Explained with ayahs 13–16
حکم ہوتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں لیکن عذاب الٰہی سے بےخوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کردو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہوجائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
سورة الزُّمَر 33
یعنی میرا کام صرف دوسروں سے کہنا ہی نہیں ہے، خود کر کے دکھانا بھی ہے۔ جس راہ پر لوگوں کو بلاتا ہوں اس پر سب سے پہلے میں خود چلتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو (منجانب اللہ) حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھوں (یعنی اس میں شائبہ شرک کا نہ ہو) اور مجھ کو (یہ بھی) حکم ہوا ہے کہ (اس امت کے لوگوں میں) سب مسلمانوں میں اول (اسلام کو حق ماننے والا) میں ہوں (اور ظاہر ہے کہ قبول احکام میں نبی کا اول ہونا ضروری ہے اور) اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ اگر (بفرض محال) میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (مجھے جس بات کا حکم ہوا ہے میں تو اسی پر کاربند ہوں چنانچہ) میں تو اللہ ہی کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(آیت) 15-14)
اعلان برأت یہ نبی ﷺ کی زبان سے نہایت واضح الفاظ میں اعلان برأت و بےتعلقی ہے کہ میں تو اس حکم کے مطاسبق جو مجھے میرے رب کی طرف سیم لا ہے اپنے رب ہی کی بندگی اور اسی کی بلاشرکت وغیرے اطاعت کرتا ہوں اور اسی کی دعوت تم کو بھی دے رہا ہوں۔ اگر تم میری یہ بات نہیں مانتے تو تم خدا کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو۔ میں تمہارے اس فعل سے بری ہوں۔ فرمایا کہ ان کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کر دو کہ اصلی خسارے میں وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن کے خسارے میں مبتلا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اور جتنے بھی خسارے ہیں وہ سب آنی اور وقتی ہیں اور ان کی تلافی ممکن ہے لیکن قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
16۔ 1 یعنی ان کے اوپر نیچے آگ کے طبق ہونگے، جو ان پر بھڑک رہے ہونگے (فتح القدیر)
16، 2 یعنی مذکور خسران مبین اور عذاب ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تاکہ وہ اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرکے اس انجام بد سے بچ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
7: اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو شخص دوسروں کو کسی نیکی کی دعوت دے، اسے چاہیے کہ پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
درس نمبر 217 ایک نظر میں
اس سبق پر آخرت کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ اور آخرت کے عذاب کے مختلف رنگ اور سائے ہیں۔ نیز آخرت کے ثواب کی امیدیں بھی ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ خالص توحید کے عقیدے کا اعلان کردیں۔ اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اس سے انحراف کروں تو مجھے عذاب الہٰی کا ڈر ہے اور یہ کہ میں اپنے منصوبے اور منہاج پر قائم ہوں اور تم جانو اور تمہارا منہاج وطریقہ۔ البتہ اسلامی منہاج کا انجام یہ ہوگا اور کفریہ منہاج کا انجام یہ ہوگا۔
درس نمبر 217 تشریح آیات
آیت نمبر 11 تا 13
ترجمہ : یہ نبی ﷺ کی طرف سے اعلان ہے کہ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اللہ وحدہ کی بندگی کریں اور دین اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
7 یعنی میں تو خدا کے حکم کے موافق نہایت اخلاص سے اسی اکیلے کی بندگی کرتا ہوں۔ تم کو اختیار ہے جس کی چاہو پوجا کرتے پھرو۔ ہاں اتنا سوچ لینا کہ انجام کیا ہوگا۔ آگے اسے کھولتے ہیں۔
8 یعنی مشرکین نہ اپنی جان کو عذاب الٰہی سے بچا سکے نہ اپنے گھر والوں کو۔ سب کو جہنم کے شعلوں کی نذر کردیا۔ اس سے زیادہ خسارہ کیا ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 14 { قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِیْنِیْ } ”کہہ دیجیے کہ میں تو اللہ ہی کی بندگی کرتا ہوں اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔“
نوٹ کیجیے ! اس مضمون کو یہاں بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ اور ہر بار پڑھنے سے اس میں ایک نیا حسن نظر آتا ہے اور ایک نئی تاثیر کا احساس ہوتا ہے۔ جب کہ ہم انسانوں کی دنیا میں کسی عبارت کے اندر الفاظ یا مضمون کی تکرار ‘ اس تحریر یا تصنیف کا بہت بڑا عیب بن جاتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی فصاحت و بلاغت کا معجزہ ہے کہ اس کے ہاں تکرار سے کلام کا حسن اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہاں اس مضمون کی غیر معمولی تکرار کی غرض وغایت کو سمجھنے اور اس اسلوبِ خاص میں تاکید…
Read the full tafseer →23 شرک سے سمجھوتہ ناممکن ہے :۔ آپ کو حکم یہ ہوتا تھا کہ خالصتاً اللہ اکیلے کی عبادت کریں۔ جبکہ کفار مکہ پر ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ آپ سے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ اور وہ سمجھوتہ اس بات پر چاہتے تھے کہ ہم آپ کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالتے بشرطیکہ آپ ہمارے معبودوں کو برا بھلا نہ کہیں۔ بالفاظ دیگر آپ لا الہ الا اللہ نہ کہیں کیونکہ یہی کلمہ ان کے بتوں کو ناکارہ ثابت کرتا تھا جسے وہ اپنی، اپنے آباء واجداد کی اور اپنے بتوں کی توہین سمجھتے تھے۔ اور اس کلمہ سے انکار ہی اللہ کی سب سے بڑی نافرمانی تھی۔ لہذا آپ کی زبان سے اس کا جواب یہ دلوایا گیا کہ مجھے تو حکم ہی یہی ہے کہ اکیلے اللہ کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
24۔ (قیامت کے دن اس کا انجام آپ ہی دیکھ لو گے) ظاہر ہے کہ یہ پورا فقرہ تہدید کے لہجہ میں ہے، یہ مراد نہیں کہ مشرکوں کو اختیار دیا جارہا ہے۔ (آیت) ” مخلصا لہ دینی “۔ یعنی اسی کے حکم کے مطابق، بلاشائبہ شرک، محققین نے کہا ہے کہ اس سے وجوب عبادت واخلاص دونوں کا ثابت ہوتا ہے اخلاص بلاعبادت روح بےجسد ہے، اور عبادت بلااخلاص جسد بےروح
25۔ (کہ آخری فیصلہ کے دن خسارہ ہو۔ اور جان و متعلقین جو دنیا میں نفع و راحت وتمتع کا ذریعہ رہتے ہیں، وہ قیامت کے دن ذرا بھی یہ کام نہ دے سکیں گے) (آیت) ” الا ..... المبین “۔ یہاں خسران کی شدید تاکید ملحوظ رہے، ایک تو فقرہ کی ابتداء ہی کلمہ تنبیہ سے کی، پھر خسران کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین…
Read the full tafseer →قل اللہ اعبد مخلصا لہ دینی۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں ‘ اسی کیلئے اپنی عبادت کو خالص کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تو عبادت و توحید کو اسی کے لیے خالص رکھتا ہوں۔
Read the full tafseer →قُلِ اللّٰهَ اَعْبُدُ۔۔ : لفظ ”اللہ“ کو پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا، یعنی کہہ دے میں تو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہوں، کسی اور کی عبادت نہ اسے اصل سمجھ کر کرتا ہوں نہ سفارشی یا واسطہ سمجھ کر۔ پچھلی آیت : (قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَاللہ۔۔) میں ایک اللہ کی عبادت کے امر کا اعلان کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اس آیت میں اس پر اپنے عمل کے اعلان کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے تکرار نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
11 ۔ 16:۔ قل انی امرت ان اعبد اللہ مخلصالہ الدین۔ سورت کے آغاز میں یہ گزر چکا ہے۔ و امرت الان اکون اول المسلمین۔ یعنی اس امت کا پہلا مسلمان ہوں بات حقیقت میں ایسے ہی تھے کیونکہ آپ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے آباء کے دین کی مخالفت کی ‘ بتوں سے لا تعلق ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے اور اس پر ایمان لائے اور اس امر کی طرف دعوت دی لا اکون میں لام زائد ہے یہ جر جانی اور دوسرے علماء نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا : یہ لام اجل ہے اس کلام میں حذف ہے یعنی مجھے عبادت کا حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا مسلمان بنوں۔
قل قنی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم۔ اس سے مراد یوم قیامت کے عذاب ہے۔ یہ اس وقت کہا جب ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وارض اللہ واسعۃ “ سے مراد ہے کہ میری زمین وسیع ہے پس تم ہجرت کرجاؤ اور بتوں کو چھوڑ دو ۔
2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ (بلاشبہ کرنے والوں کو پورا پورا ان کا اجر دیا جائے گا بغیر حساب کے) فرمایا نہیں (حساب ہوگا) اللہ کی قسم نہ وہاں ناپنے کا کوئی آلہ ہوگا اور نہ تولنے کا۔
3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے ان کے اعمال کے…
Read the full tafseer →قُلِ [آپ ﷺ کہیے ] اللّٰهَ [اللہ کی ہی ] اَعْبُدُ [میں بندگی کرتا ہوں ] مُخْلِصًا [خالص کرنے والا ہوتے ہوئے ] لَّهٗ [اس کے لئے ] دِيْنِيْ [اپنے دین کو ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
اللہ سے ڈرنے اور خالص اس کی عبادت کرنے کا حکم
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول اللہ ﷺ کو متعدد باتوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا ہے اول تو یہ فرمایا کہ آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیجیے کہ تم اپنے رب سے ڈرو، یہ ڈرنا اعمال صالحہ پر ابھارنے اور گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہوتا ہے جب کوئی شخص اعمال صالحہ ادا کرتا ہے تو اس کی نیکیاں جمع ہوتی رہتی ہیں، ان نیکیوں پر صبر کرنا اور جمے رہنا مبارک ہے صبر کرنے والوں کا پورا پورا اجر وثواب اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے عطا فرما دے گا، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَّاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ) (اللہ کی زمین فراخ ہے۔ )
اس میں یہ بیان فرمایا کہ جو کوئی ایسی جگہ رہتا ہے جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
مدح مومنین مطیعین وبیان مراتب عالیہ برائے اھل تقوی ور دنیا وعقبی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” امن ھو قانت انآء الیل ........ الی ........ ھم اولوا الالباب “۔
(ربط) گذشتہ مضمون اس قانون خداوندی کی تحقیق و تفصیل پر مشتمل تھا کہ کفر ونافرمانی اللہ کو ہرگز پسند نہیں ایمان و اطاعت اور شکر اللہ کو محبوب ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت تمام جہانوں سے بےنیاز ہے اس کو نہ کسی کے کفر سے نقصان ہے اور نہ کسی کے ایمان وطاعت سے نفع اب ان آیات میں اہل ایمان وطاعت کے درجات اور ان پر خداوند عالم کے ان انعامات کا بیان ہے جو ان پر دنیا اور آخرت میں کئے جائیں گے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ علم ومعرفت اور عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
20:۔ ” قل اللہ اعبد الخ “ یہ دوسری بار دعوے کا ذکر ہے فرمایا دوبارہ اعلان کردو کہ میں تو صرف اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں۔ اور ہمیشہ اسی پر قائم رہوں گا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کروں گا۔ ” فاعبدوا الخ “ یہ امر تہدید اور تخویف اخروی ہے۔ تمہیں اختیار ہے اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ لیکن ایک بات یاد رکھو۔ قیامت کے دن سخت خسارے اور ناقابل تلافی نقصان میں رہو گے۔ جب جرم شرک کی پاداش میں بلا ھساب و کتاب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے۔ تم لوگ مال و دولت کے نقصان کو نقصان شمار کرتے ہو حالانکہ اصل نقصان یہ نہیں۔ اصل نقصان آخرت کا نقصان ہے اور درحقیقت خسارے میں وہ لوگ رہیں گے جو قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–21
ربط آیات :
اس سے پہلے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں بہت سے دلائل بیان ہوئے پھر نیک وبد اور عالم و جاہل کا تقابل ہوا کہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ دلائل سے عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اگر کسی مقام پر کفار ومشرکین کا غلبہ ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شعائر دین پر عمل درآمد نہیں کرنے دیتے تو پھر وہاں سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں ، ظاہر ہے کہ ترک وطن میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تکالیف کو صبر و استقامت سے…
Read the full tafseer →قُلِ اللہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِيْنِيْ 14ۙ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
عبادت
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان :
عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود .
وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ترکیب : ان اعبد اللّٰہ مفعول لامرت مخلصًا حال من الضمیر الفاعل فی اعبد الذین منصوب بمخلص لان اللام زائدۃ والجملۃ مفعول مالم یسم فاعلہ لامرت ویمکن ان یکون المفعول ضمیر افی امرت ای انا ولان متعلق بامرت واول المسلمین خبرا کون عذاب الخ مفعول لاخاف ان عصیت ربی شرط و جو ابہ محذوف الذین خسروا خبران یوم القیامۃ منصوب بخسروا ظلل جمع ظلہ مبتدء لہم خبرہ من فوقہم حال من ظلل ای کانتہ من فوقہم من النار لغت لھا۔
تفسیر : (2) دوسری بات جس کے کہنے کا رسول کو حکم دیا۔ یہ ہے، قل انی امرت ان اعبداللہ، اول تو انسان کی درستی کے لیے نازیبا باتوں کا ترک لازم ہے تاکہ آئینہ دل اور نقش و نگار سے صاف ہوجاوے، تب اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّـہٗ دِیْنِیْ ۔ فَاعْبُدُوْا مَاشِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ ط قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ وَاَھْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اَلاَ ذٰلِکَ ھُوَالْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۔ (الزمر : 14، 15)
(کہہ دیجیے میں تو اللہ ہی کی بندگی کروں گا، اللہ ہی کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ تم اس کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو، کہہ دیجیے بیشک حقیقی خسارے میں پڑنے والے وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا، خوب سن لو کہ کھلا ہوا خسارہ وہی ہے۔ )
اعلانِ براء ت
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے ایمانداروں کو حکم ہوا کہ اگر کسی جگہ ایمان بچانا مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرجانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی زمین بڑی کشادہ ہے۔ وہ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر عطا فرمائے گا۔ اس آیت میں نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہر حال میں دین پر عمل کرنا ہوگا۔ الدّین سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے جس کے لیے ہر چیز قربان کردینی چاہیے۔
اے رسول ﷺ آپ لوگوں پر واضح فرمائیں کہ میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی عبادت بلاشرکت غیرے اس طرح کروں جس طرح اس نے مجھے عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے…
Read the full tafseer →14: قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّہٗ دِیْنِیْ (آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ اپنی عبادت کو اسی ہی کیلئے خالص رکھتا ہوں) یہ آیت خبر دے رہی ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کو عبادت کے ساتھ خاص کرنے والے تھے۔ دوسروں کو چھوڑکر۔ بہتر قول یہ ہے کہ اس میں اس بات کی اطلاع ہے کہ آپ کو عبادت و اخلاص کا حکم دیا گیا۔ پس کلام اولاً تو نفس فعل اور اس کے اثبات کو ظاہر کر رہا ہے۔ اور ثانیاً کلام اس کے متعلق ہے جن کی وجہ سے یہ فعل کیا جائے۔ اسی لیے اس پر اگلی آیت کو مرتب فرمایا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
13، قل انی اخاف ان عصیت ربی، اور اس کے غیر کی عبادت کروں۔ ، عذاب یوم عظیم ، اور یہ اس وقت کہا جب آپ (علیہ السلام) کو آپ کے آباء کے دین کی طرف بلایا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
10۔ 16۔ اوپر منکرین حشر کا ذکر فرما کر اب ایمانداروں کا ذکر فرمایا جو علما یہ کہتے ہیں۔ کہ اس مکی سورة میں ان آیتوں میں سے پہلی آیت قل یعباد مدنی ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ اس آیت میں ہجرت کا ذکر ہے اور ہجرت اللہ کے رسول ﷺ کے مدینہ میں آنے اور قرآن کا مدنی حصہ کا نازل ہونا شروع ہونے کے بعد فرض ہوئی ہے۔ لیکن جو علما اس آیت کو مدنی نہیں قراردیتے۔ وہ اس ہجرت کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مشرکین مکہ نے جب مسلمانوں کو بہت ستانا شروع کیا تو نبوت کے پانچ برس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کے حکم سے اسی آدمی کے قریب مکہ سے حبشہ کو چلے گئے تھے۔ اسی کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مدینہ کی ہجرت کے بعد یہ لوگ پھر حبشہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
آیت 14
(قد) اے رسول ! لوگوں سے کہہ دیجیے : (انی امرت ان اعبداللہ مخلصاً لہ الدین) ” بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لئے خلاص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں “ جیسا کہ اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا : (آیت) ” پس آپ اللہ کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔ “ (وامرت لان اکون اول المسلمین) ” اور مجے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنوں “ کیونکہ میں مخلوق کے لئے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں، یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →31 عبادت اور اطاعت مطلقہ اللہ ہی کا حق ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے مزید کہو کہ میں تو بہرحال اللہ ہی کی بندگی کرتا رہوں گا "۔ کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی صرف اسی کا حق ہے۔ سو میں اپنے دین اور اپنی اطاعت کو اللہ ہی کیلئے خالص کرکے اسی کی بندگی کرتا ہوں اور کرتا رہونگا۔ اور یہی دعوت تمہارے لیے بھی ہے۔ سو عبادت و بندگی بھی اللہ وحدہ لا شریک ہی کا حق ہے اور اطاعت مطلقہ بھی اسی کا حق ہے کہ اطاعت مطلقہ بھی عبادت و بندگی ہی ہے۔ پس یہ سب اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ
تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 12 یعنی اگر میرے سمجھانے کے باوجود تم ان جھوٹے معبودوں کی بندگی کرتے رہنے پر مصرہوتو کرتے رہو لیکن بھگتنے کے لئے بھی تیار رہو۔ تمہارے انجام کی کوئی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔13 یعنی دوزخ میں گریں گے۔14 جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اس لئے کہ وہ ایسا خسارہ ہے جس کی تلافی کسی طرح ممکن نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →(39:14) قل اللّٰہ اعبد مخلصا لہ دینی۔ (معنی کے لئے ملاحظہ ہو 39:2) ۔ ضمیر فاعل اعبد سے حال ہے۔ اور اللّٰہ۔ اعبد کا مفعول۔ مفعول کو مقدم لانے سے تاکید کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔
کہہ دیجئے :۔ میں تو اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اپنے دین کو اس کے لئے (شریک وغیرہ سے) خالص کرتے ہوئے (تم اللہ کو چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرو نتیجہ کو تم خود ہی دیکھ لوگے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
نیک اور بد کا انجا۔
(ف 2) کافروں نے کہا، اے رسول ﷺ تم بت پرستی چھڑاتے ہو اس کو برا کہتے ہو آخرہم نے تو نہیں نکال لی، پرانے زمانوں سے بڑے بڑے عقلاء اور باپ دادا کرتے چلے آئے کسی نے بھی برا کہا، تم کو چاہیے کہ انہیں کی اتباع پرچلو، اور خلاف راہ آبائی جو باتیں کررہے ہو ان کو ترک کردو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ مجھ کو اللہ کی طرف سے یہ حکم دیاگی ا ہے کہ فقط اسی کی عبادت کروں توحید خالص نہایت اخلاص سے سچے دل سے مانوں اور اپنا دین عبادت اسی کے لیے مخصوص کردوں، اور یہ کہ اس زمانہ میں کہ توحید کا نام باقی نہ رہا ہے ، میں سب پہلے خود مسلمان ہوں بعد میں اوروں کو کروں، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
[12] یعنی روز قیامت۔
Read the full tafseer →ف 1: میں خالص ایک خدا کی عبادت کرتا ہوں ۔ تم جن لوگوں کی چاہو ۔ عبادت کرو اور جن چیزوں کے سامنے چاہو جھکو ۔ مگر یہ یاد رکھو ۔ کہ یہ عمل گھاٹے اور خسران کا عمل ہے ۔
Read the full tafseer →(14) آپ کہہ دیجئے میں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ اپنی عبادت کو خالص اور صرف اس کے لئے رکھتا ہوں۔ یعنی اس کی عبادت ہوائے اس کے کسی کو نہیں کرتانہ اس کی عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کرتا ہوں بلکہ بری اور خالص اسی کی عبادت کا اعتقاد رکھ کر اس کی بندگی کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ف 1۔ مطلب یہ کہ توحید خالص کا وجوب اور اس کے ترک پر عذاب کا استحقاق ایسا عام ہے کہ معصوم جس میں احتمال معصیت کا ہے ہی نہیں، وہ بھی اس قاعدہ سے مستثنی نہیں، تو غیر معصوم تو کس شمار میں ہے۔
Read the full tafseer →کہہ دیجئے میں تو اللہ کی عبادت کرتا ہوں خالص کر کے اس کے لیے دین
14۔ یہ وہی اعلان ہے جو آیت گیارہ میں گزر چکا ہے فرق ہے تو صرف یہ کہ پہلی آیت میں آپ سے کہا گیا تھا کہ آپ کہہ دیجئے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کا حکم دے دیا گیا ہوں کہ میں خالص اس کی بندگی کروں اور زیر نظر آیت میں وہی حکم آگے پہنچانے کا حکم دیا جا رہا ہے تاکہ جن کو حکم دیا جا رہا ہے ان پر واضح کردیا جائے کہ میں جس بات کا تم کو حکم دے رہا ہوں وہ وہی بات ہے جس کے مطابق کود کرتا ہوں گویا میرے کہنے اور کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے اور نہ ہی میں اس فرق کو روا رکھتا ہوں۔ آپ نبی کریم ﷺ کی زندگی کے جس باب کا چاہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
In verse 10, it was said: وَأَرْضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ (and the earth of Allah is wide).In the sentence previous to this, Good deeds had been enjoined. This might prompt someone to come up with the excuse, 'The city or country in which I live, or the social milieu I am stuck with around me stops me from doing good deeds.' This sentence carries an answer to this excuse - 'if you find adherence to Islamic legal injunctions difficult while living in some particular country, city or social setup, then, leave it. The earth of Allah is wide enough. Go and live at a place and in a surrounding that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
33 That is, "My mission is not only to exhort others but also to practise what I preach myself: I first myself follow the way which I call others to follow."
Read the full tafseer →