Saad 38:9

Saad · from ayah 9

38:9

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِیْزِ الْوَهَّابِ ۟ۚاَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآئِنُ رَحۡمَةِ رَبِّكَ الۡعَزِيۡزِ الۡوَهَّابِ‌ۚ

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do they have the depositories of the mercy of your Lord, the Exalted in Might, the Bestower?

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:9

کیا تیرے داتا اور غالب پروردگار کی رحمت کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا کیا ان کے پاس تیرے زبردست فیاض رب کی رحمت کے خزانے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

تمہارا رب جو بڑا داتا، بڑا صاحب اقتدار ہے، کیا اس کی رحمت کے سارے خزانے انہی کے پاس ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا وہ تمہارے رب کی رحمت کے خزانچی ہیں وہ عزت والا بہت عطا فرمانے والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب ہے بہت عطا فرمانے والا ہے؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا انھی کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں، جو سب پر غالب ہے، بہت عطا کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا ان کے پاس آپ کے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں جو ہر چیز پر غالب اور سب کو عطا کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تریے رب عزیز و وہاب کے فضل کے خزانے انہی کی تحویل میں ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ جو کہ سب پر غالب سب کو دینے والا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ان لوگوں نے پاس خزانے ہیں ان کے پروردگار زبردست و فیاض کی رحمت کے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا ان کے اختیار میں ہیں آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ؟ جو بہت زبردست بہت عطا کرنے والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ان کے پاس تمہارے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو غالب اور بہت عطا کرنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do they possess the treasures of your Lord, the Most Mighty, the Great Bestower?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do they have the treasures of the mercy of your Lord, the Mighty, the Bountiful?

— Muhammad Taqi Usmani

Do they have the treasures of the mercy of your Lord, the Mighty, the Bountiful?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or have they the treasures of the mercy of your Lord, the Almighty, the Real Bestower

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or are theirs the treasures of the mercy of thy Lord, the Mighty, the Bestower?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do they have the depositories of the mercy of your Lord, the Exalted in Might, the Bestower?

— Saheeh International

Do they possess the treasures of the mercy of your, (Muhammad's), Lord, the Majestic and Munificent God?

— Muhammad Sarwar

Or is it that they have the treasures of the mercy of your Lord, the Mighty, the great Giver?

— Muhammad Habib Shakir

Or, are with them the treasures of the mercy of thy Lord, the Bestower?

— Abdul Majid Daryabadi

Or have they the treasures of the mercy of thy Lord,- the Exalted in Power, the Grantor of Bounties without measure?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–11

مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔ حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–9

سورة صٓ 10 با الفاظ دیگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ یہ لوگ دراصل تمہیں نہیں جھٹلا رہے ہیں بلکہ مجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تمہاری صداقت پر تو پہلے کبھی انہوں نے شک نہیں کیا تھا۔ آج یہ شک جو کیا جا رہا ہے یہ دراصل میرے " ذکر " کی وجہ سے ہے۔ میں نے ان کو نصیحت کرنے کی خدمت جب تمہارے سپرد کی تو یہ اسی شخص کی صداقت میں شک کرنے لگے جس کی راستبازی کی پہلے قسمیں کھایا کرتے تھے۔ یہی مضمون سورة انعام آیت 33 میں بھی گزر چکا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، ص 534)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–11

(آیت) وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ الخ (اور ان کفار کے رئیس یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ الخ) اس سے مذکورہ واقعہ ہی کی طرف اشارہ ہے کہ توحید کی دعوت سن کر وہ مجلس سے چل کھڑے ہوئے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

امرعندعم خزن رحمۃ ربک العزیز الوھاب (9) رعونت کا جواب یہ ان کی اس رعونت کا جواب ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہے کہ یہ اپنے سوا خدا کے کسی فضل و رحمت کا حقدار کسی کو نہیں سمجھتے، گویا اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام خزانوں کی کنجیاں انہی کو پکڑا دی ہیں کہ یہ جس کو چاہیں دیں اور جس جو چاہیں محروم رکھیں۔ چناچہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ ان کے دائرہ سے باہر اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت و رسالت اور قرآن و کتاب کا حامل کس طرح بنا سکتا ہے ! انہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ عزیز اور وہاب یعنی اپنے تمام خزانوں کا بلا شرکت غیرے مالک و مصرف اور بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ اپنے ان بندوں کو بھی بڑی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 کہ جس کو چاہیں دیں اور جس چاہیں نہ دیں، انہی خزانوں میں نبوت بھی ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے، بلکہ رب کے خزانوں کا مالک وہی وہاب ہے جو بہت دینے والا ہے، تو پھر انہیں نبوت محمدی سے انکار کیوں ہے ؟ جسے اس نوازنے والے رب نے اپنی رحمت خاص سے نوازا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–9

3: یعنی آنحضرت ﷺ ان باتوں کے ذریعے (معاذاللہ) اپنا اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 9 یہ ان کو سخت تنبیہہ ہے کہ ان کی یہ باتیں بارگاہ عزت میں صریح گستاخی ہیں ۔ یہ ان معاملات میں ٹانگ اڑا رہے ہیں جن میں مداخلت کرنے کا ان کو کوئی حق نہیں ہے۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ کسی پر فضل کرتا ہے یا کسی سے اپنے فضل کو روکتا ہے۔ وہ غالب ہے ، قدرتوں والا ہے ' کوئی شخص اس کے ارادے کے سامنے بطور رکاوٹ کھڑا نہیں رہ سکتا ۔ وہ داتا ہے ، سخی ہے اور اس کی راد وہش کی کوئی حد نہیں ہے۔ یہ لوگ اس بات پر چیں بجبیں ہیں کہ حضرت محمد ﷺ رسول بنادیئے گئے ہیں۔ کیا اللہ کی کرم نوازیوں کی تقسیم ان کے ہاتھ میں ہے ؟ کیا اللہ کے خزانے ان کے چارج میں ہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 9–10

2 یعنی رحمت کے خزانے اور آسمان و زمین کی حکومت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ زبردست ہے اور بڑی بخشش والا ہے جس پر جو انعام چاہے کرے کون روک سکتا ہے یا نکتہ چینی کرسکتا ہے۔ اگر وہ اپنی حکمت و دانائی سے کسی بشر کو منصب نبوت و رسالت پر سرفراز فرماتا ہے تو تم دخل دینے والے کون ہو کہ صاحب اس پر یہ مہربانی فرمائی ہم پر نہ فرمائی۔ کیا رحمت کے خزانوں اور زمین و آسمان کی حکومت کے تم مالک و مختار ہو جو اس قسم کے لغو اعتراضات کرتے ہو۔ اگر ہو تو اپنے تمام اسباب و وسائل کو کام میں لے آؤ۔ اور رسیاں تان کر آسمان پر چڑھ جاؤ۔ تاکہ وہاں سے محمد ﷺ پر وحی کا آنا بند کرسکو اور علویات پر قابض ہو کر اپنی مرضی و منشاء…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 { اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَہَّابِ } ”کیا ان کے اختیار میں ہیں آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ؟ جو بہت زبردست ‘ بہت عطا کرنے والا ہے۔“ کیا اللہ کی رحمت کے خزانوں کا اختیار ان لوگوں کے پاس ہے ؟ کیا اللہ ان لوگوں سے پوچھنے کا مکلف تھا کہ میں نبوت اور رسالت کے منصب پر کسے فائز کروں ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 جواب : کیا یہ اپنے آپ کو اللہ کی رحمت کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں : اللہ کی رحمت کے خزانوں کے یہ تو مالک نہیں کہ جس کو چاہیں اسے رسالت کے منصب پر فائز کردیں۔ اور جس سے چاہیں چھین لیں۔ یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کا ہے جو ہر ایک کو دے رہا ہے اور جونسی نعمت جسے چاہتا ہے اسے ہی دیتا ہے۔ اس کے کاموں میں کسی کو مداخلت کی ہمت نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ (اور نبوت بھی کیا ان کے قبضہ قدرت میں ہے، کہ جسے چاہیں اسے اس سے نواز دیں ؟ ) نبوت کی عظمت واہمیت اسی سے ظاہر ہے کہ اسلامی عقیدہ میں اسی پر تکوینی حیثیت سے دارومدار نظام عالم کا ہے۔ چناچہ جس وقت کوئی مومن یعنی نبی پر ایمان رکھنے والاسطح زمین پر نہ رہے گا، اس کائنات کا نظم بھی ختم ہوجائے گا، اور قیامت آجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام عندھم خزآئن رحمۃ ربک العزیز الوھاب کیا ان لوگوں کے قبضہ میں آپ کے فیاض غالب (کل) پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں (کہ جس کو چاہیں ‘ دیں اور جس کو نہ دینا چاہیں ‘ نہ دیں) ۔ رحمت رب ‘ یعنی نعمت رب ‘ مراد نبوت کے خزانے یعنی ان کے پاس نبوت کے خزانے ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دے دیں۔ سوال انکاری ہے ‘ یعنی ایسا نہیں ہے بلکہ نبوت ایک عطیہ خداوندی ہے ‘ جس بندہ کو چاہتا ہے ‘ اللہ اپنی مہربانی سے عطا فرماتا ہے ‘ اس کی عطا کو کوئی روک نہیں سکتا۔ العزیز سب پر غالب ‘ جس پر کوئی غالب نہیں۔ الوھّاب بڑا داتا کہ جس کو جو کچھ دینا چاہتا ہے ‘ دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیا ان کفار کے قبضہ میں نبوت و کتابیں ہیں کہ جس کو یہ چاہیں سو دیں۔ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ جو ایمان نہ لائے اس کو پکڑنے میں غالب ہے اور زبردست فیاض ہے کہ محمد کو کتاب و نبوت عطا کی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ : یہ ان کی اس بات کا جواب ہے کہ ہم میں سے اسی پر یہ ذکر کیوں نازل کیا گیا۔ فرمایا، کیا تیرے عزیز و وّہاب رب کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں کہ جس کو جو نعمت چاہیں دیں، جسے چاہیں نہ دیں اور جسے یہ چاہیں اسے نبوت کا بلند منصب عطا کریں ؟ نہیں، ہرگز نہیں ! بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے خزانوں کا اکیلا خود مالک ہے، اپنی رسالت کے لیے جسے چاہتا ہے چُن لیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے۔ اب اگر اس نے اپنی نعمت رسالت کے لیے آپ کو چنا ہے تو یہ حسد کیوں کرتے ہیں ؟ اس اعتراض کا یہی جواب سورة انعام (124) اور زخرف (31، 32) میں دیا گیا ہے، جیسا کہ اس سے پہلی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

6 ۔ 11:۔ الملاء کا معنی اشراف ہیں انطلق کا معنی تیز سے جان ہے یعنی یہ کفار رسول ﷺ کے پاس سے نکلے وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے جس طریقہ پر تم پہلے ہو اسی پر گامزن رہو اور اس کے دین میں داخل نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ابو طالب بن ہشام ‘ شیبہ اور عتبہ جور بیعہ بن عبد شمس کے بیٹھے تھے امیہ بن خلف ‘ عاص بن وائل اور ابو معیط تھے وہ ابو طالب کے پاس آئے تھے انہوں نے کہا : تو ہمارا سردار ہے اور ہمارے بارے میں بہتر انصاف کرنے والا ہے اپنے بھتیجے اور اس کے ساتھ جو بیوقوف لوگ ہیں ان کے ساتھ ہمارے بارے میں معاملات اپنے ہاتھ میں لیں انہوں نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے دین میں طعن کیا۔ ابو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–16

:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ عِنْدَهُمْ [کیا ان کے پاس ] خَزَاۗىِٕنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ [آپ ﷺ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں ] الْعَزِيْزِ [جو بالادست ہے ] الْوَهَّابِ [بار بار بخشش کرنے والا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآءِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَھَّابِ ) (کیا ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو بہت عزت والا ہے بہت عطا فرمانے والا ہے) یعنی یہ لوگ جو یوں کہہ رہے ہیں کہ ہمیں چھوڑ کر اس شخص کو کیوں پیغمبری ملی اور اس پر قرآن کیوں نازل ہوا انہیں یہ بات کہنے اور اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ عزیز ہے وہاب ہے وہ اپنی رحمت سے جس کسی کو جو چاہے عطا فرما دے نبوت اور رسالت بھی اس کا ایک عطیہ ہے اس نے اپنی حکمت کے مطابق جیسے چاہا نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا، ان لوگوں کو نہ کوئی اختیار ہے نہ پروردگار عالم جل مجدہٗ کے خزانوں کے مالک ہیں انہیں یہ بات کہنے کا کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–16

تنبیہ وتوبیخ برانکار رسالت سید المرسلین ﷺ ومقابلہ قدرت رب العالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ ، (آیت ) ”۔ ء انزل علیہ الذکر ...... الی ....... قبل یوم الحساب “۔ کفار مکہ کے دوسرے شبہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا نازل کیا گیا ہے یہ ذکر اور کتاب نصیحت یعنی قرآن ہم سب میں سے صرف اسی شخص پر حالانکہ نہ یہ کوئی دولت مند ہے اور نہ کسی بستی کا سردار ہے حقیقت اس طرح نہیں ہے کہ اگر انکی خواہش کے مطابق قرآن کسی بستی کے سردار یا دولت مند پر اتارا جاتا تو یہ لوگ اسکی اتباع کرلیتے جیسے ان کا یہ قول قرآن کریم نے نقل کیا (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12: ام عندھم الخ : یہ مشرکین کے قولء انزل علیہ الذکر الخ کا جواب ہے یہ لوگ ایسے بلند بانگ دعوے کرتے اور اپنے سے بڑا کسی کو نہیں سمجھتے کیا اللہ کی رحمت کے خزانے ان کے قبضہ میں ہیں اور کیا اللہ کی رحمت کی تقسیم ان کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے مستحق سمجھیں اسے نبوت عطا کریں۔ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–16

ربط آیات : گذشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا جب اللہ نے نبی نے ان کو کفر اور شرک سے منع کرکے توحید کا درس دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور تعجب کرنے لگے کہ کہا کہ کیا ہم بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود پر اکتفا کرلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر وہ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس شخص کی دعوت خود غرضی پر مشتمل ہے لہذا اس کی بات نہ ماننا اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہنا کہنے لگے یہ اس شخص کی من گھڑت بات ہے جو ہم نے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنی (رسالت پر اعتراض) گذشتہ درس میں مشرکین کی طرف سے توحید کے انکار کا بیان تھا اب آج کی آیات میں رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَحْمَۃِ رَبِّكَ الْعَزِيْزِ الْوَہَّابِ۝ 9ۚ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ خزن الخَزْنُ : حفظ الشیء في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–15

ترکیب : جند مبتدء و ما للابہام کقولہ جئت لا مر ما ومن الاحزاب صفت لجند و مہزوم خبر ھنالک یجوزان یکون صفۃ لجند ای جند ثابت ھنالک ویجوزان یکون متعلقا بمھزوم معناہ ان الجند من الاحزاب مھزوم ھنالک ای فی ذلک الموضع۔ تفسیر : اس شبہ کا جواب خدا تعالیٰ کئی طرح سے دیتا ہے۔ اول بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب ذکری سے مراد دلائل کہ انہوں نے دلائلِ نبوت میں غور و فکر نہ کیا۔ ورنہ یہ شبہ زائل ہوجاتا اور غور و تامل نہ کرنا یوں ہی شک کرلینا، ان کو اس لیے ہوا کہ ابھی میرا عذاب نہیں چکھا یعنی دنیا میں کوئی اس کی سزا ان کو نہیں ملی، اگر ایسا ہو تو شک جاتا رہے۔ انسان یونہی بیجا حجتیں کیا کرتا ہے، مگر جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآئِنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِالْوَھَّابِ ۔ (صٓ: 9) (کیا تیرے رب کی رحمت کے خزانے جو عزیز اور وہاب ہے ان کے قبضے میں ہیں۔ ) قریش کی رعونت کا جواب سابقہ آیت کریمہ میں قریش اور دیگر مخالفین نے آنحضرت ﷺ کو نبوت دیئے جانے پر جو اعتراض کیا تھا پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا جواب دیا گیا ہے۔ یعنی ان لوگوں کا یہ کہنا کہ نبوت اور رسالت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور اور بہت بڑے منصب ہیں۔ ان کا اہل اگر کوئی ہوسکتا ہے تو صرف وہ شخص ہوسکتا ہے جو لوگوں کی نگاہ میں عزت سے دیکھا جاتا ہو۔ اور جس کے سر پر دولت کا تاج ہو اور جسے انسانی معاشرے میں بڑی قدرومنزلت حاصل ہو۔ اس کے جواب میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–10

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرک تکبر کی بنیاد پر اللہ کی وحدت اور نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے اور اس کے لیے لیڈر عوام کو روکتے تھے۔ کفار کی اکثریت یہ بات جانتی تھی کہ پہلی امتوں میں جو رسول بھیجے گئے وہ اپنی قوم کے ایک فرد ہی ہوا کرتے تھے۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجودکفار پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے پیغام اور کام کے لیے کسی انسان کو منتخب کرے اگر اس نے کسی انسان کو ہی رسول بنانا ہوتا تو ایسے شخص کو کیوں منتخب کرتا جو مالی لحاظ سے کنگال اور سماجی اعتبار سے یتیم ہے۔ فی الواقع لوگوں میں ہی کسی کو رسول منتخب کرنا ہوتا تو وہ مکہ کے سرداروں یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9: اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآپنُ رَحْمَۃِ رَبِّکَ الْعَزِیْزِ الْوَھَّابِ (کیا ان کے پاس آپ کے پروردگار فیاض کی رحمت کے خزانے ہیں) یعنی وہ خزائن رحمت کے مالک نہیں تاکہ وہ جس کو چاہیں بانٹ دیں۔ یا ان کو خرچ کر ڈالیں جن پر پسند کریں اور بعض سرداروں کو نبوت کیلئے منتخب کریں اور اس سے محمد (ﷺ) سے اونچے ہوجائیں بلاشبہ جو رحمت اور اس کے خزائن کا مالک ہے وہ غالب اور اپنی مخلوق پر زبردست ہے۔ الوہابؔ بہت عطاء کرنے والا۔ اور مواقع پر عطا یا پہنچانے والا وہ عطاء جس کو اپنی حکمت کے تقاضوں سے تقسیم کرتا ہے۔ پھر اسی معنی پر ترشیح کرتے ہوئے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 9۔ ، ام عندھم، کیا تمہارے پاس ، خزائن رحمۃ ربک ، تمہارے رب کی طرف سے نعمت ، اس سے مراد نبوت کے خزانے ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دے دیں۔ ، العزیز الو ھاب ، سب پر غالب جس پر کوئی غالب نہیں ۔ وہاب وہ بڑا داتا جس کو جو کچھ دینا چاہتا ہے دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–15

8۔ 15۔ قرآن شریف کے جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین مکہ ایک یہ بات بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ یا عمرو بن مسعود ایسے مال دار شخص پر نازل ہوتا۔ ان مال دار شخصوں کو چھوڑ کر محمد ؓ جیسے تنگ دست پر کلام الٰہی کا اترنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ جب تک ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کے طور پر کوئی آفت ان پر نہیں آتی۔ اس وقت تک یہ لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے میں ایسی ہی شک و شبہ کی باتیں کرتے رہیں گے۔ ہاں جب کوئی آفت آسمانی ان پر آجاوے تو ان کا یہ سب شک و شبہ جاتا رہے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

12 منکرین کے دلوں پر ایک دستک : سو منکرین کے دلوں پر دستک دینے اور ان کے ضمیروں کو جھنجوڑنے کے لیے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو کہ سب پر غالب اور سب کو دینے بخشنے والا ہے ؟ یا انکے پاس آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی بادشاہی ہے ؟ "۔ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ان کو آپ ﷺ کے رب کی تقسیم و عطا پر سوال و اعتراض کا کیا حق ہوسکتا ہے ؟ وہ جس کو چاہے نبوت و رسالت کے شرف سے نوازے کہ وہی جانتا ہے کہ اس شرف عظیم اور منصب جلیل کا اہل کون ہوسکتا ہے ۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ } ۔ (الانعام : 124) ۔ سو نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–26

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة ص رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14 اسرار و معارف : ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 کہ جس کو جو نعمت چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی نعمتوں کے خزانوں کا خود مالک ہے تو وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم رکھتا ہے۔ اب اگر اس نے اپنی نعمت و رسالت سے آپ ﷺ کو سرفراز فرمایا ہے تو یہ کیوں حسد کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:9) خزائن رحمۃ ربک ترکیب اضافی ہے۔ تیرے رب کی رحمت کے خزانے۔ رب کی اضافت واحد مذکر حاضر۔ (حضرت رسول کریم کی طرف) شرف و لطف الٰہی کی مظہر ہے۔ العزیز۔ زبردست ، غالب، قوی۔ عزۃ سے فعیل کے وزن پر بمعنی فاعل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ الوھاب ۔ وھب وھبۃ مصدر۔ باب فتح سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ بہت عطا کرنے والا۔ دونوں ربک کی صفت ہیں۔ رحمۃ ربک تعالیٰ ویتصرفون فیہا حسبما یشاء ون۔ (بلکہ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے خزانے ان کی ملکیت ہیں کہ جیسے چاہیں تصرف میں لاویں) ۔ یہاں اضراب کے ساتھ استفہام انکاری بھی شامل ہے۔ اس کی مثال قرآن مجید میں اور جگہ ہے :۔ ام لہ البنات ولکم النبون ۔ (52:39) ای بل الہ البنات ولکم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–15

خدا پر اعتراض کرنا۔ (ف 1) قرآن شریف کو جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف میں اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود ایسے مالدار شخص پر نازل ہوتا، یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا، کیا سارے جہان میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا، جس پر اپنا کلام نازل کرتا، اس کا جواب اللہ نے یہ دیا بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکالگا ہوا ہے وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جارہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–10

[5] یعنی نصرانی بھی تین الہٰوں کے قائل ہیں اور یہ شخص ایک ہی اِلٰہ بتاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–15

نبوت کا استحقاق 1: جیسا کہ بتایاجاچکا ہے ۔ مکہ والوں کو سب سے زیادہ غصہ اس بات پر تھا ۔ کہ اگر نبوت ایک انعام ہے تو ہم اس سے کیوں محروم ہیں ؟ کیوں ہماری عزت وجاہت کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ کیوں ہمارے شرف ومجد کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اور کیوں ایسا ہوا ہے کہ ہم سے اس آدمی کو سعادت کے لئے چن لیا گیا ہے ۔ جو کسی طرح بھی مال و دولت کے اعتبار سے یا اعوان وانصار کے لحاظ سے ہم سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ۔ اس استدلال سے ان کی غرض یہ تھی ۔ کہ شروع ہی سے حضور ﷺ کا دعویٰ غلط ہے ۔ اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی ۔ تو پھر ہمیں عہدہ نبوت پر فائز ہونا چاہیے تھا ۔ خدا ایسا نا منصف نہیں ہے کہ اکابر اور مشاہیر کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) کیا اے پیغمبر آپ کا پروردگا جو کمال قوت اور کمال عطا کا مالک ہے اس کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ جو کہتے تھے کہ ہم پر کیوں نے اترا۔ خلاصہ : یہ ہے کہ اس وہاب اور عزیز کی رحمت کے خزانے کیا ان کے پاس ہیں کہ یہ جس چاہیں نبوت دیں رحمت جس میں نبوت داخل ہے اس کے خزانے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں وہ جس کو چاہے عطا کرے وہ خزانے ان کے اختیار میں ہوتے تو ان سے پوچھ کر تقسیم کئے جاتے۔ رحمت کا لفظ قرآن میں عام طور سے روحانی ترقی اور برتری کے لئے استعمال ہوتا ہے جس طرح فضل کا لفظ دنیاوی ترقی اور مال کے اضافہ کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی لئے ہم نے عرض کیا کہ رحمت میں نبوت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–10

ف 4۔ یعنی نبوت ایک امر عظیم ہے، اس کے عطا کے لئے معطی کا مالک الخزائن اور شدید الغلبہ اور کثیر المواہب ہونا لازم ہے۔ سو اس طرح اگر یہ ان کے اختیار میں ہوتا تو ان کو اس کہنے کی گنجائش تھی کہ ہم نے بشر کو نبوت نہیں دی، پھر وہ نبی کیسے ہوگیا، یا ہم نے فلان بشر کو دی اور فلان کو نہیں دی، اس صورت میں یہ کہنا ان کا زیبا تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا اللہ کی بخشش و رحمت کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہیں 9 : مال و دولت ، عزت واقتدار ، برادری ، خاندان اور اولاد جس طرح اللہ کی رحمت ہے بالکل اسی طرح آزمائش خداوندی بھی ہے اسی لیے قرآن کریم نے اس ساری چیزوں کو اللہ کے انعامات سے بھی تعبیر کیا ہے اور فتنہ و آزمائش سے بھی ، اس پر دنیاوی عیش و عشرت اور خوشحالیوں کو قا اس کرلو لیکن نبوت ور سالت جب تک جاری تھی تو وہ اللہ تعالیٰ کی سراسر رحمت اور شفقت ہی تھی اس کو فتنہ و آزمائش نہیں کہا جاسکتا ہے اس لیے یہ وہ رحمت و عنایت تھی جو رحمت ہی رحمت تھی۔ زیر نظر آیت میں یہی بیان کیا گیا ہے کہ رحمت کے خزانوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہر ہے کہ جو مالک ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–11

In verse 6, it was said: وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُ‌وا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ (And the leaders among them went forth saying (to their followers)," Walk away (from the Prophet) and stay firm on (adhering to) your gods - 12). This is pointing out to the event mentioned above that, once they heard the call to pure monotheism (tauhid), they left the meeting.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

10 In other words Allah says: " Muhammad, these people are not belying you but Me. As for your truthfulness, they had never doubted it before; now that they are doubting it, it is because of My Admonition; now that I have entrusted to you the Mission of admonishing them, they have started doubting the truthfulness of the very person whose righteousness and piety they used to swear by " The same theme has also been discussed above in Al-An'am: 33 and E.N. 21 thereof.

Read the full tafseer →