Explained with ayahs 4–11
مشرکین کا نبی اکرم ﷺ پر تعجب۔
حضور ﷺ کی رسالت پر کفار کے حماقت آمیز تعجب کا اظہار ہو رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ڼ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ) 10۔ یونس :2) ، کیا لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ان میں سے ایک انسان کی طرف ہم نے وحی کی تاکہ وہ لوگوں کو ہوشیار کر دے اور ایمانداروں کو اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ اس کے پاس ان کے لئے بہترین لائحہ عمل ہے۔ کافر تو ہمارے رسول کو کھلا جادوگر کہنے لگے۔ یہیں پر یہ ذکر ہے…
Read the full tafseer →سورة صٓ 12
" اسی جگہ " کا اشارہ مکہ معظمہ کی طرف ہے۔ یعنی جہان یہ لوگ یہ باتیں بنا رہے ہیں، اسی جگہ ایک دن یہ شکست کھانے والے ہیں اور یہیں وہ وقت آنے والا ہے جب یہ منہ لٹکائے اسی شخص کے سامنے کھڑے ہوں گے جسے آج یہ حقیر سمجھ کر نبی تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
(آیت) وَانْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ الخ (اور ان کفار کے رئیس یہ کہتے ہوئے چل دیئے کہ الخ) اس سے مذکورہ واقعہ ہی کی طرف اشارہ ہے کہ توحید کی دعوت سن کر وہ مجلس سے چل کھڑے ہوئے۔
Read the full tafseer →ندما ھنالک مھزوم من الاحزاب (11)
عذاب الٰہی کا مقابلہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت ھی نہیں کر سکتی
ھنالک کا اشارہ اسی عذاب کی طرف ہے جس کا ذکر آیت 8 میں لمایذوقوا عذاب کے الفاظ سے گزرا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس قرآن کی تصدیق کے لئے عذاب الٰہی کے ظہور کے منتظر ہیں تو یاد رکھیں کہ جب وہ عذاب آجائے گا تو کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی خاہ کسی بھی قوم کا ہو، اس کے مقابل میں نہیں ٹک سکے گا۔ بلکہ وہ لازماً شکست کھائے گا۔ جند کی تنکیر یہاں تفخیم شان کے لئے اور ما اس تنکیر کی تاکید کے لئے ہے۔ یعنی کوئی شکر بھی ہو اور وہ کتنی ہی قوت وصولت رکھتا ہو، عذاب الٰہی کے مقابل میں وہ نہیں ٹک سکتا۔
Read the full tafseer →11۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی ﷺ کی مدد اور کفار کی شکست کا وعدہ ہے۔ یعنی کفار کا یہ لشکر جو باطل لشکروں میں سے ایک لشکر ہے، بڑا ہے، یا حقیر، اس کی قطعًا پروا نہ کریں نہ اس سے خوف کھائیں، شکست ان کا مقدر ہے، ھُنَالِکَ مکان بعید کی طرف اشارہ ہے جو جنگ بدر اور یوم فتح مکہ کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔ جہاں کافر عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
6: مقصد یہ ہے کہ جو بڑی بڑی قومیں پہلے گذری ہیں، ان کے مقابلے میں یہ لوگ ایک چھوٹا سا لشکر ہیں جو خود اپنے وطن میں شکست کھاجائے گا۔ یہ فتح مکہ کی پیشین گوئی ہے، اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ یہ سارے بڑے بول بولنے والے فتح مکہ کے موقع پر ایسی شکست کھا گئے کہ مکہ مکرمہ پر ان کا کوئی اقتدار باقی نہیں رہا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 11
ان کا انجام اس کے سوا نہیں ہے کہ وہ دور جاکر پھینک دیئے جائیں اور ان کے اس لشکر کو شکست ہوجائے۔ وہ مقام جس کا اپنے لئے یہ دعویٰ کرتے ہیں اس سے بہت دور کسی جگہ ان کا لشکر شکست کھانے والا ہے۔ یہ لشکر اللہ کی مملکت میں دخیل نہیں ہے۔ یہ اللہ کے ارادوں کو نہیں بدل سکتا۔ اور اللہ کی مشیت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ ایک مجہول النسب لشکر ہے ، مجہول الشان ہے اور شکست خوردہ ہے۔ گویا شکست اس کی لازمی صفت ہے۔ اس کی شخصیت کا حصہ ہے اور یہ لشکر مختلف احزاب سے بنا ہوا ہے۔ جن کے رجحانات مختلف ہیں اور جن کی خواہشات مختلف ہیں۔
اللہ اور رسول اللہ کے دشمن صرف اسی قدر ترقی کرسکتے ہیں جس…
Read the full tafseer →3 یعنی کچھ بھی نہیں۔ زمین و آسمان کی حکومت اور خزانوں کے مالک تو یہ بیچارے کیا ہوتے۔ چند ہزیمت خوردہ آدمیوں کی ایک بھیڑ ہے جو اگلی تباہ شدہ قوموں کی طرح تباہ و برباد ہوتی نظر آتی ہے۔ چناچہ یہ منظر " بدر " سے لے کر " فتح مکہ " تک لوگوں نے دیکھ لیا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اگلی قومیں برباد ہوئیں۔ اگر چڑھ جائیں تو ان میں ایک یہ بھی برباد ہوں۔ " گویا اس آیت کا ربط ماقبل سے بتلا دیا۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 11 { جُنْدٌ مَّا ہُنَالِکَ مَہْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ } ”یہ بھی ایک لشکر ہے پہلے ہلاک کیے گئے لشکروں میں سے ‘ جواَب یہاں ہلاک ہوگا۔“
اگلی آیات میں قوم نوح علیہ السلام ‘ قوم ہود علیہ السلام ‘ قوم لوط علیہ السلام ‘ قوم شعیب علیہ السلام اور آلِ فرعون کے عبرتناک انجام کا ذکر ہے۔ مطلب یہ کہ جو روش اختیار کر کے ماضی کی یہ اقوام ہلاکت سے دو چار ہوئیں ‘ وہی روش اب قریش ِمکہ ّبھی اپنائے ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بھی مذکورہ اقوام جیسے انجام سے دو چار ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔
Read the full tafseer →13 اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے گروہوں میں سے یہ کوئی اتنا بڑا جتھا نہیں ان سے بڑے بڑے جتھے پہلے گزر چکے اور مات کھاچکے ہیں۔ یہ کفار مکہ کی تو ایک معمولی سی جمعیت ہے جو اسی مقام پر یعنی مکہ میں ہی جہاں یہ بیٹھے باتیں بنا رہے ہیں، اپنی مکمل شکست دیکھ لیں گے۔ یہ گویا کفار مکہ کے حق میں ایک پیشین گوئی تھی جو چند ہی سال بعد حرف بحرف پوری ہو کے رہی۔
Read the full tafseer →14۔ مراد وہی اہل مکہ ہیں۔ پر قوت اہل مکہ کی بربادی کی پیشگوئی قطعیت کے ساتھ کردینا بجائے خود ایک قرآنی معجزہ ہے۔ اس پیش خبری کا تحقق میدان بدر میں ہو کر رہا۔ قال قتادۃ ھنالک اشارۃ الی یوم البدر فاخبر اللہ تعالیٰ بمکۃ انہ سیھزم جند المشرکین فجاء تاویلھا یوم بدر (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…
Read the full tafseer →جند ماھنالک مھزوم من الاحزاب (ان لوگوں کی) یہاں (یعنی مکہ میں) ایک شکست خوردہ حقیر بھیڑ ہے ‘
منجملہ (مخالفین انبیاء کے) گروہوں کے۔
مَا ھُنَالِکَمیں ماا ظہار قلت کیلئے ہے (ھُنَالِکَ سے مراد ہے مکہ) مہزوم شکست خوردہ ‘ یعنی عنقریب ان کو شکست ہوجائے گی۔ الاحزاب سے مراد ہیں کافروں کی وہ جماعتیں جو اپنے اپنے پیغمبروں کے زمانہ میں ان کے خلاف فرقہ بند ہوگئی تھیں۔ مطلب یہ کہ گذشتہ اقوام کو مغلوب کر کے ہلاک کردیا گیا تو ان کے پاس ایسی طاقت کہاں سے آسکتی ہے کہ اللہ کے انتظام عالم میں یہ دخل دے سکیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ اس حقیر جماعت کی آپ پروا نہ کیجئے۔ قتادہ نے کہا : اللہ نے پہلے ہی فرما دیا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(11۔ 12) اور وہاں جاکر دیکھیں کہ کیا آپ کو نبوت ملی ہے یا نہیں اور کیا آپ پر قرآن کریم نازل کیا گیا ہے یا نہیں مقام بدر پر جہاں انہوں نے رسول اکرم کے خلاف سازش کی تھی محض ان لوگوں کی ایک بھیڑ ہے اور منجملہ اور کافروں کے یہ کفار مکہ بھی ہیں جو بہت جلد شکست دیے جائیں گے۔ چناچہ سب کے سب بدر کے دن مارے گئے۔
Read the full tafseer →جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ : ”جُنْدٌ“ پر تنوین تقلیل و تحقیر کے لیے ہے اور ”مَّا“ اس کی مزید تاکید کے لیے ہے، جیسے کہا جاتا ہے : ”أَکَلْتُ شَیْءًا مَا، أَيْ شَیْءًا قَلِیْلًا“ ”میں نے تھوڑی سی چیز کھائی۔“ ”جُنْدٌ مَّا“ ایک حقیر سا لشکر۔ ”هُنَالِكَ“ وہاں، اس جگہ، یعنی اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقابلے میں۔ ”الْاَحْزَابِ“ ”حِزْبٌ“ کی جمع ہے، یعنی مختلف لشکر، جماعتیں۔ یعنی خدائی اختیارات کی ڈینگیں مارنے والے اور مختلف جماعتوں اور لشکروں سے جمع ہونے والے اس حقیر سے لشکر کی بساط ہی کیا ہے۔ یہ تو جب بھی میدان میں آیا شکست کھانے والا ہے، جیسا کہ سورة قمر میں فرمایا : (سَيُهْزَمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
6 ۔ 11:۔ الملاء کا معنی اشراف ہیں انطلق کا معنی تیز سے جان ہے یعنی یہ کفار رسول ﷺ کے پاس سے نکلے وہ ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے جس طریقہ پر تم پہلے ہو اسی پر گامزن رہو اور اس کے دین میں داخل نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ابو طالب بن ہشام ‘ شیبہ اور عتبہ جور بیعہ بن عبد شمس کے بیٹھے تھے امیہ بن خلف ‘ عاص بن وائل اور ابو معیط تھے وہ ابو طالب کے پاس آئے تھے انہوں نے کہا : تو ہمارا سردار ہے اور ہمارے بارے میں بہتر انصاف کرنے والا ہے اپنے بھتیجے اور اس کے ساتھ جو بیوقوف لوگ ہیں ان کے ساتھ ہمارے بارے میں معاملات اپنے ہاتھ میں لیں انہوں نے ہمارے معبودوں کو چھوڑ دیا اور ہمارے دین میں طعن کیا۔ ابو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–16
:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →جُنْدٌ مَّا [کوئی بھی لشکر ہو ] هُنَالِكَ [وہیں ] مَهْزُوْمٌ [شکست دیا جانے والا ہے ] مِّنَ الْاَحْزَابِ [مضبوط جتھوں میں سے ] ۔
Read the full tafseer →(جُندٌ مَّا ھُنَالِکَ مَہْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ ) (اس مقام پر ان لوگوں کی ایک بھیڑ ہے جو شکست کھائی ہوئی جماعتوں میں سے ہیں) یعنی یہاں مکہ معظمہ میں ایسے لوگوں کی بھیڑ ہے جو رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ان کا لشکر شکست خوردہ جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے، یہ بھی شکست کھائیں گے جیسے ان سے پہلی مخالف جماعتوں نے شکست کھائی، چناچہ اہل مکہ نے بدر میں شکست کھائی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ احزاب سے وہ جماعتیں مراد ہیں جو غزوۂ خندق کے موقع پر چڑھ کر آگئی تھیں انہوں نے بھی شکست کھائی اور بری طرح پسپا ہو کر بھاگے اس مضمون میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ غم نہ کریں فکر مند نہ ہوں دوسری اقوام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
تنبیہ وتوبیخ برانکار رسالت سید المرسلین ﷺ ومقابلہ قدرت رب العالمین :۔
قال اللہ تعالیٰ ، (آیت ) ”۔ ء انزل علیہ الذکر ...... الی ....... قبل یوم الحساب “۔ کفار مکہ کے دوسرے شبہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا نازل کیا گیا ہے یہ ذکر اور کتاب نصیحت یعنی قرآن ہم سب میں سے صرف اسی شخص پر حالانکہ نہ یہ کوئی دولت مند ہے اور نہ کسی بستی کا سردار ہے حقیقت اس طرح نہیں ہے کہ اگر انکی خواہش کے مطابق قرآن کسی بستی کے سردار یا دولت مند پر اتارا جاتا تو یہ لوگ اسکی اتباع کرلیتے جیسے ان کا یہ قول قرآن کریم نے نقل کیا (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من…
Read the full tafseer →14:۔ جند ما الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے اور مشرکین مکہ کے مہزوم و مغلوب ہونے کی پیشگوئی ہے یہ مشرکین کا ایک نہایت ہی حقیر سا لشکر ہے جو عنقریب مغلوب و مقہور ہونے الا ہے۔ یہ بھی ان جماعتوں میں ایک ہے جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کے خلاف نبرد آزمائی کی اور آخر ذلیل و رسوا ہوئے یہ وعدہ جنگ بدر میں پورا ہوا اور ھنالک سے مشرکین کے قتل ہو کر گرنے کی طرف اشارہ ہے یعنی ان قریشا من جملۃ الجناد الذین تجمعوا تحزبوا علی الانبیاء بالتکذیب فقہروا واھلکوا۔ اخبر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نبیہ ﷺ وھو بمکۃ انہ سیہزم جند المشرکین فجاء تاویلہا یوم بدر وھنالک اشارۃ الی مصارعہم ببدر (خازن ج 6 ص 42) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا جب اللہ نے نبی نے ان کو کفر اور شرک سے منع کرکے توحید کا درس دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور تعجب کرنے لگے کہ کہا کہ کیا ہم بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود پر اکتفا کرلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر وہ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس شخص کی دعوت خود غرضی پر مشتمل ہے لہذا اس کی بات نہ ماننا اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہنا کہنے لگے یہ اس شخص کی من گھڑت بات ہے جو ہم نے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنی
(رسالت پر اعتراض)
گذشتہ درس میں مشرکین کی طرف سے توحید کے انکار کا بیان تھا اب آج کی آیات میں رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے…
Read the full tafseer →جُنْدٌ مَّا ہُنَالِكَ مَہْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ 11
جند
يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173]
( ج ن د ) الجند
کے اصل معنی سنگستان کے ہیں معنی غفلت اور شدت کے اعتبار سے لشکر کو جند کہا جانے لگا ہے ۔ اور مجازا ہر گروہ اور جماعت پر جند پر لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے ( حدیث میں ہے ) کہ ارواح کئ بھی گروہ اور جماعتیں ہیں قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] اور ہمارا لشکر غالب رہے گا ۔
هزم
أصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
ترکیب : جند مبتدء و ما للابہام کقولہ جئت لا مر ما ومن الاحزاب صفت لجند و مہزوم خبر ھنالک یجوزان یکون صفۃ لجند ای جند ثابت ھنالک ویجوزان یکون متعلقا بمھزوم معناہ ان الجند من الاحزاب مھزوم ھنالک ای فی ذلک الموضع۔
تفسیر : اس شبہ کا جواب خدا تعالیٰ کئی طرح سے دیتا ہے۔ اول بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب ذکری سے مراد دلائل کہ انہوں نے دلائلِ نبوت میں غور و فکر نہ کیا۔ ورنہ یہ شبہ زائل ہوجاتا اور غور و تامل نہ کرنا یوں ہی شک کرلینا، ان کو اس لیے ہوا کہ ابھی میرا عذاب نہیں چکھا یعنی دنیا میں کوئی اس کی سزا ان کو نہیں ملی، اگر ایسا ہو تو شک جاتا رہے۔ انسان یونہی بیجا حجتیں کیا کرتا ہے، مگر جب…
Read the full tafseer →جُنْدٌمَّا ھُنَا لِکَ مَھْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ ۔ (صٓ: 11)
(جتھوں میں سے ایک جتھہ اسی جگہ شکست دیا جائے گا۔ )
قریش کے لیے تنبیہ بھی اور پیش گوئی بھی
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی بھی ہے اور قریش اور دیگر مخالفین کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے۔ ھُنَا لِکَ سے شاید مکہ معظمہ کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہ سورة مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہے اور قریش کی یہ تمام مجہول باتیں اور ان کی تمام تعلیاں اسی شہر کی داستان ہیں۔ چناچہ قصہ ٔ زمین برسرزمین کے طور پر پروردگار انھیں وارننگ دے رہے ہیں کہ تم اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرو، ورنہ وہ دن دور نہیں جب اسی شہر میں جو تمہاری رعونتوں کا مرکز ہے تم اپنی ساری رعونتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور اس سے پہلی اقوام پر اس لیے عذاب آئے کہ وہ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنے والے تھے۔ اہل مکہ ! تم بھی وہی وطیرہ اختیار کیے ہوئے ہو جب کہ تم ایک جھٹکے کی ما رہو اور ناکامی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل سے مکہ والے اس قدر دلیر ہوچکے تھے کہ وہ نبی ﷺ کو بار بار کہتے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ یہ عذاب کیوں نہیں آتا ؟ وہ لوگ تمرد میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ ایک دن اپنے لیے ان الفاظ میں بد دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب قیامت کی بجائے دنیا میں ہی ہمارا حساب چکادے۔ انہوں نے اس طرح بھی دعا کی کہ ” کافروں نے کہا کہ اللہ اگر یہ…
Read the full tafseer →کفارِ قریش کو شکست ہوگی :
1 1: جُنْدٌ مَّا ھُنَا لِکَ (ان لوگوں کی یونہی بھیڑ ہے اس مقام پر) جندٌ مبتدأ اور ماؔ موصولہ یہ نکرہ مبتدأ کی تقویت کیلئے لایا گیا۔ اس کی خبر مہزوم ہے اور من الاحزاب یہ جندٌ یا مھزوم کے متعلق ہے۔ ھنالکؔ سے بدر اور اس میں کفار کی قتل گاہوں کی طرف اشارہ ہے یا اس طرف اشارہ ہے جس بڑے کام میں انہوں نے اپنے کو ڈال رکھا تھا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ جو آدمی کسی ایسے کام میں پڑے جس کی اہلیت نہ ہو تو کہتے ہیں۔ لست ھنالک تو اس کام کو نہیں پہنچ سکتا۔ اسی طرح یہاں فرمایا : ما ھنالک مَھْزُوْمٌ (شکست دئیے جائیں گے) ۔ مِّنَ الْاَحْزَابِ (من جملہ گروہوں میں سے )
مراد یہ ہے یہ ایک گروہ…
Read the full tafseer →11، جند ماھنا لک، یعنی یہ جو کچھ کہتے ہیں یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک شکست خوردہ حقیر بھیڑ ہے۔ ماصلہ ہے ، مھزوم، مغلوب ہیں۔ ، منالاحزاب، اس سے مراد قریش کے لشکر ہیں۔ قتاہ کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرمادیا تھا جب آپ ﷺ مکہ میں تھے، انہ سیھزم جند المشرکین، کہ عنقریب کافروں کی جماعت کو شکست ہوجائے گی اور یہ پیٹھ موڑکربھاگ جائیں گے۔ چناچہ اس کا ظہور بدر کے دن ہوگیا۔ ، ھنالک، سے اشارہ بدر کی لڑائی میں کافروں کی قتل گاہوں کی طرف ہے۔ پھر آپ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
8۔ 15۔ قرآن شریف کے جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین مکہ ایک یہ بات بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ یا عمرو بن مسعود ایسے مال دار شخص پر نازل ہوتا۔ ان مال دار شخصوں کو چھوڑ کر محمد ؓ جیسے تنگ دست پر کلام الٰہی کا اترنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ جب تک ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کے طور پر کوئی آفت ان پر نہیں آتی۔ اس وقت تک یہ لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے میں ایسی ہی شک و شبہ کی باتیں کرتے رہیں گے۔ ہاں جب کوئی آفت آسمانی ان پر آجاوے تو ان کا یہ سب شک و شبہ جاتا رہے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کے حال اور قرآن کو جھٹلانے والوں کے حال کا بیان ہے جو انہوں نے قرآن اور قرآن لانے والے کے ساتھ روا رکھا۔ فرمایا : (آیت) ” ص، قسم ہے قرآن کی جو سراسر نصیحت ہے۔ “ یعنی جو قدر عظیم اور شرف کا حامل ہے، جو بندوں کو ہر اس چیز کی یاد دہانی کراتا ہے جس کے وہ محتاج ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور افعال کا علم، احکام شرعیہ کا علم اور قیامت اور جزا و سزا کا علم۔ قرآن انہیں ان کے دین کے اصول و فروع کا علم عطا کرتا ہے۔ جس چیز پر قسم کھائی گئی ہے یہاں اس کو ذکر کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جس کی قسم کھائی گئی ہے اور جس پر قسم کھائی گئی ہے دونوں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
15 تکذیبِ حق کے مجرموں اور ان کے انجام کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے پہلے قوم نوح، عاد اور فرعون میخوں والے نے بھی جھٹلایا "۔ " ذوالاوتاد " ۔ " میخوں والا " کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ اپنے مخالفوں کو چومیخا کر کے عذاب دیا کرتا تھا۔ یا یہ کہ اس کی حکومت و سلطنت ایسی مضبوط و مستحکم تھی کہ گویا میخوں سے زمین پر ٹھوک دی گئی ہو۔ یا یہ کہ اس کے عساکر اور لشکر اتنے زیادہ تھے کہ جہاں وہ ٹھہرتے وہاں خیموں کی میخیں ہی میخیں نظر آتیں وغیرہ۔ (خازن، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو یہ لفظ فرعون کی فوجوں کی کثرت اور اس کی قوت سے کنایہ ہے۔ جیسے " قدور راسیات " حضرت سلیمان کی سخاوت و فیاضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة ص
رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14
اسرار و معارف :
ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی قریش کے یہ کفار آخر ہیں کیا ؟ جس کسی نے پیغمبروں ﷺ کی مخالفت کی منہ کی کھائی۔ ایک وقت آئے گا کہ مکہ کی سر زمین میں انہیں شکست ہوگی اور آنحضرت ﷺ کے سامنے اطاعت سے سر جھکائیں گے۔
Read the full tafseer →(38:11) جند ما۔ ای ہم جند ۔۔ ما تقلیل و تحقیر کے لئے ہے جیسے کہ کہتے ہیں اکلت شیئا ما میں نے تھوڑا سا کھایا۔ جند مبتدا محذوف کی خبر ہے۔
ھناک ظرف مکان و زمان، وہاں، اس جگہ، اس وقت۔ یہاں مراد بعض کے نزدیک مکہ ہے اور بعض نے اس سے بدر مراد لیا ہے
مھزوم اسم مفعول واحد مذکر ھزم (باب ضرب) مصدر سے، شکست خوردہ۔
الاحزاب۔ گروہ۔ ٹولیاں۔ جماعتیں۔ قبیلے۔
عبارت یوں ہوگی :۔ ہم جند من الاحزاب مھزوم ھنالک یہ کفار کی ایک حقیر سی جماعت ہے (جو انبیاء کے مخالف) مختلف قبیلوں سے (جمع کردہ شدہ) ہے جیسے وہاں (بمقام بدر یا مکہ) شکست دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
خدا پر اعتراض کرنا۔
(ف 1) قرآن شریف کو جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف میں اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود ایسے مالدار شخص پر نازل ہوتا، یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا، کیا سارے جہان میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا، جس پر اپنا کلام نازل کرتا، اس کا جواب اللہ نے یہ دیا بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکالگا ہوا ہے وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جارہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ…
Read the full tafseer →[6] مراد وہی اہل مکہ ہیں اور '' اسی جگہ '' کا اشارہ مکہ معظمہ کی طرف ہے یعنی یہ لوگ ایک دن اسی جگہ شکست کھانے والے ہیں۔ پُرقو ّت اہل مکہ کی شکست کی پیش گوئی اس قطعیت کے ساتھ کردینا بجائے خود ایک قرآنی معجزہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–15
نبوت کا استحقاق
1: جیسا کہ بتایاجاچکا ہے ۔ مکہ والوں کو سب سے زیادہ غصہ اس بات پر تھا ۔ کہ اگر نبوت ایک انعام ہے تو ہم اس سے کیوں محروم ہیں ؟ کیوں ہماری عزت وجاہت کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ کیوں ہمارے شرف ومجد کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اور کیوں ایسا ہوا ہے کہ ہم سے اس آدمی کو سعادت کے لئے چن لیا گیا ہے ۔ جو کسی طرح بھی مال و دولت کے اعتبار سے یا اعوان وانصار کے لحاظ سے ہم سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ۔ اس استدلال سے ان کی غرض یہ تھی ۔ کہ شروع ہی سے حضور ﷺ کا دعویٰ غلط ہے ۔ اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی ۔ تو پھر ہمیں عہدہ نبوت پر فائز ہونا چاہیے تھا ۔ خدا ایسا نا منصف نہیں ہے کہ اکابر اور مشاہیر کو…
Read the full tafseer →(11) منجملہ دیگر مخالفین انبیاء کی جماعتوں کے ان کفار کا بھی ایک معمولی سا لشکر اور بھیڑ ہے جو شکست دے دیا جائے گا۔ یعنی جس طرح دیگر مخالفین انبیاء کے گروہ تھے کہ جب انہوں نے انبیاء کے ساتھ جنگ کی تو ان کی شکست ہوئی انہی گروہوں میں سے ایک چھوٹا سا گروہ اور غول یہاں مکہ میں بھی ہے جو لڑائی کے موقعہ پر شکست دے دیا جائے گا۔ اے پیغمبر تسلی رکھو گھبرانے کی بات نہیں حضرت قتادہ فرماتے ہیں یہ خبر دی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو جب کہ وہ مکہ میں تھے کہ لشکر مشرکوں کا شکست پائے گا چناچہ بدر میں ایس ہی ہوا سورة القمر میں ارشاد ہے۔
سیھزم الجمع ویولون الدبر ۔ عنقریب گروہ شکست پائے گا اور پیٹھ پھیرلے…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی مکہ میں۔
Read the full tafseer →دوسری جماعتوں میں سے یہ بھی ایک ہزیمت خوردہ لشکر ہے
11۔ یہ ایک پیش گوئی ہے جو تقریبا سات آٹھ سال پہلے بیان کردی گئی اور جب یہ بیان کی گئی اس وقت مسلمانوں کی ایک مختصر سی جماعت مکہ کے اندر ہی پٹ رہی تھی اور ابھی تک اس کے جسم میں جان بھی نہیں ڈالی گئی تھی۔ قرآن کریم میں اس طرح کی بیسیوں سے بھی متجاوز آیات بینات بیان کی گئی ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے مفسرین نے ان آیتوں کی طرف مطلق التفات نہ کیا اور بالکل خاموشی کے ساتھ گزر گئے اور آیات بینات کا اطلاق قرآن کریم کے ان استعارات و اشارات پر کردیا جن کے اندر مضمون نہایت کثرت سے بھر دیا گیا تھا اور اپنی طرف سے ان کا نام معجزات رکھا اس بات کو اس قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–11
In verse 6, it was said: وَانطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا عَلَىٰ آلِهَتِكُمْ (And the leaders among them went forth saying (to their followers)," Walk away (from the Prophet) and stay firm on (adhering to) your gods - 12). This is pointing out to the event mentioned above that, once they heard the call to pure monotheism (tauhid), they left the meeting.
Read the full tafseer →12 "Here" implies the city of Makkah. That is, `The time is coming when these people shall be humbled and routed in the very place where they are opposing and mocking you., Then, they will be standing, with heads hung down, before the same man whom they despise and refuse to recognize as a Prophet of Allah. "
Read the full tafseer →