Explained with ayahs 21–22
زندگی کی بہترین مثال۔
زمین میں جو پانی ہے وہ درحقیقت آسمان سے اترا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم آسمان سے پانی اتارتے ہیں یہ پانی زمین پی لیتی ہے اور اندر ہی اندر وہ پھیل جاتا ہے۔ پھر حسب حاجت کسی چشمہ سے اللہ تعالیٰ اسے نکالتا ہے اور چشمے جاری ہوجاتے ہیں۔ جو پانی زمین کے میل سے کھارہ ہوجاتا ہے وہ کھارہ ہی رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی پانی برف کی شکل میں پہاڑوں پر جم جاتا ہے۔ جسے پہاڑ چوس لیتے ہیں اور پھر ان میں سے جھرنے بہ نکلتے ہیں۔ ان چشموں اور آبشاروں کا پانی کھیتوں میں پہنچتا ہے۔ جس سے کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں جو مختلف قسم کے رنگ و بو کی اور طرح طرح کے مزے اور شکل و صورت کی ہوتی ہیں۔ پھر آخری وقت…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 40
یعنی جسے اللہ نے یہ توفیق بخشی کہ ان حقائق سے سبق لے اور اسلام کے حق ہونے پر مطمئن ہوجائے۔ کسی بات پر آدمی کا شرح صدر ہوجانا یا سینہ کھل جانا دراصل اس کیفیت کا نام ہے کہ آدمی دل میں اس بات کے متعلق کوئی خلجان یا تذبذب یا شک و شبہ باقی نہ رہے، اور اسے کسی خطرے کا احساس اور کسی نقصان کا اندیشہ بھی اس بات کو قبول اور اختیار کرنے میں مانع نہ ہو، بلکہ پورے اطمینان کے ساتھ وہ یہ فیصلہ کرلے کہ یہ چیز حق ہے لہٰذا خواہ کچھ ہوجائے مجھے اسی پر چلنا ہے۔ اس طرح کا فیصلہ کر کے جب آدمی اسلام کی راہ کو اختیار کرلیتا ہے تو خدا اور رسول ﷺ کی طرف سے جو حکم بھی اسے ملتا ہے وہ اسے بکراہت نہیں…
Read the full tafseer →(آیت) اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰي نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖ۔ شرح کے لفظی معنے کھولنے، پھیلانے اور وسیع کرنے کے ہیں۔ شرح صدر کے معنی وسعت قلب کے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قلب میں اس کی استعداد موجود ہو کہ وہ تلوینی آیات آلٰہیہ آسمان و زمین اور خود اپنی پیدائش وغیرہ میں غور کر کے عبرت اور فوائد حاصل کرے اسی طرح جو آیات آلٰہیہ بصورت کتاب و حکام نازل کی جاتی ہیں ان میں غور کر کے استفادہ کرسکے۔ اس کا بالمقابل دل تنگی اور قساوت قلب ہے۔ قرآن کریم کی ایک (آیت) یجعل صدرہ ضیقاً حرجاً اور اس جگہ اگلی آیت میں لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ ، اسی شرح صدر کے بالمقابل آیا ہے۔
حضرت…
Read the full tafseer →آیت 22)
فیض و است پہنچتا
یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی ہے کہ فیض ہمیشہ بقدر استعداد و صلاحیت پہنچتا یہ۔ اللہ تعالیٰ کا ابر کرم یوں تو ہر خشک و تر پر برستا ہے لیکن ہر زمین اس سے یکساں مستقید نہیں ہوتی جس زمین میں صاحلیت ہوتی ہے وہ تو اس سے لہلہا اٹھتی ہے لیکن جو بنجر ہوتی ہے وہ یوں ہی ویران پر ملسی رہ جاتی ہے۔ اسی طرح قرآن کی صورت میں جو بارش ہوئی ہے اس کا فیض بھی ہر شخص کو یکساں نہیں پہنچے گا بلکہ جنہوں نے اپنی فطری صلاحیتیں زندہ رکھی ہیں اللہ اس کے ذریعے سے ان کے سینے اسلام کے لئے کھول دے گا۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنی فطری صلاحیتیں ضائع کر کے اپنے دل پتھر بنا لئے ہیں وہ اس کے فیض سے محروم ہی رہیں گے…
Read the full tafseer →22۔ 1 یعنی جس کو قبول حق اور خیر کا راستہ اپنانے کی توفیق اللہ تعالیٰ کی طرف سے مل جائے پس وہ اس شرح صدر کی وجہ سے رب کی روشنی پر ہو، کیا یہ اس جیسا ہوسکتا ہے جس کا دل اسلام کے لئے سخت اور اس کا سینہ تنگ ہو اور وہ گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آسمان سے پانی پہاڑوں پر برستا ہے، پھر وہاں سے پگھل پگھل کر دریاؤں اور ندیوں کی شکل اختیار کرتا ہے، اور زمین کی تہہ میں سوتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے شروع میں پانی پیدا کیا، اور اسے آسمان سے اتار کر براہ راست زمین کے سوتوں تک پہنچا دیا (روح المعانی)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت نمبر 22 تا 23
جس طرح آسمانوں سے پانی نازل ہوتا ہے ، زمین سے نباتات اگتے ہیں اور ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے ذکر اور نصیحت نازل ہوتی ہے۔ اس ذکر اسے بھی زندہ دل فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان دنوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اچھے کاموں کے لئے بڑھتے ہیں۔ اور جس طرح آسمانوں کی بارش پتھروں پر فصل نہیں اگاتی۔ اسی طرح
سنگدل لوگوں پر ذکر آسمانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ان میں کارخیر کی روئیدگی ہوتی ہے اور نہ فکر خیر کی روئیدگی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اسلام کے لیے ایسے دلوں کے اندر شرح صدر پیدا کردیتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں ہوتا ہے کہ ان کے اندر خیر ہے۔ ان تک…
Read the full tafseer →8 یعنی دونوں برابر کہاں ہوسکتے ہیں ایک وہ جس کا سینہ اللہ نے قبول اسلام کے لیے کھول دیا۔ نہ اسے اسلام کے حق ہونے میں کچھ شک و شبہ ہے نہ احکام اسلام کی تسلیم سے انقباض۔ حق تعالیٰ نے اس کو توفیق و بصیرت کی ایک عجیب روشنی عطا فرمائی۔ جس کے اجالے میں نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ اللہ کے راستہ پر اڑا چلا جا رہا ہے۔ دوسرا وہ بدبخت جس کا دل پتھر کی طرح سخت ہو، نہ کوئی نصیحت اس پر اثر کرے نہ خیر کا کوئی قطرہ اس کے اندر گھسے، کبھی خدا کی یاد کی توفیق نہ ہو۔ یوں ہی اوہام واہوا، اور رسوم و تقلید آباء کی اندھیریوں میں بھٹکتا پھرے۔
Read the full tafseer →آیت 22 { اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ } ”بھلا وہ شخص کہ جس کے سینے کو اللہ نے کھول دیا ہے اسلام کے لیے اور وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے !“
یہاں پھر وہی ”حذف“ کا اسلوب ہے۔ چناچہ اس جملے کے بعد یہاں پر کَمَنْ ھُوَ فِی الظُّلُمٰت کا جملہ محذوف مانا جائے گا۔ یعنی ایک وہ شخص ہے جسے اندرونی بصیرت حاصل ہے اور اس کا دل ایمان کے نور سے جگمگا رہا ہے ‘ کیا وہ اس شخص کی طرح ہوجائے گا جو اندھیروں میں بھٹک رہا ہے ؟
{ فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللّٰہِ } ”تو ہلاکت اور بربادی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل سخت ہوگئے ہیں اللہ کے ذکر…
Read the full tafseer →33 شرح صدر کا مفہوم :۔ اسلام کے لئے سینہ کھول دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی حقانیت کا دل میں اس طرح یقین پیدا ہوجائے جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اور انسان اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے اس طرح آمادہ ہوجائے کہ اس سے پیچھے ہٹنا اسے کسی قیمت پر گوارا نہ ہو۔ گو ایسا شرح صدر اللہ ہی کی توفیق سے نصیب ہوتا ہے۔ تاہم یہ توفیق بھی اللہ اسی شخص کو دیتا ہے۔ جو خود بھی حق بات کو قبول کرنے پر آمادہ ہو۔
34 اس روشنی سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے جو زندگی کے ہر میدان میں اور اس کے ہر موڑ پر اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ کی سنت ہے۔…
Read the full tafseer →33۔ پہلا شخص وہ ہے جو ہدایت کے مقتضی پر چل رہا ہے، اور یقین صحیح پیدا کرکے اس کے مطابق عمل کررہا ہے، دوسرا وہ ہے جو کھلے ہوئے دلائل و شواہد کے باوجود ایمان نہیں لاتا اور اس سے بڑھ کر اس کے قساوت قلب کی مثال اور کیا ہوگی۔ (آیت) ” افمن ...... ربہ “۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ صحابی کی روایت میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی تو ہم نے عرض کی، کہ یارسول اللہ ! یہ شرح صدر کیونکر ہوتا ہے ؟ فرمایا جب دل میں نور داخل ہو، عرض کی کیا علامت ہے ؟ ارشاد ہوا کہ دارالخلودیا باقی کی طرف رغبت و استقامت، اور دارالغرور یافانی کی طرف سے بےالتفاتی اور موت کی طرف آمادگی، (معالم) (آیت) ” فویل “۔ اس سے بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
آیت نمبر 22 تا 31
ترجمہ : بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے…
Read the full tafseer →افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ سو جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کو قبول کرنے
کیلئے کھول دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے رب کے عطا کردہ نور پر ہے ‘ کیا وہ شخص اور وہ لوگ جن کے دل سخت (اور تاریک) ہیں ‘ برابر ہیں ؟
شرح صدر سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے بندہ کے دل میں ایک نور پیدا کیا جس کی چمک میں اس نے حق کو حق اور باطل کو باطل دیکھ لیا اور بغیر کسی تردد اور شک کے وہ رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آیا اور سب کی تصدیق کی۔ اس حالت کو شرح صدر سے اسلئے تعبیر کیا کہ سینہ ‘ دل اور روح کا مقام ہے اور دل ہی اسلام کو قبول کرتا ہے ‘ جب دل اسلام کے تمام احکام کو قبول کرلیتا ہے تو ایسا…
Read the full tafseer →جس شخص کا دل اللہ تعالیٰ نے نور ایمان کے ساتھ فراخ کردیا تو وہ اپنے پروردگار کی عطا کردہ بزرگی اور ہدایت پر ہے اور وہ حضرت عمار بن یاسر ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابو جہل کے دل کو کفر کے لیے کھول دیا تو کیا یہ دونوں برابر ہیں سو جن لوگوں کے دل سخت ہیں اور اللہ کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے جیسا کہ ابوجہل وغیرہ ان کے لیے سخت ترین عذاب ہے جہنم خون اور پیپ کی وادی ہے اس کو بھی ویل کہتے ہیں اور اس قسم کے لوگ کھلے کفر میں مبتلا ہیں۔
Read the full tafseer →اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ۔۔ : شرح صدر کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة انعام کی آیت (125) اس آیت میں بیان فرمایا کہ مومن و کافر اور فرماں بردار و نافرمان کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔ ”مَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہُ لِلْإِسْلَامِ“ مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے، جو بعد کے جملے سے خود بخود سمجھ میں آرہی ہے : ”أَيْ کَمَنْ ھُوَ قَاسِي الْقَلْبِ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ“ یعنی وہ شخص جس کا دل اللہ تعالیٰ نے قبول اسلام کے لیے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے ہدایت کی روشنی پر گامزن ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کا دل اللہ کی یاد کی طرف سے پتھر کی طرح سخت ہوچکا ہے اور اسے اپنا پروردگار یاد ہی…
Read the full tafseer →شرع کا معنی کھولنا اور وسیع کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس کے سینے کو اسلام کے لئے کھول دیا یہاں تک کہ وہ اس میں ثبت ہوگیا (1) سدی نے کہا : اس کے سینہ کو اسلام کے ساتھ وسیع کردیا کیونکہ اس پر وہ خوش ہو اور اس سے اطمینان ہوا۔ اس تعبیر کی بناء پر یہ جائز ہے کہ یہ شرح اسلام کے بعد ہو پہلی تعبیر کی صورت میں یہ جائز ہے کہ شرع اسلام سے قبل ہو۔
فھو علی نور من ربہ وہ اپنے رب کی جانب سے ہدایت پر ہے جس طرح ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا اس حذف پر اللہ تعالیٰ کا فرمان : فویل للقسیۃ قلبوھم دلالت کرتا ہے۔ مبرد نے کہا : جب دل سخت ہوجائے تو کہا جاتا ہے : قسا القلب…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام “ (سو جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کو قبول کرنے کے لئے کھول دیا ہو) یعنی جس کا سینہ کھول دیا گیا وہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہوتا جن کے دل سخت ہوں۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھوعلی نور من ربہ “ (سو جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کو قبول کرنے کے لئے کھول دیا ہو جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے رب کے عطا کردہ نور پر ہے) صحابہ ؓ نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ کیا یہ سینہ کھل جاتا ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اصحاب نے عرض کیا ؛ اس کی…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ [تو کیا وہ ] شَرَحَ اللّٰهُ [کشادہ کیا اللہ نے ] صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ [جس کا سینہ اسلام کے لئے ] فَهُوَ عَلٰي نُوْرٍ [پھر وہ اہک روشنی میں ہے ] مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ [اپنے رب (کی طرف) سے (وہ سنگدلوں کے برابر ہوجائے گا ] فَوَيْلٌ [تو تباہی ہے ] لِّــلْقٰسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ [(ان کی) جن کے دل سخت ہونے والے ہیں ] مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِ ۭ [اللہ کی یاد سے (ہٹ کر ] اُولٰۗىِٕكَ [یہ لوگ ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [ایک کھلی گمراہی میں ہیں ] ۔
نوٹ۔ 1: حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر کا مطلب پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب نور ایمان انسان کے قلب میں داخل ہوتا ہے تو اس کا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے جس کا سینہ کھول دیا وہ صاحب نور ہے جن کے قلوب اللہ کے ذکر کی جانب سے سخت ہیں ان کے لیے ہلاکت ہے
گزشتہ آیات میں مومنین کے ثواب کا اور کافروں کے عقاب کا ذکر ہے۔ یہ تو دونوں فریق کا انجام کے اعتبار سے فرق ہے جو آخرت میں سب کے سامنے آجائے گا اب یہاں مومن اور کافر کی قلبی کیفیات کو بیان فرمایا، ارشاد فرمایا کہ ایک وہ شخص ہے جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور اس کے دل میں نور ایمان بھر دیا اور دوسرا وہ شخص ہے جس کا دل تنگ ہے نور ایمان سے خالی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تنگی محسوس کرتا ہے اور ذکر اللہ سے مانوس نہ ہونے کی وجہ سے اس کے دل میں سختی ہے، بتاؤ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
بیان انشراح قلوب اہل ایمان وآثار خشیت وتقوی کہ از ذکر الہی وتلاوت قرآن است :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افمن شرح اللہ صدرہ ...... الی ....... لو کانوا یعلمون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت اور اثبات حق کے لیے براھین اور شواہد بیان کئے گئے تھے اور عقائد باطلہ کی تردید وابطال کیا گیا تھا اب اس کے بعد ان آیات میں آیات خداوندی سے انتفاع اور قبول ہدایت کا ایک معیار ذکر کیا جارہا ہے وہ قلب کا اللہ رب العزت کی اطاعت کیلئے منشرح ہوجانا ہے اور یہ اس پر موقوف ہے کہ اس قلب پر اللہ کی خشیت و عظمت کے آثار ظاہر ہوں لیکن اگر قلب پر قساوت (سختی اور بےحسی) مسلط ہو تو پھر اس پر خدا کی عظمت وہیبت اثر انداز…
Read the full tafseer →26:۔ ” افمن شرح الخ “ یہ دوسری بار مومن و کافر کے اوصاف میں تقابل کا ذکر ہے۔ دلیل ثالث کے بعد یہ بیان مقصودی ہے۔ ایک وہ مومن ہے جس نے اسلام اور توحید کی حقانیت کے دلائل میں غور و فکر کیا تو اللہ نے قبول اسلام کے لیے اس کا سینہ کھول دیا۔ اور اسلام کی سچائی پر اس کا دل مطمئن ہوگیا اور اللہ کی مہربانی اور اس کی توفیق سے اس کا سینہ نور توحید اور ضیاء اسلام سے روشن اور مستنیر ہوگیا۔ کیا یہ اس سنگدل کافر کی مانند ہوسکتا ہے جس کے دل پر مہر جباریت ثبت ہوچکی ہو اور اسے قبول حق کی استعداد سے محروم کردیا گیا ہو ؟ ہرگز نہیں۔ یہاں بھی ” کمن ھو لیس کذالک “ مقدر ہے قالہ الشیخ قدس سرہ۔ یا ” کمن طبع اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
(شرح صدر تنگدلی)
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نیک وبد کا تقابل اور دونوں کا انجام بیان فرمایا تھا اور اب اس درس میں بھی اللہ تعالیٰ نے شرح صدر اور تنگدلی کا تقابل کرکے ان کا انجام ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام “۔ بھلا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے ، اس کو اسلام کے اصول ، قوانین اور احکام پورے طریقے سے سمجھ میں آئے ہیں اور اسے کسی اصول و ضابطے میں ذرہ بھر بھی شک وشبہ نہیں نہیں ، وہ اسلام کی ہر بات کو بخوشی قبول کرکے اس پر عمل پیرا ہوجاتا ہے ، اللہ تعالیٰنے اس کے دل کو بصیرت سے لبریز کیا ہے اور وہ پورے اطمینان و سکون میں ہے (آیت) ” فھو…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ لِلْاِسْلَامِ فَہُوَعَلٰي نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ 0 ۭ فَوَيْلٌ لِّــلْقٰسِيَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللہِ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 22
شرح
أصل الشَّرْحِ : بسط اللّحم ونحوه، يقال : شَرَحْتُ اللّحم، وشَرَّحْتُهُ ، ومنه : شَرْحُ الصّدر أي : بسطه بنور إلهي وسكينة من جهة اللہ وروح منه . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي
[ طه/ 25] ، وقال : أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1] ، أَفَمَنْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ [ الزمر/ 22] ، وشرح المشکل من الکلام : بسطه وإظهار ما يخفی من معانيه .
( ش ر ح )
شرحت اللحم وشرحتہ کے اصل معنی گوشت ( وغیرہ کے لمبے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ترکیب : ان اللہ الخ الجملۃ سد مسد المفولین ینابیع جمع ینبوع وھو یفعول من نبع ینبع وھی منصوب بنزع الخافض لان التقدیر فسل کہ فی ینابیع یھیج ای یجف و بیبس یقال ھاج البنت یھیج ھیجا اذا تم جفافہ او یخضر۔ ولاحطام مایتفتت و یکسر۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ اور آخرت کے وہ صفات بیان فرما چکا کہ جن سے اس کی طرف رغبت ہو تو اس کے بعد دنیا کی بےثباتی بیان کرکے اس سے نفرت دلاتا اور اسی بات کو حشر برپا ہونے کا نمونہ بتاتا ہے۔ فقال الم تران اللہ انزل من السماء ماء کہ اے نبی ! یا اے ہر مخاطب کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ اوپر سے پانی بارش کا برساتا ہے، پھر اس کو زمین میں پیوست کردیتا ہے۔ زمین اس کو پی جاتی ہے، پھر…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ لِـلْاِسْلاَمِ فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ ط فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُھُمْ مِّنْ ذِکْرِاللّٰہِ ط اُوْلٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الزمر : 22)
(کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی میں ہے، (اس آدمی کی طرح ہوسکتا ہے جس کا دل سخت ہوچکا ہو) تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہوگئے، یہی لوگ کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں۔ )
شرح صدر کا مفہوم
شرح کے لفظی معنی کھولنے، پھیلانے اور وسیع کرنے کے ہیں۔ شرح صدر وسعت قلب کو کہتے ہیں۔ اس کا مقابل ضیق صدر بھی ہے اور قساوتِ قلب بھی۔ قرآن…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح بارش کا پانی جذب کرنے کے بعد زمین گل و گلزار اگاتی ہے اسی طرح ہی جو شخص ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور وہ اسلام کی روشنی میں زندگی بسر کرتا ہے۔
اسلام کی پہلی دعوت ” اللہ “ کی ذات اور اس کی صفات پر اسی طرح ایمان لانا ہے جس طرح اس کا حکم اور تقاضا ہے۔ جو شخص توحید کے تقاضے پورے کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا سینہ کھول دیتا ہے جس بنا پر اس کے سینے میں ہدایت کا نور پیدا کردیتا ہے۔ ایسا شخص بڑی سے بڑی مصیبت میں اپنے رب پر راضی رہتا ہے۔ اسے غیر معمولی کا میابی اور خوشی نصیب ہوتی ہے تو بھی اپنے آپ سے باہر نہیں ہوتا۔…
Read the full tafseer →22: اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰہُ صَدْرَہٗ (پس جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کیلئے کھول دیا) شرح کو وسیع کردیا لِلْاِسْلَامِ پس اس نے ہدایت پائی۔
فرمانِ رسول اللہ ﷺ :
رسول اللہ ﷺ سے شرح صدر کے متعلق دریافت کیا گیا۔ تو فرمایا جب نور دل میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ سینہ کھل جاتا اور وسیع ہوجاتا ہے آپ سے سوال کیا گیا۔ کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے ؟ فرمایا ہاں ! ہمیشگی کے گھر کی طرف رجوع اور غرور کی طرف سے بےرغبتی اور موت کی آمد سے قبل موت کی تیاری ] تفسیر ابن کثیر 2/181[
فَھُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ (وہ اپنے پروردگار کے نور پر ہے) نور کا معنی وضاحت و بصیرت۔ معنی یہ ہے افمن شرح اللّٰہ صدرہ کیا…
Read the full tafseer →تفسیر 22۔ ، افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام، جس کے دل کو حق کے قبول کرنے کی توفیق دی۔ ، فھوعلی نور من ربہ، کیا اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کے دل کو اللہ تعالیٰ نے سخت کردیا ہو۔
شرح صدر سے کیا مراد ہے
حضرت عبدا للہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت، افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ، کی تلاوت فرمائی۔ ہم نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! اس کے سینہ کا کھلنا کیسے ہوگا ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ نور جب دل میں داخل ہوجاتا ہے تو دل کھل کر کشادہ ہوجاتا ہے۔ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اس کی علامت کیا ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہمیشگی کے گھر کی طرف رجوع کرنا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
22۔ 23 معتبر سند سے مسند امام احمد ترمذی 1 ؎ اور مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان اور جنات کو پیدا کیا تو سب خواہش نفسانی اور طرح طرح کی حرص اور ہوا کے اندھیرے میں پھنسے ہوئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ایک نور پیدا کیا۔ انسان اور جنات میں سے جس کسی کو اس نور میں سے جس قدر حصہ دنیا میں پیدا ہوجانے کے بعد ملا اسی قدر اس نے دین کے راستہ کو اختیار کیا۔ اور جو شخص وہاں اس عالم ارواح کے نور کے حصہ سے محروم رہا دنیا میں پیدا ہونے کے بعد بھی اس کو راہ راست پر آنا نصیب نہیں ہوا صحیح بخاری 2 ؎ کی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ کے علم غیب…
Read the full tafseer →آیت 22
کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا ہو اور اس میں اللہ تعالیٰ کے احکام کو قبول کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لئے وسعت ہو اور وہ اسلام کے معاملے میں انشراح صدر اور آنکھوں کی ٹھنڈک کے ساتھ بصیرت کی راہ پر گامزن ہو۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (آیت) ” پس وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہو۔ “ سے یہی مراد ہے۔۔۔ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو ان مذکورہ اوصاف سے محروم ہے ؟
اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (آیت) ” پس ہلاکت ہے ان کے لئے جن کے دل اللہ کی یاد سے سخت ہو رہے ہیں۔ “ یعنی ان کے سخت دل اس کی کتاب کو سمجھنے کے لئے نرم ہوتے ہیں نہ اس کی آیات سے نصیحت پکڑتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →50 شرح صدر کی نعمت اور اس کا صلہ وثمرہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا ہو اسلام کے لیے جس کے نتیجے میں وہ اپنے رب کی طرف سے ملنے والے ایک عظیم الشان نور پر قائم ہو "۔ یعنی ایمان و یقین کے اس عظیم الشان اور بےمثل نور پر جس سے اس کے قلب و باطن کی دنیا روشن ومنور ہوچکی ہو اور جس کی بنیاد پر اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی تعلیمات مقدسہ کے نور مبین سے استفادے کی توفیق وسعادت نصیب ہوگئی ہو۔ اور اس طرح وہ نور علی نور کے شرف سے مشرف ہوگیا ہو اور جس کے نتیجے میں وہ ہر قدم صاف اور کھلی روشنی میں اٹھاتا ہو۔ تو کیا ایسا شخص اور دوسرا وہ شخص جو اس کے بالکل برعکس ہو ایک برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
نرم دل لوگ قرآن سے ہدایت حاصل کرتے ہیں
تشریح : جب ہم اللہ کہتے ہیں تو ہمیں اس سپر پاور کا خیال آتا ہے جس نے ہمارے لیے اس قدر ڈھیر ساری چیزیں بنا دی ہیں پانی جو زندگی کی انتہائی بڑی، ضروری اور اہم چیز ہے۔ وافر مقدار میں مفت ہی مفت اور انتہائی شاندار نظام کے ساتھ کھاری پانی بھاپ کے ذریعے پاک صاف اور میٹھا ہو کر دور دراز علاقوں تک بڑے مناسب وقت پر پہنچ جاتا ہے۔ برف، نہروں، چشموں، ندی، نالوں، دریاؤں، کنوؤں اور سمندروں کے ذریعہ کس قدر منظم طریقے سے ہر ہر جاندار کو ہر وقت بڑے مناسب طریقے سے ملتا چلا جاتا ہے۔ صرف یہ ایک نظام، پانی کی سپلائی کا دیکھ کر اس نظام کے بنانے والے اور چلانے والے کی جتنی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–31
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31:
اسرار و معارف :
اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو…
Read the full tafseer →ف 8 وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس کا دل اللہ کی یاد سے غافل ہو کر سخت ہوگیا ؟ “۔ ( افمن کان) کا یہ جواب محذوف ہے اور اگلے جملہ یعنی ( فویل للقاسیۃ قلوبھم من ذکر اللہ) سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان لوگوں کا ان سے مقابلہ کیا جا رہا ہے جن کے دل اللہ کی یاد سے غافل ہونے کی وجہ سے سخت ہوگئے ہوں۔ ایک حدیث میں ہے کہ جب نور ایمان سینہ میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ کھل کر کشادہ ہوجاتا ہے اور فرمایا اس کی علامت ہے ” آخرت کی طرف دھیان اور دنیا سے بیزاری “ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے ( یعنی جس کا سینہ کھول دیا گیا) خاص کر حضرت ابوبکر ؓ صدیق مراد ہیں۔ ( شوکانی)9 دلوں کے سخت ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر…
Read the full tafseer →(39:22) افمن شرح اللّٰہ صدرہ للالسام ۔ فھو علی نور من ربہ : افمن میں ہمزہ استفہام انکاری کا ہے۔ شرح ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب شرح باب فتح مصدر سے بمعنی کھولنا۔ کھلا کرنا۔ کشادہ کرنا۔ تشریح کرنا۔ وضاحت کرنا۔ شرح صدر بمعنی سینہ کا نور الٰہی سے کشادہ ہونا۔ اور اللہ تعالیٰ سے تسکین و تقویت کا پانا۔
صدرہ مضاف مضاف الیہہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع من ہے۔ فھو۔ میں الفاء للسببیہ اور نور بمعنی ہدایۃ ہے۔ نور کے بعد عبارت محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے :۔ افمن شرح اللّٰہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ (کمن طبع علی قلبہ فقسا قلبہ) ۔ کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے (اسلام کو قبول کرنے کے لئے) کھول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 23 :۔ سلک ( وہ چلا) ینابیع ( چشمے) زرع ( کھیتی) الوان (لون) (رنگ) یھیج (وہ خشک کرتا ہے) مصفر ( زرد) حطام (چورہ چورہ) شرح (اس نے کھول دیا) صدر ( سینہ) قسیۃ ( سخت) احسن الحدیث ( بہترین کلام) مثانی ( بار بار) تقشعر (وہ رونگٹے کھڑے کرتا ہے) جلود ( جلد) ( کھالیں) تلین ( نرم پڑجانا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہنما)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 23 :۔ ان آیات میں خاص طور پر تین باتوں کو بیان کیا گیا ہے ٭دنیا کی بےثباتی اور اس میں دن رات کے انقلابات ٭ شرح صدر کی حقیقت٭کلام اللہ کی عظمت اور اس کی صفات
٭اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےثباتی اور آئے دن کے انقلابات کو اس مثال سے ذہن نشین فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
قرآن مقدس کتاب ہے۔
(ف 1) کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے قبول اسلام کے لیے کھول دیا اور نہ اس کو اسلام کے حق ہونے میں کچھ شک وشبہ ہے اور نہ احکام اسلام سے انکار ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کو توفیق وبصیرت کا ایک نور قلب میں عطا فرمایا، جس کے اجالے میں نہایت سکون و اطمینان کے ساتھ اللہ کے راستہ پر چل رہا ہے دوسرابدبخت جس کا دل پتھر کی طرح سخت ہو، نہ کوئی نصیحت اس پراثر کرے کبھی خدا کی یاد کی توفیق نہ ہوں یوں ہی کفر کی اندھیروں میں بھٹکتا پھرے ایسے سخت دل لوگوں کی بڑی خرابی ہے آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کتابوں سے اچھی اور افضل اور اعلی کتاب اتاری یعنی مضامین تاکید کے لیے اور خوب سمجھانے کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[15] یعنی عقل مند آدمی کھیتی کا حال دیکھ کر نصیحت حاصل کرتا ہے کہ جس طرح اس کی رونق اور سرسبزی چند روزہ تھی پھر وہ چورا چورا ہوگئی۔ یہی حال دنیا کی چہل پہل کا ہوگا۔ پس آدمی کو چاہئے کہ دنیا کی اس عارضی
بہار پر فریفتہ ہو کر انجام سے غافل نہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →مومن کا سینہ
4: غرض یہ ہے کہ مسلمان اور منکر میں ایک فرق یہ ہوتا ہے کہ مومن سینہ کا کشادہ اور فراغ ہوتا ہے اور منکر دل تعصب اور جہالت کی وجہ سے سخت اور سیاہ ہوجاتا ہے ۔ اور وہ حق پذیرائی کی قوتوں سے محروم ہوجاتے ہے ۔
Read the full tafseer →(22) بھلا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا اور وہ اپنے پروردگار کی جانب سے عطا کردہ روشنی پر ہو تو کہیں ایسا شخص اہل قساوت کے برابرہوسکتا ہے سو ایسے لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہے جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف سے سخت ہیں اور یہی لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اہل حق اور اہل باطل دونوں فرقوں کا ذکر فرمایا ایک تو وہ لوگ ہیں جن کے قلوب اللہ تعالیٰ نے حق کی قبولیت کے لئے کھول دیئے ہیں اور وہ اپنے پروردگار کے عطا کردہ نور ہدایت پر قائم ہیں اور ہدایت کے متقضا پر چل رہے ہیں یعنی اعتقاد اور عمل صحیح کو اختیار کرچکے ہیں اور دوسرے جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف سے سخت ہیں…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی اسلام کی حقیقت کا اس کو یقین آگیا۔
4۔ یعنی وہ ہدایت کے مقتضے پر چل رہا ہے، یعنی یقین لا کر اسی کے مطابق عمل کرنے لگا۔
Read the full tafseer →جس شخص کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہوا وہی رب کی روشنی پر ہے
22۔ وہ شخص جس کو شرح صدر حاصل ہوجائے کہ اسلام ہی اصل دین ہے اور جسے اللہ نے یہ توفیق بخش دی کہ ان حقائق سے سبق حاصل کرئے اور اسلام کے دین حق ہونے پر جم جائے بلاشبہ وہی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روشنی پر ہے۔ شرح صدر کیا ہے ؟ شرح سدر یا سینہ کا کھل جانا اس کتفی کا نام ہے کہ آدمی کے دل میں اس بات کے متعلق کوئی خلجان ، تذبذب یا شک وشبہ مطلق نہ رہے اور اسے کسی خطرہ کا احساس اور کسی نقصان کا اندیشہ بی اس بات کے قبول کرنے اور اختیار کرنے میں مانع نہ ہو بلکہ پورے اطمینان اور ایمان وایقان کے ساتھ وہ یہ فیصلہ کرلے کہ یہ چیز حق ہے لہٰذا…
Read the full tafseer →In the first sentence of verse 22, it was said: أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ (So I ask about a person whose heart Allah has opened up for Islam, and consequently he proceeds in a light from his Lord.). The word: شَرَحَ (sharh) literally means to open, enlarge or extend. The expression: شرح الصدر (sharh-us-sadr) means the capacity or capability of the heart (to receive and accommodate input). The sense is that one's heart is capable of learning lessons and receiving benefits by deliberating into Divine signs of creation in the heavens…
Read the full tafseer →40 "Whose breast... Islam": Whom Allah helps to learn a lesson from these realities and to be satisfied with Islam as based on the Truth. Opening of a man's breast for something is, in fact, a state in which there remains no anxiety or ambiguity or suspicion and doubt in his mind about the thing, nor has he the feeling of any danger and loss in accepting and adopting it, but he decides with full satisfaction of the heart that it is the Truth; therefore, he must follow it whatever be the consequences. Having made such a decision when a person adopts the way of Islam, he obeys whatever Command…
Read the full tafseer →