Az-Zumar 39:31

Az-Zumar · from ayah 31

39:31

ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ ۟۠ثُمَّ اِنَّكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جھگڑو گے (اور جھگڑا فیصل کردیا جائے گا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then indeed you, on the Day of Resurrection, before your Lord, will dispute.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juzع

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:31

آخرکار قیامت کے روز تم سب اپنے رب کے حضور اپنا اپنا مقدمہ پیش کرو گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جھگڑو گے (اور جھگڑا فیصل کردیا جائے گا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر تم سب کے سب قیامت والے دن اپنے رب کے سامنے جھگڑو گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر تم سب قیامت کے دن اپنے پروردگار کے پاس اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر بلاشبہ تم لوگ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور باہم جھگڑا کروگے (ایک گروہ دوسرے کو کہے گا کہ ہمیں مقامِ نبوّت اور شانِ رسالت کو سمجھنے سے تم نے روکا تھا، وہ کہیں گے: نہیں تم خود ہی بدبخت اور گمراہ تھے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر بیشک تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر قیامت کے دن تم اپنے پروردگار کے ہاں اپنا اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر تم لوگ قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر یہ بھی ایک قطعی حقیقت ہے کہ قیامت کے روز تم سب (دوبارہ زندہ ہو کر) اپنے رب کے یہاں اپنا مقدمہ پیش کرو گے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر قیامت کے دن تم (دونوں فریق) اپنے پروردگار کے روبرو مقدمہ پیش کرو گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس آپس میں جھگڑو گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر البتہ قیامت کے دن تم سب اللہ کے سامنے جھگڑو گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Then eventually all of you will contend before your Lord on the Day of Resurrection.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

After that, on the Day of Doom, you will surely place your disputes before your Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

After that, on the Day of Doom, you will surely place your disputes before your Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then, on the Day of Resurrection, you will be disputing before your Lord.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then lo! on the Day of Resurrection, before your Lord ye will dispute.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then indeed you, on the Day of Resurrection, before your Lord, will dispute.

— Saheeh International

Then, on the Day of Judgment, all of you will present your disputes before your Lord.

— Muhammad Sarwar

Then surely on the day of resurrection you will contend one with another before. your Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Then verily on the Day of Resurrection, before your Lord ye shall contend.

— Abdul Majid Daryabadi

In the end will ye (all), on the Day of Judgment, settle your disputes in the presence of your Lord.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–31

فیصلے روز قیامت کو ہوں گے۔ چونکہ مثالوں سے باتیں ٹھیک طور پر سمجھ میں آجاتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہر قسم کی مثالیں بھی بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سوچ سمجھ لیں۔ چناچہ ارشاد ہے (ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ 28؀) 30۔ الروم :28) اللہ نے تمہارے لئے وہ مثالیں بیان فرمائی ہیں جنہیں تم خود اپنے آپ میں بہت اچھی طرح جانتے بوجھتے ہو۔ ایک اور آیت میں ہے ان مثالوں کو ہم لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں علماء ہی انہیں بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ قرآن فصیح عربی زبان میں ہے جس میں کوئی کجی اور کوئی کمی نہیں واضح دلیلیں اور روشن حجتیں ہیں۔ یہ اس لئے کہ اسے پڑھ کر سن کر لوگ اپنا بچاؤ کرلیں۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 30–32

سورة الزُّمَر 51 پچھلے فقرے اور اس فقرے کے درمیان ایک لطیف خلا ہے جسے موقع و محل اور سیاق وسباق پر غور کر کے ہر صاحب فہم آدمی خود بھر سکتا ہے۔ اس میں یہ مضمون پوشیدہ ہے کہ اس اس طرح تم ایک صاف سیدھی بات سیدھے طریقے سے ان لوگوں کو سمجھا رہے ہو اور یہ لوگ نہ صرف یہ کہ ہٹ دھرمی سے تمہاری بات رد کر رہے ہیں، بلکہ اس کھلی صداقت کو دبانے کے لیے تمہارے درپے آزار ہیں۔ اچھا، ہمیشہ نہ تمہیں رہنا ہے نہ انہیں۔ دونوں کو ایک دن مرنا ہے۔ انجام سب کے سامنے آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

محشر کی عدالت میں مظلوم کا حق ظالم سے وصول کرنے کی صورت (آیت) ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہاں لفظ انکم میں مومن و کافر اور مسلمان ظالم و مظلوم سب داخل ہیں یہ سب اپنے اپنے مقدمات اپنے رب کی عدالت میں پیش کریں گے اور اللہ تعالیٰ ظالم سے مظلوم کا حق دلوائیں گے وہ کافر ہو یا مومن۔ اور صورت اس ادائیگی حقوق کی وہ ہوگی جو صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے آئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے ذمہ کسی کا حق ہے اس کو چاہئے کہ دنیا ہی میں اس کو ادا یا معاف کرا کر حلال ہوجائے۔ کیونکہ آخرت میں درہم و دینار تو ہوں گے نہیں۔…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 30–31

(آیت 31-30) آنحضرت صلعم کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے وعید یہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے تہدید و وعید ہے کہ توحید اور شرک کا یہ قضیہ آج چھڑا ہوا ہے ایک دن خدا کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم بھی مرنے والے ہو اور یہ تمہارے مخالفین بھی ایک دن مریں گے پھر تم اور وہ دو فریقوں کی حیثیت سے خدا کی عدالت میں پیش ہوں گے۔ تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ان کو کیا بتایا اور سکھایا۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اس کا کیا جواب دیا۔ پھر حقیقی اور آخری فیصلہ وہاں ہوگا کہ کون حق پہ تھا اور کون ناحق پر مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی کٹ حجتی اور ہٹ دھرمی پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 30–31

31۔ 1 یعنی اے پیغمبر ! آپ بھی اور آپ کے مخالف بھی، سب موت سے ہمکنار ہو کر اس دنیا سے ہمارے پاس آخرت میں آئیں گے۔ دنیا میں تو توحید اور شرک کا فیصلہ تمہارے درمیان نہیں ہوسکا اور تم اس بارے میں جھگڑتے ہی رہے لیکن یہاں میں اس کا فیصلہ کروں گا اور مخلص موحدین کو جنت میں اور مشرکین و جاحدین اور مکذبین کو جہنم میں داخل کروں گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 29–41

13: جو غلام کئی آدمیوں کی مشترک ملکیت میں ہو، اور وہ کئی آدمی بھی آپس میں جھگڑتے رہتے ہوں، وہ ہمیشہ پریشانی کا شکار رہتا ہے کہ کس کا کہنا مانوں، اور کس کا نہ مانوں، اس کے برخلاف جو غلام کسی ایک ہی آقا کی ملکیت میں ہو، اسے یہ پریشانی پیش نہیں آتی، وہ یکسو ہو کر اپنے آقا کی اطاعت کرسکتا ہے۔ اسی طرح جو شخص توحید کا قائل ہے، وہ ہمیشہ یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے، اور اسی کی عبادت کرتا ہے، اس کے برخلاف جن لوگوں نے کئی کئی خدا گھڑ رکھے ہیں، وہ کبھی ایک جھوٹے دیوتا کا سہارا لیتے ہیں، کبھی دوسرے کا، اور انہیں یکسوئی میسر نہیں آتی۔ اس طرح یہ مثال توحید کی دلیل بھی ہے اور اس کی حکمت بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 30–31

درس نمبر 219 ایک نظر میں یہ سبق اس سے ماقبل کے تمام اسباق پر ایک تبصرہ ہے۔ آسمانوں سے پانی کے نزول کی نشانی بیان کرنے کے بعد مردہ زمین پر روئیدگی پیدا ہوکر فصل کاٹنے تک کی نشانی کے بعد ، اور اللہ کی جانب سے نازل ہونے والی اس کتاب کی نشانیوں کے بعد اور قرآنی امثال کے بیان کے بعد اور نبی ﷺ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ اکثر لوگ نہیں جانتے ، یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اب بعث بعد الموت کے بعد ہی اللہ تمام حقائق کا فیصلہ کر دے گا۔ لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو انکی تکذیب کا بدلہ مل جائے گا اور وہ اس کے مستحق ہوں گے۔ اور بچوں کو سچائی کا وہ صلہ مل جائے گا جس کے وہ مستحق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 30–31

8 یعنی جیسے مشرک اور موحد میں جو اختلاف ہے اس کا اثر قیامت کے دن علیٰ رؤس الاشہاد ظاہر ہوگا جس وقت پیغمبر اور امتی سب اکٹھے کیے جائیں گے اور کفار، انبیاء اور مومنین کے مقابلہ میں جھگڑے اور حجتیں نکالیں گے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " کافر منکر ہوں گے کہ ہم کو کسی نے حکم نہیں پہنچایا پھر فرشتوں کی گواہی اور زمین و آسمان کے ہاتھ کی گواہی سے ثابت ہوگا۔ " کہ اس ادعاء میں جھوٹے ہیں۔ اسی طرح دوسرے تمام جھگڑوں کا فیصلہ بھی اس دن پروردگار کے سامنے ہوگا۔ بہتر یہ ہی ہے کہ لفظ " اختصام " کو عام رکھا جائے تاکہ احادیث و آثار کے خلاف نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 31 { ثُمَّ اِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ } ”پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس آپس میں جھگڑو گے۔“ اس جھگڑے کی نوعیت کچھ یوں ہوگی کہ حضور ﷺ شہادت دیں گے کہ اے اللہ ! میں نے تیرا پیغام کما حقہ ان تک پہنچا دیا تھا۔ ممکن ہے وہاں ان میں سے کچھ لوگ انکار کریں کہ نہیں نہیں یہ بات ان تک نہیں پہنچی تھی اور بحث و تکرار کی نوبت آجائے۔ ابلاغِ رسالت کے بارے میں پیغمبروں کی گواہی اور متعلقہ امتوں کے افراد سے جواب طلبی کے حوالے سے سورة الاعراف کی یہ آیت بہت اہم ہے : { فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ } ”ہم ان سے بھی پوچھیں گے جن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

47 اللہ کے ہاں کس کس قسم کے لوگ آپس میں جھگڑا کریں گے ؟:۔ یہ جھگڑے بھی کئی قسم کے ہوں گے۔ مظلوم ظالم کو دامن سے پکڑے اللہ کے حضور پیش کرے گا اور اپنے ظلم کے بارے میں اللہ کے حضور دلائل پیش کرے گا۔ دوسری قسم یہ کہ کافر اور مشرک اپنے جرم کا انکار کردیں گے۔ پھر ان کے خلاف رسولوں کی اور ایمانداروں کی شہادتیں ہوں گی۔ پھر ان کے اپنے اعضاء بھی ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ تیسری قسم اہل حق اور اہل باطل یا موحدوں اور مشرکوں میں جھگڑوں کا فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کریں گے۔ چوتھی قسم مشرکین اور ان کے معبودوں یا بڑے لوگوں اور ان کے تابعداروں میں جھگڑا ہوگا۔ دونوں ایک دوسرے پر الزام دھریں گے۔ غرض کئی قسم کے جھگڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 30–31

43۔ (اور وہ دن عملی فیصلہ کے صدور وظہورکا ہوگا) یہاں رسول اللہ ﷺ کو تشفی دی ہے کہ آپ زیادہ غم وتردد کو راہ نہ دیں۔ آپ کو بھی دنیا سے گزر کر اپنے رب تک پہنچنا ہے اور ان منکرین کو بھی یہیں آنا ہے، یہ خود آکر اپنے کیے کو بھگت لیں گے۔ (آیت) ” انک میت “۔ خطاب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ہے۔ لیکن جو حکم یہاں بیان ہوا ہے وہ امت کے لیے بھی عام ہے۔ والضمیر فی انک خطاب للرسول وتدخل معہ امتہ فی ذلک (بحر) ضمنا موافق و مخالف، دوست، دشمن سب کو یہ تعلیم مل گئی کہ نبی مرسل غیر فانی وفنا پذیر ہی ہوتا ہے۔ (آیت) ” تختصمون “۔ یہ جھگڑنے والے اور استغاثہ لانے والے کون لوگ ہوں گے ؟ مومن و کافر بھی ہوں گے اور ظالم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–31

آیت نمبر 22 تا 31 ترجمہ : بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون پھر تم (سب اپنے مقدمات) اپنے رب کے سامنے پیش کرو گے (وہی تمہارا آخری فیصلہ کر دے گا) ۔ اِنَّکَ مَیِّتٌ ہر شخص کی موت یقینی ہے ‘ اسلئے بجائے فعل مضارع (تموت اور یموتون) کے صفت مشبہ کا صیغہ جو دوام و ثبوت پر دلالت کرتا ہے ‘ استعمال کیا (یعنی میت اور میتون فرمایا) فراء اور کسائی کی تحقیق ہے کہ مَیِّت اس شخص کو کہتے ہیں جو آئندہ مرنے والا ہو ‘ ابھی مرا نہ ہو اور مَیْت اس کو کہتے ہیں جس کی جان نکل چکی ہے ‘ اسلئے میّت اور میّتون بتشدید یؔ فرمایا۔ محلی نے لکھا ہے کہ کفار مکہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جلد وفات پاجائیں ‘ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ آپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 30–31

(30۔ 31) اور آپ ان کی باتوں پر غم نہ کریں عنقریب آپ کو بھی لوٹ کر جانا ہے اور ان کفار مکہ کو بھی، پھر قیامت کے دن تم حجت و دلیل کے ساتھ اپنے اپنے مقدمات اپنے رب کے سامنے پیش کرو گے یعنی حضرت نبی اکرم اور کفار مکہ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۔ : اس سے پہلی اور بعد میں آنے والی آیات کے مطابق اس جھگڑے سے مراد مشرکین اور رسول اللہ ﷺ کا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جھگڑا ہے، جب رسول اللہ ﷺ اپنا مقدمہ پیش کریں گے کہ یا اللہ ! میں نے ان لوگوں کو تیرا پیغام پہنچایا مگر انھوں نے مجھے جھٹلا دیا۔ (دیکھیے فرقان : 30) اور مشرکین قسمیں کھا کر دنیا میں اپنے مشرک ہونے کا انکار کردیں گے، وہ کہیں گے : (وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ) [ الأنعام : 23 ] ”اللہ کی قسم ! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔“ پھر فیصلہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوگا جو ان پر نبی کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–31

30 ۔ 31:۔۔ بیشک آپ نے بھی دنیا سے انتقال فرما نا ہے اور انہوں نے بھی مرنا ہے، پھر تم سب روز حشر اپنے رب کے حضور میں آ پس میں جھگڑئو گے ابن محیصن، ابن ابی عبلہ، عیسیٰ بن ابی اسحاق نے اسے انک ما ئت وا نھم مائتن پڑ ھا ہے یہ اچھی قراءت ہے، حضرت عبد زبیر نے بھی یہی قراءت کی ہے اس قسم کا الف شاز قراءتوں میں حزف کردیا جاتا ہے۔ انہ لما را اض من ھذا الطعا م۔ حضرت حسن بصر ی، فراء اور کسائی نے میت پڑھا ہے یہ لم یمت و سیموت سے مشتق ہے المیت جب تخفیف کے ساتھ پڑھیں اس سے مراد وہ شخص جس سے روح الگ ہوجائے اسی وجہ یہاں اس میں تخفیف نہیں کی گئی۔ قتا دہ نے کہا ؛ نبی کر یم ﷺ کو آپ کی ذات اور تمہیں تمہاری ذا توں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 30–31

1:۔ عبد بن حمید (رح) و نسائی (رح) وابن ابی حاتم (رح) و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) ابن مردویہ (رح) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک زمانہ تک رہے اور ہم یہ گمان کرتے رہے تھے کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی اور جو اہل کتاب ہم سے پہلے گزرے ہیں ان کے بارے میں بھی (آیت) ” انک میت وانہم میتون (30) ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون “ (بلاشبہ آپ کو بھی مرنا ہے اور ان کو بھی مرنا ہے پھر تم سب قیامت کے دن جھگڑو گے اپنے مقدمات پیش کروگے) ہم اپنے بارے میں کہا کرتے تھے کہ ہم کس طرح آپس میں جھگڑیں گے حالانکہ ہمارا نبی ایک ہے اور ہماری کتاب ایک ہے ؟ یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ہمارا بعض، بعض کے چہروں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ اِنَّكُمْ [پھر یقینا تم لوگ ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ [قیامت کے دن ] عِنْدَ رَبِّكُمْ [اپنے رب کے پاس ] تَخْتَصِمُوْنَ [جھگڑو کے ] ۔ نوٹ۔ 4: حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہاں آیت 31 لفظ اِنَّکُمْ میں مومن وکافر اور مسلمان ظالم ومظلوم سب داخل ہیں۔ یہ سب اپنے اپنے مقدمات اپنے رب کی عدالت میں پیش کریں گے اور اللہ تعالیٰ ظالم سے مظلوم کا حق دلوائیں گے، وہ کافر ہو یا مومن۔ اور اس ادائیگی حقوق کی صورت یہ ہوگی کہ اگر ظالم کے پاس کچھ اعمال صالحہ ہیں تو بمقدارِ ظلم یہ اعمال اس سے لے کر مظلوم کو دے دیئے جائیں گے اور اس کے پاس حسنات نہیں ہیں تو مظلوم کے گناہوں کو اس سے لے کر ظالم پر ڈال دیا جائے گا۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قیامت کے دن ادعاء اور اختصام (ثُمَّ اِِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ ) (پھر یقینی بات ہے کہ قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس پیش ہو کر مدعی اور مدعی علیہ بنو گے) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ عرصہ دراز تک ہم اس آیت کو پڑھتے رہے لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہم میں جھگڑے کیوں ہوں گے جبکہ ہماری کتاب ایک ہے، قبلہ ایک ہے، حرم ایک ہے نبی ﷺ ایک ہے۔ پھر جب ہم میں آپس میں قتل و قتال ہوا تو سمجھ میں آگیا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (در منثور، از مستدرک حاکم) حضرت ابو سعید خدری ؓ نے فرمایا کہ جب جنگ صفین کے موقعہ پر ہم آپس میں ایک دوسرے پر حملہ آور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–31

تمثیل حق و باطل وفرق درمیان عبد مومن ومطیع وبندۂ مشرک وعاصی : (ربط) گذشتہ آیات میں یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ جس کسی کا دل اللہ نے ایمان کے لئے کھول دیا وہ ہدایت وسعادت کی روشنی پر ہے تو ایسا شخص جس کو نور ہدایت حاصل ہوچکا وہ اس بدنصیب انسان کی طرح نہیں ہوسکتا جو کفر وگمراہی کی تاریکیوں میں مبتلا ہے اب ان آیات میں حق و باطل کی تمثیل اور مومن و مشرک کے فرق کو ایک حسی مثال میں پیش کیا جارہا ہے اور یہ بیان کیا جارہا ہے ان حقائق کو سمجھانے میں قرآن کریم نے تو کوئی کمی نہیں کی دلیلوں سے سمجھا دیا مثالوں سے واضح کردیا اس کے بعد بھی اگر کوئی نہ سمجھے اور نہ مانے تو یہ اس کی حماقت و غفلت ہے قرآن کے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–31

33:۔ ” انک میت الخ “ یہ شبہ مقدرہ کا جواب ہے۔ شبہ یہ تھا مشرکین کہتے تھے جب تک یہ زندہ ہیں اس وقت تک تو یہ ہمارا اور ہمارے معبودوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ ہاں البتہ موت ہی اس سے ہمیں خلاصی دلا سکتی ہے۔ جب یہ مرجائے گا تو قصہ پاک ہوجائے گا۔ جیسا کہ دوسری ان کا قول اس طرح نقل کیا گیا ہے ” ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون “ (طور رکوع 2) ۔ جواب میں ارشاد فرمایا موت سے سے کسی مفر نہیں۔ اگر وہ آپ کیلئے موت کے منتظر ہیں تو وہ خود کب تک زندہ رہیں گے۔ جس طرح آپ موت سے دو چار ہونے والے ہیں اسی طرح وہ بھی لقمہ اجل بننے والے ہیں۔ پھر قیامت کے دن تم خدا کے سامنے جھگڑا کرو گے۔ مشرکین کہیں گے۔ ” ماجاءنا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–31

ربط آیات : شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایمانداروں کے انجام اور ان کو ملنے والے انعام واکرام کا ذکر فرمایا ، نیز مختصر طور پر مشرکوں اور کافروں کی سزا کو بیان فرمایا کہ یہ لوگ دنیا میں بھی ذلت ورسوائی کا سامنا کریں گے اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہوگا ، فرمایا یہ لوگ محض غفلت اور بیوقوفی کی بناء پر ایمان اور وحدانیت کا انکار کرتے ہیں وگرنہ اللہ تعالیٰ نے تو قرآن کریم نازل فرما کر ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں مختلف قسم کی مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں ، اگر اب بھی یہ لوگ نہیں مانتے تو یہ ان کی اپنی حماقت ہے قرآن نے تو توحید کے اثبات اور شرک کی تردید کو مثالوں کے ذریعے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُوْنَ۝ 31ۧ قِيامَةُ والقِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، القیامتہ سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–31

ترکیب : قراناً حال مؤکدۃ من ھذا و تسمی حالاً موطئۃ لان الحال فی الاصل ھو عرب یا و قرانا تو طئۃ لہ نحو جاءنی زید رجلا صالحا ھذا قول الاخفش ویمکن ان ینتصب علی المدح رجلاقال الکسائی منصوب لکونہ تفسیر المثل وقیل منصوب بنزع الخافض ای ضرب اللہ مثلاً برجل وقیل رجلا مفعول اول و مثلا مفعول ثان فیہ شرکاء الجملۃ صفتہ لرجل، و فی تتعلق بمتشاکسون سلما بفتح السین و کسرھا وسالما مصدر وصف بہ للمبالغۃ والتشاکس التخالف۔ تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ قاسی القلب لوگوں کے عذاب آخرت کی کیفیت بیان فرما چکا تو دنیا میں بھی ان پر عذاب نازل ہونے کی کیفیت بیان فرماتا ہے۔ فقال کذب الذین کہ ان سے پہلے لوگوں نے جو بڑے سخت دل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 30–31

اِنَّـکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ ۔ ثُمَّ اِنَّـکُمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ ۔ (الزمر : 30، 31) (اے پیغمبر ! بیشک آپ بھی مرنے والے ہیں اور یقینا وہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔ پھر تم لوگ قیامت کے دن اپنے رب کے حضور اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔ ) مَیِّتٌ ” یا “ کی تشدید کے ساتھ، اس کو کہتے ہیں جو زمانہ مستقبل میں مرنے والا ہو اور مَیْت ” یا “ کے سکون کے ساتھ اس کو کہتے ہیں جو مرچکا ہو۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو تنبیہ اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی ہے اور مخالفین کے لیے تہدید اور تنبیہ ہے۔ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمایا جارہا ہے کہ آپ جس طرح نہایت سادہ اور عام فہم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 30–31

فہم القرآن ربط کلام : بےعلمی کی انتہا اور اس کے برے نتائج۔ مکہ کے ابتدائی سالوں کی بات ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ قرآن مجید کے دلائل اور اس میں دی جانے والی امثال کے ذریعے توحید و رسالت اور آخرت کا عقیدہ بیان فرماتے تو مکہ کے بڑے بڑے لوگ لاجواب ہوجاتے لیکن عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کہتے کہ محمد ﷺ کی خود ساختہ دعوت از خود ختم ہوجائے گی تھوڑے سے انتظار کی ضرورت ہے اس کے مرنے کے بعد اس کا قصہ بالکل پاک ہوجائے گا۔ نہ اس کا بیٹا ہے جو اس کے مشن کو جاری رکھ سکے اور نہ اس کے ساتھی اتنے زیادہ ہیں جو ہمارا مقابلہ کرسکیں۔ اس موقعہ پر انہیں یہ جواب دیا گیا کہ ان کا کہنا ہے کہ آپ ﷺ کو موت آجائے گی۔ کیا آپ کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ایک دوسرے کے خلاف دلیل پیش کریں گے : 31: ثُمَّ اِنَّکُمْ (پھر تم) یعنی تم اور وہ۔ اصل کلام انک وایاھم تھا پھر ضمیر مخاطب کو غیب پر غلبہ دیا۔ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ عِنْدَ رَبِّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ (قیامت کے دن تم اپنے مقدمات اپنے رب کے سامنے پیش کروگے) پھر آپ ان کے خلاف دلیل پیش کریں گے کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا اور انہوں نے جھٹلا دیا۔ اور آپ نے دعوت دینے میں خوب کوشش کی مگر انہوں نے عناد کے سمندر میں غوطے لگائے۔ وہ معذرت پیش کریں گے مگر اس کا فائدہ نہ ہوگا۔ پیروکار کہیں گے ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی بات مانی سرداروں کا جواب ! ہمیں شیاطین نے اغواء کیا اور ہمارے آباء و اجداد کو بھی۔ صحابہ کرام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیات کا شان نزول 31، ثم انکم یوم القیامۃ عند ربکم تختصمون، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی حق اور باطل اور ظالم ومظلوم۔ حضرت زبیربن العوام ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت، لم انکم یوم القیامۃ عند ربکم تختصمون ، نازل ہوئی تو حضرت زبیر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم پر ہمارے دنیا کے خاص گناہ دوبارہ لوٹائے جائیں گے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ جی ہاں وہ تم پر لوٹائے جائیں گے حتی کہ ہر حق والے کو اس کا حق اداکردیاجائے گا تو حضرت زبیر ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم ! بیشک یہ معاملہ بہت سخت ہے اور ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک لمبا عرصہ زندہ رہے اور ہم یہ خیال کرتے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–31

29۔ 31 شرک کی برائی اور توحید کی خوبی کی جس طرح ایک مثال اوپر گزری اس طرح کی یہ دوسری مثال ہے عرب میں غلاموں کا بہت دستور ہے۔ اس دستور کے موافق کسی غلام کا ایک آقا ہے اور کسی کے کئی آقا ہیں۔ پچھلی صورت میں آقا تو جدا جھگڑے رہتے ہیں مثلاً کوئی غلام کو بازار میں بھیج کر خریدو فروخت کی خدمت چاہتا ہے اور کوئی غلام سے گھر کا کام لینا چاہتا ہے غلام جدا کش مکش میں رہتا ہے کہ ایک آقا کی خدمت کرے تو دوسرا ناراض ہوجاتا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں 1 ؎ کہ یہ مثال مشرک اور صاحب توحید کے باب میں ہے کہ کیونکہ جو شخص ایک آقا کا غلام ہے اس کا آقا اس کی خبر گیری کرتا ہے اور وہ اپنے آقا کی دل سے خدمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–31

آیت 27 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیا کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے (لعلھم یتذکرون) ” تاکہ وہ نصیحت پکڑیں “ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد ان پر عمل کریں۔ (آیت) ” یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لئے بہت سہل ہے (غیر ذی عرج) یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

69 سب کی حاضری رب کی عدالت میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر تم سب قیامت کے روز اپنے رب کے پاس اپنے جھگڑے پیش کرو گے "۔ اور وہاں تمہارے اختلافات کا عملی طور پر اور آخری فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق پا کر رہے گا۔ سو اس میں پیغمبر کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور مخالفین کیلئے تہدید و تنبیہ کہ توحید و شرک کے جس مسئلے میں آج تم لوگ اختلاف کر رہے ہو کل قیامت کے روز تمہیں اپنے رب کے حضور حاضر ہو کر اس کی جوابدہی کرنا پڑیگی۔ اور وہاں تم لوگوں کے سب اختلافات کا آخری، حقیقی اور عملی فیصلہ کردیا جائے گا۔ اور وہاں پر ہر کسی کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 29–31

مومن اور کافر کی مثال تشریح : یہاں اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی بات کو بڑے آسان اور عام فہم الفاظ میں یوں بیان کردیا ہے کہ اگر کوئی جاہل سے جاہل بندہ بھی اس پر غور کرے گا تو توحید کے نور سے منور ہوئے بغیر نہ رہ سکے گا۔ کتنی پیاری مثال ہے سب سے پہلے یہ یقین کرلیں کہ ہم اللہ کے ” عبد “ یعنی غلام ہیں۔ ہم اپنے آپ کو اس غلامی سے ہرگز آزاد نہیں رکھ سکتے اور دوسری بات یہ ہے کہ ہمارا آقا انتہائی مہربان، بہت قریب، مشفق، رہنمائی کر کے مشکلات سے بچانے والا اور ماں کی شفقت اور محبت سے کئی گنا زیادہ ہم سے محبت کرنے والا ہے۔ ہماری دعاؤں کو قبول کرنا۔ تکلیفیں دور کرنا، اونچ نیچ سے آگاہ کرنا ہماری تکلیفیں دور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–31

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31: اسرار و معارف : اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 یعنی آپ ﷺ ان کافروں سے جھگڑیں گے کہ آپ ﷺ نے ان تک ہمارا پیغام پہنچا دیا تھا اور یہ آپ ﷺ سے جھگڑا کریں گے۔ اسی طرح مومن کافر سے۔ پھر اللہ تعالیٰ سب کے درمیان حق و انصاف سے فیصلہ فرمائے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے :” کافر منکر ہونگے کہ ہم کو کسی نے حکم نہیں پہنچایا، پھر فرشتوں کی گواہی سے اور آسمان و زمین کی اور ہاتھ پائوں کی گواہی سے ثابت ہوگا “۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:31) انکم ۔ یعنی آپ اور کفار مکہ۔ یا سب لوگ۔ یوم القیمۃ۔ بوجہ ظرف منصوب ہے۔ تختصمون کا مفعول فیہ ہے۔ تختصمون۔ مجارع جمع مذکر حاضر۔ اختصام (افتعال) مصدر سے۔ تم جھگڑا کرو گے۔ یعنی اپنا اپنا مقدمہ (اپنے رب کے سامنے) پیش کرو گے۔ یہ جھگڑنے والے اور استغاثہ پیش کرنے والے کون لوگ ہوں گے ؟ مومن و کافر بھی ۔ اور ظالم و مظلوم بھی۔ یعنی تخاصم الکافر والمؤمن والظالم والمظلوم۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–31

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 31 :۔ ذوقوا ( چکھو) اذاق ( اس نے چکھایا) الخزی (رسوائی ، ذلت) عوج ( کجی ، ٹیڑھ پن) متشکسون (بد اخلاق لوگ) میت (مرنا) تختصمون (تم جھگڑو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 31 :۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین جن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا فرمایا ہے کیا وہ قیامت کے دن اپنے چہروں کو اس آگ سے بچا سکیں گے جو ان کو جھلس کر رکھ دے گی جب ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب وہ اپنے کئے ہوئے برے اعمال کا مزہ چکھیں ۔ فرمایا جائے گا کہ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اس طرح اچانک عذاب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) انبیاء (علیہ السلام) امت پر حجت قائم کریں گے کہ انہوں نے رسالت کی تبلیغ کی اور دین کی دعوت دینے میں جہد بلیغ صرف فرمائی اور کافر بےفائدہ معذرتیں پیش کریں گے یہ بھی کہا گیا کہ مراد اختصام عام ہے کہ لوگ دنیوی حق میں مخاصمہ کریں گے اور ہر ایک اپنا حق طلب کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[21] یعنی تم اور وہ، دو فریقوں کی حیثیت سے اللہ کی عدالت میں پیش ہوں گے۔ تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے ان کو کیا بتایا اور سکھایا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے کیا جواب دیا۔ پھر اس وقت عملی فیصلہ ہوگا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 30–31

ف 3: یعنی جہاں تک موت کا تعلق ہے ۔ وہ سب کے لئے مقدرات میں سے ہے ۔ آپ بھی باوجود اس جلالت قدر کے اس سے دوچار ہونگے ۔ اور یہ عظمائے قریش بھی ۔ پھر قیامت میں یہ فیصلہ ہوگا ۔ کہ کون حق پر تھا ۔ اور کون باطل پر ۔ حل لغات :۔ مثل ۔ انداز بیان ۔ مراد عمدہ مضامین عوج ۔ کجی متشابصون ۔ باہم دست وگریباں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(31) پھر تو قیامت کے دن اپنے پروردگار کے پاس اپنا اپنا معاملہ پیش کرو گے اور اس کے روبرو آپس میں جھگڑو گے۔ یعنی تمام معاملات خواہ وہ مسلمانوں کے ہوں یا پیغمبروں اور ان کی امتوں کے ہوں وہاں پیش ہوں گے اور پھر وہاں عملی فیصلہ ہوجائے گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر منکر ہوں گے ہم کو کسی نے حکم نہیں پہنچایا پھر فرشتوں کی گواہی سے اور آسمان و زمین کی اور ہاتھ پائوں کی گواہی سے ثابت ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ اسی اختصام کے وقت فیصلہ یہ ہوگا کہ ناحق پرستوں کو عذاب جحیم نصیب ہوگا، اور حق پرستوں کو اجر عظیم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آخر کار تم سب کو اللہ کے حضور جمع ہونا ہے اور اپنا اپنے مقدمہ بھی پیش کرنا ہے 31۔ قیامت کا آنا لازم ہے اور پھر تم سب کو اپنے رب کے حضور پیش ہونا بھی ضروری ہے تمہارے ان سارے جھگڑوں کا فیصلہ کردیا جائے گا اور اس وقت حق اور باطل کھل کر سامنے آجائے گا اس وقت وہ حق کو حق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اس لیے کہ جو اختیار ہم نے ان کو دیا ہے اسی اختیار کے باعث وہ ایسا کر رہے ہیں اور یہ ہمارا دیا ہوا اختیار ہی دراصل ان لوگوں کی آزمائش ہے اور آزمائش میں فیل ہونے والوں کا انجام کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے آج نہیں تو کل یقینا واضح ہوجائے گا اور اسی عبارت پر قرآن کریم کے پاروں کی تقسیم میں سے تیسواں پارہ ختم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Justice in the court of Resurrection: The form in which the right of the oppressed will be retrieved from the oppressor. In verse 31, it was said: ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِندَ رَ‌بِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ (After that, on the Day of Doom, you will surely place your disputes before your Lord). Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ says that the word:إِنَّكُمْ (innakum: surely you...) at this place includes - believers, disbelievers, Muslims - all of them, oppressor or oppressed. All of them will submit their cases in the court of their Lord, and He will have the right of the oppressed paid back by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 30–32

51 There is a subtle gap between the preceding sentence and this, which can be filled by every intelligent person himself by a little consideration of the context. It contains this theme: "You are making every effort to make the people understand a simple thing in a simple way, but they are not only showing stubbornness with regard to what you say and rejecting it but are also bent upon harming you in order to suppress the manifest truth. Well, neither you are immortal nor they : both you and they have to die one day: then, each of you will experience his own end."

Read the full tafseer →