Az-Zumar 39:19

Az-Zumar · from ayah 19

39:19

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ ؕ— اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ ۟ۚاَفَمَنۡ حَقَّ عَلَيۡهِ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ ؕ اَفَاَنۡتَ تُنۡقِذُ مَنۡ فِى النَّارِ‌

بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا۔ تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then, is one who has deserved the decree of punishment [to be guided]? Then, can you save one who is in the Fire?

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:19

(اے نبیؐ) اُس شخص کو کون بچا سکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہو؟ کیا تم اُسے بچا سکتے ہو جو آگ میں گر چکا ہو؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا۔ تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ﺛابت ہو چکی ہے، تو کیا آپ اسے جو دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا جس شخص پر عذاب کی بات طے ہوچکی، تو کیا تم اسے بچا لو گے جو آگ کے اندر پہنچ چکا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی نجات والوں کے برابر ہوجائے گا تو کیا تم ہدایت دے کر آگ کے مستحق کو بچالو گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم ثابت ہو چکا، تو کیا آپ اس شخص کو بچا سکتے ہیں جو (دائمی) دوزخی ہو چکا ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا وہ شخص جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی، پھر کیا تو اسے بچا لے گا جو آگ میں ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا جس شخص پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہو تو (اے نبی) آپ ایسے شخص کو چھڑا سکتے ہیں جو آگ میں گرچکا ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا جس پر عذاب کا قانون پورا ہوچکا اور وہ دوزخ میں ہے) تو تم اس کو نجات دینے والے بنو گے جو دوزخ میں ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا جس شخص پر پکی ہوچکی ہو بات عذاب کی تو کیا آپ (اس کو نواز سکتے ہیں ہدایت کی دولت سے ؟ اور کیا آپ) بچا سکتے ہیں اس کو جو پڑا ہو (دوزخ کی) اس ہولناک آگ میں

— مولانا اسحاق مدنی

بھلا جس پر عذاب کی بات متحقق ہوچکی تو کیا آپ ایسے شخص کو جو دوزخ میں ہوگا چھڑا سکتے ہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا وہ شخص جس پر ثابت ہوچکا ہے عذاب کا فیصلہ ! تو (اے نبی ﷺ !) کیا آپ اس کو بچا سکیں گے جو آگ میں ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا ‘ تو کیا تم ایسے دوزخی کو مخلصی (چھٹکارا) دے سکو گے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), can you save him (from chastisement) against whom the sentence of chastisement has become due; him who has, (as it were), already fallen into the Fire?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So tell Me about the one for whom the word of punishment is destined, - is it you, then, who would save someone who is already in the Fire?

— Muhammad Taqi Usmani

So tell Me about the one for whom the word of punishment is destined, - is it you, then, who would save someone who is already in the Fire?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is, then one against whom the Word of punishment is justified (equal to the one who avoids evil) Will you rescue him who is in the Fire

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is he on whom the word of doom is fulfilled (to be helped), and canst thou (O Muhammad) rescue him who is in the Fire?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then, is one who has deserved the decree of punishment [to be guided]? Then, can you save one who is in the Fire?

— Saheeh International

How can you rescue the one who is destined to suffer the torment?

— Muhammad Sarwar

What! as for him then against whom the sentence of chastisement is due: What! can you save him who is in the fire?

— Muhammad Habib Shakir

Is he then on whom is justified the decree of torment - wilt thou rescue him who is in the Fire?

— Abdul Majid Daryabadi

Is, then, one against whom the decree of Punishment is justly due (equal to one who eschews Evil)? Wouldst thou, then, deliver one (who is) in the Fire?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 19–20

نیک اعمال کے حامل لوگوں کے لئے محلات۔ فرماتا ہے کہ جس کی بدبختی لکھی جا چکی ہے تو اسے کوئی بھی راہ راست نہیں دکھا سکتا کون ہے جو اللہ کے گمراہ کئے ہوئے کو راہ راست دکھا سکے ؟ تجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ تو ان کی رہبری کر کے انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ ہاں نیک بخت نیک اعمال نیک عقدہ لوگ قیامت کے دن جنت کے محلات میں مزے کریں گے، ان بالا خانوں میں جو کئی کئی منزلوں کے ہیں، تمام سامان آرائش سے آراستہ ہیں وسیع اور بلند خوبصورت اور جگمگ کرتے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں جنت میں ایسے محل ہیں جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے صاف دکھائی دیتا ہے۔ ایک اعرابی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ کن کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 19–20

سورة الزُّمَر 37 یعنی جس نے اپنے آپ کو خدا کے عذاب کا مستحق بنا لیا ہو اور اللہ نے فیصلہ کرلیا ہو کہ اسے اب سزا دینی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–20

معارف و مسائل فَبَشِّرْ عِبَادِ۔ الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ اس آیت کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے اقوال متعدد ہیں۔ ایک قول وہ ہے جس کو ابن کثیر نے لیا اور خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ قول سے مراد اللہ کا کلام قرآن یا قرآن مع تعلیمات رسول ہے اور وہ سب احسن ہی احسن ہے۔ اس لئے مقتضی مقام کا بظاہر یہ تھا کہ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَہ، کہا جاتا مگر اس کی جگہ لفظ احسن کا اضافہ کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان لوگوں نے قرآن اور تعلیمات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

افمن حق علیہ کلمۃ العذاب ط افانت تنقد من فی النار (19) ان کا بیان جو خدا کے قانون کی زد میں آ چکے یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی کہ جن کو خدا کی ہدایت نصیب ہوتی ہے ان کی صفات وہ ہیں جو اپور بیان ہوئیں۔ رہے وہ لوگ جو خدا کے قانون عذاب کی زد میں آ چکے ہیں وہ گویا جہنم میں پڑچکے تو کیا تم ان لوگوں کو دوزخ سے نجات دینا چاہتے ہو جو عذاب میں گرفتار ہوچکے کلمۃ العذاب ہے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ کلی فیصلہ ہے جو اس نے ابلیس کے چیلنج کے جواب میں فرما دیا تھا کہ جو لوگ تیری پیروی کریں گے۔ خواہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے، تیرے سمیت میں ان کو جہنم میں بھر دوں گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کلی فیصلہ صادر ہو چا ہے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 نبی ﷺ چونکہ اس بات کی شدید خواہش رکھتے تھے کہ آپ کی قوم کے سب لوگ ایمان لے آئیں اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو تسلی دی اور آپ کو بتلایا کہ آپ کی اپنی جگہ بالکل صحیح اور بجا ہے لیکن جس پر اس کی تقدیر غالب آگئی اور اللہ کا کلمہ اس کے حق میں ثابت ہوگیا، اسے آپ جہنم کی آگ سے بچانے پر قادر نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–20

10: اس کا زیادہ واضح مطلب یہ ہے کہ وہ سنتے تو سب کچھ ہیں، لیکن پیروی اسی بات کی کرتے ہیں جو بہترین ہو (روح المعانی عن الزجاج)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 19 خطاب رسول خدا سے ہے۔ اور اگر رسول اللہ ؐ ان کو آگ سے نہیں بچا سکتے تو آپ کے سوا اور پھر کون ہے جو ان لوگوں کو آگ سے بچاسکے۔ ان جہنمیوں کے منظر کے بالمقابل ان لوگوں کا منظر ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور ان باتوں سے ڈرتے ہیں جن سے اللہ نے ان کو ڈرایا ہے۔ گویا یہ جہنمی عملاً جہنم میں ہیں اور جنتی عملاً جنت میں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی جن پر ان کی ضد وعناد اور بداعمالیوں کی بدولت عذاب کا حکم ثابت ہوچکا، کیا وہ کامیابی کا راستہ پاسکتے ہیں۔ بھلا ایسے بدبختوں کو جو شقاوت ازلی کے سبب آگ میں گر چکے ہوں۔ کون آدمی راہ پر لاسکتا ہے اور کون آگ سے نکال سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19{ اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ } ”تو کیا وہ شخص جس پر ثابت ہوچکا ہے عذاب کا فیصلہ !“ اس کے بعد یہ جملہ گویا محذوف ہے : کَمَنْ ھُوَ فِی الْجَنَّۃِ ؟ یعنی جو شخص عذاب کا مستحق ہوچکا ہے کیا وہ اس شخص کے برابر ہوجائے گا جو کہ جنت میں جانے والا ہے ؟ { اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ } ”تو اے نبی ﷺ ! کیا آپ اس کو بچا سکیں گے جو آگ میں ہے ؟“ یہ وہ لوگ ہیں جو عذاب سے متعلق اللہ کے قانون کی زد میں آ چکے ہیں۔ اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد ان کے دلوں پر مہریں لگا دی گئی ہیں۔ وہ گمراہی میں اس حد تک آگے جا چکے ہیں کہ اب ایمان کی طرف ان کی واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ چناچہ اب وہ آگ کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 یعنی جن لوگوں پر ان کے عناد، ضد اور ہٹ دھرمی اور ان کی بداعمالیوں کے سبب سے عذاب کا حکم ثابت ہوچکا ہو کیا وہ ہدایت کی راہ اختیار کرسکتے ہیں۔ بھلا ایسے بدبختوں کو جو انہی بدعنوانیوں کے باعث آگ میں پڑچکے ہیں۔ انہیں آپ یا کوئی دوسرا راہ راست پر لاسکتا ہے اور انہیں آگ سے نکال سکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ مطلب یہ ہوا کہ جو ایمان کا قصد ہی نہ کرے، اور اپنے کو اسباب ہلاکت سے بچانے کی فکر ہی نہ رکھے، اسے ایمان پر مجبور کردینا، اور اسے نقطہ ایمان پر لے آنا آپ کے امکان واختیار ہی سے خارج ہے، اور ایسے شخص پر تاسف وترددہی بےکار ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–21

آیت نمبر 10 تا 21 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افمن حق علیہ کلمۃ العذاب افانت تنقذمن فی النار بھلا جس شخص پر عذاب کا (ازلی تقدیری) حکم محقق ہوچکا تو کیا ایسے شخص کو جو (علم الٰہی میں) دوزخ کے اندر ہے ‘ آپ چھڑا سکتے ہیں ؟ حَقَّ عَلَیْہِ یعنی اللہ کے علم قدیم میں عذاب اس کیلئے مقرر ہوچکا۔ کذا قال ابن عباس ‘ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد ابولہب اور اس کا بیٹا ہیں۔ جملۂ شرطیہ کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے ‘ پورا کلام اسی طرح تھا : کیا آپ ان کے امور کے مالک و مختار ہیں کہ جس پر حکم عذاب محقق ہوچکا ‘ اس کو دوزخ سے چھڑا لیں گے ؟ مطلب یہ کہ ایسا ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتا۔ ہمزۂ سوالیہ کی تکرار ‘ تاکید انکار کیلئے ہے اور بجائے تنقذھم کے تنقذ من فی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

بھلا جس پر عذاب لازم ہوچکا یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھی تو کیا آپ ایسے دوزخی کو چھڑا سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ ۭ۔۔ : تو کیا وہ شخص جس (کے شیطان کی پیروی اور کفر پر اصرار اور ضد اور عناد کی وجہ سے اس) پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی اور جسے اللہ تعالیٰ آگ میں ڈالنے کا فیصلہ فرما چکا (دیکھیے سورة ص : 85) تو اے نبی ! کیا تو اسے بچالے گا جو آگ میں ہے ؟ نہیں ! تو ہرگز نہیں بچا سکے گا۔ پھر جسے تو نہ بچا سکا تو اور کون ہے جو اسے آگ سے بچا سکے گا ؟ اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ بیشک آپ کی شدید خواہش ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں مگر ایمان لانے کی توفیق دینا یا نہ دینا آپ کے اختیار میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

نبی کریم ﷺ اپنی قوم کے ایمان کے بارے میں حریض تھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کے حق میں شفاعت سبقت لے جا چکی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد ابولہب ‘ اس کی اولاد اور خاندان کے وہ افراد ہیں جو نبی کریم ﷺ پر ایمان نہیں لائے تھے افانت میں ہمزہ کو تاکید کے لئے مکسور ذکر کیا ہے کیونکہ کلام بہت طویل ہو گیی ہے۔ سیبویہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : ایعدکم انکم اذا متم و کنتم ترابا و عظاما انکم مخرجون) المومنون ( کے بارے میں یہی بات کہی ہے جس طرح پہلے بحث گذر چکی ہے۔ معنی ہے کیا جس پر عذاب کا حکم واجب ہوچکا ہے کیا تو اس کو بچانے والا ہے یہ کلام شرط اور اس کے جواب پر مشتمل ہے اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 19–20

1:۔ عبد بن حمید وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لھم غرف من فوقھا غرف “ (ان کے لئے) بالا خانے ہیں) یعنی بلند وبالا مکانات ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَمَنْ [تو کیا وہ ] حَقَّ [ثابت ہوا ] عَلَيْهِ [جس پر ] كَلِمَةُ الْعَذَابِ ۭ [عذاب کا فرمان ] اَفَاَنْتَ [تو کیا آپ ﷺ ] تُنْقِذُ [چھڑا لیں گے ] مَنْ فِي النَّارِ [اس کو جو آگ میں ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–21

(اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ اَفَاَنْتَ تُنقِذُ مَنْ فِی النَّارِ ) (سو کیا جس شخص کے بارے میں عذاب کی بات طے ہوچکی ہے کیا آپ اسے چھڑالیں گے جو دوزخ میں ہو) اس میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گمراہی پر جمنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ طے ہے کہ انہیں دوزخ میں جانا ہے اور وہ بھی اپنے بارے میں یہ طے کرچکے ہیں کہ ہمیں ایمان قبول کرنا نہیں وہ دوزخ کی وعیدیں سنتے ہیں لیکن پھر بھی کفر پر جمے ہوئے ہیں کیا آپ انہیں دوزخ سے بچا دیں گے یعنی یہ آپ کا کام نہیں ہے لہٰذا جو شخص ہدایت قبول نہ کرے اس کی وجہ سے آپ غمگین نہ ہوں، اس کے بعد اس بشارت کا تذکرہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 19–21

مذمت ووعید بر شقاوت مجر میں و فلاح وکامرانی مومنین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افمن حق علیہ .......... الی .......... لاولی الالباب : (ربط) گذشتہ آیات میں بالقصد اور اصل بیان مومنین ومطیعین کا اور عنداللہ انکے درجات و انعامات کا تھا درمیان میں ضمنا مجرمین کے خسارہ کا بھی ذکر ہوگیا تھا اب ان آیات میں ایسے بدنصیب اور محروم لوگوں کی ذلت وناکامی اور اہل ایمان وطاعت کی کامیابی کا بیان ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت کے یہاں انکے درجات کس قدر بلند ہوں گ ے۔ ارشاد فرمایا کیا وہ شخص جس پر عذاب کا فیصلہ ثابت ہوچکا ہے بھلا کیا آپ اس کو دوزخ کے عذاب سے چھڑا سکتے ہیں اس لئے کہ جن کے حق میں یہ فیصلہ ہوچکا وہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

23:۔ ” افمن حق الخ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ جس شخص کے بارے میں اس کے مسلسل انکار و جحود اور تعنت وعناد کی وجہ سے عذاب جہنم کا فیصلہ ہوچکا ہو کیا تو اسے عذاب سے چھڑا سکتا ہے ؟ اتفہام انکاری ہے یعنی تو اس کو عذاب سے نہیں چھڑا سکتا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–21

ربط آیات : اس سے پہلے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں بہت سے دلائل بیان ہوئے پھر نیک وبد اور عالم و جاہل کا تقابل ہوا کہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ دلائل سے عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اگر کسی مقام پر کفار ومشرکین کا غلبہ ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شعائر دین پر عمل درآمد نہیں کرنے دیتے تو پھر وہاں سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں ، ظاہر ہے کہ ترک وطن میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تکالیف کو صبر و استقامت سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْہِ كَلِمَۃُ الْعَذَابِ۝ 0 ۭ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِي النَّارِ۝ 19ۚ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–20

ترکیب : الطاغوت کالر حموت والعظموت بناء مبالغۃ فی المصدر، ویونث قبیل اعجمی کطالوت وجالوت وقیل عربی من الطغیان الان فیہا قلبًا بتقدیم اللام علی العین، والمراد بھا الاوثان والشیطان وقیل الکاھن، ان یعبد وھافی محل نصب علی البدل من الطاغوتبدل اشتمال و انابوا معطوف علی اجتنبوا لہم البشری الجملۃ خبروالذین افمن من موصولۃ فی محل رفع بالا ابتداء والخبر محذوف ای کمن یخاف او شرطیۃ افانت جوابہ۔ تفسیر : بت پرستوں کی برائی اور ان پر پیش آنے والی مصیبت کے ذکر کے بعد ان سے بچنے والوں اور خدا کی طرف رجوع ہونے والوں کے خصائل اور ان کے نتائج بیان فرماتا ہے۔ گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے۔ فقال والذین اجتنبوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ ط اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ ۔ (الزمر : 19) (تو کیا وہ شخص جس پر عذاب کا قانون چسپاں ہوچکا، تو کیا تم اسے بچا سکتے ہو جو آگ میں ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی گزشتہ دو آیتوں میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ نے دنیا اور آخرت میں کامیاب ٹھہرایا ہے انھیں اخروی فلاح کی بشارت بھی دی گئی اور دنیا میں ان کی عقلمندی کی تحسین بھی کی گئی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جو لوگ آپ کی دعوت کو سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور ہزار کوششوں کے باوجود آپ پر ایمان نہیں لاتے آپ ان پر دل گرفتہ نہ ہوں، وہ درحقیقت کلمۃ العذاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–19

فہم القرآن ربط کلام : طاغوت سے اجتناب کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھی بات کو توجہ سے سنیں اور اس پر عمل کریں یہی عقل سلیم کا تقاضا ہے۔ اخلاص اور یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور طاغوت سے اجتناب برتنے والوں کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اچھی سے اچھی بات کو قبول کرتے ہیں۔ انہی لوگوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی کرتا ہے اور یہی عقل والے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت اور عقل مندی کا نتیجہ ہے کہ مختلف قسم کی باتیں سننے کے باوجود ” اللہ “ کے بندے ہمیشہ اچھی بات قبول کرتے ہیں۔ اچھی بات کی قرآن مجید نے ان الفاظ میں وضاحت فرمائی ہے۔ (وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا اِِلَی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19: اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْہِ کَلِمَۃُ الْعَذَابِ اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ (بھلا جس شخص پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی۔ تو کیا آپ ایسے شخص کو جو کہ دوزخ میں ہے چھڑا سکتے ہیں) اصل کلام اس طرح ہے امن حق علیہ کلمۃ العذاب فانت تنقذہ حق بمعنی وجب ہے۔ نحو : یہ جملہ شرطیہ ہے جس پر ہمزہ استفہام انکاری داخل ہوا اور فاءؔ جزائیہ ہے۔ پھر اس پر وہ فاءؔ داخل ہوئی جو اس کی ابتداء میں محذوف پر عطف کیلئے لائی گئی۔ تقدیر کلام اس طرح ہے۔ ئَ اَنَتَ مالک امرھم ؟ فمن حق علیہ العذاب فانت تنقذہ ؟ ہمزہ ثانیہ وہی پہلاہی ہمزہ ہے جو انکار کے معنی کی تاکید کیلئے دوبارہ لایا گیا۔ اور من فی النارؔ کو مضمر کی جگہ لائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

کلمۃ العذاب کی مختلف تفاسیر 19، افمن حق علیہ کلمۃ العذا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ علم الٰہی میں جس کے بارے میں یہ بات طے ہوچکی ہے کہ وہ جہنمیوں میں سے ہے اور بعض نے کہا ہے کہ، کلمۃ العذاب، سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان ، لا ملان جھنم، ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ، کلمۃ العذاب، سے مراد فرمان باری تعالیٰ ہے کہ، ھئولاء فی النار ولا ابا لی، کہ یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ، افانت تنقذمن فی النار، یعنی تو اس پر قادر نہیں ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے ابولہب اور اس کی اولاد مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–21

17۔ 18۔ اگرچہ تفسیر زید بن اسلم اور تفسیر ابن 1 ؎ ابی حاتم میں لکھا ہے کہ ابی ذر غفاری (1 ؎ بحوالہ تفسیر الدرالمنثورص 324 ج 5) اور سلیمان فارسی اور زید بن عمرو بن نفیل ان تین شخصوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر نے اس بات کو صحیح ٹھہرایا ہے 2 ؎ کہ آنحضرت ﷺ کے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 48 ج 4) زمانہ میں یا صحابہ کے یا حال کے زمانہ میں غرض کسی زمانہ میں جو کوئی بت پرستی سے بچا اور توحید اختیار کی اس طرح کے سب لوگوں کی شان میں یہ آیت صادق آتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوشخبری کے قابل اور صاحب ہدایت اور صاحب عقل ان ہی لوگوں کو ٹھہرایا ہے جو دین کی بات کو سن کر اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 19–20

آیت 19 یعنی وہ شخص جس کے گمراہی، عناد اور کفر پر جمے رہنے کے باعث، اس پر عذاب کا حکم واجب ہوگیا، تو اس کی ہدایت کے لئے آپ کے پاس کوئی چارہ ہے نہ آپ اس شخص کو کسی صورت میں آگ سے بچا سکتے ہیں جو آگ میں گر چکا ہو۔ ہر قسم کا غنا اور فوز و فلاح صرف تقویٰ شعار لوگوں کے لئے ہے جن کے لئے اکرام و تکریم اور مختلف اقسام کی نعمتیں تیار کی گئی ہیں جن کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ (لھم غرف) یعنی ان کے لئے آراستہ کئے گئے بالا خانے ہیں، جن کی خوبصورتی، حسن اور صفائی کی بنا پر ان کے اندر صاف دیکھا جاسکے گا اور وہ اپنی بلندی کی وجہ سے یوں نظر آئیں گے جیسے مشرقی یا مغربی افق میں غروب ہونے والا ستارہ، بنا بریں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–20

40 بات کو غور سے سننا ایک عمدہ صفت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بات کو غور سے سنتے ہیں "۔ تاکہ یہ حق کو صحیح طور پر سمجھ کر صدق دل سے اپنا سکیں۔ کیونکہ کسی بھی کلام کو سمجھنے اور اس کے حقیقی مطلب تک رسائی کیلئے اولین تقاضا اور بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کو غور اور توجہ سے سنا جائے۔ بہرکیف ان خوش نصیب لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایسے لوگ نہیں ہوتے کہ جب انکے سامنے حق و ہدایت کی بات پیش کی جائے تو یہ لڑنے کے لیے تیار ہوجائیں اور بولنے والے کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ بلکہ یہ بات کو غور سے سنتے ہیں تاکہ یہ حق وباطل اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کرسکیں اور اس کے بعد حق کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–21

مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی جس نے مسلسل ہٹ دھرمی اور بد عملی سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنا لیا ہو۔ عذاب کے کلمہ سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ قول ہے جو اس نے تخلیق آدم ( علیہ السلام) کے وقت شیطان سے خطاب کر کے فرمایا تھا۔ یعنی (لا ملان جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین) دیکھئے سورة ص آیت 856” یعنی کیا آپ ﷺ اسے ایمان کی راہ پر لاسکتے ہیں ؟ “ ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے اور اس سے مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے جو اپنی قوم قریش کے ایمان لانے کے سخت خواہش مند رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:19) افمن حق علیہ کلمۃ العذاب : افانت تنقذ من فی النار افمن میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے الفاء للعطف (علی الکلام المقدرۃ) من شرطیہ ہے حق علیہ ، من کی صفت ہے۔ افانت میں ہمزہ استطالت کلام کے لئے ہے اور جملہ انت تنقذ من فی النار جواب شرط ہے۔ من حق علیہ کلمۃ العذاب اور من فی النار کی تکرار تاکید کے لئے ہے۔ حق علیہ یعنی اللہ کے علم قدیم میں عذاب اس کے لئے مقرر ہوچکا۔ ترجمہ :۔ کیا جس شخص پر عذاب کی بات متحقق ہوچکی ہو ۔ آپ اس دوزخی کو چھڑا سکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جس کے لئے (اس کے اعمال کی بناء پر ) دوزخ کا عذاب متحقق ہوچکا ہو آپ اس کو دوزخ سے بچا سکتے ہیں ؟ یعنی ہرگز نہیں بچا سکتے۔ تنقذ۔ مضارع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–20

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے) تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

(ف 2) اے محبوب وہ شخص جس پر عذاب کا وعدہ ثابت ہوچکا اور اس کی قسمت میں معذب ہونالکھ چکا تو کیا تم ایسے شخص کو جو آگ میں دیدہ دانستہ پھنستا ہے اور یقینا بدبخت ازلی ہے عذاب دوزخ سے بچاسکتے ہو نجات دلاسکتے ہو نہیں اور ہر گز نہیں پس ان کے انکار سے غمگین نہ ہوں۔ مناظر جنت۔ لیکن وہ آدمی جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں موحد ہیں ان کے لیے جنت میں بالاخانہ ، دریچہ، محل، بلند عالیشان اور ان بالاخانوں پر اور بالاخانے مضبوط بنے ہوئے ہو اسے باتیں کرتے ہوئے آراستہ و پیراستہ ہیں انکے نیچے شراب ناب وآب صاف شفاف شیریں وشہد خالص کی نہریں رواں ہوں گی اللہ کا وعدہ مسلمانوں سے ہے جس کو وہ ہرگز خلاف نہ کرے گا اور خدا کبھی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–19

ف 3: فیتبعون احسنہ سے مقصود یہ نہیں ہے کہ قرآن میں احسن اور غیر احسن کی کوئی تقسیم موجود ہے ۔ بلکہ غرض یہ ہے کہ قرآن کو یہ لوگ کان لگا کر سنتے ہیں ۔ اور چونکہ اس کی تعلیمات سب کی سب برتر اور احسن ہیں ۔ اس لئے مجبور ہیں ۔ کہ ان کی پیروی کریں ۔ حل لغات :۔ ظلل ۔ ظلۃ کی جمع ہے ۔ بمعنی سائبان الطاغوت ۔ تاضیان سے ہیں بمعنی شیطان اور کاہن سردار گمراہاں اور جو سوائے خدا کے کسی دوسرے کی پرستش کرے ۔ ہر وہ چیز جو شرک وکفر کا باعث ہوسکے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا ہے تو کیا آپ ایسے شخص کو چھڑا سکتے ہیں جو آگ میں پڑا ہوا ہو۔ یعنی جس شخص کے لئے کلمہ عذاب سبقت کرچکا ہو اور علم ازلی میں یہ بات مستحقق ہوچکی ہے کہ وہ جہنم میں جانے والا ہے تو بھلا آپ ایسے شخص کو جہنم کی آگ سے کس طرح بچاسکتے ہیں اور نجات دلا سکتے ہیں یعنی جو شخص اپنی سوائے استعداد کے باعث جہنمی ٹھہر چکا اس کو بچانا کس کے بس کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 19–21

ف 2۔ یعنی جود وزخ میں جانے والے ہیں وہ کوشش سے بھی ضلالت سے نہ نکلیں گے، تو تاسف و غم بےسود ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ لوگ جن پر عذاب کا کلمہ لازم آئے گا اور کوئی بچانے والا نہ ہو گا 19۔ رہے وہ لوگ جو سیدھی راہ چلنے کے بجائے الٹی راہ چلنے کے عادی ہوچکے ہیں اور یہ محض اس انحصار اور بل بوتے پر چلتے ہیں کہ ان کی اکثریت ہے اور یہ کہ ان کا باپ دادا ایسا کرتا آیا ہے اور ان کا یہی وہ جواب ہے جو سو جوابوں سے بھی وہ بھاری سمجھتے ہیں اور اگر باپ دادا ان کے تحریرات چھوڑ گئے ہوں پھر تو ان کی دلیل ہزاروں دلیلوں سے بھی بھاری ہوجاتی ہے حالانکہ باپ دادا زبانی کہہ جائیں یا تحریر چھوڑ جائیں یا موجودہ زمانہ میں وہ جو زندہ وجاوید کر رہے ہیں جب کوئی دلیل موجود نہ ہو تو سب کی حیثیت سراب سے زیادہ نہیں ہے یا راکھ کا ذھیر کہہ لیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–20

Commentary In the Tafsir of verses 17 and 18: فَبَشِّرْ‌ عِبَادِ ﴿17﴾ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ (So, give the good news to My servants who listen to what is said, then, follow the best of it. Those are the ones whom Allah has guided, and those are the ones who possess understanding), there are several views expressed by learned commentators. One of these is what Ibn Kathir has opted for. Maulana Ashraf ` Ali Thanavi has also gone by it. According to this view, the word: القول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 19–20

37 That is, the person who has made himself worthy of Allah's punishment and about whom Allah has already decided that he will be punished.

Read the full tafseer →