Az-Zumar 39:24

Az-Zumar · from ayah 24

39:24

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْهِهٖ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ ؕ— وَقِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ ۟اَ فَمَنۡ يَّتَّقِىۡ بِوَجۡهِهٖ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ ؕ وَقِيۡلَ لِلظّٰلِمِيۡنَ ذُوۡقُوۡا مَا كُنۡـتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ

بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اس کے مزے چکھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then is he who will shield with his face the worst of the punishment on the Day of Resurrection [like one secure from it]? And it will be said to the wrongdoers, "Taste what you used to earn."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 3 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:24

اب اُس شخص کی بد حالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہو (کیا وہ ویسا ہوسکتا ہے جو چین میں ہو) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کرتے رہے تھے اس کے مزے چکھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

بھلا جو شخص قیامت کے دن کے بدترین عذاب کی سپر (ڈھال) اپنے منھ کو بنائے گا۔ (ایسے) ﻇالموں سے کہا جائے گا کہ اپنے کیے کا (وبال) چکھو

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا (اس شخص کا کیسا برا حال ہوگا) جو قیامت کے دن اپنے چہرے ہی سے بدترین عذاب کو روکنا چاہے گا ؟ اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ : چکھو مزہ اس کمائی کا جو تم نے کر رکھی تھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا وہ جو قیامت کے دن برے عذاب کی ڈھال نہ پائے گا اپنے چہرے کے سوا نجات والے کی طرح ہوجائے گا اور ظالموں سے فرمایا جائے گا اپنا کمایا چکھو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا وہ شخص جو قیامت کے دن (آگ کے) برے عذاب کو اپنے چہرے سے روک رہا ہوگا (کیونکہ اس کے دونوں ہاتھ بندھے ہونگے، اس کا کیا حال ہوگا؟) اور ایسے ظالموں سے کہا جائے گا: اُن بداعمالیوں کا مزہ چکھو جو تم انجام دیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ساتھ بد ترین عذاب سے بچے گا (وہ جنتی جیسا ہوسکتا ہے ؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا چکھو جو تم کمایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جو شخص قیامت کے دن کے سخت عذاب کو اپنے چہرے پر روکے گا (اس کی بےبسی کا کچھ اندازہ ہوسکتا ہے ؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ اپنی ان کرتوتوں کا مزا چکھو جو تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا وہ جو اپنے چہرے کو عذاب بد کی سپر بنائے گا (اور وہ جو اس سے محفوظ ہوگا، دونوں یکساں ہوں گے) اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا کہ جو کمائی تم نے کی ہے اس کا مزا چکھو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا (اس شخص کی حرمان نصیبی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ؟) جو اپنے چہرے کے ذریعے اپنا بچاؤ کرنے پر مجبور ہوگا قیامت کے روز (وہاں کے) اس برے عذاب سے ؟ اور (مزید یہ کہ اس روز) کہا جائے گا ایسے ظالموں سے (ان کی توبیخ و تذلیل کے لئے) کہ اب چکھو مزہ تم لوگ اپنی اس کمائی کا جو تم (زندگی بھر) کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

بھلا جو شخص قیامت کے دن عذاب سخت کو اپنے چہرہ پر لے گا اور (ایسے) ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے اب اس کا مزہ چکھو (تو کیا ایسا شخص اور جو ایسا نہ ہو برابر ہوسکتے ہیں ؟)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بھلا وہ شخص جو اپنے چہرے پر روکے گا بدترین عذاب قیامت کے دن ! اور کہہ دیا جائے گا ان ظالموں سے کہ اب چکھو مزہ اس کا جو کچھ کمائی تم کرتے رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہے اور ظالموں سے کہا جائے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے اس کا مزہ چکھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

How woeful is the plight of him who has nothing except his face to shield him from severe chastisement on the Day of Resurrection? Such evil-doers shall be told: “Taste now the consequence of your deeds.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Tell Me about the one who tries to save himself from the worst punishment with his face on the Day of Judgment, (whether he is equal to the one who is not liable to any punishment.) And it will be said to the wrongdoers, :Have a taste of what you used to earn.

— Muhammad Taqi Usmani

Tell Me about the one who tries to save himself from the worst punishment with his face on the Day of Judgment, (whether he is equal to the one who is not liable to any punishment.) And it will be said to the wrongdoers, :Have a taste of what you used to earn.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is he then, who will confront with his face the awful torment on the Day of Resurrection And it will be said to the wrongdoers: "Taste what you used to earn!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is he then, who will strike his face against the awful doom upon the Day of Resurrection (as he who doeth right)? And it will be said unto the wrong-doers: Taste what ye used to earn.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then is he who will shield with his face the worst of the punishment on the Day of Resurrection [like one secure from it]? And it will be said to the wrongdoers, "Taste what you used to earn."

— Saheeh International

Is there anyone who is afraid of the torment of the Day of Judgment when the unjust will be told, "Suffer the result of your deeds?"

— Muhammad Sarwar

Is he then who has to guard himself with his own person against the evil chastisement on the resurrection day? And it will be said to the unjust: Taste what you earned.

— Muhammad Habib Shakir

Is he, then, who will shield himself with his face from the evil of torment on the Day of Resurrection be as he who is secure therefrom And it shall be said Unto the wrong-doers: taste ye that which ye have been earning.

— Abdul Majid Daryabadi

Is, then, one who has to fear the brunt of the Penalty on the Day of Judgment (and receive it) on his face, (like one guarded therefrom)? It will be said to the wrong-doers: "Taste ye (the fruits of) what ye earned!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 24–26

ایک وہ جسے اس ہنگامہ خیز دن میں امن وامان حاصل ہو اور ایک وہ جسے اپنے منہ پر عذاب کے تھپڑ کھانے پڑتے ہوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ جیسے فرمایا اوندھے منہ، منہ کے بل چلنے والا اور راست قامت اپنے پیروں سیدھی راہ چلتے والا برابر نہیں۔ ان کفار کو تو قیامت کے دن اوندھے منہ گھسیٹا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آگ کا مزہ چکھو۔ ایک اور آیت میں ہے جہنم میں داخل کیا جانے والا بدنصیب اچھا یا امن وامان سے قیامت کا دن گذارنے والا اچھا ؟ یہاں اس آیت کا مطلب یہی ہے لیکن ایک قسم کا ذکر کر کے دوسری قسم کے بیان کو چھوڑ دیا کیونکہ اسی سے وہ بھی سمجھ لیا جاتا ہے یہ بات شعراء کے کلام میں برابر پائی جاتی ہے۔ اگلے لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 24–27

سورة الزُّمَر 44 کسی ضرب کو آدمی اپنے منہ پر اس وقت لیتا ہے جبکہ وہ بالکل عاجز و بےبس ہو۔ ورنہ جب تک وہ مدافعت پر کچھ بھی قادر ہوتا ہے وہ اپنے جسم کے ہر حصے پر چوٹ کھاتا رہتا ہے مگر منہ پر مار نہیں پڑنے دیتا۔ اس لیے یہاں اس شخص کی انتہائی بےبسی کی تصویر یہ کہہ کر کھینچ دی گئی ہے کہ وہ سخت مار اپنے منہ پر لے گا۔ سورة الزُّمَر 45 اصل میں لفظ " کسب " استعمال ہوا ہے جس سے مراد قرآن مجید کی اصطلاح میں جزا و سزا کا وہ استحقاق ہے جو آدمی اپنے عمل کے نتیجے میں کماتا ہے۔ نیک عمل کرنے والے کی اصل کمائی یہ ہے کہ وہ اللہ کے اجر کا مستحق بنتا ہے۔ اور گمراہی و بد راہی اختیار کرنے والے کی کمائی وہ سزا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 24–28

خلاصہ تفسیر بھلا جو شخص اپنے منہ کو قیامت کے روز سخت عذاب کی سپر بنا دے گا اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے (اب) اس کا مزہ چکھو تو کیا یہ (گرفتار عذاب) اور جو ایسا نہ ہو برابر ہو سکتے ہیں (اور کفار ان عذابوں کو سن کر انکار نہ کریں کیونکہ) جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہوں نے بھی (حق کو) جھٹلایا تھا سو ان پر عذاب ایسے طور پر آیا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا سو اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی دنیوی زندگی میں بھی رسوائی کا مزہ چکھایا۔ (کہ زمین میں دھنس جانے اور چہرہ بگڑ جانے اور آسمان سے پتھر برسنے وغیرہ کے عذاب سے دنیا میں بدنام ہوئے) اور آخرت کا عذاب اور بھی بڑا ہے کاش یہ لوگ سمجھ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیت 24) قیامت کے ان متکبرین کی بےبسی اس سوالیہ جملے میں بھی خبر محذوف ہے۔ ترجمہ میں ہم نے اس کی وضاحت کردی ہے۔ یہ ان متکبرین کی بےبسی کی تصویر ہے کہ جس جزا و سزا کی انہوں نے اس دنیا میں نہایت رعونت کے ساتھ تکذیب کی ایک دن آئے گا کہ اس کا انجام ایسی ہولناک شکل میں ان پر مسلط ہوگا کہ وہ اس سے بچنے کے لئے اپنے چہروں کو ڈھال بنانے کی کوشش کریں گے۔ آدمی کا سب سے زیادہ عزیز و اشرف حصہ اس کا چہرہ ہی ہوتا ہے۔ وہ ہر آفت سے اس کو محفوظ رکھنے کے لئے سب سے پہلے کوشش کرتا ہے اور کسی طرح بھی اس کو کوئی گزند پہنچنے نہیں دینا چاہتا لیکن آخرت کے عذاب کا یہ حال ہوگا کہ اس دن متکبرین کے پاس کوئی چیز بھی ایسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

24۔ 1 یعنی کیا یہ شخص، اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو قیامت والے دن بالکل بےخوف اور امن میں ہوگا ؟ یعنی محذوف عبارت ملا کر اس کا مفہوم ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–28

12: یہ دوزخ کے ایک خوفناک پہلو کی منظر کشی ہے۔ عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ انسان جب کوئی تکلیف دہ چیز اپنی طرف آتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ اپنے ہاتھوں یا پاؤں سے اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن دوزخ میں یہ اس لیے ممکن نہیں ہوگا کہ ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہوں گے، اس لیے جسم سے عذاب کو روکنے کی کوئی اور صورت نہیں ہوگی، سوائے اس کے کہ چہرے ہی کو آگے کر کے اسے ڈھال بنایا جائے، لیکن ظاہر ہے کہ چہرے پر روکنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ چہرے کو تکلیف سب سے زیادہ ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 24 انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں اور اپنے جسم کے ذریعے بھی اپنے چہرے کو بچاتا ہے۔ یہاں دوزخ کے اندر تو وہ اپنے آپ کو کس صورت میں بھی آگ سے نہیں بچاسکتا ۔ نہ ہاتھوں سے ، نہ پاؤں سے۔ لہٰذا وہ یہاں چہرے سے آگ کو دفع کرے گا۔ اور چہرے کے ذریعہ سخت عذاب سے بچنے کی سعی کرے گا۔ یہاں مراد ہے شدید ڈر ، شدیدخوب اور شدید اضطراب۔ اس قسم کی صورت حال میں اب کفار کو سرزنش کیجاتی ہے اور اس کے سامنے اس کی پوری زندگی کی کمائی پیش کی جاتی ہے۔ وقیل للظلمین ذوقوا ماکنتم تکسبون (39: 24) ” وہ ظالموں سے کہہ دیا جائے گا ، اب چکھو مزہ ، اس کمائی کا جو تم کرتے تھے “۔ اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی تکذیب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 آدمی کا قاعدہ ہے کہ جب سامنے سے کوئی حملہ ہو تو ہاتھوں پر روکتا ہے۔ لیکن محشر میں ظالموں کے ہاتھ بندھے ہوں گے، اس لیے عذاب کی تھپیڑیں سیدھی منہ پر پڑیں گی۔ تو ایسا شخص جو بدترین عذاب کو اپنے منہ پر روکے اور اس سے کہا جائے کہ اب اس کام کا مزہ چکھ جو دنیا میں کیے تھے۔ کیا اس مومن کی طرح ہوسکتا ہے جسے آخرت میں کوئی تکلیف اور گزند پہنچنے کا اندیشہ نہیں، اللہ کے فضل سے مطمئن اور بےفکر ہے۔ ہرگز نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 24 { اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْہِہٖ سُوْٓئَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”بھلا وہ شخص جو اپنے چہرے پر روکے گا بدترین عذاب قیامت کے دن !“ یہ پھر وہی حذف کا اسلوب ہے کہ بھلا ایک شخص جس کا چہرہ قیامت کے دن بدترین عذاب کی زد میں ہوگا اور آگ کے تھپیڑوں کو اپنے چہرے پر روکنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہ ہوگا ‘ کیا وہ اس شخص کے برابر ہوجائے گا جو { فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ 5 وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ } الواقعہ کے مزے لے رہا ہوگا ؟ { وَقِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْسِبُوْنَ } ”اور کہہ دیا جائے گا ان ظالموں سے کہ اب چکھو مزہ اس کا جو کچھ کمائی تم کرتے رہے تھے۔“ انہیں جتلا دیا جائے گا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 24–25

40 انسان کی عادت ہے کہ جب اس کے بدن پر کوئی ضرب پڑنے والی ہو تو سب سے پہلے وہ اپنے ہاتھوں سے اس کی روک تھام کرتا ہے یعنی پڑنے والے وار کی ہاتھوں سے مدافعت کرتا ہے۔ اور اگر حملہ شدید ہو اور ہاتھوں سے اسے روکا نہ جاسکتا ہو تو باقی بدن کے ہر حصے پر ضرب پڑنا گوار کرلیتا ہے لیکن جیسے بھی بن پڑے چہرے کو اس ضرب سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ قیامت کے دن ان کے ہاتھ تو بندھے ہوں گے اور بےبسی کا بھی یہ عالم ہوگا کہ اس عذاب کو مجبوراً انہیں اپنے چہروں پر برداشت کرنا پڑے گا۔ پھر ساتھ ہی انہیں یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ تمہارے ہی اعمال کا بدلہ ہے۔ یہاں پھر سوال کا اگلا حصہ مخدوف ہے اور یہ جملہ یوں مکمل ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

37۔ پورے پورے جملوں اور عبارتوں کا محذوف ومقدررہنا عربی اسلوب انشاء میں منافی بلاغت نہیں بلکہ اپنے موقع پر داخل حسن و کمال انشاء ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 22–31

آیت نمبر 22 تا 31 ترجمہ : بھلا جس شخص کا سینہ خدا نے اسلام کیلئے کھول دیا ہو جس کی وجہ سے وہ ہدایت پا گیا پس وہ اپنے پروردگار کی طرف سے روشنی پر ہو تو کیا وہ اس شخص کے مانند ہوسکتا ہے کہ جس کے قلب پر مہر لگا دی گئی ہو بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جن کے دل خدا کی یاد سے یعنی قبول قرآن سے غافل ہو رہے ہیں حذف خبر پر ویلٌ دلالت کر رہا ہے، ویلٌ کلمۂ عذاب ہے، یہی لوگ صریح گمراہی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے وہ ایسی کتاب ہے یعنی قرآن جو آپس میں ملتی جلتی ہے، کتابًا احسنَ الحدیث سے بدل ہے یعنی بعض بعض سے مشابہ ہے الفاظ وغیرہ میں اس میں وعدہ وعید وغیرہ کو بار بار دہرایا گیا ہے، جس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افمن یتقی بوجھہ سواء العذاب یوم القیمۃ وقیل للظمین ذوقوا ما کنتم تکسبون بھلا جو شخص اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کی سپر بنا دے گا اور ایسے ظالموں کو حکم ہوگا کہ جو کچھ تم کیا کرتے تھے ‘ اب اس کا مزہ چکھو۔ اَفَمَنْ استفہام انکاری ہے۔ یَّتَّقِیْ بِوَجْھِہٖ یعنی اپنے آپ کو بچانے کیلئے اپنے منہ کو سپر کی طرح آگے بڑھا دے گا۔ قاعدہ ہے کہ ہر حملہ کو آدمی اپنے ہاتھوں پر روکتا ہے ‘ سامنے سے ہونے والے حملہ کو روکنے کیلئے اپنے ہاتھ آگے بڑھا دیتا ہے تاکہ چہرہ محفوظ رہے ‘ لیکن کافر کو جب دوزخ میں ڈالا جائے گا تو اس کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہوں گے ‘ وہ اپنے چہرے کو بچا نہ سکے گا اور چہرہ پر ہی عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

بھلا وہ شخص جو اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کی سپر بنا دے گا یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھی اپنے ہاتھوں کو اپنی گردنوں کی طرف لے جائیں گے اور اس طرح اپنے چہروں کو عذاب کی سپر بنائیں گے اور ابوجہل اور اس کے ساتھیوں سے دوزخ کے داروغہ کہیں گے کہ دنیا میں جو کچھ تم نافرمانیاں اور اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے اس کا عذاب چکھو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَمَنْ يَّتَّـقِيْ بِوَجْهِهٖ“ کی خبر محذوف ہے (جیسا کہ اس سے پہلے آیت : 19 میں گزر چکا ہے) : ”أَيْ کَمَنْ ھُوَ آمِنٌ مِنَ الْعَذَابِ ، أَوْ کَمَنْ ھُوَ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ“ یعنی تو کیا وہ شخص جو قیامت کے دن اپنے چہرے کے ساتھ بدترین عذاب سے بچے گا، وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو عذاب سے بےخوف ہوگا، یا جو اہل جنت سے ہوگا ؟ جیسا کہ فرمایا : (اَفَمَنْ يُّلْقٰى فِي النَّارِ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ يَّاْتِيْٓ اٰمِنًا) [ حٰم السجدۃ : 40 ] ”تو کیا وہ شخص جو آگ میں پھینکا جائے بہتر ہے، یا جو امن کی حالت میں قیامت کے دن آئے ؟“ مزید دیکھیے سورة قمر (48) اور سورة ملک (22)۔ 3 دنیا میں آدمی کو آگ یا کسی بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 24–26

24 ۔ 26:۔ افمن یتقی بوجھہ سوء الغزاب عطا اور ابن زید نے کہا : اس کے ہاتھ جکڑ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا اس کے جسم میں سے جس سب سے پہلے آگ مس کرے گی وہ اس کا منہ ہوگا۔ مجاہد نے کہا : اسے منہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا (1) ۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد کافر ہے اسے آگ میں پھینکا جائے گا اس کے دونوں ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ جکڑے ہوئے ہونگے اس کی گردن پر کبریت کی بری چتان ہوگی جس طرح بڑا پہار ہوتا ہے پتھر میں آگ بھڑک اٹھے گی جب کہ وہ اس کی گردن کے معلق ہوگا اس کی گرمی اس کی گردن پر پہنچے گی وہ طوقوں کی وجہ سے آگ کو چہرے سے دور نہ کرسکے گا۔ خبر مخدوف ہے۔ 0 اخفش نے کہا تقدیر کلام یہ ہوگی افمن یتقی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 24–27

1:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” افمن یتقی بوجھہ سوٓ ء العذاب یوم القیمۃ “ (بھلا جو شخص جو اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کی سپر بنادے) یعنی اس کو چہرہ کے بل آگ میں گھسیٹا جائے گا اور یہ اس قول کی طرح ہے (جیسے فرمایا) (آیت ) ” افمن یلقی فی النار خیرام من یاتی امنا یوم القیمۃ “ (فصلت آیت 40) (بھلا جو شخص آگ میں ڈالا جائے گا بہتر ہے یا جو آئے گا امن میں ہو کر قیامت کے دن) 2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اسے آگ کی طرف لایا جائے گا ہاتھ بندھے ہوئے پھر اس میں پھینک دیا جائے گا تو سب سے پہلے اس کے چہرے کو آگ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَمَنْ [تو کیا وہ جو ] يَّتَّـقِيْ [روکتا ہے ] بِوَجْهِهٖ [اپنے چہرے سے ] سُوْۗءَ الْعَذَابِ [عذاب کی برائی کو ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [قیامت کے دن ] وَقِيْلَ [اور کہا جائے گا ] لِلظّٰلِمِيْنَ [ظالموں سے ] ذُوْقُوْا [تم لوگ چکھو ] مَا [اس کو جو ] كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ [تم کمائی کرتے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: کسی چوٹ یا مار کو آدمی اپنے منہ اس وقت لیتا ہے جب وہ بالکل بےبس ہو۔ ورنہ جب تک وہ مدافعت پر کچھ بھی قادر ہوتا ہے، وہ اپنے جسم کے ہر حصے پر چوٹ کھاتارہتا ہے مگر منہ پر مار نہیں پڑنے دیتا۔ اس لئے آیت 24 میں اس شخص کی انتہائی بےبسی کی تصویر یہ کہہ کر کھینچ دی گئی کہ وہ سخت مار اپنے منہ پر لے گا۔…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اَفَمَنْ یَّتَّقِی بِوَجْہِہِ سُوءَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) کیا جو شخص قیامت کے دن اپنے چہرے کے ذریعے برے عذاب سے بچ جائے، اور جنت میں داخل ہوجائے کیا اس شخص کے برابر ہے جو دوزخ میں داخل کردیا جائے ؟ چہرہ کے ذریعہ بچنے کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اہل عذاب کے چہروں کو آگ پہنچے گی وہ چاہیں گے کہ چہروں کو ڈھال بنالیں اور اپنی جانوں کو عذاب سے بچالیں لیکن ایسا نہ ہوسکے گا بلکہ دوزخ میں داخل ہوں گے اور ہر ہر حصہ عذاب میں ڈالا جائے گا اور طرح طرح کے عذاب میں گرفتار ہوں گے سورة الفرقان میں فرمایا ہے (الَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِہِمْ اِِلٰی جَہَنَّمَ اُوْلٰٓءِکَ شَرٌّ مَّکَانًا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–26

بیان انشراح قلوب اہل ایمان وآثار خشیت وتقوی کہ از ذکر الہی وتلاوت قرآن است : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” افمن شرح اللہ صدرہ ...... الی ....... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں دلائل قدرت اور اثبات حق کے لیے براھین اور شواہد بیان کئے گئے تھے اور عقائد باطلہ کی تردید وابطال کیا گیا تھا اب اس کے بعد ان آیات میں آیات خداوندی سے انتفاع اور قبول ہدایت کا ایک معیار ذکر کیا جارہا ہے وہ قلب کا اللہ رب العزت کی اطاعت کیلئے منشرح ہوجانا ہے اور یہ اس پر موقوف ہے کہ اس قلب پر اللہ کی خشیت و عظمت کے آثار ظاہر ہوں لیکن اگر قلب پر قساوت (سختی اور بےحسی) مسلط ہو تو پھر اس پر خدا کی عظمت وہیبت اثر انداز…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–26

28:۔ ” افمن یتقی الخ “ یہ تیسری بار مومن و کافر کے اوصاف میں تقابل کا ذکر ہے۔ انسان ہمیشہ اپنے چہرے کو آفات سے اپنے ہاتھوں کے ذریعے بچاتا ہے لیکن کافروں کو جب جہنم میں پھینکا جائے گا۔ ان کے ہاتھ ان کی گردنوں کے ساتھ بندھے ہوں گے اس لیے وہ اپنے چہروں کو آگ کے شعلوں سے ہاتھوں کی مدد سے نہیں بچا سکیں گے بلکہ آگ کے شعلوں کو وہ اپنے چہروں پر ہی لیں گے۔ والکافر حین یلقی فی النار تکون یداہ مغلولتیں الی عنقہ فلا یستطیع ان یتقی الا بوجہہ (مظہری ج 8 ص 210) ۔ کیا جہنم کی بھڑکتی آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا کافر اس مومن کی مانند ہوسکتا ہے جو عذاب جہنم سے محفوظ و مامون ہو۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں یہاں بھی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–26

(شرح صدر تنگدلی) گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نیک وبد کا تقابل اور دونوں کا انجام بیان فرمایا تھا اور اب اس درس میں بھی اللہ تعالیٰ نے شرح صدر اور تنگدلی کا تقابل کرکے ان کا انجام ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام “۔ بھلا وہ شخص جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے ، اس کو اسلام کے اصول ، قوانین اور احکام پورے طریقے سے سمجھ میں آئے ہیں اور اسے کسی اصول و ضابطے میں ذرہ بھر بھی شک وشبہ نہیں نہیں ، وہ اسلام کی ہر بات کو بخوشی قبول کرکے اس پر عمل پیرا ہوجاتا ہے ، اللہ تعالیٰنے اس کے دل کو بصیرت سے لبریز کیا ہے اور وہ پورے اطمینان و سکون میں ہے (آیت) ” فھو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَمَنْ يَّتَّـقِيْ بِوَجْہِہٖ سُوْۗءَ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ۝ 0 ۭ وَقِيْلَ لِلظّٰلِمِيْنَ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۝ 24 وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–24

ترکیب : اللہ مبتدا نزل خبرہ۔ کتابا بدل من احسن الحدیث اوحال منہ۔ متشابہًا صفۃ لکتاب ای یشبہ بعضہ بعضا فی الحسن والاحکام مثانی صفۃ اخری لکتاب وھو جمع مثنٰی او مثنٰی من التثنیۃ بمعنی التکریر تقشعر صفۃ لکتاب اوحال منہ۔ اقشعرار مویٔ برتن خاستن، پھر یری۔ تفسیر : چونکہ قرآن مجید بھی اس خبیث مرض سے شفا حاصل ہونے کا بڑا قوی نسخہ ہے اور دل میں نور پیدا کرنے کے لیے نہایت روشن شمع ہے، اس نے قرآن مجید کے بعض فضائل اور اس کا منزل من اللہ ہونا بیان فرماتا ہے۔ فقال اللہ نزل احسن الحدیث یعنی قرآن مجید کو جو سب کلاموں سے عمدہ ہے، اس کو اللہ نے نازل کیا ہے۔ کلام میں ایک شان ہوتی ہے جو خود بتلادیا کرتی ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْھِہٖ سُوْٓئَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط وَقِیْلَ لِلظّٰلِمِیْنَ ذُوْقُوْا مَاکُنْتُمْ تَـکْسِبُوْنَ ۔ (الزمر : 24) (کیا وہ شخص جو قیامت کے روز بدترین عذاب کو اپنے منہ پر روکتا ہے، (اور وہ جو اس سے محفوظ ہوگا دونوں یکساں ہوں گے) اور ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ جو تم نے کمائی کی ہے اس کا مزہ چکھو۔ ) متکبرین کی بےبسی یہ جملہ بھی استفہامیہ ہے اور اس میں بھی سوال کے ایک حصے کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور دوسرا حصہ چونکہ تھوڑے سے غور و فکر سے سمجھ میں آجاتا ہے، اسے چھوڑ دیا گیا ہے اور ہم نے ترجمے میں اسے واضح کردیا ہے۔ اس آیت میں درحقیقت ان متکبرین کی بےبسی کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جن لوگوں نے ہدایت کے باوجود گمراہی کو پسند کیا ان کا انجام۔ جس شخص نے اپنے لیے گمراہی کو پسند کیا اس کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں دیتا اور جسے اللہ تعالیٰ ہدایت نہ دے قیامت کے دن اسے بد ترین عذاب ہوگا اور انہیں کہا جائے گا کہ ظالمو ! اپنے کیے کا مزہ چکھو۔ انسان کی فطرت ہے کہ جب اس پر کوئی چیز سامنے سے حملہ آور ہوتی ہے تو وہ سب سے پہلے اس سے اپنا چہرہ چھپانے اور بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ جہنم کی آگ اس قدر شعلہ فگن ہوگی جس کے شعلے پہاڑوں کی مانند ہوں گے اور جہنمی کا جسم اتنا بڑا گا کہ اس کی زبان تین میل لمبی اور اس کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی۔ (رواہ البخاری : کتاب الرقاق)…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ظالموں کا قیامت کے دن حال : 24: اَفَمَنْ یَّتَّقِیْ بِوَجْھِہٖ سُوْ ئَ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (بھلا وہ شخص جو اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کی سپر بنائے گا) اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو عذاب سے مامون و محفوظ ہے ؟ یہاں خبر کو اسی طرح حذف کردیا جیسا کہ اس کے نظائر میں خبر حذف کی جاتی ہے۔ سوء العذابؔ سے شدت مراد ہے اسکا معنی یہ ہے انسان کو جب کوئی خوفناک چیز سامنے آتی ہے۔ تو اپنے آپ کو بچانے کیلئے ہاتھ آگے کرتا ہے اور چاہتا یہ ہے کہ اس طرح اسکا چہرہ بچ جائے۔ کیونکہ وہ انسان کے ہاں معزز ترین اعضاء میں سے ہے۔ اور جس شخص کو آگ میں ڈالا جائے گا۔ اس کے ہاتھوں کو گردن سے باند ھ کر آگ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

افمن یتقی بوجھہ سوء العذاب کی تفسیر تفسیر 24۔ ، افمن یتقی بوجھہ سوء العذاب، یعنی اس کی شدت ۔ ، یوم القیامۃ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا اور عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو آگ میں اوندھا کرکے پھینکا جائے گا تو اس کے جسم میں سب سے پہلے چہرے کو آگ چھوئے گی۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ کافر کے ہاتھ گردن پر باندھ کر اس کو آگ میں پھینکا جائے گا اور اس کی گردن میں گندھک کی ایک چٹان بڑے پہاڑ کی مانندہوگی تو اس چٹان سے آگ کے شعلے پکڑے گی اور وہ چٹان اس کی گردن میں ہوگی تو اس کی تپش اور لپٹوں کو وہ اپنے چہرے سے دور کرنے کی طاقت نہ رکھے گا کیونکہ اس کے ہاتھ اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

24۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں انس ؓ بن مالک سے اور معتبر سند سے ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے اور نسائی ہیں ابوذر ؓ سے جو روایتیں ہیں۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے فرشتے نافرمان لوگوں کو ان کے منہ کے بل گھسیٹیں گے اور ان کو اوندھے منہ آگ میں ڈال دیں گے۔ جس سے پہلے پہل ان کے منہ کو دوزخ کی آگ جھلس دے گی۔ آیت میں منہ سے عذاب کے روکنے کا جو ذکر ہے اس کا مطلب ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے حاصل مطلب یہ ہے کہ جس نے منہ کے بل گھسیٹے جانے اور اوندھے منہ آگ میں ڈالے جانے سے اپنے آپ کو بچا کر جنت میں داخل ہونے کی سرخروی حاصل کی وہ بہتر ہے یا جو اس عذاب میں گرفتار ہوا وہ بہتر ہے۔ پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–25

آیت 23 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب کے بارے میں، جسے اس نے نازل فرمایا خبر دیتا ہے کہ یہ کتاب علی الاطلاق (احسن الحدیث) ” بہترین کلام ہے۔ “ پس بہتر کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے نازل کی گئی کتابوں میں بہترین کتاب یہ قرآن کریم ہے۔ جب قرآن کریم بہترین کتاب ہے تب معلوم ہوا کہ اس کے الفاظ فصیح ترین اور واضح ترین اور اس کے معانی جلیل ترین ہیں، کیونکہ یہ اپنے الفاظ اور معانی میں بہترین کلام ہے۔ اپنے حسن تالیف اور ہر لحاظ سے عدم اختالف کے اعتبار سے اس کے تمام اجزا ایک دوسرے سے مشا بہت رکھتے ہیں حتی کہ اگر کوئی اس میں غور و فکر کرے تو اسے اس میں ایسی مہارت اس کے معانی میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

57 قیامت کے روز منکرین کے حال بد کی ایک تصویر : سو اس سے منکرین کی قیامت کے دن کی بےبسی اور ذلت و رسوائی اور ان کے حال بد کی ایک تصویر پیش فرمائی گئی ہے۔ سو اس سے منکرین آخرت کی بےبسی اور ان کی ذلت و رسوائی کا ایک نہایت ہی ہولناک منظر پیش فرمایا گیا ہے کہ اس روز ایسے لوگ وہاں کے ہولناک عذاب سے بچنے کے لیے اپنے چہروں کو ڈھال بنانے پر مجبور ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس کے ہاتھ جکڑے اور بندھے ہوئے ہوں گے۔ سو یہ ایسے بدبخت شخص کی انتہائی عاجزی اور بےبسی کی ہولناک تصویر ہے۔ کیونکہ چہرہ انسان کا وہ اشرف و اعلیٰ عضو ہے جس کو بچانے کے لئے وہ سب کچھ قربان کردیتا ہے۔ مگر وہاں پر ایسا شخص اپنے چہرے ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–27

نرم دل لوگ قرآن سے ہدایت حاصل کرتے ہیں تشریح : جب ہم اللہ کہتے ہیں تو ہمیں اس سپر پاور کا خیال آتا ہے جس نے ہمارے لیے اس قدر ڈھیر ساری چیزیں بنا دی ہیں پانی جو زندگی کی انتہائی بڑی، ضروری اور اہم چیز ہے۔ وافر مقدار میں مفت ہی مفت اور انتہائی شاندار نظام کے ساتھ کھاری پانی بھاپ کے ذریعے پاک صاف اور میٹھا ہو کر دور دراز علاقوں تک بڑے مناسب وقت پر پہنچ جاتا ہے۔ برف، نہروں، چشموں، ندی، نالوں، دریاؤں، کنوؤں اور سمندروں کے ذریعہ کس قدر منظم طریقے سے ہر ہر جاندار کو ہر وقت بڑے مناسب طریقے سے ملتا چلا جاتا ہے۔ صرف یہ ایک نظام، پانی کی سپلائی کا دیکھ کر اس نظام کے بنانے والے اور چلانے والے کی جتنی بھی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 22–31

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 22 ۔ تا۔ 31: اسرار و معارف : اور بھلا جس کا سینہ اللہ نے کھول دیا اسلام کی خاطر یعنی اللہ کی طرف رجوع کرنے اور انابت الی اللہ سے اسلام کے احکام اور اس کی حقانیت کو سمجھنے کی استعداد حاصل ہوگئی اور احکام الہی اس ک ےلیے نور یعنی راستے کی روشنی بن گئے اس کے ساتھ ان کا کیا مقابلہ جن کے دل قساوت اور سختی سے بھر کر ذکر الہی سے محرم ہوگئے ایسے لوگ تو ایسی گمراہی اور غلط روش میں گرفتار ہوئے جسے وہ خود بھی غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یعنی اللہ اپنے کرم سے اگر شرح صدر عطا فرمائیں تو دل ذاکر ہوجاتا ہے اور اس میں نور پیدا ہوجاتا ہے جو نیکی اور بھلائی کی محبت و طلب پیدا کرکے اتباع شریعت کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3” وہ اس شخص کے برابر ہوسکتا ہے جو بےفکری سے عیش کر رہا ہوگا “۔ افمن۔۔۔۔۔۔ کا یہ جواب محذوف ہے۔ قیامت کے روز چونکہ دوزخیوں کے ہاتھ گردنوں سے بندھے ہوں گے اس لئے وہ عذاب کو روکنے کیلئے چار و نا چار چہروں ہی کو سیر بنائیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:24) افمن یتقی بوجھہ سوء العذاب یوم القیمۃ : افمن ہمزہ استفہام انکاری ہے یتقی مضارع واحد مذکر غائب اتقاء (افتعال) مصدر سے بمعنی بچنا۔ ڈرنا۔ خوف کرنا۔ اتقی بالشی جعلہ وقایۃ لہ من شیء اخر اس چیز کو کسی دوسری چیز سے بچنے کے لئے ذریعہ بنانا۔ یا بولتے ہیں۔ اتقینا بہ ہم نے دشمن سے بچنے کے لئے اس سے آڑ پکڑی۔ یتقی بوجھہ وہ (سخت عذاب سے) بچنے کے لئے اپنے چہرہ کی آڑ پکڑتا ہے۔ یا بچنے کے لئے اپنے چہرہ کو ڈھال بناتا ہ یا سخت عذاب کی مار اپنے منہ پر لیتا ہے۔ کسی ضرب کو آدمی اپنے منہ پر اس وقت لیتا ہے جب کہ وہ بالکل عاجز اور بےبس ہوجائے۔ اور کوئی دیگر چارہ کار نہ ہو۔ یہاں اس دوزخی کی بےبسی اس وجہ سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 24–31

لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 31 :۔ ذوقوا ( چکھو) اذاق ( اس نے چکھایا) الخزی (رسوائی ، ذلت) عوج ( کجی ، ٹیڑھ پن) متشکسون (بد اخلاق لوگ) میت (مرنا) تختصمون (تم جھگڑو گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 24 تا 31 :۔ اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین جن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر جہنم کی بھڑکتی آگ میں جھونک دیا جائے گا فرمایا ہے کیا وہ قیامت کے دن اپنے چہروں کو اس آگ سے بچا سکیں گے جو ان کو جھلس کر رکھ دے گی جب ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب وہ اپنے کئے ہوئے برے اعمال کا مزہ چکھیں ۔ فرمایا جائے گا کہ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں انہوں نے بھی اسی طرح اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اس طرح اچانک عذاب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) صحیح و بخاری ومسلم میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ کے فرشتے نافرمان لوگوں کو ان کے منہ کے بل گھسیٹیں گے اور ان کو اوندھے منہ آگ میں ڈال دیں گے جس سے پہلے پہل ان کے منہ کو دوزخ کی آگ جھلس دیوے گی اس کو فرمایا کہ جس نے منہ کے بل گھسیٹے جانے اور اوندھے منہ آگ میں ڈالے جانے سے اپنے آپ کو بچا کر جنت میں داخل ہونے کی سروخروئی حاصل کی وہ بہتر ہے یا جو اس عذاب میں گرفتار ہواوہ بہتر ہے پھر فرمایا کہ نافرمان لوگ جب اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیے جائیں گے تو ان کو ذلیل کرنے کے لیے اللہ کے فرشتے ان سے کہویں گے کہ تم لوگ دنیا میں جیسے جیسے کام کرتے تھے ان کی سزا میں اب یہ دوزخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 24–28

[17] آدمی کا قاعدہ ہے کہ سامنے سے جب حملہ ہو تو ہاتھوں پر روکتا ہے مگر منہ پر مار پڑنے نہیں دیتا۔ کسی ضرب کو آدمی اسی وقت اپنے منہ پر لیتا ہے جب وہ انتہائی بےبس ہو۔ کیونکہ دوزخی کے ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے، اس لئے عذاب کی تھپیڑیں سیدھی منہ پر پڑیں گی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–25

ف 5: یعنی قرآن حکیم بہترین اور موثر کتاب ہے ۔ حل لغات :۔ غوف ۔ غرفۃ کی جمع ہے ۔ بالاخانہ ینابیع ۔ واحد ینبوع پانی کا بڑا چشمہ حطاما حطم سے ہے ۔ یعنی توڑڈالا ۔ چورا چورا کردیا احسن الحدیث ۔ یعنی بہترین کلام ۔ 1: کلام پاک کے مضامین ملتے جلتے ہیں ۔ ان کو بار بار دہرایا گیا ہے ۔ وہ لوگ جن کے دل میں تقویٰ اور خشیت الٰہی موجود ہے ۔ اس کو سنتے ہیں ۔ اور اس کے تاثر سے ان کے بدن کانپ اٹھتے ہیں ۔ اور پھر منقاد اور نرم دل ہوکر ہمہ تن اللہ کی یاد میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔ یہ سرچشمہ معرفت وہدایت ہے جس شخص سے اللہ توفیق ابتداء چھین لے ظاہر ہے کہ وہ اس کی برکات سے استفادہ نہیں کرسکتا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) کیا بھلا وہ شخص جو قیامت کے دن برے اور بدترین عذاب کو اپنے منہ پر روکتا ہو اور اپنے منہ کو قیامت کے دن سخت عذاب کے لئے سپر بنا دے تو کیا یہ معذب اس کے برابر ہوسکتا ہے جو عذاب سے مامون ہو اور ظالموں سے کہا جائے گا کہ جو کمائی تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کے وبال کا مزہ چکھو۔ یعنی جب آگ میں ڈالا جائے گا تو پہلے جس چیز کو آگ لگ گئی وہ منہ ہوگا سورة فصلت میں انشاء اللہ آجائیگا۔ افمن یلقی فی النار خیرام من یاتی امنا یوم القیمۃ یا یہ مطلب ہو کہ تمام بدن طوق وسلاسل میں جکڑا ہوا ہوگا مگر منہ کھلا ہوا ہوگا ہاتھ گردن سے بندھے ہوں گے اس لئے فرمایا۔ افمن یتقی بوجھہ مقصد آگ میں جانا ہے آگے منکرین قیامت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 24–27

ف 3۔ سپر بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کی عادت ہے کہ جو کوئی اس پر حربہ ضربہ کرتا ہے ہاتھ پر روکتا ہے، مگر وہاں ہاتھ پاوں جکڑے ہوں گے، اس لئے سب منہ ہی پر لے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

24۔ دنیاوی کامیابیوں سے کون ناواقف ہے ؟ بلا شبہ ہم میں سے ایک نہیں جو ان دنیوی کامیابیوں سے ناواقف ہو یا اپنی بساط و طاقت کے مطابق ان کامیابیوں کو حاصل کرنے کے لیے کوشاں نہ ہو لیکن افسوس کہ آخروی کامیابیوں کی طرف ہم میں سے شاید کسی ایک کا دھیان بھی نہ ہو اور ان کامیابیوں کو شاید ہی کوئی کامیابی سمجھتا ہو حالانکہ قرآن ِ کریم کی زبان میں دنیوی زندگی کی کامیابیوں کی اس لیے کوئی وقعت نہیں کہ دنیوی زندگی بھی عارضی اور دنیوی کامیابیاں بھی عارضی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اخروی کامیابی ہی کو اصل کامیابی قرار دیتا ہے تا ہم دنیوی کامیابیوں کا تعلق بھی انسان کے کسب وکمائی سے ہے اور آخرت کی کامیابیوں کا تعلق بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–29

Commentary Verse أَفَمَن يَتَّقِي بِوَجْهِهِ (Tell Me about the one who tries to save himself from the worst punishment with his face ...) carries a description of the terrifying scenario of Jahannam. If one faces something hurtful in his mortal life, he tries to fight it off by using his hands and feet as defensive shields to protect his face. But, refuge with Allah, the people of Jahannam will not be able to use even their hands and feet to defend themselves. The punishment that comes will fall directly on their faces. Even if he wished to ward off the punishment in defense, he would have…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–27

44 One takes a blow on one's face only when one is absolutely helpless and powerless, otherwise until one has some power to resist, one goes on receiving the blows on the other parts of one's body but saves one's face. Therefore, here the extreme state of helplessness of a person has been depicted, saying that he will receive the severe punishment on his face. 45 The word kasab, in the Qur'anic terminology, implies one's descrying and earning a reward and punishment in consequence of one's actions and deeds. The real earning of a doer of good is that he becomes worthy of Allah's reward, and…

Read the full tafseer →