Saad 38:7

Saad · from ayah 7

38:7

مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِی الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ ۖۚ— اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌ ۟ۖۚمَا سَمِعۡنَا بِهٰذَا فِى الۡمِلَّةِ الۡاٰخِرَةِ ۖۚ اِنۡ هٰذَاۤ اِلَّا اخۡتِلَاقٌ

یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں۔ یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

We have not heard of this in the latest religion. This is not but a fabrication.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:7

یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ پچھلے مذہب میں ہم نے کبھی سنی ہی نہیں۔ یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں بھی نہیں سنی، کچھ نہیں یہ تو صرف گھڑنت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے تو یہ بات پچھلے دین میں کبھی نہیں سنی۔ اور کچھ نہیں، یہ من گھڑت بات ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ تو ہم نے سب سے پہلے دینِ نصرانیت میں بھی نہ سنی یہ تو نری نئی گڑھت ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم نے اس (عقیدۂ توحید) کو آخری ملّتِ (نصرانی یا مذہبِ قریش) میں بھی نہیں سنا، یہ صرف خود ساختہ جھوٹ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہو بات ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو ہم نے زمانہ قریب کے دین میں کبھی نہیں سنی۔ یہ تو بس ایک من گھڑت بات ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے یہ بات اس دور آخر میں تو سنی نہیں ! یہ محض ایک من گھڑت بات ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ بات تو ہم نے پچھلے دین میں بھی نہیں سنی یہ تو محض ایک من گھڑت بات ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ہم نے تو یہ بات (اپنے) پچھلے مذہب میں (کبھی) سنی نہیں ہو نہ ہو یہ اس کی گڑھت ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم نے ایسی کوئی بات پچھلے دین میں تو نہیں سنی ہے۔ یہ تو نہیں ہے مگر ایک گھڑی ہوئی چیز۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ پچھلے مذاہب میں ہم نے کبھی نہیں سنا، یہ بالکل بنائی ہوئی بات ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We have not heard this in the religious community close to our time. This is nothing but a fabrication.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We never heard of it in the classical faith (of ours). This is nothing but a false invention.

— Muhammad Taqi Usmani

We never heard of it in the classical faith (of ours). This is nothing but a false invention.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"We have not heard (the like) of this in the religion of these later days. This is nothing but an invention!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We have not heard of this in later religion. This is naught but an invention.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We have not heard of this in the latest religion. This is not but a fabrication.

— Saheeh International

We have heard nothing like this in the latest religion. This is only his own false invention.

— Muhammad Sarwar

We never heard of this in the former faith; this is nothing but a forgery:

— Muhammad Habib Shakir

We heard not thereof in the later faith; this is naught but an invention.

— Abdul Majid Daryabadi

"We never heard (the like) of this among the people of these latter days: this is nothing but a made-up tale!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–11

مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔ حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة صٓ 9 یعنی قریب کے زمانے میں ہمارے اپنے بزرگ بھی گزرے ہیں، عیسائی اور یہودی بھی ہمارے ملک اور آس پاس کے ملکوں میں موجود ہیں، اور مجوسیوں سے ایران و عراق اور مشرقی عرب بھرا پڑا ہے۔ کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان بس ایک اللہ رب العالمین کو مانے اور دوسرے کسی کو نہ مانے۔ آخر ایک اکیلے خدا پر کون اکتفا کرتا ہے۔ اللہ کے پیاروں کو تو سب ہی مان رہے ہیں۔ ان کے آستانوں پر جا کر ماتھے رگڑ رہے ہیں۔ نذریں دے رہے ہیں۔ دعائیں مانگ رہے ہیں۔ کہیں سے اولاد ملتی ہے۔ کہیں سے رزق ملتا ہے۔ کسی آستانے پر جو مراد مانگو بر آتی ہے۔ ان کے تصرفات کو ایک دنیا مان رہی ہے اور ان سے فیض پانے والے بتا رہے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–11

(آیت) وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ الخ (اور ان کفار کے رئیس یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ الخ) اس سے مذکورہ واقعہ ہی کی طرف اشارہ ہے کہ توحید کی دعوت سن کر وہ مجلس سے چل کھڑے ہوئے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 7–8

ماسمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ ان ھذا الا احتلق (7) عرب کی تاریخ سے متعلق قرآن اور قریش کے نقطہ نظر کا اختلاف یہ قریش کی طرف سے اس تاریخ کی تردید ہے جو آنحضرت ﷺ ملت عرب کی بیان فرماتے۔ آپ نے حضرت نوح ؑ سے لے کر سیدنا حضرت ابراہیم ؑ اور بعد کے انبیاء کی تاریخ سے یہ واضح فرما دیا تھا کہ ان تمام انبیاء نے توحید خالص کی تعلیم دی، خاص کر حضرت ابراہیم ؑ کی تعلیم دعوت اور حضرت اسماعیل اور بیت اللہ کی جو تاریخ قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اس کا مقصد عربوں پر اسی حقیقت کو اضح کرنا تھا کہ ان کی ملت کی اصل تاریخ حضرت ابراہیم ابراہیم ؑ و حضرت اسماعیل سے شروع ہوتی ہے اور ان بزرگ نبیوں نے اپنی اولاد…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 پچھلے دین سے مراد تو ان کا دین قریش ہے، یا پھر دین نصاریٰ یعنی یہ جس توحید کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بابت تو ہم نے کسی بھی دین میں نہیں سنا۔ 7۔ 2 یعنی یہ توحید صرف اس کی اپنی من گھڑت ہے، ورنہ عیسائیت میں بھی اللہ کے ساتھ دوسروں کو الوہیت میں شریک تسلیم کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 6–9

3: یعنی آنحضرت ﷺ ان باتوں کے ذریعے (معاذاللہ) اپنا اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ماسمعنا۔۔۔۔ اختلاق (38: 7) ” یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی۔ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات “۔ نزول قرآن کے زمانے میں عیسائیوں کے درمیان عقیدۂ تثلیث عام ہوگیا تھا اور حضرت عزیر کی ابوہیت کا عقیدہ بھی یہودیوں کے درمیان پھیل گیا تھا۔ اکابرین قریش اس طرف اشارہ کررہے تھے اور کہتے تھے کہ ” یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں نہیں سنی۔ یہ خالص توحید تو نہ یہودیت میں ہے اور نہ عیسائیت میں۔ لہذا حضرت محمد ﷺ جو کچھ پیش کر رہے ہیں ' یہ ان کا من گھڑت دین ہے۔ اسلام نے خالص توحید کے قیام کے لئے بہت جدوجہد کی۔ اور عقیدۂ توحید سے ہر قسم کے انسانوں ' شرک خفی اور شرک جلی اور تمام دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " پچھلا دین کہتے تھے اپنے باپ دادوں کو۔ یعنی آگے تو سنے ہیں کہ اگلے لوگ ایسی باتیں کہتے تھے۔ پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔ " اور ممکن ہے پچھلے دین سے عیسائی مذہب مراد ہو۔ جیسا کہ اکثر سلف کا قول ہے۔ یعنی نصاریٰ جو اہل کتاب ہیں ان کو بھی ہم نے نہیں سنا کہ سب خداؤں کو ہٹا کر ایک خدا رہنے دیا ہو۔ آخر وہ بھی تین خدا تو مانتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو رسول نہیں مانتے۔ اگر پہلی کتابوں میں کچھ اصل ہوتی تو وہ ضرور قبول کرتے۔ معلوم ہوا کہ محض گھڑی ہوئی بات ہے۔ العیاذ باللہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 { مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ } ”ہم نے ایسی کوئی بات پچھلے دین میں تو نہیں سنی ہے۔“ آخر ہمارا بھی اپنا ایک دین ہے جو ہم نے ورثے میں پایا ہے۔ پھر ہمارے باپ دادا کی روایات ہیں جو نسل در نسل ہم تک پہنچی ہیں۔ لیکن ہم نے ایسی باتیں اس سے پہلے نہ تو اپنے باپ دادا کے دین میں سنی ہیں اور نہ ہی پرانی روایات سے ان کی تصدیق ہوتی ہے۔ { اِنْ ہٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ۔ ”یہ تو نہیں ہے مگر ایک گھڑی ہوئی چیز۔“ اختلاق ”خلق“ سے باب افتعال ہے۔ یعنی یہ کوئی خواہ مخواہ بنائی ہوئی چیز ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 یعنی قریب کے زمانہ میں ہمارے اپنے بزرگ بھی گزرے ہیں یہودی اور عیسائی بھی ہمارے ملک اور آس پاس کے ملکوں میں موجود ہیں۔ ایران، عراق اور مشرقی عرب مجوسیوں سے بھرا پڑا ہے۔ کسی نے بھی ہم سے یہ نہیں کہا کہ انسان بس ایک اللہ کو مانے اور کسی کو نہ مانے۔ اللہ کے پیاروں کے تصرفات کو تو ایک دنیا مان رہی ہے اور ان سے فیض پانے والے بتا رہے ہیں کہ ان درباروں سے فی الواقع لوگوں کی مشکل کشائی اور حاجت روائی ہوجاتی ہے۔ پھر آخر اللہ اکیلے پر کون اکتفا کرتا ہے ؟ لہذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ایک من گھڑت بات ہے اور اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم ان کی تابعداری کریں اور یہ ہمارا حاکم بن جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ (آیت) ” ملۃ الاخرۃ “۔ سے مراد وہی ملت عرب ہے، یعنی ہم نے کبھی اپنے پیروں کے مذہب، اپنے باپ دادوں کے دین میں تو یہ عقیدہ پایا نہیں۔ دوسرے معنی ” آخری مذہب “ کے دین عیسوی کے بھی کیے گئے ہیں، یہ تفسیر بھی چسپاں ہوسکتی ہے، نصاری اپنے نقطہ نظر سے بالکل صحیح طور پر کہہ سکتے تھے، کہ یہ توحید خالص جس کی دعوت اسلام دے رہا ہے ہم نے تو کہیں آبائے کلیسا سے سنی نہیں تھی ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما سمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ ان ھذا الا اختلاق یہ بات تو ہم نے اپنے پچھلے مذہب میں نہیں سنی۔ ہو نہ ہو یہ (اس شخص کی) من گھڑت ہے۔ بِھٰذَا یعنی یہ حقیر دعوت توحید جس کے محمد ﷺ قائل ہیں۔ فی الملۃ الآخرۃ ‘ حضرت ابن عباس ‘ کلبی اور مقاتل نے کہا : الملۃ الآخرۃ سے مراد عیسائیت ہے ‘ آخری (سماوی) مذہب یہی تھا ‘ عیسائی بھی توحید کے قائل نہیں (رہے) تھے ‘ بلکہ خدا کو تین (اقانیم) میں کا تیسرا کہتے تھے۔ مجاہد نے کہا : الملۃ الآخرۃ سے قریش کا مذہب جس پر وہ چلتے تھے ‘ مراد ہے ‘ یعنی جس مذہب پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ‘ اس میں بھی یہ بات نہیں سنی۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جس مذہب کا انتظار کیا جا رہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

یہ بات تو جو محمد کہتے ہیں یہودیت و نصرانیت میں بھی نہیں ان سے بھی نہیں سنا کہ اللہ ایک ہے یہ تو ان کی من گھڑت بات ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ : آخری ملت سے مراد ان کے قریب کے آبا و اجداد ہیں، کیونکہ اصل دین ابراہیم ؑ تو توحید پر قائم تھا۔ یہ عمرو بن لحی خزاعی تھا جس نے عرب میں بت پرستی کو رواج دیا، حتیٰ کہ عین کعبہ میں ابراہیم اور اسماعیل ؑ کی مورتیوں کے ہاتھ میں فال کے تیر رکھ دیے گئے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”پچھلا دین (آخری ملت) کہتے تھے اپنے باپ دادوں کو، یعنی آگے تو سنے ہیں کہ اگلے لوگ ایسی باتیں کہتے، پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔“ (موضح) بعض مفسرین نے فرمایا کہ آخری ملت سے مراد عیسائی ہیں، کیونکہ آپ ﷺ سے پہلے سب سے آخر میں آنے والے نبی عیسیٰ ؑ ہی تھے، یعنی ہم نے نصاریٰ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 6–11

6 ۔ 11:۔ الملاء کا معنی اشراف ہیں انطلق کا معنی تیز سے جان ہے یعنی یہ کفار رسول ﷺ کے پاس سے نکلے وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے جس طریقہ پر تم پہلے ہو اسی پر گامزن رہو اور اس کے دین میں داخل نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ابو طالب بن ہشام ‘ شیبہ اور عتبہ جور بیعہ بن عبد شمس کے بیٹھے تھے امیہ بن خلف ‘ عاص بن وائل اور ابو معیط تھے وہ ابو طالب کے پاس آئے تھے انہوں نے کہا : تو ہمارا سردار ہے اور ہمارے بارے میں بہتر انصاف کرنے والا ہے اپنے بھتیجے اور اس کے ساتھ جو بیوقوف لوگ ہیں ان کے ساتھ ہمارے بارے میں معاملات اپنے ہاتھ میں لیں انہوں نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے دین میں طعن کیا۔ ابو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–16

:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا [ہم نے نہیں سنا اس کو ] فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ ښ [(اپنے سے پہلوں کی) آخری ملت میں ] اِنْ ھٰذَآ [نہیں ہے یہ ] اِلَّا اخْتِلَاقٌ [مگر جھوٹ گھڑنا ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–8

مشرکین مکہ نے مزید کہا (مَا سَمِعْنَا بِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ ) (ہم نے یہ بات کسی دوسرے دین میں نہیں سنی) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے دین نصاری مراد ہے اس وقت تک ادیان سماوی میں وہی آخری دین تھا جس میں نصاریٰ نے تحریف و تغییر کرلی تھی اور مشرکین مکہ نصاریٰ کی باتیں سنتے رہے تھے اس لیے انہوں نے یہ بات کہی، نصاریٰ نے اپنے دین کو بدل دیا تھا توحید سے منحرف ہو کر تین خدا ماننے لگے تھے۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا (اِنْ ھٰذَا اِِلَّا اخْتِلاَقٌ) (یہ جو توحید والی بات کہتے ہیں بالکل ہی گھڑی ہوئی ہے) جس کو انہوں نے اپنے پاس سے بنالیا ہے، اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

آغاز سورت از بیان حقانیت قرآن ووعید وتنبیہ برغرور و انکار متکبرین و کفار : (آیت) ” قال اللہ تعالیٰ ۔ ص والقران ذی الذکر ....... الی ....... ان ھذا الا اختلاق “۔ (ربط سورة ) گذشتہ سورة والصافات کی ابتداء توحید کے مضمون سے ہوئی اور خاتمہ (آیت ) ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین (ط) سے مسئلہ نبوت و توحید پر ہوا اس مناسبت سے اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی حقانیت اور عظمت شان سے ہوا جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے نیز گذشتہ سورت کیطرح اس میں بھی انبیاء سابقین کے واقعات ذکر فرمائے گئے جن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9: ما سمعنا الخ : ھذا سے مسئلہ توحید کی طرف اشارہ ہے اور الملۃ الاخرۃ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دین یا آباء و اجداد کا دین مراد ہے۔ ہم نے آج تک یہ مسئلہ توحید نہ تو دین عیسوی کے عالموں سے سنا ہے بلکہ اس کے برعکس تمام پوپ اور پادری تثلیث کے قائل ہیں اور نہ اپنے باپ دادا ہی سے ہم نے مسئلہ توحید سنا ہے۔ اس لیے لامحالہ یہ مسئلہ توحید خدا کی طرف سے نہیں بلکہ محمد ﷺ کا اپنا ساختہ پرداختہ ہے۔ فی ملۃ عیسیٰ التیھی اخر الملل لان النصاری مثلثۃ غیر موحدۃ او فی ملۃ قریش التی ادرکنا علیہا آباءنا (مدارک ج 4 ص 27) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة ص ہے جو کہ اس کے پہلے حرف سے ماخوذ ہے ، یہ مکی سورة ہے مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ یہ سورة نبوت کے چوتھے یا دسویں سال میں نازل ہوئی اور اس طرح یہ سورة گویا ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس سورة مبارکہ کی اٹھاسی (88) آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة 731 الفاظ اور 3660 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) مکی سورة ہونے کے ناطے سے اس میں بھی زیادہ تر بنیادی مضامین یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت اور وصداقت ہی بیان ہوئے ہیں اثبات توحید کے سلسلے میں گذشتہ کی ابتداء میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا تھا کہ (آیت) ” ان الھکم لواحد “۔ یعنی تمہارا معبود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا سَمِعْنَا بِھٰذَا فِي الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ۝ 0 ۚۖ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ۝ 7ۖۚ سمع السَّمْعُ : قوّة في الأذن به يدرک الأصوات، وفعله يقال له السَّمْعُ أيضا، وقد سمع سمعا . ويعبّر تارة بالسمّع عن الأذن نحو : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ وَعَلى سَمْعِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وتارة عن فعله كَالسَّمَاعِ نحو : إِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُولُونَ [ الشعراء/ 212] ، وقال تعالی: أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ [ ق/ 37] ، وتارة عن الفهم، وتارة عن الطاعة، تقول : اسْمَعْ ما أقول لك، ولم تسمع ما قلت، وتعني لم تفهم، قال تعالی: وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا قالُوا قَدْ سَمِعْنا لَوْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–8

وعجبوا ان جاء الخ یہ کفار اس بات سے تعجب کرتے ہیں کہ انہی کی قوم اور جنس میں سے ایک شخص خدا کا رسول کیونکر ہوگیا۔ (یعنی محمد) اور اس کو جادوگر اور جھوٹا بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود یعنی اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے، ان بہت سے معبودوں کے مقابلہ میں اور ان کی جگہ ایک کو قائم کرتا ہے۔ یہ تعجب کی بات ہے، ایک شخص تمام کاروبار مخلوق کی نگرانی کاربراری کیونکر کرسکتا ہے ؟ یہ کہہ کر کفار کی جماعت اٹھ کھڑی ہوئی کہ اٹھ چلو اور اپنے معبودوں کو پوجے جائو، یہ ایک نئی بات ہے۔ پہلے ہم نے کسی سے نہیں سنی نہ کوئی پہلوں میں سے کہتا تھا اور کیا وجہ کہ ہم میں سے ذکر یعنی پیغمبری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَاسَمِعْنَا بِھٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ صلے ج اِنْ ھٰذَآ اِلاَّ اخْتِلاَقٌ۔ (صٓ: 7) (ہم نے یہ بات آخری ملت میں کسی سے نہیں سنی، یہ محض ایک من گھڑت بات ہے۔ ) قریش کا اپنی تاریخ سے استدلال قریش اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا وارث سمجھتے تھے۔ اور ساتھ ہی انھیں ان کی اولاد ہونے پر بھی فخر تھا۔ قرآن کریم نے ان کے ان ہی مزعومات کی بنا پر بطورخاص ملت ابراہیمی کی تاریخ بیان فرمائی۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہم السلام) نے اللہ تعالیٰ کا جو گھر تعمیر کیا اور قریش کو جس کے متولی ہونے پر ناز تھا اور اسی کی وجہ سے انھیں بیشمار فوائد حاصل تھے۔ اس گھر کی تعمیر کے مقاصد کو خصوصی طور پر بیان کرتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–10

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرک تکبر کی بنیاد پر اللہ کی وحدت اور نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے اور اس کے لیے لیڈر عوام کو روکتے تھے۔ کفار کی اکثریت یہ بات جانتی تھی کہ پہلی امتوں میں جو رسول بھیجے گئے وہ اپنی قوم کے ایک فرد ہی ہوا کرتے تھے۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجودکفار پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے پیغام اور کام کے لیے کسی انسان کو منتخب کرے اگر اس نے کسی انسان کو ہی رسول بنانا ہوتا تو ایسے شخص کو کیوں منتخب کرتا جو مالی لحاظ سے کنگال اور سماجی اعتبار سے یتیم ہے۔ فی الواقع لوگوں میں ہی کسی کو رسول منتخب کرنا ہوتا تو وہ مکہ کے سرداروں یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7: مَاسَمِعْنَا بِھٰذَا (ہم نے تو یہ بات نہیں سنی) یعنی توحید فِی الْمِلَّۃِ الْاٰخِرَۃِ (پچھلے مذہب میں) ملت عیسیٰ (علیہ السلام) میں جو کہ آخری ؔ ملت ہے کیونکہ نصاری تثلیث کے قائل ہیں۔ وحدانیت کے قائل نہیں۔ یا ملت قریش جس پر ہم نے اپنے آباء کو پایا۔ اِنْ ھٰذَآ اِلَّا اخْتِلَاقٌ (نہیں ہے یہ مگر ایک گھڑت ہے) یہ کذب ہے جس کو محمد ﷺ نے (نعوذ باللہ) اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7، ماسمعنا بھذا، جو کچھ محمد ( ﷺ ) کہہ رہے ہیں یہ اس سے پہلے ہم نے کسی سے نہیں سنا۔ ، فی الملۃ الا خرۃ، حضرت ابن عباس ؓ، کلبی ، مقاتل نے کہا کہ ، الملۃ الا خرۃ، سے مراد عیسائیت ہے۔ آخری مذہب یہی تھا۔ عیسائی بھی توحید کے قائل نہیں تھے بلکہ خدا کو تین ، اقانیم، میں تیسراکہتے تھے۔ مجاہد اور قتادہ سے مراد ہے، الملۃ الا خرۃ، سے قریش کا مذہب جس پر وہ چلتے تھے۔ ، ان ھذا الا اختلاق، جھوٹی اور من گھڑت ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی 1 ؎ نسائی مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم مسند عبد بن حمید بہیقی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھل بلی سی پڑگئی تھی۔ اس لئے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابو طالب کے پاس گئی اور ابو طالب سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ابوطالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا۔ کہ اے میرے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں۔ کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کہ میں قوم کے لوگوں سے ایسی ایک بات چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس کو پورا کر لیویں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

9 منکرین کا عقیدئہ توحید پر اچنبھا اور اس کا انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے عقیدئہ توحید پر تعجب اور اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو ہم نے پچھلے دین میں بھی نہیں سنی۔ جس پر ہمارے آباؤ و اجداد چلتے آئے ہیں۔ اس سے یا تو ان کی مراد وہی دین شرک اور بت پرستی ہے جس پر ان کے بڑے چل رہے تھے یا اس سے نصرانیت مراد ہے جو کہ نور اسلام کے طلوع اور آنحضرت ﷺ کی بعثت و تشریف آوری سے پہلے سب سے آخری سماوی دین تھا کہ اس میں بھی نصاریٰ کی تلبیس سے ایک کی بجائے تین خداؤں یعنی توحید کی بجائے تثلیث کا شرکیہ عقیدہ رواج پا چکا تھا۔ ورنہ اصل دین عیسوی بھی اسی طرح توحید کا قائل اور اس کا داعی و پیامبر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–26

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة ص رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14 اسرار و معارف : ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعنی دین نصاریٰ میں کہ ان کے ہاں بھی اس طرح کی توحید نہیں ہے جیسی یہ شخص محمد ﷺ پیش کررہا ہے وہ بھی تین خدائوں کے قائل ہیں۔ ( کذاقال اکثر السلف) (قرطبی) یا قریب کہہ دین سے مراد خود قریش کے بزرگوں کا دین ہے۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں ” یعنی آگے تو سنے ہیں کہ اگلے ایسی باتیں کہتے تھے پر ہمارے بزرگ تو یوں نہیں کہہ گئے۔ ( موضح) یا ہم نے اہل کتاب سے یہ بات نہیں سنی کہ آخر زمانے میں محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ﷺ ہونگے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:7) الملۃ الاخرۃ۔ موصوف وصفت۔ پچھلا مذہب۔ پچھلا دین۔ اس سے مراد ان کا آبائی مذہب بھی ہوسکتا ہے اور عیسائیت بھی۔ ان ھذا الا اختلاق : ان نافیہ ہے۔ ھذا یعنی دین توحید۔ اختلاق بروزن افتعال مصدر ہے بمعنی افترائ، بہتان طرازی۔ من گھڑت بات۔ خلق مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

(ف 1) شان نزول : حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھلبلی مچ گئی اس لیے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابوطالب کے پاس گئی اور ابوطالب سے نبی ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ، ابوطالب نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو، نبی ﷺ نے جواب دیا کہ میں قوم کے لوگوں سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب وعجم ان کے فرمانبردار ہوجائے، وہ خوش ہوکربولے کہ بتلائیے کہ وہ کلمہ کیا ہے آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں تو آپ نے فرمایا، زیادہ نہیں صرف ایک کلمہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ سنتے ہی طیش میں آکرکھڑے ہوگئے اور کہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–10

[5] یعنی نصرانی بھی تین الہٰوں کے قائل ہیں اور یہ شخص ایک ہی اِلٰہ بتاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

ف 1: وہ کہتے ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ بہت سے خداؤں کا کام تنہا ایک خدا کرسکے پھر جب انہوں نے یہ دیکھا کہ باوجود عجیب وحیرت کے محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ اور ان ہی کو منصب جلیلہ پر فائز کیا گیا ہے ۔ اور توحید کی طرف بلایا جارہا ہے تو ان کے اکابر نے عوام سے کہا ۔ کہ خبردار اس شخص کی باتوں میں نہ آجانا ۔ اور ایسا نہ ہو کہ تم اپنے خداؤں کو چھوڑ دو ۔ دیکھو اپنے بتوں کی عبادت پر قائم رہو ۔ پھر خود آپ ہی کہنے لگے ۔ کہ یہ عقیدہ تو کچھ ایسا ہے ۔ کہ پھیل کر رہے گا ۔ گویا ان کو اپنے عقیدہ کی کمزوری خوب معلوم تھی ۔ اور یہ محسوس کرتے تھے ۔ کہ اس کی خیر نہیں ہے ۔ یہ آج بھی غلط ہے ۔ اور کل بھی غلط ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) ہم نے تو ایک معبود والی بات اپنے پچھلے دین میں کبھی نہیں سنی۔ یہ محض افترا اور گھڑی ہوئی بات ہے۔ پچھلا دین یا نصاریٰ کے دین کو کہا کہ اس میں بھی توحید نہ تھی بلکہ وہاں بھی تین خدائوں کا ذکر ہے۔ یا پچھلا دین کہا اپنے باپ دادوں کے دین کو کہ ہم نے ان سے بھی کبھی ایک معبود کی بات نہیں سنی اس لئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہو نہ ہو یہ اس شخص کی من گھڑت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ پچھلے مذہب کا مطلب یہ کہ دنیا میں بہت سے طریقہ کے لوگ ہوئے، سب سے پیچھے ہم موجود ہیں اور حق پر ہیں، سو ہم نے اس طریقہ کے بزرگوں سے کبھی یہ بات نہیں سنی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس نے ایک ایسی اسکیم لڑائی ہے جس کی گزشتہ جماعتوں میں مثال نہیں ملتی 7 : مطلب یہ ہے کہ اس کی یہ اسکیم جو اس نے سوچی ہے اس سے پہلے کسی کو بھی نہیں سوچھی آج تک اس طرح کی دعوت کسی نے پیش نہیں کی۔ کتنی جماعتیں گزر چکی ہیں لیکن ہم نے جو طریقہ اس نے اختیار کیا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ اللہ کو کون نہیں مانتا اور اس کی ذات واحد کو کون واحد نہیں کہتا لیکن اللہ ایک ہے کہ یہ مطلب کیسے ہوگیا کہ کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہی نہ رہا کیا یہ سارے لوگ اس کے پیدا کردہ نہیں ہیں ؟ کیا کبھی اس کے پیارے اور محبوب بھی من دون اللہ کی زد میں آتے ہیں اور ان کو ” من دون “ کہا جاتا ہے یہ استھان کیا ہیں ؟ یہ ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–11

In verse 6, it was said: وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُ‌وا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ (And the leaders among them went forth saying (to their followers)," Walk away (from the Prophet) and stay firm on (adhering to) your gods - 12). This is pointing out to the event mentioned above that, once they heard the call to pure monotheism (tauhid), they left the meeting.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 That is, "There have been our own elderly people in the recent past; there arc Christians and Jews also living in our land and in the adjoining lands; and there arc the Zoroastrians abounding in Iran and Iraq and eastern Arabia. None of them has ever preached that man should only believe in One AIlah, Lord of the worlds, and in none else beside Him: no one can remain content with one God only: everyone believes in the beloved ones of Allah also: they arc All paying obeisance to them, making offerings at their shrines and praying for fulfilment of their needs and requirements. From one place…

Read the full tafseer →