Saad 38:86

Saad · from ayah 86

38:86

قُلْ مَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ ۟قُلۡ مَاۤ اَسۡئَــلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُتَكَلِّفِيۡنَ‏

اے پیغمبر کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, [O Muhammad], "I do not ask you for the Qur'an any payment, and I am not of the pretentious

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:86

(اے نبیؐ) اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پیغمبر کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس پر کوئی بدلہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ : میں تم سے اس (اسلام کی دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ میں اس قرآن پر تم سے کچھ اجر نہیں مانگتا اور میں بناوٹ والوں سے نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: میں تم سے اِس (حق کی تبلیغ) پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے میں تم سے اس پر کوئی اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ نہ ہی میں تکلف کر (کے نبی بن) رہا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، نہ میں اس پر تم سے کسی عوض کا طالب ہوں اور نہ میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ میں (تبلیغ حق کے) اس کام پر تم لوگوں سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں کوئی تکلف (اور بناوٹ) کرنے والے لوگوں میں سے ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس (قرآن) پر کوئی بھی معاوضہ نہیں چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ کہیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا اور میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے بھی نہیں ہوں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ﷺ کہہ دو کہ میں تم سے اس کا صلہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), tell them: “I do not ask you for any recompense for the performance of this task; nor am I given to affectation.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say (O Prophet to the unbelievers,) :I do not demand from you any fee for it, nor am I from among those who make up things artificially.

— Muhammad Taqi Usmani

Say (O Prophet to the unbelievers,) :I do not demand from you any fee for it, nor am I from among those who make up things artificially.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "No wage do I ask of you for this, nor am I one of the Mutakallifin."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (O Muhammad, unto mankind): I ask of you no fee for this, and I am no simulating.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, [O Muhammad], "I do not ask you for the Qur'an any payment, and I am not of the pretentious

— Saheeh International

(Muhammad), say, "I do not ask any reward for my preaching to you for I am not a pretender.

— Muhammad Sarwar

Say: I do not ask you for any reward for it; nor am I of those who affect:

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: ask of you for it no hire, nor am I of the affecters.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "No reward do I ask of you for this (Qur'an), nor am I a pretender.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:86

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 86–88

اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں میں آپ اعلان کردیں کہ میں تبلیغ دین پر اور احکام قرآن پر تم سے کوئی اجرت و بدلہ نہیں مانگتا۔ اس سے میرا مقصود کوئی دنیوی نفع حاصل کرنا نہیں اور نہ میں تکلف کرنے والا ہوں کہ اللہ نے نہ اتارا ہو اور میں جوڑ لوں۔ مجھے تو جو کچھ پہنچایا ہے وہی میں تمہیں پہنچا دیتا ہوں نہ کمی کروں نہ زیادتی اور میرا مقصود اس سے صرف رضائے رب اور مرضی مولیٰ ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں لوگوں جسے کسی مسئلہ کا علم ہو وہ اسے لوگوں سے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے کہ اللہ جانے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی ﷺ سے بھی یہی فرمایا کہ میں تکلف کرنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 86–87

سورة صٓ 71 یعنی میں ایک بےغرض آدمی ہوں، اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے یہ تبلیغ نہیں کر رہا ہوں۔ سورة صٓ 72 یعنی میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی بڑائی قائم کرنے کے لیے جھوٹے دعوے لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ کچھ بن بیٹھتے ہیں جو فی الواقع وہ نہیں ہوتے۔ یہ بات نبی ﷺ کی زبان سے محض کفار مکہ کی اطلاع کے لیے نہیں کہوائی گئی ہے، بلکہ اس کے پیچھے حضور ﷺ کی وہ پوری زندگی شہادت کے طور پر موجود ہے جو نبوت سے پہلے انہی کفار کے درمیان چالیس برس تک گزر چکی تھی۔ مکہ کا بچہ بچہ یہ جانتا تھا کہ محمد ﷺ ایک بناوٹی آدمی نہیں ہیں۔ پوری قوم میں کسی شخص نے بھی کبھی ان کی زبان سے کوئی ایسی بات نہ سنی تھی جس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 86–88

تکلف اور تصنع کی مذمت (آیت) وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ۔ (اور میں بناوٹ کرنے والوں میں سے نہیں ہوں) مطلب یہ ہے کہ میں تکلف اور تصنع کو اپنی نبوت و رسالت اور علم و حکمت کا اظہار نہیں کر رہا بلکہ اللہ کے احکام کو ٹھیک ٹھیک پہنچا رہا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ تکلف اور تصنع شرعاً مذموم ہے۔ چناچہ اس کی مذمت میں بعض احادیث وارد ہوئی ہیں۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا ارشاد منقول ہے کہ ”اے لوگو، تم میں سے جس شخص کو کسی بات کا علم ہو تو وہ لوگوں سے کہہ دے، لیکن جس کا علم نہ ہو تو وہ ”اللہ اعلم“ کہنے پر اکتفا کرلے، (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں فرمایا ہے۔ (آیت) قُلْ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 86–88

(آیت) تنبیہ بانداز و عظت یہ آخر میں ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا ہے کہ میں یہ قرآن جو تم کو سنا رہا ہوں تو اس پر تم سے کسی صلہ کا طالب نہیں ہوں کہ تم نے اس کی قدر نہ کی تو میں صلہ سے محروم رہ جائوں گا۔ میں نے یہ بارگراں خود اپنی خواہش سے نہیں اٹھایا ہے بلکہ یہ خدا کی ڈالی ہوئی ایک ذمہ داری ہے اس لئے اس کا اجر بھی اسی کے پاس ہے اور اس کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں بھی وہی میری مدد اور رہنمائی بھی فرمائے گا۔ اگر تم اس کو رد کرو گے تو یاد رکھو کہ یہ رب العالمین کی طرف سے دنیا والوں کے لئے ایک عظیم یاد دہانی ہے اور یہ جس بات کی خبر دے رہا ہے وہ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ تمہارے سامنے ظاہر ہوجائے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

86۔ 1 یعنی اس دعوت و تبلیغ سے میرا مقصد صرف امر الٰہی ہے، دنیا کمانا نہیں۔ 86۔ 2 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف ایسی بات منسوب کردوں جو اس نے نہ کہی ہو یا میں تمہیں ایسی بات کی طرف دعوت دوں جس کا حکم اللہ نے مجھے نہ دیا ہو بلکہ کوئی کمی بیشی کئے بغیر میں اللہ کے احکام تم تک پہنچا رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–88

28: اس واقعے کی پوری تفصیل سورة بقرہ : 31 تا 36 میں گذر چکی ہے، نیز شیطان نے جو مہلت مانگی تھی وہ روز حشر تک کے لیے تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ نہیں فرمایا، بلکہ یہ فرمایا کہ ایک معین وقت تک مہلت دی جاتی ہے۔ لہذا پہلے صور کے بعد تمام مخلوقات کو موت آئے گی تو ان میں شیطان کو بھی آئے گی۔ جیسا کہ سورة حجر : 38 میں بھی گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 86–88

آیت نمبر 86 تا 88 یہ تو خاص نجات کی دعوت ہے۔ انجام بتادیا گیا اور اس سے خوب ڈرا بھی دیا گیا۔ یہ ایسی مخلصانہ دعوت ہے کہ داعی کسی اجر و انعام کا طلبگار نہیں ہے۔ یہ داعی سلیم الفطرت ہے۔ وہ عام لوگوں کی زبان میں بات کرتا ہے۔ کوئی تکلیف اور کوئی بناوٹ اس کی بات میں نہیں ہے۔ وہ وہی باتیں کرتا ہے جو اسے فطرت کی منطق سکھاتی ہے اور جو قریب الفہم ہے اور یہ ان لوگوں کو لیے یاددہانی ہے ، جو اپنی غفلت کی وجہ سے اس وعظ ونصیحت کو بھول چکے ہیں اور یہ تو وہ عظیم خبر اور شہ سرخی ہے جس کے نتائج عنقریب وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ لیکن بہت ہی تھوڑی دیر کے بعد ۔ یہ پورے کرۂ ارض کی عالمی خبر ہے۔ حقیقت یہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 85–88

1 یعنی نصیحت سے غرض یہ ہے کہ اپنے دشمن اور دوست میں تمیز کرو۔ شیطان لعین جو ازلی دشمن ہے اس کی راہ مت چلو۔ نبیوں کا کہنا مانو تو جو تمہاری بہی خواہی کے لیے آئے ہیں۔ میں تم سے اس نصیحت کا کوئی صلہ یا معاوضہ نہیں مانگتا، نہ خواہ مخواہ اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات کہتا ہوں۔ اللہ نے ایک فہمائش کی وہ تمہارے تک پہنچا دی۔ تھوڑی مدت کے بعد تم خود معلوم کرلو گے کہ جو خبریں دی گئیں کہاں تک درست ہیں اور جو نصیحت کی گئی کیسی سچی اور مفید تھی۔ تم سورة ص بعون اللہ وحسن توفیقہ وللہ الحمد والمنۃ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 86 { قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا“ یہ واقعہ سنا کر اب حضور ﷺ سے مخاطب ہو کر فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ انہیں جتلائیں کہ میں تم لوگوں کو یہ غیب کی خبریں سنا رہا ہوں ‘ ازل میں رو نما ہونے والے واقعات کی تفصیلات سے تمہیں آگاہ کر رہا ہوں ‘ لیکن تم ذرا یہ بھی تو سوچو کہ میں نے اس سب کچھ کے عوض تم لوگوں سے کبھی کوئی اجر یا انعام تو طلب نہیں کیا۔ { وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ } ”اور میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے بھی نہیں ہوں۔“ مُتَـکَلِّف تکلف کرنے والا کا مفہوم سمجھنے کے لیے دو ایسے اشخاص کی مثال سامنے رکھیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

76 یعنی میں بالکل بےلوث ہو کر تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔ اس کا نہ تم سے کوئی صلہ مانگتا ہوں اور نہ ہی میری کوئی ذاتی غرض اس سے وابستہ ہے اور نہ میں ان لوگوں میں سے ہوں کہ اپنی بڑائی قائم کرنے کے لئے جھوٹے دعوے لے کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور اس بات پر شہادت میری سابقہ تمام زندگی ہے جسے تم خوب جانتے ہو۔ خ لاعلمی کا اعتراف کرلینا بھی عالم ہونے کی دلیل ہے :۔ لفظ متکلّفین کے معنی درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتے ہیں : مسروق کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود ؓ کے ہاں گئے۔ انہوں نے کہا : لوگو ! جو شخص کوئی بات جانتا ہو تو اسے بیان کرے اور اگر نہ جانتا ہو تو کہہ دے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

73۔ (کہ اپنی عادت تصنع کے مطابق جھوٹا دعوئے نبوت کررہا ہے) جھوٹے دعوئے نبوت کے محرک دو ہی ممکن تھے، یا جاہ ومال کے قسم سے کسی معاوضہ کا خیال تو اس کی نفی (آیت) ” مااسئلکم علیہ من اجر “۔ میں آگئی۔ اور یا محض عادت یا اقتضاء طبعی۔ سو اس کی نفی (آیت) ” وما انا من المتکلفین “۔ سے ہورہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–88

آیت نمبر 65 تا 88 ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ما اسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکفین (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس کا (یعنی تبلیغ قرآن کا یا ڈرانے کا) نہ کوئی معاوضہ چاہتا ہوں ‘ نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں ‘ یعنی قرآن خود بنانے والا نہیں ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو کسی ایسی چیز کے مدعی بن بیٹھتے ہیں جو ان کے اندر نہیں ہوتی ‘ مطلب یہ ہے کہ میں واقعی نبی ہوں ‘ میری نبوت کا دعویٰ جھوٹا نہیں ہے۔ بخاری نے حضرت عمر کا قول نقل کیا ہے کہ ہم کو بناوٹ سے منع کردیا گیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مسروق نے کہا : ہم حضرت ابن مسعود کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ آپ نے فرمایا : اگر کوئی شخص کوئی بات جانتا ہو تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 84–86

(84۔ 86) ارشاد خداوندی ہوا کہ میں حق ہوں اور سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اور تیری اولاد سے اور جو تیری پیروی کرے سب سے دوزخ کو بھروں گا۔ محمد آپ ان مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ میں تبلیغ توحید و قرآن پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ میں اس کا اپنی طرف سے اختراع کرنے والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ : یعنی آپ ان سے کہہ دیں کہ میں دین کی تبلیغ پر تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا، نہ میرا مقصود اس سے کوئی دنیوی فائدہ حاصل کرنا ہے اور نہ ہی میں تکلّف کرنے والوں سے ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے نازل نہ کیا ہو اور میں اپنے پاس سے بنا لوں، یا کسی دوسرے کی بات کو اپنی طرف منسوب کرلوں۔ انس ؓ نے فرمایا، ہم عمر ؓ کے پاس تھے تو انھوں نے فرمایا : (نُھِیْنَا عَنِ التَّکَلُّفِ) [ بخاري، الإعتصام بالکتاب والسنۃ، باب ما یکرہ من کثرۃ السؤال و من تکلف۔۔ : 7293 ] ”ہمیں تکلّف سے منع کردیا گیا ہے۔“ ”الْمُتَكَلِّفِيْنَ“ کا مطلب عبداللہ بن مسعود ؓ کے اس قول سے بھی معلوم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–88

84 ۔ 88:۔ قال فالحق والحق اقول۔ یہ اہل حرمین ‘ اہل بصر اور کسائی کی قراءت ہے حضرب ابن عباس ؓ ‘ مجاہد ‘ عاصم ‘ اعمش اور حمزہ نے پہلے لفظ الحق کو رفع دی ا۔ فراء نے اس میں جو کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ دوسرے میں اختلاف نہیں کہ وہ اقول کی وجہ سے منصوب ہے اور پہلے کو نصب اغراء کی وجہ سے ہے تقدیر کلام یہ ہوگی فاتعوا الحق واستمعوا الحق دوسرا لفظ الحق اس وجہ سے منصوب ہے کیونکہ قول کا فعل اس پر واقع ہو رہا ہے۔ واقع ہو رہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ احق الحق کے معنی ہے۔ ابو علی نے کہا : پہلا الحق فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہوگی اللہ الحق یا یہ قسم کی وجہ سے منصوب ہے اور حرف جار کو حذف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 86–87

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا اے محمد ! فرما دیجئے (آیت ) ” ما اسئلکم “ (یعنی میں تم میں سے کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا) اس چیز پر کہ جس کی طرف میں تم کو بلاتا ہوں یعنی اس پر میں تم سے کوئی دنیا کا اجر نہیں مانگتا۔ 2:۔ بخاری (رح) ومسلم و ترمذی (رح) و نسائی (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ایک آدمی مسجد میں بیٹھ کر باتیں کر رہا تھا اور اس (آیت ) ” یوم تاتی السمآء بدخان “ (الدخان آیت 10) (کہ جس دن آسمان دھوئیں کے ساتھ آئے گا) کے بارے میں بات کررہا تھا اور یہ قیامت کا دن ہوگا اور دھوئیں کی وجہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ [میں نہیں مانگتا تم لوگوں سے ] عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ [اس پر کوئی بھی اجرت ] وَّمَآ اَنَا [اور نہ ہی میں ہوں ] مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ [ Pose کرنے والوں میں سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 86–88

دعوت حق پر کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں رسول اللہ ﷺ لوگوں کو قرآن مجید سناتے تھے توحید کی دعوت دیتے تھے تو لوگوں کو ناگوار ہوتا تھا آپ کی تکذیب کرتے تھے معجزات دیکھ کر بھی حق قبول نہیں کرتے تھے، انہیں ایک اور فکر کی دعوت دی ارشاد فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تم سے قرآن کی باتیں سنانے پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا یہ بات تم پر واضح ہے اب تمہیں خود غور کرنا چاہیے کہ جس شخص کو ہم سے کوئی دنیاوی غرض نہیں کسی طرح کے مال و متاع کا طالب نہیں یہ بار بار ہمیں تبلیغ کیوں کرتا ہے ظاہر ہے کہ جب اسے کوئی مطلب نہیں ہے تو ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے دعوت و تبلیغ کرنے کا حکم ہوا ہے اور آپ ان سے یہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–88

اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 86–87

50:۔ ” قُلْ مَا اَسْئَلُکُمْ الخ : اس ناصحانہ وعظ و تبلیغ پر میں تم سے کچھ معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ بتکلف اپنے پاس سے باتیں بنا کر تمہیں سناتا ہوں۔ بلکہ یہ تو اللہ کی طرف تمام انسانوں کے لیے ایک نصیحت نامہ ہے۔ جیسا کہ ابتداء سورت میں فرمایا۔ ” وَالْقُرْاٰنَ ذِیْ الذِّکْرِ “ سورت کی انتہاء، ابتداء سے متعلق ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 86–88

ربط آیات : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے دین کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت وقوع قیامت اور قرآن کی حقانیت بیان کے ہیں ، رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بطور نمونہ پیش کرکے ان کے صبر و استقلال کا ذکر کیا ہے ، علاوہ ازیں مشرکین کا رد ، سابقہ اقوم کی نافرمانیاں اور تکذیب رسل کا ذکر ہے اور پھر نافرمان قوموں کی سزا کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور دیگر نیک بندوں کے انعامات کا ذکر بھی فرمایا ہے ، خاص طور پر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی نبوت و رسالت ، اقتدار وخلافت اور کتاب و شریعت جیسی عظیم نعمتوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ۝ 86 سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 86–88

اس تذکرے کے بعد آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرماتا ہے کہ قل ما اسئلکم علیہ من اجر کہ کہہ دو کار بار نبوت پر میں تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا ہوں، یعنی اس میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں، پھر تم کو کیوں بدگمانی ہے۔ وما انا من المتکلفین اور نہ میں تصنع اور بناوٹ کرنے والا ہوں کہ تم کو جھوٹ کا شبہ ہو۔ ہر بات میں بناوٹ اور تکلف و تصنع ممنوع ہے۔ ان ھو الا ذکر للعالمین یہ قرآن صرف جہان کے سمجھانے اور بھلائی کے لیے ولتعلمن نباہ بعد حین اور اس کی صداقت تم کو موت کے بعد معلوم ہوجاوے گی۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 86–88

قُلْ مَـآ اَسْئَـلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍوَّمَـآ اَنَا مِنَ الْمُتَـکَلِّفِیْن۔ َ اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعْدَ حِیْنٍ ۔ (صٓ: 86 تا 88) (اے نبی ! کہہ دیجیے کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی عوض نہیں مانگتا، اور نہ میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔ یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہاں والوں کے لیے۔ اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تم اس کی دی ہوئی خبر کو جان لو گے۔ ) تین قابل توجہ حقائق بڑے سے بڑا کام کرنے والوں اور عظیم سے عظیم شخصیتوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹیں تین ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر کام کرنے والے کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ یہ شخص جو اتنی جان مار…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 86–88

فہم القرآن ربط کلام : ابلیس اور اس کے ساتھیوں کا انجام ذکر کرنے کے بعد ایک دفعہ پھر آپ ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا کہ یہ قرآن مجید دنیا والوں کے لیے نصیحت ہے جو اسے تسلیم نہیں کرے گا۔ ایک وقت کے بعد اسے خود ہی اپنے انجام کی خبر ہوجائے گی۔ لہٰذا میں نے ” لِوَجْہِ اللّٰہِ “ تمہیں اس سے آگاہ کردیا ہے۔ اس خطاب کا آغاز آیت 65 سے ہوا جس میں آپ ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ اعلان کرتے جائیں کہ اللہ کے سوا کوئی قیام، رکوع، سجود اور ہر قسم کی بندگی کے لائق نہیں۔ وہی نعمتیں عطا کرنے والا اور بگڑی بنانے والا ہے۔ وہ اپنی ذات اور صفات کے حوالے سے اکیلا اور ہر اعتبار سے غالب ہے۔ سورة صٓ اور اس کے آخری حصہ کا اختتام اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

86: قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ (کہہ دیجئے میں اس پر کوئی مزدوری نہیں مانگتا) علیہ کی ضمیر قرآن مجید یا وحی کی طرف راجع ہے۔ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ (اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں) ان لوگوں میں سے جو بناوٹ کرتے اور ایسے کاموں کیلئے تزیین کرتے ہیں جن کے وہ اہل نہیں ہوتے۔ اور نہ ہی تم میرے بارے میں جانتے ہو کہ میں نے کبھی تکلف وتصنع کیا ہو۔ اور نہ ہی کسی ایسے کام کا دعویٰ کرتے پایا ہو جو میرے پاس نہ ہو یہاں تک کہ میں نبوت کی نسبت کروں اور قرآن بنا لائوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

86، قل مااسئلکم علیہ، رسالت کی تبلیغ پہنچانے پر، من اجروماانا من المتکلفین ، قرآن کو اپنی طرف سے بنانے والا نہیں ہوں ہر وہ چیز جس کو انسان اپنی طرف سے ایجاد کرے اس کو تکلیف کہتے ہیں۔ مسروق کا قول ہے کہ ہم حضرت ابن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپ نے فرمایا اگر کوئی شخص کوئی بات جانتا ہوتوکہہ دے اور معلوم نہ ہو تو (اللہ جانے) کہہ دے کیوں کہ جس بات کونہ جانتا ہو اس کے متعلق اللہ اعلم کہہ دینا بھی علم ہی کی ایک شاخ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا، قل مااسئلکم علیہ من اجروماانا من المتکلفین،

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 82–88

82۔ 88۔ مسند امام 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں معتبر سند کی ابو سعید ؓ خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ شیطان نے قسم کھا کر اللہ تعالیٰ سے کہا کہ انسان کے جسم میں جس وقت تک جان رہے گی۔ اس وقت تک میں ہر ایک انسان کے بہکانے میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر اس ملعون کے جواب میں فرمایا کہ جب تک انسان کے جسم میں جان رہے گی۔ اور انسان گناہ کر کے توبہ استغفار کرتا رہے گا۔ میں بھی ہمیشہ اس کے گناہ معاف کرتا رہوں گا۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ کیونکہ آیت میں فقط شیطان کا قول ہے۔ اور حدیث میں شیطان کا قول بھی ہے اور اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–88

آیت 74، 88 (قل) اے رسول ! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجئے ! (انما انا مئذر) ” میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں “۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمہارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، مگر میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمہیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں، لہٰذا جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ (وما من الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 84–86

92 نبوت کی عظمت شان کے دو خاص پہلو : سبحان اللہ ! کتنے صاف سادے اور مختصر وصریح لفظوں میں نبوت و رسالت سے متعلق دو عظیم الشان اور بنیادی حقیقتوں کو واضح فرما دیا گیا۔ ایک یہ کہ پیغمبر کا کام قطعی طور پر بےلوث ہوتا ہے۔ وہ دعوت اور تبلیغِ حق کے کام پر لوگوں سے کسی بھی طرح کے کسی اجر و صلہ کے طالب و خواہش مند نہیں ہوتے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ کسی بھی تصنع اور بناوٹ سے کام نہیں لیتے بلکہ اللہ کے بندوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے ان کو اٹل غیبی حقائق سے بلا کسی لاگ لپٹ اور بغیر کسی کم وکاست کے صاف طور پر آگاہ کردیتے ہیں ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلاَمُہ علیہم وَعَلٰیٰ اَفْضلہم اَجْمعین ۔ بہرکیف اس طرح آخر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 71–88

شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–88

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی میں تم تک اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچانے کا جو فریضہ سر انجام دے رہا ہوں اس سے میری کوئی ذاتی غرض وابستہ نہیں ہے۔6 کہ خواہ مخواہ اپنی بڑائی جتانے کے لئے پیغمبر کا جھوٹا دعویٰ کروں یا وہ کچھ بننے کی کوشش کروں جو فی الواقع میں نہیں ہوں۔” تکلیف “ کے معنی تصنع ( یعنی خواہ مخواہ بننا) کے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ ” ہمیں تکلف سے منع کیا گیا “ طبرانی و بیہقی وغیرہ میں حضرت سلمان ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ہمیں مہمان کے لئے تکلف سے منع فرمایا۔ ( شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:86) قل : ای قل یا محمد ( ﷺ ) لکفار قریش۔ علیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یا القرآن ہے یا تبلیغ رسالت۔ المتکلفین۔ اسم فاعل جمع ذکر تکلف (تفعل) مصدر سے۔ بناوٹ کرنے والے یعنی اپنی طرف سے قرآن بنا لینے والے۔ لوگوں کو دکھانے کے لئے اطاعت خداوندی کا اظہار کرنے والے۔ تکلف اور تصنع سے کام لینے والے۔ (میں بناوٹ یا تصنع سے کام نہیں لے رہا بلکہ تمہارے سامنے حقیقت کا اظہار کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–88

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے) تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 86–88

(ف 1) اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے یہ بھی کہہ دو کہ میں اس قرآن کی نصیحت پر تم لوگوں سے کچھ مزدوری نہیں مانگتا، جس کی وجہ سے تم قرآن کی نصیحت کے سننے سے بھاگتے ہو اور ایک مدت سے میں تم لوگوں میں رہتا ہوں تم کو میری عادت معلوم ہے کہ میں اپنے دل سے بناکر کوئی بات نہی کہتا، اور قرآن کے مضمون کو بھی رات دن سنتے ہو کہ اسمیں کوئی بات بناوٹ کی نہیں بلکہ یہ قرآن تو سارے جہان والوں کے لیے آدمی وجن سب کے لیے نصیحت ہے اس پر بھی تم لوگ مجھ کو جھوٹا شاعر اور قرآن کا شعر جو کہتے ہیں یہ تمہاری زبردستی ہے اگر تم لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو کچھ دنوں کے بعد اس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–88

شیطان نے کیوں گستاخی کی 1: شیطان کے انکار سے طبیعتوں میں یہ شبہ پیدا ہوتا تھا ۔ کہ اس کو اس کے قرب کے باوجود اور یہ جانتے ہوئے ۔ کہ اللہ کے حکموں کی مخالفت کی سزا کتنی سخت ہوسکتی ہے ۔ یہ جرات کیسے ہوئی ۔ کہ صاف صاف بغاوت کا اظہار کرے ۔ اور خدا کے حضور میں برملا کہہ دے ۔ کہ میں آپ کے اس حکم کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں ۔ جہاں تک گناہوں کی نفسیات کا تعلق ہے ۔ ان کی وجہ یہ ہوئی ہے ۔ کہ انسان کو ان کے خوفناک نتائج کا قطعی علم نہیں ہوتا ۔ اور اللہ پر بحکم اور مضبوط ایمان نہیں ہوتا ۔ اور اگر نتائج کے متعلق یقینی علم ہو ۔ تو پھر معصیت پر جسارت کا حوصلہ کم ہوتا ہے ۔ کیا وہ شخص جس کے سامنے سمندر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(86) اے پیغمبر آپ فرمادیجئے کہ میں تم سے اس قرآن کریم کی تبلیغ پر نہ کوئی مزدوری اور اجرت طلب کرتا ہوں اور نہ میں بناوٹ اور تصنع کرنے والوں میں سے ہوں۔ یعنی نہ تم سے اس قرآن کریم کی تبلیغ پر کسی اجرت کا خواہاں ہوں اور نہ میں بہ تکلف بنتا ہوں بلکہ اللہ کا فرستادہ اور اسلام کا داعی ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 86–87

ف 3۔ یعنی اگر جھوٹ بولتا تو اس کا منشاءیا تو کوئی نفع عقلی ہوتا جس کو اجر کہا ہے، اور یا عادت طبعی ہوتی جس کو تکلف کہا ہے، سو یہ دونوں امر نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ بھی اعلان کردیں کہ میں پیغام الہٰی پر کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا 86۔ یہ اعلان وہی اعلان ہے جو سارے انبیاء و رسل سے کرایا گیا اور نبی اعظم وآخر محمد ﷺ نے بھی اس کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بار بار دہرایا اور صرف دہرایا ہی نہیں گیا بلکہ اس پر سختی کے ساتھ قائم بھی رہے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نبوت و رسالت کا پیغام پہنچایا اور دنیا پر ثابت کردیا کہ میں اس معاملہ میں بےغرض انسان ہوں۔ آپ کی مکی زندگی میں قریش کے سرداروں کی طرف سے کئی بار یہ کوشش کی گئی کہ آپ کو جتنا مال و دولت چاہیے ہو اکٹھا کردیتے ہیں اور اپنا قائد و راہنما بھی تسلیم کرلیتے ہیں کئی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 86–88

In verse 86, it was said: وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ (nor am I from among those who make up things artificially.). The blameworthiness of artificial behavior The statement means: 'I am not declaring my prophethood artificially, nor am I falsely pretending to have knowledge and wisdom, rather, I am conveying the commandments of Allah to you as they are. From this we learn that feigned formality and pretension is blameworthy in the light of the Shari'ah. Accordingly, there are some ahadith that condemn it. In the Sahihayn (al-Bukhari and Muslim), it has been reported from Sayyidna `…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 86–87

71 That is, "I am a selfless person: I have no vested interest in preaching this message," 72 That is, "I am not one of those who arise with false claims for the sake of vanity and pose to be what actually they are not. " The Holy Prophet has not been made to say this merely for the information of the disbelievers of Makkah but this is testified by his whole life which he lived among the same people for forty years before his advent as a Prophet. Every child of Makkah was a witness that Muhammad (upon whom be Allah's peace) was not an impostor. Never had anybody from among the people of…

Read the full tafseer →