Az-Zumar 39:17

Az-Zumar · from ayah 17

39:17

وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا وَاَنَابُوْۤا اِلَی اللّٰهِ لَهُمُ الْبُشْرٰی ۚ— فَبَشِّرْ عِبَادِ ۟ۙوَالَّذِيۡنَ اجۡتَنَـبُـوا الطَّاغُوۡتَ اَنۡ يَّعۡبُدُوۡهَا وَاَنَابُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ لَهُمُ الۡبُشۡرٰى‌ ۚ فَبَشِّرۡ عِبَادِ

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے۔ تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

But those who have avoided Taghut, lest they worship it, and turned back to Allah - for them are good tidings. So give good tidings to My servants

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:17

بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور خدا کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے۔ تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے پرہیز کیا اور (ہمہ تن) اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے وه خوش خبری کے مستحق ہیں، میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے اس بات سے پرہیز کیا ہے کہ وہ طاغوت کی عبادت کرنے لگیں اور انہوں نے اللہ سے لوگ لگائی ہے خوشی کی خبر انہی کے لیے، لہذا میرے ان بندوں کو خوشی کی خبر سنا دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ جو بتوں کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انہیں کے لیے خوشخبری ہے تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ بتوں کی پرستش کرنے سے بچے رہے اور اللہ کی طرف جھکے رہے، ان کے لئے خوشخبری ہے، پس آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ لوگ جنھوں نے طا غوت سے اجتناب کیا کہ اس کی عبادت کریں اور اللہ کی طرف رجوع کیا انھی کے لیے خوشخبری ہے، سو میرے بندوں کو بشارت دے دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ان کے لئے بشارت ہے لہذا میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت میں ملوث ہونے سے احتراز کیا اور اللہ کی طرف متوجہ ہے، انکے لئے خوش خبری ہے تو میرے ان بندوں کو خوش خبری پہنچا دو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کے برعکس جو لوگ بچتے ہیں طاغوت کی پوجا (و بندگی) سے اور وہ (صدق دل سے) رجوع کئے رہتے ہیں اللہ کی طرف ان کے لئے بڑی خوشخبری ہے سو خوشخبری سنا دو میرے ان بندوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ اس سے بچے رہتے ہیں کہ شیطان کی پرستش کریں اور اللہ کی طرف متوجہ رہتے ہیں ان کے لئے بشارت ہے سو آپ بشارت دے دیجیے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ جنہوں نے طاغوت سے کنارہ کشی کرلی (اس طرح) کہ اس کی بندگی نہ کی اور انہوں نے رجوع کرلیا اللہ کی طرف ان کے لیے بشارت ہے تو (اے نبی ﷺ !) میرے ان بندوں کو بشارت دے دیجیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جنہوں نے اس سے اجتناب کیا کہ بتوں کو پوجیں اور اللہ کی طرف رجوع کیا ان کیلئے بشارت ہے تو میرے بندوں کو بشارت سنا دو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(On the other hand), good tidings await those who eschew serving false gods and penitently return to Allah. (O Prophet), give good tidings to My servants,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And those who abstain from worshipping the Taghut and turn fervently to Allah, for them there is good news. So, give the good news to My servants

— Muhammad Taqi Usmani

And those who abstain from worshipping the Taghut and turn fervently to Allah, for them there is good news. So, give the good news to My servants

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who avoid At-Taghut by not worshipping them and turn to Allah, for them are glad tidings; so announce the good news to My servants.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who put away false gods lest they should worship them and turn to Allah in repentance, for them there are glad tidings. Therefor give good tidings (O Muhammad) to My bondmen

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But those who have avoided Taghut, lest they worship it, and turned back to Allah - for them are good tidings. So give good tidings to My servants

— Saheeh International

Those who have avoided worshipping idols and have turned in repentance to God will receive the glad news.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who keep off from the worship of the idols and turn to Allah, they shall have good news, therefore give good news to My servants,

— Muhammad Habib Shakir

And those who avoid the devils lest they should worship them and turn Unto Allah in penitence, for them are glad tidings. Wherefore give thou glad tidings Unto My bondmen,

— Abdul Majid Daryabadi

Those who eschew Evil,- and fall not into its worship,- and turn to Allah (in repentance),- for them is Good News: so announce the Good News to My Servants,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–18

مروی ہے کہ یہ آیت زید بن عمر بن نفیل، ابوذر اور سلمان فارسی ؓ کے بارے میں اتری ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ آیت جس طرح ان بزرگوں پر مشتمل ہے اسی طرح ہر اس شخص کو شامل کرتی ہے جس میں یہ پاک اوصاف ہوں یعنی بتوں سے بیزاری اور اللہ کی فرمانبرداری۔ یہ ہیں جن کے لئے دونوں جہان میں خوشیاں ہیں۔ بات سمجھ کر سن کر جب وہ اچھی ہو تو اس پر عمل کرنے والے مستحق مبارک باد ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم پیغمبر حضرت موسیٰ ؑ سے تورات کے عطا فرمانے کے وقت فرمایا تھا اسے مضبوطی سے تھامو اور اپنی قوم کو حکم کرو کہ اس کی اچھائی کو مضبوط تھام لیں۔ عقلمند اور نیک راہ لوگوں میں بھلی باتوں کے قبول کرنے کا صحیح مادہ ضرور ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الزُّمَر 35 طاغوت طغیان سے ہے جس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ کسی کو طاغی (سرکش) کہنے کے بجائے اگر طاغوت (سرکشی) کہا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ انتہا درجے کا سرکش ہے۔ مثال کے طور پر کسی کو حسین کے بجائے اگر یہ کہا جائے کہ وہ حسن ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خوبصورتی میں درجہ کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ معبودان غیر اللہ کو طاغوت اس لیے کہا گیا ہے کہ اللہ کے سوا دوسرے کی بندگی کرنا تو صرف سرکشی ہے مگر جو دوسروں سے اپنی بندگی کرائے وہ کمال درجہ کا سرکش ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد اول، صفحات 196۔ 197۔ 366۔ 367۔ 373۔ جلد دوم صفحہ 540)۔ طاغوت کا لفظ یہاں طواغیت، یعنی بہت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–17

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو (منجانب اللہ) حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھوں (یعنی اس میں شائبہ شرک کا نہ ہو) اور مجھ کو (یہ بھی) حکم ہوا ہے کہ (اس امت کے لوگوں میں) سب مسلمانوں میں اول (اسلام کو حق ماننے والا) میں ہوں (اور ظاہر ہے کہ قبول احکام میں نبی کا اول ہونا ضروری ہے اور) اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ اگر (بفرض محال) میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (مجھے جس بات کا حکم ہوا ہے میں تو اسی پر کاربند ہوں چنانچہ) میں تو اللہ ہی کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 17–18

(آیات 18-17) لفظ طاغوت کی تحقیق بقرہ : 256 اور نساء :51 کے تحت بیان ہوچکی۔ یہ غیر اللہ کی تعبیر کے لئے ایک جامع لفظ ہے، خواہ اصنام والہہ ہیں یا جنات و شیاطین اور اللہ کی بندگی و اطاعت سے برگشتہ کرنے والے لیڈر۔ فلاح پانے والوں کی صفات اور ان کو بشارت یہ خاسدین کے مقابل میں مفلحین کا ذکر ہے ان کو ابدی فوز و فلاح کی بشارت بھی دی گی اور ان کی ان صفات کی تحسین بھی فرمائی گئی ہے جن کی بدولت وہ اس بشارت کے اہل ٹھہرے فرمایا کہ ہمارے جو بندے غیر اللہ کی پسرتش سے بچتے ہیں اور وہ پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف جھک پڑے ان کے لئے بشارت ہے تو تم میرے ان بندوں کو ابدی فوز و فلاح کی خوش خبری دے دو۔ الذین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

18۔ 1 اَحسَنُ سے مراد محکم اور پختہ بات، یا سب سے اچھی بات، یا عقوبیت کے مقابلے میں درگزر اختیار کرتے ہیں۔ 18۔ 2 کیونکہ انہوں نے اپنی عقل سے فائدہ اٹھایا ہے، جب کہ دوسروں نے اپنی عقلوں سے فائدہ نہیں اٹھایا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

آیت نمبر 17 تا 18 طاغوت کا صیغہ طغیان سے ہے۔ جس طرح ملکوت ' عظموت اور رحموت کے صغے بنے ہیں اس کے مفہوم میں ضخامت اور مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس کا مروج مفہوم یہ ہے کہ جو سرکشی کرے اور حد سے تجاوز کرجائے ' وہ طاغوت ہے۔ اور جو لوگ طاغوت کی بندگی اور طاعت سے اجتناب کرتے ہیں وہ لوگ کون ہیں ؟ وہ کسی شکل میں بھی طاغوت کی بندگی نہ کریں۔ اور یہ وہی لوگ ہوں گے جو ہر چھوٹے بڑے کام میں اللہ کی بندگی کرنے والے ہوں ، اس کی طرف لوٹنے والے ہوں اس کی طرف رجوع کرنے والے ہوں اور بندگی کے صحیح مقام پر کھڑے ہوں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے بشارت عالم بالا سے ہے اور رسول اللہ ؐ ان کو اس کی خوشخبری دے رہے ہیں۔ لھم البشرٰی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی جنہوں نے شیطانوں کا کہا نہ مانا اور سب شرکاء سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف رجوع ہوئے۔ ان کے لیے ہے بڑی بھاری خوشخبری۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 { وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْہَا } ”اور وہ لوگ جنہوں نے طاغوت سے کنارہ کشی کرلی اس طرح کہ اس کی بندگی نہ کی“ طاغوت کا لفظ قرآن میں متعدد بار آیا ہے۔ سب سے پہلے ہم نے یہ لفظ سورة البقرۃ کی اس آیت میں پڑھا تھا : { فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَیُؤْمِنْم بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقٰیق } آیت 257 ”تو جو کوئی بھی طاغوت کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے تو اس نے بہت مضبوط حلقہ تھام لیا“۔ لفظ طاغوت کا مادہ ”طغی“ ہے اور اس کے معنی سرکشی کے ہیں۔ اسی مادہ سے اردو لفظ ”طغیانی“ مشتق ہے۔ دریا اپنے کناروں کے اندر بہہ رہا ہو تو بہت خوبصورت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 طاغوت کا مفہوم :۔ طاغوت کا معنی عموماً بت یا شیطان کرلیا جاتا ہے۔ ان الفاظ سے اس لفظ کا پورا مفہوم ادا نہیں ہوتا۔ طاغوت سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے مقابلہ میں اطاعت یا عبادت کی جاتی ہو یا وہ خود اللہ کے مقابلہ میں اپنی اطاعت یا عبادت لوگوں سے کروانا پسند کرتا ہو، گویا طاغوت سے مراد دنیادار چودھری اور حکمران بھی ہوسکتے ہیں کوئی ادارہ یا پارلیمنٹ بھی ہوسکتی ہے۔ بت، شیطان اور جن بھی ہوسکتے ہیں اور ایسے پیر فقیر بھی ہوسکتے ہیں جو اللہ کے مقابلہ میں اپنی اطاعت کروانا پسند فرماتے ہیں اور شریعت پر طریقت کو ترجیح دیتے ہیں۔ 27 یہ بشارت صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ہر قسم کے طاغوت کی اطاعت یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–18

28۔ (اور اس کی سب باتیں اچھی ہی ہیں) (آیت) ” یستمعون “۔ استماع کے معنی سمجھنے کے طور پر سننے کے ہیں۔ (آیت) ” القول “۔ سے مراد کلام حق ہے۔ (آیت) ” احسنہ “۔ احسن سے یہاں مراد حسن ہے۔ (آیت) ” البشری “۔ ترکیب کلام سے معنی حصر کے پیدا ہوگئے ہیں، یعنی بشارت ایسوں ہی کے حق میں ہے۔ سب کے لیے نہیں ہے۔ اے لھم لالغیر ھم (کبیر) (آیت) ” البشری “۔ ال بھی اسی حصر کی تاکید مزید کے لیے ہے۔ ان ھذہ الماھیۃ بتمامھا لھؤلاء ولم یبق منھا نصیب لغیرھم (کبیر) (آیت) ” الطاغوت “۔ طاغوت ہر وہ ہستی ہے جو طغیان میں حد سے تجاوز کرجائے مراد یہاں شیطان یا شیاطین سے لی گئی ہے۔ فسرہ ھنا بالشیطان مجاھد ویجوز تفسیر ھا بالشیاطین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–21

آیت نمبر 10 تا 21 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدوھا وانابوا الی اللہ لھم البشری فبشر عباد اور جو لوگ شیطان (یعنی غیر اللہ) کی عبادت سے بچے رہتے ہیں اور (ہمہ تن) اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ خوشخبری کے مستحق ہیں ‘ سو آپ میرے بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔ الطَّاغُوْت طغیان (وسرکشی) میں حد سے بڑھا ہوا۔ طغیان میں حد سے بڑھا ہوا چونکہ شیطان ہے ‘ اسلئے طاغوت کا لفظ شیطان کیلئے مخصوص ہوگیا۔ بغوی نے طاغوت سے مراد لئے ہیں بت ‘ کیونکہ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا میں مؤنث کی ضمیر ان کی طرف راجع کی گئی ہے۔ اَنَابُوْا اللہ کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوئے اور اللہ کے سوا دوسروں سے کٹ گئے۔ لَھُمُ الْبُشْرٰی ان کیلئے بشارت ہے ‘ یعنی وہ بشارت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جو لوگ شیطان اور بتوں کی عبادت سے بچتے ہیں اور توبہ و ایمان اور تمام نیک اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ مرنے کے وقت جنت کی خوشخبری یا جنت کے دروازہ پر اعزاز خداوندی کی خوشخبری سنائے جانے کے حق دار ہیں۔ لہٰذا آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔ شان نزول : وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ (الخ) ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت مبارکہ ان تین حضرات یعنی زید عمر بن نفیل، حضرت ابوذر غفاری اور حضرت سلمان فارسی کے بارے میں نازل ہوئی جو زمانہ جاہلیت میں اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ۔ :”الطَّاغُوْتَ“ کی لغوی تشریح کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی آیت (256)۔ استاذ محمد عبدہ لکھتے ہیں، اصل میں لفظ ”الطَّاغُوْتَ“ (بروزن فَعْلُوْتٌ لَا فَاعُوْلٌ أَصْلُہُ طَغْیُوْتٌ أَوْ طَغْوُوْتٌ) ”طُغْیَانٌ“ سے مشتق ہے، لہٰذا اس سے مراد شیطان بھی ہے اور بت بھی اور ہر وہ انسان بھی جو بندگی کی حد سے نکل کر اپنے آپ کو خدائی کے مقام پر رکھتا ہو۔ اس کی عبادت سے مراد محض اسے سجدہ کرنا نہیں بلکہ اسے مستقل بالذات آمر ومطاع سمجھتے ہوئے اس کے احکام کی بجاآوری بھی ہے۔ جوہری لکھتے ہیں : ”اَلطَّاغُوْتُ الْکَاھِنُ وَالشَّیْطَانُ وَ کُلُّ رَأْسٍ فِي الضَّلَالِ“ کہ اس سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–18

17 ۔ 18:۔ آخفش نے کہا : طاغوت جمع ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ واحد مونث ہو۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ معنی ہے وہ طاغوت سے دور ہے وہ اس سے ایک طرف ہے انہوں نے طاغوت کی عبادت نہ کی۔ مجاہد اور ابن زید نے کہا : اس سے مراد شیطان ہے۔ ضحاک اور سدی نے کہا : اس سے مراد بت ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد کاہن ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ عجمی نام ہے جس طرح طالوت ‘ جالوت ‘ ہاروت اور ماروت۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عربی نام ہے یہ طغیان سے مشتق ہے ان محل نصب میں ہے طاغوت سے بدل ہے ‘ تقدیر کلام یہ ہے والذین اجتنبوا عبادۃ الطاغوت۔ و انا بوا الی اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طاعت کی طرف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–18

1:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدونھا “ (اور جو لوگ بتوں کی عبادت کرنے سے بچ گئے) یعنی یہ دونوں آیتیں تین آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو زمانہ جاہلیت میں لا الہ الا اللہ “ کہتے تھے ان میں سے زید بن عمر و بن نفیل، ابوذر غفاری اور سلمان فارسی ؓ ہیں۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ سعید بن زید ؓ ، ابوذر ؓ اور سلیمان ؓ جاہلیت میں بھی اچھی بات کا اتباع کرتے تھے اور احسن القول سے ” لا الہ الا اللہ مراد ہے۔ انہوں نے یہ بات کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ پر اس آیت کو اتارا (آیت ) ” یستمعون القول…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا [اور وہ لوگ جو بچے ] الطَّاغُوْتَ [سرکشی کے سرغنوں سے ] اَنْ يَّعْبُدُوْهَا [کہ وہ لوگ بندگی کریں ان کی ] وَاَنَابُوْٓا [اور انھوں نے رخ کیا ] اِلَى اللّٰهِ [اللہ کی طرف ] لَهُمُ [ان کے لئے ہی ] [الْبُشْرٰى ۚ : وہ بڑی خوشخبری ہے ] فَبَشِّرْ [تو آپ ﷺ خوشخبری دے دیں ] عِبَادِ [میرے بندوں کو ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد ان حضرات کی تعریف فرمائی جو کفر و شرک سے بچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ارشاد فرمایا (وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَاَنَابُوْا اِِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الْبُشْرٰی) (اور جن لوگوں نے اس بات سے پرہیز کیا کہ شیطان کی عبادت کریں اور اللہ کی طرف متوجہ ہوئے ان کے لیے خوشخبری ہے) لفظ (الطاغوت) فعلوت کے وزن پر ہے بقول صاحب روح المعانی اس کی اصل طغیوت یا طغورت ہے اور جمع طغاویت ہے بہت زیادہ شریر اور حد سے زیادہ نافرمان کے لیے یہ لفظ بولا جاتا ہے اسی لیے اسی کا ترجمہ شیطان کیا گیا ہے شیطان لوگوں کو بہکاتا ہے اور توحید سے دور رکھتا ہے اپنی فرمانبرداری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

مدح مومنین مطیعین وبیان مراتب عالیہ برائے اھل تقوی ور دنیا وعقبی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” امن ھو قانت انآء الیل ........ الی ........ ھم اولوا الالباب “۔ (ربط) گذشتہ مضمون اس قانون خداوندی کی تحقیق و تفصیل پر مشتمل تھا کہ کفر ونافرمانی اللہ کو ہرگز پسند نہیں ایمان و اطاعت اور شکر اللہ کو محبوب ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت تمام جہانوں سے بےنیاز ہے اس کو نہ کسی کے کفر سے نقصان ہے اور نہ کسی کے ایمان وطاعت سے نفع اب ان آیات میں اہل ایمان وطاعت کے درجات اور ان پر خداوند عالم کے ان انعامات کا بیان ہے جو ان پر دنیا اور آخرت میں کئے جائیں گے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ علم ومعرفت اور عقل و…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–18

22:۔ ” والذین الخ “ یہ ایمان والوں کے لیے بشارت اخروی ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔ ” الطاغوت “ سے ہر معبود غیرا للہ مراد ہے۔ قال الرغب : ھو عبارۃ عن کل متعد وکل معبود من دون اللہ تعالیٰ (روح ج 23 ص 252) ۔ طاغوت کی مزید تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر حاشیہ (504) میں ص 126 پر گذر چکی ہے۔ فراجعہ، ان یعبدوھا، الطاغوت سے بدل الاشتمال ہے۔ ” وانابوا الی اللہ “ میں واؤ تفسریہ ہے یعنی جن لوگوں نے غیر اللہ کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی خالص عبادت میں منہمک ہوگئے ان کے لیے آخرت میں جنت کی بشارت ہے۔ ” فبشر عباد الخ “ اس لیے آپ میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیں جو بات کو بغور سنتے اور حق و باطل میں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–21

ربط آیات : اس سے پہلے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں بہت سے دلائل بیان ہوئے پھر نیک وبد اور عالم و جاہل کا تقابل ہوا کہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ دلائل سے عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اگر کسی مقام پر کفار ومشرکین کا غلبہ ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شعائر دین پر عمل درآمد نہیں کرنے دیتے تو پھر وہاں سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں ، ظاہر ہے کہ ترک وطن میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تکالیف کو صبر و استقامت سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ يَّعْبُدُوْہَا وَاَنَابُوْٓا اِلَى اللہِ لَہُمُ الْبُشْرٰى۝ 0 ۚ فَبَشِّرْ عِبَادِ۝ 17ۙ اجتناب ورجل جَنِبٌ وجَانِبٌ. قال عزّ وجل : إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبائِرَ ما تُنْهَوْنَ عَنْهُ [ النساء/ 31] ، وقال عزّ وجل : وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ [ الحج/ 30] ، واجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ [ الزمر/ 17] عبارة عن تركهم إياه، فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [ المائدة/ 90] ، وذلک أبلغ من قولهم : اترکوه . الاجتناب ( افتعال ) بچنا ، یکسو رہنا ، پہلو تہی کرنا ۔ قرآن میں ہے :۔ إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبائِرَ ما تُنْهَوْنَ عَنْهُ [ النساء/ 31] اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–20

ترکیب : الطاغوت کالر حموت والعظموت بناء مبالغۃ فی المصدر، ویونث قبیل اعجمی کطالوت وجالوت وقیل عربی من الطغیان الان فیہا قلبًا بتقدیم اللام علی العین، والمراد بھا الاوثان والشیطان وقیل الکاھن، ان یعبد وھافی محل نصب علی البدل من الطاغوتبدل اشتمال و انابوا معطوف علی اجتنبوا لہم البشری الجملۃ خبروالذین افمن من موصولۃ فی محل رفع بالا ابتداء والخبر محذوف ای کمن یخاف او شرطیۃ افانت جوابہ۔ تفسیر : بت پرستوں کی برائی اور ان پر پیش آنے والی مصیبت کے ذکر کے بعد ان سے بچنے والوں اور خدا کی طرف رجوع ہونے والوں کے خصائل اور ان کے نتائج بیان فرماتا ہے۔ گویا یہ بیان سابق کا تتمہ ہے۔ فقال والذین اجتنبوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–18

وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَاَنَا بُوْٓا اِلَی اللّٰہِ لَہُمُ الْبُشْرٰی ج فَبَشِّرْ عِبَادِ ۔ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَـہٗ ط اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدٰہُمُ اللّٰہُ وَاُوْلٰٓئِکَ ھُمْ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ ۔ (الزمر : 17، 18) (اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کرلیا ان کے لیے خوشخبری ہے، پس میرے ان بندوں کو خوشخبری پہنچا دو ۔ جو بات کو غور سے سنتے اور اس میں سے اچھی بات کی پیروی کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی ہیں جو عقل والے ہیں۔ ) طاغوت کا مفہوم طاغوت، طغیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کے ساتھ طاغوت کا انکار کرنا بھی لازم ہے۔ قرآن مجید کا صرف اتنا حکم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ اس کا یہ بھی حکم ہے کہ طاغوت کی اطاعت کا قلباً قولاً اور عملاً انکار کیا جائے۔ اسی لیے کلمہ طیبہ میں پہلے معبودان باطل کی نفی ہے اور پھر اللہ کی ذات کا اثبات کیا گیا ہے۔ کیونکہ طاغوت انسان کو توحید کی روشنی سے نکال کر کفر و شرک کے اندھیروں میں لے جاتا ہے۔ جو چیز بھی انسان کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے دور کرے وہ طاغوت ہے۔ بیشک انسان کا اپنا نفس کیوں نہ ہو۔ جو لوگ طاغوت سے اجتناب کرتے ہیں اور ہر حال میں اپنے رب کی طرف انابت رکھتے ہیں ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

شیطان سے بچنے والے خوشخبری کے حقدار ہیں : 17: وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ (اور وہ لوگ جو شیطان کی عبادت سے بچتے ہیں) الطاغوتؔ سے شیاطین مراد ہیں۔ یہ الطغیان سے فعلوت کا وزن ہے۔ جو مبالغہ کیلئے ملکوت اور رحموت کی طرح استعمال ہوا۔ البتہ اس میں لام کو غین سے بدل کر قلب کیا ہے۔ اس کا اطلاق شیطان پر ہوتا ہے۔ یا شیاطین پر کیونکہ الطاغوت مصدر ہے۔ اور اس میں کئی مبالغات ہیں۔ نمبر 1۔ مصدر سے نام رکھ دیا گیا گویا شیطان بعینہٖ سرکشی ہے نمبر 2۔ یہ وزن مبالغہ کا ہے الرحموت رحمت واسعہ کو کہتے ہیں اور الملکوت وسیع ملک کو۔ نمبر 3۔ قلب بھی اختصاص کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ یہ شیطان کے علاوہ کسی پر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 17۔۔۔۔۔۔۔ والذین اجتنبوالطاغوت، بتوں سے بچ کر، ان یعبد وھا وانا بوا الی اللہ ، اللہ کی عبادت کی طرف لوٹتے ہیں۔ ، لھم البشری، دنیا میں جنت کی اور آخرت میں مغفرت کی بشارت ہے۔ ، فبشرعباد اپنے بندوں کو اس کی خوشخبری سنادو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–21

17۔ 18۔ اگرچہ تفسیر زید بن اسلم اور تفسیر ابن 1 ؎ ابی حاتم میں لکھا ہے کہ ابی ذر غفاری (1 ؎ بحوالہ تفسیر الدرالمنثورص 324 ج 5) اور سلیمان فارسی اور زید بن عمرو بن نفیل ان تین شخصوں کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ہے لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر نے اس بات کو صحیح ٹھہرایا ہے 2 ؎ کہ آنحضرت ﷺ کے (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 48 ج 4) زمانہ میں یا صحابہ کے یا حال کے زمانہ میں غرض کسی زمانہ میں جو کوئی بت پرستی سے بچا اور توحید اختیار کی اس طرح کے سب لوگوں کی شان میں یہ آیت صادق آتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوشخبری کے قابل اور صاحب ہدایت اور صاحب عقل ان ہی لوگوں کو ٹھہرایا ہے جو دین کی بات کو سن کر اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 17–18

آیت 17 اللہ تبارک و تعالیٰ مجرمین کا حال بیان کرنے کے بعد اپنی طرف رجوع کرنے والے بندوں کا حال بیان کرتے اور ان کے لئے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : (والذین اجتنبوا الطاغوت ان یعبدوھا) ” اور وہ لوگ جو طاغوت کی عبادت کرنے سے بچتے رہے۔ “ اس مقام پر طاغوت سے مراد، غیر اللہ کی عبادت ہے یعنی جنہوں نے غیر اللہ کی عبادت سے اجتناب کیا۔ یہ حکیم وعلیم کی طرف سے بہترین احتراز ہے، کیونکہ مدح تو صرف اسی شخص کو پہنچتی ہے جو ان کی عبادت سے بچتا ہے (وانا بوا الی اللہ) اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اخلاص دین کے ذریعے سے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ان کی فطرت کے داعیے بتوں کی عبادت کو چھوڑ کرلیتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

38 مفلحین کی پہلی صفت بندگی طاغوت سے اجتناب : سو " خاسرین " کے مقابلے میں " مفلحین " کی صفات کے بیان کے سلسلے میں پہلی صفت یہ بیان فرمائی گئی کہ وہ لوگ بچتے رہے طاغوت کی بندگی سے۔ " طاغوت " اصل میں " طغیان " سے مبالغے کا صیغہ ہے۔ جیسے " رحمت " سے " رحموت " اور " عظمت " سے " عظموت " وغیرہ۔ (ابوالسعود، ابن کثیر اور روح وغیرہ) ۔ اور یہ غیر اللہ کے لیے ایک جامع تعبیر ہے۔ اسی لئے اس کے معنیٰ میں کہا گیا ہے ۔ " کُلُّ مَا عُبِدَ مِنْ دُوْنَ اللّٰہِ " ۔ یعنی اللہ پاک کے سوا جس کی بھی پوجا کی گئی ہو وہ " طاغوت " ہے۔ بشرطیکہ اس کی رضا اس میں شامل ہو اگر وہ صاحب ارادہ ہو۔ کہ عبادت و بندگی اللہ وحدہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–21

مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 اصل میں لفظ ” طاغوت “ ( بروزن فعلوت لا فاعول اصلہ طغیوت او طغو وت) طغیان سے مشتق ہے لہٰذا اس سے مراد شیطان بھی ہے اور بت بھی، کاہن اور پروہت بھی اور ہر وہ انسان بھی جو بندگی کی حد سے نکل کر اپنے آپ کو خدائی کے مقام پر رکھتا ہو۔ اس کی عبادت سے مراد محض اسے سجدہ کرنا نہیں بلکہ اسے مستقبل بالذات آمر ومطاع سمجھتے ہوئے اس کے احکام کی بجا آوری بھی ہے۔ علامہ جوہری لکھتے ہیں۔ ( الطاغوت الکاھن والشیطان وکل راس فی الضلال) کہ اس سے مراد شیطان، کاہن اور ہر وہ چیز ہے جو گمراہی کا منبع بنے۔ امام راغب لکھتے ہیں ( ھو عبارۃ عن کل معبود من دون اللہ) کہ یہ ہر اس چیز سے عبارت ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:17) اجتنبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ اجتناب (افتعال) مصدر۔ انہوں نے پرہیز کیا۔ وہ بچے۔ الطاغوت : طغوت وطغیت و طغیان وطغوان کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں۔ طغیان کے معنی ہیں سرکشی میں حد سے تجاوز کرنا۔ مثلا اذ ھب الی فرعون انہ طغی (20:24) تو فرعون کے پاس جا وہ بیحد سرکش ہوچکا ہے۔ الطاغوت مصدر ہے (الملکوت کی طرح) اور شیطان یا شیاطین کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ بعض نے اس کے معنی یہ لئے ہیں :۔ کاہن۔ ساحر۔ اصنام (بت) اور سرکش اور حد سے تجاوز کرنے والا خواہ وہ انسان ہو یا جن۔ ان یعبدوھا : ان مصدریہ ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ علامہ بغوی (رح) نے طاغوت سے مراد بت لئے ہیں اور ان کے نزدیک ھا ضمیر کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–20

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے) تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–18

(ف 1) اے محبوب ﷺ وہ اچھے بندے جنہوں نے عبادت شیطان وبت پرستی سے کنارہ کیا اور سچے دل سے خدا کی طرف متوجہ ہوئے اور تمام احکام اسلام مانے ان کو خوش خبری ہے مژدہ رحمت دیں گے جب قیامت میں جنت کا حکم ہوگا اور دروازہ پر پہنچیں گے تو مبارک سلامت کا غل ہوگا بشارت رحمت دی جائے گی اے محبوب ﷺ ان اچھے بندوں کو دنیا میں بشارت دیجئے جو بات سن کو غوروفکر کرتے ہیں اور ہر بات میں عمدہ بات جو دیکھتے ہیں اسی کو مانتے ہیں مضبوطی کی طرف توجہ کرتے ہیں شبہوں میں نہیں پڑتے، حق واضح پر اعتقاد رکھتے ہیں اور عمل کرتے ہیں وہ ایسے آدمی ہیں کہ اللہ نے ان کو اپنے رستہ کی عقل سے کام لے کر توحیدخالص اور انابت الی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–17

ف 2: اس کے بعد یہ بتایا ہے کہ یہ لوگ شدید ترین سزا کے مستحق ہیں ۔ قیامت کے دن ان کی یہ کیفیت ہوگی ۔ کہ چاروں طرف سے آگ کے شعلوں میں گھرے ہوں گے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اور جن لوگوں نے بتوں سے یا شیاطین کی عبادت سے اجتناب کیا اور وہ پوری طرح اللہ تعالیٰ کی جانب رجوع اور متوجہ رہے ایسے لوگوں کے لئے بشارت اور خوشخبری ہے اور وہ خوشخبری سنانے کے مستحق ہیں اے پیغمبر میرے ان بندوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–18

ف 1۔ مطلب یہ کہ توحید خالص کا وجوب اور اس کے ترک پر عذاب کا استحقاق ایسا عام ہے کہ معصوم جس میں احتمال معصیت کا ہے ہی نہیں، وہ بھی اس قاعدہ سے مستثنی نہیں، تو غیر معصوم تو کس شمار میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

غیر اللہ کی پرستش سے بچنے والوں کے لیے جنت کی بشارت 17۔ طاغوت کیا ہے ؟ طاغوت اس نظریہ کو کہا گیا ہے جس نظریہ کے تحت غیر اللہ کی عبادت کفر نہ رہے اور غیر اللہ میں ہر وہ چیز آجاتی ہے جو اللہ نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ صرف اور صرف ایک ذات واحد کا نام ہے لہذا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت بھی طاغوت ہی کہلاتی ہے خواہ وہ کوئی ہو۔ اس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے انبیاء ورسل اور اولیاء کرام کی بھی لوگوں نے عبادت کی ہے اور ان کو بھی رب اور الٰہ قرار دیا ہے کہ ان کی عبادت کو بھی طاغوت سے تعبیر کیا جائے گا ؟ تو یاد رکھنا چاہیے کہ بلاشبہ ان سب کی یا ان میں سے کسی کی عبادت بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–17

In verse 10, it was said: وَأَرْ‌ضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ (and the earth of Allah is wide).In the sentence previous to this, Good deeds had been enjoined. This might prompt someone to come up with the excuse, 'The city or country in which I live, or the social milieu I am stuck with around me stops me from doing good deeds.' This sentence carries an answer to this excuse - 'if you find adherence to Islamic legal injunctions difficult while living in some particular country, city or social setup, then, leave it. The earth of Allah is wide enough. Go and live at a place and in a surrounding that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

35 Taghut is from tughyan and means rebellion. If someone is called taghut (rebellion) instead of taghi (rebel), it would mean that he is a rebel incarnate. For example, if a person is called husn (beauty) instead of hasin (beautiful), it would mean that he has reached perfection in beauty. The other deities than Allah have been called taghut because it is rebellion to worship others besides Allah, but the one who has others worship him, is a rebel of the worst kind. (For further explanation, see AI-Baqarah: 256, Al-Nisa: 60, 76, An-Naml: 36 and the E.N.'s thereof).

Read the full tafseer →