Explained with ayahs 4–11
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔
حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة صٓ 10
با الفاظ دیگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ یہ لوگ دراصل تمہیں نہیں جھٹلا رہے ہیں بلکہ مجھے جھٹلا رہے ہیں۔ تمہاری صداقت پر تو پہلے کبھی انہوں نے شک نہیں کیا تھا۔ آج یہ شک جو کیا جا رہا ہے یہ دراصل میرے " ذکر " کی وجہ سے ہے۔ میں نے ان کو نصیحت کرنے کی خدمت جب تمہارے سپرد کی تو یہ اسی شخص کی صداقت میں شک کرنے لگے جس کی راستبازی کی پہلے قسمیں کھایا کرتے تھے۔ یہی مضمون سورة انعام آیت 33 میں بھی گزر چکا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، ص 534)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
(آیت) وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ الخ (اور ان کفار کے رئیس یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ الخ) اس سے مذکورہ واقعہ ہی کی طرف اشارہ ہے کہ توحید کی دعوت سن کر وہ مجلس سے چل کھڑے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
ماسمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ ان ھذا الا احتلق (7)
عرب کی تاریخ سے متعلق قرآن اور قریش کے نقطہ نظر کا اختلاف
یہ قریش کی طرف سے اس تاریخ کی تردید ہے جو آنحضرت ﷺ ملت عرب کی بیان فرماتے۔ آپ نے حضرت نوح ؑ سے لے کر سیدنا حضرت ابراہیم ؑ اور بعد کے انبیاء کی تاریخ سے یہ واضح فرما دیا تھا کہ ان تمام انبیاء نے توحید خالص کی تعلیم دی، خاص کر حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم دعوت اور حضرت اسماعیل اور بیت اللہ کی جو تاریخ قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اس کا مقصد عربوں پر اسی حقیقت کو اضح کرنا تھا کہ ان کی ملت کی اصل تاریخ حضرت ابراہیم ابراہیم ؑ و حضرت اسماعیل سے شروع ہوتی ہے اور ان بزرگ نبیوں نے اپنی اولاد…
Read the full tafseer →8۔ 1 یعنی مکہ میں بڑے بڑے چودھری اور رئیس ہیں، اگر اللہ کسی کو نبی بنانا ہی چاہتا تو ان میں سے کسی کو بناتا۔ ان سب کو چھوڑ کر وحی رسالت کے لئے محمد ﷺ کا انتخاب بھی عجیب ہے ؟ یہ گویا انہوں نے اللہ کے انتخاب میں کیڑے نکالے۔ سچ ہے خوئے بد را بہانہ بسیار۔ دوسرے مقام پر بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے مثلاً سورة زخرف۔ 31، 32۔
8۔ 2 یعنی ان کا انکار اس لئے نہیں ہے کہ انہیں محمد ﷺ کی صداقت کا علم نہیں ہے یا آپ کی سلامت عقل سے انہیں انکار ہے بلکہ یہ اس وحی کے بارے میں ہی شک میں مبتلا ہیں جو آپ پر نازل ہوئی، جس میں سب سے نمایا توحید کی دعوت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
3: یعنی آنحضرت ﷺ ان باتوں کے ذریعے (معاذاللہ) اپنا اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 8 (1)
یہ کوئی قابل تعجب بات تو نہ تھی مگر اکابرین قریش حسد میں مبتلا تھے۔ اس حسد کی وجہ سے وہ غرور ' دشمنی اور کنیہ پر اتر آتے تھے۔ ابن اسحاق نے محمد ابن شہاب زہری سے نقل کیا ہے کہ ایک بار ابوسفیان ابن حرب ، ابوجہل ابن ہشام اور اجس ابن شریق ابن عمرو ابن وہب ثقفی حلیف بنی زہرہ رات کے وقت نکلے کہ قرآن سنیں۔ حضور ﷺ رات کے وقت نماز میں قرآن کریم پڑھا کرتے تھے۔ ان تینوں میں سے ہر شخص دوسرے سے بیخبر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گیا۔ رات دیر تک یہ سنتے رہے۔ جب سپیدہ صبح نمودار ہوئی تو یہ اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوئے ۔ راستے میں وہ اتفاقاً مل گئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو خوب ملامت کی۔ انہوں نے ایک…
Read the full tafseer →9 یعنی اچھا قرآن کو اللہ کا کلام ہی مان لو اور یہ بھی نہ سہی کہ آسمان سے کوئی فرشتہ نبی بنا کر بھیجا جاتا مگر یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا۔ کیا سارے ملک میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے ؟ اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا جس پر اپنا کلام نازل کرتا۔
10 یہ حق تعالیٰ کی طرف سے ان کی نامعقول یادہ گوئی کا جواب ہوا۔ یعنی ان کی یہ خرافات کچھ نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکا لگا ہوا ہے۔ وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جا رہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا۔ کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ نہیں چکھا۔ جس وقت…
Read the full tafseer →آیت 8 { ئَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْم بَیْنِنَا } ”کیا اسی پر نازل ہوا ہے یہ ذکر ہمارے درمیان ؟“
اگر یہ واقعی اللہ کا کلام ہے تو کیا یہ محمد ﷺ پر ہی نازل ہونا تھا ‘ کیا اس کے لیے اللہ کو ہمارے بڑے بڑے سرداروں اور سرمایہ داروں سے کوئی ”اعلیٰ شخصیت“ نظر نہیں آئی ؟
{ بَلْ ہُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ ذِکْرِیْ } ”بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ میرے ذکر کے معاملے میں شک میں پڑگئے ہیں۔“
{ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ } ”بلکہ ابھی تک انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔“
اصل بات یہ ہے کہ ابھی تک انہوں نے میرے کسی عذاب کی مار نہیں چکھی ‘ اس لیے انہیں میرے اس کلام کے بارے میں شک ہے۔
Read the full tafseer →8 قریش کا قول کہ کیا نبوت کے لئے یہی شخص رہ گیا تھا ؟: دنیا دار لوگوں کے نزدیک کسی شخص کی عظمت کو ماپنے کا پیمانہ مال و دولت ہوتا ہے یا جاہ منصب۔ اسی خیال سے کفار مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر اللہ نے ہم میں سے کسی بشر کو ہی رسول بنانا تھا تو کیا اللہ تعالیٰ کو یہی شخص رسالت کے لئے ملا تھا کیا سرداران قریش مرگئے تھے ؟ اگر بنانا ہی تھا تو مکہ اور طائف کے لوگوں میں سے کسی رئیس کو اپنا رسول بناتا۔ بالفاظ دیگر ان کا اصل اعتراض یہ تھا کہ اللہ میاں نے رسالت کا منصب سونپتے وقت ہم سے مشورہ کیوں نہیں لیا ؟۔
9 بات یوں نہیں بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ لوگ سرے سے آپ کی رسالت ہی کے منکر ہیں جس کا…
Read the full tafseer →10۔ یعنی بالفرض نبوت یا پیغمبری کی کچھ اصلیت ہوتی بھی، تو پیغمبری ہمارے ہاں کے رؤسا وامراء کے ہوتے ہوئے آخر یتیم ونادار شخص کو کیوں ملی ! اہل لطائف نے کہا ہے کہ منشاء اس قول کا کبر تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کبرایسی بری چیز ہے جو کبھی کفر تک بھی پہنچا دیتی ہے۔
11۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ انکار کا باعث محمد ﷺ کی شخصی تکذیب نہیں، بلکہ یہ اصل مسئلہ وحی میں بھٹک رہے ہیں، اور خود اس کی بنیاد عذاب الہی سے غفلت پر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…
Read the full tafseer →ء انزل علیہ الذکر من بیننا کیا ہم سب میں سے اس پر یہ نصیحت نامہ (یعنی قرآن) اتارا گیا ؟
یعنی یہ شخص نہ تو ہمارا بزرگ اور شیخ ہے ‘ نہ مال و عزت میں ہم سے زائد ہے ‘ پھر اس پر نزول قرآن ہوا ؟ یہ عجیب بات ہے ‘ ہم نہیں مان سکتے۔
بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب بلکہ یہ لوگ خود میری وحی کی طرف سے شک (یعنی
انکار) میں ہیں ‘ بلکہ (اصل وجہ یہ ہے کہ) انہوں نے اب تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔
یعنی قرآن کی طرف سے ان کو شک ہے ‘ کیونکہ قرآن لانے ولے کو یہ جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ بَلْ کا لفظ انکار سے اعراض اور شک کے اثبات کو ظاہر کر رہا ہے ‘ کیونکہ وہ لوگ تقلید اسلاف کی طرف جھکے ہوئے اور یقینی دلائل سے…
Read the full tafseer →کیا ہم سب میں سے اسی میں کوئی خصوصیت تھی کہ اسی کو نبوت ملی اور اسی پر کتاب نازل ہوئی ؟ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کفار مکہ خود ہی میری کتاب اور میرے نبی کی نبوت کے بارے میں شک میں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا اسی بنا پر جھٹلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا : یہ ہے وہ اصل بات جس سے ان کے نبی ﷺ کی نبوت تسلیم نہ کرنے کی وجہ ظاہر ہو رہی ہے اور وہ ہے آپ ﷺ پر حسد اور حسد کی وجہ سے عداوت کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سرداروں اور چودھریوں کو چھوڑ کر آپ ﷺ کو اس بلند منصب کے لیے کیوں چنا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس حسد اور عداوت کا کئی جگہ ذکر فرمایا اور اس کا رد فرمایا، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ۂاَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) [ الأنعام : 124 ] ”اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 ۔ 11:۔ الملاء کا معنی اشراف ہیں انطلق کا معنی تیز سے جان ہے یعنی یہ کفار رسول ﷺ کے پاس سے نکلے وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے جس طریقہ پر تم پہلے ہو اسی پر گامزن رہو اور اس کے دین میں داخل نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ابو طالب بن ہشام ‘ شیبہ اور عتبہ جور بیعہ بن عبد شمس کے بیٹھے تھے امیہ بن خلف ‘ عاص بن وائل اور ابو معیط تھے وہ ابو طالب کے پاس آئے تھے انہوں نے کہا : تو ہمارا سردار ہے اور ہمارے بارے میں بہتر انصاف کرنے والا ہے اپنے بھتیجے اور اس کے ساتھ جو بیوقوف لوگ ہیں ان کے ساتھ ہمارے بارے میں معاملات اپنے ہاتھ میں لیں انہوں نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے دین میں طعن کیا۔ ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ [کیا اتارا گیا اس پر ] الذِّكْرُ [اس نصیحت کو ] مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ [ہمارے درمیان سے ] بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ [بلکہ یہ لوگ شک میں ہیں ] مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ [میری نصیحت سے ] بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا [بلکہ انھوں نے ابھی تک نہیں چکھا ] عَذَابِ [میرے عذاب کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
مشرکین مکہ نے مزید کہا (مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ ) (ہم نے یہ بات کسی دوسرے دین میں نہیں سنی) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے دین نصاری مراد ہے اس وقت تک ادیان سماوی میں وہی آخری دین تھا جس میں نصاریٰ نے تحریف و تغییر کرلی تھی اور مشرکین مکہ نصاریٰ کی باتیں سنتے رہے تھے اس لیے انہوں نے یہ بات کہی، نصاریٰ نے اپنے دین کو بدل دیا تھا توحید سے منحرف ہو کر تین خدا ماننے لگے تھے۔
ان لوگوں نے یہ بھی کہا (اِنْ ھٰذَا اِِلَّا اخْتِلاَقٌ) (یہ جو توحید والی بات کہتے ہیں بالکل ہی گھڑی ہوئی ہے) جس کو انہوں نے اپنے پاس سے بنالیا ہے، اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
تنبیہ وتوبیخ برانکار رسالت سید المرسلین ﷺ ومقابلہ قدرت رب العالمین :۔
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت ) ”۔ ء انزل علیہ الذکر ...... الی ....... قبل یوم الحساب “۔ کفار مکہ کے دوسرے شبہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا نازل کیا گیا ہے یہ ذکر اور کتاب نصیحت یعنی قرآن ہم سب میں سے صرف اسی شخص پر حالانکہ نہ یہ کوئی دولت مند ہے اور نہ کسی بستی کا سردار ہے حقیقت اس طرح نہیں ہے کہ اگر انکی خواہش کے مطابق قرآن کسی بستی کے سردار یا دولت مند پر اتارا جاتا تو یہ لوگ اسکی اتباع کرلیتے جیسے ان کا یہ قول قرآن کریم نے نقل کیا (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من…
Read the full tafseer →10:۔ ء انزل الخ : یہ بھی ان کے بض وحسد اور عناد پر مبنی ہے۔ کیا ہم سب میں سے یہی اس لائق تھا کہ اس کو نبوت دی جاتی اور اس پر قرآن نازل کیا جاتا۔ ہم ایسے اشراف اور عظماء میں سے کوئی بھی اس مرتبے کے لائق نہ تھا ؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا انکار محض حسد اور عناد کی وجہ سے تھا۔ وامثال ھذہ المقالات الباطلۃ دلیل علی ان مناط تکذیبہ لیس الا الھسد و قصر النظر علی حطام الدنیا (روح ج 23 ص 168) ۔
11: بل ھم الخ : یہ ماقبل مذکورہ امور سے اضراب ہے یعنی ان کی تکذیب کے اصل وجوہ وہ نہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ وہ تو محض تکذیب کے لیے جھوٹے بہانے ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ اس قرآن ہی کے بارے میں شک میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا جب اللہ نے نبی نے ان کو کفر اور شرک سے منع کرکے توحید کا درس دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور تعجب کرنے لگے کہ کہا کہ کیا ہم بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود پر اکتفا کرلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر وہ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس شخص کی دعوت خود غرضی پر مشتمل ہے لہذا اس کی بات نہ ماننا اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہنا کہنے لگے یہ اس شخص کی من گھڑت بات ہے جو ہم نے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنی
(رسالت پر اعتراض)
گذشتہ درس میں مشرکین کی طرف سے توحید کے انکار کا بیان تھا اب آج کی آیات میں رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →ءَ اُنْزِلَ عَلَيْہِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا 0 ۭ بَلْ ہُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ 0 ۚ بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ 8ۭ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
وعجبوا ان جاء الخ یہ کفار اس بات سے تعجب کرتے ہیں کہ انہی کی قوم اور جنس میں سے ایک شخص خدا کا رسول کیونکر ہوگیا۔ (یعنی محمد) اور اس کو جادوگر اور جھوٹا بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود یعنی اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے، ان بہت سے معبودوں کے مقابلہ میں اور ان کی جگہ ایک کو قائم کرتا ہے۔ یہ تعجب کی بات ہے، ایک شخص تمام کاروبار مخلوق کی نگرانی کاربراری کیونکر کرسکتا ہے ؟ یہ کہہ کر کفار کی جماعت اٹھ کھڑی ہوئی کہ اٹھ چلو اور اپنے معبودوں کو پوجے جائو، یہ ایک نئی بات ہے۔ پہلے ہم نے کسی سے نہیں سنی نہ کوئی پہلوں میں سے کہتا تھا اور کیا وجہ کہ ہم میں سے ذکر یعنی پیغمبری…
Read the full tafseer →ئَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ م بَیْنِنَا ط بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ ذِکْرِیْ ج بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ ۔ (صٓ: 8)
(کیا ہمارے درمیان میں سے اسی ایک شخص پر ذکر نازل کردیا گیا ؟ بلکہ یہ لوگ میرے ذکر پر شک کررہے ہیں، بلکہ اب تک انھوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ )
قریش کے پندار پر چوٹ
مشرکینِ مکہ کو جس طرح اسلام کے تصورتوحید کا شدت سے انکار تھا اسی طرح انھیں یہ بات بھی گوارا نہ تھی کہ وہ نبی کریم ﷺ کی رسالت کو تسلیم کریں۔ وہ اپنے جاہلانہ تصورات کے پیش نظر رسالت اور بشریت میں تضاد سمجھتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ انسانوں میں اللہ تعالیٰ کی پیغام بری کے لیے کسی فرشتے کو آنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرک تکبر کی بنیاد پر اللہ کی وحدت اور نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے اور اس کے لیے لیڈر عوام کو روکتے تھے۔
کفار کی اکثریت یہ بات جانتی تھی کہ پہلی امتوں میں جو رسول بھیجے گئے وہ اپنی قوم کے ایک فرد ہی ہوا کرتے تھے۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجودکفار پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے پیغام اور کام کے لیے کسی انسان کو منتخب کرے اگر اس نے کسی انسان کو ہی رسول بنانا ہوتا تو ایسے شخص کو کیوں منتخب کرتا جو مالی لحاظ سے کنگال اور سماجی اعتبار سے یتیم ہے۔ فی الواقع لوگوں میں ہی کسی کو رسول منتخب کرنا ہوتا تو وہ مکہ کے سرداروں یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے…
Read the full tafseer →8: ئَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ ( کیا اس شخص پر کلام الٰہی نازل کیا گیا) الذکر سے قرآن مراد ہے۔ مِنْم بَیْنِنَا (ہم سب میں سے) انہوں نے اشراف کے ہوتے ہوئے آپ کا اس شرف سے مختص ہوجانا عجیب خیال کیا۔ اور حسد کی وجہ سے آپ پر کتاب اترنے کو انوکھا قرار دیا۔
جواب : بَلْ ھُمْ فِیْ شَکٍّ مِّنْ ذِکْرِیْ (بلکہ یہ لوگ تو میری وحی کی طرف سے شک میں ہیں) ذکری سے قرآن مجید مراد ہے۔ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ (بلکہ انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزا چکھا نہیں) بلکہ ابھی تک انہوں نے میرا عذاب چکھا نہیں جب چکھ لیں گے۔ تو ان سے شک زائل ہوجائے گا۔ اور حسد کی دیوار گرجائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اسی وقت تصدیق…
Read the full tafseer →8، أأنزل علیہ الذکر، اس سے مراد قرآن ہے۔ ، من بیننا ، یعنی یہ نہ ہمارا بزرگ ہے اور نہ ہی مال وعزت والا یہ اہل مکہ کہتے تھے۔ ، بل ھم فی شک من ذکری، وہی اور جو چیز میرے اور پر اتری ہے اس میں یہ لوگ شک کرتے ہیں۔ بل لما یذو قوا عذاب ، انہوں نے ابھی تک میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا، اگر عذاب کا مزہ چکھ لیتے تو اس طرح نہ کہتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
8۔ 15۔ قرآن شریف کے جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین مکہ ایک یہ بات بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ یا عمرو بن مسعود ایسے مال دار شخص پر نازل ہوتا۔ ان مال دار شخصوں کو چھوڑ کر محمد ؓ جیسے تنگ دست پر کلام الٰہی کا اترنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ جب تک ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کے طور پر کوئی آفت ان پر نہیں آتی۔ اس وقت تک یہ لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے میں ایسی ہی شک و شبہ کی باتیں کرتے رہیں گے۔ ہاں جب کوئی آفت آسمانی ان پر آجاوے تو ان کا یہ سب شک و شبہ جاتا رہے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…
Read the full tafseer →10 منکرین کے کبر و غرور کا ایک اور نمونہ و مظہر : کہ ان کا کہنا تھا کہ کیا ہم میں سے یہ ذکر بس انہی پر اتارا جاتا تھا ؟ یعنی اگر بالفرض یہ نصیحت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو کیا اس کے لئے ہم سب کے درمیان بس یہی ایک صاحب رہ گئے تھے جن کے پاس نہ کوئی مال و دولت ہے اور نہ کرسی و اقتدار اور نہ کوئی دنیوی منصب و مقام۔ اس کے لئے ہمارے دنیادار سرداروں میں سے کسی کا انتخاب کیوں نہ کیا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَقَالُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْآنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ } ۔ (الزخرف : 31) ۔ سو ان بدبختوں کے کبر و غرور کا یہ ایک اور مظہر تھا کہ یہ لوگ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة ص
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14
اسرار و معارف :
ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی ہم میں بڑے بڑے رئیس اور شریف موجود ہیں، اگر خدا کو اپنا کلام اتارنا ہی تھا تو ان میں سے کسی پر اتررتا۔10 یعنی قطع نظر اس سے کہ کون پیغمبر ہوتا اور کون نہ ہوتایہ تو سرے سے نبوت و رسالت کے ہی قائم نہیں ہیں۔11 ” اس لئے اکڑنوں دکھا رہے ہیں، اگر عذاب کا مزہ چکھ لیتے تو دماغ درست ہوجاتا۔
Read the full tafseer →(38:8) علیہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب رسول کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔
الذکر : ای القران۔ پندنامہ۔ نصیحت نامہ۔ ذکری۔ میری وحی۔ لما بمعنی لم ہے ای لم یذوقوا۔ عذاب : ای عذابی۔ (انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزہ چکھا ہی نہیں)
آیت ہذا میں بل دو دفعہ استعمال ہوا ہے اور دونوں صورتوں میں بطور اضراب آیا ہے۔ بل ھم فی شک من ذکری میں اس بات سے اعراض ہے جو جملہ ما قبلء انزل علیہم الذکر من بیننا میں پائی جاتی ہے یعنی حسد۔ سرداران قریش حسدا یہ کہتے تھے کہ خدا نے اگر کوئی کلام نازل کرنا ہی تھا۔ تو سارے عرب اور مکہ و طائف میں اس نے آپ جناب کو کوئی منتخب کرلیا۔ جن کے پاس نہ مال و زر ہے نہ کوئی یارومدد گار ۔ ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
خدا پر اعتراض کرنا۔
(ف 1) قرآن شریف کو جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف میں اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود ایسے مالدار شخص پر نازل ہوتا، یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا، کیا سارے جہان میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا، جس پر اپنا کلام نازل کرتا، اس کا جواب اللہ نے یہ دیا بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکالگا ہوا ہے وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جارہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
[5] یعنی نصرانی بھی تین الہٰوں کے قائل ہیں اور یہ شخص ایک ہی اِلٰہ بتاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 1: وہ کہتے ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ بہت سے خداؤں کا کام تنہا ایک خدا کرسکے پھر جب انہوں نے یہ دیکھا کہ باوجود عجیب وحیرت کے محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ اور ان ہی کو منصب جلیلہ پر فائز کیا گیا ہے ۔ اور توحید کی طرف بلایا جارہا ہے تو ان کے اکابر نے عوام سے کہا ۔ کہ خبردار اس شخص کی باتوں میں نہ آجانا ۔ اور ایسا نہ ہو کہ تم اپنے خداؤں کو چھوڑ دو ۔ دیکھو اپنے بتوں کی عبادت پر قائم رہو ۔ پھر خود آپ ہی کہنے لگے ۔ کہ یہ عقیدہ تو کچھ ایسا ہے ۔ کہ پھیل کر رہے گا ۔ گویا ان کو اپنے عقیدہ کی کمزوری خوب معلوم تھی ۔ اور یہ محسوس کرتے تھے ۔ کہ اس کی خیر نہیں ہے ۔ یہ آج بھی غلط ہے ۔ اور کل بھی غلط ۔
Read the full tafseer →(8) کیا ہم سب میں سے اس شخص پر یہ کلام اور قرآن کریم نازل کیا گیا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ منکر میرے قرآن کریم کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ انہوں نے ابھی میررے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ یعنی ان کو ہم پر کیا فوقیت تھی کہ ہم سب میں سے اس کو نزول قرآن کا مستحق سمجھایا گیا رئوسائے قریش میں سے کسی رئیس پر یہ قرآن کیوں نازل نہیں کیا گیا اس پر کیوں نازل کیا گیا۔
یہ محض حسد کی وجہ سے کہتے ہیں ورنہ واقعہ یہ ہے کہ میرے کلام کے بارے میں یہ شک اور دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں بلکہ ان کو ابھی عذاب کا مزہ چکھنے کا موقعہ نہیں ملا جس دن عذاب دیکھیں گے اس دن محمد ﷺ کی تصدیق کریں گے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی نفسی مسئلہ نبوت ہی کے منکر ہیں، خصوص بشر کے لئے۔
Read the full tafseer →کیا نبوت کے لیے اللہ نے اس کو پسند کیا ہے اور مال واولاد میں ہم کو
8۔ ہر جماعت کے اندر ایک قسم کے لوگ نہیں ہوتے بلکہ بہت اقسام کے لوگ ہوتے ہیں اور کسی نبی ورسول سے پوری قوم کا ایک ہی طرح کا اختلاف نہیں ہوتا بلکہ قسم قسم کے اختلاف ہوتے تھے لیکن ہر قسم کے لوگوں کو اختلاف تو ہوتا ہی تھا اس لیے یہ مختلف قسم کے اختلاف رکھنے والے آپس میں مل بیٹھتے اور اپنے زمانہ کے نبی ورسول سے مل کر اختلاف کرتے یہی صورت انبیاء کرام کو پیش آئی اور یہی صورت آج بھی لوگوں کو در پیش ہے بہرحال ان مختلف اختلافات میں سے ایک قسم کا اختلاف یہ بھی تھا جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ قوم کے و ڈیرے تھے جن کی بات چیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
In verse 6, it was said: وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ (And the leaders among them went forth saying (to their followers)," Walk away (from the Prophet) and stay firm on (adhering to) your gods - 12). This is pointing out to the event mentioned above that, once they heard the call to pure monotheism (tauhid), they left the meeting.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
10 In other words Allah says: " Muhammad, these people are not belying you but Me. As for your truthfulness, they had never doubted it before; now that they are doubting it, it is because of My Admonition; now that I have entrusted to you the Mission of admonishing them, they have started doubting the truthfulness of the very person whose righteousness and piety they used to swear by " The same theme has also been discussed above in Al-An'am: 33 and E.N. 21 thereof.
Read the full tafseer →