Saad 38:5

Saad · from ayah 5

38:5

اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ۖۚ— اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ ۟اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا ۖۚ اِنَّ هٰذَا لَشَىۡءٌ عُجَابٌ

کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Has he made the gods [only] one God? Indeed, this is a curious thing."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:5

کیا اِس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا۔ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا اس نے سارے معبودوں کو ایک ہی معبود میں تبدیل کردیا ہے ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا اس نے بہت خداؤں کا ایک خدا کردیا بیشک یہ عجیب بات ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبود بنا رکھا ہے؟ بے شک یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا ؟ بلاشبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس نے تو سب خداؤں کو ایک ہی الٰہ بنا ڈالا۔ یہ کیسی عجیب بات ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک کردیا۔ یہ تو بڑی ہی عیب بات ہوئی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا اس نے ان سارے خداؤں کی جگہ ایک ہی خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو واقعی ایک بڑی ہی عجیب بات ہے

— مولانا اسحاق مدنی

ارے اس نے خداؤں کو بس ایک خدا کردیا ! بیشک یہ بڑی انوکھی بات ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا اس نے تمام معبودوں کو بس ایک معبود بنا دیا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Has he made the gods one single God? This is truly astounding.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Has he (not) turned all the gods into a single God? It is a very strange thing indeed.

— Muhammad Taqi Usmani

Has he (not) turned all the gods into a single God? It is a very strange thing indeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Has he made the gods into One God. Verily, this is a curious thing!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Maketh he the gods One Allah? Lo! that is an astounding thing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Has he made the gods [only] one God? Indeed, this is a curious thing."

— Saheeh International

They say, "Has he condemned all other gods but One? This is certainly strange".

— Muhammad Sarwar

What! makes he the gods a single Allah? A strange thing is this, to be sure!

— Muhammad Habib Shakir

Maketh he the gods One God? Verily that is a thing astounding!

— Abdul Majid Daryabadi

"Has he made the gods (all) into one Allah? Truly this is a wonderful thing!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–11

مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔ حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة صٓ 4 یعنی یہ ایسے احمق لوگ ہیں کہ جب ایک دیکھا بھالا آدمی خود ان کی اپنی جنس، اپنی قوم اور اپنی ہی برادری میں سے ان کو خبردار کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے تو ان کو یہ عجیب بات معلوم ہوئی۔ حالانکہ عجیب بات اگر ہوتی تو یہ ہوتی کہ انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے آسمان سے کوئی اور مخلوق بھیج دی جاتی، یا ان کے درمیان یکایک ایک اجنبی آدمی کہیں باہر سے آکھڑا ہوتا اور نبوت کرنا شروع کردیتا۔ اس صورت میں تو بلاشبہ یہ لوگ بجا طور پر یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ عجیب حرکت ہمارے ساتھ کی گئی ہے، بھلا جو انسان ہی نہیں ہے وہ ہمارے حالات اور جذبات اور ضروریات کو کیا جانے گا کہ ہماری رہنمائی کرسکے، یا جو اجنبی آدمی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خلاصہ تفسیر ص (اس کے معنی تو اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے (کہ کفار آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہوئے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں) بلکہ (خود) یہ کفار (ہی) تعصب اور (حق کی) مخالفت میں (پڑے) ہیں (اور اس تعصب و مخالفت کا وبال ایک روز ان پر پڑنے والا ہے جیسا) ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم (عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں، سو انہوں نے (ہلاکت کے وقت) بڑی ہائے پکار کی (اور بہت شور و غل مچایا) اور (اس وقت شوروغل سے کیا ہوتا ہے، کیونکہ) وہ وقت خلاصی کا نہ تھا (اس لئے کہ عذاب جب آ چکے تو یہ بھی قبول نہیں ہوتی) اور ان کفار (قریش) نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس ان (ہی) میں سے (یعنی جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اجعل الا لھۃ الھا واجب ان ھذا بشیء عجاب (5) قریش کا زہریلا پروپیگنڈا آنحضرت ﷺ کے دعوائے نبوت کے ساتھ دوسری چیز جس سے قریش کے لیڈروں کو سب سے زیادہ چڑ تھی وہ آپ کی دعوت توحید تھی۔ اس کی آڑے کر وہ اپنے عوام کو آپ کے خلاف خوب بھڑکاتے چونکہ قبیلہ قبیلہ کے بت جدا جدا تھے اور ہر قبیلہ اپنے بت کے ساتھ اندھی بہری عقیدت رکھتا تھا اس وجہ سے وہ قبائل کی عصبیت بھڑکانے کے لئے یہ زہریلا پروپیگنڈا کرتے کہ اس شخص نے تمام معبودوں کو ختم کر کے ایک معبود بنا ڈالا، اس سے زیادہ عجیب بات اور کیا ہو سکتی ہے ! اس فقرے کے اندر غور کیجیے تو دو زہر چھپے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ اس شخص نے اس معبود کے سوا جس کو یہ خود معبود…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

5۔ 1 یعنی ایک ہی اللہ ساری کائنات کا نظام چلانے والا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی طرح عبادت اور نذر و نیاز کا مستحق بھی صرف وہی ایک ہے ؟ یہ ان کے لئے تعجب انگیز بات تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–5

2: یہ ترجمہ اس جملے کی اس ترکیب پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ”اظھر“ کہہ کر نقل کی ہے (روح المعانی ج :23 ص 217)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اجعل الاٰلھۃ۔۔۔۔ الااختلاق (38: 7) کیا اس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر۔ یہ بات تو کسی اور ہی غرض کے لیے کہی جارہی ہے۔ یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی۔ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات “۔ قرآن کریم اسلامی نظریہ حیات سے ان کی دہشت اور بوکھلاہٹ کی خوب تصویر کشی کرتا ہے۔ اجعل الاٰلھۃ الٰھاواحدا (38: 5) ” کیا اس نے تمام الہوں کو ایک الہہ بنا دیا “۔ گویا اسلام کا فطری عقیدہ ایک انہونی اور ناقابل تصور بات ہے۔ ان ھٰذآلشیء عجاب (38: 5) ” یہ تو ایک عجیب نظریہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 5–6

6 یعنی اور لیجئے ! اتنے بیشمار دیوتاؤں کا دربار ختم کر کے صرف ایک خدا رہنے دیا۔ اس سے بڑھ کر تعجب کی بات کیا ہوگی کہ اتنے بڑے جہان کا انتظام اکیلے ایک خدا کے سپرد کردیا جائے۔ اور مختلف شعبوں اور محکموں کے جن خداؤں کی بندگی قرنوں سے ہوتی چلی آتی تھی وہ سب یک قلم موقوف کردی جائے۔ گویا ہمارے باپ دادے نرے جاہل اور بیوقوف ہی تھے جو اتنے دیوتاؤں کے سامنے سر عبودیت خم کرتے رہے۔ روایات میں ہے کہ ابو طالب کی بیماری میں ابو جہل وغیرہ چند سرداران قریش نے ابو طالب سے آن کر حضرت ﷺ کی شکایت کی کہ یہ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ اور ہمیں طرح طرح سے احمق بناتے ہیں۔ آپ ان کو سمجھائیے۔ آنحضرت ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 { اَجَعَلَ الْاٰلِہَۃَ اِلٰہًا وَّاحِدًاج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} ”کیا اس نے تمام معبودوں کو بس ایک معبود بنا دیا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے !“ جیسا کہ قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے ‘ زیر مطالعہ گروپ کی ان سورتوں کا مرکزی مضمون توحید ہے جو اس آیت میں بڑے موثر اور زوردار انداز میں بیان ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

5 سمجھوتہ کے لئے ایک 25 رکنی وفد کا ابو طالب کے پاس آنا :۔ ان آیات کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ 10 نبوی میں ابو طالب بیمار پڑگئے (اسی مرض سے ان کی وفات ہوئی اور اس سال ام المومنین سیدہ خدیجہ ؓ کا انتقال ہوا تھا لہذا اس سال کو عام الحزن کہا جاتا تھا۔ کیونکہ اس سال رسول اللہ کو یہ دونوں بھاری صدمے پہنچے تھے) اس وقت ابو طالب کی عمر 80 برس کی ہوچکی تھی نیز رسول اللہ کی حمایت میں انہوں نے جو مصائب، اور شعب ابی طالب میں جو فاقے جھیلے تھے انہوں نے ابو طالب کو بہت کمزور کردیا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب ان کی زندگی کے دن گنے جاچکے ہیں۔ سرداران قریش کو خیال آیا کہ اگر ابو طالب کے مرنے کے بعد ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ پیغمبر برحق کا اصلی جرم ان کج فہموں کے نزدیک یہی تلقین توحید تھی، وہ کہتے تھے عالم میں قد م قدم پر توتنوع، تعدد، اختلاف ہے، اس کثرت کا مصدر وحدت کو فرض ہی کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ رات الگ ہے، دن الگ، آگ اور شے ہے پانی اور۔ زمین الگ مخلوق ہے آسمان الگ، انمیں سے ہر ایک کے کاروبار کے لیے ایک مستقل حاکم، متصرف فرماں روا کی ضرورت ہے، اور یہی دیوی دیوتا ہیں، سب کو مٹا کر صرف ایک مؤثر حقیقی وفاعل اصلی کو ماننے کے کوئی معنی ہی نہیں۔ (آیت) ” عجاب “ عجاب مرادف ہے عجیب کا، البتہ اس میں زور عجیب سے زیادہ ہے۔ ھو العجیب الا انہ ابلغ من العجیب (کبیر) اے بلیغ فی العجب (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اجعل الالھۃ الھا واحدا ان ھذا الشیء عجاب جھوٹا ہے (جادوگروں جیسے کرشمے دکھاتا ہے اور نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے) کیا (ایسا شخص سچا ہوسکتا ہے کہ) اس نے سارے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دے دی ؟ واقعی یہ بہت بڑی عجیب بات ہے۔ منذرمنھم یعنی ایک انسان اور بھی انہی میں سے ‘ پیغمبرہو کر ان کو ڈرانے آیا ہے۔ وقال الکافرون اظہار غضب اور ندمت کیلئے اور اس بات پر تنبیہ کرنے کیلئے کہ کفر نے ہی ان کو ایسا کہنے کی جرأت دلائی ‘ بجائے ضمیر کے الکافرون صراحت کے ساتھ فرمایا۔ ھٰذا ساحرٌیعنی اس کے معجزے ‘ اس کے جادو کے کرشمے ہیں۔ کذَّابٌ یعنی نبوت کے دعوے میں پکا جھوٹا ہے۔ اَجَعَلَیہ سوال بطور تعجب ہے ‘ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

انہوں نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود رہنے دیا کہ ہمارے طرف ضروریات کے لیے ایک معبود کافی ہے ان کی یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَجَعَلَ الْاٰلِـهَةَ اِلٰــهًا وَّاحِدًا : یعنی کیا ایک ”اللہ“ ہی ساری کائنات کا نظام چلا رہا ہے اور وہ ایک ہی عبادت کا مستحق ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اس نے تو وہ سارے دیوتا اور داتا و دستگیر ہی ختم کردیے جنھیں دنیا مانتی چلی آئی ہے۔ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ :”عُجَابٌ“ عجیب کے معنی میں ہے، مگر اس میں مبالغہ زیادہ ہے، جیسا کہ لمبے آدمی کو ”طویل“ کہتے ہیں اور زیادہ ہی لمبا ہو تو اسے ”طُوال“ کہتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کا ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دینا ان کی نظر میں حد سے زیادہ عجیب بات تھی، کیونکہ ان کے نزدیک اپنے آباء سے سنی ہوئی بات کے خلاف کوئی بات انتہائی عجیب بات تھی، جیسا کہ ان کی زبانی آگے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

4 ۔ 5:۔ ان جاء ھم میں ان محل نصب میں ہے اس کا معنی ہے من ان جاء ھم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا تعلق فی عزۃ فی شقاق کے ساتھ ہے تقدیر کلام یہ بنے گی فی عزۃ و شقاق و عجبوا اور کم اھلکنا جملہ معترضہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نہیں بلکہ یہاں سے کلام کا آغاز ہے یعنی ان کی جہالت میں سے یہ بات ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا۔ کافروں نے کہا : یہ جادو گر ہے یہ آراستہ کلام لاتا ہے جس کے ساتھ لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے جادو کے ذریعے والد اور اس کے بچے ‘ خاوند اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرتا ہے کذاب یعنی دعوی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–16

:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَجَعَلَ [کیا اس نے بنا لیا ] الْاٰلِـهَةَ [سارے خداؤں کو ] اِلٰــهًا وَّاحِدًا ښ [ایک تنہا الٰہ ] اِنَّ ھٰذَا [بیشک یہ ] لَشَيْءٌ عُجَابٌ [یقینا ایک نتہائی حیران کن چیز ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–5

(وَعَجِبُوْا اَنْ جَاءَ ھُمْ مُنْذِرٌ مِّنْہُمْ ) (اور انہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آگیا) اس میں ان کے لیے دو باتیں تعجب کی تھیں ایک تو یہ کہ انسان اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہے دوسرے یہ کہ ہمارے ہی اندر سے نبی بھیجا گیا ہے اگر ہمارے اندر سے اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا تھا تو کوئی سردار آدمی ہوتا کما فی سورة الزخرف (لَوْلاَ نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ) (وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سَاحِرٌ کَذَّابٌ) (اور کافروں نے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے بڑا جھوٹا ہے) رسول اللہ ﷺ کے معجزات دیکھ کر انہوں نے یہ بات کہی تھی، کافروں نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

آغاز سورت از بیان حقانیت قرآن ووعید وتنبیہ برغرور و انکار متکبرین و کفار : (آیت) ” قال اللہ تعالیٰ ۔ ص والقران ذی الذکر ....... الی ....... ان ھذا الا اختلاق “۔ (ربط سورة ) گذشتہ سورة والصافات کی ابتداء توحید کے مضمون سے ہوئی اور خاتمہ (آیت ) ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین (ط) سے مسئلہ نبوت و توحید پر ہوا اس مناسبت سے اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی حقانیت اور عظمت شان سے ہوا جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے نیز گذشتہ سورت کیطرح اس میں بھی انبیاء سابقین کے واقعات ذکر فرمائے گئے جن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

6:۔ اجعل الخ : تمام معبودوں کی الوہیت کی یکسر نفی کر کے اس نے الوہیت کو صرف ایک ذات پاک کے ساتھ مختص قرار دے دیا ہے اور کہتا ہے کہ ایک خدا کے سوا کوئی الہ (معبود) نہیں اور نہ ہی کوئی کارساز ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں۔ یہ بات تو نہایت ہی حیرت انگیز اور تعجب افزا ہے۔ عجاب صیغہ مبالغہ ہے۔ والعجاب الذی قد تجاوز حد العجب (قرطبی ج 15 ص 150) جن لوگوں نے خدا کے علاوہ سینکڑوں ہزاروں معبود اور کارساز بنا رکھے ہوں ان کے لیے مسئلہ توحید واقعی نہایت ہی تعجب انگیز ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة ص ہے جو کہ اس کے پہلے حرف سے ماخوذ ہے ، یہ مکی سورة ہے مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ یہ سورة نبوت کے چوتھے یا دسویں سال میں نازل ہوئی اور اس طرح یہ سورة گویا ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس سورة مبارکہ کی اٹھاسی (88) آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة 731 الفاظ اور 3660 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) مکی سورة ہونے کے ناطے سے اس میں بھی زیادہ تر بنیادی مضامین یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت اور وصداقت ہی بیان ہوئے ہیں اثبات توحید کے سلسلے میں گذشتہ کی ابتداء میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا تھا کہ (آیت) ” ان الھکم لواحد “۔ یعنی تمہارا معبود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَجَعَلَ الْاٰلِـہَۃَ اِلٰــہًا وَّاحِدًا۝ 0 ۚۖ اِنَّ ھٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ۝ 5 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة «3» لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود «4» . وقیل : هو من :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–8

وعجبوا ان جاء الخ یہ کفار اس بات سے تعجب کرتے ہیں کہ انہی کی قوم اور جنس میں سے ایک شخص خدا کا رسول کیونکر ہوگیا۔ (یعنی محمد) اور اس کو جادوگر اور جھوٹا بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود یعنی اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے، ان بہت سے معبودوں کے مقابلہ میں اور ان کی جگہ ایک کو قائم کرتا ہے۔ یہ تعجب کی بات ہے، ایک شخص تمام کاروبار مخلوق کی نگرانی کاربراری کیونکر کرسکتا ہے ؟ یہ کہہ کر کفار کی جماعت اٹھ کھڑی ہوئی کہ اٹھ چلو اور اپنے معبودوں کو پوجے جائو، یہ ایک نئی بات ہے۔ پہلے ہم نے کسی سے نہیں سنی نہ کوئی پہلوں میں سے کہتا تھا اور کیا وجہ کہ ہم میں سے ذکر یعنی پیغمبری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰـھًا وَّاحِدًا صلے ج اِنَّ ھٰذَا لَشَیْ ئٌ عُجَابٌ۔ (صٓ: 5) (کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک معبود کردیا، یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔ ) قریش کا عجیب پروپیگنڈا قریش اور دیگر مخالفین کو آنحضرت ﷺ کی نبوت کے بعد سب سے زیادہ جس چیز پر اعتراض تھا وہ آپ کی توحید کی دعوت تھی۔ آپ پوری قوت سے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات، اس کی صفات اور اس کے حقوق میں واحد اور یکتا قرار دیتے تھے۔ نہ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق ہے اور نہ اس کے سوا کوئی غیرمشروط مطاع ہے۔ جس طرح وہ اپنی ذات میں یکتا ہے اسی طرح وہ اپنی صفات میں بھی یکتا ہے۔ اور اس کی ذات وصفات کے تقاضوں کے طور پر جو حقوق اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–10

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرک تکبر کی بنیاد پر اللہ کی وحدت اور نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے اور اس کے لیے لیڈر عوام کو روکتے تھے۔ کفار کی اکثریت یہ بات جانتی تھی کہ پہلی امتوں میں جو رسول بھیجے گئے وہ اپنی قوم کے ایک فرد ہی ہوا کرتے تھے۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجودکفار پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے پیغام اور کام کے لیے کسی انسان کو منتخب کرے اگر اس نے کسی انسان کو ہی رسول بنانا ہوتا تو ایسے شخص کو کیوں منتخب کرتا جو مالی لحاظ سے کنگال اور سماجی اعتبار سے یتیم ہے۔ فی الواقع لوگوں میں ہی کسی کو رسول منتخب کرنا ہوتا تو وہ مکہ کے سرداروں یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

توحید پر تعجب مگر شرک پر نہیں : 5: اَجَعَلَ الْاٰلِھَۃَ اِلٰھـًا وَّاحِدًا اِنَّ ھٰذَا ( کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود رہنے دیا) واقعی لَشَیْئٌ عُجَابٌ (یہ بہت ہی عجیب بات ہے) یہاں وقالوا کا لفظ استعمال نہیں فرمایا تاکہ ان پر غضب کا اظہار ہو اور اس بات پر دلالت ہو کہ اس بات کی جسارت وہ کافر ہی کرسکتا ہے جو کفر میں انتہاء کو پہنچا ہو۔ اور گمراہی میں خوب مشغول ہو۔ اس لئے کہ اس سے بڑا کفر اور کیا ہوگا کہ جسے اللہ تعالیٰ سچا بناکر بھیجے یہ اس کو کاذب و ساحر کہیں اور توحید جیسے واضح اور کھلے ہوئے حق پر تعجب کا اظہار کریں اور شرک پر ان کو ذرا تعجب نہ ہو۔ حالانکہ وہ محض باطل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5، اجعل الا لھۃ الھا واحدا ، جب حضرت عمر بن خطاب ؓ مسلمان ہوگئے تو قریش کو آپ کا مسلمان ہوجانا بڑاشاق گزرا لیکن مسلمانوں کو بڑی خوشی ہوئی ۔ ولید بن مغیرہ نے سرداران قریش کی ایک جماعت کو جو تعداد میں پچیس تھے جمع کرکے کہا ، چلو ابوطالب کے پاس چلیں۔ ولید بن مغیرہ کی عمر سب سے زیادہ تھی۔ حسب مشورہ سب لوگ ابو طالب کے پاس گئے اور ان سے کہا آپ ہمارے بزرگ اور سردار ہیں اور ان بیوقوف لوگوں کی حرکتوں سے آپ واقف ہیں ، ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ ہمارا اپنے بھتیجے سے تصفیہ کر اد یجئے ۔ ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلوایا۔ جب آپ ﷺ تشریف لے آئے تو ابو طالب نے کہا میرے بھیتجے ، یہ تمہاری قوم والے تم سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی 1 ؎ نسائی مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم مسند عبد بن حمید بہیقی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھل بلی سی پڑگئی تھی۔ اس لئے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابو طالب کے پاس گئی اور ابو طالب سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ابوطالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا۔ کہ اے میرے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں۔ کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کہ میں قوم کے لوگوں سے ایسی ایک بات چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس کو پورا کر لیویں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 منکرین کا عقیدئہ توحید پر اظہار تعجب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں نے کہا کہ کیا اس شخص نے ان تمام خداؤں کو ایک ہی خدا بنادیا ؟ یہ تو یقینا ایک بڑی ہی عجیب بات ہے "۔ کہ ایک ہی خدا سب کام کرے۔ پوری کائنات کو تھامے اور اس کو چلائے۔ ہر کسی کی حاجت روائی و مشکل کشائی کرے اور اس کا کوئی معاون و مددگار اور وزیر و مشیر نہ ہو۔ بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ اسی لئے ان لوگوں نے بیشمار چھوٹے چھوٹے خود ساختہ خدا تجویز کر رکھے تھے۔ کوئی اولاد دینے کے لئے، کوئی روزی عطا کرنے کے لئے، کوئی صحت و شفاء کے لئے اور کوئی عمومی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے وغیرہ وغیرہ۔ اور بعینہ یہی حال آج کے بہت سے اہل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–26

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة ص رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14 اسرار و معارف : ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی ان لوگوں کو عقیدہ توحید عجیب معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ تعجب کی چیز شرک ہے جس پر کوئی بھی عقلی دلیل قائم نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:5) اجعل ہمزہ استفہامیہ ہے یہ سوال بطور تعجب ہے۔ اجعل الالہم الھا واحدا۔ کیا بنادیا ہے اس نے بہت سے خداؤں کی جگہ ایک خدا۔ صاحب تفسیر ماجدی اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں :۔ ” پیغمبر حق کا اصلی جرم ان کج فہموں کے نزدیک یہی تلقین توحید تھی۔ وہ کہتے تھے کہ عالم میں قدم قدم پر تو تنوع ، تعدد کا اختلاف ہے اس کثرت کا مصدر و حدت کو فرض ہی کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ رات الگ ہے دن آگے ہے آگ اور شے ہے پانی اور زمین الگ مخلوق ہیں ۔ آسمان الگ۔ ان میں سے ہر ایک کے کاروبار کے لئے ایک مستقل حاکم، متصرف فرماں رواء کی ضرورت ہے اور یہی دیوی دیوتا ہیں۔ سب کو مٹا کر صرف ایک مؤثر حقیقی و فاعل اصلی کو ماننے کے کوئی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

(ف 1) شان نزول : حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھلبلی مچ گئی اس لیے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابوطالب کے پاس گئی اور ابوطالب سے نبی ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ، ابوطالب نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو، نبی ﷺ نے جواب دیا کہ میں قوم کے لوگوں سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب وعجم ان کے فرمانبردار ہوجائے، وہ خوش ہوکربولے کہ بتلائیے کہ وہ کلمہ کیا ہے آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں تو آپ نے فرمایا، زیادہ نہیں صرف ایک کلمہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ سنتے ہی طیش میں آکرکھڑے ہوگئے اور کہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[1] یعنی اس کے لائے ہوئے کلام میں اثر اور اس کے پیش کئے ہوئے معجزات اس کے ساحر ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ [2] یعنی دعوائے نبوت میں سخت جھوٹا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 5–8

ف 1: وہ کہتے ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہے ۔ کہ بہت سے خداؤں کا کام تنہا ایک خدا کرسکے پھر جب انہوں نے یہ دیکھا کہ باوجود عجیب وحیرت کے محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ اور ان ہی کو منصب جلیلہ پر فائز کیا گیا ہے ۔ اور توحید کی طرف بلایا جارہا ہے تو ان کے اکابر نے عوام سے کہا ۔ کہ خبردار اس شخص کی باتوں میں نہ آجانا ۔ اور ایسا نہ ہو کہ تم اپنے خداؤں کو چھوڑ دو ۔ دیکھو اپنے بتوں کی عبادت پر قائم رہو ۔ پھر خود آپ ہی کہنے لگے ۔ کہ یہ عقیدہ تو کچھ ایسا ہے ۔ کہ پھیل کر رہے گا ۔ گویا ان کو اپنے عقیدہ کی کمزوری خوب معلوم تھی ۔ اور یہ محسوس کرتے تھے ۔ کہ اس کی خیر نہیں ہے ۔ یہ آج بھی غلط ہے ۔ اور کل بھی غلط ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) کیا اس شخص نے اتنے سارے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود کردیا اور اتنوں کی بندگی کے بدلے ایک ہی کی بندگی کردی۔ بلا شبہ یہ معبودوں کی کاٹ چھانٹ بڑی عجیب بات ہے۔ حضرت نے اپنے چچا ابوطالب سے فرمایا جب چچا نے کہا مکہ والے تمہاری بڑی شکایت کرتے ہیں، اے چچا میں تو صرف ایک کلمہ کہتا ہوں ابوطالب نے لوگوں کو جمع کیا اور کہا محمد ﷺ تو صرف ایک کلمہ کہتا ہے چناچہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا وہ کلمہ کیا ہے آپ نے فرمایا ۔ لاالہ الا اللہ اس پر تمام منکر بگڑ کر کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کیا ایک معبود اس کی گنجائش رکھتا ہے کہ تمام خلائق کا کام چلا سکے۔ ہم تین سو ساٹھ معبود رکھتے ہیں اور وہ سب مل کر ایک مکہ کا انتظام نہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–6

ف 1۔ سبب نزول ابتدائی آیات کا یہ ہے کہ ابو طالب کے مرض میں قریش ان کے پاس آئے، اور حضور ﷺ بھی تشریف لائے، تو قریش نے ان سے شکایت کی، انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ اپنی قوم سے کیا بات چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس سے تمام عرب ان کا مطیع ہوجائے اور عجم ان کو جزیہ دینے لگیں، انہوں نے پوچھا وہ ایک کلمہ کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کہنے لگے کہ تو سب معبودوں کی نفی کر کے ایک ہی معبود قرار دے دیا، یہ عجب بات ہے۔ اس پر ص سے بل لما یذوقوا عذاب تک نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سارے معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود بھی تعجب کی بات ہے 5۔ مکہ والوں نے تقریبا 360 بت تو صرف بیت اللہ کے اندر لا رکھے تھے جن میں سے بعض وہ بھی تھے جو سارے گروہوں کے ساجھی تھے اور بعض ایسے بھی تھے جو قبائل اور گروہوں سے تعلق رکھتے تھے اور بعض محض اشخاص کے پھر ان کی تاریخ بڑی لمبی ہے خصوصا پانچ تن کا ذکر نوح (علیہ السلام) سے چلا آرہا تھا اور یہ قریش مکہ کے ہاں بھی اسی طرح مبارک سمجھے جاتے تھے جس طرح نوح (علیہ السلام) کے زمانہ یعنی ود ، سواع ، یغوث ، یعقوق اور نسر علاوہ ازیں لات ، مناۃ اور عزیٰ بھی بڑے معبودانِ خاص میں سے تھے۔ پہلے پانچ کی تفصیل تو سورة نوح ہی میں آئے گی اور یہ آخری تین کی وضاحت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–5

Commentary The background of the revelation The background of the revelation of the initial verses of this Surah was that Abu Talib, the uncle of the Holy Prophet ﷺ was doing his best as his guardian, despite that he had not yet embraced Islam. When he fell sick, the chiefs of the tribe of Quraish held a consultative meeting in which Abu Jahl, ` As Ibn Wa'il, Aswad Ibn Muttalib, Aswad Ibn ` Abd Yaghuth and several other chiefs participated. They discussed the situation they faced. Abu Talib was sick. If he were to pass away and they were to take some strong action against the Holy Prophet ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

4 That is, "They are so foolish that when a man from their own kind and from their own clan and brotherhood, whom they knew fully well, was appointed to warn them, they wondered at it, whereas it would have been strange if some other kind of creature had been sent down from heaven to warn human beings, or an utter stranger had arisen among them suddenly and started functioning as a prophet. In that case they would have been perfectly justified to say, "What an odd thing! How can this strange creature know our conditions and feelings and requirements that he should guide us? How can we test…

Read the full tafseer →