Az-Zumar 39:13

Az-Zumar · from ayah 13

39:13

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۟قُلۡ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّىۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ

کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Az-Zumar

All translations of 39:13

کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے! کہ مجھے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے بڑے دن کے عذاب کا خوف لگتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ بالفرض اگر مجھ سے نافرمانی ہوجائے تو مجھے اپنے رب سے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں زبردست دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے بیشک میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو میں تو سخت ڈرتا ہوں اگر میں نافرمانی کروں اپنے رب کی ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو (اپنے لئے) ایک عظیم الشان دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہہ دیجیے کہ مجھے خود اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ اگر میں اپنے رب کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: “If I disobey my Lord, I fear the chastisement of an Awesome Day.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :If I were to disobey my Lord, I fear the punishment of a great day.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :If I were to disobey my Lord, I fear the punishment of a great day.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Verily, if I disobey my Lord, I am afraid of the torment of a great Day."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Lo! if I should disobey my Lord, I fear the doom of a tremendous Day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."

— Saheeh International

Say, "I am afraid that for disobeying my Lord I shall suffer the torment of the great day".

— Muhammad Sarwar

Say: I fear, if I disobey my Lord, the chastisement of a grievous day.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: verily fear, if I disobeyed my Lord, torment of a Day mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "I would, if I disobeyed my Lord, indeed have fear of the Penalty of a Mighty Day."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 39:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–16

حکم ہوتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں لیکن عذاب الٰہی سے بےخوف نہیں ہوں۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو قیامت کے دن کے عذاب سے میں بھی بچ نہیں سکتا تو دوسرے لوگوں کو تو رب کی نافرمانی سے بہت زیادہ اجتناب کرنا چاہئے۔ تم اپنے دین کا بھی اعلان کردو کہ میں پختہ اور یکسوئی والا موحد ہوں۔ تم جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔ اس میں بھی ڈانٹ ڈپٹ ہے نہ کہ اجازت۔ پورے نقصان میں وہ ہیں جنہوں نے خود اپنے آپ کو اور اپنے والوں کو نقصان میں پھنسا دیا۔ قیامت کے دن ان میں جدائی ہوجائے گی۔ اگر ان کے اہل جنت میں گئے تو یہ دوزخ میں جل رہے ہیں اور ان سے الگ ہیں اور اگر سب جہنم میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–14

سورة الزُّمَر 33 یعنی میرا کام صرف دوسروں سے کہنا ہی نہیں ہے، خود کر کے دکھانا بھی ہے۔ جس راہ پر لوگوں کو بلاتا ہوں اس پر سب سے پہلے میں خود چلتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–17

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو (منجانب اللہ) حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ عبادت کو اسی کے لئے خالص رکھوں (یعنی اس میں شائبہ شرک کا نہ ہو) اور مجھ کو (یہ بھی) حکم ہوا ہے کہ (اس امت کے لوگوں میں) سب مسلمانوں میں اول (اسلام کو حق ماننے والا) میں ہوں (اور ظاہر ہے کہ قبول احکام میں نبی کا اول ہونا ضروری ہے اور) اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ اگر (بفرض محال) میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں اور آپ (یہ بھی) کہہ دیجئے کہ (مجھے جس بات کا حکم ہوا ہے میں تو اسی پر کاربند ہوں چنانچہ) میں تو اللہ ہی کی عبادت اس طرح کرتا ہوں کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم (13) یعنی ان کو بتا دو کہ مجھے تو جو حکم مل چکا ہے میں اس کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یہی حکم میرے واسطہ سے تمہیں بھی ملا ہے اور میں نے دو تم کو پہنچا دیا ہے۔ اگر تم اپنے رب کی نافرمانی اور قیامت کے عذاب سے بےپروا ہو تو جو چاہو کرو۔ میں نہ تمہارا ہاتھ پکڑ سکتا اور نہ تمہارے ایمان کا ذمہ دار ہوں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 13–16

16۔ 1 یعنی ان کے اوپر نیچے آگ کے طبق ہونگے، جو ان پر بھڑک رہے ہونگے (فتح القدیر) 16، 2 یعنی مذکور خسران مبین اور عذاب ہے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے تاکہ وہ اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرکے اس انجام بد سے بچ جائیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–14

7: اس میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جو شخص دوسروں کو کسی نیکی کی دعوت دے، اسے چاہیے کہ پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–14

درس نمبر 217 ایک نظر میں اس سبق پر آخرت کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ اور آخرت کے عذاب کے مختلف رنگ اور سائے ہیں۔ نیز آخرت کے ثواب کی امیدیں بھی ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ خالص توحید کے عقیدے کا اعلان کردیں۔ اور یہ بھی اعلان کردیں کہ اگر میں اس سے انحراف کروں تو مجھے عذاب الہٰی کا ڈر ہے اور یہ کہ میں اپنے منصوبے اور منہاج پر قائم ہوں اور تم جانو اور تمہارا منہاج وطریقہ۔ البتہ اسلامی منہاج کا انجام یہ ہوگا اور کفریہ منہاج کا انجام یہ ہوگا۔ درس نمبر 217 تشریح آیات آیت نمبر 11 تا 13 ترجمہ : یہ نبی ﷺ کی طرف سے اعلان ہے کہ آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ اللہ وحدہ کی بندگی کریں اور دین اس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی مجھ جیسا معصوم و مقرب بھی اگر بفرض محال نافرمانی کرے تو اس دن کے عذاب سے مامون نہیں تابدیگراں چہ رسد۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 { قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ } ”کہہ دیجیے کہ مجھے خود اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں۔“ میں خود بھی تو اللہ کا بندہ ہوں ‘ اور اس حیثیت سے اس کی ُ کلی اطاعت کا پابند ہوں۔ اس ضمن میں میرے لیے کوئی استثناء نہیں ‘ اور اگر بالفرض میں بھی اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بھی اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہوگا۔ یہ شرطیہ فقرہ ہے اور یوں سمجھیں کہ اس کے درمیان کا ”اگر“ گویا ایک پہاڑ ہے جسے پھلانگنا ناممکنات میں سے ہے۔ دراصل یہ انداز مخالفین کو معاملے کی سنجیدگی کا احساس دلانے کے لیے اختیار فرمایا گیا ہے ‘ ورنہ حضور ﷺ کے لیے اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 11–13

22 ہر نبی سب سے پہلے اپنی نبوت پر ایمان لاتا ہے اور احکام الہٰی کا عملی نمونہ پیش کرتا ہے :۔ ہر نبی پر یہ واجب ہوتا ہے کہ سب سے پہلے خود اپنی نبوت پر ایمان لائے۔ پھر دوسروں کو دعوت دے۔ اسی طرح اس پر یہ بھی واجب ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے جو بھی حکم نازل ہو سب سے پہلے خود اس پر عمل کرے اور اپنی ذات کو بطور نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کرے پھر دوسروں کو دعوت دے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کی زبان سے یہ بات کہلوائی کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ خالصتا ً اللہ اکیلے کی عبادت کروں اور اس حکم پر سب سے پہلے میں خود سرتسلیم خم کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ یعنی یوم قیامت کے عذاب کا، پیغمبر تو معصوم ہوتے ہیں، جن سے ترک توحید کا احتمال ہی نہیں، تو جب اندیشہ عذاب ان تک کے لیے ہے تو امت کے غیر معصوموں کا ظاہر ہے کہ کیا ذکر ہے۔ (آیت) ” انی اخاف “۔ الفاظ سے یہ نکتہ بھی پیدا کیا گیا ہے کہ معصیت پر جو شے لازمی طور پر مرتب ہوتی ہے وہ اندیشہ عذاب ہے نہ کہ نفس عذاب۔ دلت الایۃ علی انالمرتب علی المعصیۃ لیس حصول العقاب بل الخوف من العقاب (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–21

آیت نمبر 10 تا 21 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے اے میرے ایمان والے بندو ! اپنے رب سے ڈرتے رہو یعنی اس کے عذاب سے (ڈرتے رہو) اس طریقہ سے کہ اس کی اطاعت کرو، جو لوگ اس دنیا میں طاعت کے ذریعہ نیکی کرتے ہیں ان کے لئے اچھا صلہ ہے اور وہ جنت ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشادہ ہے، کفار کے درمیان سے اور منکرات کے مشاہدہ سے (بچنے کے لئے) کسی اور سرزمین کی طرف ہجرت کو جاؤ طاعات پر اور ان مصائب پر جن میں ان کو مبتلا کیا گیا ہے، صبر کرنے والوں ہی کو پورا (اور) بیشمار اجر ملتا ہے یعنی بغیر ناپے تولے (اجر ملتا ہے) آپ کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے شرک سے دین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم آپ کہہ دیجئے کہ مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر لگتا ہے ‘ اگر میں اپنے رب کا حکم نہ مانو۔ اِنْ عَصَیْتُ یعنی اگر میں اخلاص ترک کر دوں اور تمہاری طرح شرک اور اعمال بد کی طرف مائل ہوجاؤں تو مجھے عذاب کا ڈر ہے۔ سابق آیت کی طرح اس آیت میں مخاطبین کو اسلام کی طرف مائل کرنا اور نافرمانی (کے نتیجہ) سے ڈرانا مقصود ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب آپ کو باپ دادا کا دین اختیار کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 12) اور آپ مکہ والوں سے فرما دیجیے جبکہ وہ اس بات کے خواہش مند ہیں کہ آپ ان کے آبائی دین کو اختیار کرلیں کہ مجھ کو بذریعہ قرآن کریم یہ حکم ہوا ہے کہ میں اللہ کی اس طرح عبادت کروں کہ عبادت و توحید کو اس کے لیے خالص رکھوں اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ اسلام لانے میں سب سے پہلا میں ہوں۔ اور آپ ان سے فرما دیجیے کہ اگر میں تمہارے دین کو اختیار کرلوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ۔ : یعنی اے پیغمبر ! کہہ دے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں اور اپنی عبادت اور اطاعت اس کے لیے خالص کرنے کے بجائے تمہاری طرح اس کا کوئی شریک بنا لوں تو میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ مطلب یہ کہ میرے جیسا شخص بھی (جسے اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم بنایا، جس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیے) اگر اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے شرک کا ارتکاب کر بیٹھے، تو اس عظیم دن کے عذاب سے ڈرتا ہے، تو اپنے متعلق تم خود سوچ لو۔ تفصیل سورة زمر (64، 65) اور سورة انعام (14، 15 اور 81 تا 88) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–16

11 ۔ 16:۔ قل انی امرت ان اعبد اللہ مخلصالہ الدین۔ سورت کے آغاز میں یہ گزر چکا ہے۔ و امرت الان اکون اول المسلمین۔ یعنی اس امت کا پہلا مسلمان ہوں بات حقیقت میں ایسے ہی تھے کیونکہ آپ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے آباء کے دین کی مخالفت کی ‘ بتوں سے لا تعلق ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے اور اس پر ایمان لائے اور اس امر کی طرف دعوت دی لا اکون میں لام زائد ہے یہ جر جانی اور دوسرے علماء نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا : یہ لام اجل ہے اس کلام میں حذف ہے یعنی مجھے عبادت کا حکم دیا گیا ہے کہ میں پہلا مسلمان بنوں۔ قل قنی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم۔ اس سے مراد یوم قیامت کے عذاب ہے۔ یہ اس وقت کہا جب ان کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–14

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وارض اللہ واسعۃ “ سے مراد ہے کہ میری زمین وسیع ہے پس تم ہجرت کرجاؤ اور بتوں کو چھوڑ دو ۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ (بلاشبہ کرنے والوں کو پورا پورا ان کا اجر دیا جائے گا بغیر حساب کے) فرمایا نہیں (حساب ہوگا) اللہ کی قسم نہ وہاں ناپنے کا کوئی آلہ ہوگا اور نہ تولنے کا۔ 3:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے ان کے اعمال کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] اِنِّىْٓ اَخَافُ [کہ میں ڈرتا ہوں ] اِنْ عَصَيْتُ [اگر میں نافرمانی کروں ] رَبِّيْ [اپنے رب کی ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ایک عظیم دن کے عذاب سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 10–15

اللہ سے ڈرنے اور خالص اس کی عبادت کرنے کا حکم ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول اللہ ﷺ کو متعدد باتوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا ہے اول تو یہ فرمایا کہ آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیجیے کہ تم اپنے رب سے ڈرو، یہ ڈرنا اعمال صالحہ پر ابھارنے اور گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہوتا ہے جب کوئی شخص اعمال صالحہ ادا کرتا ہے تو اس کی نیکیاں جمع ہوتی رہتی ہیں، ان نیکیوں پر صبر کرنا اور جمے رہنا مبارک ہے صبر کرنے والوں کا پورا پورا اجر وثواب اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے عطا فرما دے گا، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَّاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ) (اللہ کی زمین فراخ ہے۔ ) اس میں یہ بیان فرمایا کہ جو کوئی ایسی جگہ رہتا ہے جہاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–18

مدح مومنین مطیعین وبیان مراتب عالیہ برائے اھل تقوی ور دنیا وعقبی : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” امن ھو قانت انآء الیل ........ الی ........ ھم اولوا الالباب “۔ (ربط) گذشتہ مضمون اس قانون خداوندی کی تحقیق و تفصیل پر مشتمل تھا کہ کفر ونافرمانی اللہ کو ہرگز پسند نہیں ایمان و اطاعت اور شکر اللہ کو محبوب ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت تمام جہانوں سے بےنیاز ہے اس کو نہ کسی کے کفر سے نقصان ہے اور نہ کسی کے ایمان وطاعت سے نفع اب ان آیات میں اہل ایمان وطاعت کے درجات اور ان پر خداوند عالم کے ان انعامات کا بیان ہے جو ان پر دنیا اور آخرت میں کئے جائیں گے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ علم ومعرفت اور عقل و…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

19:۔ “ قل انی اخاف الخ “ تمہارے دل چونکہ خوف خدا سے خالی ہیں۔ اس لیے تم کفر و شرک اور دیگر بد اعمالیوں کا بےمحابا ارتکاب کر رہے لیکن میں تو خدا کے عذاب سے ڈرتا ہوں مجھے تو ڈر ہے کہ اگر میں اخلاص عبادت میں کوتاہی کروں اور تمہاری طرح شرک کی طرف مائل ہوجاؤں تو مجھے وہ عذاب میں گرفتار کردے۔ اس سے مقصود مشرکین سے تعریض ہے۔ کیونکہ آپ معصوم ہیں اور آپ سے معصیت کا صدور محال ہے وھذا شرط و معناہ تعریض بغیرہ بطریق الاولی والاخری (ابن کثیر ج 4 ص 48) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–21

ربط آیات : اس سے پہلے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں بہت سے دلائل بیان ہوئے پھر نیک وبد اور عالم و جاہل کا تقابل ہوا کہ دونوں گروہ برابر نہیں ہو سکتے اور اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ دلائل سے عقلمند لوگ ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی طرف اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کی زمین وسیع ہے اگر کسی مقام پر کفار ومشرکین کا غلبہ ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں رکاوٹ بنتے ہیں اور شعائر دین پر عمل درآمد نہیں کرنے دیتے تو پھر وہاں سے ہجرت کرکے دوسری جگہ چلے جائیں ، ظاہر ہے کہ ترک وطن میں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان تکالیف کو صبر و استقامت سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۝ 13 خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–16

ترکیب : ان اعبد اللّٰہ مفعول لامرت مخلصًا حال من الضمیر الفاعل فی اعبد الذین منصوب بمخلص لان اللام زائدۃ والجملۃ مفعول مالم یسم فاعلہ لامرت ویمکن ان یکون المفعول ضمیر افی امرت ای انا ولان متعلق بامرت واول المسلمین خبرا کون عذاب الخ مفعول لاخاف ان عصیت ربی شرط و جو ابہ محذوف الذین خسروا خبران یوم القیامۃ منصوب بخسروا ظلل جمع ظلہ مبتدء لہم خبرہ من فوقہم حال من ظلل ای کانتہ من فوقہم من النار لغت لھا۔ تفسیر : (2) دوسری بات جس کے کہنے کا رسول کو حکم دیا۔ یہ ہے، قل انی امرت ان اعبداللہ، اول تو انسان کی درستی کے لیے نازیبا باتوں کا ترک لازم ہے تاکہ آئینہ دل اور نقش و نگار سے صاف ہوجاوے، تب اس پر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الزمر : 13) (کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ ) آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان کو بتا دیجیے کہ میرے مقامات و مراتب اپنی جگہ لیکن جہاں تک اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی اطاعت کا تعلق ہے میں اس میں کسی طرح کی کمی نہیں کرسکتا۔ اگر میں کسی معاملے میں بھی اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا نبی کبھی اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی نافرمانی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری اور اس کی اطاعت کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–16

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے ایمانداروں کو حکم ہوا کہ اگر کسی جگہ ایمان بچانا مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرجانی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی زمین بڑی کشادہ ہے۔ وہ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر عطا فرمائے گا۔ اس آیت میں نبی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں ہر حال میں دین پر عمل کرنا ہوگا۔ الدّین سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے جس کے لیے ہر چیز قربان کردینی چاہیے۔ اے رسول ﷺ آپ لوگوں پر واضح فرمائیں کہ میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی عبادت بلاشرکت غیرے اس طرح کروں جس طرح اس نے مجھے عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں مجھے حکم ہے کہ میں سب سے پہلے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13: قُلْ اِنِّیْ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں) یہ بات آپ اس کو فرما دیں جو آباء و اجداد کے دین کی طرف لوٹنے کی آپ کو دعوت دے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفارقریش نے رسول (علیہ السلام) کو کہا کہ تم اپنے والد اور دادا اور اپنی قوم کے سرداروں کو نہیں دیکھتے کہ وہ لات وغیرہ کی پوجا کرتے تھے پس یہ آیت ان کی تردید میں اتاری گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 13–14

13، قل انی اخاف ان عصیت ربی، اور اس کے غیر کی عبادت کروں۔ ، عذاب یوم عظیم ، اور یہ اس وقت کہا جب آپ (علیہ السلام) کو آپ کے آباء کے دین کی طرف بلایا گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 10–16

10۔ 16۔ اوپر منکرین حشر کا ذکر فرما کر اب ایمانداروں کا ذکر فرمایا جو علما یہ کہتے ہیں۔ کہ اس مکی سورة میں ان آیتوں میں سے پہلی آیت قل یعباد مدنی ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ اس آیت میں ہجرت کا ذکر ہے اور ہجرت اللہ کے رسول ﷺ کے مدینہ میں آنے اور قرآن کا مدنی حصہ کا نازل ہونا شروع ہونے کے بعد فرض ہوئی ہے۔ لیکن جو علما اس آیت کو مدنی نہیں قراردیتے۔ وہ اس ہجرت کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مشرکین مکہ نے جب مسلمانوں کو بہت ستانا شروع کیا تو نبوت کے پانچ برس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ کے حکم سے اسی آدمی کے قریب مکہ سے حبشہ کو چلے گئے تھے۔ اسی کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مدینہ کی ہجرت کے بعد یہ لوگ پھر حبشہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–13

آیت 11 (1) صحیح البخاری، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ (انما قولنا لشئی اذآردنہ) ح :836 و صحیح مسلم الجھاد باب قولہ ﷺ لانزال صائفۃ من امتی۔۔۔ ح :1920

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 6–75

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

30 معصیت و نافرمانی سے تخویف وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ مجھے اپنے رب کی معصیت و نافرمانی پر ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے "۔ کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے ایک ہے۔ سو اگر مجھے بھی اس کا اس قدر خدشہ ہے تو پھر دوسروں کو سوچنا اور غور کرنا چاہیئے کہ ان کو اس بارے میں کس قدر ڈرنے اور خوف و خدشہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ میں تو اپنے رب کے حکم کی نافرمانی بہرحال نہیں کرسکتا کیونکہ میں اگر ایسے کروں تو مجھے اس کے عذاب کا سخت ڈر ہے۔ اور یہی حکم تمہارے لیے بھی ہے۔ اب تم جو چاہو کرو۔ تمہیں اس کی آزادی اور اختیار ہے۔ نہ میں تمہارا ہاتھ پکڑ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–21

مخلص عبادت گزار کیلئے جنت اور کافر کیلئے دوزخ تشریح : جب ہم اپنی زندگیوں پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے لیے ہی کرتے ہیں۔ اللہ تو ہماری عبادت ہماری نیکی اور ہماری نیتوں سے بالکل بےنیاز ہے اس کو کسی بھی بندے کی عبادت سے کوئی بھی فائدہ یا نقصان نہیں ہوتا بلکہ اس نے تو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ میں نے تم لوگوں کو اپنی نگاہ میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی بھی مخلوق میری نگاہ سے چھپی ہوئی نہیں اس لیے میں ظاہری اور باطنی سب طرح سے ہر ایک شخص کو اچھی طرح دیکھ رہا ہوں جو نیکی اختیار کرتے ہیں ان کو بڑے انصاف سے قیامت کے بعد ہمیشہ والی زندگی میں بہترین انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–21

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(39:13) ان عصیت ربی جملہ شرطیہ ہے اخاف عذاب یوم عظیم اس کی جزاء یوم عظیم سے مراد روز قیامت ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–20

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 :۔ غنی ( بےنیاز) وازرۃ ( بوجھ) ذات الصدور (سینوں والا ، دلوں کا حال ( جاننے والا) منیب ( لوٹنے والا ، رجوع کرنے والا) خول ( دیا) نسی ( وہ بھول گیا) قانت ( ادب سے کھڑے ہونے والا) انا (اوقات ، برتن) اولوالالباب (عقلوں والے) تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 :۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں عطاء فرمائیں ہیں ان کو شمار کرانے کے بعد زیر مطالعہ آیات میں آٹھ باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) فرمایا کہ ان تمام نعمتوں کے باوجود اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اللہ کی شان بےنیازی میں نہ تو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اس کی شان میں کسی طرح کی کوئی کمی آتی ہے البتہ اگر کوئی اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 11–16

نیک اور بد کا انجا۔ (ف 2) کافروں نے کہا، اے رسول ﷺ تم بت پرستی چھڑاتے ہو اس کو برا کہتے ہو آخرہم نے تو نہیں نکال لی، پرانے زمانوں سے بڑے بڑے عقلاء اور باپ دادا کرتے چلے آئے کسی نے بھی برا کہا، تم کو چاہیے کہ انہیں کی اتباع پرچلو، اور خلاف راہ آبائی جو باتیں کررہے ہو ان کو ترک کردو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ تم ان سے کہہ دو کہ مجھ کو اللہ کی طرف سے یہ حکم دیاگی ا ہے کہ فقط اسی کی عبادت کروں توحید خالص نہایت اخلاص سے سچے دل سے مانوں اور اپنا دین عبادت اسی کے لیے مخصوص کردوں، اور یہ کہ اس زمانہ میں کہ توحید کا نام باقی نہ رہا ہے ، میں سب پہلے خود مسلمان ہوں بعد میں اوروں کو کروں، پھر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–13

ف 2: اول المسلمین سے غرض یہ ہے کہ میں وہ ہوں جس کے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ قرار پاؤں ۔ میری زندگی تمام کائنات اسلامی کے لئے لائق تقلید اور قابل پیروی ہے ۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) آپ کہہ دیجئے اگر میں اپنے پروردگار کا حکمنہ مانوں تو میں ایک سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ پہلے اخلاص کا حکم دیا گیا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت پر اعتقاد رکھ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو یعنی نری اسی کی بندگی ہو اس کی عبادت میں کوئی دوسراشریک نہ ہو نہ تو عبادت میں ریا ہو اور نہ غیر اللہ کی عبادت ہو دوسرے یہ کہ اس امت میں سب مسلمانوں میں سے پہلے میں اسلام کے حق ہونے کو مانوں اور اسلام کے حق ہونے گا اظہار کروں اور اگر بفرض محال مجھ سے اپنے پروردگار کی کوئی نافرمانی ہوجائے تو میں قیامت کے دن کے عذاب اور اس بڑے دن کی پکڑ سے ڈرتا ہوں بڑا دن فرمایا قیامت کو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–18

ف 1۔ مطلب یہ کہ توحید خالص کا وجوب اور اس کے ترک پر عذاب کا استحقاق ایسا عام ہے کہ معصوم جس میں احتمال معصیت کا ہے ہی نہیں، وہ بھی اس قاعدہ سے مستثنی نہیں، تو غیر معصوم تو کس شمار میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ّآپ کہہ دیجئے کہ اگر میں حکم الہٰی نہ مانوں تو مجھے بھی آخرت کا ڈر ہے 13۔ معلوم ہوا کہ کہنے والے کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ جو بات کہتا ہے اور دوسروں کو اس کا حکم دیتا ہے خود اس کا پابند ہو اور یہ بھی کہ اگر وہ خود پابندی نہ کرے تو اس کو بھی سزا دیا جانا ضروری اور لازمی ہے بلکہ وہ دوسرے لوگوں سے زیادہ سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ زیر نظر آیت میں اس بات کا اعلان نبی اعظم وآخر محمد ﷺ سے کرایا جا رہا ہے کہ آپ اعلان کر دیجئے کہ جس بات کا میں تم کو حکم دے رہا ہوں اگر میں اس کو نہ مانوں تو میں بھی عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہوں اگرچہ آپ کی حکم عدولی کا کوئی سوال ہیں پیدا نہیں ہوتا تھا تا ہم آپ سے یہ اعلان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–17

In verse 10, it was said: وَأَرْ‌ضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ (and the earth of Allah is wide).In the sentence previous to this, Good deeds had been enjoined. This might prompt someone to come up with the excuse, 'The city or country in which I live, or the social milieu I am stuck with around me stops me from doing good deeds.' This sentence carries an answer to this excuse - 'if you find adherence to Islamic legal injunctions difficult while living in some particular country, city or social setup, then, leave it. The earth of Allah is wide enough. Go and live at a place and in a surrounding that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–14

33 That is, "My mission is not only to exhort others but also to practise what I preach myself: I first myself follow the way which I call others to follow."

Read the full tafseer →