Az-Zumar 39:18

Az-Zumar · from ayah 18

39:18

الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۟الَّذِيۡنَ يَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَيَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَهٗ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ هَدٰٮهُمُ اللّٰهُ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمۡ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ

جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who listen to speech and follow the best of it. Those are the ones Allah has guided, and those are people of understanding.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:18

جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو بات کو کان لگا کر سنتے ہیں۔ پھر جو بہترین بات ہو اس کی اتباع کرتے ہیں۔ یہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی عقلمند بھی ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو بات کو غور سے سنتے ہیں تو اس میں جو بہترین ہوتی ہے اس کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو کان لگا کر بات سنیں پھر اس کے بہتر پر چلیں یہ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں جن کو عقل ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں، پھر اس کے بہتر پہلو کی اتباع کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت فرمائی ہے اور یہی لوگ عقل مند ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جو کان لگا کر بات سنتے ہیں، پھر اس میں سب سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقلوں والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی دانشمند ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو بات کو توجہ سے سنتے اور اس میں سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں۔ یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو غور سے سنتے ہیں ہماری بات کو پھر وہ پیروی کرتے ہیں اس کے بہترین پہلو کی یہی ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے نوازا ہدایت (کی دولت) سے اور یہی ہیں عقول سلیمہ رکھنے والے (خوش نصیب)

— مولانا اسحاق مدنی

میرے انہیں بندوں کو جو (اس) کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں۔ یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور یہی ہیں جو ذی عقل ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو عقل مند ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی اور یہی لوگ عقل والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

to those who pay heed to what is said and follow the best of it. They are the ones whom Allah has guided to the Right Way; they are the ones endowed with understanding.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who listen to what is said, then, follow the best of it. Those are the ones whom Allah has guided, and those are the ones who possess understanding.

— Muhammad Taqi Usmani

who listen to what is said, then, follow the best of it. Those are the ones whom Allah has guided, and those are the ones who possess understanding.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who listen to the Word and follow the best thereof, those are (the ones) whom Allah has guided and those are men of understanding.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who hear advice and follow the best thereof. Such are those whom Allah guideth, and such are men of understanding.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who listen to speech and follow the best of it. Those are the ones Allah has guided, and those are people of understanding.

— Saheeh International

(Muhammad), give the glad news to those of Our servants who listen to the words and only follow the best ones. Tell them that they are those whom God has guided. They are the people of understanding.

— Muhammad Sarwar

Those who listen to the word, then follow the best of it; those are they whom Allah has guided, and those it is who are the men of understanding.

— Muhammad Habib Shakir

Who hearken Unto the word and follow that which is the exceLlent there of. These are they whom Allah hath guided, and those are men of understanding.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who listen to the Word, and follow the best (meaning) in it: those are the ones whom Allah has guided, and those are the ones endued with understanding.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–18

مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابوذر اور سلمان فارسی ؓ کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔ یہ ہیں جن کے لئے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّمَر 36 اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ہر آواز کے پیچھے نہیں لگ جاتے بلکہ ہر ایک کی بات سن کر اس پر غور کرتے ہیں اور جو حق بات ہوتی ہے اسے قبول کرلیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ بات کو سن کر غلط معنی پلٹانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اس کے اچھے اور بہتر پہلو کو اختیار کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–20

معارف و مسائل فَبَشِّرْ عِبَادِ۔ الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَهٗ ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدٰىهُمُ اللّٰهُ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ اس آیت کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے اقوال متعدد ہیں۔ ایک قول وہ ہے جس کو ابن کثیر نے لیا اور خلاصہ تفسیر مذکور میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ قول سے مراد اللہ کا کلام قرآن یا قرآن مع تعلیمات رسول ہے اور وہ سب احسن ہی احسن ہے۔ اس لئے مقتضی مقام کا بظاہر یہ تھا کہ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَہ، کہا جاتا مگر اس کی جگہ لفظ احسن کا اضافہ کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان لوگوں نے قرآن اور تعلیمات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 17–18

(آیات 18-17) لفظ طاغوت کی تحقیق بقرہ : 256 اور نساء :51 کے تحت بیان ہوچکی۔ یہ غیر اللہ کی تعبیر کے لئے ایک جامع لفظ ہے، خواہ اصنام والہہ ہیں یا جنات و شیاطین اور اللہ کی بندگی و اطاعت سے برگشتہ کرنے والے لیڈر۔ فلاح پانے والوں کی صفات اور ان کو بشارت یہ خاسدین کے مقابل میں مفلحین کا ذکر ہے ان کو ابدی فوز و فلاح کی بشارت بھی دی گی اور ان کی ان صفات کی تحسین بھی فرمائی گئی ہے جن کی بدولت وہ اس بشارت کے اہل ٹھہرے فرمایا کہ ہمارے جو بندے غیر اللہ کی پسرتش سے بچتے ہیں اور وہ پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف جھک پڑے ان کے لئے بشارت ہے تو تم میرے ان بندوں کو ابدی فوز و فلاح کی خوش خبری دے دو۔ الذین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

18۔ 1 اَحسَنُ سے مراد محکم اور پختہ بات، یا سب سے اچھی بات، یا عقوبیت کے مقابلے میں درگزر اختیار کرتے ہیں۔ 18۔ 2 کیونکہ انہوں نے اپنی عقل سے فائدہ اٹھایا ہے، جب کہ دوسروں نے اپنی عقلوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–20

10: اس کا زیادہ واضح مطلب یہ ہے کہ وہ سنتے تو سب کچھ ہیں، لیکن پیروی اسی بات کی کرتے ہیں جو بہترین ہو (روح المعانی عن الزجاج)۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

آیت نمبر 17 تا 18 طاغوت کا صیغہ طغیان سے ہے۔ جس طرح ملکوت ' عظموت اور رحموت کے صغے بنے ہیں اس کے مفہوم میں ضخامت اور مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس کا مروج مفہوم یہ ہے کہ جو سرکشی کرے اور حد سے تجاوز کرجائے ' وہ طاغوت ہے۔ اور جو لوگ طاغوت کی بندگی اور طاعت سے اجتناب کرتے ہیں وہ لوگ کون ہیں ؟ وہ کسی شکل میں بھی طاغوت کی بندگی نہ کریں۔ اور یہ وہی لوگ ہوں گے جو ہر چھوٹے بڑے کام میں اللہ کی بندگی کرنے والے ہوں ، اس کی طرف لوٹنے والے ہوں اس کی طرف رجوع کرنے والے ہوں اور بندگی کے صحیح مقام پر کھڑے ہوں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے بشارت عالم بالا سے ہے اور رسول اللہ ؐ ان کو اس کی خوشخبری دے رہے ہیں۔ لھم البشرٰی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی سب طرح کی باتیں سنتے ہیں۔ پر ان میں جو بات اچھی ہو اس پر چلتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ خدا کی بات سنتے ہیں اور اس میں جو ہدایات اعلیٰ سے اعلیٰ ہوں ان پر عمل کرتے ہیں۔ مثلاً ایک چیز رخصت واباحت کی سنی، دوسری عزیمت کی، تو عزیمت کی طرف جھپٹتے ہیں۔ رخصتوں کا تتبع نہیں کرتے۔ یا یوں ترجمہ کرو کہ اللہ کا کلام سن کر اس کی بہترین باتوں کا اتباع کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کی ساری باتیں بہتر ہی ہیں۔ کذا قال المفسرون۔ حضرت شاہ صاحب نے ایک اور طرح اس کا مطلب بیان کیا ہے۔ " چلتے ہیں اس کے نیک پر، یعنی حکم پر چلنا کہ اس کو کرتے ہیں۔ اور منع پر چلنا کہ اس کو نہیں کرتے۔ اس کا کرنا نیک ہے اس کا نہ کرنا نیک ہے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18 { الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ } ”جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں ‘ پھر اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔“ یعنی یہ دین جس کی طرف اللہ تمہیں بلا رہا ہے اس کے بھی مختلف مدارج ہیں۔ پہلاد رجہ اسلام ہے ‘ اس سے اونچا درجہ ایمان اور پھر سب سے اونچا درجہ احسان ہے۔ درجہ احسان پر فائز لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے { وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ } المائدۃ کی بشارت سنائی ہے۔ چناچہ ہمیں چاہیے کہ دین کے معاملے میں زیادہ سے زیادہ محنت کریں اور ہر لمحہ بہتر سے بہتر درجے پر پہنچنے کی فکر میں رہیں۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارا طرز عمل اس کے برعکس ہے۔ دُنیوی معاملات میں تو ہمارا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 اتباع احسن سے کیا مراد ہے ؟ ان لوگوں کی ایک صفت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین کی اس صورت میں پیروی کرتے ہیں جو بہتر سے بہتر ہو۔ مثلاً نماز کی ادائیگی کی جائے تو خلوص نیت اور اللہ کی رضا اور اس کی محبت کے جذبے سے ادا کرے۔ بروقت اور باجماعت ادا کرے۔ طہارت اچھی طرح کرے۔ نماز میں خشوع و خضوع ہو اور ظاہری ارکان و آداب بھی درست ہوں۔ تو یہ نماز کی اچھی سے اچھی صورت ہے۔ اب اگر کوئی شخص نماز تو باجماعت ادا کرتا ہے لیکن نماز میں خیال بس دنیوی باتوں کے ہی آتے رہیں۔ نماز میں بےتوجہی ہو۔ فضول حرکتیں بھی کرتا رہے اور سست اور ڈھیلا ڈھالا کھڑا رہے۔ تو نماز تو اس نے بھی ادا کرلی۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–18

28۔ (اور اس کی سب باتیں اچھی ہی ہیں) (آیت) ” یستمعون “۔ استماع کے معنی سمجھنے کے طور پر سننے کے ہیں۔ (آیت) ” القول “۔ سے مراد کلام حق ہے۔ (آیت) ” احسنہ “۔ احسن سے یہاں مراد حسن ہے۔ (آیت) ” البشری “۔ ترکیب کلام سے معنی حصر کے پیدا ہوگئے ہیں، یعنی بشارت ایسوں ہی کے حق میں ہے۔ سب کے لیے نہیں ہے۔ اے لھم لالغیر ھم (کبیر) (آیت) ” البشری “۔ ال بھی اسی حصر کی تاکید مزید کے لیے ہے۔ ان ھذہ الماھیۃ بتمامھا لھؤلاء ولم یبق منھا نصیب لغیرھم (کبیر) (آیت) ” الطاغوت “۔ طاغوت ہر وہ ہستی ہے جو طغیان میں حد سے تجاوز کرجائے مراد یہاں شیطان یا شیاطین سے لی گئی ہے۔ فسرہ ھنا بالشیطان مجاھد ویجوز تفسیر ھا بالشیاطین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–21

آیت نمبر 10 تا 21 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ اولئک الذین ھدھم اللہ واولئک ھم اولو الالباب جو اس کلام (الٰہی) کو کان لگا کر سنتے ہیں ‘ پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں۔ یہی ہیں جن کو اللہ نے ہدایت یاب بنایا اور یہی ہیں جو عقلوں والے ہیں۔ یعنی قرآن کو بھی سنتے ہیں اور دوسرے کلام کو بھی ‘ پھر قرآن کی ہدایتوں پر چلتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کا کلام بھی سنتے ہیں اور کافروں کا کلام بھی ‘ پھر رسول اللہ ﷺ کے فرمان پر چلتے ہیں (اس مطلب پر القول سے عام کلام مراد ہوگا ‘ کسی کا ہو : اللہ کا ‘ رسول کا ‘ یا کسی اور کا اور احسن سے مراد ہوگا : قرآن مجید ‘ اور رسول اللہ ﷺ کا کلام۔ اس تفسیر پر اَحْسَنْ (اسم تفضیل)…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

جو اس کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں اور پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر عمل کرتے ہیں یہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اچھے اچھے کاموں کی ہدایت فرمائی اور یہی وہ لوگ ہیں جو اہل عقل ہیں یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی اور اسی طرح اہل سنت والجماعت سے وہ جو ان کے نقش قدم پر چلے۔ شان نزول : فَبَشِّرْ عِبَادِ۔ الَّذِيْنَ (الخ) جبیر نے اپنی سند سے حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت نقل کی ہے کہ جس وقت آیت کریمہ لھا سبعۃ ابواب یعنی اس دوزخ کے ساتھ دروازے ہیں نازل ہوئی تو ایک انصاری رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے سات غلام تھے میں نے دوزخ کے ساتوں دروازوں میں سے ہر ایک دروازہ کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ : اس جملے کی تین تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ میرے ان بندوں کو بشارت دے جو ہر بات سنتے ہیں، مگر پیروی صرف قرآن و سنت کی کرتے ہیں، کیونکہ سب باتوں سے اچھی بات اللہ کی نازل کردہ بات ہے، جیسا کہ آگے آیت (23) میں آ رہا ہے : (اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْث) ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَحْسَنُ الْکَلاَمِ کَلاَمُ اللّٰہِ وَ أَحْسَنُ الْہَدْيِ ہَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) [ نساءي، السھو، باب نوع من الذکر بعد التشھد : 1312، عن جابر ؓ ] ”ہر کلام سے اچھا اللہ کا کلام ہے اور ہر طریقے سے اچھا محمد ﷺ کا طریقہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–18

17 ۔ 18:۔ آخفش نے کہا : طاغوت جمع ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ واحد مونث ہو۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ معنی ہے وہ طاغوت سے دور ہے وہ اس سے ایک طرف ہے انہوں نے طاغوت کی عبادت نہ کی۔ مجاہد اور ابن زید نے کہا : اس سے مراد شیطان ہے۔ ضحاک اور سدی نے کہا : اس سے مراد بت ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد کاہن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ عجمی نام ہے جس طرح طالوت ‘ جالوت ‘ ہاروت اور ماروت۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عربی نام ہے یہ طغیان سے مشتق ہے ان محل نصب میں ہے طاغوت سے بدل ہے ‘ تقدیر کلام یہ ہے والذین اجتنبوا عبادۃ الطاغوت۔ و انا بوا الی اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طاعت کی طرف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–18

1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدونھا “ (اور جو لوگ بتوں کی عبادت کرنے سے بچ گئے) یعنی یہ دونوں آیتیں تین آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو زمانہ جاہلیت میں لا الہ الا اللہ “ کہتے تھے ان میں سے زید بن عمر و بن نفیل، ابوذر غفاری اور سلمان فارسی ؓ ہیں۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سعید بن زید ؓ ، ابوذر ؓ اور سلیمان ؓ جاہلیت میں بھی اچھی بات کا اتباع کرتے تھے اور احسن القول سے ” لا الہ الا اللہ مراد ہے۔ انہوں نے یہ بات کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ پر اس آیت کو اتارا (آیت ) ” یستمعون القول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

الَّذِيْنَ [ان کو جو ] يَسْتَمِعُوْنَ [دھیان سے سنتے ہیں ] الْقَوْلَ [بات کو ] فَيَتَّبِعُوْنَ [پھر پیروی کرتے ہیں ] اَحْسَنَهٗ ۭ [اس کے بہترین کی ] اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [یہ وہ لوگ ہیں ] هَدٰىهُمُ اللّٰهُ [ہدایت دی جن کو اللہ نے ] وَاُولٰۗىِٕكَ هُمْ [اور یہ لوگ ہی ] اُولُوا الْاَلْبَابِ [خالص عقل والے ہیں ] ۔ نوٹ۔ 2: آیت۔ 18 کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ہر آواز کے پیچھے نہیں لگ جاتے بلکہ ہر ایک کی بات سن کر اس پر غور کرتے ہیں اور جو حق بات ہوتی ہے اسے قبول کرلیتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ وہ بات کو سن کر غلط معنی پہنانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اس کے اچھے اور بہتر پہلو کو اختیار کرتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد مومن بندوں کی ایک خاص صفت بیان فرمائی ارشاد فرمایا (فَبَشِّرْ عِبٰدِیَ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ ) (سو آپ میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجیے جو کلام کو یعنی قرآن کو سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں کا اتباع کرتے ہیں) یعنی وہ اعمال اختیار کرتے ہیں جن میں زیادہ سے زیادہ ثواب ہے فرائض اور واجبات پر تو عمل کرتے ہی ہیں دوسرے نیک کاموں میں بھی احسن اور افضل کو اختیار کرتے ہیں۔ (قال صاحب الروح ص 252: ج 23 مدح لھم بانھم نقاد فی الدین یمیزون بین الحسن والاحسن والفاضل والأفضل فاذا اعترضھم امران واجب وندب اختاروا الواجب وکذلک المباح والندب) (تفسیر روح المعانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

مدح مومنین مطیعین وبیان مراتب عالیہ برائے اھل تقوی ور دنیا وعقبی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” امن ھو قانت انآء الیل ........ الی ........ ھم اولوا الالباب “۔ (ربط) گذشتہ مضمون اس قانون خداوندی کی تحقیق و تفصیل پر مشتمل تھا کہ کفر ونافرمانی اللہ کو ہرگز پسند نہیں ایمان و اطاعت اور شکر اللہ کو محبوب ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت تمام جہانوں سے بےنیاز ہے اس کو نہ کسی کے کفر سے نقصان ہے اور نہ کسی کے ایمان وطاعت سے نفع اب ان آیات میں اہل ایمان وطاعت کے درجات اور ان پر خداوند عالم کے ان انعامات کا بیان ہے جو ان پر دنیا اور آخرت میں کئے جائیں گے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ علم ومعرفت اور عقل و…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–18

22:۔ ” والذین الخ “ یہ ایمان والوں کے لیے بشارت اخروی ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ ” الطاغوت “ سے ہر معبود غیرا للہ مراد ہے۔ قال الرغب : ھو عبارۃ عن کل متعد وکل معبود من دون اللہ تعالیٰ (روح ج 23 ص 252) ۔ طاغوت کی مزید تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر حاشیہ (504) میں ص 126 پر گذر چکی ہے۔ فراجعہ، ان یعبدوھا، الطاغوت سے بدل الاشتمال ہے۔ ” وانابوا الی اللہ “ میں واؤ تفسریہ ہے یعنی جن لوگوں نے غیر اللہ کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی خالص عبادت میں منہمک ہوگئے ان کے لیے آخرت میں جنت کی بشارت ہے۔ ” فبشر عباد الخ “ اس لیے آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیں جو بات کو بغور سنتے اور حق و باطل میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–21

ربط آیات : اس سے پہلے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں بہت سے دلائل بیان ہوئے پھر نیک وبد اور عالم و جاہل کا تقابل ہوا کہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ دلائل سے عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اگر کسی مقام پر کفار ومشرکین کا غلبہ ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شعائر دین پر عمل درآمد نہیں کرنے دیتے تو پھر وہاں سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں ، ظاہر ہے کہ ترک وطن میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تکالیف کو صبر و استقامت سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ يَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ۝ 0 ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ ہَدٰىہُمُ اللہُ وَاُولٰۗىِٕكَ ہُمْ اُولُوا الْاَلْبَابِ۝ 18 اسْتِمَاعُ : الإصغاء نحو : نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] ، وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] ، وقوله : أَمَّنْ يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصارَ [يونس/ 31] ، أي : من الموجد لِأَسْمَاعِهِمْ ، وأبصارهم، والمتولّي لحفظها ؟ والْمِسْمَعُ والْمَسْمَعُ : خرق الأذن، وبه شبّه حلقة مسمع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–20

ترکیب : الطاغوت کالر حموت والعظموت بناء مبالغۃ فی المصدر، ویونث قبیل اعجمی کطالوت وجالوت وقیل عربی من الطغیان الان فیہا قلبًا بتقدیم اللام علی العین، والمراد بھا الاوثان والشیطان وقیل الکاھن، ان یعبد وھافی محل نصب علی البدل من الطاغوتبدل اشتمال و انابوا معطوف علی اجتنبوا لہم البشری الجملۃ خبروالذین افمن من موصولۃ فی محل رفع بالا ابتداء والخبر محذوف ای کمن یخاف او شرطیۃ افانت جوابہ۔ تفسیر : بت پرستوں کی برائی اور ان پر پیش آنے والی مصیبت کے ذکر کے بعد ان سے بچنے والوں اور خدا کی طرف رجوع ہونے والوں کے خصائل اور ان کے نتائج بیان فرماتا ہے۔ گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے۔ فقال والذین اجتنبوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَاَنَا بُوْٓا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الْبُشْرٰی ج فَبَشِّرْ عِبَادِ ۔ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَـہٗ ط اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدٰہُمُ اللّٰہُ وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمْ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ ۔ (الزمر : 17، 18) (اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے، پس میرے ان بندوں کو خوشخبری پہنچا دو ۔ جو بات کو غور سے سنتے اور اس میں سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔ ) طاغوت کا مفہوم طاغوت، طغیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 18–19

فہم القرآن ربط کلام : طاغوت سے اجتناب کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھی بات کو توجہ سے سنیں اور اس پر عمل کریں یہی عقل سلیم کا تقاضا ہے۔ اخلاص اور یکسوئی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور طاغوت سے اجتناب برتنے والوں کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ اچھی سے اچھی بات کو قبول کرتے ہیں۔ انہی لوگوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی کرتا ہے اور یہی عقل والے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت اور عقل مندی کا نتیجہ ہے کہ مختلف قسم کی باتیں سننے کے باوجود ” اللہ “ کے بندے ہمیشہ اچھی بات قبول کرتے ہیں۔ اچھی بات کی قرآن مجید نے ان الفاظ میں وضاحت فرمائی ہے۔ (وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا اِِلَی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اعمالِ دین کو نقد و تبصرہ کی نگاہ سے دیکھ کر احسن کو لینے والے ہیں : 18: الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ (جو اس کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں اور پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں) یہ وہی لوگ ہیں جو پرہیز گار اور منیب ہیں مقصود یہ ہے کہ پرہیزگاری اور انابت کے ساتھ ساتھ وہ اس صفت سے بھی متصف ہوں۔ یہاں ظاہر کو ضمیر کی جگہ لایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ دین کے اعمال کو نقد و تبصرہ کی نگاہ سے دیکھنے والے اور اس میں سے حسن واحسن اور فاضل و افضل کا فرق کرنے والے ہوں۔ جب ان کے سامنے دو معاملے پیش آئیں۔ ان میں سے ایک واجب اور دوسرا مستحب ہو تو وہ واجب کو اختیار کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18، الذین یستمعون القول ، قول سے مراد قرآن ہے، فیتبعون احسنہ، ، فیتبعون احسنہ کی تفسیر سدی (رح) فرماتے ہیں کہ احسن وہ ہے جس کا ان کو حکم دیا گیا اور انہوں نے اس پر عمل کیا اور کہا گیا ہے کہ احسن یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ظالم سے انتقام لینے اور اس کو معاف کرنے دونوں کا ذکر کیا ہے اور ان دونوں حکموں میں معاف کردینا احسن ہے اور بعض نے کہا ہے کہ عزیمتوں کا ذکر ہے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ لوگ قرآن اور غیر قرآن کو سنتے ہیں لیکن اتباع قرآن کی کرتے ہیں اور عطاء (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ابوبکرؓ نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے تو آپ ؓ کے پاس حضرت عثمان و عبدالرحمن بن عوف ، طلحہ اور زبیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–21

17۔ 18۔ اگرچہ تفسیر زید بن اسلم اور تفسیر ابن 1 ؎ ابی حاتم میں لکھا ہے کہ ابی ذر غفاری (1 ؎ بحوالہ تفسیر الدرالمنثورص 324 ج 5) اور سلیمان فارسی اور زید بن عمرو بن نفیل ان تین شخصوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر نے اس بات کو صحیح ٹھہرایا ہے 2 ؎ کہ آنحضرت ﷺ کے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 48 ج 4) زمانہ میں یا صحابہ کے یا حال کے زمانہ میں غرض کسی زمانہ میں جو کوئی بت پرستی سے بچا اور توحید اختیار کی اس طرح کے سب لوگوں کی شان میں یہ آیت صادق آتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوشخبری کے قابل اور صاحب ہدایت اور صاحب عقل ان ہی لوگوں کو ٹھہرایا ہے جو دین کی بات کو سن کر اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–18

آیت 17 اللہ تبارک و تعالیٰ مجرمین کا حال بیان کرنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والے بندوں کا حال بیان کرتے اور ان کے لئے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدوھا) ” اور وہ لوگ جو طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے۔ “ اس مقام پر طاغوت سے مراد، غیر اللہ کی عبادت ہے یعنی جنہوں نے غیر اللہ کی عبادت سے اجتناب کیا۔ یہ حکیم وعلیم کی طرف سے بہترین احتراز ہے، کیونکہ مدح تو صرف اسی شخص کو پہنچتی ہے جو ان کی عبادت سے بچتا ہے (وانا بوا الی اللہ) اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اخلاص دین کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کی فطرت کے داعیے بتوں کی عبادت کو چھوڑ کرلیتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–20

40 بات کو غور سے سننا ایک عمدہ صفت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو بات کو غور سے سنتے ہیں "۔ تاکہ یہ حق کو صحیح طور پر سمجھ کر صدق دل سے اپنا سکیں۔ کیونکہ کسی بھی کلام کو سمجھنے اور اس کے حقیقی مطلب تک رسائی کیلئے اولین تقاضا اور بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کو غور اور توجہ سے سنا جائے۔ بہرکیف ان خوش نصیب لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ ایسے لوگ نہیں ہوتے کہ جب انکے سامنے حق و ہدایت کی بات پیش کی جائے تو یہ لڑنے کے لیے تیار ہوجائیں اور بولنے والے کا منہ نوچنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ بلکہ یہ بات کو غور سے سنتے ہیں تاکہ یہ حق وباطل اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کرسکیں اور اس کے بعد حق کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–21

مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3” اور بری بات پر توجہ نہیں کرتے “ یا مطلب یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کو دل لگا کر سنتے ہیں اور پھر عمل کے لئے اس حکم کو اختیار کرتے ہیں جو افضل ہوتا ہے یعنی رخصت کی بجائے عزیمت کی راہ پر کار بند ہوتے ہیں واللہ اعلم۔4 جنہوں نے اپنی عقلوں کا صحیح استعمال کیا کیونکہ وہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو فکر کرتے اور اصل حقیقت کو سمجھ لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:18) الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ۔ اگر وقف فبشر عباد پر کیا جائے تو یہ جملہ مبتداء ہوگا اور اگلا جملہ اولئک الذین ۔۔ اس کی خبر۔ اور ترجمہ ہوگا :۔ جو لوگ بات کو سنتے ہیں اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں۔ اور اگر وقف لہم الشری پر ہے تو الذین یستمعون ۔۔ الخ ۔ عباد میرے بندے) کی تعریف ہے۔ اور ترجمہ ہوگا :۔ پس آپ مژدہ سنا دیں میرے ان بندوں کو جو بات کو سنتے ہیں اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں ۔ یستمعون۔ مضارع جمع مذکر غائب استماع (افتعال) مصدر سے۔ وہ کان لگا کر سنتے ہیں، وہ دھیان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–20

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے) تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–18

(ف 1) اے محبوب ﷺ وہ اچھے بندے جنہوں نے عبادت شیطان وبت پرستی سے کنارہ کیا اور سچے دل سے خدا کی طرف متوجہ ہوئے اور تمام احکام اسلام مانے ان کو خوش خبری ہے مژدہ رحمت دیں گے جب قیامت میں جنت کا حکم ہوگا اور دروازہ پر پہنچیں گے تو مبارک سلامت کا غل ہوگا بشارت رحمت دی جائے گی اے محبوب ﷺ ان اچھے بندوں کو دنیا میں بشارت دیجئے جو بات سن کو غوروفکر کرتے ہیں اور ہر بات میں عمدہ بات جو دیکھتے ہیں اسی کو مانتے ہیں مضبوطی کی طرف توجہ کرتے ہیں شبہوں میں نہیں پڑتے، حق واضح پر اعتقاد رکھتے ہیں اور عمل کرتے ہیں وہ ایسے آدمی ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنے رستہ کی عقل سے کام لے کر توحیدخالص اور انابت الی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 18–19

ف 3: فیتبعون احسنہ سے مقصود یہ نہیں ہے کہ قرآن میں احسن اور غیر احسن کی کوئی تقسیم موجود ہے ۔ بلکہ غرض یہ ہے کہ قرآن کو یہ لوگ کان لگا کر سنتے ہیں ۔ اور چونکہ اس کی تعلیمات سب کی سب برتر اور احسن ہیں ۔ اس لئے مجبور ہیں ۔ کہ ان کی پیروی کریں ۔ حل لغات :۔ ظلل ۔ ظلۃ کی جمع ہے ۔ بمعنی سائبان الطاغوت ۔ تاضیان سے ہیں بمعنی شیطان اور کاہن سردار گمراہاں اور جو سوائے خدا کے کسی دوسرے کی پرستش کرے ۔ ہر وہ چیز جو شرک وکفر کا باعث ہوسکے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) جو اس کلام کو کان لگا کر سنتے ہیں پھر اس کی اچھی اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں اور ان پرچلتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرمائی اور ہدایت دی اور یہی وہ لوگ ہیں جو صاحبان عقل وخرد ہیں۔ طاغوت کی تفسیر کئی جگہ گزرچکی ہے اس سے مراد یا تو بت اور اصنام ہیں یا شیطان ہیں جو لوگ اس قسم کی سرکش طاقتوں سے مجتنب رہے اور ان کی عبادت سے بچے رہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع رہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی غیر اللہ کو شریک نہیں کیا اور صرف اللہ کی عبادت کرتے رہے ان کے لئے دنیا میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ جیسا کہ ہم گیارہویں پارے میں لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا و…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–18

ف 1۔ مطلب یہ کہ توحید خالص کا وجوب اور اس کے ترک پر عذاب کا استحقاق ایسا عام ہے کہ معصوم جس میں احتمال معصیت کا ہے ہی نہیں، وہ بھی اس قاعدہ سے مستثنی نہیں، تو غیر معصوم تو کس شمار میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ بات کو سنتے ہیں اور پھر اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں 18۔ دو چیزوں کے ٹکرانے سے جو چیز پیدا ہوتی ہے اس کو آواز کہتے ہیں اور وہ اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی اور کان جو آواز سننے کا ایک آلہ ہیں ہر آواز کو سنتے ہیں خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔ اس لیے زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرنے والے لوگوں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ جب وہ کسی بات کو سنتے ہیں تو پھر اپنی عقل و فکر اور سمجھ وسوچ سے کام لے کر ہر اس بات کی پیروی کرتے ہیں جو اچھی ہو اور ہر اس بات کو سنی ان سنی کردیتے ہیں جو اچھی نہیں ہوتی پھر وہ لوگ جو یہ امتیاز حاصل کرلیتے ہیں یہ وہی ہیں جن کے دل اللہ نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–20

Commentary In the Tafsir of verses 17 and 18: فَبَشِّرْ‌ عِبَادِ ﴿17﴾ الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّـهُ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمْ أُولُو الْأَلْبَابِ (So, give the good news to My servants who listen to what is said, then, follow the best of it. Those are the ones whom Allah has guided, and those are the ones who possess understanding), there are several views expressed by learned commentators. One of these is what Ibn Kathir has opted for. Maulana Ashraf ` Ali Thanavi has also gone by it. According to this view, the word: القول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

36 This verse can have two meanings: (1) That they do not follow every voice but ponder over what every man says and accept only what is right and true; and (2) that they do not try to give a false meaning to what they hear but adopt its good and righteous aspects.

Read the full tafseer →