Explained with ayahs 4–11
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔
حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →سورة صٓ 6
اشارہ ہے ان سرداروں کی طرف جو نبی ﷺ کی بات سن کر ابو طالب کی مجلس سے اٹھ گئے تھے۔
سورة صٓ 7
یعنی حضور ﷺ کا یہ کہنا کہ کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کے قائل ہوجاؤ تو عرب و عجم سب تمہارے تابع فرمان ہوجائیں گے۔
سورة صٓ 8
ان کا مطلب یہ تھا کہ اس دال میں کچھ کالا نظر آتا ہے، دراصل یہ دعوت اس غرض سے دی جا رہی ہے کہ ہم محمد ﷺ کے تابع فرمان ہوجائیں اور یہ ہم پر اپنا حکم چلائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
(آیت) وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ الخ (اور ان کفار کے رئیس یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ الخ) اس سے مذکورہ واقعہ ہی کی طرف اشارہ ہے کہ توحید کی دعوت سن کر وہ مجلس سے چل کھڑے ہوئے۔
Read the full tafseer →وانطلق السلا منھم ان امنوا وا صبروا علی الھتکم ان ھذا لشی ویراد (6)
لیڈروں کے طرز عمل کی تصویر
یہ تصویر ہے اس رویے کی جو آنحضرت ﷺ کی دعوت توحید سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کے لئے قریش کے لیڈر اختیار کرتے۔ اگر وہ کبھی دیکھتے کہ لوگ آنحضرت ﷺ کی دعوت توحید سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کے لئے قریش کے لیڈر اختیار کرتے۔ اگر وہ کبھی دیکھتے کہ لوگ آنحضرت ﷺ کی بات سے متاثر ہو رہے ہیں تو یہ واں سے چل کھڑے ہوتے اور دوسروں کو بھی اکساتے کہ یاں سے چلو، اس شخص کی باتیں نہ سنو بلکہ اپنے معبودوں کی عبادت پر جمے رہو۔
ان ھذا الشیء یراد یعنی کرنے کا اصلی کام یہ ہے یہ شخص جو عظ تمہیں سنا رہا ہے یہ تمہارے دین آبائی سے تم…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی اپنے دین پر جمے رہو اور بتوں کی پوجا کرتے رہو، محمد ﷺ کی بات پر کان مت دھرو !
6۔ 2 یعنی یہ ہمیں ہمارے معبودوں سے چھڑا کر دراصل اپنے پیچھے لگانا اور اپنی قیادت منوانا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
3: یعنی آنحضرت ﷺ ان باتوں کے ذریعے (معاذاللہ) اپنا اقتدار قائم کرنا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →وانطلق۔۔۔۔ یراد (38: 6) ” اور سرداران قریش یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ چلو اور اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو ۔ یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے “۔ یہ کوئی دین اور نظریہ کی بات نہیں ہے۔ یہ کوئی اور ہی گہری سازش ہے اور جمہور عوام کا یہ فرض ہے کہ یہ معاملہ اکابرپر چھوڑدیں۔ جو خفیہ باتوں کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے موروثی طرز عمل پر جمے رہیں اور اپنے آباؤ اجداد کے عقائد کو سختی سے پکڑے رکھیں۔ اور اس جدید تحریک کے پیچھے جو سازش ہے اس میں نہ پڑیں۔ یہ لیڈروں کا کام ہے کہ وہ ان سازشوں کا دفاع کریں۔ عوام کو مطمئن رہنا چاہئے۔ قیادت اپنے مفادات ' عوام کے مفادات اور اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6 یعنی اور لیجئے ! اتنے بیشمار دیوتاؤں کا دربار ختم کر کے صرف ایک خدا رہنے دیا۔ اس سے بڑھ کر تعجب کی بات کیا ہوگی کہ اتنے بڑے جہان کا انتظام اکیلے ایک خدا کے سپرد کردیا جائے۔ اور مختلف شعبوں اور محکموں کے جن خداؤں کی بندگی قرنوں سے ہوتی چلی آتی تھی وہ سب یک قلم موقوف کردی جائے۔ گویا ہمارے باپ دادے نرے جاہل اور بیوقوف ہی تھے جو اتنے دیوتاؤں کے سامنے سر عبودیت خم کرتے رہے۔ روایات میں ہے کہ ابو طالب کی بیماری میں ابو جہل وغیرہ چند سرداران قریش نے ابو طالب سے آن کر حضرت ﷺ کی شکایت کی کہ یہ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اور ہمیں طرح طرح سے احمق بناتے ہیں۔ آپ ان کو سمجھائیے۔ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →آیت 6 { وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِہَتِکُمْج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ یُّرَادُ } ”اور چل پڑے ان کے سردار یہ کہتے ہوئے کہ چلو جائو اور جمے رہو اپنے معبودوں پر ‘ یقینا اس بات میں تو کوئی غرض پوشیدہ ہے۔“
یہ آیت لفظی تصویر کشی word picture کا خوبصورت نمونہ پیش کرتی ہے۔ ان الفاظ کو پڑھنے کے بعد مکہ کے مخصوص ماحول میں ایک مجمع کا نقشہ نگاہوں کے سامنے پھرنے لگتا ہے ‘ جس سے رسول اللہ ﷺ خطاب فرما رہے ہیں۔ مجمع میں عام لوگوں کے ساتھ قریش کے چند سردار بھی موجود ہیں۔ سب لوگ حضور ﷺ کی باتیں بڑے دھیان سے سن رہے ہیں ‘ مگر تھوڑی دیر کے بعد ان کے سردار یہ کہتے ہوئے وہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
5 سمجھوتہ کے لئے ایک 25 رکنی وفد کا ابو طالب کے پاس آنا :۔ ان آیات کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ 10 نبوی میں ابو طالب بیمار پڑگئے (اسی مرض سے ان کی وفات ہوئی اور اس سال ام المومنین سیدہ خدیجہ ؓ کا انتقال ہوا تھا لہذا اس سال کو عام الحزن کہا جاتا تھا۔ کیونکہ اس سال رسول اللہ کو یہ دونوں بھاری صدمے پہنچے تھے) اس وقت ابو طالب کی عمر 80 برس کی ہوچکی تھی نیز رسول اللہ کی حمایت میں انہوں نے جو مصائب، اور شعب ابی طالب میں جو فاقے جھیلے تھے انہوں نے ابو طالب کو بہت کمزور کردیا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب ان کی زندگی کے دن گنے جاچکے ہیں۔ سرداران قریش کو خیال آیا کہ اگر ابو طالب کے مرنے کے بعد ہم…
Read the full tafseer →8۔ یہ شخص بھی بہکا کر اپنا کوئی نہ کوئی کام ہم سے نکالنا چاہتا ہے۔ لوگ ہرگز اس کے کہے میں نہ آنا۔ اپنے دیوتاؤں کی نصرت میں لگے رہنا، قریش کے ائمہ وسردار کبھی کبھی رسول اللہ ﷺ کی تقریر سننے کھڑے ہوجاتے تو اس کے بعد ذکر توحید کی تاب نہ لا کر اپنے پیرو وں سے یہ کہنے لگتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…
Read the full tafseer →وانطلق الملامنھم ان امشوا واصبروا علی الھتکم اور قریش کے سردار ابوطالب کی مجلس سے (یہ کہتے
ہوئے اٹھ کر) چل دئیے کہ چلو (آپ سے بات چیت سے کوئی فائدہ نہیں) اور اپنے معبودوں (کی پوجا) پر جمے رہو۔
بعض اہل تفسیر نے اِنْطَلَقَ کا ترجمہ کیا ہے : بات شروع کی اور امشوا کا ترجمہ کیا ہے : جمع ہوجاؤ۔ مَشِیَتِ الْمَرْأَۃُ وہ عورت کثیر الاولاد ہوگئی۔ مَاشیۃٌ کا لفظ بھی اسی مفہوم کا حامل ہے۔
ان ھذا لشیء یراد یہ کوئی مطلب کی بات ہے۔
اِنَّ ھٰذَابیشک یہ یعنی توحید کا اقرار یقیناً کوئی مطلب کی بات ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر کے ایمان لانے سے مسلمانوں کو ایک خاص قوت حاصل ہوگئی ‘ اس پر کافروں نے کہا : اِنَّ…
Read the full tafseer →اور ان کفار قریش کے رئیس عتبہ، شیبہ ابی خلف، ابو جہل مجلس سے یہ کہتے ہوئے چلے کہ یہاں سے چلو چلو ابو جہل نے ان سرداروں سے کہا، کہ ہم بات اب کراچکے اپنے معبودوں کے پاس چلو اور ان ہی کی عبادت پر قائم رہو محمد سب کو تباہ کرنا چاہتے ہیں یا یہ کہ یہ تو کوئی مطلب کی بات معلوم ہوتی ہے اس کے ذریعے یہ حکومت کرنا چاہتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ : ”الْمَلَاُ“ کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ (246) یعنی کفار کے سرکردہ اور بڑے لوگ توحید کی دعوت سن کر آپ کی مجلس سے یہ کہہ کر چل کھڑے ہوئے کہ اپنے دین اور طریقے پر چلتے رہو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، جیسا کہ قوم نوح نے کہا تھا : (لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّلَا سُوَاعًا ڏ وَّلَا يَغُوْثَ وَيَعُوْقَ وَنَسْرًا) [ نوح : 23 ] ”تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی وَدّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔“
بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ لوگ ایک دوسرے کو باطل اور شرک پر ڈٹے رہنے کی اتنی تاکید کر رہے ہیں، اہل حق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 ۔ 11:۔ الملاء کا معنی اشراف ہیں انطلق کا معنی تیز سے جان ہے یعنی یہ کفار رسول ﷺ کے پاس سے نکلے وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے جس طریقہ پر تم پہلے ہو اسی پر گامزن رہو اور اس کے دین میں داخل نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ابو طالب بن ہشام ‘ شیبہ اور عتبہ جور بیعہ بن عبد شمس کے بیٹھے تھے امیہ بن خلف ‘ عاص بن وائل اور ابو معیط تھے وہ ابو طالب کے پاس آئے تھے انہوں نے کہا : تو ہمارا سردار ہے اور ہمارے بارے میں بہتر انصاف کرنے والا ہے اپنے بھتیجے اور اس کے ساتھ جو بیوقوف لوگ ہیں ان کے ساتھ ہمارے بارے میں معاملات اپنے ہاتھ میں لیں انہوں نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے دین میں طعن کیا۔ ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →وَانْطَلَقَ [اور چل پڑے ] الْمَلَاُ مِنْهُمْ [سردار لوگ ان میں سے ] اَنِ امْشُوْا [کہ تم لوگ چلتے رہو (اپنے طریقہ پر)] وَاصْبِرُوْا [اور تم لوگ ثابت قدم رہو ] عَلٰٓي اٰلِـهَتِكُمْ ښ [اپنے خداؤں پر ] اِنَّ ھٰذَا [بیشک یہ ] لَشَيْءٌ [یقینا ایک ایسی چیز ہے ] يُّرَادُ [جس کی خواہش کی گئی ہے ] ۔
Read the full tafseer →(وَانْطَلَقَ الْمَلاَُ مِنْہُمْ ) (اور ان میں سے جو سردار تھے یوں کہتے ہوئے روانہ ہوگئے کہ یہاں سے چل دو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو) اگر یہاں اور بیٹھے رہے تو ممکن ہے کہ اس شخص کی بات ہمارے دلوں میں اثر کر جائے اور ہمیں ایک ہی معبود کو ماننا پڑے۔ (اِِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ یُرَادُ ) (بیشک یہ ایسی چیز ہے جس کا ارادہ کیا جا رہا ہے) یہ بھی مشرکین کا قول ہے اس کا ایک مطلب تو وہ ہے جس کی طرف ترجمہ میں اشارہ کردیا گیا ہے یعنی یہ شخص جو ہماری جماعت سے نکل کر نئی نئی باتیں کر رہا ہے اس کا کوئی مقصد ہے اور وہ یہ کہ اسے عرب و عجم کی سرداری مل جائے اور سب سے اوپر ہو کر رہے، اور بعض مفسرین نے یہ مطلب بتایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آغاز سورت از بیان حقانیت قرآن ووعید وتنبیہ برغرور و انکار متکبرین و کفار :
(آیت) ” قال اللہ تعالیٰ ۔ ص والقران ذی الذکر ....... الی ....... ان ھذا الا اختلاق “۔
(ربط سورة ) گذشتہ سورة والصافات کی ابتداء توحید کے مضمون سے ہوئی اور خاتمہ (آیت ) ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین (ط) سے مسئلہ نبوت و توحید پر ہوا اس مناسبت سے اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی حقانیت اور عظمت شان سے ہوا جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے نیز گذشتہ سورت کیطرح اس میں بھی انبیاء سابقین کے واقعات ذکر فرمائے گئے جن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت…
Read the full tafseer →7:۔ انطلق الخ :۔ ابو جہل، عتبہ، شیبہ، امیہ بن خلف، عقبہ بن ابی معیط، عاص بن وائل وغیرہ صنادید قریش کا ایک وفد ابو طالب کے پاس آیا تاکہ وہ اپنے بھتیجے کو ان کے معبودانِ باطلہ کی توہین روکین یعنی وہ ہمارے معبودوں کے بارے میں یہ نہ کہا کرے کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلا کر کہا کہ میرے بھتیجے یہ اشراف قریش اس مقصد کے لیے آئے ہیں۔ آپ نے فرمایا میں ان سے صرف ایک بات لینے کا مطالبہ کرتا ہوں، اگر یہ اس کو مان لین تو سارا عرب ان کا مطیع ہوجائے ابو جہل فوراً بول اٹھا ایسی تو ہم دس باتیں بھی ماننے کے لیے تیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
(نام اور کوائف)
اس سورة مبارکہ کا نام سورة ص ہے جو کہ اس کے پہلے حرف سے ماخوذ ہے ، یہ مکی سورة ہے مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ یہ سورة نبوت کے چوتھے یا دسویں سال میں نازل ہوئی اور اس طرح یہ سورة گویا ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس سورة مبارکہ کی اٹھاسی (88) آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة 731 الفاظ اور 3660 حروف پر مشتمل ہے ۔
(مضامین سورة )
مکی سورة ہونے کے ناطے سے اس میں بھی زیادہ تر بنیادی مضامین یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت اور وصداقت ہی بیان ہوئے ہیں اثبات توحید کے سلسلے میں گذشتہ کی ابتداء میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا تھا کہ (آیت) ” ان الھکم لواحد “۔ یعنی تمہارا معبود…
Read the full tafseer →وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓي اٰلِـہَتِكُمْ 0ۚۖ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ 6ۖۚ
طلق
أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] ، الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] ، وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] ، فهذا عامّ في الرّجعيّة وغیر الرّجعيّة، وقوله : وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
وعجبوا ان جاء الخ یہ کفار اس بات سے تعجب کرتے ہیں کہ انہی کی قوم اور جنس میں سے ایک شخص خدا کا رسول کیونکر ہوگیا۔ (یعنی محمد) اور اس کو جادوگر اور جھوٹا بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود یعنی اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے، ان بہت سے معبودوں کے مقابلہ میں اور ان کی جگہ ایک کو قائم کرتا ہے۔ یہ تعجب کی بات ہے، ایک شخص تمام کاروبار مخلوق کی نگرانی کاربراری کیونکر کرسکتا ہے ؟ یہ کہہ کر کفار کی جماعت اٹھ کھڑی ہوئی کہ اٹھ چلو اور اپنے معبودوں کو پوجے جائو، یہ ایک نئی بات ہے۔ پہلے ہم نے کسی سے نہیں سنی نہ کوئی پہلوں میں سے کہتا تھا اور کیا وجہ کہ ہم میں سے ذکر یعنی پیغمبری…
Read the full tafseer →وَانْطَلَقَ الْمَـلَاُ مِنْہُمْ اَنِ امْشُوْا وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِھَتِکُمْ صلے ج اِنَّ ھٰذَا لَشَیْ ئٌ یُّرَادُ ۔ (صٓ: 6)
(اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں پر، بیشک یہ بات کسی اور مقصد کے لیے کہی جارہی ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کی دعوت سے متعلق بدگمانی
ہم سورة کے تعارف میں یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ ایک موقع پر سردارانِ قوم حضرت ابوطالب کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کہ آپ اپنے بھتیجے سے ہمارے معاملات کا تصفیہ کرا دیں۔ آخر انھوں نے تجویز یہ پیش کی کہ آپ اپنے بھتیجے کو پابند کریں کہ وہ ہمارے خدائوں کی مذمت نہ کریں تو ہم اس کی عبادت پر کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔ وہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرک تکبر کی بنیاد پر اللہ کی وحدت اور نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے اور اس کے لیے لیڈر عوام کو روکتے تھے۔
کفار کی اکثریت یہ بات جانتی تھی کہ پہلی امتوں میں جو رسول بھیجے گئے وہ اپنی قوم کے ایک فرد ہی ہوا کرتے تھے۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجودکفار پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے پیغام اور کام کے لیے کسی انسان کو منتخب کرے اگر اس نے کسی انسان کو ہی رسول بنانا ہوتا تو ایسے شخص کو کیوں منتخب کرتا جو مالی لحاظ سے کنگال اور سماجی اعتبار سے یتیم ہے۔ فی الواقع لوگوں میں ہی کسی کو رسول منتخب کرنا ہوتا تو وہ مکہ کے سرداروں یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے…
Read the full tafseer →قریش کا ردعمل :
6: وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْھُمْ اَنِ امْشُوْا (ان کفار کے سردار یہ کہتے ہوئے چل دیے کہ چلو) ابوطالب کی مجلس سے سردارانِ قریش یہ کہتے ہوئے چل دیئے اس کے بعد کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو لا جواب کردیا اور کھر اکھرا جواب دیا۔ وہ ایک دوسرے کو کہتے جارہے چلو۔ چلو۔ اَنؔ یہاں ای کے معنی میں ہے کیونکہ بات چیت کی مجلس سے جانے والے لازماً باہمی بات کریں گے اور محفل میں پیش آنے والے معاملہ کو دہرائیں گے۔ پس ان کا جانا اس قول کے معنی کو متضمن ہے۔ وَاصْبِرُوْا عَلٰٓی اٰلِھَتِکُمْ اِنَّ ھٰذَآ لَشَیْ ئٌ یُّرَادُ (اور اپنے معبودوں پر قائم رہویہ کوئی مطلب کی بات ہے) ۔ واصبروا سے مرادبتوں کی عبادت…
Read the full tafseer →6، والطلق الملاء منھم ان امشواواصبرواعلی آلھتکم ، قریش کے سروار ابو طالب کی مجلس سے اٹھ کر چل دیئے۔ بعض بعض کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ چلو اور اپنے معبودوں کے ساتھ جمع رہو۔ یعنی اپنے معبودوں پر چابت قدم رہو۔ ، ان ھذا لشیء براد، جب حضرت عمر ؓ کے ایمان لانے سے مسلمانوں کو ایک خاص قوت حاصل ہوگئی اس پر کافروں نے کہا، ان ھذالشیء براد ، بعض نے کہا کہ اس سے مراداہل الارض ہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی 1 ؎ نسائی مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم مسند عبد بن حمید بہیقی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھل بلی سی پڑگئی تھی۔ اس لئے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابو طالب کے پاس گئی اور ابو طالب سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ابوطالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا۔ کہ اے میرے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں۔ کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کہ میں قوم کے لوگوں سے ایسی ایک بات چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس کو پورا کر لیویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…
Read the full tafseer →7 مشرکوں کی طرف سے شرک پر اڑے رہنے کی تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مشرک سرداروں نے اپنے پیرؤوں کو تلقین کی کہ تم ڈٹے رہو اپنے ان ۔ خودساختہ ۔ معبودوں پر "۔ اور تم اپنے ان من گھڑت معبودوں کے خلاف کسی کی کوئی بات مت سنو اور مانو۔ بلکہ تم ان کی پوجا پاٹ اسی طرح کرتے رہو جیسا کہ اب تک کرتے چلے آ رہے ہو۔ قطع نظر اس سے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ؟ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ؟ بس پوری طرح لکیر کے فقیر بن جاؤ اور بس۔ سو اس طرح صنادید قریش اور مشرکین مکہ لوگوں کو عقیدئہ توحید سے متنفر کرنے اور انکو ورغلاتے اور نور حق و ہدایت سے محروم کرنے اور محروم رکھنے کی تگ و دو کرتے۔ اور اس طرح ضلال اور اضلال دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة ص
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14
اسرار و معارف :
ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی یہ ہمارے سامنے کلمہ ” لا الہ الا اللہ “ پیش کر رہا ہے اس سے اس کا مقصد کچھ ذاتی فائدہ معلوم ہوتا ہے اور شاید اس نے یہ سارا ڈھونگ اس لئے رچایا ہے کہ ہم اسے اپنا سردار مان لیں اور یہ ہم پر حکمرانی کر کے داد عیش دے۔
Read the full tafseer →(38:6) انطلق ماضی واحد مذکر غائب (صیغہ واحد جمع کے لئے آیا ہے) وہ چل کھڑا ہوا۔ انطلاق (انفعال) مصدر سے جس کے معنی چھوڑ کر چل کھڑے ہونے کے ہیں۔
منہم۔ میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب وفد کے ممبران کی طرف راجع ہے ان میں سے کئی سردار ان چل کھڑے ہوئے (یہ کہتے ہوئے کہ) چلو اور اپنے دیوتاؤں پر قائم رہو۔
امشوا۔ امر جمع مذکر حاضر مشی (باب ضرب) مصدر سے جس کے معنی چلنے کے ہیں چلو۔
اصبروا علی۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ صبر مصدر باب ضرب سے جس کے معنی صبر کرنا کے ہیں۔ علی کے صلہ کے ساتھ معنی ہوں گے استقلال سے قائم رہو۔
شیء یراد۔ یہ ان کی خبر ہے۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب ارادۃ (افعال) سے مصدر۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
(ف 1) شان نزول :
حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھلبلی مچ گئی اس لیے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابوطالب کے پاس گئی اور ابوطالب سے نبی ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ، ابوطالب نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو، نبی ﷺ نے جواب دیا کہ میں قوم کے لوگوں سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب وعجم ان کے فرمانبردار ہوجائے، وہ خوش ہوکربولے کہ بتلائیے کہ وہ کلمہ کیا ہے آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں تو آپ نے فرمایا، زیادہ نہیں صرف ایک کلمہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ سنتے ہی طیش میں آکرکھڑے ہوگئے اور کہنے…
Read the full tafseer →[3] روایات میں ہے کہ سرداران قریش نے رسول اکرم ﷺ کے چچا ابو طالب سے شکایت کی کہ تمہارا بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے تم اسے سمجھاؤ کہ اپنی روش سے باز آجائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ لوگ صرف ایک کلمہ قبول کرلیں تو تمام عرب و عجم ان کا مطیع ہوجائے۔ وہ خوش ہو کر بولے کہ بتلاؤ وہ کلمہ کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا '' لا الہ الا اللہ ''۔ یہ سنتے ہی وہ طیش میں آ کر کھڑے ہوگئے اور بولے کیا اتنے الہٰوں کو ہٹا کر صرف ایک اِلٰہ ؟ چلو جی، یہ تو اپنے منصوبے سے بازنہ آئیں گے پس تم بھی اپنے معبودوں کی عبادت پر ڈٹے رہو۔
[4] یعنی یہ شخص چاہتا ہے کہ ایک اللہ کا نام لے کر ہم سب کو اپنا محکوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
ف 1: وہ کہتے ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ بہت سے خداؤں کا کام تنہا ایک خدا کرسکے پھر جب انہوں نے یہ دیکھا کہ باوجود عجیب وحیرت کے محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ اور ان ہی کو منصب جلیلہ پر فائز کیا گیا ہے ۔ اور توحید کی طرف بلایا جارہا ہے تو ان کے اکابر نے عوام سے کہا ۔ کہ خبردار اس شخص کی باتوں میں نہ آجانا ۔ اور ایسا نہ ہو کہ تم اپنے خداؤں کو چھوڑ دو ۔ دیکھو اپنے بتوں کی عبادت پر قائم رہو ۔ پھر خود آپ ہی کہنے لگے ۔ کہ یہ عقیدہ تو کچھ ایسا ہے ۔ کہ پھیل کر رہے گا ۔ گویا ان کو اپنے عقیدہ کی کمزوری خوب معلوم تھی ۔ اور یہ محسوس کرتے تھے ۔ کہ اس کی خیر نہیں ہے ۔ یہ آج بھی غلط ہے ۔ اور کل بھی غلط ۔
Read the full tafseer →(6) اور کفار قریش کیا شراف اور سردار یہ کہتے ہوئے مجلس سے چل کھڑے ہوئے کہ چلو جی چلو اور اپنے اپنے معبودوں کی عبادت پر قائم رہو۔ بیشک اس بات یعنی دعوت الی التوحید میں اس کی کوئی غرض ہے۔ یعنی مجلس سے یہ کہہ کر قریش کے سردار عوام کو لے کر اٹھ گئے کہ پس اب مضبوطی سے اپنے ٹھاکروں اور دیوتائوں کی عبادت میں لگے رہو۔ محمد ﷺ کی اس بات میں کوئی غرض ہے یعنی دل میں اس کی اور خیال ہے اس خیال کی بنا پر یہ تحریک جاری کی گئی ہے یا یہ مطلب کہ یہ دین ایک فتنہ ہے جس کا ارادہ کیا گیا ہے یا یہ کہ توحید ارادہ کی گئی یعنی اللہ تعالیٰ اس کے جاری کرنے کا حکم کریگا اب اس کا مقابلہ سوائے صبر کے نہیں ہوسکتا یا یہ کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1۔ سبب نزول ابتدائی آیات کا یہ ہے کہ ابو طالب کے مرض میں قریش ان کے پاس آئے، اور حضور ﷺ بھی تشریف لائے، تو قریش نے ان سے شکایت کی، انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ اپنی قوم سے کیا بات چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس سے تمام عرب ان کا مطیع ہوجائے اور عجم ان کو جزیہ دینے لگیں، انہوں نے پوچھا وہ ایک کلمہ کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کہنے لگے کہ تو سب معبودوں کی نفی کر کے ایک ہی معبود قرار دے دیا، یہ عجب بات ہے۔ اس پر ص سے بل لما یذوقوا عذاب تک نازل ہوا۔
Read the full tafseer →قریش کے سرداروں نے کہا کہ اپنے معبودوں پر قائم رہو ، کہنے والے کی کوئی خاص غرض ہے
6 : قریش کے سرداروں نے نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کی بعثت کے پہلے دو تین سال تو شغل بنائے رکھا اور ان کے مختلف نام رکھے اور یہی کہتے رہے کہ وہ محمد تھا لیکن مذمم۔ اس کو کسی کی مار لگ گئی۔ بیچارے پر کسی نے جادو کر دا ہے لیکن جب آہستہ آہستہ آپ کی تحریک چل نکلی اور معدودے چند آدمی ایمان لے آئے تو ان کو فکر لاحق ہوئی اور کبھی جب آپس میں مل بیٹھتے تو مجلس میں آپ کا ذکر مختلف پیرایوں میں ہوتا اور اپنی اپنی رائے دے کر بات ختم ہوجاتی اور کوئی اہم قدم انہوں نے نہ اٹھایا کبھی کبھار آپ کے چچا ابو طالب سے آپ کی شکایت کرتے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
In verse 6, it was said: وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ (And the leaders among them went forth saying (to their followers)," Walk away (from the Prophet) and stay firm on (adhering to) your gods - 12). This is pointing out to the event mentioned above that, once they heard the call to pure monotheism (tauhid), they left the meeting.
Read the full tafseer →6 The allusion is to the chiefs who got up and left Abu Talib when they had heard what the Holy Prophet said.
7 "This thing" : the Holy Prophet's asking them to affirm faith in "La ilaha ill-Allah " so as to overpower both Arabia and the adjoining lands.
8 What they meant to say was this: "Muhammad has some vested interests: He is extending this invitation to us in order to subjugate us and rule us as his subjects."
Read the full tafseer →