Explained with ayahs 1–3
حروف مقطعات جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کی پوری تفسیر سورة بقرہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔ یہاں قرآن کی قسم کھائی اور اسے پند و نصیحت کرنے والا فرمایا۔ کیونکہ اس کی باتوں پر عمل کرنے والے کی دین و دنیا دونوں سنور جاتی ہیں اور آیت میں ہے (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 10ۧ) 21۔ الأنبیاء :10) اس قرآن میں تمہارے لئے نصیحت ہے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قرآن شرافت میں بزرگ عزت و عظمت والا ہے۔ اب اس قسم کا جواب بعض کے نزدیک تو (اِنْ كُلٌّ اِلَّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ 14) 38۔ ص :14) ، ہے۔ بعض کہتے ہیں (اِنَّ ذٰلِكَ لَحَــقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ…
Read the full tafseer →سورة صٓ 1
اگرچہ تمام حروف مقطعات کی طرح ص کے مفہوم کا تعین بھی مشکل ہے، لیکن ابن عباس اور ضحاک کا یہ قول بھی کچھ دل کو لگتا ہے کہ اس سے مراد ہے صادقٌ فی قولِہٖ ، یا صَدَق محمد یعنی محمد ﷺ صادق ہیں، جو کچھ کہہ رہے ہیں سچ کہہ رہے ہیں۔ صاد کے حروف کو ہم اردو میں بھی اسی سے ملتے جلتے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں میں اس پر صادر کرتا ہوں، یعنی اس کی تصدیق کرتا ہوں، یا اسے صحیح قرار دیتا ہوں۔
سورة صٓ 2
اصل الفاظ ہیں ذی الذکر۔ اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک ذی شرف، یعنی قرآن بزرگ۔ دوسرے ذی التذکیر، یعنی نصیحت سے لبریز قرآن، یا بھولا ہوا سبق یاد دلانے والا اور غفلت سے چونکانے والا قرآن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خلاصہ تفسیر
ص (اس کے معنی تو اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے (کہ کفار آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہوئے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک نہیں) بلکہ (خود) یہ کفار (ہی) تعصب اور (حق کی) مخالفت میں (پڑے) ہیں (اور اس تعصب و مخالفت کا وبال ایک روز ان پر پڑنے والا ہے جیسا) ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہم (عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں، سو انہوں نے (ہلاکت کے وقت) بڑی ہائے پکار کی (اور بہت شور و غل مچایا) اور (اس وقت شوروغل سے کیا ہوتا ہے، کیونکہ) وہ وقت خلاصی کا نہ تھا (اس لئے کہ عذاب جب آ چکے تو یہ بھی قبول نہیں ہوتی) اور ان کفار (قریش) نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس ان (ہی) میں سے (یعنی جو…
Read the full tafseer →-1 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ص و القران ذی الذکر (1)
ص حروف مقطعات میں سے ہے۔ یہ اس سورة کا قرآنی نام ہے ان حرف پر جامع بحث بقرہ کے شروع میں گزر چکی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنی متعین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ محض تکلف ہے۔
قرآن کے مذکر سے موسوم ہونے کے بعض پہلو
والقرآن ذی الذکر جس طرح قرآن کی قسم سورة یٰسین میں حکیم کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے اسی طرح یہاں ذی الذکر کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔ ذکر کا اصل مفہم یاد دہانی کرنا ہے۔ قرآن سر تا سریا دوہائی ہے۔ اس وجہ سے اس کا نام بھی جگہ جگہ ذکر آیا ہے۔ آگے آیت 8 میں اس کا یہی نام آیا ہے۔ اس کے اس نام اور اس صفت سے موسوم و موصوف…
Read the full tafseer →1۔ 1 جس میں تمہارے لئے ہر قسم کی نصیحت اور ایسی باتیں ہیں، جن سے تمہاری دنیا سنور جائے اور آخرت بھی بعض نے ذی الذکر کا ترجمہ شان اور مرتبت والا، کیے ہیں، امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ اس لئے کہ قرآن عظمت شان کا حامل بھی ہے اور اہل ایمان وتقویٰ کے لئے نصیحت اور درس عبرت بھی، اس قسم کا جواب محذوف ہے کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ ساحر، شاعر یا جھوٹے ہیں، بلکہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں جن پر یہ ذی شان قرآن نازل ہوا۔
Read the full tafseer →1: یہ انہی حروف مقطعات میں سے ہے جن کا صحیح مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ دیکھئے سورة بقرہ کی پہلی آیت پر ہمارا حاشیہ۔ اور قرآن کریم میں جو قسمیں کھائی گئیں ہیں، ان کے بارے میں پچھلی سورت (سورة صافات) کا پہلا حاشیہ۔
Read the full tafseer →درس نمبر 211 تشریح آیات
﷽
آیت نمبر 1 تا 3
اللہ تعالیٰ حرف ص اور قرآن کریم کی قسم کھاتا ہے۔ اس قرآن کی قسم جو نصیحت سے مالا مال ہے ۔ یہ حرف ص بھی اللہ کا بنایا ہوا ہے اور یہ قرآن بھی اللہ کا کلام ہے ۔ اور یہ اللہ ہی ہے جو انسان کے گلے میں حرف صاد پیدا کرتا ہے اور پھر یہ حرف اور اللہ کے پیدا کردہ دوسرے حروف تہجی مل کر قرآن کے اسالیب کلام پیدا کرتے ہیں ۔ لیکن تمام انسان ایسا کلام پیش کرتے سے عاجز ہیں ۔ کیونکہ قرآن کلام الہی ہے اور اس کے اندر وہ ادبی صنعت کاری ہے جو انسان کے دائرہ قدرت سے باہر ہے اور اللہ کا یہ اعجاز کلام الہی قرآن میں بھی ہے اور دوسری پیدا کردہ چیزوں میں بھی ہے۔ یہ آواز ص جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
3 یعنی یہ عظیم الشان، عالی مرتبہ قرآن (جو عمدہ نصیحتوں سے پر، اور نہایت موثر طرز میں لوگوں کو ہدایت و معرفت کی باتیں سمجھانے والا ہے) با آواز بلند شہادت دے رہا ہے کہ جو لوگ قرآنی صداقت اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں اس کا سبب یہ نہیں کہ قرآن کی تعلیم و تفہیم میں کچھ قصور ہے یا حضور ﷺ پر نور اس کی تبلیغ و تبیین میں معاذ اللہ مقصر ہیں۔ بلکہ انکار و انحراف کا اصلی سبب یہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹی شیخی، جاہلانہ غرور و نخوت اور معاندانہ مخالفت کے جذبات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ذرا اس دلدل سے نکلیں تو حق و صداقت کی صاف سڑک نظر آئے۔
Read the full tafseer →آیت 1 { صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ } ”ص ‘ قسم ہے اس قرآن کی جو ذکر والا ہے۔“
یہاں پر پہلے حرف یعنی صٓ پر آیت مکمل نہیں ہوئی بلکہ یہ حرف پہلی آیت کا حصہ ہے۔ اسی طرح سورة قٓ اور سورة نٓ کے آغاز میں بھی ایک ایک حرف ہے اور ان دونوں سورتوں میں بھی ایسا ہی ہے کہ اکیلا حرف پہلی آیت کا حصہ ہے نہ کہ الگ مستقل آیت۔ البتہ کئی سورتوں میں آغاز کے دو حروف پر آیت مکمل ہوجاتی ہے۔ مثلاً طٰہٰ ‘ یٰسٓ اور حٰمٓ مستقل آیات ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایسی سورتیں بھی ہیں جن کے آغاز میں تین تین حروف مقطعات ہیں لیکن وہ حروف الگ آیت کی حیثیت سے نہیں بلکہ پہلی آیت کا حصہ ہیں۔ مثلاً الٓــــرٰ۔ اس کے برعکس بہت سی سورتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 نصیحت والے قرآن کی قسم اٹھانے کے بعد بل کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جسے پڑھنے اور سننے والے کی فہم و بصیرت پر چھوڑ دیا گیا ہے اور یہ عبارت یوں بنتی ہے کہ اس سراسر نصیحت والے قرآن کی قسم کہ اس کی عبارت میں کوئی پیچیدگی نہیں، اس کے دلائل بھی عام فہم ہیں اور اس کے مطالب سمجھنے میں بھی کسی کو کوئی دشواری نہیں مگر کافر پھر بھی اس پر طرح طرح کے اعتراض کر رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں کہ انہیں سمجھ نہیں آرہی بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اس کی تعلیمات کو تسلیم کرنے میں اپنی، اپنے آباء واجداد کی اور اپنے معبودوں کی ہتک محسوس کرتے ہیں۔ لہذا چڑ کر اس کی مخالفت پر اتر آئے ہیں۔
Read the full tafseer →1۔ دوسرے مقطعات کی طرح اس حرف ” ص “ کے اصل معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں۔ البتہ امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر میں متعدد اقول نقل کردیئے ہیں۔ مثلا :۔
1۔ آ، مخفف ہے کسی اسم الہی کا، مثلا صمد یا صادق الوعد، یا صانع المصنوعات۔
2۔ ص، مخفف ہے اس فقرہ کا، کہ صد الکفار عن قبول ھذا الدین ،۔ اور محمد بن کعب القرظی سے روایت ہے ” ص “ اسم الصمد اور صادق الوعد کا سر ہے۔ (معالم)
2۔ مطلب یہ کہ قرآن کی اعلی تعلیمات خود اس کی صداقت پر گواہ ہیں، اور یہ کافر جو اس کے کلام الہی ہونے اور آپ کی حالت سے انکار کررہے ہیں۔ سو اس کی بنیاد کسی دلیل یا وجہ عقلی پر ہرگز نہیں۔ (آیت) ” ذی الذکر “۔ یعنی یہ وعظ ونصیحت والا قرآن،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…
Read the full tafseer →صٓ بعض علماء کے نزدیک صٓ قسم ہے ‘ بعض نے سورت کا نام قرار دیا۔ حروف تہجی کے بیان میں اس کا تذکرہ آچکا ہے۔ محمد بن کعب کے قول پر ‘ اللہ کے نام یعنی صمد اور صادق الوعد کی کنجی ہے۔ ضحاک نے کہا : آ کا معنی ہے : صَدَقَ اللّٰہُ اللہ نے سچ فرمایا۔ حضرت ابن عباس کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ صٓ کا معنی ہے : صَدَقَ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ۔ بعض کے نزدیک صاد بالکسر مصادرت سے امر کا صیغہ ہے۔ صدٰی آواز بازگشت کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے عمل سے قرآن کی آواز بازگشت پیش کرو۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ متشابہات میں سے ہے۔ اس کی تحقیق سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں ہم نے کردی ہے۔
والقران ذی الذکر قسم ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) یعنی قرآن کریم کو بار بار پڑھو تاکہ ایمان کفر سے اور سنت بدعت سے اور حق باطل سے سچ جھوٹ سے حلال حرام سے اور نیکی برائی سے ممتاز ہوجائے یا یہ کہ ص سے مراد اہل مکہ یا ابوجہل کو ہدایت سے روک دیا گیا یا یہ کہ ص اللہ تعالیٰ کے اسم پاک صادق اس کا مخفف ہے۔
یا یہ کہ اس کے ذریعے سے قسم کھائی گئی ہے قسم ہے قرآن کی جو شرف وبیان والا ہے یعنی جو اس پر ایمان لائے اس کے لیے شرافت والا اور اولین و آخرین کے بیان والا ہے بلکہ یہ کفار مکہ ہی تعصب و برائی اور مخالفت و دشمنی میں پڑے ہوئے ہیں۔
شان نزول : صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ (الخ)
امام احمد، ترمذی، نسائی اور امام حاکم نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن…
Read the full tafseer →صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ : ”صۗ“ حروف مقطعات میں سے ہے، اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔
وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ :”الْقُرْاٰنِ“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس قرآن“ کیا ہے۔ ”الذِّكْرِ“ کا معنی عزّ و شرف بھی ہوسکتا ہے، نصیحت بھی اور اللہ تعالیٰ کا اور ان تمام چیزوں کا ذکر بھی جن کی انسان کو نجات کے لیے ضرورت ہے۔ یہاں تینوں معانی بیک وقت مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ قرآن کمال عزّو شرف والا بھی ہے، نصیحت والا بھی ہے اور اس میں ان تمام چیزوں کا ذکر بھی ہے جن کی ضرورت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انبیاء کی آیت (10) : (لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 ۔ 3:۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم
عام قراءت دال کی جزم کے ساتھ وقف کی صورت میں ہے کیونکہ یہ حروف تہجی میں سے ایک ہے جس طرح الم اور المر ہے۔ حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت حسن بصری ‘ ابن اسحاق اور نصر بن عاصم نے صاد پڑھا ہے یعنی دال کے نیچے کسرہ ہے اور تنوین نہیں۔ اس کی قراءت کی وجہ سے دو مذہب ہیں : (1) یہ صادی یصادی سے مشتق ہے جب یہ عارض کے معنی میں ہو اسی سے فانت لہ تصدی۔ ) عیس ( ہے یعنی تو اس کا سامنا کرتا ہے مصادۃ کا معنی معارضہ ہے اسی سے ایل لفظ صدی ہے اس سے مراد وہ چیز ہے جو خالی جگہوں مینآواز کے مقابل ہوتی ہے اس کے معنی ہے قرآن کے مقابل ہو اپنے عمل کے ساتھ اور اس کے اوامرر پر عمل کر اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1:۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا ” آ “ کے بارے میں تو ان دونوں نے فرمایا ہم نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے۔
2:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ ” ص ٓ“ سے مراد ہے کہ قرآن سے ہم کلام ہونا :۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے حسن بصری (رح) اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت ) ” ص ٓ والقران “ یعنی صاد کی دال کے نیچے کندہ پڑھتے تھے اور اس کو مصدر مصاواۃ سے مشتق مانتے تھے اور فرماتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ساتھ یک سو ہوجا۔ عبد الوہاب نے کہا کہ اس کو اپنے عمل پر پیش کر پھر تو دیکھ کہ قرآن سے تیرا عمل کتنا مقابل ہے۔
4:۔ ابن مردویہ…
Read the full tafseer →صۗ وَالْقُرْاٰنِ [قسم ہے اس قرآن کی ] ذِي الذِّكْرِ [جو نصیحت والا ہے ] ۔
Read the full tafseer →منکرین توحید و مکذبین رسالت کے لیے وعید
صٓ یہ حروف مقطعات میں سے ہے جس کے معنی اللہ کو ہی معلوم ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ابتدائی آیات کا سبب نزول معلوم کرلینا چاہیے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے تو ان کے پاس قریش مکہ آئے اور رسول اللہ ﷺ بھی تشریف لائے۔ قریش نے ابو طالب سے شکایت کی (کہ تمہارا بھتیجا ایسی ایسی باتیں کرتا ہے) ابو طالب نے آپ سے پوچھا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے تم اپنی قوم سے کیا چاہتے ہو۔ آپ نے فرمایا کہ میں ان کے سامنے ایک کلمہ پیش کرتا ہوں وہ اسے قبول کرلیں تو سارا عرب ان کا فرمانبردار ہوجائے گا اور عجمی لوگ ان کو جزیہ دیا کریں گے ابو طالب نے کہا کہ صرف ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آغاز سورت از بیان حقانیت قرآن ووعید وتنبیہ برغرور و انکار متکبرین و کفار :
(آیت) ” قال اللہ تعالیٰ ۔ ص والقران ذی الذکر ....... الی ....... ان ھذا الا اختلاق “۔
(ربط سورة ) گذشتہ سورة والصافات کی ابتداء توحید کے مضمون سے ہوئی اور خاتمہ (آیت ) ” سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین (ط) سے مسئلہ نبوت و توحید پر ہوا اس مناسبت سے اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی حقانیت اور عظمت شان سے ہوا جو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے نیز گذشتہ سورت کیطرح اس میں بھی انبیاء سابقین کے واقعات ذکر فرمائے گئے جن میں حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ والقران۔ تا۔ و شقاق : یہ تمہید مع ترغیب ہے۔ والقران الخ، قسم ہے اور جواب قسم محذوف ہے ای مابقی موضع شبہۃ یعنی یہ پند و نصیحت سے لبریز قرآن اس پر شاہد ہے کہ مسئلہ توحید میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کفار کے نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں کہ مسئلہ میں کوئی شبہ باقی ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ یہ کفار و مشرکین کبر و غرور اور عناد و عداوت میں پرے ہیں۔ اس لیے انکار و جحود پر کمر بستہ ہیں اور ان کے غرور و استکبار کا سبب دنیوی سامان عیش کی فراوانی ہے۔ بل متعت ھؤلاء وآباءھم حتی نسوا الذکر وکانوا قوما بورا (الفرقان رکوع 2) ۔ جب سورة صافات میں بیان ہوچکا کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) فرشتے اور جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
(نام اور کوائف)
اس سورة مبارکہ کا نام سورة ص ہے جو کہ اس کے پہلے حرف سے ماخوذ ہے ، یہ مکی سورة ہے مفسرین (1) فرماتے ہیں کہ یہ سورة نبوت کے چوتھے یا دسویں سال میں نازل ہوئی اور اس طرح یہ سورة گویا ابتدائی سورتوں میں سے ہے اس سورة مبارکہ کی اٹھاسی (88) آیات اور پانچ رکوع ہیں اور یہ سورة 731 الفاظ اور 3660 حروف پر مشتمل ہے ۔
(مضامین سورة )
مکی سورة ہونے کے ناطے سے اس میں بھی زیادہ تر بنیادی مضامین یعنی توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن پاک کی حقانیت اور وصداقت ہی بیان ہوئے ہیں اثبات توحید کے سلسلے میں گذشتہ کی ابتداء میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا تھا کہ (آیت) ” ان الھکم لواحد “۔ یعنی تمہارا معبود…
Read the full tafseer →بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ صۗ وَالْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ 1ۭ
قرآن
والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : ص قرء الجمہور باسکان الدال و قریٔ بکسر بالالتقاء الساکنین اولکونہ امرا من صادی الشیء قابلہ و عارضہ ای عارض بعملک القرآن و قریٔ بالفتح للتحریک والقرآن الواو للقسم وقیل معطوف علی القسم و ہو صاد و جواب القسم محذوف لقد جاء کم الحق او ما ینا سب المقام، ولات التاء زیدت علی لا کما تزاد علی رب و ثم ربۃ و ثمۃ و اکثر العرب تحرک ھذہ التاء بالفتح و اما فی حالۃ الوقف فبعضھم یقف بالتاء لان الحروف لیست موضع تغیر و بعضھم بالہاء حین علی مذہب سیبویہ خبر لات و اسمھا محذوف لانھا عملت عمل لیس ای الحین حین ھرب و عند الاخفشھی العاملۃ فی باب النفی فحین اسمھا و خبر ھا محذوف ای لاحین مناص لھم والجملۃ حال من…
Read the full tafseer →صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ ۔ (صٓ: 1)
(صٓ قسم ہے نصیحت والے قرآن کی۔ )
ص حروفِ مقطعات میں سے ہے اور حروفِ مقطعات کی تشریح سورة البقرۃ کے آغاز میں کی جا چکی ہے۔
آیت میں قسم اور جوابِ قسم کا تعین اور مفہوم
وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ وائو حرف قسم ہے اور اس کے بعد کا جملہ قسم ہے۔ اس بات کا تذکرہ متعدد دفعہ ہوچکا ہے کہ قرآن کریم میں بالعموم جس لفظ یا جس جملے سے قسم کھائی جاتی ہے وہ دلیل اور شاہد کا کام دیتا ہے اور اس کا مقسم علیہ دعویٰ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قرآن کریم کی قسم کھائی گئی ہے لیکن ساتھ اس کی صفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جس طرح سورة یٰسین میں قرآن کی قسم حکیم کی صفت کے ساتھ وارد ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
سورۃ الصّٰفّٰت کے اختتام پر ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ یا کسی اور کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور اللہ تعالیٰ مشرکوں کی یا وہ گوئی سے مبّرا ہے۔ اس کی طرف سے انبیائے کرام (علیہ السلام) پر ہمیشہ رحمت کا نزول ہوتا رہے گا۔ سورة صٓ ابتدا میں قرآن مجید کو الذّکر قراردیا گیا ہے۔ الذّکر کا معنٰی نصیحت اور خیرخواہی ہے۔ کافر اور مشرک خیر خواہی قبول کرنے کی بجائے اس کی مخالفت میں آکر کہتے ہیں کہ یہ نبی کذّاب اور جادوگر ہے۔
” ص “ حروف مقطعات میں سے ہے۔ اس حرف کا بھی مفہوم بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس کی بھی وہی حقیقت ہے جو دوسرے حروف مقطعات کی ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے…
Read the full tafseer →صٓ وَالْقُرْٰانِ ذِی الذِّکْرِ ۔ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّ شِقَاقٍ (ص۔ قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے پر ہے۔ بلکہ یہ کفار تعصب اور مخالفت میں ہیں)
1: صؔ نمبر 1۔ حروف معجم میں سے اس حرف کا تذکرہ بطور تحدی اور اعجاز پر متنبہ کرنے کیلئے فرمایا گیا ہے۔ پھر اس کے بعد قسم کا ذکر کیا جس کا جواب محذوف ہے۔ کیونکہ تحدی اس جواب پر دلالت کر رہی ہے گویا تقدیر کلام اس طرح ہے والقرآن ذی الذکر ای ذی الشرف انہٗ لکلام معجز۔ مرتبے والے قرآن کی قسم بیشک وہ معجز کلام ہے۔
نمبر 2۔ ص یہ مبتدأ محذوف کی خبر ہو۔ اس طرح کہ وہ سورت کا نام ہو۔ گویا تقدیر کلام اس طرح سے ہو۔ ھذہٖ ص ای ھٰذہ السورۃ التی اعجزت…
Read the full tafseer →تفسیر 1۔ ، ص، بعض نے کہا کہ یہ قسم ہے بعض نے کہا کہ یہ سورة کا نام ہے جیسا کہ ہم نے ہر سورة کی ابتداء میں حروف تہجی کے متعلق بیان کیا۔ محمد بن کعب القرظی کا بیان ہے کہ اللہ کے نام یعنی صمد اور صادق الو عد کی کنجی ہے ۔ ضحاک کا قول ہے کہ ص کا معنی ہے صدق اللہ ، اللہ نے سچ فرمایا۔ ابن عباس ؓ کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ ص کا معنی ہے صدق محمد رسول اللہ، والقرآن ذی الذکر، یہ بیان ہے عقل مندلوگوں کے لیے۔
ابن عباس ؓ ، مقاتل ، ضحاک نے اس کا ترجمہ شرف سے کیا ہے ۔ اس پر دلیل اللہ تعالیٰ کافرمان، وانہ لذکر لک ولقومک ، واؤقسمیہ ہے ۔ اس کے جواب قسم میں آئمہ کا اختلاف ہے ۔ بعض نے کہا کہ اس کا جواب قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ حضرت عبد ؓ اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی 1 ؎ نسائی مسند امام احمد مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم مسند عبد بن حمید بہیقی اور تفسیر ابن جریر وغیرہ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھل بلی سی پڑگئی تھی۔ اس لئے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابو طالب کے پاس گئی اور ابو طالب سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ابوطالب نے آنحضرت ﷺ سے کہا۔ کہ اے میرے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں۔ کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کہ میں قوم کے لوگوں سے ایسی ایک بات چاہتا ہوں کہ اگر یہ لوگ اس کو پورا کر لیویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2 عناد و استکبار محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کتاب حکیم میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں مگر جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر وہ تکبر اور ضد میں پڑے ہوئے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ دولت ایمان سے محروم ہیں۔ سو قرآن حکیم کے اگر اسی ایک وصف کو دیکھا جائے یعنی اس کی شان ذکر کو تو اس کی تکذیب اور اس کے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لیکن منکرین نے جب آنکھوں پر ضد وعناد اور تعصب و ہٹ دھرمی کی سیاہ پٹی باندھ رکھی ہو تو پھر ان کو راہ حق و ہدایت نظر آئے تو کس طرح اور کیونکر ؟ کہ ہٹ دھرمی کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ سو قرآن حکیم جن حقائق کی دعوت دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة ص
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14
اسرار و معارف :
ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…
Read the full tafseer →ف 3 یا ” جو شرف و عظمت والا ہے “ اس قسم کا جواب مخدوف ہے جیسے لتجثمن یا ان ربک الحق وغیرہ۔
Read the full tafseer →(38:1) ص : حرف مقطعات میں سے ہے۔
والقران : واؤ قسمیہ ہے۔ القران مقسم بہ ہے۔
ذی۔ بمعنی والا۔ صاحب۔ اسم ہے ۔ یہ اسمائے ستہ مکبرہ میں سے ہے۔ یعنی ان چھ اسموں میں سے کہ جب ان کی تصغیر نہ ہو اور وہ غیر یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان پر پیش کی حالت میں واؤ اور زبر کی حالت میں الف اور زیر کی حالت میں ی آتی ہے جیسے ذوا ذا ۔ ذی۔ یہ ہمیشہ مضاف ہوکرہی استعمال ہوتے ہیں۔ اور اسم ظاہری کی طرف مضاف ہوتا ہے ضمیر کی طرف نہیں اس کا تثنیہ بھی آتا ہے اور جمع بھی۔
الذکر۔ نصیحت۔ ذکر۔ پند۔ بیان۔ ذکر یذکر کا مصدر ہے۔
والقران ذی الذکر۔ قسم ہے قرآن نصیحت والے کی۔ یہ جملہ قسمیہ ہے اس کا جواب محذوف ہے تقدیر کلام یوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
(ف 1) شان نزول :
حضرت عمر ؓ کے اسلام لانے سے قریش میں ایک کھلبلی مچ گئی اس لیے ایک جماعت قریش کی ایک روز ابوطالب کے پاس گئی اور ابوطالب سے نبی ﷺ کی طرح طرح کی شکایت کی ، ابوطالب نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے بھتیجے یہ قوم کے لوگ تمہاری شکایت کرتے ہیں کہ تم ان کے معبودوں کو برا کہتے ہو، نبی ﷺ نے جواب دیا کہ میں قوم کے لوگوں سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کے بعد تمام عرب وعجم ان کے فرمانبردار ہوجائے، وہ خوش ہوکربولے کہ بتلائیے کہ وہ کلمہ کیا ہے آپ ایک کلمہ کہتے ہیں ہم آپ کے دس کلمے ماننے کے لیے تیار ہیں تو آپ نے فرمایا، زیادہ نہیں صرف ایک کلمہ، لا الہ الا اللہ۔ یہ سنتے ہی طیش میں آکرکھڑے ہوگئے اور کہنے…
Read the full tafseer →(1) ص ٓ ۔ قسم ہے اس قرآن کریم کی جو نصیحت سے لبریز اور پر ہے۔ ص کے معنی تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کیونکہ یہ حروف مقطعات میں سے ہے قرآن نصیحت والے کی قسم کا مطلب یہ ہے کہ جو قرآن نصیحت کی باتوں سے لبریز ہے اس کی قسم کھا کر کہا جاتا ہے کہ یہ کلام معجز ہے اور مقابلہ کرنے والوں کو عاجز کردینے والا ہے کہ وہ اس کا جواب نہیں لاسکتے یا قسم کا جواب یہ ہے۔ ماالام کما قال کفار مکۃ من تعدد الا لہ۔
یعنی قسم ہے قرآن کریم نصیحت والے کی واقعہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ کفار مکہ کہتے ہیں کہ بہت سے اور متعدد و معبود ہیں یعنی تعداد الہ کا قول باطل ہے ٹھیک نہیں ہے یا یہ کفار جو محمد ﷺ کی نسبت کہہ رہے ہیں وہ صحیح نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1۔ سبب نزول ابتدائی آیات کا یہ ہے کہ ابو طالب کے مرض میں قریش ان کے پاس آئے، اور حضور ﷺ بھی تشریف لائے، تو قریش نے ان سے شکایت کی، انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ اپنی قوم سے کیا بات چاہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس سے تمام عرب ان کا مطیع ہوجائے اور عجم ان کو جزیہ دینے لگیں، انہوں نے پوچھا وہ ایک کلمہ کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ کہنے لگے کہ تو سب معبودوں کی نفی کر کے ایک ہی معبود قرار دے دیا، یہ عجب بات ہے۔ اس پر ص سے بل لما یذوقوا عذاب تک نازل ہوا۔
Read the full tafseer →ص حروف مقطعات میں سے ہے اور وائو کو قسمیہ کہا گیا ہے :
صاد۔۔۔ حروف مقطعات میں سے ہے اور حروف مقطعات کی بحث سورة البقرہ کے شروع میں کردی گئی ہے اور سورت کا نام بھی بیان کیا جاتا ہے ۔ (والقران) میں وائو قسمیہ کہی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ قسم کسی بات کو پکا اور پختہ کرنے کے لیے اٹھائی جاتی ہے اور انسانوں کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ قسم اٹھائیں تو صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی اٹھائیں اور غیر اللہ کی قسم صحیح نہیں ہے اور عربوں کے رواج کے مطابق وائو کے آگے اللہ یا رب کا لفظ محذوف ہے اور مطلب یہ ہے کہ اس ذات کی قسم جس ذات نے قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی گویا رب قرآن کی قسم جس نے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
Commentary
The background of the revelation
The background of the revelation of the initial verses of this Surah was that Abu Talib, the uncle of the Holy Prophet ﷺ was doing his best as his guardian, despite that he had not yet embraced Islam. When he fell sick, the chiefs of the tribe of Quraish held a consultative meeting in which Abu Jahl, ` As Ibn Wa'il, Aswad Ibn Muttalib, Aswad Ibn ` Abd Yaghuth and several other chiefs participated. They discussed the situation they faced. Abu Talib was sick. If he were to pass away and they were to take some strong action against the Holy Prophet ﷺ…
Read the full tafseer →1 Although like alI other enigmatic letters (mugatta'at) it is difficult to determine the meaning of the letter Suad also, yet the interpretation of it given by Ibn 'Abbas and Dahhak is quite plausible. According to them, it implies: Sadiq-un fi' qauli-hi, or Sadaqa Muhammad-un: Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) is Truthful: whatever he says is the very Truth.
2 The words dhi-dh-dhikr of the Text can have two meanings: (1) Dhi sharaf: the noble Qur'an; and (2) Dhi at-tadhkir: the Qur'an which is full of admonition, or the Qur'an which serves as a reminder, or arouses a…
Read the full tafseer →