Saad 38:4

Saad · from ayah 4

38:4

وَعَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ ؗ— وَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ ۟ۖۚوَعَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡهُمۡ‌ۖ وَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ‌

اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they wonder that there has come to them a warner from among themselves. And the disbelievers say, "This is a magician and a liar.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:4

اِن لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ایک ڈرانے والا خود اِنہی میں سے آگیا منکرین کہنے لگے کہ "یہ ساحرہے، سخت جھوٹا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کافروں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک انہیں ڈرانے واﻻ آگیا اور کہنے لگے کہ یہ تو جادوگر اور جھوٹا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان (قریش کے) لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ ایک خبردار کرنے والا انہی میں سے آگیا۔ اور ان کافروں نے یہ کہہ دیا کہ : وہ جھوٹا جادوگر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور انہیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہیں میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا اور کافر بولے یہ جادوگر ہے بڑا جھوٹا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس اُن ہی میں سے ایک ڈر سنانے والا آگیا ہے۔ اور کفّار کہنے لگے: یہ جادوگر ہے، بہت جھوٹا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے اس پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ ایک سخت جھوٹا جادوگر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کافر اس بات پر متعجب ہیں کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا ان کے پاس آیا ہے اور کافر کہنے لگے کہ : یہ تو جادوگر ہے بڑا جھوٹا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاہ کرنے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ تو ساحر اور جھوٹا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان لوگوں کو تعجب ہو رہا ہے اس بات پر کہ ان کے پاس ایک خبردار کرنے والا آگیا خود انہی میں سے اور کافروں نے کہا یہ تو ایک جادوگر ہے بڑا جھوٹا

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ اس پر حیرت کررہے ہیں کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا انہیں میں سے آیا۔ اور (یہ) کافر کہتے ہیں کہ یہ شخص ساحر ہے کذاب ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور انہیں بڑا تعجب ہوا ہے کہ ان کے پاس آیا ہے ایک خبردار کرنے والا ان ہی میں سے اور کافر کہتے ہیں کہ یہ ساحر ہے کذاب ّہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ہدایت کرنے والا آیا اور کافر کہنے لگے ”یہ تو جادوگر ہے جھوٹا

— محترمہ رفعت اعجاز

They wondered that a warner had come to them from among themselves, and the deniers of the Truth said: “This is a sorcerer, and a big liar.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They (the pagans) wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say, :This is a magician, a sheer liar.

— Muhammad Taqi Usmani

They (the pagans) wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say, :This is a magician, a sheer liar.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they wonder that a warner has come to them from among themselves. And the disbelievers say: "This is a sorcerer, a liar."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they marvel that a warner from among themselves hath come unto them, and the disbelievers say: This is a wizard, a charlatan.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they wonder that there has come to them a warner from among themselves. And the disbelievers say, "This is a magician and a liar.

— Saheeh International

It seems strange to the pagans that a man from their own people should come to them as a Prophet. The unbelievers have said, "He is only a lying magician".

— Muhammad Sarwar

And they wonder that there has come to them a warner from among themselves, and the disbelievers say: This is an enchanter, a liar.

— Muhammad Habib Shakir

And they marvel that there should come Unto them a warner from among themselves. And the infidels say: this is a magician and a liar!

— Abdul Majid Daryabadi

So they wonder that a Warner has come to them from among themselves! and the Unbelievers say, "This is a sorcerer telling lies!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 4–11

مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔ حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة صٓ 4 یعنی یہ ایسے احمق لوگ ہیں کہ جب ایک دیکھا بھالا آدمی خود ان کی اپنی جنس، اپنی قوم اور اپنی ہی برادری میں سے ان کو خبردار کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے تو ان کو یہ عجیب بات معلوم ہوئی۔ حالانکہ عجیب بات اگر ہوتی تو یہ ہوتی کہ انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے آسمان سے کوئی اور مخلوق بھیج دی جاتی، یا ان کے درمیان یکایک ایک اجنبی آدمی کہیں باہر سے آکھڑا ہوتا اور نبوت کرنا شروع کردیتا۔ اس صورت میں تو بلاشبہ یہ لوگ بجا طور پر یہ کہہ سکتے تھے کہ یہ عجیب حرکت ہمارے ساتھ کی گئی ہے، بھلا جو انسان ہی نہیں ہے وہ ہمارے حالات اور جذبات اور ضروریات کو کیا جانے گا کہ ہماری رہنمائی کرسکے، یا جو اجنبی آدمی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خلاصہ تفسیر ص (اس کے معنی تو اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے (کہ کفار آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہوئے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں) بلکہ (خود) یہ کفار (ہی) تعصب اور (حق کی) مخالفت میں (پڑے) ہیں (اور اس تعصب و مخالفت کا وبال ایک روز ان پر پڑنے والا ہے جیسا) ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم (عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں، سو انہوں نے (ہلاکت کے وقت) بڑی ہائے پکار کی (اور بہت شور و غل مچایا) اور (اس وقت شوروغل سے کیا ہوتا ہے، کیونکہ) وہ وقت خلاصی کا نہ تھا (اس لئے کہ عذاب جب آ چکے تو یہ بھی قبول نہیں ہوتی) اور ان کفار (قریش) نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس ان (ہی) میں سے (یعنی جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وعجبوآ ان جآء ھم منذرمنھم وقال الکفرون ھذا سخر کذاب (4) مکذبین کا غرور یعنی ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ انہی کے اندر کا ایک شخص ان کے لئے خدا کا منذربن کر آیا۔ خدا کو کوئی منذر ہی بھیجنا ہوتا تو کسی مافوق بشر ہستی کو منذر بناتا، انہی جیسے ایک انسان کو منذر بنانے کے کیا معنی ! اور اگر انسان ہی کو منذر بنانا تھا تو آخر خدا کی نظر ایک غریب آدمی پر کیوں پڑی، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو اس مقصد کے لئے اس نے کیوں نہیں انتخاب کیا ؟ گویا پیغمبر کی بشریت بھی ان کے لئے وجہ انکار بنی اور ان کی غربت و ناداری بھی۔ اس آیت میں پہلی وجہ انکار کی طرف اشارہ ہے۔ آگے آیت 8 میں دوسری وجہ انکار کا ذکر آ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–5

2: یہ ترجمہ اس جملے کی اس ترکیب پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ”اظھر“ کہہ کر نقل کی ہے (روح المعانی ج :23 ص 217)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وعجبوآ۔۔۔ منھم (38: 4) ” اور ان لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ایک ڈرانے والا خود انہی میں سے آگیا “۔ حالانکہ مناسب ترین بات تو یہی ہے کہ ڈرانے والا انہی میں سے ہو ، وہ بشر ہو اور یہ بات جانتا ہو کہ انسان کیا سوچتے ہیں اور ان کے احساسات کیا ہوتے ہیں ۔ ان کے خلجانات کیا ہوتے ہیں اور ان کے وجود میں کیا کشمکش ہے۔ اور ان کے اندر کیا کیا کمزوریاں ہوتی ہیں اور کیا کیا کو تاہیاں ان کے وجود میں ہوتی ہیں۔ ایک انسان ہی یہ جان سکتا ہے کہ انسان میں کہاں کہاں کیا کمزوری ہے۔ کہاں کہاں وہ جذبات اور میلانات کا دباؤ محسوس کرتا ہے۔ اس کی وسعت اور قدرت کی حدود کیا ہیں۔ وہ کس قدر مشقت برداشت کرسکتے ہیں۔ کن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی آسمان سے کوئی فرشتہ آتا تو خیر ایک بات تھی۔ ہم ہی میں سے ایک آدمی کھڑا ہو کر ہم کو ڈرانے دھمکانے لگے اور کہے میں آسمان والے خدا کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ یہ عجیب بات ہے اب بجز اس کے کیا کہا جائے کہ ایک جادوگر نے جھوٹا ڈھونگ بنا کر کھڑا کردیا ہے۔ جادو کے زور سے کچھ کرشمے دکھا کر انہیں معجزہ کہنے لگے اور چند قصے کہانیاں جمع کر کے جھوٹا دعویٰ کردیا کہ یہ اللہ کے اتارے ہوئے علوم ہیں۔ اور میں اس کا پیغمبر ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { وَعَجِبُوْٓا اَنْ جَآئَ ہُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ } ”اور انہیں بڑا تعجب ہوا ہے کہ ان کے پاس آیا ہے ایک خبردار کرنے والا ان ہی میں سے“ { وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ہٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ } ”اور کافر کہتے ہیں کہ یہ ساحر ہے ‘ کذاب ّہے۔“ یہ بہت سخت الفاظ ہیں ‘ لیکن قرآن نے مشرکین ِمکہ ّکے قول کے طور پر انہیں جوں کا توں نقل کیا ہے۔ ان الفاظ سے دراصل حضور ﷺ کی مخالفت کی اس کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے جو اس سورت کے نزول کے وقت مکہ کے ماحول میں پائی جاتی تھی۔ اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے یہ معلومات اپنے حافظے میں پھر سے تازہ کرلیں کہ مکی سورتوں کے پچھلے گروپ کی آٹھ سورتیں الفرقان تا السجدۃ اور زیر مطالعہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

3 تعجب کی بات تو تب تھی کہ نبی کوئی اجنبی یا فرشتہ ہوتا : ان کی عقل پر کچھ اس طرح پتھر پڑگئے ہیں کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا ہے جو ان کی زبان جانتا ہے، انہی کی زبان میں انہیں سمجھاتا ہے، تو انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ ہم جیسا ہی ایک آدمی رسول بن بیٹھا ہے۔ حالانکہ تعجب کی بات تو تب تھی کہ کوئی اجنبی ان میں نبی بنا کر بھیج دیا جاتا جس کی زبان نہ یہ سمجھتے نہ وہ ان کی زبان سمجھتا۔ یا کوئی فرشتہ نبی بنا کر ان پر مسلط کردیا جاتا جو ان کے انکار پر ان کی گردنیں توڑ کر رکھ دیتا۔ 4 کافر آپ کو جادوگر ان معنوں میں کہتے تھے کہ آپ اللہ کا جو کلام پیش کرتے تھے۔ اس میں اس قدر شیرینی اور تاثیر تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (کوئی فوق البشر نہیں، بلکہ انہیں جیسا بشر و انسان) مشرکوں کی سمجھ میں یہی تو نہیں آتا کہ ایک بشر مرتبہ رسالت پر کیسے پہنچ سکتا ہے، دیوتا پرستی ان کی سمجھ میں آجاتی ہے۔ اوتار، مظہریت، عینیت، حلول کے عقیدے عین ان کے مذاق طبیعت کے موافق ہیں۔ بس ایک نہ سمجھ میں آنے والی بات یہی مسئلہ سفارت الہی و رسالت ہے۔ بار بار اسی پر الجھتے تھے۔ ضمیر ھم جنس بشر کی جانب ہے۔ رسول من جنسھم اے بشرا (روح) یعنی استبعدوا ان یکون النبی من البشر (مدارک) 6۔” اس کے لائے ہوئے کلام میں اثر اور اس کے پیش کیے ہوئے معجزات تو نتیجہ ہیں، اس کے کمال ساحری کا اور اس کا دعوی نبوت و رسالت تمامتر بےبنیاد ہے “۔ جب نقطہ آغاز یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وعجبوا ان جاء ھم منذرمنھم وقال الکفرون ھذا ساحر کذاب۔ اور انہوں نے (یعنی کفار مکہ نے) اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا (پیغمبر) آگیا ‘ اور کہا : یہ شخص جادوگر ہے ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور ان کفار قریش نے اس بات سے تعجب کیا کہ ان کی قوم میں سے ایک پیغمبر ڈرانے والا آگیا اور کفار مکہ یہاں تک کہنے لگے کہ نعوذ باللہ محمد ساحر اور دعوی نبوت میں جھوٹے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَعَجِبُوْٓا اَنْ جَاۗءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ : یعنی انھیں اس بات پر تعجب ہو رہا ہے کہ ان کے پاس ڈرانے اور خبردار کرنے کے لیے اسے بھیجا گیا جو ان کی جنس انسان سے ہے، ان کی قوم عرب سے ہے اور ان کے قبیلے قریش سے ہے، حالانکہ عجیب بات تو اس وقت ہوتی جب کوئی فرشتہ یا عجمی ان کی طرف بھیجا جاتا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (164) ، توبہ (128) اور سورة یونس (2) کی تفسیر۔ وَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ : ”کَفَرَ یَکْفُرُ“ کا معنی انکار بھی ہے اور چھپانا بھی۔ یہاں ”وَقَالُوْا“ (اور انھوں نے کہا) کے بجائے ”وقال الکفرون“ (اور کافروں نے کہا) کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 4–5

4 ۔ 5:۔ ان جاء ھم میں ان محل نصب میں ہے اس کا معنی ہے من ان جاء ھم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا تعلق فی عزۃ فی شقاق کے ساتھ ہے تقدیر کلام یہ بنے گی فی عزۃ و شقاق و عجبوا اور کم اھلکنا جملہ معترضہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نہیں بلکہ یہاں سے کلام کا آغاز ہے یعنی ان کی جہالت میں سے یہ بات ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آیا۔ کافروں نے کہا : یہ جادو گر ہے یہ آراستہ کلام لاتا ہے جس کے ساتھ لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے جادو کے ذریعے والد اور اس کے بچے ‘ خاوند اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کرتا ہے کذاب یعنی دعوی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–16

:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَعَجِبُوْٓا [اور وہ حیرت زدہ ہوئے ] اَنْ جَاۗءَهُمْ [کہ آیا ان کے پاس ] مُّنْذِرٌ [ایک خبردار کرنے والا ] مِّنْهُمْ ۡ [ان میں سے ] وَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ [اور کہا انکار کرنے والوں نے ] ھٰذَا سٰحِرٌ [یہ ایک جادو کرنے والا ہے ] كَذَّابٌ [انتہائی جھوٹا ہے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 4–5

(وَعَجِبُوْا اَنْ جَاءَ ھُمْ مُنْذِرٌ مِّنْہُمْ ) (اور انہیں اس بات سے تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک ڈرانے والا آگیا) اس میں ان کے لیے دو باتیں تعجب کی تھیں ایک تو یہ کہ انسان اللہ کا پیغمبر بن کر آیا ہے دوسرے یہ کہ ہمارے ہی اندر سے نبی بھیجا گیا ہے اگر ہمارے اندر سے اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا تھا تو کوئی سردار آدمی ہوتا کما فی سورة الزخرف (لَوْلاَ نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ ) (وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سَاحِرٌ کَذَّابٌ) (اور کافروں نے کہا کہ یہ شخص جادوگر ہے بڑا جھوٹا ہے) رسول اللہ ﷺ کے معجزات دیکھ کر انہوں نے یہ بات کہی تھی، کافروں نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

آغاز سورت از بیان حقانیت قرآن ووعید وتنبیہ برغرور و انکار متکبرین و کفار : (آیت) ” قال اللہ تعالیٰ ۔ ص والقران ذی الذکر ....... الی ....... ان ھذا الا اختلاق “۔ (ربط سورة ) گذشتہ سورة والصافات کی ابتداء توحید کے مضمون سے ہوئی اور خاتمہ (آیت ) ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین (ط) سے مسئلہ نبوت و توحید پر ہوا اس مناسبت سے اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی حقانیت اور عظمت شان سے ہوا جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے نیز گذشتہ سورت کیطرح اس میں بھی انبیاء سابقین کے واقعات ذکر فرمائے گئے جن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ وعجبوا الخ : یہ زجر ہے یہاں سے بل ھم فی شک من ذکری، تک کفار مکہ کے استکبار وعناد کا ذکر ہے۔ منذر منہم : انہیں اس پر بھی حیرت اور تعجب ہے کہ انہی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر ان کی طرف بھیج دیا گیا ہے۔ (منذر منہم) رسول بشر من انفسہم (جامع البیان ص 389) ۔ 5:۔ وقال الکفرون الخ : یہ شکوی ہے کفار کے عناد کا۔ کافروں نے کہا یہ تو کوئی جادوگر ہے۔ اس کے ہاتھ پر جادوگروں کی طرح شعبدے ظاہر ہوتے ہیں اور وحی و نبوت کے دعوے میں جھوٹا ہے۔ خدا پر جھوٹ باندھتا ہے۔ (العیاذ باللہ) ۔ معجزات کو جادو کے شعبدات قرار دینا اور ایک ایسے راست گو انسان کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا جس نے ساری زندگی میں کبھی جھوٹ نہ بولا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة ص ہے جو کہ اس کے پہلے حرف سے ماخوذ ہے ، یہ مکی سورة ہے مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ یہ سورة نبوت کے چوتھے یا دسویں سال میں نازل ہوئی اور اس طرح یہ سورة گویا ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس سورة مبارکہ کی اٹھاسی (88) آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة 731 الفاظ اور 3660 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) مکی سورة ہونے کے ناطے سے اس میں بھی زیادہ تر بنیادی مضامین یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت اور وصداقت ہی بیان ہوئے ہیں اثبات توحید کے سلسلے میں گذشتہ کی ابتداء میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا تھا کہ (آیت) ” ان الھکم لواحد “۔ یعنی تمہارا معبود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَعَجِبُوْٓا اَنْ جَاۗءَہُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْہُمْ۝ 0 ۡوَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ۝ 4ۖۚ عجب العَجَبُ والتَّعَجُّبُ : حالةٌ تعرض للإنسان عند الجهل بسبب الشیء، ولهذا قال بعض الحکماء : العَجَبُ ما لا يُعرف سببه، ولهذا قيل : لا يصحّ علی اللہ التَّعَجُّبُ ، إذ هو علّام الغیوب لا تخفی عليه خافية . يقال : عَجِبْتُ عَجَباً ، ويقال للشیء الذي يُتَعَجَّبُ منه : عَجَبٌ ، ولما لم يعهد مثله عَجِيبٌ. قال تعالی: أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً أَنْ أَوْحَيْنا [يونس/ 2] ، تنبيها أنهم قد عهدوا مثل ذلک قبله، وقوله : بَلْ عَجِبُوا أَنْ جاءَهُمْ [ ق/ 2] ، وَإِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ [ الرعد/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 4–8

وعجبوا ان جاء الخ یہ کفار اس بات سے تعجب کرتے ہیں کہ انہی کی قوم اور جنس میں سے ایک شخص خدا کا رسول کیونکر ہوگیا۔ (یعنی محمد) اور اس کو جادوگر اور جھوٹا بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر ایک معبود یعنی اللہ کی عبادت کا حکم دیتا ہے، ان بہت سے معبودوں کے مقابلہ میں اور ان کی جگہ ایک کو قائم کرتا ہے۔ یہ تعجب کی بات ہے، ایک شخص تمام کاروبار مخلوق کی نگرانی کاربراری کیونکر کرسکتا ہے ؟ یہ کہہ کر کفار کی جماعت اٹھ کھڑی ہوئی کہ اٹھ چلو اور اپنے معبودوں کو پوجے جائو، یہ ایک نئی بات ہے۔ پہلے ہم نے کسی سے نہیں سنی نہ کوئی پہلوں میں سے کہتا تھا اور کیا وجہ کہ ہم میں سے ذکر یعنی پیغمبری…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَعَجِبُوْا اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْھُمْ ز وَقَالَ الْـکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ۔ (صٓ: 4) (اور ان لوگوں نے تعجب کیا کہ ایک ڈرانے والا خود ان ہی میں سے آگیا، اور کافروں نے کہا، یہ ساحر ہے، سخت جھوٹا ہے۔ ) مخالفین کے آنحضرت ﷺ کی نبوت پر اعتراضات قریش اور دیگر مخالفین آنحضرت ﷺ کے دعویٰ نبوت کا انکار کرتے ہوئے مختلف طریقے اختیار کرتے تھے تاکہ حتی الامکان لوگوں کو آپ کی شخصیت سے متاثر ہونے کا موقع نہ دیں اور آپ کی بات کو زیادہ سے زیادہ غیرمعتبر ٹھہرائیں۔ کبھی تو وہ آپ کی نبوت کا صاف صاف انکار کرتے۔ اور قرآن کریم نے متعدد مواقع پر اس کا بھی ذکر کیا ہے۔ اور کبھی آپ کے دعویٰ نبوت پر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 4–10

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرک تکبر کی بنیاد پر اللہ کی وحدت اور نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے اور اس کے لیے لیڈر عوام کو روکتے تھے۔ کفار کی اکثریت یہ بات جانتی تھی کہ پہلی امتوں میں جو رسول بھیجے گئے وہ اپنی قوم کے ایک فرد ہی ہوا کرتے تھے۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجودکفار پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے پیغام اور کام کے لیے کسی انسان کو منتخب کرے اگر اس نے کسی انسان کو ہی رسول بنانا ہوتا تو ایسے شخص کو کیوں منتخب کرتا جو مالی لحاظ سے کنگال اور سماجی اعتبار سے یتیم ہے۔ فی الواقع لوگوں میں ہی کسی کو رسول منتخب کرنا ہوتا تو وہ مکہ کے سرداروں یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفار کا تعجب : 4: وَ عَجِبُوْا اَنْ جَآ ئَ ھُمْ (اور انہوں نے تعجب کیا کہ ان کے پاس آگیا) عجب کا صلہ من محذوف ہے۔ کہ آمد سے تعجب کیا۔ مُّنْذِرٌ مِّنْھُمْ (ڈرانے والا انہی میں سے) رسول انہی میں سے یعنی انہوں نے اس بات کو بعید قرار دیا کہ کوئی بشر پیغمبر بن جائے۔ وَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ھٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ (اور کافر کہنے لگے کہ یہ شخص ساحر کذاب ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4، وعجبوا، اس سے مراد کفار مکہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ، بل الذین کفروا،۔۔۔۔۔۔ ، ان جاء ھم منذرمنھم، رسول وہ بھی ان ہی میں سے تھا جوان کو ڈرارہا تھا۔ ، وقال الکافرون ھذاساحرکذاب،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی 1 ؎ نسائی مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم مسند عبد بن حمید بہیقی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھل بلی سی پڑگئی تھی۔ اس لئے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابو طالب کے پاس گئی اور ابو طالب سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ابوطالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا۔ کہ اے میرے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں۔ کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کہ میں قوم کے لوگوں سے ایسی ایک بات چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس کو پورا کر لیویں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

5 بشریت پیغمبر منکرین کے لیے باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ منکرین نے بشریت پیغمبر پر تعجب کا اظہار بھی کیا اور اس بنا پر حق کا انکار بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک منذر آگیا "۔ یعنی ان ہی میں سے ایک انسان و بشر کو نبی و رسول بنایا گیا تاکہ وہ ان کو زندگی کے ہر دائرے میں عملی نمونہ دکھا سکے۔ مگر اس پر ان لوگون نے خوش ہونے اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا شکر ادا کرنے کی بجائے الٹا اس پر تعجب کا اظہار کیا۔ اعتراضات کئے اور بگڑ کر کہنے لگے کہ ایک بشر نبی رسول کیونکر ہوسکتا ہے۔ پس انہوں نے ان کی نبوت و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–26

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة ص رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14 اسرار و معارف : ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 3–4

ف 5 حالانکہ عجیب بات تو اس وقت ہوتی جب کوئی فرشتہ یا عجمی ان میں نبی بنا کر بھیجا جاتا اور پھر یہ اعتراض بھی کرسکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:4) منذر : اسم فاعل واحد مذکر۔ انذار (افعال) سے ڈرانے والا۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب جاء ہم اور منھم میں کفار مکہ کی طرف راجع ہوسکتی ہے کیونکہ عجبوا میں ضمیر فاعل بھی کفار کے لئے ہے لیکن یہ جنس بشر کے لئے بھی ہوسکتی ہے کیونکہ کسی نبی کا جنس بشر سے ہونا ان کے نزدیک بعید از فہم تھا۔ اس لئے ان کو حیرت تھی کہ یہ ڈرانیوالا ان میں سے یا جنس بشر میں سے کیسے ہوسکتا ہے ؟ ساحر کذاب : معطوف علیہ و معطوف واؤ عطف محذوف، ساحر ہے اور بڑا جھوٹا ہے۔ کذاب مبالغہ کا صیغہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

(ف 1) شان نزول : حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھلبلی مچ گئی اس لیے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابوطالب کے پاس گئی اور ابوطالب سے نبی ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ، ابوطالب نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو، نبی ﷺ نے جواب دیا کہ میں قوم کے لوگوں سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب وعجم ان کے فرمانبردار ہوجائے، وہ خوش ہوکربولے کہ بتلائیے کہ وہ کلمہ کیا ہے آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں تو آپ نے فرمایا، زیادہ نہیں صرف ایک کلمہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ سنتے ہی طیش میں آکرکھڑے ہوگئے اور کہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 4–5

[1] یعنی اس کے لائے ہوئے کلام میں اثر اور اس کے پیش کئے ہوئے معجزات اس کے ساحر ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ [2] یعنی دعوائے نبوت میں سخت جھوٹا ہے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) اور ان دین حق کے منکروں نے اس بات پراچنبھا اور تعجب کیا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور اس پر یہ کافرکہنے لگے کہ یہ شخص ایک جادوگر ہے جھوٹا۔ یعنی نبوت اور بشریت میں منافات سمجھ کر تعجب کرنے لگے کہ ہم ہی جیسا ایک آدمی جو ہم ہی میں سے ہے ہم کو ڈرانے والا نبی بن کر آگیا۔ لہٰذا کہنے لگے کہ یہ شخص معجزات اور خوارق نہیں دکھاتا یہ تو جادوگر ہے اور دعویٰ نبوت میں جھوٹا ہے حالانکہ علاوہ اور معجزات کے قرآن شریف خود ایک مستقل معجزہ تھا بہرحال ! خوارق کو جادو بتایا اور آپ کی نبوت کی تکذیب کی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–6

ف 1۔ سبب نزول ابتدائی آیات کا یہ ہے کہ ابو طالب کے مرض میں قریش ان کے پاس آئے، اور حضور ﷺ بھی تشریف لائے، تو قریش نے ان سے شکایت کی، انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ اپنی قوم سے کیا بات چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس سے تمام عرب ان کا مطیع ہوجائے اور عجم ان کو جزیہ دینے لگیں، انہوں نے پوچھا وہ ایک کلمہ کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کہنے لگے کہ تو سب معبودوں کی نفی کر کے ایک ہی معبود قرار دے دیا، یہ عجب بات ہے۔ اس پر ص سے بل لما یذوقوا عذاب تک نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کو بہت حیرت ہوئی کہ ان میں سے ایک ڈرانے والا آگیا ، کافروں نے جادو گر قرار دیا 4۔ جو تعجب قریش مکہ کو ہوا وہ تقریبا دنیا کی ساری قوموں کو ہوا یہی وجہ ہے کہ بعض نے اس وقت جب انبیاء و رسل آئے ان کو انسان دیکھ کر بنی ورسول ماننے سے انکار کردیا اور برملا کہا کہ بھلا انسان بھی کبھی نبی ورسول ہو سکتا ہے اور آج کل کے لوگوں کو چونکہ رسول ونبی سامنے نظر نہیں آتے اس لیے وہ ان کو نبی ورسول تو مانتے ہیں لیکن ان کی بشریت سے وہ بھی انکاری ہیں۔ قریش مکہ کو بھی اسی بات نے تعجب میں ڈالا کہ عجیب بات ہے کہ ہم ہی میں سے ایک آدمی کو نبی ورسول بنا دیا گیا ہے حالانکہ یہ بات صحیح نہیں بلکہ حقیقت فقط یہ ہے کہ نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–5

Commentary The background of the revelation The background of the revelation of the initial verses of this Surah was that Abu Talib, the uncle of the Holy Prophet ﷺ was doing his best as his guardian, despite that he had not yet embraced Islam. When he fell sick, the chiefs of the tribe of Quraish held a consultative meeting in which Abu Jahl, ` As Ibn Wa'il, Aswad Ibn Muttalib, Aswad Ibn ` Abd Yaghuth and several other chiefs participated. They discussed the situation they faced. Abu Talib was sick. If he were to pass away and they were to take some strong action against the Holy Prophet ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

4 That is, "They are so foolish that when a man from their own kind and from their own clan and brotherhood, whom they knew fully well, was appointed to warn them, they wondered at it, whereas it would have been strange if some other kind of creature had been sent down from heaven to warn human beings, or an utter stranger had arisen among them suddenly and started functioning as a prophet. In that case they would have been perfectly justified to say, "What an odd thing! How can this strange creature know our conditions and feelings and requirements that he should guide us? How can we test…

Read the full tafseer →