Explained with ayahs 13–16
حکم ہوتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں لیکن عذاب الٰہی سے بےخوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کردو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہوجائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
سورة الزُّمَر 34
دیوالہ عرف عام میں اس چیز کو کہتے ہیں کہ کاروبار میں آدمی کا لگایا ہوا سارا سرمایہ ڈوب جائے اور بازار میں اس پر دوسروں کے مطالبے اتنے چڑھ جائیں کہ اپنا سب کچھ دے کر بھی وہ ان سے عہدہ برآ نہ ہو سکے۔ یہی استعارہ کفار و مشرکین کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں استعمال کیا ہے۔ انسان کو زندگی، عمر، عقل، جسم، قوتیں اور قابلیتیں، ذرائع اور مواقع، جتنی چیزیں بھی دنیا میں حاصل ہیں، ان سب کا مجموعہ دراصل وہ سرمایہ ہے جسے وہ حیات دنیا کے کاروبار میں لگاتا ہے۔ یہ سارا سرمایہ اگر کسی شخص نے اس مفروضے پر لگا دیا کہ کوئی خدا نہیں ہے۔ یا بہت سے خدا ہیں جن کا میں بندہ ہوں، اور کسی کو مجھے حساب نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–17
خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو (منجانب اللہ) حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھوں (یعنی اس میں شائبہ شرک کا نہ ہو) اور مجھ کو (یہ بھی) حکم ہوا ہے کہ (اس امت کے لوگوں میں) سب مسلمانوں میں اول (اسلام کو حق ماننے والا) میں ہوں (اور ظاہر ہے کہ قبول احکام میں نبی کا اول ہونا ضروری ہے اور) اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ اگر (بفرض محال) میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (مجھے جس بات کا حکم ہوا ہے میں تو اسی پر کاربند ہوں چنانچہ) میں تو اللہ ہی کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(آیت) 15-14)
اعلان برأت یہ نبی ﷺ کی زبان سے نہایت واضح الفاظ میں اعلان برأت و بےتعلقی ہے کہ میں تو اس حکم کے مطاسبق جو مجھے میرے رب کی طرف سیم لا ہے اپنے رب ہی کی بندگی اور اسی کی بلاشرکت وغیرے اطاعت کرتا ہوں اور اسی کی دعوت تم کو بھی دے رہا ہوں۔ اگر تم میری یہ بات نہیں مانتے تو تم خدا کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو۔ میں تمہارے اس فعل سے بری ہوں۔ فرمایا کہ ان کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کر دو کہ اصلی خسارے میں وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن کے خسارے میں مبتلا کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اور جتنے بھی خسارے ہیں وہ سب آنی اور وقتی ہیں اور ان کی تلافی ممکن ہے لیکن قیامت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
16۔ 1 یعنی ان کے اوپر نیچے آگ کے طبق ہونگے، جو ان پر بھڑک رہے ہونگے (فتح القدیر)
16، 2 یعنی مذکور خسران مبین اور عذاب ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تاکہ وہ اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرکے اس انجام بد سے بچ جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
8: اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کافروں کو کفر کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے، کیونکہ اگلے ہی جملے میں صاف فرما دیا گیا ہے کہ یہ گھاٹے کا سودا ہے، اور پیچھے آیت نمبر 7 میں فرما دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کفر کو پسند نہیں فرماتا۔ لہذا مطلب یہ ہے کہ تمہیں اس بات کی طاقت ضرور دی گئی ہے کہ تم اگر کفر اختیار کرنا چاہو تو کرسکو، تمہیں ایمان لانے پر زبردستی مجبور نہیں کیا جائے گا، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن اپنا سب کچھ ہار بیٹھو گے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 15
اور دوبارہ اعلان کیا جاتا ہے کہ دیکھو میں تو اپنی راہ پر چل رہا ہوں ، میں بندگی صرف اللہ کی کرتا ہوں ، نظام زندگی صرف اللہ کا اپناتا ہوں ، تم بھی جس راہ کو پسند کرو اور جس کی بندگی چاہو ، اختیار کرو لیکن لیکن تم اس عظیم دیوالیہ پن سے دوچار ہوگے۔ اتنا بڑا خسارہ ہوگا تمہیں جس سے بڑا اور کوئی خسارہ نہ ہوگا۔ تم اپنی جان کو جہنم تک پہنچادوگے۔ تمہیں اہل و عیال کا خسران ہوگا چاہے مومن ہو یا کافر۔ اگر اہل مومن ہوں تو وہ جنتوں کو چلے جائیں گے اور یہ جہنم میں ان سے بہرحال کم ہوں گے۔ اگر کافر ہوں تو جس طرح خود کو گنوایا اسی طرح ان کو بھی گنوایا۔ دونوں جہنم میں ہوں گے۔
ذٰلک ھو الخسران المبین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
7 یعنی میں تو خدا کے حکم کے موافق نہایت اخلاص سے اسی اکیلے کی بندگی کرتا ہوں۔ تم کو اختیار ہے جس کی چاہو پوجا کرتے پھرو۔ ہاں اتنا سوچ لینا کہ انجام کیا ہوگا۔ آگے اسے کھولتے ہیں۔
8 یعنی مشرکین نہ اپنی جان کو عذاب الٰہی سے بچا سکے نہ اپنے گھر والوں کو۔ سب کو جہنم کے شعلوں کی نذر کردیا۔ اس سے زیادہ خسارہ کیا ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 15 { فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ } ”تو تم جس کو چاہو پوجو اس کے سوا !“
{ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اصل میں خسارے میں رہنے والے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو خسارے میں ڈالا قیامت کے دن۔“
یہاں پر تو وہ حرام خوری کے ذریعے خود بھی مزے میں ہیں اور اپنے اہل و عیال کو بھی عیش و عشرت کا سامان مہیا کر رہے ہیں۔ لیکن اس روش کو اپنا کر وہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ کوئی بھلائی یا خیر خواہی نہیں کر رہے بلکہ حقیقت میں وہ خود کو اور ان کو جہنم کا ایندھن بنانے کے اسباب…
Read the full tafseer →24 شرک سے خسارہ کے مختلف پہلو :۔ یہ صریح خسارہ اس لحاظ سے ہے کہ مشرکوں کے اگر کچھ نیک اعمال ہوئے بھی تو وہ شرک کی وجہ سے برباد ہوجائیں گے۔ اب ان کے صرف گناہ ہی گناہ باقی رہ جائیں گے۔ دوسرے ان کے بال بچوں کے گناہوں سے حصہ رسدی کے طور پر انہیں بھی گناہ ہوگا۔ تیسرے یہ کہ دنیا میں تو خسارہ کی اس طرح تلافی ہوسکتی ہے کہ بعد میں کسی وقت نفع ہوجائے۔ قیامت میں یہ صورت بھی ممکن نہ ہوگی گویا ہر طرف سے خسارہ ہی خسارہ انہیں گھیرے ہوئے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
24۔ (قیامت کے دن اس کا انجام آپ ہی دیکھ لو گے) ظاہر ہے کہ یہ پورا فقرہ تہدید کے لہجہ میں ہے، یہ مراد نہیں کہ مشرکوں کو اختیار دیا جارہا ہے۔ (آیت) ” مخلصا لہ دینی “۔ یعنی اسی کے حکم کے مطابق، بلاشائبہ شرک، محققین نے کہا ہے کہ اس سے وجوب عبادت واخلاص دونوں کا ثابت ہوتا ہے اخلاص بلاعبادت روح بےجسد ہے، اور عبادت بلااخلاص جسد بےروح
25۔ (کہ آخری فیصلہ کے دن خسارہ ہو۔ اور جان و متعلقین جو دنیا میں نفع و راحت وتمتع کا ذریعہ رہتے ہیں، وہ قیامت کے دن ذرا بھی یہ کام نہ دے سکیں گے) (آیت) ” الا ..... المبین “۔ یہاں خسران کی شدید تاکید ملحوظ رہے، ایک تو فقرہ کی ابتداء ہی کلمہ تنبیہ سے کی، پھر خسران کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
آیت نمبر 10 تا 21
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین…
Read the full tafseer →فاعبدوا ما شئتم من دونہ اور تم لوگ اللہ کے سوا جس کی چاہو ‘ پوجا کرو۔ پہلے حکم دیا تھا کہ عبادت کرنے اور عبادت کو اللہ ہی کیلئے خالص بنانے پر مامور ہونے کی اطلاع دے دو ‘ اب اس آیت میں حکم دیا کہ اپنی عبادت کے خاص اللہ کیلئے ہونے کی (کافروں کو) خبر کر دو ۔ یہ ترتیب اسلئے رکھی کہ کافروں کو جو اپنے باپ دادا کے دین پر واپس آجانے کی حضور ﷺ کے متعلق کچھ امید تھی ‘ وہ بالکل منقطع ہوجائے ‘ اسلئے دھمکی کیلئے اور آس توڑ دینے کی غرض سے آخر میں فرمایا کہ تم جس کی چاہو پوجا کرو۔
فَاعْبُدُوا محذوف شرط کی جزا ہے ‘ مفصل کلام اس طرح تھا کہ تم اگر میری موافقت نہیں کرتے اور اللہ کی عبادت نہیں کرتے تو پھر اللہ…
Read the full tafseer →سو اللہ کو چھوڑ کر جس کو چاہو تم پوجو یہ کفار کے لیے اللہ کی جانب سے وعید ہے اس سے پہلے کہ رسول اکرم کو جہاد کا حکم دیا گیا تھا آپ ان سے یہ بھی فرما دیجیے کہ پورے خسارے میں وہ ہی لوگ ہیں جو دنیا کی بربادی کے ساتھ اپنی جانوں اور اپنے خدم و چشم اور منازل سے جنت میں نقصان میں رہے یاد رکھو سب سے بڑا واضح نقصان یہی ہے کہ دنیا و آخرت ہاتھوں سے جاتی رہے۔
Read the full tafseer →فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ ۭ : اس میں ایک تو شرک اور مشرکین سے علیحدگی اور براءت کا اعلان ہے کہ تم اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو، مجھ سے یہ توقع ہرگز نہ رکھو۔ سورة کافرون میں یہی مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ دوسرے اس میں مشرکین کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر میرے سمجھانے کے باوجود تم ان جھوٹے معبودوں کی بندگی پر ڈٹے ہوئے ہو تو ڈٹے رہو، مگر سزا بھگتنے پر بھی تیار رہو۔ تمہارے انجام کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔
قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الْخٰسِرِيْنَ۔۔ : میں الف لام کمال کے معنی کے لیے ہے، یعنی کامل اور اصل خسارے والے وہ ہیں۔ آدمی کو اپنی جان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
11 ۔ 16:۔ قل انی امرت ان اعبد اللہ مخلصالہ الدین۔ سورت کے آغاز میں یہ گزر چکا ہے۔ و امرت الان اکون اول المسلمین۔ یعنی اس امت کا پہلا مسلمان ہوں بات حقیقت میں ایسے ہی تھے کیونکہ آپ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے آباء کے دین کی مخالفت کی ‘ بتوں سے لا تعلق ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے اور اس پر ایمان لائے اور اس امر کی طرف دعوت دی لا اکون میں لام زائد ہے یہ جر جانی اور دوسرے علماء نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا : یہ لام اجل ہے اس کلام میں حذف ہے یعنی مجھے عبادت کا حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا مسلمان بنوں۔
قل قنی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم۔ اس سے مراد یوم قیامت کے عذاب ہے۔ یہ اس وقت کہا جب ان کی…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان الخسرین الذین خسروا انفسھم “ (فرمادیجئے کہ پورے گھاٹے میں وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا) یعنی وہ کافر جن کو اللہ تعالیٰ نے آگے کے لئے پیدا کیا یہ دنیا ان سے چلی گئی اور ان پر جنت بھی حرام کردی گئی۔
2:۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” قل ان الخسرین الذین خسروا انفسھم یوم القیمۃ “ (انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا) فرمایا ” اھلیہم “ سے مراد ہے جنت والے کہ انہوں نے ان کیلئے تیار کیا گیا، اگر وہ اللہ کی اطاعت کرتے مگر انہوں نے ان کو دھوکہ دیا۔
3:۔ عبد بن حمید…
Read the full tafseer →فَاعْبُدُوْا [تو تم لوگ بندگی کرو ] مَا [اس کی جس کی ] شِئْتُمْ [تم چاہو ] مِّنْ دُوْنِهٖ ۭ [اس کے علاوہ ] قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ [یقینا گھاٹا پانے والے ] الَّذِيْنَ [وہ لوگ ہیں جنہوں نے ] خَسِرُوْٓا [گھاٹے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [اپنی جانوں کو ] وَاَهْلِيْهِمْ [اور اپنے گھر والوں کو ] يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ [قیامت کے دن ] اَلَا ذٰلِكَ هُوَ [خبردار یہ ہی ] الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ [کھلا ہوا انتہائی گھاٹا ہے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
اللہ سے ڈرنے اور خالص اس کی عبادت کرنے کا حکم
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول اللہ ﷺ کو متعدد باتوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا ہے اول تو یہ فرمایا کہ آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیجیے کہ تم اپنے رب سے ڈرو، یہ ڈرنا اعمال صالحہ پر ابھارنے اور گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہوتا ہے جب کوئی شخص اعمال صالحہ ادا کرتا ہے تو اس کی نیکیاں جمع ہوتی رہتی ہیں، ان نیکیوں پر صبر کرنا اور جمے رہنا مبارک ہے صبر کرنے والوں کا پورا پورا اجر وثواب اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے عطا فرما دے گا، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَّاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ) (اللہ کی زمین فراخ ہے۔ )
اس میں یہ بیان فرمایا کہ جو کوئی ایسی جگہ رہتا ہے جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
مدح مومنین مطیعین وبیان مراتب عالیہ برائے اھل تقوی ور دنیا وعقبی :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” امن ھو قانت انآء الیل ........ الی ........ ھم اولوا الالباب “۔
(ربط) گذشتہ مضمون اس قانون خداوندی کی تحقیق و تفصیل پر مشتمل تھا کہ کفر ونافرمانی اللہ کو ہرگز پسند نہیں ایمان و اطاعت اور شکر اللہ کو محبوب ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت تمام جہانوں سے بےنیاز ہے اس کو نہ کسی کے کفر سے نقصان ہے اور نہ کسی کے ایمان وطاعت سے نفع اب ان آیات میں اہل ایمان وطاعت کے درجات اور ان پر خداوند عالم کے ان انعامات کا بیان ہے جو ان پر دنیا اور آخرت میں کئے جائیں گے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ علم ومعرفت اور عقل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
20:۔ ” قل اللہ اعبد الخ “ یہ دوسری بار دعوے کا ذکر ہے فرمایا دوبارہ اعلان کردو کہ میں تو صرف اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں۔ اور ہمیشہ اسی پر قائم رہوں گا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کروں گا۔ ” فاعبدوا الخ “ یہ امر تہدید اور تخویف اخروی ہے۔ تمہیں اختیار ہے اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ لیکن ایک بات یاد رکھو۔ قیامت کے دن سخت خسارے اور ناقابل تلافی نقصان میں رہو گے۔ جب جرم شرک کی پاداش میں بلا ھساب و کتاب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے۔ تم لوگ مال و دولت کے نقصان کو نقصان شمار کرتے ہو حالانکہ اصل نقصان یہ نہیں۔ اصل نقصان آخرت کا نقصان ہے اور درحقیقت خسارے میں وہ لوگ رہیں گے جو قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–21
ربط آیات :
اس سے پہلے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں بہت سے دلائل بیان ہوئے پھر نیک وبد اور عالم و جاہل کا تقابل ہوا کہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ دلائل سے عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اگر کسی مقام پر کفار ومشرکین کا غلبہ ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شعائر دین پر عمل درآمد نہیں کرنے دیتے تو پھر وہاں سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں ، ظاہر ہے کہ ترک وطن میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تکالیف کو صبر و استقامت سے…
Read the full tafseer →فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ 0 ۭ قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِيْہِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ 0 ۭ اَلَا ذٰلِكَ ہُوَالْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ 15
شاء
والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
ترکیب : ان اعبد اللّٰہ مفعول لامرت مخلصًا حال من الضمیر الفاعل فی اعبد الذین منصوب بمخلص لان اللام زائدۃ والجملۃ مفعول مالم یسم فاعلہ لامرت ویمکن ان یکون المفعول ضمیر افی امرت ای انا ولان متعلق بامرت واول المسلمین خبرا کون عذاب الخ مفعول لاخاف ان عصیت ربی شرط و جو ابہ محذوف الذین خسروا خبران یوم القیامۃ منصوب بخسروا ظلل جمع ظلہ مبتدء لہم خبرہ من فوقہم حال من ظلل ای کانتہ من فوقہم من النار لغت لھا۔
تفسیر : (2) دوسری بات جس کے کہنے کا رسول کو حکم دیا۔ یہ ہے، قل انی امرت ان اعبداللہ، اول تو انسان کی درستی کے لیے نازیبا باتوں کا ترک لازم ہے تاکہ آئینہ دل اور نقش و نگار سے صاف ہوجاوے، تب اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
قُلِ اللّٰہَ اَعْبُدُ مُخْلِصًا لَّـہٗ دِیْنِیْ ۔ فَاعْبُدُوْا مَاشِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ ط قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ وَاَھْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اَلاَ ذٰلِکَ ھُوَالْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۔ (الزمر : 14، 15)
(کہہ دیجیے میں تو اللہ ہی کی بندگی کروں گا، اللہ ہی کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ تم اس کے سوا جس کی چاہو بندگی کرو، کہہ دیجیے بیشک حقیقی خسارے میں پڑنے والے وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں ڈالا، خوب سن لو کہ کھلا ہوا خسارہ وہی ہے۔ )
اعلانِ براء ت
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے ایمانداروں کو حکم ہوا کہ اگر کسی جگہ ایمان بچانا مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرجانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی زمین بڑی کشادہ ہے۔ وہ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر عطا فرمائے گا۔ اس آیت میں نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہر حال میں دین پر عمل کرنا ہوگا۔ الدّین سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے جس کے لیے ہر چیز قربان کردینی چاہیے۔
اے رسول ﷺ آپ لوگوں پر واضح فرمائیں کہ میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی عبادت بلاشرکت غیرے اس طرح کروں جس طرح اس نے مجھے عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے…
Read the full tafseer →15: فَاعْبُدُوْا مَاشِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ (پس اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر تمہارا دل جس چیز کو چاہے اس کی تم عبادت کرو) فاعبدواؔ کا یہ امر تہدید کیلئے ہے۔
درجات کی بجائے درکات والے اصل خسارہ میں :
فائدہ : آپ کو کہا گیا اگر تم اپنے آباء کے دین کی مخالفت کر وگے تو نقصان اٹھائو گے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی۔
قُلْ اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ (کہہ دیجئے پورے خسارہ اٹھانے والے وہی لوگ ہیں) مکمل خسارے اور اس کے تمام اسباب ووجوہ کو اپنے اندر جمع کرنے والے۔ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَہُمْ (جو اپنی جانوں سے) ان کو آگ میں ہلاک کرنے کے سبب وَاَھْلِیْھِمْ (اور اپنے متعلقین سے خسارہ میں پڑے) یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ (قیامت کے…
Read the full tafseer →15، فاعبدوا ماشئتم من دونہ، یہ امرڈانٹ دوھم کی کے لیے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کافرمان، اعلمو اماشئتم ، ہے۔
، قل ان الخاسرین الذین خسروا انفسھم واھلیھم ، یعنی ان کی بیویاں اور ان کے خادم ۔ ، یوم القیامۃ الا ذلک ھو الخسران المبین، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے لیے جنت میں ایک ٹھکانہ اور بیوی بنائی ہے اب جو شخص اللہ کی تابعد اری کرے گا تو وہ ٹھکانہ اور بیوی اس کو ملے گی اور جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا تو جہنم میں داخل ہوگا اور وہ ٹھکانہ اور بیوی اس کے علاوہ کسی اس شخص کو مل جائے گی جس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور کہا گیا ہے کہ نفس کا خسارہ جہنم میں داخل ہونے کی وجہ سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
10۔ 16۔ اوپر منکرین حشر کا ذکر فرما کر اب ایمانداروں کا ذکر فرمایا جو علما یہ کہتے ہیں۔ کہ اس مکی سورة میں ان آیتوں میں سے پہلی آیت قل یعباد مدنی ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ اس آیت میں ہجرت کا ذکر ہے اور ہجرت اللہ کے رسول ﷺ کے مدینہ میں آنے اور قرآن کا مدنی حصہ کا نازل ہونا شروع ہونے کے بعد فرض ہوئی ہے۔ لیکن جو علما اس آیت کو مدنی نہیں قراردیتے۔ وہ اس ہجرت کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مشرکین مکہ نے جب مسلمانوں کو بہت ستانا شروع کیا تو نبوت کے پانچ برس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کے حکم سے اسی آدمی کے قریب مکہ سے حبشہ کو چلے گئے تھے۔ اسی کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مدینہ کی ہجرت کے بعد یہ لوگ پھر حبشہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
آیت 14
(قد) اے رسول ! لوگوں سے کہہ دیجیے : (انی امرت ان اعبداللہ مخلصاً لہ الدین) ” بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لئے خلاص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں “ جیسا کہ اس سورة مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا : (آیت) ” پس آپ اللہ کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔ “ (وامرت لان اکون اول المسلمین) ” اور مجے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنوں “ کیونکہ میں مخلوق کے لئے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں، یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–75
نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی
قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…
Read the full tafseer →32 منکرین و مشرکین سے اظہار بیزاری کا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " میں تو بہرحال اسی وحدہ لا شریک کی عبادت و بندگی کروں گا "۔ اب تم اگر نہیں مانتے تو تم اس کے سوا جس کی چاہے بندگی کرو کہ ہر کسی کو اپنے ارادئہ و اختیار کی آزادی ہے۔ اور اصل مدار انسان کی اپنی نیت و ارادے اور اس کی مرضی و اختیار ہی پر ہے۔ سو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ پس تم اس کے سوا جس کی بندگی چاہو کرو مگر اس کا بھگتان تم کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ میں بہرحال تمہارے اس رویے سے قطعی طور پر بری اور بیزار ہوں۔ اس کے بعد بھی اگر تم نے میری بات کو نہ مانا اور راہ حق و ہدایت کو نہ اپنایا تو میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ تمہارا راستہ الگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–21
مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ
تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–21
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21:
اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
ف 12 یعنی اگر میرے سمجھانے کے باوجود تم ان جھوٹے معبودوں کی بندگی کرتے رہنے پر مصرہوتو کرتے رہو لیکن بھگتنے کے لئے بھی تیار رہو۔ تمہارے انجام کی کوئی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔13 یعنی دوزخ میں گریں گے۔14 جس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں اس لئے کہ وہ ایسا خسارہ ہے جس کی تلافی کسی طرح ممکن نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →(39:15) فاعبدوا ما شئتم من دونہ۔ بطور تہدید و قطع تعلقی آیا ہے۔
خسروا۔ ماضی جمع مذکر غائب خسر و خسار و خسران مصدر (باب سمع) بمعنی زیابن۔ نقصان ، ٹوٹا۔ سرمایہ میں گھاٹا۔ خسر فعل مقدم ہے لیکن آیت ہذا میں بطور فعل متعدی استعمال کیا گیا ہے کیونکہ انفسکم اور اہلیہم مفعول مذکور ہے۔
خسروا جنہوں نے اپنی جانوں کو اور اپنے گھروالوں کو گھاٹے میں ڈالا۔ اپنے اہل کو گھاٹے میں ڈالنے سے مراد یہ ہے کہ اپنی غلط تعلیم و تربیت اور غلط مثال سے اس نے اپنے عزیز و اقارب دوستوں۔ ہم قوموں کو توحید سے دور رکھا۔
یوم القیامۃ۔ مضاف مضاف الیہ خسروا کا مفعول فیہ۔ قیامت کے روز۔ الا۔ حرف تنبیہ۔ یادرکھو۔
الخسران المبین۔ موصوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے)
تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
نیک اور بد کا انجا۔
(ف 2) کافروں نے کہا، اے رسول ﷺ تم بت پرستی چھڑاتے ہو اس کو برا کہتے ہو آخرہم نے تو نہیں نکال لی، پرانے زمانوں سے بڑے بڑے عقلاء اور باپ دادا کرتے چلے آئے کسی نے بھی برا کہا، تم کو چاہیے کہ انہیں کی اتباع پرچلو، اور خلاف راہ آبائی جو باتیں کررہے ہو ان کو ترک کردو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ مجھ کو اللہ کی طرف سے یہ حکم دیاگی ا ہے کہ فقط اسی کی عبادت کروں توحید خالص نہایت اخلاص سے سچے دل سے مانوں اور اپنا دین عبادت اسی کے لیے مخصوص کردوں، اور یہ کہ اس زمانہ میں کہ توحید کا نام باقی نہ رہا ہے ، میں سب پہلے خود مسلمان ہوں بعد میں اوروں کو کروں، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
[12] یعنی روز قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ف 2: اس کے بعد یہ بتایا ہے کہ یہ لوگ شدید ترین سزا کے مستحق ہیں ۔ قیامت کے دن ان کی یہ کیفیت ہوگی ۔ کہ چاروں طرف سے آگ کے شعلوں میں گھرے ہوں گے ۔
Read the full tafseer →(15) پس اب تم اللہ تعالیٰ کی سوا جس کی چاہو پوجا کرتے پھرو آپ ان سے فرما دیجئے حقیقی نقصان، ٹوٹے اور ہار میں وہی رہے جو قیامت کے دن اپنی جانوں کو اور اپنے متعلقین کو نقصان میں گنوا بیٹھے آگاہ ہو یہ قیامت کے دن کا گھاٹا ہی تو صریح گھاٹا ہے۔ اپنی عبادت کے خالص ہونے کا اعلان کرنے کے بعد بطور تو بیخ اور تہدید کے فرمایا میں نے تو اپنا عقیدہ ظاہر کردیا اب تمہارا جو جی چاہے کرتے پھرو۔ البتہ یہ یاد رکھو کہ اصلی نقصان اٹھانے والے وہی لوگ ہیں جو قیامت کے دن سب کچھ ہار بیٹھے اور اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں دے بیٹھے اور گنوا بیٹھے یہی نقصان تو صریح نقصان اور گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
ف 1۔ مطلب یہ کہ توحید خالص کا وجوب اور اس کے ترک پر عذاب کا استحقاق ایسا عام ہے کہ معصوم جس میں احتمال معصیت کا ہے ہی نہیں، وہ بھی اس قاعدہ سے مستثنی نہیں، تو غیر معصوم تو کس شمار میں ہے۔
Read the full tafseer →میرا کام تو تم کو منع کرنا تھا وہ میں نے کردیا اب تمہاری مرضی کہ جو چاہو کرو
15۔ فطرتِ انسانی ہے کہ اگر وہ کسی آدمی کو کسی بات سے روکتا ہے اور جب وہ اس سے باز نہیں آتا تو انجام کار وہ کہہ دیتا ہے کہ جو تو کرتا ہے کرتا رہ اس انداز میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ اے کافرو ! اور مشرکو ! اللہ کے سوا تم جس کی عبادت و بندگی چاہتے ہو کرتے رہو میرا اعلان تو یہ ہے کہ قیامت کے روز گھاٹے میں وہی لوگ رہیں گے جو خود بھی گھاٹے میں ہوں گے اور ان کے اہل و عیال بھی اور دوست و احباب بھی جو ان کو اس معاملہ میں چاہنے والے ہوں گے اور بلاشبہ ان کا گھاٹا بھی ایسا ہوگھاٹا ہوگا جو نہایت کھلا اور واضح ہوگا۔ کھلا خسارہ وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
In verse 10, it was said: وَأَرْضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ (and the earth of Allah is wide).In the sentence previous to this, Good deeds had been enjoined. This might prompt someone to come up with the excuse, 'The city or country in which I live, or the social milieu I am stuck with around me stops me from doing good deeds.' This sentence carries an answer to this excuse - 'if you find adherence to Islamic legal injunctions difficult while living in some particular country, city or social setup, then, leave it. The earth of Allah is wide enough. Go and live at a place and in a surrounding that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
34 Bankruptcy is loss of a person's capital and failure of his business so that he is unable to pay his debts in full. This same metaphor Allah has used here for the disbelievers and polytheists, The sum total of whatever man has got in this world-his life, his intellect, body, powers, capabilities, means and opportunities-is in fact, the capital, which he invests in the business of the worldly life. If a person invested this whole capital on the hypothesis that there is no God, or that there are many gods, whose servant he is, and that he is not accountable to anyone, or that someone else…
Read the full tafseer →