دور نہ کرسکے گا۔ خبر مخدوف ہے۔ 0 اخفش نے کہا تقدیر کلام یہ ہوگی افمن یتقی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افمن یتقی بوجھہ سوٓ ء العذاب یوم القیمۃ “ (بھلا جو شخص جو اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کی سپر بنادے) یعنی اس کو چہرہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا اور یہ اس قول کی طرح ہے (جیسے فرمایا) (آیت ) ” افمن یلقی فی النار خیرام من یاتی امنا یوم القیمۃ “ (فصلت آیت 40) (بھلا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا بہتر ہے یا جو آئے گا امن میں ہو کر قیامت کے دن)
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اسے آگ کی طرف لایا جائے گا ہاتھ بندھے ہوئے پھر اس میں پھینک دیا جائے گا تو سب سے پہلے اس کے چہرے کو آگ…
Read the full tafseer →فَاَذَاقَهُمُ اللّٰهُ [پھر چکھائی ان کو اللہ نے ] الْخِــزْيَ [رسوائی ] فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۚ [دنیوی زندگی میں ] وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ [اور یقینا آخرت کا عذاب ] اَكْبَرُ ۘ [سب سے بڑا ہے ] لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ [کاش یہ لوگ جانتے ہوتے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) (الآیتین) ان دونوں آیتوں میں منکرین کی بدحالی بیان فرمائی کہ وہ یوں نہ سمجھیں کہ عذاب کی وعید یوں ہی ایک تہدید ہے ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ وعیدیں سچی ہیں، جھٹلانے والوں کو عذاب پہنچ کر رہے گا ان سے پہلے بھی لوگوں نے جھٹلایا پھر ان کے پاس عذاب پہنچ گیا اور پہنچا بھی اس طرح کہ انہیں اس کے آجانے کا خیال بھی نہ تھا اللہ نے انہیں دنیا میں بھی رسوائی کا مزہ چکھا دیا اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے ہی جو دنیا والے عذاب سے بڑھ کر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
بیان انشراح قلوب اہل ایمان وآثار خشیت وتقوی کہ از ذکر الہی وتلاوت قرآن است :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افمن شرح اللہ صدرہ ...... الی ....... لو کانوا یعلمون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت اور اثبات حق کے لیے براھین اور شواہد بیان کئے گئے تھے اور عقائد باطلہ کی تردید وابطال کیا گیا تھا اب اس کے بعد ان آیات میں آیات خداوندی سے انتفاع اور قبول ہدایت کا ایک معیار ذکر کیا جارہا ہے وہ قلب کا اللہ رب العزت کی اطاعت کیلئے منشرح ہوجانا ہے اور یہ اس پر موقوف ہے کہ اس قلب پر اللہ کی خشیت و عظمت کے آثار ظاہر ہوں لیکن اگر قلب پر قساوت (سختی اور بےحسی) مسلط ہو تو پھر اس پر خدا کی عظمت وہیبت اثر انداز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
28:۔ ” افمن یتقی الخ “ یہ تیسری بار مومن و کافر کے اوصاف میں تقابل کا ذکر ہے۔ انسان ہمیشہ اپنے چہرے کو آفات سے اپنے ہاتھوں کے ذریعے بچاتا ہے لیکن کافروں کو جب جہنم میں پھینکا جائے گا۔ ان کے ہاتھ ان کی گردنوں کے ساتھ بندھے ہوں گے اس لیے وہ اپنے چہروں کو آگ کے شعلوں سے ہاتھوں کی مدد سے نہیں بچا سکیں گے بلکہ آگ کے شعلوں کو وہ اپنے چہروں پر ہی لیں گے۔ والکافر حین یلقی فی النار تکون یداہ مغلولتیں الی عنقہ فلا یستطیع ان یتقی الا بوجہہ (مظہری ج 8 ص 210) ۔ کیا جہنم کی بھڑکتی آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا کافر اس مومن کی مانند ہوسکتا ہے جو عذاب جہنم سے محفوظ و مامون ہو۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(شرح صدر تنگدلی)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نیک وبد کا تقابل اور دونوں کا انجام بیان فرمایا تھا اور اب اس درس میں بھی اللہ تعالیٰ نے شرح صدر اور تنگدلی کا تقابل کرکے ان کا انجام ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام “۔ بھلا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے ، اس کو اسلام کے اصول ، قوانین اور احکام پورے طریقے سے سمجھ میں آئے ہیں اور اسے کسی اصول و ضابطے میں ذرہ بھر بھی شک وشبہ نہیں نہیں ، وہ اسلام کی ہر بات کو بخوشی قبول کرکے اس پر عمل پیرا ہوجاتا ہے ، اللہ تعالیٰنے اس کے دل کو بصیرت سے لبریز کیا ہے اور وہ پورے اطمینان و سکون میں ہے (آیت) ” فھو…
Read the full tafseer →فَاَذَاقَہُمُ اللہُ الْخِــزْيَ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا 0 ۚ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَكْبَرُ 0 ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ 26
ذوق
الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له :
الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56]
( ذ و ق ) الذاق ( ن )
کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–31
ترکیب : قراناً حال مؤکدۃ من ھذا و تسمی حالاً موطئۃ لان الحال فی الاصل ھو عرب یا و قرانا تو طئۃ لہ نحو جاءنی زید رجلا صالحا ھذا قول الاخفش ویمکن ان ینتصب علی المدح رجلاقال الکسائی منصوب لکونہ تفسیر المثل وقیل منصوب بنزع الخافض ای ضرب اللہ مثلاً برجل وقیل رجلا مفعول اول و مثلا مفعول ثان فیہ شرکاء الجملۃ صفتہ لرجل، و فی تتعلق بمتشاکسون سلما بفتح السین و کسرھا وسالما مصدر وصف بہ للمبالغۃ والتشاکس التخالف۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ قاسی القلب لوگوں کے عذاب آخرت کی کیفیت بیان فرما چکا تو دنیا میں بھی ان پر عذاب نازل ہونے کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال کذب الذین کہ ان سے پہلے لوگوں نے جو بڑے سخت دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَاَتٰـھُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ فَاَذَا قَھُمُ اللّٰہُ الْخِزْیَ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ م لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ۔ (الزمر : 25، 26)
(ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے تھے، تو ان پر عذاب وہاں سے آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ جاسکتا تھا۔ پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑی چیز ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔ )
قریش کو تنبیہ
نبی کریم ﷺ جب قریش اور دیگر مخالفین کو دیکھتے کہ وہ کسی طرح بھی راہ راست پر آنے کے لیے تیار نہیں تو آپ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : ظالموں کو صرف آخرت میں سزا نہیں ملے گی بلکہ دنیا میں بھی انہیں ذلّت سے دوچار ہونا پڑے گا۔
نبی اکرم ﷺ کفار اور مشرکین کو باربار سمجھاتے کہ اگر تم نے کفر و شرک کو نہ چھوڑا تو قیامت کے دن تمہیں اذیت ناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا اور دنیا میں بھی تم پر عذاب نازل ہوسکتا ہے۔ اس بات پر لوگ آپ ﷺ کا مذاق اڑاتے اور تکرار کے ساتھ مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے ہم پر نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ عذاب کا مطالبہ کرنے والوں کو ایک مرتبہ پھر سمجھایا گیا ہے کہ جس عذاب کا تم مذاق اڑاتے ہو وہ تمہیں ایسے مقام اور وقت میں آلے گا جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اگر سمجھنا…
Read the full tafseer →26: فَاَذَا قَھُمُ اللّٰہُ الْخِزْیَ (پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی دنیوی زندگی میں عذاب کا مزہ چکھایا) الخزیؔ سے ذلت، رسوائی مثلاً مسخ، زمین میں دھنسنا، قتل وجلا وطن ہونا وغیرہ اسی قسم کے اللہ تعالیٰ کے عذاب۔ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ (اور البتہ آخرت کا عذاب اور بھی بڑا ہے) دنیا کے عذاب کے مقابلہ میں لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ (کاش یہ لوگ سمجھ جاتے) تو ضرور ایمان قبول کرلیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25، کذب الذین من قبلھم، کفار مکہ سے پہلے لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ ، فاتاھم العذاب من حیث لا یشعرون، یعنی وہ مطمئن اور عذاب سے غافل تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25۔ 26۔ اوپر قریش کے سخت دل اور قابل دوزخ لوگوں کا ذکر تھا۔ اس لئے فرمایا کہ ان سے پہلے بھی ایسے لوگ گزر چکے ہیں جنہوں نے سخت دلی سے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور ایسے لوگوں کا آخر انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت کا عذاب سمجھ دار کے لئے بہت سخت ہے کہ وہاں طرح طرح کے عذاب ہے اور موت نہیں ہے صحیح بخاری 2 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک کی حدیث اور صحیح بخاری و ترمذی کے حوالہ سے ابوذر ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے۔ جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا آخرت کے عذاب کا پورا حال اگر میں لوگوں کے سامنے بیان کر دوں تو لوگ گھر بار چھوڑ کر جنگل کو نکل جائیں اور سوا رات دن کے رونے کے اور کچھ کام ان سے نہ ہو…
Read the full tafseer →آیت 26
کیا یہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور اپنے اکرام و تکریم کے گھر پہنچانے والے راستے پر گامزن ہونے کی توفیق سے بہرہ مند کیا ہے اور وہ شخص برابر ہوسکتے ہیں، جو اپنی گمراہی پر جما ہوا اور دائمی عناد میں سرگرداں ہے یہاں تک کہ قیامت آپہنچے اور بڑا عذاب اسے گھیر لے اور اپنے چہرے کو اس عذاب سے بچانے کی ناکام کوشش کرے ؟ چہرہ تمام اعضا میں سب سے زیادہ شرف کا حامل سجھا جاتا ہے۔ ادنیٰ سا عذاب اس پر بہت زیادہ اثر کرتا ہے۔ وہ اپنے چہرے کو بہت برے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے گا، لیکن اس کے ہاتھ اور پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ (وقیل للظلمین) کفر اور معاصی کے ذریعے سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والوں سے زجر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →60 منکرین کے لیے ذلت و رسوائی کا عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخر کار اللہ نے انکو چکھایا ذلت و رسوائی کا عذاب اس دنیاوی زندگی میں "۔ معلوم ہوا کہ انسان کو اپنے کئے کرائے کی سزا کبھی اور کسی حد تک آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی مل کر رہتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کی سنت اور اسکا دستور ہمیشہ یہ رہا کہ اس نے مکذبین و منکرین کو ایک حد تک مہلت دی تاکہ ان پر حجت تمام ہوجائے۔ اس کے بعد اگر وہ لوگ اپنی تکذیب و انکار سے باز نہ آئے تو لازماً انکو تباہ کردیا گیا۔ اور پھر اسی دنیاوی عذاب پر بس نہیں بلکہ اصل عذاب تو آخرت کا ہے جو کہ بڑا ہی سخت ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ {…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
نرم دل لوگ قرآن سے ہدایت حاصل کرتے ہیں
تشریح : جب ہم اللہ کہتے ہیں تو ہمیں اس سپر پاور کا خیال آتا ہے جس نے ہمارے لیے اس قدر ڈھیر ساری چیزیں بنا دی ہیں پانی جو زندگی کی انتہائی بڑی، ضروری اور اہم چیز ہے۔ وافر مقدار میں مفت ہی مفت اور انتہائی شاندار نظام کے ساتھ کھاری پانی بھاپ کے ذریعے پاک صاف اور میٹھا ہو کر دور دراز علاقوں تک بڑے مناسب وقت پر پہنچ جاتا ہے۔ برف، نہروں، چشموں، ندی، نالوں، دریاؤں، کنوؤں اور سمندروں کے ذریعہ کس قدر منظم طریقے سے ہر ہر جاندار کو ہر وقت بڑے مناسب طریقے سے ملتا چلا جاتا ہے۔ صرف یہ ایک نظام، پانی کی سپلائی کا دیکھ کر اس نظام کے بنانے والے اور چلانے والے کی جتنی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31:
اسرار و معارف :
اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 4 یعنی اللہ کے عذاب سے بچائو کی کوئی تدبیر کام نہ آسکی۔5 خزی سے مراد اللہ کے عذاب ہیں جو مختلف صورتوں میں قوموں پر نازل ہوئے۔6 یا ” کاش ان کو معلوم ہوتا “
Read the full tafseer →(39:26) اذاقھم ماضی واحد مذکر غائب۔ اذاقۃ باب افعال سے مصدر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب ۔ (اللہ نے) ان کو چکھایا ۔
الخزی۔ ذلت و اہانت ۔ یہ اذاق کا مفعول ثانی ہے۔ ذلت اور رسوائی صورتیں بگڑ جانا۔ زمین میں دھنسا یا جانا۔ مارا جانا۔ طوفان میں مبتلا ہونا۔ اوپر سے پتھروں کی بارش ہونا۔ غرق کیا جانا وغیرہ شامل ہے۔
لو کانوا یعلمون۔ اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) اگر ضمیر فاعل ان مکذبین کی طرف راجع ہو جن کو دنیا میں ذلت و رسوائی کی سزا دی گئی تھی تو اس کا مطلب ہوگا :۔ کاش وہ تکذیب انبیاء کے نتیجے کو سمجھ لیتے تو تکذیب نہ کرتے۔
(2) اگر ضمیر فاعل کا مرجع منکرین مکہ ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ :۔ اہل مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–31
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 31 :۔ ذوقوا ( چکھو) اذاق ( اس نے چکھایا) الخزی (رسوائی ، ذلت) عوج ( کجی ، ٹیڑھ پن) متشکسون (بد اخلاق لوگ) میت (مرنا) تختصمون (تم جھگڑو گے) ۔
تشریح : آیت نمبر 24 تا 31 :۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین جن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا فرمایا ہے کیا وہ قیامت کے دن اپنے چہروں کو اس آگ سے بچا سکیں گے جو ان کو جھلس کر رکھ دے گی جب ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب وہ اپنے کئے ہوئے برے اعمال کا مزہ چکھیں ۔ فرمایا جائے گا کہ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اس طرح اچانک عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(ف 1) ان کافروں سے پہلے بھی ایسے لوگ گزرچکے ہیں جنہوں نے سخت دلی سے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور ایسے لوگوں کا آخر انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت کے ناگہانی عذاب میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پکڑ لیا، دنیا کے عذاب کا نتیجہ تو فقط اتنا ہی ہوا کہ وہ لوگ ہلاک ہوگئے مگر آخرت کا عذاب سمجھ دار کے لیے بہت سخت ہے کہ وہاں طرح طرح کا عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
[17] آدمی کا قاعدہ ہے کہ سامنے سے جب حملہ ہو تو ہاتھوں پر روکتا ہے مگر منہ پر مار پڑنے نہیں دیتا۔ کسی ضرب کو آدمی اسی وقت اپنے منہ پر لیتا ہے جب وہ انتہائی بےبس ہو۔ کیونکہ دوزخی کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے، اس لئے عذاب کی تھپیڑیں سیدھی منہ پر پڑیں گی۔
Read the full tafseer →خدا کا قانون مکافات
1: غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح اس سے پہلے کفر ناگوار تھا اب بھی ناگوار ہے جس طرح پہلی قوموں کو اس پاداش میں کہ انہوں نے حق وصداقت کو ٹھکرایا ۔ اور تکذیب وتردید کو اپنا شعار بنایا ۔ اپنے غضب اور خثم کا مورد قرار دیا تھا ۔ آج بھی ان لوگوں کو جو قرآن کے حقائق کو جھٹلاتے ہیں اور اس کی پیش کردہ تعلیمات کو غلط قرار دیتے ہیں ۔ ذلت اور رسوائی کی سزا سے دو چار کیا جائے گا ۔ کیونکہ جس طرح اللہ کا قانون حفظ اقیام ایک ہے ۔ اسی طرح اس کا قانون مقالات بھی ایک ہے یہ مکہ والے اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں ۔ کہ یہ لوگ باوجود سرکشی اور بغاوت کے اللہ کے عذاب سے محفوظ رہیں گے ۔ اور ان…
Read the full tafseer →(26) سو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی دنیا کی زندگی میں ذلت و رسوائی کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو یقینا اس سے کہیں بڑا ہے کاش یہ لوگ اس بات کو سمجھتے - یعنی دنیا میں ذلت و رسوائی کا مزا چکھنا پڑا اور آخرت کا عذاب یقینا بہت بڑا اور بڑا سخت ہے یعنی دنیا کی رسوائی کو اس سے کوئی نسبت نہیں۔ اللھم اجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ۔ کاش یہ بھی ان بتوں کو سمجھ جاتے اگر سمجھ جاتے تو تکذیب اور جھٹلانے کا طریقہ نہ اختیار کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
ف 3۔ سپر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی عادت ہے کہ جو کوئی اس پر حربہ ضربہ کرتا ہے ہاتھ پر روکتا ہے، مگر وہاں ہاتھ پاوں جکڑے ہوں گے، اس لئے سب منہ ہی پر لے گا۔
Read the full tafseer →یہ تو ان کا دنیوی عذاب تھا اور آخرت کا عذاب اس سے بھی برا ہو گا
26۔ دنیا میں ان لوگوں کو جو انبیاء ورسل کے مخالف تھے جو عذاب دیا گیا وہ تو اچانک آیا اور ان کو ہلاک کر کے رخصت ہوگیا لیکن آخرت کا عذاب تو ایسا ہے کہ وہ کبھی رخصت ہونے والا ہی نہیں اس لیے آخرت کے عذاب کو ” اکبر “ کہا گیا ہے جیسا کہ کسی نے کہا کہ
اب تو گھبرا کہ یہ کہتے ہیں کہ مرجائیں گے
مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
مرنے کے بعد جب چین نہ آیا پھر تو موت کو بھی موت آچکی ہوگی اس لیے وہ دنیوی عذاب سے کہیں بہت بڑا عذاب ہوگا کاش کہ یہ بات لوگوں کی سمجھ میں آجاتی اور وہ دنیوی عذاب سے بچنے کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب سے بچنے کی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–29
Commentary
Verse أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجْهِهِ (Tell Me about the one who tries to save himself from the worst punishment with his face ...) carries a description of the terrifying scenario of Jahannam. If one faces something hurtful in his mortal life, he tries to fight it off by using his hands and feet as defensive shields to protect his face. But, refuge with Allah, the people of Jahannam will not be able to use even their hands and feet to defend themselves. The punishment that comes will fall directly on their faces. Even if he wished to ward off the punishment in defense, he would have…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
44 One takes a blow on one's face only when one is absolutely helpless and powerless, otherwise until one has some power to resist, one goes on receiving the blows on the other parts of one's body but saves one's face. Therefore, here the extreme state of helplessness of a person has been depicted, saying that he will receive the severe punishment on his face.
45 The word kasab, in the Qur'anic terminology, implies one's descrying and earning a reward and punishment in consequence of one's actions and deeds. The real earning of a doer of good is that he becomes worthy of Allah's reward, and…
Read the full tafseer →