Explained with ayahs 19–20
نیک اعمال کے حامل لوگوں کے لئے محلات۔
فرماتا ہے کہ جس کی بدبختی لکھی جا چکی ہے تو اسے کوئی بھی راہ راست نہیں دکھا سکتا کون ہے جو اللہ کے گمراہ کئے ہوئے کو راہ راست دکھا سکے ؟ تجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ تو ان کی رہبری کر کے انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ہاں نیک بخت نیک اعمال نیک عقدہ لوگ قیامت کے دن جنت کے محلات میں مزے کریں گے، ان بالا خانوں میں جو کئی کئی منزلوں کے ہیں، تمام سامان آرائش سے آراستہ ہیں وسیع اور بلند خوبصورت اور جگمگ کرتے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے محل ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے صاف دکھائی دیتا ہے۔ ایک اعرابی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ کن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
سورة الزُّمَر 37
یعنی جس نے اپنے آپ کو خدا کے عذاب کا مستحق بنا لیا ہو اور اللہ نے فیصلہ کرلیا ہو کہ اسے اب سزا دینی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
معارف و مسائل
فَبَشِّرْ عِبَادِ۔ الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ
اس آیت کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے اقوال متعدد ہیں۔ ایک قول وہ ہے جس کو ابن کثیر نے لیا اور خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ قول سے مراد اللہ کا کلام قرآن یا قرآن مع تعلیمات رسول ہے اور وہ سب احسن ہی احسن ہے۔ اس لئے مقتضی مقام کا بظاہر یہ تھا کہ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَہ، کہا جاتا مگر اس کی جگہ لفظ احسن کا اضافہ کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان لوگوں نے قرآن اور تعلیمات…
Read the full tafseer →(آیت 20)
نکن یہاں استدراک کے لئے ہے اس وجہ سے اس کا موزوں ترجمہ البتہ ہوگا۔
مبینۃ یہاں آراستہ و پیراستہ (Furnished) کے مفہوم میں ہے۔ عربی میں بنی الدار جس طرح مکان بنانے کے مفہوم میں آتا ہے اسی طرح مکان آرساتہ کرنے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ مفسرین نے اس معنی کی طرف توجہ نہیں کی ہے لیکن قرآن اور کلام عرب میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ آگے کسی موزوں مقام پر اس کی تحقیق آئے گی۔
وعد اللہ فعل محذوف سے منصوب اور اس کی تاکید کے لئے ہے۔
اوپر کفار کے لئے جو عذاب لھم من فوقھم ظل من النار ومن تحتھم ظلل کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اپنے رب سے ڈرتے اور شرک سے بچتے…
Read the full tafseer →20۔ 1 جو اس نے مومن بندوں کے لئے کیا ہے اور جو یقینا پورا ہوگا، کہ اللہ سے وعدہ خلافی ممکن نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
10: اس کا زیادہ واضح مطلب یہ ہے کہ وہ سنتے تو سب کچھ ہیں، لیکن پیروی اسی بات کی کرتے ہیں جو بہترین ہو (روح المعانی عن الزجاج)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 20
اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے منزل بنی ہوئی بلند عمارتوں یعنی بالاخانوں کا یہ منظر اہل جہنم کے اس منظر کے بالمقابل ہے جن سے اوپر بھی چھتریاں ہوں گی آگ کی اور نیچے بھی ہوں گی۔ یہ تقابل قرآن کے انداز کلام کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ ان تمام مناظر میں پایا جاتا ہے جو قرآن مجید میں تقابلی مناظر کے طور پت پیش کئے گئے ہیں۔
یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ ہمشہ واقع ہوکر رہتا ہے۔ جن مسلمانوں نے سب سے پہلے اس قرآن کوسنا۔ انہوں نے ان مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ ان کے لیے کوئی وعدہ یا وعید دورنہ تھا ۔ ان کے قلوب اور ان کے احساسات تو ان کی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ یہ وعدے اور وعید تو ان کے…
Read the full tafseer →4 یہ جنت کے درجات کی طرف اشارہ ہوا۔ اور یہ کہ وہ سب تیار ہیں۔ نہ یہ کہ قیامت کے روز تیار کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 20 { لٰـکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِہَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّۃٌ} ”لیکن وہ لوگ جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے ہوں گے بالا خانوں پر بالا خانے ایک دوسرے کے اوپر ُ چنے ہوئے۔“
اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں کئی کئی منزلہ رہائش گاہیں skyscrapers عطا فرمائے گا۔
{ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُط } ”ان کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی۔“
{ وَعْدَ اللّٰہِط لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ } ”یہ اللہ کا وعدہ ہے ‘ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔“
Read the full tafseer →30 کیا جنت اور دوزخ تیار کی جا چکی ہیں :۔ بعض دفعہ امت میں ایسی بےکار بحثیں شروع ہوجاتی ہیں جن کا انسان کی عملی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لیکن جب شروع ہوجائیں تو اہل حق کو جواباً کچھ کہنا ہی پڑتا ہے۔ ایسے ہی مسائل میں سے ایک یہ ہے کہ آیا جنت اور جہنم تیار کی جاچکی ہیں یا قیامت کے بعد لوگوں کے جزاو سزا کے فیصلوں کے بعد تیار ہوں گی۔ کتاب و سنت کے الفاظ میں یہ صراحت موجود ہے کہ یہ تیار ہوچکی ہیں۔ مگر ایک فرقہ نے اس کا انکار کیا اور کہا کہ قیامت کے بعد تیار ہوں گی۔ اس آیت میں لفظ مبنیۃ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ بالا خانے بنائے جاچکے ہیں۔ یہاں بالا خانوں سے مراد یہ نہیں ایک مکان پر کوئی چوبارہ…
Read the full tafseer →31۔ یہ تصریح اس لیے بھی ضروری تھی کہ مشرک قوموں میں دیوی دیوتاؤں پر ایفاء عہد مطلق واجب نہ تھا۔ (آیت) ” لکن۔ لکن۔ یہاں بطور حرف استدراک کے کسی قول سابق کی تردید کے لیے نہیں بلکہ ایک دوسری بات شروع کرنے کے لیے آیا ہے، لکن لیس للاستدراک لانہ لم یات نفی بل ھو لترک قصۃ الی قصۃ مخالفۃ للاولی (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین…
Read the full tafseer →لکن الذین اتقوا ربھم لھم غرف من فوقھا غرف مبنیۃ تجری من تحتھا الانھر لیکن جو
لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ‘ ان کیلئے جنت کے بالاخانے ہیں جن کے اوپر اور بالاخانے بنے ہوئے ہیں (اور) ان کے نیچے نہریں چل رہی ہیں۔ یعنی جن لوگوں کیلئے اللہ کا حکم رحمت محقق ہوچکا ہے اور اللہ کے علم (ازلی قدیم) میں یہ بات پہلے سے موجود ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈریں گے ‘ ان کیلئے جنت کے اندر بالاخانے ہیں۔
اتَّقَوْا بصیغۂ ماضی ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ جن لوگوں کے متقی بننے کا فیصلہ (ا اللہ کے علم ازلی میں) ہوچکا ہے تو گویا وہ متقی ہو ہی گئے۔
غُرَفٌ جنت کے اندر بالاخانے۔ مِّنْ فَوْقِھَا غُرَفٌ بالاخانوں کے اوپر بالاخانے ‘…
Read the full tafseer →لیکن جو لوگ توحید خداوندی کا اقرار کرتے ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی ان کے لیے بالا خانے جن کے اوپر اور بالاخانے ہیں جو بنے بنائے تیار ہیں جن کے محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ شہد پانی اور پاکیزہ شراب کی نہریں چل رہی ہیں یہ اللہ نے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →لٰكِنِ الَّذِيْنَ اتَّــقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ۔۔ : جہنمیوں کے ذکر کے ساتھ ہی متقیوں کا حسن انجام بیان فرمایا، تاکہ ترہیب کے ساتھ ترغیب بھی جاری رہے۔ علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (إِنَّ فِي الْجَنَّۃِ لَغُرَفًا یُرٰی ظُہُوْرُہَا مِنْ بُطُوْنِہَا وَ بُطُوْنُہَا مِنْ ظُہُوْرِہَا فَقَامَ إِلَیْہِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ لِمَنْ ہِيَ یَا نَبِيَّ اللّٰہِ ! ؟ قَالَ ہِيَ لِمَنْ أَطَابَ الْکَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَ أَدَام الصِّیَامَ وَ صَلّٰی لِلّٰہِ باللَّیْلِ وَ النَّاسُ نِیَامٌ) [ ترمذي، صفۃ الجنۃ، باب ما جاء في صفۃ غرف الجنۃ : 2527، و قال الألباني حسن ] ”جنت میں ایسے…
Read the full tafseer →جب یہ بیانب کیا کہ کفار کے لئے آگ کے اوپر اور نیچے سے سائے ہونگے اب یہ بیان کیا کہ متقین کے لئے بالا خانوں پر بالا کا نے ہیں کیونکہ جنت کے کئی درجات ہیں ان میں سے بعض بعض کے اوپر ہیں لکن یہاں استدراکیہ نہیں ہے کیونکہ نفی نہیں آئی جس طرح یہ قول یہ ما رایت زید الکن عمرا اس میں نفی موجود ہے بلکہ یہ ایک قصہ کو ترک کر کے دوسرے قصہ کی طرف منتقل ہونے کے لئے ہے جو قصہ پہلے کے مخالف ہوتا ہے جس طرح تیرا قول ہے جائنی زید لکم عمرو لم یات۔
غرف مبنیۃ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : وہ بالا خانے زبر جد اور یاقوت کے بنے ہوئے ہونگے تجری من تخ تھا الانھر یعنی یہ نزہت کے اسباب کو جامع ہوں گے وعداللہ یہ مفعول مطلق ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
1:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لھم غرف من فوقھا غرف “ (ان کے لئے) بالا خانے ہیں) یعنی بلند وبالا مکانات ہوں گے۔
Read the full tafseer →لٰكِنِ الَّذِيْنَ [لیکن وہ لوگ جنہوں نے ] اتَّــقَوْا رَبَّهُمْ [تقوی اختیار کیا اپنے رب کا ] لَهُمْ غُرَفٌ [ان کے لئے بالاخانے ہیں ] مِّنْ فَوْقِهَا [ان کے اوپر سے ] [غُرَفٌ مَّبْنِيَّةٌ ۙ : سجے سجائے بالاضانے میں ] تَجْرِيْ [بہتی ہیں ] مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ڛ [جن کے نیچے سے نہریں ] وَعْدَ اللّٰهِ ۭ[(وعدہ ہوا) جیسا اللہ کے وعدے کا حق ہے ] لَا يُخْلِفُ اللّٰهُ [خلاف نہیں کرتا اللہ ] الْمِيْعَادَ [وعدے کے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ اَفَاَنْتَ تُنقِذُ مَنْ فِی النَّارِ ) (سو کیا جس شخص کے بارے میں عذاب کی بات طے ہوچکی ہے کیا آپ اسے چھڑالیں گے جو دوزخ میں ہو) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گمراہی پر جمنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طے ہے کہ انہیں دوزخ میں جانا ہے اور وہ بھی اپنے بارے میں یہ طے کرچکے ہیں کہ ہمیں ایمان قبول کرنا نہیں وہ دوزخ کی وعیدیں سنتے ہیں لیکن پھر بھی کفر پر جمے ہوئے ہیں کیا آپ انہیں دوزخ سے بچا دیں گے یعنی یہ آپ کا کام نہیں ہے لہٰذا جو شخص ہدایت قبول نہ کرے اس کی وجہ سے آپ غمگین نہ ہوں، اس کے بعد اس بشارت کا تذکرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
مذمت ووعید بر شقاوت مجر میں و فلاح وکامرانی مومنین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افمن حق علیہ .......... الی .......... لاولی الالباب :
(ربط) گذشتہ آیات میں بالقصد اور اصل بیان مومنین ومطیعین کا اور عنداللہ انکے درجات و انعامات کا تھا درمیان میں ضمنا مجرمین کے خسارہ کا بھی ذکر ہوگیا تھا اب ان آیات میں ایسے بدنصیب اور محروم لوگوں کی ذلت وناکامی اور اہل ایمان وطاعت کی کامیابی کا بیان ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت کے یہاں انکے درجات کس قدر بلند ہوں گ ے۔
ارشاد فرمایا کیا وہ شخص جس پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے بھلا کیا آپ اس کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا سکتے ہیں اس لئے کہ جن کے حق میں یہ فیصلہ ہوچکا وہ…
Read the full tafseer →24:۔ ” لکن الذین الخ “ یہ بشارت اخروی ہے۔ لیکن جو لوگ دنیا میں اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈر کر اس کی عبادت و اطاعت میں سرگرم رہے ان کے لیے جنت میں منزل بہ منزل بہ منزل بالا خانے ہوں گے۔ اور نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں فرماتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–21
ربط آیات :
اس سے پہلے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں بہت سے دلائل بیان ہوئے پھر نیک وبد اور عالم و جاہل کا تقابل ہوا کہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ دلائل سے عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اگر کسی مقام پر کفار ومشرکین کا غلبہ ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شعائر دین پر عمل درآمد نہیں کرنے دیتے تو پھر وہاں سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں ، ظاہر ہے کہ ترک وطن میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تکالیف کو صبر و استقامت سے…
Read the full tafseer →لٰكِنِ الَّذِيْنَ اتَّــقَوْا رَبَّہُمْ لَہُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِہَا غُرَفٌ مَّبْنِيَّۃٌ 0 ۙ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ 0ۥۭ وَعْدَ اللہِ 0 ۭ لَا يُخْلِفُ اللہُ الْمِيْعَادَ 20
وقی
الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35]
( و ق ی ) وقی ( ض )
وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ترکیب : الطاغوت کالر حموت والعظموت بناء مبالغۃ فی المصدر، ویونث قبیل اعجمی کطالوت وجالوت وقیل عربی من الطغیان الان فیہا قلبًا بتقدیم اللام علی العین، والمراد بھا الاوثان والشیطان وقیل الکاھن، ان یعبد وھافی محل نصب علی البدل من الطاغوتبدل اشتمال و انابوا معطوف علی اجتنبوا لہم البشری الجملۃ خبروالذین افمن من موصولۃ فی محل رفع بالا ابتداء والخبر محذوف ای کمن یخاف او شرطیۃ افانت جوابہ۔
تفسیر : بت پرستوں کی برائی اور ان پر پیش آنے والی مصیبت کے ذکر کے بعد ان سے بچنے والوں اور خدا کی طرف رجوع ہونے والوں کے خصائل اور ان کے نتائج بیان فرماتا ہے۔ گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے۔ فقال والذین اجتنبوا…
Read the full tafseer →لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِھَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّۃٌ لا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ 5 ط وَعْدَاللّٰہِ ط لاَ یُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ ۔ (الزمر : 20)
(البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے ان کے لیے بالاخانے اور بالا خانوں کے اوپر بھی آراستہ بالاخانے ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ )
مَبْنِیَّۃٌاس کا فعل ماضی بنیٰ ہے۔ بنیٰ الدار کا معنی ہوتا ہے اس نے گھر بنایا۔ اس لحاظ سے مَبْنِیَّۃٌ کا معنی ہوگا، بنایا گیا یا بنایا ہوا۔ عام طور پر یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے اسی لیے اکثر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : احسن بات کو قبول کرنے اور طاغوت سے بچنے والوں کا صلہ۔
طاغوت سے بچنے اور اپنے رب سے ڈر کر زندگی گزارنے والے کو ان کا رب جنت کے بلند وبالا محلات اور اعلیٰ مقامات میں داخل فرمائے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ متقین کے ساتھ ان کے رب کا وعدہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
تقویٰ کیا ہے :
” اللہ کی ذات، احکام اور اس کے شعائر کے احترام کرنے کا نام تقویٰ ہے۔ “ (الحج : 32)
” تقویٰ نام ہے اللہ کے احکام پر عمل پیرا ہونے اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے کا۔ “ (النور : 52)
” تقویٰ نام ہے سمع و اطاعت کے باوجود اپنے رب سے ڈرتے رہنے کا۔ “ (التغابن : 16)
(عَنْ أَبِی…
Read the full tafseer →حقیقت میں بالا خانے ملیں گے :
20: لٰـکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَہُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِھَا غُرَفٌ (لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ ان کے لئے بالا خانے ہیں جن کے اوپر اور بالا خانے ہونگے) جنات کے مکانات بلند ہونگے۔ اور ان کے اوپرمکانات ہونگے جو ان سے بھی بلند تر ہونگے یعنی کفار کیلئے اگر آگ کے طبقات ہونگے تومتقین کے لئے بالا خانے ہونگے۔ مَّبْنِیَّۃٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْھٰرُ (جو بنے بنائے تیار ہیں ان کے نیچے نہریں چل رہی ہیں) یعنی ان منازل کے نیچے وَعْدَ اللّٰہِ لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ الْمِیْعَادَ (یہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اللہ تعالیٰ وعدہ میں خلاف نہیں کرتا)
نحو :…
Read the full tafseer →20، لکن الذین اتقواربھم لھم غرف من فوقھا غرف مبنیہ، یعنی جنت میں بلند رہائیش اور ان کے اوپر ان سے بھی بلند رہائش گاہ ہوگی۔ ، تجری من تحتھا الانھار ووعداللہ لایخلف اللہ المیعاد، یعنی اللہ تعالیٰ نے ان سے ان بالا خانوں کا وعدہ کیا ہے جس کی خلاف ورزی نہ ہوگی۔ حضرت ابوسعید خدری ؓ نے نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اہل جنت اپنے سے اوپر بالا خانوں والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے تم تاریک رات میں چمکدار ستارے کو مشرق یا مغرب کے افق میں دیکھتے ہو۔ یہ (فاصلہ) ان کے درمیان مرتبے کے فرق کی وجہ سے ہوگا۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ انبیاء (علیہم السلام) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
17۔ 18۔ اگرچہ تفسیر زید بن اسلم اور تفسیر ابن 1 ؎ ابی حاتم میں لکھا ہے کہ ابی ذر غفاری (1 ؎ بحوالہ تفسیر الدرالمنثورص 324 ج 5) اور سلیمان فارسی اور زید بن عمرو بن نفیل ان تین شخصوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر نے اس بات کو صحیح ٹھہرایا ہے 2 ؎ کہ آنحضرت ﷺ کے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 48 ج 4) زمانہ میں یا صحابہ کے یا حال کے زمانہ میں غرض کسی زمانہ میں جو کوئی بت پرستی سے بچا اور توحید اختیار کی اس طرح کے سب لوگوں کی شان میں یہ آیت صادق آتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوشخبری کے قابل اور صاحب ہدایت اور صاحب عقل ان ہی لوگوں کو ٹھہرایا ہے جو دین کی بات کو سن کر اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت 19
یعنی وہ شخص جس کے گمراہی، عناد اور کفر پر جمے رہنے کے باعث، اس پر عذاب کا حکم واجب ہوگیا، تو اس کی ہدایت کے لئے آپ کے پاس کوئی چارہ ہے نہ آپ اس شخص کو کسی صورت میں آگ سے بچا سکتے ہیں جو آگ میں گر چکا ہو۔ ہر قسم کا غنا اور فوز و فلاح صرف تقویٰ شعار لوگوں کے لئے ہے جن کے لئے اکرام و تکریم اور مختلف اقسام کی نعمتیں تیار کی گئی ہیں جن کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ (لھم غرف) یعنی ان کے لئے آراستہ کئے گئے بالا خانے ہیں، جن کی خوبصورتی، حسن اور صفائی کی بنا پر ان کے اندر صاف دیکھا جاسکے گا اور وہ اپنی بلندی کی وجہ سے یوں نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں غروب ہونے والا ستارہ، بنا بریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
40 بات کو غور سے سننا ایک عمدہ صفت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بات کو غور سے سنتے ہیں "۔ تاکہ یہ حق کو صحیح طور پر سمجھ کر صدق دل سے اپنا سکیں۔ کیونکہ کسی بھی کلام کو سمجھنے اور اس کے حقیقی مطلب تک رسائی کیلئے اولین تقاضا اور بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کو غور اور توجہ سے سنا جائے۔ بہرکیف ان خوش نصیب لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایسے لوگ نہیں ہوتے کہ جب انکے سامنے حق و ہدایت کی بات پیش کی جائے تو یہ لڑنے کے لیے تیار ہوجائیں اور بولنے والے کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ بلکہ یہ بات کو غور سے سنتے ہیں تاکہ یہ حق وباطل اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کرسکیں اور اس کے بعد حق کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ
تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 7 کیونکہ یہی حال انسان کا ہے۔ پہلے بچہ ہوتا ہے، پھر جوان ہوتا ہے پھر پختہ ہو کر بوڑھا ہوجاتا ہے اور آخر کار دنیا سے سدھار جاتا ہے اور یہی حال دنیا کا ہے۔ اس کی سب زمینیں عارضی اور چند روزہ ہیں اور آخر کار اس کی ہر چیز کو فنا ہونا ہے۔ اس کے ہر کمال کو انحطاط اور ہر عروج کو زوال ہے۔
Read the full tafseer →(39:20) غرف جمع غرفۃ واحد بالاخانہ۔ مکان کی بالائی منزل۔ اونچا مکان مراد جنت میں خاص منزل۔
فوقھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع غرف ہے۔
مبنیۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ منبی مذکر ۔ تعمیر کردہ عمارت۔ بنی یبنی بناء بنی بنیۃ (باب ضرب) مصدر۔ بناء تعمیر شدہ عمارت کو بھی کہتے ہیں۔
من تحتھا۔ میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع غرف ہے۔ یعنی نچلے بالا خانوں کے نیچے بھی اور اوپر والے بالا خانوں کے نیچے بھی۔
وعد اللّٰہ۔ مضاف مضاف الیہ اللہ کا وعدہ۔ وعد اسم بھی ہے اور وعد یعد (ضرب) کا مصدر بھی۔ یہاں بطور مصدر برائے تاکید آیا ہے ۔ کیونکہ لہم غرف بمعنی وعدہم اللّٰہ ذلک۔ اللہ نے ان سے ان (بالا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(ف 2) اے محبوب وہ شخص جس پر عذاب کا وعدہ ثابت ہوچکا اور اس کی قسمت میں معذب ہونالکھ چکا تو کیا تم ایسے شخص کو جو آگ میں دیدہ دانستہ پھنستا ہے اور یقینا بدبخت ازلی ہے عذاب دوزخ سے بچاسکتے ہو نجات دلاسکتے ہو نہیں اور ہر گز نہیں پس ان کے انکار سے غمگین نہ ہوں۔
مناظر جنت۔
لیکن وہ آدمی جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں موحد ہیں ان کے لیے جنت میں بالاخانہ ، دریچہ، محل، بلند عالیشان اور ان بالاخانوں پر اور بالاخانے مضبوط بنے ہوئے ہو اسے باتیں کرتے ہوئے آراستہ و پیراستہ ہیں انکے نیچے شراب ناب وآب صاف شفاف شیریں وشہد خالص کی نہریں رواں ہوں گی اللہ کا وعدہ مسلمانوں سے ہے جس کو وہ ہرگز خلاف نہ کرے گا اور خدا کبھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
[14] '' طاغوت '' کی تشریح سورة بقرہ کی آیت 256 صفحہ 78 کے تحت گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →پیکر رحمت وشفقت
1: حضور ﷺ اس شفقت کی بنا کر جو آپ کے سینہ میں پنہاں تھی ۔ اور اس طواطف رافت و محبت کی بنا پر جو ان کو بنی نوع انسان سے تھی ۔ ہمیشہ یہ چاہتے تھے ۔ کہ قریش کے ارباب فکر و دانش اسلام کو قبول کرلیں اور اس سعادت سے محروم نہ رہیں اس لئے بالطبع ان کو بڑا دکھ محسوس ہوتا تھا ۔ جب کہ یہ دیکھتے تھے کہ ان لوگوں کی سرکشی اور بغاوت میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے ۔ اور یہ اللہ کی رحمتوں سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تسکین خاطر کے لئے فرمایا : آپ کیوں ملول ہوتے ہیں ۔ جہاں تک وعظ ونصیحت کا تعلق تھا ۔ آپ نہایت عمدہ طریق سے ان لوگوں کو سمجھا چکے ہیں ۔ اب بھی اگر یہ لوگ حقانیت کو قبول…
Read the full tafseer →(20) مگرہاں وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں تو ان کے رہنے کے لئے ایسے بالاخانے ہیں جن کے اوپر اور بالاخانے بنے ہوئے ہیں ان بالاخانوں کے نیچے نہریں بہہرہی ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ وعدے کا خلاف نہیں کرتا۔ یہ متقی لوگ شاید وہی ہیں جن کا ذکر اوپر گزرچکا ہے مطلب یہ ہے کہ کئی کئی منزل کے مکان ہوں گے بالا خانوں میں کھڑکیاں اور جھرو کے ہوں گے بالاخانے پر بالا خانے نیچے نہریں جاری ہیں آخر میں تاکید کے لئے فرمایا متقیوں کے لئے یہ اللہ نے وعدہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کیا کرتے یعنی تفریح کے تمام سامان مکمل ہوں گے۔
اوپر کی آیتوں میں تقوے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ف 2۔ یعنی جود وزخ میں جانے والے ہیں وہ کوشش سے بھی ضلالت سے نہ نکلیں گے، تو تاسف و غم بےسود ہے۔
Read the full tafseer →پرہیز گاروں کے لیی بالا خانے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے
20۔ (غرف) جمع ہے ( غرفۃ) کی جس کے معنی ہیں بالا خانے ، اوپر کی منزل ۔ فطرتِ انسانی میں شروع ہی سے اونچی منزل کا ایک تصور موجود ہے اگرچہ تہ خانے زیادہ کارآمد اور زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں اور لوگ نہ خانے بناتے بھی ہیں لیکن اس کے باوجودتہ خانوں کی بجائے بلاخانے زیادہ ” انا “ کو تسکین دیتے ہیں اور جنت میں چونکہ ہر اس چیز کا تصور پیش کیا گیا ہے جس کو انسانی طبیعت اس دنیا میں پسند کرتی ہے کیونکہ جو چیز اس کو اس دنیا میں مرغوب ہے اسی کی اس کو چاہت ہوتی ہے کہ انسان کو رہائش کے لیے نیچے سے اوپر کی منزل زیادہ پسند ہے اور خصوصا جب اس کو اترنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
Commentary
In the Tafsir of verses 17 and 18: فَبَشِّرْ عِبَادِ ﴿17﴾ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ (So, give the good news to My servants who listen to what is said, then, follow the best of it. Those are the ones whom Allah has guided, and those are the ones who possess understanding), there are several views expressed by learned commentators. One of these is what Ibn Kathir has opted for. Maulana Ashraf ` Ali Thanavi has also gone by it. According to this view, the word: القول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
37 That is, the person who has made himself worthy of Allah's punishment and about whom Allah has already decided that he will be punished.
Read the full tafseer →