Explained with ayahs 1–3
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔ یہاں قرآن کی قسم کھائی اور اسے پند و نصیحت کرنے والا فرمایا۔ کیونکہ اس کی باتوں پر عمل کرنے والے کی دین و دنیا دونوں سنور جاتی ہیں اور آیت میں ہے (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10ۧ) 21۔ الأنبیاء :10) اس قرآن میں تمہارے لئے نصیحت ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن شرافت میں بزرگ عزت و عظمت والا ہے۔ اب اس قسم کا جواب بعض کے نزدیک تو (اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ 14) 38۔ ص :14) ، ہے۔ بعض کہتے ہیں (اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة صٓ 3
اگر ص کی وہ تاویل قبول کی جائے جو ابن عباس اور ضحاک نے بیان کی ہے تو اس جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ " قسم ہے اس قرآن بزرگ، یا اس نصیحت سے لبریز قرآن کی کہ محمد ﷺ سچی بات پیش کر رہے ہیں، مگر جو لوگ انکار پر جمے ہوئے ہیں وہ دراصل ضد اور تکبر میں مبتلا ہیں۔ " اور اگر ص کو ان حروف مقطعات میں سے سمجھا جائے جن کا مفہوم متعین نہیں کیا جاسکتا، تو پھر قسم کا جواب محذوف ہے جس پر " بلکہ " اور اس کے بعد کا فقرہ خود روشنی ڈالتا ہے۔ یعنی پوری عبارت پھر یوں ہوگی کہ " ان منکرین کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جو دین ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اس میں کوئی خلل ہے۔ یا محمد ﷺ نے ان کے سامنے اظہار حق میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خلاصہ تفسیر
ص (اس کے معنی تو اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے (کہ کفار آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہوئے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں) بلکہ (خود) یہ کفار (ہی) تعصب اور (حق کی) مخالفت میں (پڑے) ہیں (اور اس تعصب و مخالفت کا وبال ایک روز ان پر پڑنے والا ہے جیسا) ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم (عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں، سو انہوں نے (ہلاکت کے وقت) بڑی ہائے پکار کی (اور بہت شور و غل مچایا) اور (اس وقت شوروغل سے کیا ہوتا ہے، کیونکہ) وہ وقت خلاصی کا نہ تھا (اس لئے کہ عذاب جب آ چکے تو یہ بھی قبول نہیں ہوتی) اور ان کفار (قریش) نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس ان (ہی) میں سے (یعنی جو…
Read the full tafseer →کم اھلکنا من قبلھم من قرن فنا دواولات حسین مناص (3)
ماضی کی قوموں کی طرف ایک اشارہ
یعنی ان کی انانیت پر یہ بات بہت شاق گزر رہی ہے کہ انہیں ڈرایا جا رہا ہے کہ اگر وہ قرآن کی تکذیب پر اڑے رہے تو خدا کے عذاب کی زد میں آجائیں گے۔ حالانکہ تاریخ کی کتنی مثالیں ان کی بنائی جا چکی ہیں کہ جن قوموں نے ان کی طرح ضد کی ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ جب وہ خدا کی پکڑ میں آگئیں تو انہوں نے بہت ہائے پکارا اور توبہ و ایمان کی منا دی کی۔ لیکن اس وقت ان کے لئے کوئی مضر باقی نہیں رہا تھا اس لئے کہ ظہور عذاب کے بعد توبہ اور ایمان کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
لاث
لاثاصل میں لا ہے البتہ اس کے ساتھ ت کا اضافہ ہوگیا ہے اسی طرح…
Read the full tafseer →3۔ 1 جو ان سے زیادہ مضبوط اور قوت والے تھے لیکن کفر و جھٹلانے کی وجہ سے برے انجام سے دوچار ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
2: یہ ترجمہ اس جملے کی اس ترکیب پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ”اظھر“ کہہ کر نقل کی ہے (روح المعانی ج :23 ص 217)
Read the full tafseer →کم اھلکنا۔۔۔۔ حین مناص (38: 3) ” ان سے پہلے ہم ایسی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں اور جب ان کی شامت آئی تو وہ چیخ اٹھے ہیں مگر وہ وقت بچنے کا نہیں “۔
شاید تاریخ کے ان صفحات کے مطالعے کا ان پر اثر ہوا اور وہ اپنے کبروغرور سے دستکش ہوجائیں اور اپنی بےجا دشمنی کو ترک کردیں ۔ اور اپنے آپکو اس موقف پر کھڑانہ کریں جو ان ہلاک شدہ اقوام کا تھا کہ وہ چیختے پکارتے رہے لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی۔ اب تو انکے سامنے وسیع وقت ہے۔ وہ اس بےبسی کی پکار سے بچ سکتے ہیں ۔ جب کوئی سننے والا نہ ہو۔ اور نہ بچنے کی کوئی راہ ہو۔
یہ تو تھی ان کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک سخت ضرب ۔ اب تفصیلاً بتایا جارہا ہے کہ ان کے تکبر…
Read the full tafseer →4 یعنی ان کو معلوم رہنا چاہیے کہ اسی غرور وتکبر کی بدولت انبیاء اللہ سے مقابلہ ٹھان کر بہت سی جماعتیں پہلے تباہ و برباد ہوچکی ہیں وہ لوگ بھی مدتوں خدا کے پیغمبروں سے لڑتے رہے۔ پھر جب برا وقت آکر پڑا اور عذاب الٰہی نے چاروں طرف سے گھیر لیا تو گھبرا کر شور مچانے اور خدا کو پکارنے لگے۔ مگر اس وقت فریاد کرنے سے کیا بنتا۔ رہائی اور خلاصی کا موقع گزر چکا تھا، اور وقت نہیں رہا تھا کہ ان کے شوروبکاء کی طرف توجہ کی جائے۔
Read the full tafseer →آیت 3 { کَمْ اَہْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ } ”کتنی ہی قوموں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے“
{ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ } ”تو عذابِ الٰہی کے وقت وہ لگے چیخنے ِچلانے ‘ حالانکہ تب خلاصی کا وقت نہیں رہا تھا۔“
اللہ تعالیٰ کے قاعدے اور قانون کے مطابق کسی شخص کی موت کے آثار ظاہر ہونے کے بعد اس کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب کسی قوم پر عذاب کے آثار ظاہر ہوجائیں تو اس وقت ان لوگوں کی اجتماعی توبہ انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ اس قانون سے پوری انسانی تاریخ میں صرف قوم یونس علیہ السلام کو استثناء ملا تھا ‘ جس کا ذکر سورة یونس کی آیت 98 میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →2 سابقہ اقوام نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ پھر جب ان پر اللہ کا عذاب آگیا اس وقت وہ اللہ سے فریاد کرنے لگے اور ایمان کا اقرار کرنے لگے۔ حالانکہ توبہ و استغفار اور ایمان لانے کا وقت گزر چکا تھا۔ وہ تو عذاب کے نزول یا موت سے پہلے پہلے ہی ہوتا ہے۔ بعد میں کوئی بات کچھ فائدہ نہیں دے سکتی۔
Read the full tafseer →4۔ (چنانچہ ان کا شور وواویلا انہیں کچھ بھی نفع نہ دے سکا، اور یہی حشر ان کافروں کا بھی ہونا ہے) (آیت) ” لات “۔ لات لیس کی ایک غیر منصرف صورت ہے، تقدیر کلام خلیل وسیبویہ کے نزدیک یہ ہوگی، لیس الحین حین مناص (کبیر، بیضاوی) اور اخفش کے نزدیک یوں، ولا حین مناص (کبیر، بیضاوی) (آیت) ” مناص “۔ جائے خلاص یا جائے گریز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…
Read the full tafseer →کم اھلکنا منقبلھم من قرن فنادوا ولات حین مناص ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم (عذاب سے)
ہلاک کرچکے ہیں ‘ سو انہوں نے (ہلاکت کے وقت بڑی) ہائے پکار کی ‘ اور وہ وقت رہائی کا نہ تھا۔
لَمْ اَھْلَکْنَا الخ یہ مکہ کے کافروں کیلئے وعید ہے۔ فَنَادَوْا یعنی نزول عذاب کے وقت فریاد رسی کیلئے بہت چیخے چلائے ‘ یا توبہ و استغفار کا شور مچایا ‘ لیکن رہائی اور خلاصی کا وقت (نکل چکا تھا) باقی نہیں رہا تھا۔ کافروں کی حالت بیان کرنے کے بعد ان کے مآل کو (بطور کنایہ) بیان فرمایا ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح سابق امتیں عذاب سے ہلاک کردی گئیں ‘ اسی طرح ان کو بھی ہلاک کردیا جائے گا۔
لات مناص میں لا لَیْسَ کے مشابہ ہے ‘…
Read the full tafseer →قریش سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں تو انہوں نے ہلاکت کے وقت فرشتوں کو بہت پکارا مگر اس وقت بھاگنے اور چھٹکارا پانے کا کہاں وقت تھا سو پکڑے گئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا۔
اور ان کی یہ عادت تھی کہ جب کسی دشمن سے لڑتے تو مناص مناص کر کے ایک دوسرے کو پکارتے تھے، مقصود یہ ہوتا ایک دم حملہ کریں۔ چناچہ جس کے مقدر میں بچنا ہوتا تھا وہ بچ جاتا تھا اور جس وقت ان پر دشمن غلبہ حاصل کرلیتا تھا تو کچھ لوگ ان میں سے پیش قدمی کر کے پکارتے تھے مناص مناص (زبر کے ساتھ) یعنی بھاگو بھاگو چناچہ سب لڑائی سے بھاگ جاتے تھے تو وہاں بھی انہوں نے فرشتوں کو پکارنا شروع کیا باقی وہاں فرار ہونے اور…
Read the full tafseer →كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ : اس آیت میں قریش اور اس امت کے تمام کفار کو پہلی امتوں کے تکبرّ اور انکار کے انجام بد سے ڈرایا ہے۔ ”اَهْلَكْنَا“ جمع متکلم کا لفظ اپنی عظمت کے اظہار کے لیے لائے ہیں۔ ”قَرْنٍ“ زمانے کی اتنی مدت جس میں ایک دوسرے سے ملنے والی ایک نسل ختم ہوجائے۔ راجح قول کے مطابق یہ مدت سو سال ہے، مراد ایک زمانے کے لوگ ہیں۔ ”كَمْ“ خبریہ ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی نسلوں اور قوموں کو ہلاک کردیا۔
فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ : ”وَّلَاتَ“ ”لَا“ نافیہ ہی ہے، جس پر مبالغہ کے لیے ”تاء“ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ہمیشہ لفظ ”حِيْنَ“ یا وقت کا معنی دینے والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 ۔ 3:۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم
عام قراءت دال کی جزم کے ساتھ وقف کی صورت میں ہے کیونکہ یہ حروف تہجی میں سے ایک ہے جس طرح الم اور المر ہے۔ حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت حسن بصری ‘ ابن اسحاق اور نصر بن عاصم نے صاد پڑھا ہے یعنی دال کے نیچے کسرہ ہے اور تنوین نہیں۔ اس کی قراءت کی وجہ سے دو مذہب ہیں : (1) یہ صادی یصادی سے مشتق ہے جب یہ عارض کے معنی میں ہو اسی سے فانت لہ تصدی۔ ) عیس ( ہے یعنی تو اس کا سامنا کرتا ہے مصادۃ کا معنی معارضہ ہے اسی سے ایل لفظ صدی ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو خالی جگہوں مینآواز کے مقابل ہوتی ہے اس کے معنی ہے قرآن کے مقابل ہو اپنے عمل کے ساتھ اور اس کے اوامرر پر عمل کر اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1:۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا ” آ “ کے بارے میں تو ان دونوں نے فرمایا ہم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ” ص ٓ“ سے مراد ہے کہ قرآن سے ہم کلام ہونا :۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) ” ص ٓ والقران “ یعنی صاد کی دال کے نیچے کندہ پڑھتے تھے اور اس کو مصدر مصاواۃ سے مشتق مانتے تھے اور فرماتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ یک سو ہوجا۔ عبد الوہاب نے کہا کہ اس کو اپنے عمل پر پیش کر پھر تو دیکھ کہ قرآن سے تیرا عمل کتنا مقابل ہے۔
4:۔ ابن مردویہ…
Read the full tafseer →كَمْ اَهْلَكْنَا [ہم نے کتنی ہی ہلاک کیں ] مِنْ قَبْلِهِمْ [ان لوگوں سے پہلے ] مِّنْ قَرْنٍ [جماعتوں میں سے ] فَنَادَوْا [تو ان لوگوں نے پکارا ] وَّ [حالانکہ ] لَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ [پناہ گاہ (تلاش کرنے) کا کوئی بھی وقت نہیں تھا ] ۔
ل و ت
(ن) لوتا پوچھے بغیر خبر دینا۔
لات حین یہ موقعہ نہیں۔ یہ وقت نہیں۔ زیر مطالعہ آیت۔ 3 ۔ (الات زیادہ تر لائے نفسی جنس کی طرف استعمال ہوتا ہے) ۔
ن و ص
(ن) نوضا بچنا۔ بھاگنا۔
مناص اسم الظرف ہے۔ بھاگنے کی جگہ۔ پناہ گاہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 3 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ خود ہی تعصب میں اور حق کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں) (کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ ) (ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہم نے ہلاک کردیا) (فَنَادَوْا وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ) سو ان لوگوں نے پکارا یعنی جب عذاب آیا تو بلند آواز سے توبہ کرنے لگے تاکہ عذاب سے نجات مل جائے اور وہ وقت چھٹکارہ کا نہ تھا (کیونکہ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ )
فائدہ : مصاحف قرآنیہ میں (وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ) لکھا ہوا ہے اور محققین کے نزدیک اسی طرح صحیح ہے قدیم اور جدید مصاحف میں (لاَتَ بقطع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آغاز سورت از بیان حقانیت قرآن ووعید وتنبیہ برغرور و انکار متکبرین و کفار :
(آیت) ” قال اللہ تعالیٰ ۔ ص والقران ذی الذکر ....... الی ....... ان ھذا الا اختلاق “۔
(ربط سورة ) گذشتہ سورة والصافات کی ابتداء توحید کے مضمون سے ہوئی اور خاتمہ (آیت ) ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین (ط) سے مسئلہ نبوت و توحید پر ہوا اس مناسبت سے اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی حقانیت اور عظمت شان سے ہوا جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے نیز گذشتہ سورت کیطرح اس میں بھی انبیاء سابقین کے واقعات ذکر فرمائے گئے جن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت…
Read the full tafseer →3:۔ کم اھلکنا الخ : یہ تخویف دینوی ہے۔ لات، یہ لا مشبہ بلیس ہے۔ تائے تانیث تاکید کے لیے زیادہ کی گئی ہے۔ حین مناص اس کی خبر ہے، مناص، خلاصھی لا المشبہۃ بلیس عند سیبویہ زیدت علیہا تاء التانیث لتاکید معناھا وھو النفی (روح ج 23 ص 163) ای لیس الحین حین مناص (بیضاوی) ۔ ان سے پہلے ہم نے کئی قوموں کو ہلاک کردیا۔ جب ہمارا عذاب آپہنچا تو پکارنے لگے۔ حالانکہ یہ وقت عذاب سے بچنے اور خلاصی پانے کا نہیں ہوتا۔ مشرکین مکہ بھی ایسے عذاب کے لیے تیار رہیں یعنی انہم یہلکون کما ہلک من قبلہم (مظہری ج 8 ص 154) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
(نام اور کوائف)
اس سورة مبارکہ کا نام سورة ص ہے جو کہ اس کے پہلے حرف سے ماخوذ ہے ، یہ مکی سورة ہے مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ یہ سورة نبوت کے چوتھے یا دسویں سال میں نازل ہوئی اور اس طرح یہ سورة گویا ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس سورة مبارکہ کی اٹھاسی (88) آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة 731 الفاظ اور 3660 حروف پر مشتمل ہے ۔
(مضامین سورة )
مکی سورة ہونے کے ناطے سے اس میں بھی زیادہ تر بنیادی مضامین یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت اور وصداقت ہی بیان ہوئے ہیں اثبات توحید کے سلسلے میں گذشتہ کی ابتداء میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا تھا کہ (آیت) ” ان الھکم لواحد “۔ یعنی تمہارا معبود…
Read the full tafseer →كَمْ اَہْلَكْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ 3
كم
كَمْ : عبارة عن العدد، ويستعمل في باب الاستفهام، وينصب بعده الاسم الذي يميّز به نحو : كَمْ رجلا ضربت ؟ ويستعمل في باب الخبر، ويجرّ بعده الاسم الذي يميّز به . نحو :
كَمْ رجلٍ. ويقتضي معنی الکثرة، وقد يدخل «من» في الاسم الذي يميّز بعده . نحو : وَكَمْ مِنْ قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها[ الأعراف/ 4] ، وَكَمْ قَصَمْنا مِنْ قَرْيَةٍ كانَتْ ظالِمَةً [ الأنبیاء/ 11] ، والکُمُّ : ما يغطّي الید من القمیص، والْكِمُّ ما يغطّي الثّمرةَ ، وجمعه : أَكْمَامٌ. قال :
وَالنَّخْلُ ذاتُ الْأَكْمامِ [ الرحمن/ 11] . والْكُمَّةُ : ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : ص قرء الجمہور باسکان الدال و قریٔ بکسر بالالتقاء الساکنین اولکونہ امرا من صادی الشیء قابلہ و عارضہ ای عارض بعملک القرآن و قریٔ بالفتح للتحریک والقرآن الواو للقسم وقیل معطوف علی القسم و ہو صاد و جواب القسم محذوف لقد جاء کم الحق او ما ینا سب المقام، ولات التاء زیدت علی لا کما تزاد علی رب و ثم ربۃ و ثمۃ و اکثر العرب تحرک ھذہ التاء بالفتح و اما فی حالۃ الوقف فبعضھم یقف بالتاء لان الحروف لیست موضع تغیر و بعضھم بالہاء حین علی مذہب سیبویہ خبر لات و اسمھا محذوف لانھا عملت عمل لیس ای الحین حین ھرب و عند الاخفشھی العاملۃ فی باب النفی فحین اسمھا و خبر ھا محذوف ای لاحین مناص لھم والجملۃ حال من…
Read the full tafseer →کَمْ اَھْلَـکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ فَنَادَوْا وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ۔ (صٓ: 3)
(ان سے پہلے ہم نے کتنی قومیں ہلاک کردیں، انھوں نے اس وقت چیخ و پکار کی جب بچنے کا وقت نہ رہا۔ )
سابقہ مضمون کی معذب قوموں کے حالات سے تائید
قریش اور دیگر لوگوں کو یہ بتایا جارہا ہے کہ جب بھی کوئی قوم انانیت کے گنبد سے باہر نہیں نکلتی اور تکبر اور ہٹ دھرمی حق اور صحیح بات کو قبول کرنے کے راستے میں حائل ہوجاتی ہے تو پھر ایسی قوم کے زندہ رہنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اس کی وضاحت کے لیے پہلی معذب قوموں کے حالات بیان کیے گئے اور بتایا گیا کہ ہم نے کتنی ایسی قومیں ہلاک کر ڈالیں جو ان سے پہلے گزری ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
سورۃ الصّٰفّٰت کے اختتام پر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی اور کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور اللہ تعالیٰ مشرکوں کی یا وہ گوئی سے مبّرا ہے۔ اس کی طرف سے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر ہمیشہ رحمت کا نزول ہوتا رہے گا۔ سورة صٓ ابتدا میں قرآن مجید کو الذّکر قراردیا گیا ہے۔ الذّکر کا معنٰی نصیحت اور خیرخواہی ہے۔ کافر اور مشرک خیر خواہی قبول کرنے کی بجائے اس کی مخالفت میں آکر کہتے ہیں کہ یہ نبی کذّاب اور جادوگر ہے۔
” ص “ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس حرف کا بھی مفہوم بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس کی بھی وہی حقیقت ہے جو دوسرے حروف مقطعات کی ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے…
Read the full tafseer →3: کَمْ اَھْلَکْنَا (بہت سی امتوں کو ہم ہلاک کرچکے) تعصب واکڑ والے لوگوں کیلئے وعید ہے۔ مِنْ قَبْلِھِمْ (ان سے قبل) یعنی آپ کی قوم سے پہلے مِّنْ قَرْنٍ (امتیں) فَنَادَوْا (انہوں نے ہائے پکار کی) پس انہوں نے پکارا اور اس وقت فریاد کی جب انہوں نے عذاب دیکھا۔ وَّ لَاتَ (حالانکہ تھا) یہ لا مشبہ بلیس ہے اس پر تائے تانیث کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جیسا کہ رب اور ثم پر تاکید کیلئے اضافہ کیا جاتا ہے اور اس سے اس کا حکم بھی بدل گیا۔ اس صورت میں یہ صرف احیان پر داخل ہوتا ہے۔ اور اس کا ایک ہی مقتضٰی ظاہر ہوتا ہے خواہ اسم ہو یا خبر۔ دونوں پر اس کا ظہور ممتنع ہوجاتا ہے۔ یہ خلیل و سیبویہ کا مذہب ہے، اخفش نحوی…
Read the full tafseer →3، کم اھلکنا من قبلھم من قرن، جو ماقبل میں امتیں گزرچکی ہیں۔ ، فنا دوا، نزول عذاب کے وقت فریا درسی کے لیے بہت چیختے چلاتے ہیں۔ ، ولات حین مناص، نزول عذاب کے وقت ان کے لیے فرار ممکن نہیں تھا۔ مناص مصدر ہے ناص ینوص سے ، نوص پیچھے رہ جانے کو کہاجاتا ہے اور مناص جائے پنا ہ کو کہتے ہیں۔ لات اہل یمن کی لغت نہیں ہے۔
نحویین کے نزدیک یہھی اور لا سے مرکب ہے اور آخر میں تاء بڑھادی گئی۔ جیسا کہ ان کا قول ، رب وربت وتم وتمت ، اس کا اصل ھا تھا اور اس کے ساتھ لاکو ملالیا ۔ اور، لائ، کہنے لگے۔ جیسا کہ انہوں نے کہا کہ لاء اور حالت وصل میں انہیں تاء اور وقف کی صورت میں لات ہے۔ کسائی کے نزدیک حالت وقف میں لاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی 1 ؎ نسائی مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم مسند عبد بن حمید بہیقی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھل بلی سی پڑگئی تھی۔ اس لئے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابو طالب کے پاس گئی اور ابو طالب سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ابوطالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا۔ کہ اے میرے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں۔ کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کہ میں قوم کے لوگوں سے ایسی ایک بات چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس کو پورا کر لیویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…
Read the full tafseer →3 تاریخ سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو اس ارشاد سے گزشتہ ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے سبق لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ دیکھو ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کیا۔ تو جو کچھ تکذیب و انکار حق کے باعث ان لوگوں کے ساتھ ہوا وہ تمہارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اے دور حاضر کے منکرو ! کہ اللہ کا قانون عام، بےلاگ، اور سب کے لئے یکساں اور ایک برابر ہے۔ پس تم باز آجاؤ اپنی روش سے قبل اس سے کہ تم اسی انجام سے دوچار ہوجاؤ جس سے ماضی کی یہ قومیں دوچار ہوچکی ہیں اور قبل اس سے کہ فرصت حیات تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم لوگ ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوجاؤ کہ پھر اس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔ سو اس میں گزشتہ قوموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة ص
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14
اسرار و معارف :
ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ف 5 حالانکہ عجیب بات تو اس وقت ہوتی جب کوئی فرشتہ یا عجمی ان میں نبی بنا کر بھیجا جاتا اور پھر یہ اعتراض بھی کرسکتے تھے۔
Read the full tafseer →(38:3) کم اہلکنا من قبلہم من قرن : ای کم من قرن اہلکنا من قبلہم۔ کم کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے :۔
(1) استفہام کے لئے۔ کتنی مدت ۔ کتنی تعداد۔ اس صورت میں اس کی تمیز مفرد منصوب ہوتی ہے مثلاً کم درھما کتنے درہم۔
(2) خبر یہ۔ جو مقدار کی کمی بیشی اور تعداد کی کثرت کا ظاہر کرتا ہے۔ اس کی تمیز ہمیشہ مجرور ہوتی ہے۔ مثلاً کم شیء ترکت فی البیت۔ میں نے گھر میں بہت ساری چیزیں چھوڑیں۔
کبھی تمیز سے پہلے من آتا ہے جیسا کہ آیت ہذا میں :۔ کم من قرن بہت سی امتوں کو۔ کتنی ہی امتوں کو۔ قرن زمانہ۔ ایک ہی زمانے کے آدمی۔ وہ قوم جو ایک زمانے میں ہو۔ ایک زمانے کے لوگ۔ ان سے پہلے ہم کتنی ہی امتوں کو ہلاک کرچکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
(ف 1) شان نزول :
حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھلبلی مچ گئی اس لیے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابوطالب کے پاس گئی اور ابوطالب سے نبی ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ، ابوطالب نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو، نبی ﷺ نے جواب دیا کہ میں قوم کے لوگوں سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب وعجم ان کے فرمانبردار ہوجائے، وہ خوش ہوکربولے کہ بتلائیے کہ وہ کلمہ کیا ہے آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں تو آپ نے فرمایا، زیادہ نہیں صرف ایک کلمہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ سنتے ہی طیش میں آکرکھڑے ہوگئے اور کہنے…
Read the full tafseer →(3) ان سے پہلے ہم بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں پس انہوں نے ہلاکت کے وقت بہت فریاد کی اور بہت شورمچاتے اور پکارتے رہے اور وہ وقت خلاصی کا نہ تھا۔ یعنی جب ہلاکت آفریں عذاب آجائے تو پھر خلاصی اور کہیں بھاگنے کا موقعہ نہیں۔
مناص عرب کا ایک خاص لفظ تھا جو عام طور سے جنگ سے بھاگتے وقت بولا کرتے تھے اور ایک دوسرے کو کہا کرتے تھے شاید بدر میں بھی یہ لفظ کہا تھا حضرت حقنی فرمایا ہے کہ تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں اور امتوں کو ایسے حالات پیش آئے مگر وہ وقت کہیں بھاگ کر چھٹکارا پانے کا نہ تھا مگر یہ لوگ عبرت حاصل نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1۔ سبب نزول ابتدائی آیات کا یہ ہے کہ ابو طالب کے مرض میں قریش ان کے پاس آئے، اور حضور ﷺ بھی تشریف لائے، تو قریش نے ان سے شکایت کی، انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ اپنی قوم سے کیا بات چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس سے تمام عرب ان کا مطیع ہوجائے اور عجم ان کو جزیہ دینے لگیں، انہوں نے پوچھا وہ ایک کلمہ کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کہنے لگے کہ تو سب معبودوں کی نفی کر کے ایک ہی معبود قرار دے دیا، یہ عجب بات ہے۔ اس پر ص سے بل لما یذوقوا عذاب تک نازل ہوا۔
Read the full tafseer →کتنی ہی جماعتیں تھیں جن کو ہم ہلاک کرچکے حالانکہ وہ بےوقت فریاد کرتے رہے :
3 : آپ کے ذریعہ سے کفار مکہ کو سرزنش کی جارہی ہے کہ تم سے پہلے بھی کتنے لوگ تھے جو مے دو سالہ سے مست تھے اور ہمارے بندوں سے ناحق عداوت رکھتے تھے لیکن ان پر جب ہمارا عذاب آیا تو ان کے سارے نشے دھرے کے دھرے رہ گئے اور ان کو ساری دشمنیاں بھول گئیں اور عذاب کو دیکھ کر وہ چیخے اور چلائے اور فریادیں کیں یہاں تک کہ فرعون جیسا سرکش کہ جب پانی کے چند گھونٹ اندر گئے تو بنی اسرائیل کے رب پر ایمان لانے کا دعویٰ کرنے لگا لیکن ہماری سنت نہ تو آج تک بدلی اور نہ ہی بدلنے کا کوئی امکان ہے انہوں نے بھی مہلت اسی وقت طلب کی جب مہلت کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
Commentary
The background of the revelation
The background of the revelation of the initial verses of this Surah was that Abu Talib, the uncle of the Holy Prophet ﷺ was doing his best as his guardian, despite that he had not yet embraced Islam. When he fell sick, the chiefs of the tribe of Quraish held a consultative meeting in which Abu Jahl, ` As Ibn Wa'il, Aswad Ibn Muttalib, Aswad Ibn ` Abd Yaghuth and several other chiefs participated. They discussed the situation they faced. Abu Talib was sick. If he were to pass away and they were to take some strong action against the Holy Prophet ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3 If the interpretation given of suad by Ibn 'Abbas and Dahhak is accepted, the sentence would mean this: "By this noble Qur'an, or by this Qur'an which is full of admonition, Muhammad (upon whom be Allah's peace) is presenting the Truth, but the people who persist in their denial, are in fact, involved in arrogance and stubbornness." And if suad is taken as one of those enigmatic letters whose meaning cannot be determined, then the answer to the oath is omitted, which is indicated by "but" and the sentence following it. The meaning then would be: "The reason for the denial of these…
Read the full tafseer →