Saad 38:12

Saad · from ayah 12

38:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ وَّفِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِ ۟ۙكَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّعَادٌ وَّفِرۡعَوۡنُ ذُو الۡاَوۡتَادِۙ

ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اس کی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The people of Noah denied before them, and [the tribe of] 'Aad and Pharaoh, the owner of stakes,

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:12

اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم، اور عاد، اور میخوں والا فرعون

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سے پہلے نوح کی قوم اور عاد اور میخوں والا فرعون (اور اس کی قوم کے لوگ) بھی جھٹلا چکے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے پہلے بھی قوم نوح اور عاد اور میخوں والے فرعون نے جھٹلایا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان سے پہلے نوح کی قوم، قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان سے پہلے جھٹلا چکے ہیں نوح کی قوم اور عاد اور چومیخا کرنے والے فرعون

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اِن سے پہلے قومِ نوح نے اور عاد نے اور بڑی مضبوط حکومت والے (یا میخوں سے اذیّت دینے والے) فرعون نے (بھی) جھٹلایا تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور عاد نے اور میخوں والے فرعون نے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان سے پہلے قوم نوح، عاد اور میخوں والا فرعون جھٹلا چکے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے پہلے قم نوح، عاد اور کثہ لشکروں والے فرعون نے تکذیب کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جھٹلایا ان سے پہلے (حق اور حقیقت کو) قوم نوح عاد اور فرعون میخوں والے نے

— مولانا اسحاق مدنی

ان سے پہلے بھی قوم نوح وقوم عاد اور فرعون نے جس کے کھونٹے گرے ہوئے تھے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان سے پہلے جھٹلایا تھا قوم نوح ؑ قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان سے پہلے نوح کی قوم، عاد اور میخوں والا فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بھی جھٹلائے جا چکے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Before them the people of Noah, Ad, and Pharaoh of the tent-pegs gave the lie (to the Messengers)

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Even before them, the people of NuH and 'Aad and Fir'awn (Pharaoh), the man of stakes,

— Muhammad Taqi Usmani

Even before them, the people of NuH and Aad and Firawn (Pharaoh), the man of stakes,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Before them denied -- the people of Nuh; and `Ad; and Fir`awn the man of stakes,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The folk of Noah before them denied (their messenger) and (so did the tribe of) A'ad, and Pharaoh firmly planted,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The people of Noah denied before them, and [the tribe of] 'Aad and Pharaoh, the owner of stakes,

— Saheeh International

The people of Noah, Ad and the dominating Pharaoh had rejected Our revelations.

— Muhammad Sarwar

The people of Nuh and Ad, and Firon, the lord of spikes, rejected (apostles) before them.

— Muhammad Habib Shakir

Before them there have belied the people of Nuh and the 'Aad, and Fir'awn the owner of the stakes.

— Abdul Majid Daryabadi

Before them (were many who) rejected messengers,- the people of Noah, and 'Ad, and Pharaoh, the Lord of Stakes,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–20

ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–14

سورة صٓ 13 فرعون کے لیے " ذی الا وتاد " (میخوں والا) یا تو اس معنی میں استعمال کیا گیا ہے کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا میخ پر ٹھکی ہوئی ہو۔ یا اس بنا پر کہ اس کے کثیر التعداد لشکر جہاں ٹھہرتے تھے وہاں ہر طرف خیموں کی میخیں ہی میخیں ٹھکی نظر آتی تھیں۔ یا اس بنا پر کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اسے میخیں ٹھوک کر عذاب دیا کرتا تھا۔ اور ممکن ہے کہ میخوں سے مراد اہرام مصر ہوں جو زمین کے اندر میخ کی طرح ٹھکے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ اس کے لفظی معنی ہیں ”میخوں والا فرعون“ اور اس کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اس کی سلطنت کے استحکام کی طرف اشارہ ہے، اسی لئے حضرت تھانوی نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ ”جس کے کھونٹے گڑ گئے تھے“ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ وہ لوگوں کو اس طرح سزا دیا کرتا تھا کہ اسے چت لٹا کر اس کے چاروں ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیتا اور اس پر سانپ، بچھو چھوڑ دیتا تھا۔ اور بعض نے کہا کہ وہ رسی اور میخوں سے کوئی خاص کھیل کھیلا کرتا تھا۔ اور بعض کا کہنا ہے کہ ”میخوں“ سے مراد عمارتیں ہیں اور اس نے بڑی مضبوط عمارتیں بنائی تھیں۔ (تفسیر قرطبی) واللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–13

آیت ذوالاوتادا ذوالاوتاد کا لفظی ترجمہ ہوگا میخوں والا لیکن عربی میں میخوں سے خیموں کو تعبیر کرتے ہیں اور پھر خیموں سے بطریق کنایہ فوجیں مراد لیتے ہیں۔ یہ اسی طرح کا کنایہ ہے جس طرح قدور راسیات سے کسی شخص کی فیاضی کو تعبیر کرتے ہیں، چناچہ قرآن میں حضرت سلیمان ؑ کی فیاضی کی تعبیر کے لئے یہ کنایہ آیا ہے۔ یہاں ذوالاوتاد سے فرعون کی کثیر فوجوں کی طرف اشارہ ہے جو خیموں میں رہتی ھتیں۔ فرعون کی فوجوں کی کثرت کا ذکر قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے اور یہ تمام فوجیں اس کے ساتھ عذاب الٰہی میں گرفتار ہو کر سمندر میں غرق ہوئیں۔ اصحب المئیکۃ سے مراد اصحاب مدین ہیں۔ ایکۃ کے معنی جنگل کے ہیں۔ معلم ہوتا ہے مدین کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 فرعون کو میخوں والا اس لئے کہا کہ وہ ظالم جب کسی پر غضبناک ہوتا تو اس کے ہاتھوں پیروں اور سر میں میخیں گاڑ دیتا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–14

6: مقصد یہ ہے کہ جو بڑی بڑی قومیں پہلے گذری ہیں، ان کے مقابلے میں یہ لوگ ایک چھوٹا سا لشکر ہیں جو خود اپنے وطن میں شکست کھاجائے گا۔ یہ فتح مکہ کی پیشین گوئی ہے، اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ یہ سارے بڑے بول بولنے والے فتح مکہ کے موقع پر ایسی شکست کھا گئے کہ مکہ مکرمہ پر ان کا کوئی اقتدار باقی نہیں رہا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–14

آیت نمبر 12 تا 14 یہ مثالیں تو ان لوگوں کی ہیں جو قریش سے قبل تاریخ میں گزرے ہیں ۔ قوم نوح ، قوم عاد ، فرعون جو بڑے بڑے اہراموں والا تھا۔ یہ اہرام زمین پر ایسے ہیں جیسی میخیں ، قوم ثمود ، قوم لوط ، قوم شعیب جنہیں اصحاب الایکہ بھی کہا جاتا ہے یعنی گھنے جنگلوں والے ، یہ ہیں وہ جتھے جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ۔ تو انجام کیا ہوا ان کا ۔ حالانکہ وہ بڑے جبار اور پکڑوالے تھے۔ یہ ہوا فحق عقاب (38: 14) ” میرے عذاب کا فیصلہ ان پر چسپاں ہوا “۔ جو ہونا تھا وہ ہوا۔ وہ اس طرح نیست ونابود کردیئے گئے کہ ان کا کوئی نشان باقی نہیں رہا ہے۔ یہ تھی پوزیشن ان لوگوں کی جو زمانہ ماضی میں گزرے۔ رہے یہ لوگ تو ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی بہت زور و قوت اور لاؤ لشکر والا جس نے دنیا میں اپنی سلطنت کے کھونٹے گاڑ دیئے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ آدمی کو چومیخا کر کے مارتا تھا اس سے اس کا نام ذوالاوتاد (میخوں والا) پڑگیا۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12 { کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ وَّفِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِ } ”ان سے پہلے جھٹلایا تھا قوم نوح علیہ السلام ‘ قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے۔“ کہا جاتا ہے کہ فرعون جب اپنے لشکروں کے ساتھ سفر کرتا تھا تو گھوڑوں اور خچروں کی ایک کثیر تعداد کو صرف خیموں کے کھونٹے اٹھانے کے لیے مختص کیا جاتا تھا ‘ اس لیے اسے فِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِ کہا گیا ہے۔ اس میں کثرت افواج کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

14 میخوں والا فرعون :۔ اگر محاورۃً اس کے معنی لئے جائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ایک بڑی مضبوط سلطنت کا مالک تھا۔ تاہم اس کے لفظی معنی بھی لئے جاسکتے ہیں۔ فرعون کا دستور یہ تھا کہ جس شخص کو سولی پر چڑھانا ہوتا تو اسے تختے کے ساتھ کھڑا کرکے اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں چار میخیں ٹھونک دیا کرتا تھا اسی وجہ سے وہ ذِیْ الاَوْتَاد یعنی میخوں والا مشہور ہوگیا تھا۔ مزید تشریح سورة فجر کی آیت نمبر 10 کے حاشیہ میں دیکھئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–14

15۔ متعین طور پر نام بھی قرآن نے پرانی پر قوت، پرشوکت قوموں کے بتا دیئے، کہ تکذیب انبیاء وتکذیب شریعت الہی ہی کی پاداش میں یہ لوگ ہلاک ہوتے تھے۔ وہی صورت آج کے منکرین کو بھی پیش آنی ہے۔ (آیت) ” نوح، عاد، فرعون، ثمود، لوط، اصحب الیکۃ “۔ ان سب پر حاشیے اپنے اپنے مقام پر گزر چکے۔ (آیت) ” اصحب الئیکۃ “۔ سے مراد حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت ہے۔ (آیت) ” ذوالاوتاد “۔ محاورہ میں اس سے مراد شوکت و حشمت والے سے ہوتی ہے۔ استعیر لثبات العز والملک واستقامۃ الامر (کشاف) اصل ھذہ الکلمۃ من ثبات البیت المطنب باوتادہ ثم استعیر لاثبات العز والملک (کبیر) پرانی قوموں میں تعذیب کی ایک صورت مجرم کو چومیخا کردینے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، صٓ اللہ ہی اس کی مراد کو بہتر جانتا ہے، قسم ہے ذکر والے یعنی بیان والے یا شان والے قرآن کی، جواب قسم محذوف ہے، یعنی بات ایسی نہیں جیسا کہ کفار متعدد الٰہ کے قائل ہیں بلکہ مکہ کے کافر غرور اور ایمان کے مقابلہ میں تکبر اور محمد ﷺ کی مخالفت اور عداوت میں پڑے ہیں، اور ہم نے ان سے پہلے بھی یعنی گزشتہ بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، ان پر نزول عذاب کے وقت انہوں نے ہرچند چیخ و پکار کی لیکن وہ وقت نجات کا وقت نہیں تھا، یعنی وہ وقت فرار کا وقت نہیں تھا، اور لات میں تا زائدہ ہے، اور جملہ نادَوْا کی ضمیر سے حال ہے، یعنی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کذبت قبلھم قوم نوح وعاد و فرعون ذوالاوتاد۔ ان سے پہلے قوم نوح نے اور عاد نے اور فرعون نے جس کی سلطنت کی میخیں گڑ گئی تھیں تکذیب کی

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–12

(11۔ 12) اور وہاں جاکر دیکھیں کہ کیا آپ کو نبوت ملی ہے یا نہیں اور کیا آپ پر قرآن کریم نازل کیا گیا ہے یا نہیں مقام بدر پر جہاں انہوں نے رسول اکرم کے خلاف سازش کی تھی محض ان لوگوں کی ایک بھیڑ ہے اور منجملہ اور کافروں کے یہ کفار مکہ بھی ہیں جو بہت جلد شکست دیے جائیں گے۔ چناچہ سب کے سب بدر کے دن مارے گئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–13

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ : یعنی ان بےچارے قریش اور ان کی ہمنوا جماعتوں کی کیا حیثیت ہے، ان سے پہلے تعداد اور قوت و شوکت میں ان سے کہیں زیادہ اقوام، یعنی قوم نوح، میخوں والا فرعون، عاد، ثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ وہ بڑے بڑے لشکر تھے جن میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب واقع ہوگیا۔ وَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ : ”الْاَوْتَادِ“ ”وَتَدٌ“ کی جمع ہے، میخ۔ فرعون کو میخوں والا کہنے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اس کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھکوا کر سزا دیا کرتا تھا، یا یہ کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا زمین میں میخیں ٹھکی ہوئی ہیں، یا اس…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 12–14

12 ۔ 14:۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر نبی کریم ﷺ کے لئے تعزیت اور آپ کی تسلی کے لئے کیا یعنی اے محمد ! ﷺ یہ تیری قوم کے لوگ ہیں متقدمہ قوموں کے لشکر ہیں جنہوں نے اپنے انبیاء کے خلاف لشکر کشی کی وہ لوگ ان سے زیادہ طاقتور تھے پس انہیں ہلاک کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم کو بانیث کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا (1) علماء عرب نے اس بارے میں دو قول نقل کئے ہیں : (1) اس میں تذکیرو تانیث جائز ہے (2) یہ مذکر ہے اس کی تانیث جائز نہیں مگر اس صورت میں کہ معنی عشیرہ اور قبیلہ پر واقع ہو تو لفظ میں اس معنی کا حکم غالب ہوگا جو معنی مضمر ہے مقصود اس پر تنیہ کرنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : کلا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–16

:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ [جھٹلایا ان سے پہلے ] قَوْمُ نُوْحٍ [نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ] وَّعَادٌ [اور عاد نے ] وَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ [اور میخوں والے فرعون نے ] ۔ و ت د (ض) وتدا میخ گاڑنا۔ وتد ج اوتاد۔ اسم ذات ہے۔ میخ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12 ۔ نوٹ۔ 1: فرعون کے لئے میخوں والا یا تو اس معنی میں استعمال کیا گیا کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا میخ زمین میں ٹھکی ہوئی ہو۔ یا اس بنا پر کہ اس کے کثیر التعداد لشکر جہاں ٹھہرتے تھے وہاں ہر طرف خیموں کی میخین نظر آتی تھیں یا اس بنا پر کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اسے میخیں ٹھونک کر عذاب دیا کرتا تھا۔ (تفہیم القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 12–14

گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کا تذکرہ اس کے بعد گزشتہ ہلاک شدہ اقوام کا ذکر فرمایا جس میں مشرکین مکہ کے لیے عبرت ہے ارشاد فرمایا کہ ان سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اور قوم عاد نے اور فرعون نے جو ذی الاوتاد تھا اور ثمود نے اور لوط (علیہ السلام) کی قوم نے اور اصحاب الایکہ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلایا یہ وہ جماعتیں ہیں جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی مخالفت کو اپنا شیوہ بنایا اور اس کی سزا پائی، مزید فرمایا (اِِنْ کُلٌّ اِِلَّا کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ) یہ سب وہی ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو ان پر میرا عذاب ثابت ہوگیا، ان لوگوں کے عذاب کی تفصیلات قرآن مجید میں جگہ جگہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–16

تنبیہ وتوبیخ برانکار رسالت سید المرسلین ﷺ ومقابلہ قدرت رب العالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ ، (آیت ) ”۔ ء انزل علیہ الذکر ...... الی ....... قبل یوم الحساب “۔ کفار مکہ کے دوسرے شبہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا نازل کیا گیا ہے یہ ذکر اور کتاب نصیحت یعنی قرآن ہم سب میں سے صرف اسی شخص پر حالانکہ نہ یہ کوئی دولت مند ہے اور نہ کسی بستی کا سردار ہے حقیقت اس طرح نہیں ہے کہ اگر انکی خواہش کے مطابق قرآن کسی بستی کے سردار یا دولت مند پر اتارا جاتا تو یہ لوگ اسکی اتباع کرلیتے جیسے ان کا یہ قول قرآن کریم نے نقل کیا (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 12–14

15:۔ کذبت الخ : یہ تخویف دنیوی ہے۔ قوم نوح، عاد، فرعون، ثمود، قوم لوط اور اصحاب الایکہ یہ وہ احزاب ہیں جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) سے ٹکر لی اور ان کی تکذیب کی تو ان سب پر ہمارا عذاب نازل ہوا۔ اور ہم نے ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور ان پر اپنے پیغمبروں کو غلبہ عطا فرمایا۔ فرعون کو ذوالاوتاد اس لیے کہا کہ اس کا ملک نہایت مضبوط اور مستحکم تھا گویا اس کی حکومت کو اس گھر سے تشبیہ دی گئی جس ستون نہایت مضبوط ہوں۔ ذو الاوتاد ذوالملک الثابت (جامع البیان ص 390) ۔ شبہ ھنا فرعون فی ثبات ملکہ ورسوخ سلطنتہ ببیت ثابت اقیم عمادہ و ثبتت اوتادہ (روح ج 23 ص 170) ۔ اور اصحاب الایکہ حضرت شعیب (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–16

ربط آیات : گذشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا جب اللہ نے نبی نے ان کو کفر اور شرک سے منع کرکے توحید کا درس دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور تعجب کرنے لگے کہ کہا کہ کیا ہم بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود پر اکتفا کرلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر وہ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس شخص کی دعوت خود غرضی پر مشتمل ہے لہذا اس کی بات نہ ماننا اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہنا کہنے لگے یہ اس شخص کی من گھڑت بات ہے جو ہم نے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنی (رسالت پر اعتراض) گذشتہ درس میں مشرکین کی طرف سے توحید کے انکار کا بیان تھا اب آج کی آیات میں رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌ وَّفِرْعَوْنُ ذُو الْاَوْتَادِ۝ 12ۙ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–15

ترکیب : جند مبتدء و ما للابہام کقولہ جئت لا مر ما ومن الاحزاب صفت لجند و مہزوم خبر ھنالک یجوزان یکون صفۃ لجند ای جند ثابت ھنالک ویجوزان یکون متعلقا بمھزوم معناہ ان الجند من الاحزاب مھزوم ھنالک ای فی ذلک الموضع۔ تفسیر : اس شبہ کا جواب خدا تعالیٰ کئی طرح سے دیتا ہے۔ اول بل ھم فی شک من ذکری بل لما یذوقوا عذاب ذکری سے مراد دلائل کہ انہوں نے دلائلِ نبوت میں غور و فکر نہ کیا۔ ورنہ یہ شبہ زائل ہوجاتا اور غور و تامل نہ کرنا یوں ہی شک کرلینا، ان کو اس لیے ہوا کہ ابھی میرا عذاب نہیں چکھا یعنی دنیا میں کوئی اس کی سزا ان کو نہیں ملی، اگر ایسا ہو تو شک جاتا رہے۔ انسان یونہی بیجا حجتیں کیا کرتا ہے، مگر جب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–14

کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌوَّفِرْعَوْنُ ذُوالْاَوْتَادِ ۔ وَثَمُوْدُ وَ قَوْمُ لُوْطٍ وَّاَصْحٰبُ الْئَیْکَۃِ ط اُوْلٰٓئِکَ الْاَحْزَابُ ۔ اِنْ کُلٌّ اِلاَّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقَابِ ۔ (صٓ: 12 تا 14) (ان سے پہلے نوح کی قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے تکذیب کی۔ اور ثمود، قوم لوط اور ایکہ والوں نے بھی، یہ جتھے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا، تو میرا عذاب ان پر نازل ہو کے رہا۔ ) تاریخ سے استشہاد قریش کو تنبیہ کرتے ہوئے انھیں تاریخ کا آئینہ دکھایا گیا ہے کہ تم جس روش پر چل رہے ہو اور جس طرح تم نے ہمارے پیغمبر کی تکذیب کو اپنا طرزعمل بنا لیا ہے تمہیں خوب معلوم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–16

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس سے پہلی اقوام پر اس لیے عذاب آئے کہ وہ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنے والے تھے۔ اہل مکہ ! تم بھی وہی وطیرہ اختیار کیے ہوئے ہو جب کہ تم ایک جھٹکے کی ما رہو اور ناکامی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل سے مکہ والے اس قدر دلیر ہوچکے تھے کہ وہ نبی ﷺ کو بار بار کہتے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ یہ عذاب کیوں نہیں آتا ؟ وہ لوگ تمرد میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ ایک دن اپنے لیے ان الفاظ میں بد دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب قیامت کی بجائے دنیا میں ہی ہمارا حساب چکادے۔ انہوں نے اس طرح بھی دعا کی کہ ” کافروں نے کہا کہ اللہ اگر یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

12: کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ (ان سے پہلے جھٹلایا) اہل مکہ سے پہلے قَوْمُ نُوْحٍ (قوم نوح نے) نوح (علیہ السلام) کو وَّ عَادٌ (اور عاد نے) ہود (علیہ السلام) کو وَّ فِرْعَوْنُ (اور فرعون نے) موسیٰ (علیہ السلام) کو ذوالْاَوْتَادِ (میخوں والا) ایک قول : کہ اس کے ہاں کیلیں اور رسیاں تھیں جن سے اس کے سامنے کھیلتے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ جس کو وہ سزا دیتا اس کے دونوں ہاتھوں اور دونوں ٹانگوں میں کیل ٹھونک دیتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

اوتاد کی تفسیریں 12، کذبت قبلھم قوم نوح وعاد و فرعون ذوالا وتاد، حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب نے ذوالا وتاد کا ترجمہ کیا مضبوط عمارتوں والا۔ بعض نے کہا کہ قوی پائیدار حکومت والا۔ قتیبی نے کہا کہ عرب بولتے ہیں وہ لوگ گڑھی ہوئی میخوں والی عزت کے مالک ہیں۔ یعنی لازوال قوی عزت ان کو حاصل ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے مضبوط قوت گرفت والا ۔ عطیہ نے کہا کثیر لشکروں والا اور بڑے جتھوں والا جس طرح کسی چیز کو مضبوط بنانے کے لیے اس میں کیلیں یا میخیں تھونک دی جاتی ہیں اسی طرح فرعون کی قوم نے اپنی حکومت اور اقتدار کو مضبوط اور طاقت وربنارکھا تھا۔ فوجوں کی میخیں (اوتاد) اس لیے کہاجاتا ہے کہ سفر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–15

8۔ 15۔ قرآن شریف کے جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین مکہ ایک یہ بات بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ یا عمرو بن مسعود ایسے مال دار شخص پر نازل ہوتا۔ ان مال دار شخصوں کو چھوڑ کر محمد ؓ جیسے تنگ دست پر کلام الٰہی کا اترنا کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ جب تک ان لوگوں کی ایسی باتوں کی سزا کے طور پر کوئی آفت ان پر نہیں آتی۔ اس وقت تک یہ لوگ قرآن شریف کے کلام الٰہی ہونے میں ایسی ہی شک و شبہ کی باتیں کرتے رہیں گے۔ ہاں جب کوئی آفت آسمانی ان پر آجاوے تو ان کا یہ سب شک و شبہ جاتا رہے گا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کے حوالہ سے انس ؓ بن مالک کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–16

آیت 12 اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمر بستہ تھیں :: (آیت) ” قوم نوح اور عاد “ جو کہ حضرت ہود کی قوم تھی : (آیت) ” اور میخوں والا فرعون “ یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا (وثمود) ” اور ثمود “ صالح کی قوم (وقوم لوط واصحب لئکۃ) ” اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ ‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیب کی قوم ہے۔ (اولئک الاحزاب) جنہوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی ساز و سامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لئے جمع کیا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–12

15 تکذیبِ حق کے مجرموں اور ان کے انجام کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس سے پہلے قوم نوح، عاد اور فرعون میخوں والے نے بھی جھٹلایا "۔ " ذوالاوتاد " ۔ " میخوں والا " کے کئی مفہوم ہوسکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ وہ اپنے مخالفوں کو چومیخا کر کے عذاب دیا کرتا تھا۔ یا یہ کہ اس کی حکومت و سلطنت ایسی مضبوط و مستحکم تھی کہ گویا میخوں سے زمین پر ٹھوک دی گئی ہو۔ یا یہ کہ اس کے عساکر اور لشکر اتنے زیادہ تھے کہ جہاں وہ ٹھہرتے وہاں خیموں کی میخیں ہی میخیں نظر آتیں وغیرہ۔ (خازن، جامع البیان وغیرہ) ۔ سو یہ لفظ فرعون کی فوجوں کی کثرت اور اس کی قوت سے کنایہ ہے۔ جیسے " قدور راسیات " حضرت سلیمان کی سخاوت و فیاضی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–26

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة ص رکوع نمبر 1 آیات 1 تا 14 اسرار و معارف : ص۔ اور قسم ہے قرآن کی جو نصیحت سے بھرا ہے یعنی مضامین قرآن جو حق ہیں اور بندوں کی بہتری کے لیے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ کفار کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں بس محض تعصب ہے جس نے انہیں آپ کے مقابل لا کھڑا کیا ہے اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ان سے پہلے بہت سی قومیں اسی جرم میں ہلاک کردی گئیں وہ بھی انبیاء کے مقابل آئے تھے اور ماننے پہ تیار نہ تھے مگر جب اللہ کا عذاب آیا تو پھر بہت چیخے چلائے لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوا کہ خلاصی کا وقت گزر چکا تھا وہ بھی حیران ہوا کرتے تھے اور انہیں بھی اس بات پہ حیرت ہے کہ انہیں میں سے اسی شہر یا اسی برادری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 فرعون کو میخوں والا کہنے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ وہ جس سے ناراض ہوتا تھا اس کے ہاتھ پائوں میں میخیں ٹھکوا کر سزا دیا کرتا تھا یا یہ کہ اس کی سلطنت ایسی مضبوط تھی گویا زمین میں میخ ٹھکی ہوئی ہے۔ یا اس کا لشکر کثیر تھا اور جہاں ٹھہرتے ہر طرف میخیں ہی میخیں نظر آتیں۔ واللہ اعلم ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:12) قبلہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ ذوالاوتاد۔ مضاف مضاف الیہ۔ میخوں والا۔ وتد کی جمع ہے، فرعون کا لقب تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–15

خدا پر اعتراض کرنا۔ (ف 1) قرآن شریف کو جھٹلانے کی باتوں میں مشرکین ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ قرآن شریف میں اگر کسی انسان پر نازل ہوتا تو ولید بن مغیرہ ، عروہ بن مسعود ایسے مالدار شخص پر نازل ہوتا، یہ کیا غضب ہے کہ ہم سب میں سے محمد ﷺ ہی کا انتخاب ہوا، کیا سارے جہان میں ایک یہ ہی اس منصب کے لیے رہ گئے تھے اور کوئی بڑا رئیس مالدار خدا کو نہ ملتا تھا، جس پر اپنا کلام نازل کرتا، اس کا جواب اللہ نے یہ دیا بات صرف اتنی ہے کہ ابھی ہماری نصیحت کے متعلق ان کو دھوکالگا ہوا ہے وہ یقین نہیں رکھتے کہ جس خوفناک مستقبل سے آگاہ کیا جارہا ہے وہ ضرور پیش آکر رہے گا کیونکہ ابھی تک انہوں نے خدائی مار کا مزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 12–15

[7] فرعون کی کثیر فوج کی طرف اشارہ ہے جو خیموں میں رہتی تھی۔ عربی میں میخوں سے خیموں کو تعبیر کرتے ہیں اور پھر خیموں سے بطریق کنایہ فوجیں مراد لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–15

نبوت کا استحقاق 1: جیسا کہ بتایاجاچکا ہے ۔ مکہ والوں کو سب سے زیادہ غصہ اس بات پر تھا ۔ کہ اگر نبوت ایک انعام ہے تو ہم اس سے کیوں محروم ہیں ؟ کیوں ہماری عزت وجاہت کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ کیوں ہمارے شرف ومجد کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ اور کیوں ایسا ہوا ہے کہ ہم سے اس آدمی کو سعادت کے لئے چن لیا گیا ہے ۔ جو کسی طرح بھی مال و دولت کے اعتبار سے یا اعوان وانصار کے لحاظ سے ہم سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا ۔ اس استدلال سے ان کی غرض یہ تھی ۔ کہ شروع ہی سے حضور ﷺ کا دعویٰ غلط ہے ۔ اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی ۔ تو پھر ہمیں عہدہ نبوت پر فائز ہونا چاہیے تھا ۔ خدا ایسا نا منصف نہیں ہے کہ اکابر اور مشاہیر کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) ان سے پہلے بھی نوح کی قوم اور عاد نے یعنی حضرت ہود کی قوم نے اور میخوں والے فرعون نے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفارِ مکہ سے پہلے قوم نوح ، قوم عاد اور میخوں والے فرعون نے تکذیب کی 12۔ اوپر جو پیش گوئی بیان کی گئی اس کی شہادت کے لیے بیان کیا جارہا ہے کہ اے قریش مکہ آپ لوگوں سے پہلے کتنی جماعتیں آئیں جنہوں نے اپنے اپنے وقت اپنے رسولوں اور نبیوں کی تکذیب کی اور ہم نے ان کو اپنے قانون ِ امہال کے مطابق ایک مدت تک ڈھیل دیئے رکھی لیکن انہوں نے ہماری اس ڈھیل کو بھی نشانہ تضحیک بنایا اور انجام کار ہم نے ہر تکذیب کرنے والی قوم کے نبی و رسول سے اسی طرح چیلنج کرا دیا کہ اے قوم کے لوگوں فلاں وقت تک فائدہ اٹھا لو جو تم اٹھا سکتے ہو اور اپنی ان حرکتوں سے باز آجائو اگر تم باز نہ آئے تو اس طرح کا عذاب تم پر مسلط کردیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَفِرْ‌عَوْنُ ذُو الْأَوْتَادِ (and Fir'aun, the man of the stakes - 12). The literal meaning of this expression appearing in verse 12 is 'Pharaoh of the stakes or pegs'. The commentators have explained this phrase in different ways. Some of them have said that this phrase refers to the stability of his dominion, and the sense is that the stakes or pegs of his kingdom were well-rooted in his country. Maulana Thanavi (رح) has translated the phrase according to this explanation. Some others have said that he used to punish people by making them lie flat on the ground and driving stakes or pegs…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–14

13 The use of dhil-autad (of the stakes) for Pharaoh is either in the sense that his kingdom was very strong as though a stake were firmly driven into the ground, or for the reason that wherever his large armies camped, pegs of the tents were seen driven into the ground on every side, or because he would torture and punish at the stakes anyone with whom he was angry; and possibly the stakes may imply the pyramids of Egypt which seem to be driven into the earth like the stakes.

Read the full tafseer →