Explained with ayahs 21–22
زندگی کی بہترین مثال۔
زمین میں جو پانی ہے وہ درحقیقت آسمان سے اترا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم آسمان سے پانی اتارتے ہیں یہ پانی زمین پی لیتی ہے اور اندر ہی اندر وہ پھیل جاتا ہے۔ پھر حسب حاجت کسی چشمہ سے اللہ تعالیٰ اسے نکالتا ہے اور چشمے جاری ہوجاتے ہیں۔ جو پانی زمین کے میل سے کھارہ ہوجاتا ہے وہ کھارہ ہی رہتا ہے۔ اسی طرح آسمانی پانی برف کی شکل میں پہاڑوں پر جم جاتا ہے۔ جسے پہاڑ چوس لیتے ہیں اور پھر ان میں سے جھرنے بہ نکلتے ہیں۔ ان چشموں اور آبشاروں کا پانی کھیتوں میں پہنچتا ہے۔ جس سے کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں جو مختلف قسم کے رنگ و بو کی اور طرح طرح کے مزے اور شکل و صورت کی ہوتی ہیں۔ پھر آخری وقت…
Read the full tafseer →سورة الزُّمَر 38
اصل میں لفظ ینابیع استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق ان تینوں چیزوں پر ہوتا ہے۔
سورة الزُّمَر 39
یعنی اس سے ایک صاحب عقل آدمی یہ سبق لیتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی اور اس کی زینتیں سب عارضی ہیں۔ ہر بہار انجام خزاں ہے۔ ہر شباب کا انجام ضعیفی اور موت ہے۔ ہر عروج آ خر کار زوال دیکھنے والا ہے۔ لہٰذا یہ دنیا وہ چیز نہیں ہے جس کے حسن پر فریفتہ ہو کر آدمی خدا اور آخرت کو بھول جائے اور یہاں کی چند روزہ بہار کے مزے لوٹنے کی خاطر وہ حرکتیں کریں جو اس کی عاقبت برباد کردیں۔ پھر ایک صاحب عقل آدمی ان مناظر سے یہ سبق بھی لیتا ہے کہ اس دنیا کی بہار اور خزاں اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ اللہ جس کو چاہتا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے مخاطب) کیا تو نے اس (بات) پر نظر نہیں کی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کو زمین کے سوتوں میں (یعنی ان قطعات میں جہاں سے پانی ابل کر کنوؤں اور چشموں کے ذریعہ نکلتا ہے) داخل کردیتا ہے۔ پھر (جب وہ ابلتا ہے تو) اس کے ذریعہ سے کھیتیاں پیدا کرتا ہے جس کی مختلف قسمیں ہیں، پھر وہ کھیتی بالکل خشک ہوجاتی ہے سو اس کو تو زرد دیکھتا ہے پھر (اللہ تعالیٰ) اس کو چورا چورا کردیتا ہے اس (نمونہ) میں اہل عقل کے لئے بڑی عبرت ہے (کہ یہی حالت بعینہ انسان کی دنیوی حیات کی ہے، آخر فنا آخر فنا تو اس میں منہمک ہو کر ابدی راحت سے محروم رہنا اور ابدی مصیبت کو سر پر لینا نہایت حماقت ہے، گو…
Read the full tafseer →4۔ آگے کا مضمون آیات 35-21
آگے قرآن سے اعرضا کرنے والوں کے سبب اعراض پر ضرب لگای ہے کہ اس دنیائے فائی کی محبت نے ان کے دل سخت کردیئے ہیں جس کے سبب سے وہ حق سے بیزار ہیں ورنہ قرآن ایک عظیم نعمت ہے جن کے اندر صلاحیت ہے اس کی آیتیں سن کر ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ البتہ جن کے دل پتھر ہوچکے ہیں وہ اس سے محروم رہیں گے اور اسی عذاب سے دوچار ہوں گے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی پچھلی قومیں تباہ ہوچکی ہیں۔ اس قرآن نے تمام حقائق بہتر سے بہتر انداز میں بیان کردیئے ہیں۔ جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں، ان کی شامت ہی ہے۔ مبارک ہیں وہ جو اس صداقت کو قبول کر رہے ہیں۔ وہی لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور…
Read the full tafseer →21۔ 1 یعنی بارش کے ذریعے سے پانی آسمان سے اترتا ہے، پھر وہ زمین میں جذب ہوجاتا ہے پھر چشموں کی صورت میں نکلتا ہے یا تالابوں اور نہروں میں جمع ہوجاتا ہے۔
21۔ 2 یعنی شادابی اور ترو تازگی کے بعد وہ کھیتیاں سوکھ جاتی اور زرد ہوجاتی ہیں اور پھر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہیں۔ جس طرح لکڑی کی ٹہنیاں خشک ہو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
11: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آسمان سے پانی پہاڑوں پر برستا ہے، پھر وہاں سے پگھل پگھل کر دریاؤں اور ندیوں کی شکل اختیار کرتا ہے، اور زمین کی تہہ میں سوتوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی تخلیق کے شروع میں پانی پیدا کیا، اور اسے آسمان سے اتار کر براہ راست زمین کے سوتوں تک پہنچا دیا (روح المعانی)۔
Read the full tafseer →درس نمبر 218 ایک نظر میں
یہ سبق عالم نباتات کی ایک جھلک دکھاتا ہے کہ کس طرح اللہ پانی آسمانوں سے اتارتا ہے اور پھر زمین سرسبز ہو کر فصلیں اگتی ہیں اور یہ فصلیں اپنے انجام تک پہنچ جاتی ہیں۔ یہ مثال قرآن میں زمین کی بےثباتی اور حیات دنیا کے اختصار کے لیے دی جاتی ہے۔ اور اہل فکر ونظر کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس پر غور و فکر کریں۔ پھر آسمانوں سے پانی کے نزول کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ یہ کتاب بھی ایک قسم کا باران رحمت ہے جو آسمانوں سے نازل ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ سے خشک دل سرسبز ہوجاتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔ اس موقعہ پر ایک نہایت ہی اشاراتی تصویر بھی پیش کی جاتی ہے کہ کھلے دل اس کتاب…
Read the full tafseer →5 یعنی بارش کا پانی پہاڑوں اور زمینوں کے مسام میں جذب ہو کر چشموں کی صورت میں پھوٹ نکلتا ہے، باقی اگر چشموں کے حدوث کا کوئی اور سبب بھی ہو، اس کی نفی آیت سے نہیں ہوتی۔
6 یا مختلف قسم کی کھیتیاں مثلاً گیہوں چاول وغیرہ۔
7 یعنی عقلمند آدمی کھیتی کا حال دیکھ کر نصیحت حاصل کرتا ہے کہ جس طرح اس کی رونق اور سرسبزی چند روزہ تھی، پھر چورا چورا کیا گیا۔ یہ ہی حال دنیا کی چہل پہل کا ہوگا۔ چاہیے کہ آدمی اس کی عارضی بہار پر مفتوں ہو کر انجام سے غافل نہ ہوجائے جیسے کھیتی مختلف اجزاء سے مرکب ہے۔ مثلاً اس میں دانہ ہے جو آدمیوں کی غذا بنتا ہے اور بھوسہ بھی ہے جو جانوروں کا چارہ بنتا ہے۔ اور ہر ایک جزء سے…
Read the full tafseer →آیت 21 { اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ } ”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی ‘ پھر اس کو چلا دیا چشموں کی شکل میں زمین میں“
{ ثُمَّ یُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ } ”پھر اس کے ذریعے سے وہ نکالتا ہے کھیتی جس کے مختلف رنگ ہیں“
{ ثُمَّ یَہِیْجُ فَتَرٰٹہُ مُصْفَرًّا } ”پھر وہ پک کر تیار ہوجاتی ہے ‘ پھر تم اسے دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی ہے“
{ ثُمَّ یَجْعَلُہٗ حُطَامًاط } ”پھر وہ اسے چورا چورا کردیتا ہے۔“
کچھ عرصہ پہلے جس کھیت میں فصل لہلہا رہی تھی اب وہاں خاک اڑ رہی ہے اور خشک بھوسے کے کچھ تنکے ہیں جو…
Read the full tafseer →31 بارش کا کچھ پانی زمین میں جذب ہو کر زمین کو سیراب کرتا ہے۔ زائد پانی اور نیچے چلا جاتا ہے۔ جو کبھی چشموں کی صورت میں پھوٹ نکلتا ہے اور کبھی کنوئیں وغیرہ کھود کر نکالا جاتا ہے۔ اور زائد پانی ندی نالوں میں بہتا ہوا دریاؤں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ سب پانی کے منابع ہیں۔ اور جو بھی صورت ہو بارش کے پانی سے انسانوں، حیوانوں اور نباتات کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔
32 دنیا کے کمال کو بھی زوال آکے رہے گا :۔ سبق یہ ہے کہ جو چیز بھی عروج کو پہنچے اسے زوال بھی ضرورآتا ہے۔ جب وہ جوبن پر ہو تو بڑی بہار دکھاتی اور اچھی لگتی ہے مگر اس کا انجام عبرت آموز ہوتا ہے۔ نباتات کی بھی یہی کیفیت ہے۔ پھر انسان کی…
Read the full tafseer →32۔ اس آغاز اور اس انجام پر انسان غور کرے تو ایک کھلا ہوا نمونہ توحیات انسانی کے آغاز و انجام کامل جاتا ہے، زندگی کے کیسے کیسے دورگزرتے رہیں، لیکن سب کا انجام وحاصل فنا، آخر فنا ! یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ ان میں ایک ایک تغیر کتنی حکمتوں کا نتیجہ ہوتا ہے، اور پھر آخری تغیر کتنی زبردست حکمت اور کاریگری پر دلیل ہے۔ (آیت) ” السمآء “۔ سابق کے حاشیوں میں کئی بار یہ امر صاف کیا جاچکا ہے، کہ (آیت) ” السمآء کی وسعت مفہوم کا کوئی لفظ اردو میں موجود نہیں، بارش کے سلسلہ میں جہاں جہاں یہ لفظ قرآن میں آیا ہے، بےتکلف معنی بادل کے لیے جاسکتے ہیں۔ سماء عربی میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کے اوپر واقع ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین…
Read the full tafseer →الم تر ان اللہ انزل من السماء ماء فسل کہ ینابیع فی الارض ثم یخرج بہ زرعا مختلفا
الوانہ ثم یھیج فتراہ مصفرا ثم یجعلہ حطاما (اے مخاطب ! ) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اوپر سے پانی نازل کیا ‘ پھر اس کو زمین کے سوتوں میں داخل کیا ‘ اس کے بعد اللہ اس پانی کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی کھیتیاں پیدا کرتا ہے ‘ پھر کچھ مدت کے بعد وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے اور تجھے زرد دکھائی دیتی ہے ‘ اس سے کچھ مدت کے بعد اللہ اس کو چورا چورا کردیتا ہے (بھوسہ بنا دیتا ہے) ۔
اَلَمْ تَرَ میں استفہام انکاری ہے اور نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے (یعنی تو نے یہ بات ضرور دیکھی ہے) یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ یعنی زمین کے سوتوں میں۔…
Read the full tafseer →کیا بذریعہ قرآن کریم یہ نہیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور پھر اس سے زمین میں چشمے اور نہریں بنائیں اور پھر اس پانی سے مختلف قسموں کے غلے پیدا کرتا ہے پھر وہ سبزی کے بعد خشک ہو کر زرد نظر آنے لگتی ہے پھر اس کے بعد اس کو چورا چورا کردیتا ہے اسی طرح دنیا بھی فنا ہوجائے گی۔
اس کا کوئی بھی نام و نشان باقی نہیں رہے گا اس فنا دنیا کی مثال میں عقل مندوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۔ : ’ يَنَابِيْعَ“ ”یَنْبُوْعٌ“ کی جمع ہے، جس کا معنی چشمہ بھی ہے اور بہت پانی والا نالہ بھی۔ (قاموس) ابن کثیر ؓ نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ زمین میں موجود پانی کا اصل آسمان ہی سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً طَهُوْرًا) [ الفرقان : 48 ] ”اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اتارا۔“ آسمان سے اترنے کے بعد یہ پانی زمین کی تہوں میں چلا جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے ضرورت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے چلاتا ہے اور چھوٹے یا بڑے چشموں کی صورت میں باہر نکالتا ہے، جس سے ندی نالے اور دریا بنتے…
Read the full tafseer →الھم تران ان اللہ انزل من السماء ماء اللہ تعالیٰ مخلوق کو زندہ کرنے اور مومن و کافر میں تمیز دینے کے وعدہ کے خلاف ورزی نہیں کرتا وہ اس پر قادری ہے جس طرح وہ آسمان سے پانی نازل کر رنے پر قادر ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے بادل سے بارش کو نازل کیا۔
فسل کہ اسے زمین میں داخل کیا اور اس میں سوکت دی جس طرح فرمایا : فاسکنہ فی الارض) المومنون (18: ینابیع یہ ینبوع کی جمع ہے یہ یفعول کا وزن ہے یہ نبع ‘ ینبع ‘ ینبع اور ینبع کے وزن پر اس کا مضارع آتا ہے۔ نحاس نے کہا : ابن کیسان نے شاعر کے قول میں یوں بھی بیان کیا :
ینباع من ذفری عضوب جسرۃ
ینباع کا معنی ینبع ہے اس کے فتحہ میں اشباع کا قائدہ جاری کیا یہ الف ہوگیا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” الم تران اللہ انزل من السمآء مآء فسل کہ ینابیع فی الارض “ (کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اوپر سے پانی نازل کیا پھر اس کو زمین کے سوتوں میں داخل کیا) یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمایا لیکن یہ چشمے زمین میں لگیں ہیں جو اس کو ڈھانک لیتی ہیں۔ اسی کو فرمایا (آیت ) ” فسل کہ ینابیع فی الارض “ (پھر اس کو زمین کے سوتوں میں داخل کیا) یعنی جس آدمی کو یہ بات خوش (اچھی) لگے کہ نمک میٹھا ہوجائے تو اس کو چاہئے کہ اسے بھاپ بنر کر اڑا دے۔
2:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) فی العظمۃ والخرائطی نے مکارم الاخلاق میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ”…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ [کیا تو نے غور ہی نہیں کیا ] اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ [کہ اللہ نے اتارا ] مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً [آسمان سے کچھ پانی ] فَسَلَكَهٗ [پھر اس نے چلایا اس (پانی) کو ] يَنَابِيْعَ [بطور چشموں کے ] فِي الْاَرْضِ [زمین میں ] ثُمَّ يُخْرِجُ بِهٖ [پھر وہ نکالتا ہے اس سے ] زَرْعًا [ایک کھیتی ] مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ [مختلف ہوتے ہوئے اس کے رنگ ] ثُمَّ يَهِيْجُ [پھر وہ مرجھاتی ہے ] فَتَرٰىهُ [تو تو دیکھتا ہے اس کو ] مُصْفَرًّا [پپلی پڑتے ہوئے ] ثُمَّ يَجْعَلُهٗ [پھر وہ کردیتا ہے اس کو ] حُطَامًا ۭ [ریزہ ریزہ ] اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [بیشک اس میں ] لَذِكْرٰى [نصیحت ہے ] لِاُولِي الْاَلْبَابِ [خالص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ اَفَاَنْتَ تُنقِذُ مَنْ فِی النَّارِ ) (سو کیا جس شخص کے بارے میں عذاب کی بات طے ہوچکی ہے کیا آپ اسے چھڑالیں گے جو دوزخ میں ہو) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گمراہی پر جمنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طے ہے کہ انہیں دوزخ میں جانا ہے اور وہ بھی اپنے بارے میں یہ طے کرچکے ہیں کہ ہمیں ایمان قبول کرنا نہیں وہ دوزخ کی وعیدیں سنتے ہیں لیکن پھر بھی کفر پر جمے ہوئے ہیں کیا آپ انہیں دوزخ سے بچا دیں گے یعنی یہ آپ کا کام نہیں ہے لہٰذا جو شخص ہدایت قبول نہ کرے اس کی وجہ سے آپ غمگین نہ ہوں، اس کے بعد اس بشارت کا تذکرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
مذمت ووعید بر شقاوت مجر میں و فلاح وکامرانی مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افمن حق علیہ .......... الی .......... لاولی الالباب :
(ربط) گذشتہ آیات میں بالقصد اور اصل بیان مومنین ومطیعین کا اور عنداللہ انکے درجات و انعامات کا تھا درمیان میں ضمنا مجرمین کے خسارہ کا بھی ذکر ہوگیا تھا اب ان آیات میں ایسے بدنصیب اور محروم لوگوں کی ذلت وناکامی اور اہل ایمان وطاعت کی کامیابی کا بیان ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت کے یہاں انکے درجات کس قدر بلند ہوں گ ے۔
ارشاد فرمایا کیا وہ شخص جس پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے بھلا کیا آپ اس کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا سکتے ہیں اس لئے کہ جن کے حق میں یہ فیصلہ ہوچکا وہ…
Read the full tafseer →25:۔ ” الم تر ان اللہ الخ “ یہ تیسری عقلی دلیل ہے یہ پہلی دونوں دلیلوں سے بطور ترقی ہے ان دونوں میں زمین و آسمان اور خود حضرت انسان کی پیدائش کا ذکر تھا اور اس میں پیدائش کے بعد انسان کی تربیت اور ضروریات زندگی مہیا کرنے کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے مینہ برسا کر پانی کو ندی نالوں اور دریاؤں کی صورت میں زمین پر بہا دیا جس سے زمینیں سیراب ہو کر مختلف الوان و اقسام کے غلے پیدا کرتی ہے۔ سرسبز و شاداب کھیت پکنے پر آتے ہیں تو زرد پڑجاتے ہیں اور جب بالکل تیار ہوجاتے ہیں تو خشک ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ اصحاب عقل و بصیرت کے لیے اس میں بہت بڑی عبرت ہے وہ اس سے ایک طرف اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–21
ربط آیات :
اس سے پہلے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں بہت سے دلائل بیان ہوئے پھر نیک وبد اور عالم و جاہل کا تقابل ہوا کہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ دلائل سے عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اگر کسی مقام پر کفار ومشرکین کا غلبہ ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شعائر دین پر عمل درآمد نہیں کرنے دیتے تو پھر وہاں سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں ، ظاہر ہے کہ ترک وطن میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تکالیف کو صبر و استقامت سے…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَلَكَہٗ يَنَابِيْعَ فِي الْاَرْضِ ثُمَّ يُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُہٗ ثُمَّ يَہِيْجُ فَتَرٰىہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُہٗ حُطَامًا 0 ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِاُولِي الْاَلْبَابِ 21ۧ
رأى
والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس :
والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو :
لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ،
والثاني : بالوهم والتّخيّل،
نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] .
والثالث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ترکیب : ان اللہ الخ الجملۃ سد مسد المفولین ینابیع جمع ینبوع وھو یفعول من نبع ینبع وھی منصوب بنزع الخافض لان التقدیر فسل کہ فی ینابیع یھیج ای یجف و بیبس یقال ھاج البنت یھیج ھیجا اذا تم جفافہ او یخضر۔ ولاحطام مایتفتت و یکسر۔
تفسیر : جبکہ خدا تعالیٰ اور آخرت کے وہ صفات بیان فرما چکا کہ جن سے اس کی طرف رغبت ہو تو اس کے بعد دنیا کی بےثباتی بیان کرکے اس سے نفرت دلاتا اور اسی بات کو حشر برپا ہونے کا نمونہ بتاتا ہے۔ فقال الم تران اللہ انزل من السماء ماء کہ اے نبی ! یا اے ہر مخاطب کیا تو نہیں دیکھتا کہ اللہ اوپر سے پانی بارش کا برساتا ہے، پھر اس کو زمین میں پیوست کردیتا ہے۔ زمین اس کو پی جاتی ہے، پھر…
Read the full tafseer →اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَسَلَکَہٗ یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ ثُمَّ یُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُـہٗ ثُمَّ یَھِیْجُ فَتَرٰہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَجْعَلُـہٗ حُطَامًا ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِاُوْلِی الْاَلْبَابِ ۔ (الزمر : 21)
(کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے زمین کے اندر چشمے جاری کردیئے، پھر وہ اس پانی کے ذریعے مختلف قسم کی کھیتیاں نکالتا ہے، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں اور تم ان کو زرد دیکھتے ہو، پھر وہ ان کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے، بیشک اس میں ایک سبق ہے عقل والوں کے لیے۔ )
ایک مثال سے زوال کی وضاحت
قریشِ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس اچھے قول کی متقی پیروی کرتے ہیں اس کی مثال بارش کی مانند ہے :
اچھے قول سے مراد ” اللہ “ کا دین ہے جسے ” اللہ “ نے وحی کے ذریعے نبی آخر الزمان ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ اس کی مثال یہاں اور سورة البقرہ کی آیت 19 میں بارش کے ساتھ دی گئی ہے۔” اس کی مثال آسمان سے بارش کی طرح جس میں اندھیرے گرج ‘ اور بجلی ہے لوگ موت سے اور کڑک سے ڈر کر اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔ “ (البقرۃ : 19) اس مقام پر ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل کرتا ہے جسے زمین کے سوتوں میں پہنچاتا اور چشمے جاری کرتا ہے۔ پھر اس کے ذریعے مختلف قسم کی فصلیں…
Read the full tafseer →پانی اتارنے ‘ کھیتی نکالنے میں عقل والوں کے لئے عبرت :
21: اَلَمْ تَرَاَنَّ اللّٰہَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآ ئِ مَآ ئً ( کیا تم نے اسپرنظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا ہے) الماء سے مراد بارش ہے۔
ایک قول :
تمام زمین کے پانی بھی آسمان سے ہیں پہلے صخرہ پر اترتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو تقسیم کردیتے ہیں۔ فَسَلَکَہٗ (پس اس کو داخل کردیا) یَنَابِیْعَ فِی الْاَرْضِ (زمین کے چشموں میں) ینابیع چشموں اور پانی کے چلنے کے راستے اور گزرگا ہیں۔ جیسا کہ جسم میں رگیں۔
نحو : ینابیع یہ حال کی وجہ سے منصوب ہے یا ظرفیت کی بناء پر منصوب ہے۔ فی الارضؔ یہ ینابیع کی صفت ہے۔
ثُمَّ یُخْرِجُ بہٖ (پھر اس…
Read the full tafseer →21، الم تران اللہ انزل من السماء ماء فسل کہ ، اس پانی کو داخل کردیا۔ ، ینابیع، چشموں اور نہروں میں۔ ، فی الارض، شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ زمین کا ہر پانی آسمان سے اترا ہے۔ ، ثم یخرج بہ، پانی کے ذریعے، زرعا مختلفا الوانہ، مسرخ اور زرد اور سبز مختلف کی کھیتیاں پیداکیں۔
ثم یھیج ، خشک ہوجاتا ہے ۔ ، فتراہ، اس کی سرسبزی اور رونق کے بعد، مصفرالم یجعلہ حطاما، ٹکڑے ٹوٹے ہوئے، ان فی ذلک لذکری لاولی الالباب،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
17۔ 18۔ اگرچہ تفسیر زید بن اسلم اور تفسیر ابن 1 ؎ ابی حاتم میں لکھا ہے کہ ابی ذر غفاری (1 ؎ بحوالہ تفسیر الدرالمنثورص 324 ج 5) اور سلیمان فارسی اور زید بن عمرو بن نفیل ان تین شخصوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر نے اس بات کو صحیح ٹھہرایا ہے 2 ؎ کہ آنحضرت ﷺ کے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 48 ج 4) زمانہ میں یا صحابہ کے یا حال کے زمانہ میں غرض کسی زمانہ میں جو کوئی بت پرستی سے بچا اور توحید اختیار کی اس طرح کے سب لوگوں کی شان میں یہ آیت صادق آتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوشخبری کے قابل اور صاحب ہدایت اور صاحب عقل ان ہی لوگوں کو ٹھہرایا ہے جو دین کی بات کو سن کر اس کے…
Read the full tafseer →آیت 21
اللہ تعالیٰ عقل مندوں کو یاد دلاتا ہے کہ اس نے آسمان سے پانی برسایا، اس پانی کو زمین کے اندر چشموں کی صورت میں رواں دواں کیا، یعنی اس پانی کو چشموں میں محفوظ کیا جہاں سے یہ پانی نہایت آسانی اور سہولت سے نکالا جاتا ہے۔ (ثم یخرج بہ زعا مختلفاً الوانہ) ” پھر اللہ تعالیٰ اس پانی کے ذریعے سے مختلف قسم کے غلہ جات نکالتا ہے “ مثلاً گیہوں، مکئی، جو اور چاول پیدا کرتا ہے۔ (ثم یھیج) پھر یہ کھیتیاں پوری طرح پک کر یا کسی آفت کی وجہ سے خشک ہوجاتی ہیں (فترنہ مصفرا ثم یجعلہ حطاماً ) ” تو تم اسے زرد دیکھتے ہو۔ پھر وہ اسے چورا چورا کردیتا ہے۔ “ (آیت) ” بلا شبہ عقل مندوں کے لئے البتہ اس میں نصیحت ہے۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →46 پانی کی نعمت اور اس کے نہایت پر حکمت نظام میں سامان غور و فکر : سو قدرت نے مخلوق کی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے پانی کو زمین میں محفوظ رکھنے کیلئے نہایت ہی پر حکمت نظام قائم فرمایا ہے جس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ " یَنَابِیْع " جو کہ " یَنْبُوْعٌ " کی جمع ہے اس کا اطلاق لغت کے اعتبار سے ان تینوں معنوں پر ہوتا ہے جن کا ذکر ہم نے ترجمہ کے اندر کیا ہے۔ اس لئے ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی بجائے تینوں کو ذکر کردیا ہے۔ سو اس لحاظ سے اگر اسی ایک لفظ پر صحیح طریقے سے غور کرلیا جائے تو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت و حکمت کے عجائب نظر آئیں گے اور اس میں معانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ
تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 7 کیونکہ یہی حال انسان کا ہے۔ پہلے بچہ ہوتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے پھر پختہ ہو کر بوڑھا ہوجاتا ہے اور آخر کار دنیا سے سدھار جاتا ہے اور یہی حال دنیا کا ہے۔ اس کی سب زمینیں عارضی اور چند روزہ ہیں اور آخر کار اس کی ہر چیز کو فنا ہونا ہے۔ اس کے ہر کمال کو انحطاط اور ہر عروج کو زوال ہے۔
Read the full tafseer →(39:21) الم تر۔ اس میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے۔ نفی کی نفی اثبات ہوتی ہے کیا تو نے نہیں دیکھا۔ یعنی تو نے ضرور دیکھا ہے
فسل کہ : سلک ماضی واحد مذکر غائب۔ باب نصر۔ اس نے داخل کیا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ اس نے اس کو داخل کیا۔ یہاں ماضی بمعنی حال ہے یعنی وہ اس کو (یعنی اس پانی کو) داخل کرتا ہے۔
ینابیع۔ اسم جمع۔ ینبوع واحد۔ چشمے۔ زمین وہ سوت جن میں سے پانی پھوٹ کر نکلتا ہے۔ نبع ونبوع مصدر (باب نصر۔ فتح۔ ضرب) کنویں یا چشمے سے پانی پھوٹ کر نکلنا۔ سل کہ ینابیع : ای ادخلہ ینابیع۔ وہ اسے زمین کے سوتوں میں داخل کرتا ہے۔
یخرج۔ فعل مضارع واحد مذکر غائب اخراج (افعال) مصدر وہ نکالتا ہے وہ پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 23 :۔ سلک ( وہ چلا) ینابیع ( چشمے) زرع ( کھیتی) الوان (لون) (رنگ) یھیج (وہ خشک کرتا ہے) مصفر ( زرد) حطام (چورہ چورہ) شرح (اس نے کھول دیا) صدر ( سینہ) قسیۃ ( سخت) احسن الحدیث ( بہترین کلام) مثانی ( بار بار) تقشعر (وہ رونگٹے کھڑے کرتا ہے) جلود ( جلد) ( کھالیں) تلین ( نرم پڑجانا) ھاد (ہدایت دینے والا ، رہنما)
تشریح : آیت نمبر 21 تا 23 :۔ ان آیات میں خاص طور پر تین باتوں کو بیان کیا گیا ہے ٭دنیا کی بےثباتی اور اس میں دن رات کے انقلابات ٭ شرح صدر کی حقیقت٭کلام اللہ کی عظمت اور اس کی صفات
٭اللہ تعالیٰ نے دنیا کی بےثباتی اور آئے دن کے انقلابات کو اس مثال سے ذہن نشین فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(ف 2) اے محبوب وہ شخص جس پر عذاب کا وعدہ ثابت ہوچکا اور اس کی قسمت میں معذب ہونالکھ چکا تو کیا تم ایسے شخص کو جو آگ میں دیدہ دانستہ پھنستا ہے اور یقینا بدبخت ازلی ہے عذاب دوزخ سے بچاسکتے ہو نجات دلاسکتے ہو نہیں اور ہر گز نہیں پس ان کے انکار سے غمگین نہ ہوں۔
مناظر جنت۔
لیکن وہ آدمی جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں موحد ہیں ان کے لیے جنت میں بالاخانہ ، دریچہ، محل، بلند عالیشان اور ان بالاخانوں پر اور بالاخانے مضبوط بنے ہوئے ہو اسے باتیں کرتے ہوئے آراستہ و پیراستہ ہیں انکے نیچے شراب ناب وآب صاف شفاف شیریں وشہد خالص کی نہریں رواں ہوں گی اللہ کا وعدہ مسلمانوں سے ہے جس کو وہ ہرگز خلاف نہ کرے گا اور خدا کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
[15] یعنی عقل مند آدمی کھیتی کا حال دیکھ کر نصیحت حاصل کرتا ہے کہ جس طرح اس کی رونق اور سرسبزی چند روزہ تھی پھر وہ چورا چورا ہوگئی۔ یہی حال دنیا کی چہل پہل کا ہوگا۔ پس آدمی کو چاہئے کہ دنیا کی اس عارضی
بہار پر فریفتہ ہو کر انجام سے غافل نہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →دنیائے فنا کی ایک مثال !
3: اس دنیائے دواں اور عالم کی کتنی عبرتناک تصویر ہے کہ جس طرح پانی آسمان سے برستا ہے ۔ اور وہ سوتوں میں داخل ہوجاتا ہے ۔ اور پھر بوقلمون نباتات کو اگاتا اور تازگی اور شادابی بخشتا ہے ۔ پھر یہ سب کچھ سوکھ جاتے ہے ۔ اور خشک ہوکر چورہ چورہ ہوجاتا ہے ، اسی طرح انسان پیدا ہوتا ہے جوان ہوتا ہے اور بڑھاپا اس کو زرد اور ضعیف الاعضاء بنادیتا ہے ۔ اور پھر آخر موت اس کا خاتمہ کردیتی ہے اور مٹی میں ملا دیتی ہے ۔
Read the full tafseer →(21) کیا اے مخاطب تونے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کی جانب سے پانی نازل فرمایا پھر اس پانی کو زمین کے ان مقامات میں داخل کردیا جو پانی بہنے اور نکلنے کے مقامات ہیں یعنی ان سوتوں میں پانی کو پہنچا دیتا ہے جن سوتوں سے وہ پانی کنویں یاچشموں سے بآسانی حاصل کیا جاسکتا ہے پھر اس پانی سے مختلف اور گوناگوں رنگوں کی کھیتیاں پیدا کرتا اور نکالتا ہے پھر وہ کھیتی خشک ہوجاتی ہے پس اے مخاطب تو اس کو زرد رنگ دیکھتا ہے پھر وہ اس کھیتی کو چورا کر ڈالتا ہے بیشک کھیتی کی اس مذکورہ حالت میں اہل عقل وخرد کے نصیحت و عبرت ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت کی دلیل ہے بعض حضرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ف 2۔ یعنی جود وزخ میں جانے والے ہیں وہ کوشش سے بھی ضلالت سے نہ نکلیں گے، تو تاسف و غم بےسود ہے۔
Read the full tafseer →اللہ ہی وہ ذات ہے جو آسمانوں سے بارش برساتا ، زمین میں پانی جاری کرتا ہے
21۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ آسمان سے بارش برساتا ہے۔ انسان نے جو بارش برسنے کی ٹو لگائی ہے اور اس کی وضاحت بیان کی ہے وہ سو فی صدی صحیح ہو تو بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں آدمی بارش برساتا ہے یا فلاں حکومت بارش برساتی ہے ہاں ! بارش برسانے کے لیے جو اصول و قانون اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں بنایا ہے اس اصول و قانون کا کھوج لگا نا بلاشبہ انسان کا کمال ہے اور اس کمال کا انکار کسی صورت جائز نہیں ہے بلکہ یہ انسان کا حق تھا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس قانون اور اصول کا کھوج…
Read the full tafseer →Commentary
The word: يَنَابِيعَ (yanabi in verse 21: فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ (made it penetrate into the earth [ and gush forth ] in the form of springs) is the plural form of: یَنبُوع (yanbu) which means springs that gush out from the soil. The sense is that the act of sending down water from the sky is by itself a great blessing, but also crucial was the arrangement to conserve it underground. But for this arrangement to save this blessing of water, its users would have derived benefit from it only at the time of rains, or for a few days following it. Although, on water depends…
Read the full tafseer →38 The word yanabi`in the Text is comprehensive and applies to all the three sources of water.
39 That is, "A man of understanding learns this lesson from it that the life of this world and its adornments are all transitory: the end of every spring is autumn; the fate of every youth is weakness and death; and every rise has a fall. Therefore, this world is not something of which one should be charmed and enamoured so as to forget God and the Hereafter and should conduct himself here in a manner as to nun his Hereafter, only for the sake of enjoying the short lived pleasures of this world.…
Read the full tafseer →