Explained with ayahs 12–20
ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
سورة صٓ 16
اشارہ ہے کفار مکہ کی ان باتوں کی طرف جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے، یعنی نبی ﷺ کے متعلق ان کی یہ بکواس کہ یہ شخص ساحر اور کذاب ہے، اور ان کا یہ اعتراض کہ اللہ میاں کے پاس رسول بنانے کے لیے کیا بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا۔ اور یہ الزام کہ اس دعوت توحید سے اس شخص کا مقصد کوئی مذہبی تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس کی نیت کچھ اور ہی ہے۔
سورة صٓ 17
اس فقرے کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو۔ " پہلے ترجمے کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس قصے میں ان لوگوں کے لیے ایک سبق ہے۔ اور دوسرے ترجمے کے لحاظ سے مراد یہ ہے کہ اس قصے کی یاد خود تمہیں صبر کرنے میں مدد دے گی۔ چونکہ یہ قصہ بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ الخ۔ اس آیت میں پہاڑوں اور پرندوں کے حضرت داؤد ؑ کے ساتھ شریک تسبیح ہونے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کی تشریح سورة انبیاء اور سورة سباء میں گزر چکی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح کو باری تعالیٰ نے یہاں اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ یہ حضرت داؤد ؑ پر ایک خاص انعام تھا۔ سوال یہ ہے کہ یہ حضرت داؤد ؑ کے لئے نعمت کیسے ہوئی ؟ پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح سے کیا خاص فائدہ پہنچا ؟
اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ اس سے حضرت داؤد ؑ کا ایک معجزہ ظاہر ہوا، اور ظاہر ہے کہ یہ ایک بڑا انعام ہے۔ اس کے علاوہ حضرت تھانوی نے ایک لطیف توجیہہ فرمائی ہے کہ پہاڑوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
آیت)
حضرت دائود کی ادابیت
یہ حضرت دائود ؑ کی ادابیت کی وضاحت ہے کہ وہ شام و صبح دامن کوہ میں بیٹھ کر اپنے رب کی تسبیح کرتے اور جب وہ اپنے خاص لحن میں زبور کے منظوم نغمے چھیڑتے تو پہاڑ بھی ان کی ہمنوائی کرتے اور پرندے بھی جھنڈ کے جھنڈ جمع ہو کر انکے سر میں اپنے سر ملاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی پر سوز لحن اور ان کے درد مند دل میں ایسی تاثیر و تسخیر رکھی تھی کہ ان کے اردگرد کی پوری فضا ان کے صدائے بازگشت سے گونج اٹھتی اور دشت و جبل، چرند و پرند سب توبہ و مناجات کے لئے ان کے شریک بزم بن جاتے … اس حقیقت کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
17۔ 1 قوت و شدت۔ اسی سے تائید بمعنی تقویت ہے۔ اس قوت سے مراد دینی قوت و صلاحیت ہے، جس طرح حدیث میں آتا ہے ' کہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نماز، داؤد ؑ کی نماز اور سب سے زیادہ محبوب روزے، داؤد ؑ کے روزے ہیں، وہ نصف رات سوتے، پھر اٹھ کر رات کا تہائی حصہ قیام کرتے اور پھر اس کے چھٹے حصے میں سو جاتے۔ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے اور جنگ میں فرار نہ ہوتے (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
9: سورت کے شروع میں کافروں کی وہ باتیں ذکر کر کے ان پر تردید فرمائی گئی تھی جن سے حضور اقدس ﷺ کو رنج ہوا کرتا تھا۔ اب یہاں سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی بےہودہ باتوں پر صبر کر کے آپ اپنے کام میں لگے رہئے، اور اسی سلسلے میں کچھ پچھلے انبیائے کرام کے واقعات بیان فرمائے جا رہے ہیں جن سے آنحضرت ﷺ کو تسلی ہو۔ ان میں سے پہلا تذکرہ حضرت داؤد ؑ کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
انا سخرنا۔۔۔۔ له اواب (38: 18 تا 19) ” ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ متحرک رکھا تھا کہ صبح وشام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ پرندے سمٹ آتے سب کے سب اس کی تسبیح کی طرف متوجہ ہوجاتے “۔
عام لوگ اگر اس آیت کو پڑھیں تو حیران رہ جائیں گے کہ جامد پہاڑ کس طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اور یہ تسبیح وہ صبح و شام کرتے تھے ، خصوصاً جب وہ اپنے رب کی یاد کے لیے تخلیہ میں جاتے تھے۔ وہاں وہ اللہ کی حمد گاتے تھے۔ نہایت ہی خوش الحانی کے ساتھ ۔ اور اللہ کی تعریف وتمجید کرتے تھے۔ پرندے ان کے نغمات کو سن کر جمع ہوتے تھے ۔ اور وہ بھی ان کو دہراتے تھے۔ فی الواقع لوگوں کے لیے یہ بات حیران کن ہوگی۔…
Read the full tafseer →10 یعنی صبح و شام جب حضرت داؤد تسبیح پڑھتے، پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ اس کے متعلق کچھ مضمون سورة " سبا " میں گزر چکا ہے وہاں دیکھ لیا جائے۔
Read the full tafseer →آیت 18 { اِنَّاسَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ } ”ہم نے تو اس کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا ‘ جو اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے شام کو بھی اور صبح کے وقت بھی۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
22 سیدنا داؤد کی خوش الحانی :۔ اللہ نے آپ کو ایسی سریلی آواز بخشی تھی کہ اس میں ایسی شرینی اور تاثیر تھی کہ جب آپ ہر روز پہلے پہر اور پچھلے پہر اللہ کی حمد کے ترانے گاتے تو پوری فضا مسحور ہوجاتی تھی۔ پہاڑوں کی وادیوں میں ایسی گونج پیدا ہوجاتی تھی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ پہاڑ بھی آپ کے ساتھ اللہ کی حمد و ثنا میں شریک ہوگئے ہیں۔ اور پرندوں تک آپ کے گردو پیش میں جمع ہو کر آپ کے نغمات نہایت توجہ سے سنتے اور چہچہا کر آپ کے ہم آہنگ ہوجاتے تھے۔ آپ کی اس خوش الحانی کا ذکر پہلے سورة المومنون کی آیت 79 میں بھی گزر چکا ہے۔ اور سورة سبا کی آیت نمبر 10 میں بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
18۔ (آیت) ” سخرنا الجبال ...... والطیر “۔ تسبیح جبال وطیور پر حاشیے سورة الانبیاء (پ 17) میں گزر چکے۔ (آیت) ” محشورۃ “۔ یعنی ہر طرف سے آپ کے گرد جمع ہوجانے والے۔ اے محشورۃ الیہ من کل جانب (بیضاوی) (آیت) ” لہ اواب “۔ یعنی ان کی تسبیح کے باعث یہ بھی اواب ہوگئے تھے۔ اے کل واحد من الجبال والطیر لاجل تسبیحہ رجاع الی التسیبح (بیضاوی) (آیت) ” بالعشی والاشراق “۔ صبح وشام، کہ یہی ذکر و عبادت کے اوقات خصوصی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
آیت نمبر 15 تا 26
ترجمہ : انہیں یعنی کفار مکہ کو ایک چیخ کا انتظار ہے، اور وہ قیامت کا نفخہ ہوگا، جو ان پر عذاب نازل کرے گا، اور اس نفخہ کے لئے تو توقف نہ ہوگا فَوَاق میں فاؔ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، جب آیۃ فَامَّا مَن اُوتِیَ کتابہٗ بیمینہٖ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار تو ہمارا حصہ یعنی نامہ اعمال حساب کے دن سے پہلے (دنیا ہی) میں دیدے یہ بات انہوں نے تمسخر کے طور پر کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور رات کو تہائی حصہ سوتے اور (پھر)…
Read the full tafseer →انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشی والاشراق ہم نے ہی پہاڑوں کو حکم دے رکھا تھا کہ شام و صبح ان
کے ساتھ تسبیح کیا کریں۔
یہاں سے فصل الخطاب تک اللہ کی طرف سے حضرت داؤد کی عزت افزائی کا بیان ہے۔
یسبحن پہاڑ حضرت داؤد کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے۔ یہ جملہ حالیہ ہے ‘ گذشتہ حالت کا استحضار اور مسلسل نو بہ نو تسبیح پڑھنے کا اظہار مقصود ہے۔ بالعشیّ والاشراق کا ترجمہ کلبی نے کیا : شام و صبح۔ اشراق کا مطلب ہے : روشنی کی چمک کا انتہا کو پہنچ جانا۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک اس سے چاشت کی نماز مراد ہے۔ بغوی نے اپنی سند سے اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں بیان کیا کہ حضرت ابن عباس نے اس آیت کے سلسلہ میں فرمایا : اس آیت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(18۔ 19) ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ صبح و شام تسبیح کریں اور اسی طرح پرندوں کو بھی حکم کر رکھا تھا جو کہ ان کے پاس جمع ہوجاتے تھے اور پہاڑوں اور پرندوں میں سے ہر ایک ذکر خداوندی میں مصروف رہتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ : اللہ تعالیٰ نے داؤد ؑ کو نہایت خوب صورت آواز عطا کر رکھی تھی اور پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے ساتھ پابند کردیا تھا کہ جب وہ ترنم کے ساتھ تسبیح کرتے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ تسبیح کرتے اور اڑتے ہوئے پرندے سن کر آگے جانے کے بجائے ان کے گرد جمع ہو کر ان کے ساتھ تسبیح میں مشغول ہوجاتے۔ مزید دیکھیے سورة انبیاء (79) اور سورة سبا (10)۔
Read the full tafseer →اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر -1 یسبحن حال ہونے کی حیثیت سے محل نصب میں ہے جو وہ برہان اور معجزہ لائے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا وہ پہاڑوں کا ان کے ساتھ تسبیح کرنا ہے۔ مقاتل نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) جب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) پہاڑوں کی تسبیح کو سمجھتے تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : یسبحن کا معنی ہے وہ نماز پڑھتے تھے ہر چیز معجزہ ہوگئی جب لوگوں نے اسے دیکھا اور اسے پہچانا۔
محمد بن اسحاق نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) کو خوبصورت آواز دی گئی تھی پہاڑوں میں اس کی وجہ سے جو ہلکی آواز پیدا ہوتی ہے اور…
Read the full tafseer →1:۔ عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” انا سخرنا الجبال معہ یسبحن “ (ہم نے پہاڑوں کو حکم دے رکھا تھا کہ ان کے ساتھ تسبیح کیا کریں) یعنی جب داؤد (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے تو پہاڑ بھی آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے (آیت ) ” بالعشی والاشراق “ (صبح شام تسبیح بیان کریں) اس میں الاشراق سے مراد ہے جب سورج چمکتا ہے۔
2:۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” بالعشی الاشراق “ کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے فرمایا جب سورج چمک جائے تو نماز واجب ہوجاتی ہے پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف…
Read the full tafseer →اِنَّا سَخَّرْنَا [بیشک ہم نے مطیع کیا ] الْجِبَالَ [پہاڑوں کو ] مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ [ان (علیہ السلام) کے ساتھ وہ سب تسبیح کرتے تھے ] بِالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ [شام اور صبح کو ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
حضرت رسول اکرم ﷺ کو تسلی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ
رسول اللہ ﷺ کو مشرکین کی باتوں سے رنج ہوتا تھا، آیت بالا میں آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ ہمارے بندۂ داؤد کو یاد کیجیے جو قوت والے تھے اور فرمایا کہ وہ اواب تھے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے، پھر ان کی تسبیح کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرو اور پرندوں کو بھی حکم دیا تھا جو جمع ہوجاتے تھے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے یعنی اس کے ذکر میں مشغول رہتے تھے سورة سبا کے دوسرے رکوع میں بھی یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–26
تلقین صبر و تسلی نبی کریم ﷺ بذکر قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اصبر علی ما یقولون ...... الی ...... بما نسوا یوم الحساب “۔
(ربط) ما قبل آیات میں مکذبین رسل کا انجام ہلاکت بیان فرمایا گیا اور یہ کہ بڑی قوت و طاقت اور پائیدار سلطنتیں اللہ کے رسولوں کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکیں تو یہ کفار مکہ اور قریش کے لوگ جن کے پاس نہ اس طرح کی طاقت وقوت ہے اور نہ حکومت وسلطنت کیسے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں گے تو بطور تسلی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کی جارہی ہے فرمایا (آیت ) ” اصبر علی مایقولون واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔…
Read the full tafseer →20:۔ انا سخرنا الخ : پہاڑوں کو ہم نے اپنے حکم سے اس کے مطیع بنا دیا کہ جب وہ صبح و شام اللہ کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہوتے تو پہاڑ بھی زبان قال سے ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح و تقدیس میں شامل ہوجاتے۔ پہاڑوں کی تسبیح زبان قال سے مراد ہے نہ کہ زبان حال سے۔ کیونکہ تسبیح حالی ان دو وقتوں سے مخصوص نہیں۔ و تسبیحہن تقدیس بلسان قال لائق بہن الخ (روح ج 23 ص 174) وان ذلک تسبیح مقال علی الصحیح من الاقوال (قرطبی ج 15 ص 159) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–25
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کا رد کیا جو اس بات پر استعجاب کرتے تھے کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے تمام معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود کی طرف دعوت دی ہے اس دعوت کے جواب میں مشرکین نے کہا کہ اس شخص کی بات نہ مانو بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہو ، کہنے لگے یہ شخص جھوٹ موٹ گھڑ کرلے آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سے ہی ایک شخص کو نزول وحی کے لیے منتخب کرلیا گیا ہو اس منصب کے لیے تو کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے تھا اللہ نے فرمایا کہ رسالت کے ان منکرین نے ابھی ہماری سزا کا مزا نہیں چکھا ، نیز فرمایا کہ ان کے پاس خدا کی رحمت کے…
Read the full tafseer →اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ 18ۙ
سخر
التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13]
( س خ ر ) التسخیر
( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔
جبل
الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل :
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–26
ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔
تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔
وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ ۔ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃً ط کُلٌّ لَّـہٗٓ اَوَّابٌ۔ (صٓ: 18، 19)
(بیشک ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا ہے، وہ شام و صبح اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ اور پرندے سمٹ آتے، سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ )
حضرت دائود (علیہ السلام) کی اوّابّیت کا نمونہ
اس سے پہلے کی آیت کے آخر میں فرمایا کہ وہ اپنے رب کی طرف بڑے رجوع ہونے والے بندے تھے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی اسی صفت کی وضاحت کی جارہی ہے کہ ان کی اوّابیّت کا حال یہ تھا کہ وہ صبح و شام دامن کوہ میں بیٹھ کر اپنے رب کی تسبیح کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فہم القرآن
ربط کلام : حالات سے دل گرفتہ ہونے کی بجائے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو صبر کرنے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ ذہن میں رکھنے اور ان کی طرح حوصلہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔
کفار مکہ نے عجب صورت حال اختیار کر رکھی تھی۔ ایک مجلس میں کہتے کہ آپ ﷺ جادوگر ہیں۔ دوسری مجلس میں پروپیگنڈہ کرتے کہ آپ ﷺ پر جادو ہوچکا ہے۔ آپ توحید کی دعوت دیتے تو کہتے کہ یہ شخص کذّاب ہے۔ اندازہ کیجیے کہ جس شخص کا جادو اور جادوگروں سے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو۔ جس نے زندگی بھر جھوٹ بولنا تو دور کی بات کبھی مغالطہ دینے والی بات نہ کی ہو۔ اس کے خلاف گھر گھر اور ہر مقام پر الزامات لگائے جارہے ہوں بحیثیت انسان اس کی…
Read the full tafseer →18: اِنَّا سَخَّرْنَا (بیشک ہم نے حکم کررکھا تھا) مطیع کردیا تھا۔ الْجِبِالَ مَعَہٗ (پہاڑوں کو ان کے ساتھ)
ایک قول :
یہ ہے کہ ان کی تسخیر یہ تھی کہ وہ ان کے ساتھ ساتھ چلتے۔ جب وہ ان کو چلانے کا ارادہ فرماتے۔ جہاں کا ارادہ فرماتے۔ یُسَبِّحْنَ (وہ تسبیح کریں) ۔
فائدہ : یہ مضارع حال واقع ہے مسبحات کے معنی میں ہے مسبحات کی بجائے مضارع اس لئے لایا گیا تاکہ پہاڑوں سے اس تسبیح کے یکے بعد دیگرے اور ایک حالت کے بعد دوسری حالت میں کرنے پر دلالت ہو۔ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ (صبح وشام) یعنی دن کے دونوں اطراف میں العشیؔ عصر سے رات تک کا وقت اور اشراقؔ وقت طلوع سے چاشت تک کا وقت باقی شروق طلوع کو کہا…
Read the full tafseer →18، انا سخرنا الجبال معہ، جیسا کہ ارشاد باری ہے، وسخرنامع داؤ د الجبال ،۔۔۔۔۔۔۔ ، یسبحن، تسبیح کرتے تھے۔ ، بالعشی والاشراق، کلبی کا بیان ہے کہ اس سے مراد صبح وشام ہے۔ اشراق کا مطلب ہے روشنی کی چمک کا انتہاء کو پہنچ جانا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک اس سے صلوۃ اشراق مراد ہے۔ عطاء نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے ارشاد فرمایا اس آیت کے متعلق کہ اس آیت پر میرا ایمان تو تھا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ اس کا معنی کیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ام ہانی بنت ابو طالب ؓ نے فرمایا کہ ایک روزرسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور وضوکاپانی طلب فرمایا، پھر وضو کیا اور چاشت کی نماز پڑھی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–23
18۔ 24۔ ذالاید کے معنی صاحب قوت حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول ہے کہ دائود (علیہ السلام) کی قوت عبادت الٰہی میں بڑھی ہوئی تھی اس لئے ان کو صاحب قوت فرمایا۔ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں عبد ؓ اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے (1 ؎ صحیح بخاری باب من نام عند السحر ص 152 ج 1) رسول ﷺ نے فرمایا۔ دائود (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے۔ اور ایک دن کھانا کھایا کرتے تھے۔ اسی طرح آدھی رات سویا کرتے تھے۔ اور آدھی رات عبادت کیا کرتے تھے۔ اس حدیث سے عبد ؓ اللہ بن عباس کے قول کی پوری تائید ہوتی ہوے۔ نیک کاموں میں جو لگا اور برے کاموں سے بچتا رہے اس کو اواب کہتے ہیں۔ دائود (علیہ السلام) جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت 18
چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا ہے، سا لئے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ اللہ وحدہ کی عبادت اور اس کے عبادت گزرار بندوں کے احوال کو یاد کر کے صبر پر مدد لیں، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں فرمایا : (آیت) ” جو یہ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے اور طلوع آفتاب اور غرورب آفتاب سے پہلے ، اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجیے۔ “ سب سے بڑے عبادت گزار انبیاء میں سے اللہ کے نبی حضرت داؤد ہیں وہ ذالاید) ” صاحب قوت تھے “ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے اپنے قلب و بدن میں عظیم طاقت رکھتے تھے۔ انہ اواب) یعنی وہ تمام امور میں انابت، محبت، تعید، خوف، امید، کثرت گریہ زاری اور کثرت دعا کے ساتھ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
پہاڑوں کی تسبیح
قول باری ہے (انا سخرنا الجبال معہ۔ ہم نے پہاڑوں کو ان کا تابع فرمان بنادیا تھا) ایک قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے تابع فرمان اس طرح بنادیا تھا کہ یہ پہاڑ ان کے ساتھ چلتے تھے۔
پہاڑوں کے اس چلنے کو اللہ تعالیٰ نے ان کی تسبیح قرار دیا تھا کیونکہ اللہ کی تسبیح کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی ذات کو ان تمام باتوں سے پاک رکھا جائے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں۔ جب پہاڑوں کے چلنے کو اس بات کی نشانی قرار دیا گیا کہ وہ اللہ کی تنزیہ کرتے ہیں تو اسے اللہ کے لئے ان کی تسبیح کہا گیا۔
چاشت (اشراق) کی نمازحضور ﷺ نے کبھی پڑھی کبھی نہیں پڑھی
قول باری ہے (یسبحن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
23 حضرت داؤد کی شان اوابیت کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم نے مسخر کردیا تھا انکے ساتھ پہاڑوں کو "۔ یعنی یہ شرف و معجزہ ہم نے آپ کو بخشا اور عطا فرمایا تھا۔ آپ کے اپنے اختیار میں نہ تھا۔ معلوم ہوا کہ معجزہ پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔ بہرکیف حضرت داؤد کو اس خاص معجزہ سے نوازا گیا تھا کہ آپ (علیہ السلام) جب اپنے خاص لحن میں زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ بھی آپکے ہمنوا ہوجاتے اور آپ کے ساتھ مل کر اللہ کی تسبیح و تقدیس میں لگ جاتے۔ اور پہاڑوں کی یہ تسبیح صرف زبان حال سے نہیں بلکہ زبان قال سے تھی۔ کیونکہ زبان حال سے تو ہر چیز تسبیح کرتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَاِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید
تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26:
اسرار و معارف :
انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں…
Read the full tafseer →ف 10 زوال شمس اور غروب کے درمیان کے وقت کو ” العشی “ کہتے ہیں اور ” اشراق “ اس وقت کو کہتے ہیں جب سورج طلوع ہونے کے بعد خوب چمکنے لگتا ہے۔ اس وقت میں نفلی نماز کی فضلیت آئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اس وقت دو رکعت نماز تمام اعضاء کی طرف سے صدقہ بن جاتی ہے۔ ( ابن کثیر)
Read the full tafseer →(38:18) سخرنا ماضی جمع متکلم تسخیر (تفعیل) سے مصدر ۔ ہم نے تابع کردیا۔ ہم نے بس میں کردیا۔
معہ یسبحن : ای یسبحن معہ یعنی حضرت داؤد کے ساتھ اور ان کی موافقت و متابعت میں پہاڑ بھی تسبیح پڑھتے تھے۔
العشی۔ زوال آفتاب سے طلوع فجر تک کا وقت۔ شام۔ العشائ۔ وتوندی تاریکی۔ جو آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے رجل اعشی جسے رتوندی کی بیماری ہو۔ اس کی مؤنث عشواء آتی ہے۔ عشی عن کذا۔ کسی چیز سے آنکھیں بند کرلینا۔ اندھا ہوجانا۔ قرآن مجید میں ہے ومن یعش عن ذکر الرحمن (43:36) اور جو کوئی خدا کی یاد سے آنکھیں بند کرلے۔
الاشراق۔ کا معنی ہے روشنی کی چمک کا انتہاء کو پہنچ جانا۔ یہاں بمعنی صبح ہے ای وقت الاشراق۔
معہ یسبحن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–23
حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 2) حضرت داؤد (علیہ السلام) جب صبح شام ذکر الٰہی کرتے تھے ان کے ساتھ پہاڑ اور جانور بھی ذکرالٰہی کیا کرتے تھے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) پہاڑوں اور جانوروں کے ذکرالٰہی کا مطلب سمجھتے تھے اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو فوج ولشکر کی کثرت عطا فرمائی ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ روئے زمین کے بادشاہوں میں حضرت داؤد کی بادشاہت بڑی مضبوط اور قوی بادشاہت تھی چھتیس ہزار مرد آپ کے محراب کے پہرے میں رہتے تھے پھر فرمایا کہ ہم نے حضرت داؤد کو حکمت یعنی نبوت عطا کی ۔ فصل خطاب یعنی وہ کلام وہ عقل جو مدعی ، مدعی علیہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
[9] اصل میں لفظ '' اذکر '' استعمال ہوا ہے جو یہاں اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق نبی ﷺ سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے داؤد کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و حکومت رکھنے کے باوجود کس صبروتحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار روئیے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کرتے تھے۔ دوسرے کا تعلق قریش کے ان سرکش اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے بندے داؤد کے حالات سناؤ کہ باوجودیکہ داؤد کو ان لوگوں سے کہیں زیادہ دولت حشمت حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
(ف 1) یعنی یہ لوگ تکذیب رسل میں کوئی قدرت سے کام نہیں لے رہے ، ان سے پہلے بھی قوموں نے اپنے پیغبروں کو جھٹلایا اور اللہ کا غضب اور غصہ حرکت میں آیا ہے ۔ اور ان منکرین کو چشم زون میں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے ۔ اس لئے اگر یہ بھی اسی انجام کے منتظر ہیں ۔ اور یہی چاہتے ہیں ۔ کہ اللہ کی غیرت کو آزمائیں ۔ تو یہ بھی دیکھ لیں ۔ اس کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ وہ اب بھی فطرت کے دشمنوں سے پوری طرح انتقام لے گا ۔ اور انہیں بتائے گا ۔ کہ حق وصداقت کا انکار کس درجہ مذموم ہوتا ہے ۔
حل لغات :۔ فلیرتقوا فی الاسباب ۔ غرض یہ ہے کہ اگر آسمان و زمین کی حکومت ان کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ تو پھر یہ کیوں آسمان…
Read the full tafseer →(18) بلا شبہ ہم نے پہاڑوں کو تابع فرمان کردیا تھا وہ پہاڑ صبح وشام دائود کے ہمراہ تسبیح کیا کرتے تھے۔ تابع کردینے کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ چاہتے تو پہاڑ ان کے ہمراہ چلتے جہاں ان کو لیجانا چاہتے اور ان کے ساتھ تسبیح میں شریک رہتے صبح اور شام یہ وقت دائود (علیہ السلام) کی تسبیح کے تھے۔ یعنی تسبیح کے وقت تسبیح میں شریک رہتے اور اگر وہ کسی پہاڑ کو اپنے ہمرا چلنے کا حکم دیتے تو پہاڑ ان کے ہمراہ بھی چلتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
ف 7۔ مطلب یہ کہ قیامت نہیں ہے، اور اگر ہے تو ہم کو ابھی عذاب مطلوب ہے، جب عذاب نہیں ہوتا تو معلوم ہوا قیامت نہ آوے گی۔ نعوذباللہ من الجھل۔
Read the full tafseer →18۔ پہاڑوں کی تسبیح معروف ہے اور ( الجبال ) سے مراد بڑے بڑے انسان بھی لیے جاسکتے ہیں۔ ہماری زبان میں یہ لفظ انسانوں کے لیے عام طور پر بولا جاتا ہے کہ فلاں آدمی تو عزم و جزم کا پہاڑ ہے۔ بلاشبہ حسین عزم و ارادہ کے پہاڑ تھے۔ فلاں آدمی کا مقابلہ کرنا ہے تو پہاڑ سے ٹکر لینا ہے۔ چونکہ بڑے بڑے لوگ اکثر ادوار میں اور بہت سے انبیاء کرام اور رسل عظام کے مقابلہ میں مخالف ہی رہے ہیں اور بہت کم ایسا ہوا ہے کہ بڑے لوگوں میں سے کسی نے وقت کے نبی و رسول کی سچے دل سے اطاعت و فرمانبرداری کی ہو چونکہ دائود ععلیہ السلام کو اس میں خصوصیت حاصل تھی اور خصوصیت کے ساتے وہ بڑے لوگوں میں بھی ایک اہمیت و حیثیت رکھتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
In verse 18, it was said: إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِ (We had subjugated the mountains to join him in making tasbih (i.e. pronouncing Allah's purity) at evening and sunrise). In this verse, mention has been made of mountains and birds joining Sayyidna Dawud (علیہ السلام) in the act of tasbih. Detailed explanation of this phenomenon has already appeared in the commentary on Surah Al-Anbiya' and Saba'. Here, it is worth noting that the tasbih of mountains and birds has been mentioned at this place in a manner that it was a particular blessing…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
16 The allusion is to the absurd conversation of the disbelievers of Makkah, as narrated above, to the effect that the Holy Prophet was a sorcerer and a liar, and to their objection whether he was the only fit person in the sight of Allah to be appointed as a Messenger, and to their some accusation that he had vested interest in preaching the doctrine of Tauhid to the people and not any religious mission.
17 Another translation of this sentence can be: `Remember Our servant David." According to the first translation, it would mean: "There is a lesson in this story for these people," and…
Read the full tafseer →