قرآن حکیم کی تاثیر۔
اللہ تعالیٰ اپنی اس کتاب قرآن کریم کی تعریف میں فرماتا ہے کہ اس بہترین کتاب کو اس نے نازل فرمایا ہے جو سب کی سب متشابہ ہیں اور جس کی آیتیں مکرر ہیں تاکہ فہم سے قریب تر ہوجائے۔ ایک آیت دوسری کے مشابہ اور ایک حرف دوسرے سے ملتا جلتا۔ اس سورت کی آیتیں اس سورت سے اور اس کی اس سے ملی جلی۔ ایک ایک ذکر کئی کئی جگہ اور پھر بےاختلاف بعض آیتیں ایک ہی بیان میں بعض میں جو مذکور ہے اس کی ضد کا ذکر بھی انہیں کے ساتھ ہے مثلاً مومنوں کے ذکر کے ساتھ ہی کافروں کا ذکر جنت کے ساتھ ہی دوزخ کا بیان وغیرہ۔ دیکھئے ابرار کے ذکر کے ساتھ ہی فجار کا بیان ہے۔ سجین کے ساتھ ہی علیین کا بیان ہے۔ متقین کے…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 43
یعنی ان میں کوئی تضاد اور اختلاف نہیں ہے۔ پوری کتاب اول سے لے کر آخر تک ایک ہی مدعا، ایک ہی عقیدہ اور ایک ہی نظام فکر و عمل پیش کرتی ہے۔ اس کا ہر جز دوسرے جز کی اور ہر مضمون دوسرے مضمون کی تصدیق و تائید اور توضیح و تشریح کرتا ہے۔ اور معنی وبیان دونوں کے لحاظ سے اس میں کامل یکسانی (Consistency) پائی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ کے مقبول بندوں کا یہ حال ذکر کیا گیا تھا کہ (آیت) یستمعون القول فیتبعون احسنہ، اس آیت میں بتلا دیا کہ پورا قرآن ہی احسن الحدیث ہے۔ حدیث کے لفظی معنی اس کلام یا قصے کے ہیں جو بیان کیا جاتا ہے۔ قرآن کو احسن الحدیث فرمانے کا حاصل یہ ہے کہ انسان جو کچھ کہتا بولتا ہے اس سب میں احسن الکلام قرآن ہے۔ آگے قرآن کی چند صفات ذکر فرمائی ہیں۔ ایک کتاباً متشابہاً۔ متشابہ سے مراد اس جگہ متماثل ہے۔ یعنی مضامین قرآنیہ ایک دوسرے سے مربوط اور مماثل ہیں کہ ایک آیت کی تشریح و تصدیق دوسری آیت سے ہوجاتی ہے۔ اس کلام…
Read the full tafseer →آیت 23
قرآن کی صفت اور اس کی تاثیر
کتبا متابھا قرآن کی صفت ہے اس لئے کہ اس کا ہر جزو ایک دوسرے سے مشابہ اور ہم آہنگ و ہم رنگ ہے اس کو جہاں سے بھی کھول کر پڑھیے اس کی تمام بنیادی تعلیمات آپ کے ذہن میں تازہ ہوجائیں گی۔ اس کے ہر گروپ بلکہ ہر سورة کا رنگ اور اسلوب بیان الگ الگ ہے۔ عمود بھی مختلف ہیں لیکن اس اختلاف کے ساتھ ساتھ اس میں ایسی ہمہ گیر وحدت ہے کہ آپ جہاں سے بھی دیکھیں گے قرآن کا اصلی جمال آپ کی نگاہ کے سامنے آجائے گا۔ ہم نے سورتوں کے مختلف گروپوں کی جو تفسیر پیش کی ہے اس پر ایک نظر ڈالنے سے ہمارے اس دعوے کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ قرآن کا اس شکل میں نازل ہونا تعلیم کے پہلو سے اپنے اندر ایک…
Read the full tafseer →23۔ 1 اَحْسَنُ الْحَدِیْثِ سے مراد قرآن مجید ہے، ملتی جلتی کا مطلب، اس کے سارے حصے حسن کلام، اعجاز و بلاغت صحت معانی وغیرہ خوبیوں میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یا یہ بھی سابقہ کتب آسمانی سے ملتا ہے یعنی ان کے مشابہ ہے مثانی، جس میں قصص و واقعات اور مواعظ و احکام کو بار بار دہرایا گیا ہے۔
23۔ 2 کیونکہ وہ ان وعیدوں کو اور تخویف و تہدید کو سمجھتے ہیں جو نافرمانوں کے لئے اس میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آسمان سے پانی پہاڑوں پر برستا ہے، پھر وہاں سے پگھل پگھل کر دریاؤں اور ندیوں کی شکل اختیار کرتا ہے، اور زمین کی تہہ میں سوتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے شروع میں پانی پیدا کیا، اور اسے آسمان سے اتار کر براہ راست زمین کے سوتوں تک پہنچا دیا (روح المعانی)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت نمبر 22 تا 23
جس طرح آسمانوں سے پانی نازل ہوتا ہے ، زمین سے نباتات اگتے ہیں اور ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے ذکر اور نصیحت نازل ہوتی ہے۔ اس ذکر اسے بھی زندہ دل فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان دنوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اچھے کاموں کے لئے بڑھتے ہیں۔ اور جس طرح آسمانوں کی بارش پتھروں پر فصل نہیں اگاتی۔ اسی طرح
سنگدل لوگوں پر ذکر آسمانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ان میں کارخیر کی روئیدگی ہوتی ہے اور نہ فکر خیر کی روئیدگی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اسلام کے لیے ایسے دلوں کے اندر شرح صدر پیدا کردیتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں ہوتا ہے کہ ان کے اندر خیر ہے۔ ان تک…
Read the full tafseer →9 یعنی دنیا میں کوئی بات اس کتاب کی باتوں سے بہتر نہیں۔
10 یعنی صحیح، صادق، مضبوط، نافع، معقول اور فصیح وبلیغ ہونے میں کوئی آیت کم نہیں۔ ایک دوسری سے ملتی جلتی ہے، مضامین میں کوئی اختلاف و تعارض نہیں۔ بلکہ بہت سی آیات کے مضامین ایسے متشابہ واقع ہوئے ہیں کہ ایک آیت کو دوسری کی طرف لوٹانے سے صحیح تفسیر معلوم ہوجاتی ہے۔ القراٰن یفسر بعضہ بعضًا اور " مثانی " یعنی دہرائی ہوئی کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے احکام اور مواعظ و قصص کو مختلف پیرایوں میں دہرایا گیا ہے تاکہ اچھی طرح دلنشین ہوجائیں۔ نیز تلاوت میں بار بار آیتیں دہرائی جاتی ہیں۔ اور بعض علماء نے " متشابہ " و " مثانی " کا مطلب یہ لیا ہے کہ بعض آیات…
Read the full tafseer →آیت 23 { اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰـبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ } ”اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے کتاب کی صورت میں ‘ جس کے مضامین باہم مشابہ ہیں اور بار بار دہرائے گئے ہیں“
ہمارے ہاں لوگ عام طور پر لفظ ”حدیث“ کے صرف ایک ہی مفہوم سے آشنا ہیں جو کہ اس لفظ کا اصطلاحی مفہوم ہے ‘ یعنی فرمانِ رسول ﷺ کو اصطلاحاً حدیث کہا جاتا ہے۔ جبکہ اس لفظ کے لغوی معنی بات یا کلام کے ہیں اور قرآن میں لفظ ”حدیث“ اسی مفہوم میں آیا ہے۔ جیسے سورة المرسلات میں فرمایا گیا : { فَبِاَیِّ حَدِیْثٍم بَعْدَہٗ یُؤْمِنُوْنَ۔ } کہ اس قرآن کے بعد اب یہ لوگ بھلا اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟ چناچہ آیت زیر…
Read the full tafseer →36 قرآن بہترین کلام کیسے ہے ؟:۔ قرآن بہترین کلام اس لحاظ سے ہے کہ اس کی آیات ٹھوس حقائق پر مبنی ہیں۔ اس کا انداز بیان دلنشین ہے۔ اس کے دلائل عام فہم ہیں۔ جن سے ایک دیہاتی بھی ایسے ہی مستفید ہوسکتا ہے جیسے ایک جید عالم، اور اس کے احکام و فرامین دنیا میں بہترین زندگی گزارنے کا راستہ بتاتے ہیں۔ نیز اس کے احکام محض نظریاتی نہیں بلکہ سب قابل عمل ہیں اور اگر ان پر عمل کیا جائے تو اخروی فلاح کے ضامن ہیں۔ اور یہ سب خوبیاں اللہ کے کلام کے علاوہ دوسرے کسی کے کلام میں نہیں ہوسکتیں۔
37 ملتی جلتی آیات سے مراد ؟ یعنی قرآن میں ایک مضمون اگر بیس مقامات پر آیا ہے تو بھی اس میں اختلاف اور تضاد واقع نہیں ہوتا۔…
Read the full tafseer →34۔ (آیت) ” اللہ نزل احسن الحدیث “۔ اس میں اس دعوے کا اثبات ہے کہ قرآن مجید بہترین کلام ہے کوئی دوسرا کلام اس کی ٹکر کا نہیں، نہ باعتبار لفظ و عبارت، نہ بلحاظ معنی ومفہوم۔ (آیت) ” کتبا “۔ اس کلام کا نزول گوبتدریج کہیں 22۔ 23 سال میں ہوا، تاہم اس پر اطلاق ایک کتاب ہی کا رہا۔ (آیت) ” متشابہا “۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت، اجر، برکت معنویت کے لحاظ سے یہ کلام شروع سے آخر تک یک رنگ اور آپس میں ہم رنگ ہے۔ (آیت) ” مثانی “۔ اس کے اندر احکام واخبار، مسائل و حکایات بار بار تکرار کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں کہ کسی کو عذر قصور فہم وسمع کا نہ رہے۔
35۔ یعنی وہ کتاب اللہ پر عمل کرنے لگتے ہیں اور اعمال قلب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے…
Read the full tafseer →اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا مثانی اللہ ہی نے سب سے اچھا کلام نازل فرمایا جو ایسی کتاب ہے
کہ باہم ملتی جلتی ہے ہے ‘ بار بار دہرائی گئی ہے۔
اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ یہ آیت تائید ہے آیت اِنَّآ اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الْکِتٰبَ کی ‘ اور درمیان میں تمام جملے معترضہ ہیں۔ نَزَّلَ سے پہلے اللّٰہُ کہنے کے تین فائدے ہیں : (1) اللہ کی طرف قرآن نازل کرنے کی نسبت پختہ ہوگئی (2) نازل شدہ قرآن کی عظمت شان کا اظہار ہوگیا (کہ یہ اللہ ہی کا بھیجا ہوا کلام ہے) (3) قرآن کے احسن ہونے کی شہادت دے دی گئی (کہ اللہ ہی نے اس کلام کو اتارا اور اس کے احسن الحدیث ہونے کی شہادت دی ہے) ۔
مُتَشَابِھًا یہ…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام یعنی قرآن حکیم نازل فرمایا کہ اس کے مضامین ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتے ہیں یعنی وعدہ کامیابی رحمت و مغفرت عفو کی آیتیں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں اور اسی وعید عذاب کے خوف میں یہ آیات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اور یہ آیات بار بار دہرائی گئی ہیں اور دوہری ہیں کہ رحمت و عذاب وعدہ وعید امر و نہی ناسخ و منسوخ یا یہ کہ مکرر ہیں۔
کہ آیات عذاب و وعید سے ان لوگوں کے بدن جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں کانپ اٹھتے ہیں اور پھر ان کے بدن آیات رحمت سے نرم ہو کر اور ان کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ یہ قرآن بیان خداوندی ہے جس کو چاہتا ہے اس کے ذریعے سے اپنے دین کی…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ۔۔ :”نَزَّلَ“ کے مفہوم میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کرنا پایا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا) [ بني إسرائیل : 106 ] ”اور عظیم قرآن، ہم نے اس کو جدا جدا کرکے (نازل) کیا، تاکہ تو اسے لوگوں پر ٹھہر ٹھہر کر پڑھے اور ہم نے اسے نازل کیا، (تھوڑا تھوڑا) نازل کرنا۔“ ”اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ“ سے مراد اللہ کا کلام ہے، کیونکہ مخلوق کا کلام کبھی بھی خالق کے کلام جیسے حسن والا نہیں ہوسکتا اور نہ مخلوق اس کی مثال پیش کرسکتی ہے۔ (دیکھیے سورة بقرہ : 23، 24) الحدیث۔ کا معنی ”نئی“ ہے، چونکہ بات…
Read the full tafseer →اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 احسن الہدیث سے مراد قرآن حکیم (1) جب یہ ارشاد فرمایا : فیتبعون احسنہ تو اس امر کی وضاحت کی کہ جس کو سنا جاتا ہے اسمیں سے سب سے بہترین چیز وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے وہ قرآن ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرائم نے عرضہ کی : کاش ! اپ ہمارے سامنے بیان فرماتے تو اللہ تعالیٰ نے اسے نازل کیا (1) اللہ لزل احسن الحدیث صحابہ کرائم نے عرضی ’ کاش ! آپ ہمیں نصیحت کرتے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا : الھم یان لذین امنو ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ) الحدید (16:
حضرب ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرائم اکتاہٹ کا شکار ہوئے تو انہوں نے عرضی…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ ہم کو بیان فرماتے (تو کیا اچھا تھا) تو یہ (آیت ) ” اللہ نزل احسن الحدیث “ نازل ہوئی۔
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اللہ نزل احسن الحدیث کتبا متشابھا مثانی “ (اور آپ نے سب سے اچھاکلام نازل فرمایا جو ایسی کتاب ہے کہ باہم ملتی جلتی ہے بار بار دہرائی گئی ہے) سے مراد ہے کہ یہ قرآن سارے کا سارا ایسا ہے جو بار بار دہرایا جاتا ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” مثانی “ سے مراد ہے قرآن ایسا ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض سے مشابہ ہے اور اس کا بعض حصہ بعض کی…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ نَزَّلَ [اللہ نے بتدریج اتارا ] اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ [کلام کے بہترین کو ] كِتٰبًا [جو ایک ایسی کتاب ہے ] مُّتَشَابِهًا [(جس کے اجزاء) باہم ملتے چلتے ہیں ] مَّثَانِيَ ڰ [(جس کے مضامین ) دہرائے گئے ہیں ] تَــقْشَعِرُّ مِنْهُ [لرز اٹھتی ہیں اس سے ] جُلُوْدُ الَّذِيْنَ [ان کی کھالیں جو ] يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۚ [ڈرتے ہیں اپنے رب سے ] ثُمَّ تَلِيْنُ [پھر نرم پڑتی ہیں ] جُلُوْدُهُمْ [ان کی کھالیں ] وَقُلُوْبُهُمْ [اور ان کے دل ] اِلٰى ذِكْرِاللّٰهِ ۭ [اللہ کی یاد کی طرف ] ذٰلِكَ [یہ (بہترین کلام)] هُدَى اللّٰهِ [اللہ کی ہدایت ہے ] يَهْدِيْ بِهٖ [وہ ہدایت دیتا ہے اس کے ذریعہ ] مَنْ يَّشَاۗءُ…
Read the full tafseer →مُتَشَابِھاً مَّثَانِیَ کی تشریح
اس کے بعد قرآن مجید کی فضیلت بیان فرمائی، ارشاد فرمایا کہ اللہ نے سب سے اچھا کلام نازل کیا پھر اس کی ایک صفت (کِتٰبًا مُتَشَابِہًا) اور دوسری صفت مَثَانِیَ بیان فرمائی (مُتَشَابِہَا) کا مطلب یہ ہے کہ لفظی اعتبار سے فصیح بلیغ بھی ہے اور معجزہ بھی ہے اور معنوی اعتبار سے اس کے مضامین آپس میں مشابہ ہیں اور آیات آپس میں ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں۔ سب میں عقائد صحیحہ بیان کیے ہیں توحید و رسالت کے اقرار اور آخرت پر ایمان لانے کی دعوت دیتے ہیں مَثَانِیَ کا معنی یہ ہے کہ اس میں احکام و مواعظ اور نصائح بار بار دہرائے گئے ہیں نیز بار بار اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
بیان انشراح قلوب اہل ایمان وآثار خشیت وتقوی کہ از ذکر الہی وتلاوت قرآن است :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افمن شرح اللہ صدرہ ...... الی ....... لو کانوا یعلمون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت اور اثبات حق کے لیے براھین اور شواہد بیان کئے گئے تھے اور عقائد باطلہ کی تردید وابطال کیا گیا تھا اب اس کے بعد ان آیات میں آیات خداوندی سے انتفاع اور قبول ہدایت کا ایک معیار ذکر کیا جارہا ہے وہ قلب کا اللہ رب العزت کی اطاعت کیلئے منشرح ہوجانا ہے اور یہ اس پر موقوف ہے کہ اس قلب پر اللہ کی خشیت و عظمت کے آثار ظاہر ہوں لیکن اگر قلب پر قساوت (سختی اور بےحسی) مسلط ہو تو پھر اس پر خدا کی عظمت وہیبت اثر انداز…
Read the full tafseer →27:۔ ” اللہ نزل الخ “ یہ تیسری دلیل وحی ہے یہ پہلی دونوں دلیلوں سے علی سبیل الترقی ہے۔ یعنی میں اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں کہتا اللہ کے حکم اور اس کی وحی سے کہتا ہوں۔ یہ کتاب جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی وہ ہر کلام سے بہتر اور محاسن کلام میں سب پر فائق اور برتر ہے ” متشابہا “ اس کے بعض حصے بعض سے حسن و خوبی میں ملتے جلتے ہیں اور ایک دوسرے کی تائید و تصدیق کرتے ہیں۔ یشبہ بعضہ بعضا (قرطبی جلد 15 ص 249) ۔ ” مثانی “ اس کی بعض آیتوں اور بعض مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے تاکہ اچھی طرح ذہن نشین ہوجائیں قال الضحاک مثانی تردید القول لیفہموا عن ربہم تبارک وتعالی (ابن کثیر ج 4 ص 50) ۔ ” تقشعرو منہ الخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(شرح صدر تنگدلی)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نیک وبد کا تقابل اور دونوں کا انجام بیان فرمایا تھا اور اب اس درس میں بھی اللہ تعالیٰ نے شرح صدر اور تنگدلی کا تقابل کرکے ان کا انجام ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام “۔ بھلا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے ، اس کو اسلام کے اصول ، قوانین اور احکام پورے طریقے سے سمجھ میں آئے ہیں اور اسے کسی اصول و ضابطے میں ذرہ بھر بھی شک وشبہ نہیں نہیں ، وہ اسلام کی ہر بات کو بخوشی قبول کرکے اس پر عمل پیرا ہوجاتا ہے ، اللہ تعالیٰنے اس کے دل کو بصیرت سے لبریز کیا ہے اور وہ پورے اطمینان و سکون میں ہے (آیت) ” فھو…
Read the full tafseer →اَللہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِيَ 0 ۤۖ تَــقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ 0 ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللہِ 0 ۭ ذٰلِكَ ہُدَى اللہِ يَہْدِيْ بِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ 0 ۭ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ 23
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ترکیب : اللہ مبتدا نزل خبرہ۔ کتابا بدل من احسن الحدیث اوحال منہ۔ متشابہًا صفۃ لکتاب ای یشبہ بعضہ بعضا فی الحسن والاحکام مثانی صفۃ اخری لکتاب وھو جمع مثنٰی او مثنٰی من التثنیۃ بمعنی التکریر تقشعر صفۃ لکتاب اوحال منہ۔ اقشعرار مویٔ برتن خاستن، پھر یری۔
تفسیر : چونکہ قرآن مجید بھی اس خبیث مرض سے شفا حاصل ہونے کا بڑا قوی نسخہ ہے اور دل میں نور پیدا کرنے کے لیے نہایت روشن شمع ہے، اس نے قرآن مجید کے بعض فضائل اور اس کا منزل من اللہ ہونا بیان فرماتا ہے۔ فقال اللہ نزل احسن الحدیث یعنی قرآن مجید کو جو سب کلاموں سے عمدہ ہے، اس کو اللہ نے نازل کیا ہے۔ کلام میں ایک شان ہوتی ہے جو خود بتلادیا کرتی ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰـبًا مُّتَشَابِھَا مَّثَانِیْ صلے ق تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُالَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ ج ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُھُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِاللّٰہِ ط ذٰلِکَ ھُدَی اللّٰہِ یَھْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَـہٗ مِنْ ھَادٍ ۔ (الزمر : 23)
(اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں جو دہرائی جانے والی ہے اس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ان لوگوں کے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر جھک جاتے ہیں ان کے بدن اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف، یہ اللہ کی ہدایت ہے جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے ہدایت بخشتا ہے،…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس نور کا پچھلی آیت میں ذکر ہوا وہ قرآن مجید کی شکل میں نازل ہوا ہے اور ” اللہ “ سے ڈرنے والوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
اس سے پہلی آیت میں یہ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ جس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے وہ اپنے رب کے نور پر ہوتا ہے۔ المائدۃ آیت 15 میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو نور قرار دیا ہے پھر ارشاد ہوا کہ اس قرآن کو ہم نے آپ ﷺ کی طرف نازل فرمایا تاکہ آپ اپنے رب کے حکم سے لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر قرآن کے نور کی طرف لے آئیں۔ (ابراہیم : 1)
یہاں قرآن مجید کو ” اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ “ فرمایا ہے۔ اس کی آیات اور مضامین آپس میں ملتے جلتے ہیں اور باربار دوہرائے جاتے…
Read the full tafseer →سب سے عمدہ بات قرآن سن کر انہیں خشیت آتی ہے :
23: اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ (اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام نازل فرمایا ہے) اللہ کے لفظ سے ابتداء کر کے نزل کو اس پر مرتب فرمانے میں احسن الحدیث کی تفخیم شان مقصود ہے۔
نحو : کِتٰبًا یہ احسن الحدیث سے بدل ہے یا اس سے حال ہے۔
مُّتَشَا بِھًا (یہ ایسی کتاب ہے کہ باہم ملتی جلتی ہیں) جو صدق وبیان میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ اسی طرح وعظ، حکمت اور اعجاز و غیر ذلک میں باہم ملتی جلتی ہیں۔ مَّثَانِیَ (بار بار دہرائی گئی ہیں) جمع مثنی اسکا معنی بار بار لوٹائی اور دہرائی گئی اس کے واقعات، اخبار، احکام، اوامر، نواہی وعدے اور وعید اور مواعظ بار بار…
Read the full tafseer →23، اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا، اس کی بعض آیات دوسری بعض کے حسن میں مشابہ ہیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہیں نہ ان میں کوئی تناقض ہے اور نہ کوئی اختلاف۔ ، مثالی ، وعدہ اور وعید، امر اور نہی اور خبروں و احکام کا تذکرہ ان میں بار بار ہے۔ تقشعر، کا نپتے اور خشوع ا (رح) (رح) ختیار کرتے ہیں۔ ، منہ جلودالذین یخشون ربھم، اقشعر ارخوف کے وقت انسان کی جلد میں نظیر آنے کو کہتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ آیت میں جلود سے دل مراد ہیں یعنی ان لوگوں کے دل جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔ ، ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ، یعنی اللہ کے ذکر کے لیے۔ یعنی جب عذاب کی آیات ذکر کی جائیں تو اللہ سے ڈرنے والوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22۔ 23 معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی 1 ؎ اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان اور جنات کو پیدا کیا تو سب خواہش نفسانی اور طرح طرح کی حرص اور ہوا کے اندھیرے میں پھنسے ہوئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک نور پیدا کیا۔ انسان اور جنات میں سے جس کسی کو اس نور میں سے جس قدر حصہ دنیا میں پیدا ہوجانے کے بعد ملا اسی قدر اس نے دین کے راستہ کو اختیار کیا۔ اور جو شخص وہاں اس عالم ارواح کے نور کے حصہ سے محروم رہا دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بھی اس کو راہ راست پر آنا نصیب نہیں ہوا صحیح بخاری 2 ؎ کی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم غیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
آیت 23
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کے بارے میں، جسے اس نے نازل فرمایا خبر دیتا ہے کہ یہ کتاب علی الاطلاق (احسن الحدیث) ” بہترین کلام ہے۔ “ پس بہتر کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے نازل کی گئی کتابوں میں بہترین کتاب یہ قرآن کریم ہے۔ جب قرآن کریم بہترین کتاب ہے تب معلوم ہوا کہ اس کے الفاظ فصیح ترین اور واضح ترین اور اس کے معانی جلیل ترین ہیں، کیونکہ یہ اپنے الفاظ اور معانی میں بہترین کلام ہے۔ اپنے حسن تالیف اور ہر لحاظ سے عدم اختالف کے اعتبار سے اس کے تمام اجزا ایک دوسرے سے مشا بہت رکھتے ہیں حتی کہ اگر کوئی اس میں غور و فکر کرے تو اسے اس میں ایسی مہارت اس کے معانی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →52 کتاب متشابہ سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی عظیم الشان کتاب تاری جو " متشابہ " یعنی باہم ملتی جلتی ہے "۔ صداقت و حقانیت میں۔ فصاحت و بلاغت میں اور قوت و تاثیر میں۔ اور اس طرح کہ جس طرح پانی اور ہوا کے اجزا باہم مشابہ ہوتے ہیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو غور و فکر کے ساتھ دیکھنے میں اس کی آیات بینات میں اول سے لیکر آخر تک ایک ہی عظمت شان، جلالت قدر اور روعت بیان کا جلال اور دبدبہ نظر آئے گا۔ اس کے احکام و ارشادات، اس کے علوم و معارف اور اس کی تاثیر و برکت میں ایک بےمثال یکسانیت پائی جائے گی جو اس بات کا ایک واضح اور کھلا ثبوت ہے کہ یہ کلام حق ترجمان اسی ذات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
نرم دل لوگ قرآن سے ہدایت حاصل کرتے ہیں
تشریح : جب ہم اللہ کہتے ہیں تو ہمیں اس سپر پاور کا خیال آتا ہے جس نے ہمارے لیے اس قدر ڈھیر ساری چیزیں بنا دی ہیں پانی جو زندگی کی انتہائی بڑی، ضروری اور اہم چیز ہے۔ وافر مقدار میں مفت ہی مفت اور انتہائی شاندار نظام کے ساتھ کھاری پانی بھاپ کے ذریعے پاک صاف اور میٹھا ہو کر دور دراز علاقوں تک بڑے مناسب وقت پر پہنچ جاتا ہے۔ برف، نہروں، چشموں، ندی، نالوں، دریاؤں، کنوؤں اور سمندروں کے ذریعہ کس قدر منظم طریقے سے ہر ہر جاندار کو ہر وقت بڑے مناسب طریقے سے ملتا چلا جاتا ہے۔ صرف یہ ایک نظام، پانی کی سپلائی کا دیکھ کر اس نظام کے بنانے والے اور چلانے والے کی جتنی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31:
اسرار و معارف :
اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو…
Read the full tafseer →ف 10 یہاں قرآن کو ” حدیث “ کہنا یا تو تازہ بتا زہ نزول کے اعتبار سے ہے اور یا آنحضرت ﷺ کے بیان کرنے کے اعتبار سے ورنہ قرآن اللہ کا کلام اور قدیم ہے۔11 یعنی مضامین کے اعتبار سے اس کی آیات ایک دوسری سے ملتی جلتی ہیں اور ان میں اختلاف نہیں ہے۔12 یعنی ان میں واقعات، مواعظ اور احکام کو بار باردہرا کر پیش کیا گیا ہے۔
1 یعنی آخرت کے عذاب کی آیات پڑھ کر یا سن کر ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔2 یعنی جن آیات میں اللہ کی رحمت کا ذکر ہے ان کو پڑھ کر یا سن کر وہ پوری رغبت سے اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لاتے ہیں۔
Read the full tafseer →(39:23) اللّٰہ نزل : نزل سے پہلے اللّٰہ کہنے کے تین فائدے ہیں :۔
(1) عظمت شان کا اظہار ہوگیا۔
(2) اللہ کی طرف قرآن نازل ہونے کی نسبت پختہ ہوگئی۔
(3) قرآن کے احسن ہونے کی شہادت دیدی گئی (کہ اللہ ہی نے اس کلام کو اتارا اور اسکے احسن الحدیث ہونے کی شہادت دی ہے)
احسن الحدیث۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے بہت ہی اچھی بات یا کلام سب سے اچھا کلام یا بات یعنی القرآن۔
کتبا متشابھا مثانی : کتبا بدل ہے احسن الحدیث کا متشابھا صفت ہے کتبا کی۔ مثانی یہ صفت ثانی ہے کتبا کی
متشابھا کا مطلب ہے کہ تمام آیات صحت معنی ۔ حسن عبارت اور افادہ عام میں ایک جیسی ہیں اور کوئی آیر دوسری آیت کی تکذیب نہیں کرتی۔
مثانی۔ جمع ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 23 :۔ سلک ( وہ چلا) ینابیع ( چشمے) زرع ( کھیتی) الوان (لون) (رنگ) یھیج (وہ خشک کرتا ہے) مصفر ( زرد) حطام (چورہ چورہ) شرح (اس نے کھول دیا) صدر ( سینہ) قسیۃ ( سخت) احسن الحدیث ( بہترین کلام) مثانی ( بار بار) تقشعر (وہ رونگٹے کھڑے کرتا ہے) جلود ( جلد) ( کھالیں) تلین ( نرم پڑجانا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہنما)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 23 :۔ ان آیات میں خاص طور پر تین باتوں کو بیان کیا گیا ہے ٭دنیا کی بےثباتی اور اس میں دن رات کے انقلابات ٭ شرح صدر کی حقیقت٭کلام اللہ کی عظمت اور اس کی صفات
٭اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےثباتی اور آئے دن کے انقلابات کو اس مثال سے ذہن نشین فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
قرآن مقدس کتاب ہے۔
(ف 1) کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے قبول اسلام کے لیے کھول دیا اور نہ اس کو اسلام کے حق ہونے میں کچھ شک وشبہ ہے اور نہ احکام اسلام سے انکار ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو توفیق وبصیرت کا ایک نور قلب میں عطا فرمایا، جس کے اجالے میں نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ اللہ کے راستہ پر چل رہا ہے دوسرابدبخت جس کا دل پتھر کی طرح سخت ہو، نہ کوئی نصیحت اس پراثر کرے کبھی خدا کی یاد کی توفیق نہ ہوں یوں ہی کفر کی اندھیروں میں بھٹکتا پھرے ایسے سخت دل لوگوں کی بڑی خرابی ہے آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کتابوں سے اچھی اور افضل اور اعلی کتاب اتاری یعنی مضامین تاکید کے لیے اور خوب سمجھانے کے لیے…
Read the full tafseer →[16] پورا قرآن بیک وقت تو اترا نہیں بلکہ بتدریج ایک مدت دراز تک (یعنی تقریباً 23 سال تک) نازل ہوتا رہا۔ اگر یہ کسی انسان کا بنایا ہوا ہوتا تو ایسی کیا بات ہے کہ اتنی مدت تک ہمہ وقت اس کے خیالات یکساں رہیں اور اس کے مضامین میں تضاد نہ پایا جائے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ شروع سے لے کر آخر تک قرآن ایک نسق پر چلا جاتا ہے اور جو تعلیم مدنظر ہے وہ قرآن کی ہر ہر جگہ سے ٹپک رہی ہے اور یہی اس کے کلام الٰہی ہونے کی بڑی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
ف 5: یعنی قرآن حکیم بہترین اور موثر کتاب ہے ۔
حل لغات :۔ غوف ۔ غرفۃ کی جمع ہے ۔ بالاخانہ ینابیع ۔ واحد ینبوع پانی کا بڑا چشمہ حطاما حطم سے ہے ۔ یعنی توڑڈالا ۔ چورا چورا کردیا احسن الحدیث ۔ یعنی بہترین کلام ۔
1: کلام پاک کے مضامین ملتے جلتے ہیں ۔ ان کو بار بار دہرایا گیا ہے ۔ وہ لوگ جن کے دل میں تقویٰ اور خشیت الٰہی موجود ہے ۔ اس کو سنتے ہیں ۔ اور اس کے تاثر سے ان کے بدن کانپ اٹھتے ہیں ۔ اور پھر منقاد اور نرم دل ہوکر ہمہ تن اللہ کی یاد میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ یہ سرچشمہ معرفت وہدایت ہے جس شخص سے اللہ توفیق ابتداء چھین لے ظاہر ہے کہ وہ اس کی برکات سے استفادہ نہیں کرسکتا ۔
Read the full tafseer →(23) اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل کیا ہے وہ کلام ایک ایسی کتاب ہے جس کے مضامین باہم ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اس کی باتیں بار بار دہرائی گئی ہیں اس کتاب کے سننے سے ان لوگوں کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں پھر ان کی جلد اور ان کے دل اللہ کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہ کتاب مذکور اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے وہ اس کے ذریعہ سے جس کی چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور جس گم کردہ راہ کی وہ رہنمائی نہ فرمائے اسے کوئی راہ دکھانے والا نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کلامنازل فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام الملوک ملوک الکلام ہوتا ہے یہ قرآن شریف بہترین کلام ہے…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی قرآن۔
1۔ یہ کنایہ ہے خوف سے گو قلب ہی میں رہے، بدن پر اثر نہ آوے۔
2۔ یعنی ڈر کر اعمال جوارح و اعمال قلب کو انقیاد و توجہ سے بجا لاتے ہیں۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے ایسا کلام نازل فرمایا جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں
23۔ ( مثانی) کا لفظ قرآن کریم میں دو بار آیا ہے ایک بار سورة الحجر کی آیت 87 میں اور دوسری بار اس جگہ ( مثانی) کیا ہے ؟ (مثانی ) جمع منصوب نکرہ مثنیٰ واحد ثنی یا ثناء مصدر ثنی کے معنی دوہرا کرنا ، تکرار کرنا ، اعادہ کرنا ، چھانٹ لینا کے ہیں اور ثنا کے معنی بار بار کسی کے اوصاف حمیدہ بیان کرنا ہے۔ ( المفردات ، تاج اور قاموس) بعض مستشرقین نے مثانی کو سریانی لفظ قرار دیا ہے جو کسی حال میں بھی صحیح نہیں ہے یہ لفظ خالصتا عربی ہے اور اسی مادہ سے بہت سے اور بھی الفاظ بنتے ہیں مثلا ثنیۃ ، ثنی ، ثناء ، چانی ، چنین ، اثننن ، مثنی ،…
Read the full tafseer →Verse 23 opens with the words: اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ (Allah has sent down the best discourse, a book containing subjects resembling each other, mentioned again and again). In the verse previous to it, the state of the faithful servants of Allah was mentioned as: يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ (who listen to what is said, then, follow the best of it - 39:18). Here, in the verse under study (23), we have been told that the whole Qur'an is 'ahsan-ul-hadith,' the best of what is said. The word: حَدِیث (Hadith) literally means the…
Read the full tafseer →43 That is, there is no contradiction and disagreement between them. The whole Book, from the beginning to the end, projects one and the same aim, one and the same belief, and one and the same system of thought and action. Each of its parts confirms and supports and explains the other themes; and there is perfect consistency in it both in meaning and in style.
Read the full tafseer →