Saad 38:85

Saad · from ayah 85

38:85

لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ ۟لَاَمۡلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنۡكَ وَمِمَّنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ

کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

[That] I will surely fill Hell with you and those of them that follow you all together."

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 5 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:85

کہ میں جہنم کو تجھ سے اور اُن سب لوگوں سے بھر دوں گا جو اِن انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہ تجھ سے اور تیرے تمام ماننے والوں سے میں (بھی) جہنم کو بھر دوں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ میں تجھ سے اور ان سب سے جو ان میں سے تیرے پیچھے چلیں گے، جہنم کو بھر کر رہوں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک میں ضرور جہنم بھردوں گا تجھ سے اور ان میں سے جتنے تیری پیروی کریں گے سب سے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کہ میں تجھ سے اور جو لوگ تیری (گستاخانہ سوچ کی) پیروی کریں گے اُن سب سے دوزخ کو بھر دوں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہ میں ضرور بالضرور جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا، جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ میں جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے بھر دوں گا جو تیری پیروی کریں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ میں تجھ سے اور ان تمام لوگوں سے، جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے، جہنم کو بھر دوں گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہ میں بھی ضرور بھر کے رہوں گا جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے

— مولانا اسحاق مدنی

کہ میں بھی تجھ سے اور ان میں سے جو تیرا ساتھ دیں ان سب سے دوزخ کو بھردوں گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہ پھر میں بھی بھر کر رہوں گا جہنم کو تجھ سے اور ان سب سے جو تیری پیروی کریں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ میں تجھ سے اور جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I will certainly fill the Gehenna with you and with all those among them who follow you.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

that I will definitely fill the Jahannam with you and with those who will follow you from among them, all together.

— Muhammad Taqi Usmani

that I will definitely fill the Jahannam with you and with those who will follow you from among them, all together.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"That I will fill Hell with you and those of them (mankind) that follow you, together."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

That I shall fill hell with thee and with such of them as follow thee, together.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[That] I will surely fill Hell with you and those of them that follow you all together."

— Saheeh International

that I shall certainly fill hell with you and your followers all together".

— Muhammad Sarwar

That I will most certainly fill hell with you and with those among them who follow you, all.

— Muhammad Habib Shakir

That I shall fill Hell with thee and such of them as shall follow thee, all together.

— Abdul Majid Daryabadi

"That I will certainly fill Hell with thee and those that follow thee,- every one."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:85

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–85

تخلیق آدم اور ابلیس کی سرکشی۔ یہ قصہ سورة بقرہ، سورة اعراف، سورة حجر، سورة سبحان، سورة کہف اور اس سورة ص میں بیان ہوا ہے۔ حضرت آدم کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنا ارادہ بتایا کہ میں مٹی سے آدم کو پیدا کرنے والا ہوں۔ جب میں اسے پیدا کر چکوں تو تم سب اسے سجدہ کرنا تاکہ میری فرمانبرداری کے ساتھ ہی حضرت آدم کی شرافت و بزرگی کا بھی اظہار ہوجائے۔ پس کل کے کل فرشتوں نے تعمیل ارشاد کی۔ ہاں ابلیس اس سے رکا، یہ فرشتوں کی جنس میں سے تھا بھی نہیں بلکہ جنات میں سے تھا۔ طبعی خباثت اور جبلی سرکشی ظاہر ہوگئی۔ سوال ہوا کہ اتنی معزز مخلوق کو جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا تو نے میرے کہنے کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة صٓ 69 " تجھ سے " کا خطاب صرف شخص ابلیس ہی کی طرف نہیں ہے بلکہ پوری جنس شیاطین کی طرف ہے، یعنی ابلیس اور اس کا وہ پورا گروہ شیاطین جو اس کے ساتھ مل کر نوع انسانی کو گمراہ کرنے میں لگا رہے گا۔ سورة صٓ 70 یہ پورا قصہ سرداران قریش کے اس قول کے جواب میں سنایا گیا ہے کہ أَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ الذِّکْرُ مِنْ بَیْنِنَا، " کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر ذکر نازل کیا گیا " ؟ اس کا ایک جواب تو وہ تھا جو آیات نمبر 9 اور 10 میں دیا گیا تھا کہ کیا خدا کی رحمت کے خزانوں کے تم مالک ہو، اور کیا آسمان و زمین کی بادشاہی تمہاری ہے اور یہ فیصلہ کرنا تمہارا کام ہے کہ خدا کا نبی کسے بنایا جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 75–85

(آیت) لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۔ یہاں حضرت آدم ؑ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھوں سے انہیں پیدا کیا۔ جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے کہ ”ہاتھوں“ سے مراد یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ایسے ہی ہاتھ ہیں جیسے انسانوں کے ہوتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اعضاء وجوارح کی احتیاج سے منزہ ہے۔ لہٰذا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، اور عربی زبان میں لفظ ”ید“ بکثرت قدرت کے معنی میں مستعمل ہے، مثلاً ارشاد ہے(آیت) بیدہ عقدة النکاح۔ لہٰذا آیت کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آدم کو اپنی قدرت سے پیدا کیا۔ اور یوں تو کائنات کی ساری چیزیں قدرت خداوندی ہی سے پیدا ہوئی ہیں، لیکن جب باری تعالیٰ کسی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 84–85

(آیت) شیطا ننے بڑے طنطنہ سے چینلج کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی پورے جلال اور کامل بےنیازی سے دیا۔ فرمایا کہ اگر تو سب کو گمراہ کر کے چھوڑے گا تو میری بھی یہ حق بات سن لے اور میں ہمیشہ حق ہی کہتا ہوں کہ میں بھی تجھ سے اور ان لوگوں سے جہنم کو بھردوں گا جو تیری پیروی کریں گے۔ یہ ماجرا قریش کے لیڈروں اور آنکھیں بند کر کے ان کی پیروی کرنے والوں کو سنایا گیا ہے کہ وہ بھی اگر دیدہ بینا اور گوش شنوار رکھتے ہیں تو اس حکایت میں اپنا حشر دیکھ اور سن لیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 76–85

76۔ 1 یعنی شیطان نے یہ سمجھا کہ آگ کا عنصر مٹی کے عنصر سے بہتر ہے۔ حالانکہ یہ سب جواہر (ہم جنس یا قریب قریب ایک ہی درجے میں) ہیں۔ اس میں سے کسی کو دوسرے پر شرف کسی عارض (خارجی سبب) ہی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اور یہ عارض، آگ کے مقابلے میں، مٹی کے حصے میں آیا، کہ اللہ نے اسی سے آدم ؑ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ پھر اس میں اپنی روح پھونکی اس لحاظ سے مٹی ہی کو آگ کے مقابلے میں شرف و عظمت حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آگ کا کام جلا کر خاکستر کردینا، جب کہ مٹی اس کے برعکس انواع و اقسام کی پیداوار کا مأخذ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–88

28: اس واقعے کی پوری تفصیل سورة بقرہ : 31 تا 36 میں گذر چکی ہے، نیز شیطان نے جو مہلت مانگی تھی وہ روز حشر تک کے لیے تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ نہیں فرمایا، بلکہ یہ فرمایا کہ ایک معین وقت تک مہلت دی جاتی ہے۔ لہذا پہلے صور کے بعد تمام مخلوقات کو موت آئے گی تو ان میں شیطان کو بھی آئے گی۔ جیسا کہ سورة حجر : 38 میں بھی گذر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 84–85

آیت نمبر 74 تا 75 اللہ حق بات کہتا ہے اور ہمیشہ حق بات کہتا ہے۔ اس بات کی طرف اس سورت میں مختلف اسالیب میں اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ دو فریق مقدمہ جو دیوار پھلانگ کر داؤد (علیہ السلام) کے پاس برائے فیصلہ پہنچ گئے تھے وہ کہتے ہیں۔ فاحکم بیننا بالحق ولا تشطط (38: 22) ” ہمارے درمیان حق پر مبنی فیصلہ کرو اور بےانصافی نہ کرو “۔ اللہ اپنے بندے داؤد کو کہتا ہے۔ فاحکم بین الناس بالحق ولاتتبع الھوٰی (38: 26) ” لوگوں کے درمیان حق پر مبنی فیصلہ کرو اور اپنی خواہش کی پیروی نہ کرو “۔ اس کے بعد زمین اور آسمانوں کی تخلیق کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ تخلیق حق پر ہوئی ہے۔ وما خلقنا۔۔۔۔ کفروا (38: 27) ” اور ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 85–88

1 یعنی نصیحت سے غرض یہ ہے کہ اپنے دشمن اور دوست میں تمیز کرو۔ شیطان لعین جو ازلی دشمن ہے اس کی راہ مت چلو۔ نبیوں کا کہنا مانو تو جو تمہاری بہی خواہی کے لیے آئے ہیں۔ میں تم سے اس نصیحت کا کوئی صلہ یا معاوضہ نہیں مانگتا، نہ خواہ مخواہ اپنی طرف سے بنا کر کوئی بات کہتا ہوں۔ اللہ نے ایک فہمائش کی وہ تمہارے تک پہنچا دی۔ تھوڑی مدت کے بعد تم خود معلوم کرلو گے کہ جو خبریں دی گئیں کہاں تک درست ہیں اور جو نصیحت کی گئی کیسی سچی اور مفید تھی۔ تم سورة ص بعون اللہ وحسن توفیقہ وللہ الحمد والمنۃ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 85 { لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ } ”کہ پھر میں بھی بھر کر رہوں گا جہنم کو تجھ سے اور ان سب سے جو تیری پیروی کریں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 84–85

75 تجھ سے مراد ابلیس، اس کی اولاد اور اس کا پورا لاؤ لشکر ہے جو بنی آدم کو مختلف طرح کی گمراہیوں میں مبتلا کرنے میں مصروف ہے۔ انہیں صرف اپنے گناہوں کا ہی عذاب نہیں دیا جائے گا بلکہ بنی آدم سے جن لوگوں نے ان کی پیروی کی اور گناہ کرتے رہے ان کے گناہوں کا حصہ رسدی بھی انہیں بھگتنا ہوگا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ قصہ آدم و ابلیس اس لئے سنایا کہ وہ سوچ لیں کہ اللہ کی نافرمانی کرنے پر ابلیس کا کیا حشر ہوا اور اب جو وہ اللہ کے رسول کی نافرمانی کر رہے ہیں تو وہ بھی اپنے لئے ایسے ہی انجام کی امید رکھیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 84–85

72۔ یعنی تو اگر اپنے دعوے میں کامیاب ہو بھی گیا، تو اس میں حق تعالیٰ کا کیا ضرر، تو خود اور تیرے چیلے چانٹے، جو بھی تیرا دم بھریں گے خود ہی سزا بھگتیں گے۔ (آیت) ” منک “۔ مراد جنس شیطانی سے ہے۔ اے من جنسک وھم الشیاطین (کبیر) اس سے ملتا ہوا مضمون سورة الاعراف (پ 8) میں اور سورة ہود (پ 11) میں آچکا ہے، وہاں کے حاشیے بھی ملاحظہ کرلیے جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–88

آیت نمبر 65 تا 88 ترجمہ : اے محمد ﷺ کفار مکہ سے کہہ دیجئے میں تو صرف آگاہ کرنے والا آگ سے ڈرانے والا ہوں اپنی مخلوق پر غالب واحد کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں جو پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، جو غالب ہے اپنے امر پر اور بخشنے والا ہے اپنے اولیاء کو ان سے کہہ دیجئے یہ بہت بڑی خبر ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو یعنی قرآن جس کی میں نے تم کو خبر دی، اور میں اس میں تمہارے لئے وہ خبر لایا ہوں جس کا علم بجز وحی کے نہیں ہوسکتا اور وہ خبر مَا کَانَ لِیَ من علمٍ بالملأ الا علیٰ اذ یختصمونَ ہے، مجھے ملاء اعلیٰ یعنی عالم ملائکہ کا علم نہیں تھا جبکہ فرشتے شان آدم میں گفتگو کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا ملأن جھنم منک وممن تبعک منھم اجمعین کہ تجھ سے اور ان (انسانوں) میں سے جو بھی تیرا ساتھ دیں گے ‘ ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ جملۂ معترضہ ہے۔ مِنْکَ یعنی تجھ سے اور تیری نوع کے افراد سے ‘ اسی لفظ کے تحت تمام شیاطین جن آگئے۔ مِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْیعنی تیرا آدمیوں میں سے جو تیرے ساتھی ہوں گے ‘ سب کو جہنم میں بھر دوں گا ‘ کسی کو نہ چھوڑوں گا ‘ نہ تم میں سے نہ ان میں سے۔ مَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ سے مراد ہیں کافر لوگ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 84–86

(84۔ 86) ارشاد خداوندی ہوا کہ میں حق ہوں اور سچ ہی کہا کرتا ہوں کہ میں تجھ سے اور تیری اولاد سے اور جو تیری پیروی کرے سب سے دوزخ کو بھروں گا۔ محمد آپ ان مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ میں تبلیغ توحید و قرآن پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ میں اس کا اپنی طرف سے اختراع کرنے والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 75–85

قَالَ يٰٓـاِبْلِيْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ : اس آیت سے آدم ؑ کا شرف اور ان کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ میں نے اسے اپنے دو ہاتھوں سے بنایا۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تاویل کرتے ہیں، مگر جب خود اس نے اپنے ہاتھوں کا ذکر فرمایا ہے تو اس کا انکار کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ تفصیل سورة مائدہ کی آیت (64) میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : (بل یدہ مبسوطتن) کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِيْنَ : ”اَسْتَكْبَرْتَ“ اصل میں ”أَ اِسْتَکْبَرْتَ“ تھا، ہمزہ استفہام آنے کے بعد ہمزہ وصلی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–88

84 ۔ 88:۔ قال فالحق والحق اقول۔ یہ اہل حرمین ‘ اہل بصر اور کسائی کی قراءت ہے حضرب ابن عباس ؓ ‘ مجاہد ‘ عاصم ‘ اعمش اور حمزہ نے پہلے لفظ الحق کو رفع دی ا۔ فراء نے اس میں جو کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ دوسرے میں اختلاف نہیں کہ وہ اقول کی وجہ سے منصوب ہے اور پہلے کو نصب اغراء کی وجہ سے ہے تقدیر کلام یہ ہوگی فاتعوا الحق واستمعوا الحق دوسرا لفظ الحق اس وجہ سے منصوب ہے کیونکہ قول کا فعل اس پر واقع ہو رہا ہے۔ واقع ہو رہا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ احق الحق کے معنی ہے۔ ابو علی نے کہا : پہلا الحق فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر کلام یہ ہوگی اللہ الحق یا یہ قسم کی وجہ سے منصوب ہے اور حرف جار کو حذف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 84–85

1:۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالحق والحق اقول “ سے مراد ہے کہ میں حق ہوں اور میں حق کہتا ہوں۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فالحق والحق اقول “ منصورب ہے اور ” اقول “ مرفوع ہے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” فالحق “ کو رفع کے ساتھ (آیت ) ” والحق “ کو میں نصب کے ساتھ پڑھا پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں حق ہوں اور حق بات کہتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَاَمْلَــــَٔنَّ [میں لازما بھروں گا ] جَهَنَّمَ [جہنم کو ] مِنْكَ [تجھ سے ] وَمِمَّنْ تَبِعَكَ [اور ان سے جنہوں نے تیری پیروی کی ] مِنْهُمْ [ان میں سے ] اَجْمَعِيْنَ [سب سے ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 75–85

اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ابلیس سے فرمایا (اَسْتَکْبَرْتَ اَمْ کُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ ) (کیا تو نے تکبر کیا یا یہ کہ تو بڑے درجے والوں میں سے ہے) یعنی کیا تو غرور میں آگیا اور واقع میں بڑا نہیں ہے یا کہ تو واقع میں ایسے بڑے درجہ والوں میں سے ہے جس کو سجدہ کا حکم کرنا زیبا نہیں۔ ابلیس نے کہا یہ شق ثانی ہی واقع ہے یعنی اس کو سجدہ کرنا میری شان کے لائق نہیں ہے (جس کی وجہ یہ ہے کہ) مجھے آپ نے آگ سے پیدا فرمایا ہے اور اسے کیچڑ سے پیدا فرمایا ہے۔ (لہٰذا میں اس سے بہتر ہوا اور مجھے یہ حکم دینا کہ اسے سجدہ کروں میری شان کے خلاف ہے) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تو یہاں سے نکل جا کیونکہ بلا شک تو مردود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–88

اعلان توحید و رسالت وتخویف از آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” قل انما انا منذر ...... الی ...... ولتعلمن نباہ بعد حین “۔ ابتداء سورت قرآن کریم کی حقانیت اور اثبات و رسالت سے تھی اس سلسلہ میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے اوصاف ایمان وتقوی اور انابت الی اللہ اور ان اوصاف پر مرتب ہونے والے ثمرات و انعامات کے بیان کے بعد پھر اصل مقصد کی طرف رجوع فرماتے ہوئے توحید و رسالت کو ثابت کیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ یہ اعلان کردیجئے کہ میں تو اللہ واحد قہار کی طرف سے منکرین ومجرمین کو ڈرانے والا ہوں اور میں جو کچھ کہتا ہوں وہ وحی الہی ہوتی ہے ظاہر ہے کہ اللہ کا رسول یہی کرسکتا ہے خدا کے پیغمبروں کا یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 75–85

49:۔ ” قَا یَا اِبْلِیْسُ الخ “ فرمایا۔ اے ابلیس ! جس آدم کو میں نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا ہے تو نے اس کو سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ کیا تو نے اس سے بڑا بننے کی کوشش کی ہے یا تو واقعی اس سے فائق ہے اس لیے اس کو سجدہ نہیں کیا ؟ تکبرت من غیر استحقاق او کنت ممن علا واستحق التفوق (بیضاوی) ۔ ” قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ الخ “۔ ابلیس نے جواب دیا کہ میں واقعی آدم سے افضل ہوں کیونکہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے۔ اور ظاہر ہے کہ آگ مٹی سے افضل ہے۔ ” قَالَ فَاخْرُجْ الخ “ فرمایا۔ یہاں (جنت یا آسمان) نکل جا۔ تو رحمت و کرامت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اور قیامت تک کیلئے لعنت و ملامت کا مورد قرار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–85

ربط آیات : گذشتہ درس میں نبوت و رسالت کا ذکر ہوا اور پھر اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے ملاء اعلی کا ذکر بھی کیا ، اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں جو واحد اور قہار ہے اور جو ارض وسما اور ان کے درمیان کی چیزوں کا پروردگار ہے پھر اللہ تعالیٰ نے توحید رسالت اور نزول قرآن کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک عظیم خبر ہے جس سے تم اعراض کرتے ہو ، مجھے تو ملاء اعلی کی تکرار کا علم نہیں تھا میری طرف یہ بات تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے نازل فرمائی ہے ، ملاء اعلی کے متعلق حضور ﷺ نے خود بھی تشریح فرمائی ، شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَاَمْلَــــَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنْكَ وَمِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْہُمْ اَجْمَعِيْنَ۝ 85 مِلْء) بهرنا) مقدار ما يأخذه الإناء الممتلئ، يقال : أعطني ملأه ومِلْأَيْهِ وثلاثة أَمْلَائِهِ. جهنم جَهَنَّم اسم لنار اللہ الموقدة، قيل : وأصلها فارسيّ معرّب جهنام وقال أبو مسلم : كهنّام ( ج ھ ن م ) جھنم ۔ دوزخ کا نام ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ اصل فارسی لفظ جنام سے معرب ہی واللہ علم ۔ کسی چیز کی اتنی مقدار جس سے کوئی بر تن بھر جائے محاورہ ہے : ۔ اعطنی ملاءہ وملاء بہ وثلاثۃ املائہ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 84–85

قَالَ فَالْحَقُّ ز وَالْحَقَّ اَقُوْلُ ۔ لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْـکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (صٓ: 84، 85) (ارشاد ہوا، پس حق یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں۔ کہ میں تجھ سے اور ان تمام لوگوں سے جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے جہنم کو بھردوں گا۔ ) شیطان کے چیلنج کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا اور نہایت بےنیازی سے فرمایا کہ تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ تم سب کو گمراہ کرکے چھوڑو گے، تو میں تم سے یہ کہتا ہوں اور تم خوب جانتے ہو کہ یہی بات حق ہے اور میں ہمیشہ حق ہی کہتا ہوں کہ میں تمہیں بھی اور تمہاری پیروی کرنے والوں کو بھی جہنم میں ڈالوں گا اور ایسے ہی لوگوں سے جہنم کو بھروں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 75–85

فہم القرآن ربط کلام : نبی کا کام لوگوں کو برے انجام سے ڈرانا ہے جو لوگ برے انجام سے بےخوف ہوں گے ان کا انجام ابلیس جیسا ہوگا۔ نبی آخر الزمان ﷺ نے کفار اور مشرکین کو بار بار برے انجام سے متنبہ فرمایا مگر وہ لوگ دعوت قبول کرنے کی بجائے مخالفت میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے اس پر آدم (علیہ السلام) کے واقعہ کا وہ حصہ انہیں سنایا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں ملائکہ اپنے رب کی بارگاہ میں سرخرو ہوئے اور شیطان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ذلیل ٹھہرا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کا یہ واقعہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر بیان ہوا ہے لیکن ہر موقعہ پر جدا گانہ الفاظ اور استدلال پیش کیا گیا ہے۔ تخلیق آدم (علیہ السلام) سے پہلے اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان : 85: لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّمَ مِنْکَ (میں ضرور جہنم بھرونگا تجھ سے) منک سے مراد تیری جنس سے اور مراد شیاطین ہیں۔ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنہُمْ سے مراد اولاد آدم ہے ( ان میں سے جو تیرا ساتھ دے گا) اَجْمَعِیْنَ (تمام) یعنی جہنم میں تابع اور متبوع تمام ہونگے یہ کہہ کر بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی کو نہ چھوڑیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 84–85

84، قال فالحق والحق اقول، عاصم ، حمزہ، یعقوب نے، فالحق، فاء کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے اور اس کی خبرمحذوف ہے تقدیری عبارت یوں ہوگی، الحق منی، اور دوسراحق منصوب ہے، وانا اقول الحق، مجاہد کا یہی قول ہے۔ دوسرے قراء نے ان دونوں کو منصوب پڑھا ہے۔ ان کے منصوب ہونے میں اختلاف ہے۔ پہلا حق منصوب ہے اغراء کی وجہ سے گویا کہ یوں کہا گیا، الزم الحق، دوسراحق قول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ بعض نے کہا کہ پہلا (حق) قسم ہے ۔ عبارت یوں ہوگی :، بالحق، اور وہ اللہ عزوجل ہے اور یہ منصوب ، بنزع الخافض، ہے ۔ یہ حرف صفت ہونے کی وجہ سے ہے اور دوسراحق منصوب ہے قول کا مقولہ ہونے کی وجہ سے ۔ بعض نے کہا کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 82–88

82۔ 88۔ مسند امام 2 ؎ اور مستدرک حاکم میں معتبر سند کی ابو سعید ؓ خدری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ شیطان نے قسم کھا کر اللہ تعالیٰ سے کہا کہ انسان کے جسم میں جس وقت تک جان رہے گی۔ اس وقت تک میں ہر ایک انسان کے بہکانے میں کسی طرح کی کوتاہی نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے جاہ و جلال کی قسم کھا کر اس ملعون کے جواب میں فرمایا کہ جب تک انسان کے جسم میں جان رہے گی۔ اور انسان گناہ کر کے توبہ استغفار کرتا رہے گا۔ میں بھی ہمیشہ اس کے گناہ معاف کرتا رہوں گا۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ کیونکہ آیت میں فقط شیطان کا قول ہے۔ اور حدیث میں شیطان کا قول بھی ہے اور اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–88

آیت 74، 88 (قل) اے رسول ! اگر یہ جھٹلانے والے لوگ آپ سے ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو آپ کے اختیار میں نہیں، تو ان سے کہہ دیجئے ! (انما انا مئذر) ” میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں “۔ میرے پاس جو کچھ ہے یہ اس کی انتہا ہے۔ رہا تمہارا مطالبہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، مگر میں تمہیں نیکی کا حکم دیتا ہوں، برائی سے روکتا ہوں، میں تمہیں خیر کی ترغیب دیتا ہوں اور شر سے ہٹاتا ہوں، لہٰذا جو کوئی ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کے اپنے لئے ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے۔ (وما من الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں، جس کی عبادت کی جائے اور وہ عبادت کی مستحق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 44–88

حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 84–86

92 نبوت کی عظمت شان کے دو خاص پہلو : سبحان اللہ ! کتنے صاف سادے اور مختصر وصریح لفظوں میں نبوت و رسالت سے متعلق دو عظیم الشان اور بنیادی حقیقتوں کو واضح فرما دیا گیا۔ ایک یہ کہ پیغمبر کا کام قطعی طور پر بےلوث ہوتا ہے۔ وہ دعوت اور تبلیغِ حق کے کام پر لوگوں سے کسی بھی طرح کے کسی اجر و صلہ کے طالب و خواہش مند نہیں ہوتے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ کسی بھی تصنع اور بناوٹ سے کام نہیں لیتے بلکہ اللہ کے بندوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے ان کو اٹل غیبی حقائق سے بلا کسی لاگ لپٹ اور بغیر کسی کم وکاست کے صاف طور پر آگاہ کردیتے ہیں ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلاَمُہ علیہم وَعَلٰیٰ اَفْضلہم اَجْمعین ۔ بہرکیف اس طرح آخر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 71–88

شیطان انسانوں کا شروع سے دشمن ہے تشریح : سیدناآدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور ابلیس پر لعنت یہ تمام واقعات کا سورة بقرہ اور کئی سورتوں میں وضاحت سے بیان ہوچکا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ اس کو خود تخلیق کیا۔ جیسا کہ کہا ” ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ اور اس میں اپنی روح پھونک دی “۔ جیسا کہ اس کی پیدائش اپنے خاص الخاص انداز سے کی ہے اور اس کا عہدہ تمام مخلوقات سے بلند کرتے ہوئے اس کو ” اپنا نائب “ کہا تو اسی نسبت سے انسان کی ذمہ داریاں بھی باقی تمام مخلوقات سے زیادہ بڑی سخت اور مشکل ہیں۔ اس دنیا میں ہمارے چاروں طرف زر، زن اور زمین کی کشش ایک…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 65–88

رکوع نمبر 5 ۔ آیات 65 ۔ تا۔ 88: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ میرا کام تمہیں کفر اور برائی کے انجام بد کی خبر دینا ہے اور یہ ثابت ہے کہ اللہ واحد کے علاوہ جو بہت زبردست ہے کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں وہی پروردگار ہے آسمانوں زمین اور جو کچھ بھی ان میں ہے سب کا اور ہر شے پر غالب ہے نیز اس کی بخشش بھی بہت وسیع ہے اور اس کا مجھے رسول مبعوث کرنا اور تمہارے لیے ہدایت کا تعلیم شریعت اور معرفت الہی کا سبب بنانا بہت ہی عظیم بات ہے مگر تم ایسے بدبخت کہ تمہیں اس کا کوئی دھیان ہی نہیں بھلا یہ تو سوچو کہ اگر یہ وحی الہی نہ ہوتی تو فرشتوں کی باتیں جو انہوں نے تخلیق آدم کے بارے ملا الاعلی میں کہیں میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:85) لا ملئن لام تاکید کا ہے املئن مضارع بانون تاکید ثقیلہ۔ صیغہ واحد متکلم۔ ملا یملا ملا وملاۃ (باب فتح) سے مصدر ۔ کسی چیز کو کسی چیز سے بھرنا۔ میں ضرور بھر دوں گا۔ منک ای من جنسک من الشیطین۔ تیری شیاطین کی جنس سے۔ ک۔ کا خطاب صرف ابلیس ہی کی طرف نہیں ہے بلکہ پوری جنس شیاطین کی طرف ہے۔ منھم ای من ذریۃ ادم علیہ السلام۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–88

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 88۔ نبو ( خبر) یختصمون (وہ جھگڑتے ہیں، وہ گفتگو کرتے ہیں) طین (مٹی ، گارا) سویت ( میں نے درست کردیا) نفخت (میں نے پھونک دیا) روح (جان) العالین ( بلند رتبہ (انظرنی ( مجھے مہلت دیدے ، ڈھیل دے دے) یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) اغوین ( میں ضرور گمراہ کروں گا) المخلصین ( خاص لوگ) املئن (میں ضرور بھر دوں گا) المتکلفین (بناوٹ کرنے والے) تعلمن (تم ضرور جان لو گے) تشریح : آیت نمبر 65 تا 88 :۔ سورة ص میں نبی کریم ﷺ کی رسالت اور اللہ کی توحید کو ثابت کرتے ہوئے کفر و شرک کی سختی سے تردید کی گئی ہے۔ کفار عرب سے کہا گیا ہے کہ آج تمہارے درمیان اللہ کے محبوب رسول اور آخری نبی حضرت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 82–85

شیطان کا اللہ تعالیٰ سے تکبر کرنا۔ (ف 1) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ، شیطان نے قسم کھا کر اللہ سے کہا کہ انسان کے جسم میں جب تک جان رہے گی تب تک بہکانے میں کوتاہی نہ کروں گا، مگر تھوڑے سے لوگ جو تیری راہ میں اخلاص والے ہوں گے یعنی انبیاء واولیائ، اللہ نے قسم کھا کر جواب میں فرمایا کہ جب تک انسان کے جسم مین جان رہے گی اور گناہ کرکے توبہ کرتا رہے گا میں بھی ہمیشہ اس کے گناہ معاف کرتارہوں گا اس حدیث کو اسی آیت کی تفسیر سمجھنا چاہیے کیو کہ یہاں فقط شیطان کا قول ہے اور حدیث میں شیطان کا قول بھی ہے کہ اور اللہ تعالیٰ نے اس ملعون کے قول کی قسم کھاک رجوجواب دیا ہے وہ بھی موجود ہے حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا میں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 85–88

شیطان نے کیوں گستاخی کی 1: شیطان کے انکار سے طبیعتوں میں یہ شبہ پیدا ہوتا تھا ۔ کہ اس کو اس کے قرب کے باوجود اور یہ جانتے ہوئے ۔ کہ اللہ کے حکموں کی مخالفت کی سزا کتنی سخت ہوسکتی ہے ۔ یہ جرات کیسے ہوئی ۔ کہ صاف صاف بغاوت کا اظہار کرے ۔ اور خدا کے حضور میں برملا کہہ دے ۔ کہ میں آپ کے اس حکم کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں ۔ جہاں تک گناہوں کی نفسیات کا تعلق ہے ۔ ان کی وجہ یہ ہوئی ہے ۔ کہ انسان کو ان کے خوفناک نتائج کا قطعی علم نہیں ہوتا ۔ اور اللہ پر بحکم اور مضبوط ایمان نہیں ہوتا ۔ اور اگر نتائج کے متعلق یقینی علم ہو ۔ تو پھر معصیت پر جسارت کا حوصلہ کم ہوتا ہے ۔ کیا وہ شخص جس کے سامنے سمندر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(85) یقینا میں تجھ سے اور اولاد آدم میں سے جو تیری پیروی کریں گے اور تیرے کہنے پرچلیں گے ان سب سے دوزخ کو بھردوں گا۔ تو جن کو ان میں سے یعنی اولاد آدم (علیہ السلام) میں سے بہکالے گا تو تجھ سے اور ان سب سے جہنم کو بھردوں گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 76–85

ف 2۔ خلق آدم کا مادہ کہیں طین آیا ہے کہیں تراب اور کہی صلصال من حما مسنون اور ان میں کچھ تعارض نہیں، کہیں مادہ قریبہ بتلا دیا، کہیں مادہ بعیدہ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرمایا میں بلا حیل و حجت تجھے اور تیری پیروی کرنے والوں کو دوزخ پہنچا دوں گا 85۔ فرمایا اے ابلیس ! میری وہ سچی بات یہ ہے کہ میں تجھے اور تیرے ان سارے متبعین کو خواہ وہ کون ہوں گے اور کہاں ہوں گے اور کتنے ہوں گے ان سب کو دوزخ رسید کردوں گا اور بلاشبہ دوزخ تم سب سے بھر جائے گی اور مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہ ہوگی اب تجھے اور تیرے سارے متبعین کو یہ بات طرح یاد رکھ لینی چاہیے کیونکہ میرے طرف سے جو بات کہی جاتی ہے وہ پتھر پر لکیر ہوتی ہے اور اس کے لیے ہونا لازم وضروری ہے اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ تیری پیروی کرنے والوں میں کون لوگ ہوں گے اور اس کے باوجود میں یہ اعلان کر رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–85

In verse 75, it was said: لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ (what I created with My hands...): Here, it is about Sayyidna 'Adam (علیہ السلام) that Allah Ta’ ala has said that it is He who had created him with His hands. There is a consensus among the majority of the Muslim Ummah that "hands" do not mean that Allah Ta’ ala has hands as human being do. The reason is that Allah Ta’ ala is absolutely pure and free from the need of body or its active limbs. Therefore, it means the power and control of Allah Ta’ ala and that the word: یَد (yad: hand) is commonly used in the Arabic language in the sense of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

69 "With you" is not only addressed to Iblis but to the whole species of satans; that is, Iblis and his whole army of the satans who will be joining him in misleading mankind till Resurrection. 70 This whole story has been related in answer to this saying of the chiefs of the Quraish: "Was he the only (fit) person among us to whom Allah's Admonition should have been sent down?" Its first answer was the one given in vv. 9-10, saying: "Are you the owners of the treasures of the mercy of your Mighty and Bounteous Lord? And dces the kingdom of the heavens and the earth belongs to you, and is it…

Read the full tafseer →