Saad 38:2

Saad · from ayah 2

38:2

بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ ۟بَلِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فِىۡ عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ

مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But those who disbelieve are in pride and dissension.

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:2

بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے، سخت تکبر اور ضد میں مبتلا ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ کفار غرور ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، وہ کسی اور وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے اپنایا ہے کہ وہ بڑائی کے گھمنڈ اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ کافر تکبر اور خلاف میں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بلکہ کافر لوگ (ناحق) حمیّت و تکبّر میں اور (ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) مخالفت و عداوت میں (مبتلا) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تکبر اور مخالفت میں (پڑے ہوئے) ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلکہ یہ کافر ہی تکبر اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ جن لوگوں نے اس کا انکار کیا وہی گھمنڈ اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں) مگر جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر وہ تکبر اور ضد (وعناد کی دلدل) میں پڑے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اصل یہ ہے کہ (یہ) کافر ہی تعصب ومخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

لیکن جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے وہ غرور اور ضد میں مبتلا ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Nay, but the unbelievers are steeped in arrogance and stubborn defiance.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

but those who disbelieve are (involved) in false pride and opposition.

— Muhammad Taqi Usmani

but those who disbelieve are (involved) in false pride and opposition.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who disbelieve are in false pride and opposition.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but those who disbelieve are in false pride and schism.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But those who disbelieve are in pride and dissension.

— Saheeh International

In fact, the unbelievers are the ones who are boastful and quarrelsome.

— Muhammad Sarwar

Nay! those who disbelieve are in self-exaltation and opposition.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who disbelieve are in vainglory and shism.

— Abdul Majid Daryabadi

But the Unbelievers (are steeped) in self-glory and Separatism.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–3

حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔ یہاں قرآن کی قسم کھائی اور اسے پند و نصیحت کرنے والا فرمایا۔ کیونکہ اس کی باتوں پر عمل کرنے والے کی دین و دنیا دونوں سنور جاتی ہیں اور آیت میں ہے (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10ۧ) 21۔ الأنبیاء :10) اس قرآن میں تمہارے لئے نصیحت ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن شرافت میں بزرگ عزت و عظمت والا ہے۔ اب اس قسم کا جواب بعض کے نزدیک تو (اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ 14؀) 38۔ ص :14) ، ہے۔ بعض کہتے ہیں (اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–3

سورة صٓ 3 اگر ص کی وہ تاویل قبول کی جائے جو ابن عباس اور ضحاک نے بیان کی ہے تو اس جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ " قسم ہے اس قرآن بزرگ، یا اس نصیحت سے لبریز قرآن کی کہ محمد ﷺ سچی بات پیش کر رہے ہیں، مگر جو لوگ انکار پر جمے ہوئے ہیں وہ دراصل ضد اور تکبر میں مبتلا ہیں۔ " اور اگر ص کو ان حروف مقطعات میں سے سمجھا جائے جن کا مفہوم متعین نہیں کیا جاسکتا، تو پھر قسم کا جواب محذوف ہے جس پر " بلکہ " اور اس کے بعد کا فقرہ خود روشنی ڈالتا ہے۔ یعنی پوری عبارت پھر یوں ہوگی کہ " ان منکرین کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ جو دین ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اس میں کوئی خلل ہے۔ یا محمد ﷺ نے ان کے سامنے اظہار حق میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

خلاصہ تفسیر ص (اس کے معنی تو اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے (کہ کفار آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہوئے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں) بلکہ (خود) یہ کفار (ہی) تعصب اور (حق کی) مخالفت میں (پڑے) ہیں (اور اس تعصب و مخالفت کا وبال ایک روز ان پر پڑنے والا ہے جیسا) ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم (عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں، سو انہوں نے (ہلاکت کے وقت) بڑی ہائے پکار کی (اور بہت شور و غل مچایا) اور (اس وقت شوروغل سے کیا ہوتا ہے، کیونکہ) وہ وقت خلاصی کا نہ تھا (اس لئے کہ عذاب جب آ چکے تو یہ بھی قبول نہیں ہوتی) اور ان کفار (قریش) نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس ان (ہی) میں سے (یعنی جو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

بل الذین کفروانی عزۃ وسقاق (3) قرآن کی مخالف کی اصل علت الذین کفروا سے مراد یہاں خاص طور پر قریش ہیں۔ فرمایا کہ ان کے انکار کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کی تذکیر میں کوئی کسر ہے بلکہ یہ گھمنڈ اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ ان کے اس گھمنڈ اور ضد کی وضاحت آگے کی آیات میں آرہی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ خرابی قرآن میں نہیں بلکہ خود ان لوگوں کے اپنے اندر یہ قرآن ہر پہلو سے نہایت مدلل، دلنشیں اور مئوثر یاد دہانی کر رہا ہے لیکن جن لوگوں نے انانیت اور مخالفت کی روش اختیار کر رکھی ہو ان پر اس کی تذکیر کیا کارگر ہو سکتی ہے۔ !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یعنی یہ قرآن تو یقینا شک سے پاک اور ان کے لئے نصیحت ہے جو اس سے عبرت حاصل کریں البتہ ان کافروں کو اس سے فائدہ اس لئے نہیں پہنچ رہا ہے ان کے دماغوں میں استکبار اور غرور ہے اور دلوں میں مخالفت وعناد۔ عزت کے معنی ہوتے ہیں۔ حق کے مقابلے میں اکڑنا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–5

2: یہ ترجمہ اس جملے کی اس ترکیب پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ”اظھر“ کہہ کر نقل کی ہے (روح المعانی ج :23 ص 217)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بل الذین کفروافی عزۃ وشقاق (38: 2) ” بلکہ یہی لوگ جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے سخت تکبر اور ضد میں مبتلا ہیں “۔ یہاں کلام میں اضراب اور اچانک موضوع سخن کی تبدیلی نظر آتی ہے۔ پہلے قرآن کا موضوع تھا ' اب مشرکین پر تبصرہ شروع ہوگیا کہ وہ تکبروغرور میں ڈوبے ہوئے ہیں اور سخت ضد اور دشمنی میں مبتلا ہیں۔ لیکن یہ موضوع سخن کی تبدیلی فقط ظاہری ہے ظاہری ہے اور اس ظاہری تبدیلی سے غرض یہ ہے کہ قاری مسئلے پر ذرا سنجیدگی سے غور کرے ۔ یہاں ص اور قرآن ذی ذکر قسم اٹھائی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس بات کا ذکر ہورہا ہے وہ بہت بڑی بات ہے۔ اسی لیے اللہ نے اس پر قسم اٹھائی ہے۔ اس کے بعد مشرکین کے غرور اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 1–2

3 یعنی یہ عظیم الشان، عالی مرتبہ قرآن (جو عمدہ نصیحتوں سے پر، اور نہایت موثر طرز میں لوگوں کو ہدایت و معرفت کی باتیں سمجھانے والا ہے) با آواز بلند شہادت دے رہا ہے کہ جو لوگ قرآنی صداقت اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ قرآن کی تعلیم و تفہیم میں کچھ قصور ہے یا حضور ﷺ پر نور اس کی تبلیغ و تبیین میں معاذ اللہ مقصر ہیں۔ بلکہ انکار و انحراف کا اصلی سبب یہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹی شیخی، جاہلانہ غرور و نخوت اور معاندانہ مخالفت کے جذبات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ذرا اس دلدل سے نکلیں تو حق و صداقت کی صاف سڑک نظر آئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ } ”لیکن جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے وہ غرور اور ضد میں مبتلا ہیں۔“ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں ضدم ّضدا ایک موقف اختیار کرلیا ہے اور اب غرور اور جھوٹی اَنا کی وجہ سے اس پر اڑے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 نصیحت والے قرآن کی قسم اٹھانے کے بعد بل کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جسے پڑھنے اور سننے والے کی فہم و بصیرت پر چھوڑ دیا گیا ہے اور یہ عبارت یوں بنتی ہے کہ اس سراسر نصیحت والے قرآن کی قسم کہ اس کی عبارت میں کوئی پیچیدگی نہیں، اس کے دلائل بھی عام فہم ہیں اور اس کے مطالب سمجھنے میں بھی کسی کو کوئی دشواری نہیں مگر کافر پھر بھی اس پر طرح طرح کے اعتراض کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کو تسلیم کرنے میں اپنی، اپنے آباء واجداد کی اور اپنے معبودوں کی ہتک محسوس کرتے ہیں۔ لہذا چڑ کر اس کی مخالفت پر اتر آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (اور اس تعصب وعناد کا وبال بھی ایک روز ان پر پڑے گا) یہاں یہ بتادیا کہ مخالفت حق کا سبب کوئی اشتباہ عقلی ہرگز نہی، محض ان لوگوں کی ضد، ہٹ دھرمی اور نخوت پسندی ہے۔ (آیت) ” عزۃ وشقاق “۔ دونوں کا تنوین نکرہ کے ساتھ آنا ان صفات کی شدت کے اظہار کے لیے ہے۔ یعنی یہ لوگ پرلے سرے کی ہٹ دھرمی سے کام لے رہے ہیں۔ والتنکیر فی عزۃ وشقاق لدلالۃ علی شد تھا (کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق بلکہ (خود) یہ کافر تعصب اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی عداوت اور آپ کی مخالفت میں ڈوبے ہوئے ہیں ‘ اسی لئے ایمان نہیں یاتے ‘ یا شقاق سے مراد ہے عقل و نقل کی مخالفت اور عزت سے مراد ہے جاہلیت کا تعصب اور قبول حق سے مغرورانہ سرکشی۔ قتادہ نے کہا : بَلْ اس جگہ (اعراض کیلئے نہیں ہے بلکہ ابتدائیہ ہے اور یہ جملہ قسم کا جواب ہے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : قٓ والْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ- بَلْ عَجِبُوْٓا اَنْ جَآءَھُمْ مُنْذِرٌ مِّنْھُمْالخقتیبی نے کہا : بَلْ ایک کلام کے تدارک اور دوسرے کلام کی نفی کیلئے ہے ‘ کیونکہ اللہ نے آ والْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِکی قسم کھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) یعنی قرآن کریم کو بار بار پڑھو تاکہ ایمان کفر سے اور سنت بدعت سے اور حق باطل سے سچ جھوٹ سے حلال حرام سے اور نیکی برائی سے ممتاز ہوجائے یا یہ کہ ص سے مراد اہل مکہ یا ابوجہل کو ہدایت سے روک دیا گیا یا یہ کہ ص اللہ تعالیٰ کے اسم پاک صادق اس کا مخفف ہے۔ یا یہ کہ اس کے ذریعے سے قسم کھائی گئی ہے قسم ہے قرآن کی جو شرف وبیان والا ہے یعنی جو اس پر ایمان لائے اس کے لیے شرافت والا اور اولین و آخرین کے بیان والا ہے بلکہ یہ کفار مکہ ہی تعصب و برائی اور مخالفت و دشمنی میں پڑے ہوئے ہیں۔ شان نزول : صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ (الخ) امام احمد، ترمذی، نسائی اور امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ :”عِزَّةٍ“ سے مراد خود ساختہ عزت، یعنی تکبّر ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بالْاِثْمِ) [ البقرۃ : 206 ] ”اور جب اس سے کہا جاتا ہے اللہ سے ڈر تو اس کی عزت اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے۔“ ”وَّشِقَاقٍ“ ”شَقٌّ“ سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے، کسی کا دوسرے کے مقابلے میں اس طرح آنا کہ یہ ایک شق (طرف) میں ہو اور وہ دوسری شق میں، یعنی شدید مخالفت اور عداوت۔ اس جملے سے ”وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ“ کا جواب قسم ظاہر ہو رہا ہے : ”أَيْ إِنَّ کُفْرَھُمْ لَیْسَ بِبُرْھَانٍ بَلْ ھُوَ بِسَبَبِ عِزَّۃٍ وَّ شِقَاقٍ“ کہ اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

1 ۔ 3:۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم عام قراءت دال کی جزم کے ساتھ وقف کی صورت میں ہے کیونکہ یہ حروف تہجی میں سے ایک ہے جس طرح الم اور المر ہے۔ حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت حسن بصری ‘ ابن اسحاق اور نصر بن عاصم نے صاد پڑھا ہے یعنی دال کے نیچے کسرہ ہے اور تنوین نہیں۔ اس کی قراءت کی وجہ سے دو مذہب ہیں : (1) یہ صادی یصادی سے مشتق ہے جب یہ عارض کے معنی میں ہو اسی سے فانت لہ تصدی۔ ) عیس ( ہے یعنی تو اس کا سامنا کرتا ہے مصادۃ کا معنی معارضہ ہے اسی سے ایل لفظ صدی ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو خالی جگہوں مینآواز کے مقابل ہوتی ہے اس کے معنی ہے قرآن کے مقابل ہو اپنے عمل کے ساتھ اور اس کے اوامرر پر عمل کر اور اس کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–3

1:۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا ” آ “ کے بارے میں تو ان دونوں نے فرمایا ہم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ” ص ٓ“ سے مراد ہے کہ قرآن سے ہم کلام ہونا :۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) ” ص ٓ والقران “ یعنی صاد کی دال کے نیچے کندہ پڑھتے تھے اور اس کو مصدر مصاواۃ سے مشتق مانتے تھے اور فرماتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ یک سو ہوجا۔ عبد الوہاب نے کہا کہ اس کو اپنے عمل پر پیش کر پھر تو دیکھ کہ قرآن سے تیرا عمل کتنا مقابل ہے۔ 4:۔ ابن مردویہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا [بلکہ وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا ] فِيْ عِزَّةٍ وَّشِقَاقٍ [گھمنڈ اور مخالفت میں ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 2–3

(بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ ) (بلکہ بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ خود ہی تعصب میں اور حق کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں) (کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ قَرْنٍ ) (ان سے پہلے کتنی ہی امتوں کو ہم نے ہلاک کردیا) (فَنَادَوْا وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ) سو ان لوگوں نے پکارا یعنی جب عذاب آیا تو بلند آواز سے توبہ کرنے لگے تاکہ عذاب سے نجات مل جائے اور وہ وقت چھٹکارہ کا نہ تھا (کیونکہ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ ) فائدہ : مصاحف قرآنیہ میں (وَّلاَتَ حِیْنَ مَنَاصٍ ) لکھا ہوا ہے اور محققین کے نزدیک اسی طرح صحیح ہے قدیم اور جدید مصاحف میں (لاَتَ بقطع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–7

آغاز سورت از بیان حقانیت قرآن ووعید وتنبیہ برغرور و انکار متکبرین و کفار : (آیت) ” قال اللہ تعالیٰ ۔ ص والقران ذی الذکر ....... الی ....... ان ھذا الا اختلاق “۔ (ربط سورة ) گذشتہ سورة والصافات کی ابتداء توحید کے مضمون سے ہوئی اور خاتمہ (آیت ) ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین (ط) سے مسئلہ نبوت و توحید پر ہوا اس مناسبت سے اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی حقانیت اور عظمت شان سے ہوا جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے نیز گذشتہ سورت کیطرح اس میں بھی انبیاء سابقین کے واقعات ذکر فرمائے گئے جن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ والقران۔ تا۔ و شقاق : یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ والقران الخ، قسم ہے اور جواب قسم محذوف ہے ای مابقی موضع شبہۃ یعنی یہ پند و نصیحت سے لبریز قرآن اس پر شاہد ہے کہ مسئلہ توحید میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کفار کے نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں کہ مسئلہ میں کوئی شبہ باقی ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین کبر و غرور اور عناد و عداوت میں پرے ہیں۔ اس لیے انکار و جحود پر کمر بستہ ہیں اور ان کے غرور و استکبار کا سبب دنیوی سامان عیش کی فراوانی ہے۔ بل متعت ھؤلاء وآباءھم حتی نسوا الذکر وکانوا قوما بورا (الفرقان رکوع 2) ۔ جب سورة صافات میں بیان ہوچکا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) فرشتے اور جن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–7

(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة ص ہے جو کہ اس کے پہلے حرف سے ماخوذ ہے ، یہ مکی سورة ہے مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ یہ سورة نبوت کے چوتھے یا دسویں سال میں نازل ہوئی اور اس طرح یہ سورة گویا ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس سورة مبارکہ کی اٹھاسی (88) آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة 731 الفاظ اور 3660 حروف پر مشتمل ہے ۔ (مضامین سورة ) مکی سورة ہونے کے ناطے سے اس میں بھی زیادہ تر بنیادی مضامین یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت اور وصداقت ہی بیان ہوئے ہیں اثبات توحید کے سلسلے میں گذشتہ کی ابتداء میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا تھا کہ (آیت) ” ان الھکم لواحد “۔ یعنی تمہارا معبود…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ۝ 2 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب : ص قرء الجمہور باسکان الدال و قریٔ بکسر بالالتقاء الساکنین اولکونہ امرا من صادی الشیء قابلہ و عارضہ ای عارض بعملک القرآن و قریٔ بالفتح للتحریک والقرآن الواو للقسم وقیل معطوف علی القسم و ہو صاد و جواب القسم محذوف لقد جاء کم الحق او ما ینا سب المقام، ولات التاء زیدت علی لا کما تزاد علی رب و ثم ربۃ و ثمۃ و اکثر العرب تحرک ھذہ التاء بالفتح و اما فی حالۃ الوقف فبعضھم یقف بالتاء لان الحروف لیست موضع تغیر و بعضھم بالہاء حین علی مذہب سیبویہ خبر لات و اسمھا محذوف لانھا عملت عمل لیس ای الحین حین ھرب و عند الاخفشھی العاملۃ فی باب النفی فحین اسمھا و خبر ھا محذوف ای لاحین مناص لھم والجملۃ حال من…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ ۔ (صٓ: 2) (بلکہ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کیا ہے وہی سخت تکبر اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ ) قرآن کی مخالفت کا اصل سبب پیشِ نظر آیت کریمہ اوپر کی بات کی تائید کررہی ہے۔ یعنی قرآن کریم جو نصیحت اور یاددہانیوں سے معمور ہے اس سے اگر لوگ نصیحت حاصل نہیں کررہے اور اسے ماننے سے انکار کررہے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کریم کی تذکیر میں کوئی کمی ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا انکار کرنے والے تکبر اور مخاصمت میں مبتلا ہیں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ بڑی سے بڑی نصیحت بھی اس شخص پر کوئی اثر نہیں کرتی جس کی انانیت اور ہٹ دھرمی اس کی پوری شخصیت کا احاطہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن سورۃ الصّٰفّٰت کے اختتام پر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی اور کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور اللہ تعالیٰ مشرکوں کی یا وہ گوئی سے مبّرا ہے۔ اس کی طرف سے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر ہمیشہ رحمت کا نزول ہوتا رہے گا۔ سورة صٓ ابتدا میں قرآن مجید کو الذّکر قراردیا گیا ہے۔ الذّکر کا معنٰی نصیحت اور خیرخواہی ہے۔ کافر اور مشرک خیر خواہی قبول کرنے کی بجائے اس کی مخالفت میں آکر کہتے ہیں کہ یہ نبی کذّاب اور جادوگر ہے۔ ” ص “ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس حرف کا بھی مفہوم بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس کی بھی وہی حقیقت ہے جو دوسرے حروف مقطعات کی ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2: بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ (اس پر یقین کرنے سے تکبر کر رہے ہیں اور اعتراف ِحق سے بڑائی اختیار کرنے والے ہیں) وَّ شِقَاقٍ (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے ہیں) فائدئہ تنکیر : عزۃ اور شقاق کی تنوین تنکیریہ ظاہر کر رہی ہے۔ کہ ان کا تعصب اور مخالفت واکڑ انتہائی درجہ کی ہیں۔ قراءت : فی عِزَّۃٍپڑھا گیا ہے یعنی اس چیز سے غفلت میں مبتلا ہیں جس میں غور و فکر اور اتباع حق ان پر لازم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2، بل الذین کفروا، قتادہ کا قول ہے کہ بل اس جگہ اعراض کے لیے نہیں ہے بلکہ ابتدائیہ ہے اور یہ جملہ قسم کا جواب ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ آیا ہے، ق والقرآن المجید بل عجبوا، بعض نے کہا کہ یہاں تقدیم وتا خیر ہے تقدیری عبارت یہ ہوگی۔ ، بل الذین کفروا،۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، فی عزۃ وشقاق، قرآن ذکروالا ہے اور نصیحت والا ہے۔ اخفش کا قول ہے جس مضمون کے لیے قسم کے ساتھ کلام کیا گیا ہے، ان کل الا کذب الرسل فحق عقاب، اور دوسری جگہ ذکر کیا گیا۔ ، تاللہ ان کنا، اور ایک اور جگہ فرمایا، والسماء والطارق ان کل نفس ، بعض نے کہا کہ جواب قسم یہ ان ھذالرزقنا، ہے۔ کسائی کا قول ہے کہ جواب قسم یہ ہے کہ ، ان ذلک لحق تخاصم اھل النار،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی 1 ؎ نسائی مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم مسند عبد بن حمید بہیقی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھل بلی سی پڑگئی تھی۔ اس لئے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابو طالب کے پاس گئی اور ابو طالب سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ابوطالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا۔ کہ اے میرے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں۔ کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کہ میں قوم کے لوگوں سے ایسی ایک بات چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس کو پورا کر لیویں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

2 عناد و استکبار محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کتاب حکیم میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں مگر جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر وہ تکبر اور ضد میں پڑے ہوئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ دولت ایمان سے محروم ہیں۔ سو قرآن حکیم کے اگر اسی ایک وصف کو دیکھا جائے یعنی اس کی شان ذکر کو تو اس کی تکذیب اور اس کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لیکن منکرین نے جب آنکھوں پر ضد وعناد اور تعصب و ہٹ دھرمی کی سیاہ پٹی باندھ رکھی ہو تو پھر ان کو راہ حق و ہدایت نظر آئے تو کس طرح اور کیونکر ؟ کہ ہٹ دھرمی کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ سو قرآن حکیم جن حقائق کی دعوت دیتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–26

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة ص رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14 اسرار و معارف : ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی یہ جو قرآن کو حق تسلیم نہیں کررہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ سخت تکبر اور ضد میں مبتلا ہیں ورنہ اگر ذرا انصاف سے کام لیں تو قرآن کو سراسر ہایت کا سر چشمہ پائیں گے اوصاف معلوم کرلیں گے یہ خدائی کلام ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:2) بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق : بل حرف اضراب ہے۔ عزۃ۔ عزت ۔ غلبہ۔ زور۔ بزرگی۔ اقبال۔ عز یعز کا مصدر ہے بطور اسم بھی استعمال ہوتا ہے۔ کبھی عزت کے ذریعہ مدح کیا جاتی ہے جیسے رب العزۃ (37:180) صاحب عزت و قدرت یا فان العزۃ للّٰۃ جمیعا (4:139) سو عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کی ہے کبھی اس کے ذریعہ مذمت بھی ہوتی ہے مثلاً آیہ ہذا۔ جہاں عزت بطور گھمنڈ و تکبر مراد ہے۔ اسی طرح ملاحظہ ہو۔ واذا قیل لہ اتق اللّٰہ اخذتہ العزۃ بالاثم (2:206) اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے نخوت گناہ پر (اور زیادہ) آمادہ کردیتی ہے۔ شقاق۔ ضد۔ مخالفت۔ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ قسم ہے قرآن نصیحت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

(ف 1) شان نزول : حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھلبلی مچ گئی اس لیے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابوطالب کے پاس گئی اور ابوطالب سے نبی ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ، ابوطالب نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو، نبی ﷺ نے جواب دیا کہ میں قوم کے لوگوں سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب وعجم ان کے فرمانبردار ہوجائے، وہ خوش ہوکربولے کہ بتلائیے کہ وہ کلمہ کیا ہے آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں تو آپ نے فرمایا، زیادہ نہیں صرف ایک کلمہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ سنتے ہی طیش میں آکرکھڑے ہوگئے اور کہنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) بلکہ یہ کفار اپنے گھمنڈ تعصب اور دین حق کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ عزت کے معنی ہیں تکبر کے اور شقاق کے معنی ہیں خلاف کے مطلب یہ ہے کہ اپنی طاقت گھمنڈ اور تکبر میں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت میں مبتلا ہیں بعض قرات میں غرۃ بھی پڑھ گیا ہے جس کے معنی غفلت کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–6

ف 1۔ سبب نزول ابتدائی آیات کا یہ ہے کہ ابو طالب کے مرض میں قریش ان کے پاس آئے، اور حضور ﷺ بھی تشریف لائے، تو قریش نے ان سے شکایت کی، انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ اپنی قوم سے کیا بات چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس سے تمام عرب ان کا مطیع ہوجائے اور عجم ان کو جزیہ دینے لگیں، انہوں نے پوچھا وہ ایک کلمہ کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کہنے لگے کہ تو سب معبودوں کی نفی کر کے ایک ہی معبود قرار دے دیا، یہ عجب بات ہے۔ اس پر ص سے بل لما یذوقوا عذاب تک نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلکہ کافر اور مخالفت میں مبتلا ہیں : 2۔ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے جب تعلیمات اسلام قوم کے سامنے پیش کیں تو انہوں نے ان کو ٹھکرا دیا اور ان کے ٹھکرانے کا اصل باعث ان کی عزت اور ان کا وقار تھا جو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں سمجھتے تھے۔ بلاشبہ اعلان نبوت سے پہلے آپ نے تجارت کی اور تجارت میں اللہ نے برکت بھی بہت عطا فرمائی لیکن ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ آپ کی شادی سیدہ خدیجہ سے ہوگئی خدیجہ مکہ کی ایک مالدار خاتون تھیں شادی کے بعد اگر آپ تجارت کی طرف زیادہ رغبت دیتے تو دنیا کے مال سے مالا مال ہوجاتے لیکن جونہی شادی کی تو عائلی زندگی اختیار کرنے کے باوجود آپ نے دنیا اور دنیا کی چیزوں کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–5

Commentary The background of the revelation The background of the revelation of the initial verses of this Surah was that Abu Talib, the uncle of the Holy Prophet ﷺ was doing his best as his guardian, despite that he had not yet embraced Islam. When he fell sick, the chiefs of the tribe of Quraish held a consultative meeting in which Abu Jahl, ` As Ibn Wa'il, Aswad Ibn Muttalib, Aswad Ibn ` Abd Yaghuth and several other chiefs participated. They discussed the situation they faced. Abu Talib was sick. If he were to pass away and they were to take some strong action against the Holy Prophet ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–3

3 If the interpretation given of suad by Ibn 'Abbas and Dahhak is accepted, the sentence would mean this: "By this noble Qur'an, or by this Qur'an which is full of admonition, Muhammad (upon whom be Allah's peace) is presenting the Truth, but the people who persist in their denial, are in fact, involved in arrogance and stubbornness." And if suad is taken as one of those enigmatic letters whose meaning cannot be determined, then the answer to the oath is omitted, which is indicated by "but" and the sentence following it. The meaning then would be: "The reason for the denial of these…

Read the full tafseer →