Explained with ayahs 4–11
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔
حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →سورة صٓ 11
یہ کفار کے اس قول کا جواب ہے کہ " کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کردیا گیا۔ " اس پر اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ نبی ہم کس کو بنائیں اور کسے نہ بنائیں، اس کا فیصلہ کرنا ہمارا اپنا کام ہے۔ یہ لوگ آخر کب سے اس فیصلے کے مختار ہوگئے۔ اگر یہ اس کے مختار بننا چاہتے ہیں تو کائنات کی فرمانروائی کے منصب پر قبضہ کرنے کے لیے عرش پر پہنچنے کی کوشش کریں تاکہ جسے یہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھیں اس پر وہ نازل نہ ہو۔ یہ مضمون متعدد مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوا ہے، کیونکہ کفار قریش بار بار کہتے تھے کہ یہ محمد ﷺ کیسے نبی بن گئے، کیا خدا کو قریش کے بڑے بڑے سرداروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
(آیت) وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ الخ (اور ان کفار کے رئیس یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ الخ) اس سے مذکورہ واقعہ ہی کی طرف اشارہ ہے کہ توحید کی دعوت سن کر وہ مجلس سے چل کھڑے ہوئے۔
Read the full tafseer →ام لھم ملک السموت والارض وما بینھما فلیرتقوا فی الاسباب (10)
یہ اسی اوپر والی بات کی مزید تفصیل ہے۔ یعنی اگر ان کا زعم یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ان کے اتھ میں ہے تو آسمانوں پر چڑھ جائیں اور اس رحمت کو روک دیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر نازل فرما رہا ہے۔
اسباب سے مراد اسباب السموات ہے۔ یہ لفظ کسی چیز کے اطراف اور متعلقات کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ اس کی تحقیق اس کے محل میں گزر چکی یہ۔
Read the full tafseer →10۔ 1 یعنی آسمان پر چڑھ کر اس وحی کا سلسلہ منقطع کردیں جو محمد ﷺ پر نازل ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →4: مطلب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی نبوت پر یہ لوگ اس طرح اعتراضات کر رہے ہیں جیسے نبوت جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک حصہ ہے، ان کے اپنے اختیار میں ہے کہ جسے یہ چاہیں اسے نبی بنایا جائے، اور جسے یہ ناپسند کریں، اسے نبوت نہ دی جائے۔
5: یعنی اگر یہ اتنے وسیع اختیارات کے مالک ہیں تو ان میں رسیاں تان کر آسمان پر چڑھنے کی بھی طاقت ہونی چاہیے، جو ظاہر ہے کہ انہیں حاصل نہیں ہے، اس لیے آسمان و زمین کی معلومات پر انہیں کیا اختیار ہوگا جس کی بنا پر وہ یہ رائے دیں کہ فلاں کو نبی بنایا جائے اور فلاں کو نہ بنایا جائے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 10 (1)
اس کا وہ کوئی جواب نہیں دے سکتے کیونکہ یہ دعویٰ وہ نہیں کرسکتے ۔ اس لئے کہ خود ان کا یہ عقیدہ تھا کہ زمین اور آسمانوں کا مالک اللہ ہے اور وہ دیتا ہے اور وہی روکتا ہے۔ وہ کرم نوازیاں کرتا ہے اور وہی مناسب عطا کرتا ہے۔ اور چونکہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کا اقتدار انہیں حاصل نہیں ہے۔ اس لیے اللہ مقتدر اعلیٰ کے معالات میں ان کو دخل بھی نہ دینا چاہئے وہ تو بلاقید متصرف ہے۔ اب بطور مزاح اور لاجواب کرنے کی خاطر انہیں کہا جاتا ہے کہ ان کا جواب اثبات میں ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین
اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مقتدر اعلیٰ ہیں تو وہ اپنی قوت مقتدر کو کام میں لائیں۔ آ
یت نمبر 10…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
2 یعنی رحمت کے خزانے اور آسمان و زمین کی حکومت سب اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ زبردست ہے اور بڑی بخشش والا ہے جس پر جو انعام چاہے کرے کون روک سکتا ہے یا نکتہ چینی کرسکتا ہے۔ اگر وہ اپنی حکمت و دانائی سے کسی بشر کو منصب نبوت و رسالت پر سرفراز فرماتا ہے تو تم دخل دینے والے کون ہو کہ صاحب اس پر یہ مہربانی فرمائی ہم پر نہ فرمائی۔ کیا رحمت کے خزانوں اور زمین و آسمان کی حکومت کے تم مالک و مختار ہو جو اس قسم کے لغو اعتراضات کرتے ہو۔ اگر ہو تو اپنے تمام اسباب و وسائل کو کام میں لے آؤ۔ اور رسیاں تان کر آسمان پر چڑھ جاؤ۔ تاکہ وہاں سے محمد ﷺ پر وحی کا آنا بند کرسکو اور علویات پر قابض ہو کر اپنی مرضی و منشاء…
Read the full tafseer →آیت 10 { اَمْ لَہُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَاقف } ”کیا ان کے پاس ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کی ؟“
{ فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ } ”تو چاہیے کہ یہ چڑھ جائیں رسیاں تان کر آسمان پر۔“
اگر تمہارے لیے ممکن ہے تو اپنے تمام وسائل و ذرائع بروئے کار لا کر آسمان پر چڑھ جائو اور ربّ العالمین کی رحمت کے خزانوں اور اس کے اقتدار واختیار میں تصرف کر کے دکھائو !
Read the full tafseer →12 اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمین و آسمان کی چیزوں کے مالک ہوگئے ہیں جو یہ خدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں ؟ اگر ایسی بات ہے تو انہیں چاہئے کہ تمام اسباب کو بروئے کار لا کر آپ پر وحی کا سلسلہ بند کردیں۔ اور جسے یہ رسالت کے لئے منتخب کرنا چاہتے ہیں وحی کا رخ ادھر موڑ دیں۔
Read the full tafseer →13۔ (اپنی قدرت تصرف دکھانے کو) (آیت) ” ام ..... بینھما “۔ سوال گویا دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ آیا انہیں ارضیات وسماویات کے مصالح کا علم ہے، جو یہ نبوت کی تقسیم کے بھی ذمہ دار بنتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…
Read the full tafseer →ام لھم ملک السموت والارض وما بینھما فلیرتقوا فی الاسباب یا کیا ان کو آسمانوں اور زمین
کا اور ان دونوں کی درمیانی کائنات کا مکمل اختیار حاصل ہے ؟ تو ان کو چاہئے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں۔
اوپر کی آیت میں فرمایا تھا کہ خزائن رحمت یعنی نبوت (جو ایک روحانی عظیم الشان نعمت رب ہے) ان کے قبضے میں نہیں ہے ‘ اب اس آیت میں فرمایا کہ رحمت رب کے ایک ادنیٰ جزء یعنی اس عالم مادی میں بھی ان کا کوئی تصرف نہیں۔
فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِیعنی عالم سماوی و ارضی کے نظم میں ان کو کچھ دخل ہے تو سیڑھیاں لگا کر آسمان پر چڑھ کر ‘ عرش تک پہنچ کر ‘ اس پر متمکن ہوں اور وہاں سے اس کائنات کا انتظام چلائیں…
Read the full tafseer →کیا ان کو آسمان اور زمین اور جو مخلوقات اور چیزیں ان کے درمیان ہیں سب کا اختیار حاصل ہے تو ان کو چاہیے کہ سیڑھیاں لگا کر آسمان کے دروازوں سے اوپر چڑھ جائیں۔
Read the full tafseer →اَمْ لَهُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : ”لَهُمْ“ پہلے آنے سے حصر پیدا ہوگیا ہے۔ یعنی یا پھر اللہ تعالیٰ کے بجائے زمین و آسمان کی سلطنت کے مالک یہی ہیں کہ جسے جو چاہیں دیں، جو چاہیں نہ دیں ؟ تو پھر زمین پر کیوں پھرتے ہیں، آسمان کی سیڑھیوں پر چڑھیں، زمین و آسمان کی ساری سلطنت سنبھالیں اور اللہ تعالیٰ کے بجائے خود جسے چاہیں نبوت دیں جسے چاہیں نہ دیں ؟ ظاہر ہے ایسا نہیں، تو پھر ایسی بےہودہ باتیں کیوں کرتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 ۔ 11:۔ الملاء کا معنی اشراف ہیں انطلق کا معنی تیز سے جان ہے یعنی یہ کفار رسول ﷺ کے پاس سے نکلے وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے جس طریقہ پر تم پہلے ہو اسی پر گامزن رہو اور اس کے دین میں داخل نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ابو طالب بن ہشام ‘ شیبہ اور عتبہ جور بیعہ بن عبد شمس کے بیٹھے تھے امیہ بن خلف ‘ عاص بن وائل اور ابو معیط تھے وہ ابو طالب کے پاس آئے تھے انہوں نے کہا : تو ہمارا سردار ہے اور ہمارے بارے میں بہتر انصاف کرنے والا ہے اپنے بھتیجے اور اس کے ساتھ جو بیوقوف لوگ ہیں ان کے ساتھ ہمارے بارے میں معاملات اپنے ہاتھ میں لیں انہوں نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے دین میں طعن کیا۔ ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →اَمْ لَهُمْ [یا ان کے لئے ] مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے ] وَمَا بَيْنَهُمَا ۣ [اور اس کی جو ان دونوں کے درمیان ہے ] فَلْيَرْتَقُوْا [تو انھیں چاہیے کہ چڑھیں ] فِي الْاَسْبَابِ [رسیوں میں ] ۔
Read the full tafseer →(اَمْ لَہُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا) (کیا ان کے قبضہ میں آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان سب کی ملکیت ہے ؟ یعنی یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اجرام علویہ اور اجسام سفلیہ میں انہیں کچھ بھی دخل اور اختیار نہیں ہے پھر انہیں کیا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ملک اور ملکوت میں دخل دیں اور قادر مطلق جل مجدہ پر اعتراض کریں کہ فلاں کو کیوں نبوت دی (فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ ) ، آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان جو چیزیں ہیں اگر ان کے بارے میں کسی اختیار کا دعویٰ ہے تو سیڑھیوں کے ذریعہ اوپر چڑھ جائیں لیکن انہیں تو ذرا سا بھی اختیار نہیں پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
تنبیہ وتوبیخ برانکار رسالت سید المرسلین ﷺ ومقابلہ قدرت رب العالمین :۔
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت ) ”۔ ء انزل علیہ الذکر ...... الی ....... قبل یوم الحساب “۔ کفار مکہ کے دوسرے شبہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا نازل کیا گیا ہے یہ ذکر اور کتاب نصیحت یعنی قرآن ہم سب میں سے صرف اسی شخص پر حالانکہ نہ یہ کوئی دولت مند ہے اور نہ کسی بستی کا سردار ہے حقیقت اس طرح نہیں ہے کہ اگر انکی خواہش کے مطابق قرآن کسی بستی کے سردار یا دولت مند پر اتارا جاتا تو یہ لوگ اسکی اتباع کرلیتے جیسے ان کا یہ قول قرآن کریم نے نقل کیا (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من…
Read the full tafseer →13:۔ ام لہم الخ :۔ یا زمین و آسمان کی حکومت ان کے قبضہ میں ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کے کاموں میں دخل دیتے ہیں تو پھر تمام ممکنہ اسباب کو بروئے کار لا کر ساری کائنات کا نظم ونسق چلائیں اور جسے چاہیں نبوت کے مقام پر فائز کر کے اس پر وحی نازل کریں یہ مشرکین کی خرافات پر تہکم و استہزاء ہے۔ نہ تو اللہ کی رحمت کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہیں۔ نہ زمین و آسمان کی حکومت ان کے قبضے میں۔ لیکن باتیں ایسی تعلی سے کرتے ہیں گویا سب کچھ ان کے اختیار میں ہے۔ وایاما کان ففی امرھم بذلک تھکم بہم لا یخفی (روح جلد 23 ص 169) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کا کوئی اختیار چل سکتا ہے تو وہ آسمان پر چرھ جائیں اور وحی کو روک لیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا جب اللہ نے نبی نے ان کو کفر اور شرک سے منع کرکے توحید کا درس دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور تعجب کرنے لگے کہ کہا کہ کیا ہم بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود پر اکتفا کرلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر وہ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس شخص کی دعوت خود غرضی پر مشتمل ہے لہذا اس کی بات نہ ماننا اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہنا کہنے لگے یہ اس شخص کی من گھڑت بات ہے جو ہم نے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنی
(رسالت پر اعتراض)
گذشتہ درس میں مشرکین کی طرف سے توحید کے انکار کا بیان تھا اب آج کی آیات میں رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →اَمْ لَہُمْ مُّلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا 0 ۣ فَلْيَرْتَقُوْا فِي الْاَسْـبَابِ 10
ملك) بادشاه)
المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور
وَالمِلْكُ ضربان :
مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20]
( م ل ک ) الملک
۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے .
اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے
عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
ترکیب : جند مبتدء و ما للابہام کقولہ جئت لا مر ما ومن الاحزاب صفت لجند و مہزوم خبر ھنالک یجوزان یکون صفۃ لجند ای جند ثابت ھنالک ویجوزان یکون متعلقا بمھزوم معناہ ان الجند من الاحزاب مھزوم ھنالک ای فی ذلک الموضع۔
تفسیر : اس شبہ کا جواب خدا تعالیٰ کئی طرح سے دیتا ہے۔ اول بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب ذکری سے مراد دلائل کہ انہوں نے دلائلِ نبوت میں غور و فکر نہ کیا۔ ورنہ یہ شبہ زائل ہوجاتا اور غور و تامل نہ کرنا یوں ہی شک کرلینا، ان کو اس لیے ہوا کہ ابھی میرا عذاب نہیں چکھا یعنی دنیا میں کوئی اس کی سزا ان کو نہیں ملی، اگر ایسا ہو تو شک جاتا رہے۔ انسان یونہی بیجا حجتیں کیا کرتا ہے، مگر جب…
Read the full tafseer →اَمْ لَھُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا قف فَلْیَرْتَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ ۔ (صٓ: 10)
(کیا آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کی بادشاہی ان ہی کے اختیار میں ہے، تو پھر چاہیے کہ وہ آسمانوں کے اندر چڑھ جائیں۔ )
گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت
گزشتہ آیت میں جو کچھ فرمایا گیا ہے یہ اسی کی مزید تفصیل ہے۔ یعنی اگر انھیں اصرار ہے کہ نبوت کے بارے میں فیصلے ان کی مرضی اور اختیار کے مطابق ہونے چاہئیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین کی حکومت ان کے ہاتھ میں ہے۔ اور ان دونوں کے درمیان بھی ان ہی کی فرمانروائی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر انھیں چاہیے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرک تکبر کی بنیاد پر اللہ کی وحدت اور نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرتے اور اس کے لیے لیڈر عوام کو روکتے تھے۔
کفار کی اکثریت یہ بات جانتی تھی کہ پہلی امتوں میں جو رسول بھیجے گئے وہ اپنی قوم کے ایک فرد ہی ہوا کرتے تھے۔ یہ حقیقت جاننے کے باوجودکفار پراپیگنڈہ کرتے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ رب تعالیٰ اپنے پیغام اور کام کے لیے کسی انسان کو منتخب کرے اگر اس نے کسی انسان کو ہی رسول بنانا ہوتا تو ایسے شخص کو کیوں منتخب کرتا جو مالی لحاظ سے کنگال اور سماجی اعتبار سے یتیم ہے۔ فی الواقع لوگوں میں ہی کسی کو رسول منتخب کرنا ہوتا تو وہ مکہ کے سرداروں یا طائف کے بڑے لوگوں میں سے…
Read the full tafseer →10: اَمْ لَہُمْ مُّلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَہُمَا (کیا ان کو آسمان و زمین اور جو ان کے مابین ہے۔ اس کا اختیار حاصل ہے) کہ جس کی بناء پر امور ربانیہ میں کلام بازی پر اتر آئے اور ان تدابیرالٰہیہ کے متعلق جو رب العزت و الکبریاء کے ساتھ خاص ہیں۔ بات کرنے لگے پھر ان کو خوب شرمایا اور فرمایا ! اگر وہ تدبیر خلائق اور تقسیم رحمت میں تصرف پر مختار بن گئے ہیں تو فَلْیَرْ تَقُوْا فِی الْاَسْبَابِ (تو ان کو چاہیئے کہ سیڑھیاں لگا کر چڑھ جائیں) اور ان راستوں پر چلیں جو آسمان تک پہنچنے والے ہیں۔ تاکہ جہان کے معاملات کی تدبیر کریں۔ اور اللہ کی ملکوت کا معاملہ چلائیں اور اپنے من پسند پر وحی…
Read the full tafseer →10، ام لھم ملک السموات والارض وما بینھما، یہ ان کے اختیار نہیں ہے۔ ، فلیرتقوافی الاسباب، یعنی عالم سماوی اور ارض کے نظم میں اس کو کچھ دخل نہیں تو سیڑھیاں لگا کر آسمان چڑھ کر عرش تک پہنچ کر اس متمکن ہوں اور وہاں سے اس کا ئنات کا انتظام چلائیں اور جس پر چاہیں وحی نازل کی۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے اسباب سے مراد ہیں آسمان کے دروازے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پہنچنے کا راستہ ، کہیں تک پہنچنے کا ذریعہ اور سبب ہو خواہ راستہ ہو، دروازہ ہویا کچھ اور ہو اس کو سبب کہا جاتا ہے۔ یہ امر بطور توبیخ اور عاجز کرنے کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
8۔ 15۔ قرآن شریف کے جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین مکہ ایک یہ بات بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ یا عمرو بن مسعود ایسے مال دار شخص پر نازل ہوتا۔ ان مال دار شخصوں کو چھوڑ کر محمد ؓ جیسے تنگ دست پر کلام الٰہی کا اترنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ جب تک ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کے طور پر کوئی آفت ان پر نہیں آتی۔ اس وقت تک یہ لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے میں ایسی ہی شک و شبہ کی باتیں کرتے رہیں گے۔ ہاں جب کوئی آفت آسمانی ان پر آجاوے تو ان کا یہ سب شک و شبہ جاتا رہے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
12 منکرین کے دلوں پر ایک دستک : سو منکرین کے دلوں پر دستک دینے اور ان کے ضمیروں کو جھنجوڑنے کے لیے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے پاس آپ کے رب کی رحمت کے خزانے ہیں جو کہ سب پر غالب اور سب کو دینے بخشنے والا ہے ؟ یا انکے پاس آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی بادشاہی ہے ؟ "۔ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ان کو آپ ﷺ کے رب کی تقسیم و عطا پر سوال و اعتراض کا کیا حق ہوسکتا ہے ؟ وہ جس کو چاہے نبوت و رسالت کے شرف سے نوازے کہ وہی جانتا ہے کہ اس شرف عظیم اور منصب جلیل کا اہل کون ہوسکتا ہے ۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ } ۔ (الانعام : 124) ۔ سو نبوت و رسالت اور علم و حکمت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة ص
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14
اسرار و معارف :
ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…
Read the full tafseer →ف 1” تاکہ فرشتوں کو آنحضرت ﷺ پر وحی لانے سے منع کردیں “۔ تاکہ جسے یہ اپنی رحمت کا مستحق سمجھیں، اسے دیں اور جسے ہم سمجھتے ہیں محروم کردیں اور زمین و آسمان کا نظام اپنی مرضی کے مطابق چلائیں۔
Read the full tafseer →(38:10) ام لہم۔ یہاں بھی ام مثل ام مذکورہ بالا کے ہے ای بل ألہم۔ آیت 9 میں رحمت کے خزانوں کا ذکر تھا۔ جس سے مراد نبوت و رسالت کی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نعمت روحانی ہے۔
اب اس آیۃ میں رحمت رب کے ایک ادنی اجزاء یعنی عالم مادی کا ذکر ہے یعنی روحانی نعمتوں کا ان کی ملکیت میں ہونا تو کجا ان کو تو اللہ کی ادنی سی نعمت ارض و سماء کے امور پر بھی تصرف حاصل نہیں۔
فلیرتقوا فی الاسباب : یہ جملہ جواب شرط میں ہے اور شرط محذوف ہے۔ ای ان کان لہم ما ذکر من الملک فلیصعدوا فی المعارج و المناھج الذی یتوصل بھا الی السموت فلیدبروھا ولیصرفوا فیہا فانھم لاطریق لہم الیٰ تدبیرھا والتصرف فیہا۔
اگر ارض و سماء اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
خدا پر اعتراض کرنا۔
(ف 1) قرآن شریف کو جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف میں اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود ایسے مالدار شخص پر نازل ہوتا، یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا، کیا سارے جہان میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا، جس پر اپنا کلام نازل کرتا، اس کا جواب اللہ نے یہ دیا بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکالگا ہوا ہے وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جارہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
[5] یعنی نصرانی بھی تین الہٰوں کے قائل ہیں اور یہ شخص ایک ہی اِلٰہ بتاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
نبوت کا استحقاق
1: جیسا کہ بتایاجاچکا ہے ۔ مکہ والوں کو سب سے زیادہ غصہ اس بات پر تھا ۔ کہ اگر نبوت ایک انعام ہے تو ہم اس سے کیوں محروم ہیں ؟ کیوں ہماری عزت وجاہت کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ کیوں ہمارے شرف ومجد کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اور کیوں ایسا ہوا ہے کہ ہم سے اس آدمی کو سعادت کے لئے چن لیا گیا ہے ۔ جو کسی طرح بھی مال و دولت کے اعتبار سے یا اعوان وانصار کے لحاظ سے ہم سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ۔ اس استدلال سے ان کی غرض یہ تھی ۔ کہ شروع ہی سے حضور ﷺ کا دعویٰ غلط ہے ۔ اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی ۔ تو پھر ہمیں عہدہ نبوت پر فائز ہونا چاہیے تھا ۔ خدا ایسا نا منصف نہیں ہے کہ اکابر اور مشاہیر کو…
Read the full tafseer →(10) کیا آسمان و زمین اور زمین کا اور جو چیزیں ان دونوں کے مابین ہیں ان سب کا اختیار ان سب کو حکومت و سلطنت ان کو حاصل ہے تو یہ لوگ رسیاں تان کر اور سیڑھیاں لگا کر آسمانوں میں چڑھ جائیں۔ یعنی کیا ان کو آمان و زمین اور ان دونوں کے مابین جو کچھ ہے اس سب کی بادشاہی اور حکومت حاصل ہے تو یہ آسمان پر کسی ذریعہ سے خواہ وہ رسیاں ہوں یا سیڑھیاں ہوں چڑھ جائیں اور نبوت کی تقسیم اور قضائو قدر کے معاملات پر قبضہ کرلیں اور اس میں مداخلت کریں اور ظاہر ہے کہ جب ان کو آسمان پرچڑھنا بھی ناممکن ہے تو آسمانی تصرفات میں دخل دینے کا کیا حق ہے اور اگر ان کی حکومت ہے تو یہ آسمان پر چڑھ کر خود تمام کام سنبھال لیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
ف 4۔ یعنی نبوت ایک امر عظیم ہے، اس کے عطا کے لئے معطی کا مالک الخزائن اور شدید الغلبہ اور کثیر المواہب ہونا لازم ہے۔ سو اس طرح اگر یہ ان کے اختیار میں ہوتا تو ان کو اس کہنے کی گنجائش تھی کہ ہم نے بشر کو نبوت نہیں دی، پھر وہ نبی کیسے ہوگیا، یا ہم نے فلان بشر کو دی اور فلان کو نہیں دی، اس صورت میں یہ کہنا ان کا زیبا تھا۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کیا اس پر ان کی حکومت ہے ؟
10۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے نبوت و رسالت وہ نعمت اور وہ انعام تھا جو اس دنیا کے انعامات میں سے سب سے بڑھ کر تھا اور ظاہر ہے کہ ہر انعام کا مستحق ایک طرح کا انسان نہیں ہوتا بلکہ جو شخص جس انعام کا مستحق ہوتا ہے وہی انعام اس کو دیا جاتا ہے۔ ہاں ! یہ بات کہ وہ اس انعام کا مستحق کیوں ہے ؟ یہ انعام بانٹنے والے جو اصول اس کے لیے مقرر کیے ہیں ان اصولوں کے تحت ہی انسان اس کا مستحق ہوتا ہے اور نبوت و رسالت کے سوا باقی انعامات انسان کی آزمائش کے طور پر دیئے جاتے ہیں گویا دوسرے سارے انعامات میں اس آزمائش بھی ایک استحقاق ہے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
In verse 6, it was said: وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ (And the leaders among them went forth saying (to their followers)," Walk away (from the Prophet) and stay firm on (adhering to) your gods - 12). This is pointing out to the event mentioned above that, once they heard the call to pure monotheism (tauhid), they left the meeting.
Read the full tafseer →11 This is an answer to this saying of the disbelievers "Was he the only (fit) person among us to whom Allah's Admonition should have lien sent down?' Allah says: "it is for Us to decide whom We should choose and appoint as a Prophet and whom We should not. These people do not possess any power and authority to exercise choice in this regard. If they wish to attain such an authority they should try to reach the Divine Throne in order to obtain control over the office of sovereignty of the Universe, so that revelation should come down on him whom they regard as deserving their mercy and not on…
Read the full tafseer →