Saad 38:17

Saad · from ayah 17

38:17

اِصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ ۚ— اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ۟اِصۡبِرۡ عَلٰى مَا يَقُوۡلُوۡنَ وَاذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوٗدَ ذَا الۡاَيۡدِ‌ۚ اِنَّـهٗۤ اَوَّابٌ

(اے پیغمبر) یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Be patient over what they say and remember Our servant, David, the possessor of strength; indeed, he was one who repeatedly turned back [to Allah].

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:17

اے نبیؐ، صبر کرو اُن باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں، اور اِن کے سامنے ہمارے بندے داؤدؑ کا قصہ بیان کرو جو بڑی قوتوں کا مالک تھا ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر) یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو صاحب قوت تھے (اور) بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ہمارے بندے داؤد ؑ کو یاد کریں جو بڑی قوت واﻻ تھا، یقیناً وه بہت رجوع کرنے واﻻ تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو، اور ہمارے بندے داؤد ؑ کو یاد کرو جو بڑے طاقتور تھے۔ وہ بیشک اللہ سے بہت لو لگائے ہوئے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد نعمتوں والے کو یاد کرو بیشک وہ بڑا رجوع کرنے والا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) جو کچھ وہ کہتے ہیں آپ اس پر صبر جاری رکھیئے اور ہمارے بندے داؤد ؑ کا ذکر کریں جو بڑی قوت والے تھے، بے شک وہ (ہماری طرف) بہت رجوع کرنے والے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کر، جو قوت والا تھا، یقینا وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے۔ بلاشبہ وہ صاحب قوت اور (ہماری طرف) رجوع کرنے والا تھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو اور ہمارے بندے دائود، زور و قوت والے کا، حال سنائو، بیشک وہ اللہ کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے الا تھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(لہٰذا) آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں ایسے (ہٹ دھرم) لوگوں کی ان باتوں پر جو یہ (حق کے خلاف) بناتے ہیں اور یاد کرو ہمارے ایک خاص بندے داؤد (اور ان کی سبق آموز زندگی) کو جو کہ بری قوتوں والے تھے بیشک وہ ہمیشہ رجوع رہنے والا شخص تھا (اپنے رب کے حضور)

— مولانا اسحاق مدنی

آپ ان لوگوں کے اقوال پر صبر کیجئے اور ہمارے بندے داؤد بڑی قوت والے کو یاد کیجیے وہ بڑے رجوع کرنے والے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے محمد ﷺ !) آپ صبرکیجیے اس پر جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں اور آپ ﷺ تذکرہ کیجیے ہمارے بندے دائود کا جو بہت قوت والا تھا بیشک وہ (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

) اے پیغمبر ! یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کرو۔ اور ہمارے بندے داود کو یاد کرو جو مضبوط تھے اور بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Prophet), bear with patience what they say, and call to mind Our servant David, who was endowed with great strength and who constantly turned (to Allah).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Bear patiently with what they say, and remember Our servant Dawud, the man of might. Surely he was ever-turning to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Bear patiently with what they say, and remember Our servant Dawud, the man of might. Surely he was ever-turning to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Be patient of what they say and remember Our slave Dawud, endued with Al-Ayd. Verily, he was ever oft-returning in all matters and in repentance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Bear with what they say, and remember Our bondman David, lord of might, Lo! he was ever turning in repentance (toward Allah).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Be patient over what they say and remember Our servant, David, the possessor of strength; indeed, he was one who repeatedly turned back [to Allah].

— Saheeh International

(Muhammad), bear patiently what they say and recall Our servant, David, who had strong hands and who was most repentant.

— Muhammad Sarwar

Bear patiently what they say, and remember Our servant Dawood, the possessor of power; surely he was frequent in returning (to Allah).

— Muhammad Habib Shakir

Bear thou with that which they say, and remember Our bondman, Da-ud, endured with strength; verily he was oft-returning onto Us.

— Abdul Majid Daryabadi

Have patience at what they say, and remember our servant David, the man of strength: for he ever turned (to Allah).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–20

ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة صٓ 16 اشارہ ہے کفار مکہ کی ان باتوں کی طرف جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے، یعنی نبی ﷺ کے متعلق ان کی یہ بکواس کہ یہ شخص ساحر اور کذاب ہے، اور ان کا یہ اعتراض کہ اللہ میاں کے پاس رسول بنانے کے لیے کیا بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا۔ اور یہ الزام کہ اس دعوت توحید سے اس شخص کا مقصد کوئی مذہبی تبلیغ نہیں ہے بلکہ اس کی نیت کچھ اور ہی ہے۔ سورة صٓ 17 اس فقرے کا دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو۔ " پہلے ترجمے کے لحاظ سے مطلب یہ ہے کہ اس قصے میں ان لوگوں کے لیے ایک سبق ہے۔ اور دوسرے ترجمے کے لحاظ سے مراد یہ ہے کہ اس قصے کی یاد خود تمہیں صبر کرنے میں مدد دے گی۔ چونکہ یہ قصہ بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر آپ ان لوگوں کے اقوال پر صبر کیجئے اور ہمارے بندہ داؤد کو یاد کیجئے جو (عبادت میں جس میں صبر بھی داخل ہے) بڑی قوت (اور ہمت) والے تھے (اور) وہ (خدا کی طرف) بہت رجوع ہونے والے تھے (اور ہم نے ان کو یہ نعمتیں عطا فرمائی تھیں۔ ایک یہ کہ) ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ (شریک ہو کر) شام اور صبح (کہ حضرت داؤد ؑ کی تسبیح کے یہی اوقات تھے) تسبیح کیا کریں اور (اسی طرح) پرندوں کو بھی (یہی حکم دے رکھا تھا) جو کہ (تسبیح کے وقت ان کے پاس) جمع ہوجاتے تھے (اور یہ پہاڑ اور پرندے وغیرہ) سب ان کی (تسبیح کی) وجہ سے مشغول ذکر رہتے اور (دوسری نعمت یہ کہ) ہم نے ان کی سلطنت کو نہایت قوت دی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

-2 آگے کا مضمون آیات 29-17 آگے نبی ﷺ کو یہ ہدایت ہوئی کہ تم مخالفوں کی اس تمام مخالفت کے باوجود اپنے موقف حق پر ڈٹے رہو اور حضرت دائود ؑ کی سرگزشت سے خود بھی سبق حاصل کرو اور ان لوگوں کو بھی ان کے حالات منائو کہ اللہ نے ان کو جو دولت و حشمت دی اس کا عشر عشیر بھی قریش کو حاصل نہیں ہے لیکن وہ یہ سب کچھ پاکر ان کی طرح غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ جتنا ہی ان پر اللہ کا انعام بڑھتا گیا اتنی ہی ان کی شکر گزاری اور توجہ الی اللہ میں اضافہ ہوتا گیا۔ وہ لوگوں کے مقدمات بڑے صبر و حلم سے سنتے اور عدل کے مطابق ان کے فیصلے کتے اور اگر ان مقدمات کے اثناء میں کوئی بات ان کے سامنے ایسی آجاتی جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 قوت و شدت۔ اسی سے تائید بمعنی تقویت ہے۔ اس قوت سے مراد دینی قوت و صلاحیت ہے، جس طرح حدیث میں آتا ہے ' کہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نماز، داؤد ؑ کی نماز اور سب سے زیادہ محبوب روزے، داؤد ؑ کے روزے ہیں، وہ نصف رات سوتے، پھر اٹھ کر رات کا تہائی حصہ قیام کرتے اور پھر اس کے چھٹے حصے میں سو جاتے۔ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے اور جنگ میں فرار نہ ہوتے (صحیح بخاری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–18

9: سورت کے شروع میں کافروں کی وہ باتیں ذکر کر کے ان پر تردید فرمائی گئی تھی جن سے حضور اقدس ﷺ کو رنج ہوا کرتا تھا۔ اب یہاں سے یہ فرمایا جا رہا ہے کہ ان کی بےہودہ باتوں پر صبر کر کے آپ اپنے کام میں لگے رہئے، اور اسی سلسلے میں کچھ پچھلے انبیائے کرام کے واقعات بیان فرمائے جا رہے ہیں جن سے آنحضرت ﷺ کو تسلی ہو۔ ان میں سے پہلا تذکرہ حضرت داؤد ؑ کا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 212 تشریح آیات یہ پورا سبق قصص اور رسولوں کی زندگیوں کی اعلیٰ مثالوں پر مشتمل ہے۔ یہ مثالیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس لیے پیش کی جارہی ہیں کہ آپ ذرا رسل سابقین کی زندگیوں پر غور کریں اور فریش کو تکذیب کررہے تھے۔ الزام تراشیاں کرتے تھے ' الزام لگاتے تھے اور آپ کی رسالت کو انوکھا سمجھتے تھے ، اس پر صبر کریں اور ان مشکلات کو برداشت کریں جن کی وجہ سے انسان کا جی بھر آتا ہے۔ یہ تمام قصص ، حضور اکرم ﷺ کو تسلی کے لیے رسولوں پر اللہ کی رحمتوں اور مہربانیوں کے واقعات پیش کرتے ہیں۔ اس طرح کہ ان رسولوں پر اللہ نے کیا کیا کرم نوازیاں کیں ، بعض رسولوں کو اللہ نے حکومتیں اور بڑی بڑی سلطنتیں عطا کیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اس جگہ ان کو (داؤد کا قصہ) یاد دلوایا کہ انہوں نے بھی " طالوت " کے (عہد) حکومت میں بہت صبر کیا۔ آخر حکومت ان کو ملی اور (جالوت وغیرہ) مخالفوں کو جہاد سے زیر کیا۔ یہ ہی نقشہ ہوا ہمارے پیغمبر کا۔ " (تنبیہ) " ذالاید " کا ترجمہ حضرت شاہ صاحب نے " ہاتھ کے بل والا " کیا ہے۔ یعنی قوت سلطنت، یا ادھر اشارہ ہو کہ ان کے ہاتھ میں لوہا نرم ہوجاتا تھا۔ یا " ہاتھ کا بل ' یہ کہ سلطنت کا مال نہ کھاتے اپنے دس وبازو سے کسب کر کے کھاتے۔ اور " اواب ' یعنی ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 { اِصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ } ”اے محمد ﷺ ! آپ صبرکیجیے اس پر جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں“ { وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِج اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ} ”اور آپ ﷺ تذکرہ کیجیے ہمارے بندے دائود کا جو بہت قوت والا تھا ‘ بیشک وہ اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا تھا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 وَاذْکُرْکا دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا قصہ دوسروں سے بیان کیجئے۔ 20 ید اور ذوالاید کا لغوی مفہوم :۔ ذَالاَیْدِ کا لفظی معنی ہاتھوں والا ہے اور تقریباً ہر زبان میں ایسے لفظ بول کر قوت اور طاقت مراد لی جاتی ہے۔ صاحب قوت سے مراد جسمانی قوت بھی ہوسکتی ہے۔ چناچہ آپ سے متعلق منقول ہے کہ بچپن میں جب آپ بکریوں کا ریوڑ چرایا کرتے تھے تو جب کوئی درندہ ان پر حملہ آور ہوتا آپ اس کے ایک جبڑے کو پکڑ کر دوسرے کو اس زور سے کھینچتے تھے کہ اسے چیر دیتے تھے پھر یہ بھی آپ کی جسمانی قوت ہی تھی کہ آپ نے میدان کارزار میں جالوت کو مار ڈالا تھا۔ اور فوجی اور سیاسی قوت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ آپ نے گردوپیش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ (اور ان کی مثال ونظیر سے صبر میں تقویت حاصل کیجئے) اس کے بعد آپ کی تقویت قلب کے لیے نو پیغمبروں کی مثالیں درج ہو رہی ہیں، ان میں سے تین کے قصے مفصل بیان ہوں گے اور چھ کا ذکر صرف اجمالا آئے گا۔ (آیت) ” ذالاید “۔ یعنی بڑی قوت والے، ہمت والے، دین وتقوی کی راہ میں بڑے بڑے مجاہدے کر ڈالنے والے، اے ذالقوۃ فی الدین المضطلع بمشاقہ وتکالیفہ (کشاف) اے ذالقوۃ علی اداء الطاعۃ والاحتراز عن المعاصی (کبیر) (آیت) ” اواب “۔ اللہ کی طرف بڑے رجوع کرنے والے۔ اواب رجاع الی مرضاۃ اللہ (کشاف) حضرت داؤد، نبی وسلطان کی قوت و حشمت ونیز زہد وتقوی پر ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن (آیت) ” عبدنا “۔ لفظ عبد کو ضمیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–26

آیت نمبر 15 تا 26 ترجمہ : انہیں یعنی کفار مکہ کو ایک چیخ کا انتظار ہے، اور وہ قیامت کا نفخہ ہوگا، جو ان پر عذاب نازل کرے گا، اور اس نفخہ کے لئے تو توقف نہ ہوگا فَوَاق میں فاؔ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، جب آیۃ فَامَّا مَن اُوتِیَ کتابہٗ بیمینہٖ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار تو ہمارا حصہ یعنی نامہ اعمال حساب کے دن سے پہلے (دنیا ہی) میں دیدے یہ بات انہوں نے تمسخر کے طور پر کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور رات کو تہائی حصہ سوتے اور (پھر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اصبر علی ما یقولون واذکر عبدنا داود یہ کافر جو کچھ (مذاق اڑانے اور جھٹلانے کیلئے) کہتے ہیں ‘ آپ صبر کیجئے اور ہمارے بندے داؤد کا ذکر کیجئے۔ انبیاء کا تذکرہ ایسے امور پر صبر کرنے پر آمادہ کرتا ہے جو طبیعت کو ناگوار ہوتی ہیں ‘ گناہوں سے بازداشت کرتا اور طاعت پر نفس کو قائم رکھتا اور ان کا پابند بناتا ہے۔ ذا الاید جو طاقتور اور سخت پکڑ والے تھے اور طاعت خداوندی میں بہت مضبوط تھے۔ انہ اواب وہ (مخلوق سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف اور گناہ کو چھوڑ کر طاعت کی طرف) بہت زیادہ لوٹنے والے تھے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی اللہ کے بڑے اطاعت گذار تھے۔ سعید بن جبیر نے کہا : اللہ کی بہت پاکی بیان کرنے والے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

محمد آپ ان لوگوں کی تکذیب پر صبر کیجیے اور ان کے سامنے ہمارے بندہ داؤد کا ذکر کیجیے جو عبادت میں بڑی قوت والے تھے اور اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کی طرف بڑے رجوع کرنے والے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِصْبِرْ عَلٰي مَا يَقُوْلُوْنَ : اس سورت میں یہاں تک کفار کی جو باتیں ذکر ہوئی ہیں، مثلاً آپ کو ساحر و کذّاب کہنا اور ان کا یہ اعتراض کہ کیا ہم سب میں سے رسول بنانے کے لیے یہی ایک شخص رہ گیا تھا ؟ اور یہ کہ اس دعوت کے پیچھے کوئی سوچی سمجھی سازش ہے اور قیامت کا مذاق اڑاتے ہوئے انھوں نے جو کچھ کہا، اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان سب باتوں پر صبر کا حکم دیا اور تسلی کے لیے داؤد ؑ اور چند دوسرے پیغمبروں کو یاد کرنے کا حکم دیا۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَيْدِ : ”الْاَيْدِ“ کا معنی قوت ہے۔ ”آد الرَّجُلُ یَءِیْدُ أَیْدًا“ (ض) جب کوئی آدمی قوی ہوجائے تو کہتے ہیں : ”فَھُوَ أَیِّدٌ“ جیسے فرمایا :…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اصبر علی ما یقولون واذکر عبدنا داود ذا الاید انہ اواب۔ ”) اے حبیب ! ( صبر کرو ان کی نامعقول باتوں پر اور یاد فرمائیے ہمارے بندے دائود کو جو برا طاقتور تھا وہ ہماری طرف بہت رجوع کرنے والا تھا “۔ جب کفار نے مذاق کیا تو نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہ آیت آیت سیف کے ساتھ منسوخ ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے واقعات اور ان کی دشمنی کا ذکر کیا اور سابقہ قوموں کی ہلاکت کا ذکر کر کے انہیں خبردار کیا تو نبی کریم ﷺ کو ان کی اذیتوں پر صبر کا حکم دیا اور جو کچھ پہلے مذکور ہوا اس کے ساتھ آپ ﷺ کو تسلی دی ‘ پھر حضرت دائود (علیہ السلام) اور انبیاء کا ذکر شروع کیا تاکہ جن لوگوں نیصبر کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” داؤد ذا الاید “ (اور داؤدجو طاقتور تھے) یعنی اللہ کی اطاعت کرنے والے عمل میں قوت والے تھے۔ 2:۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ذالاید “ یعنی عبادت میں قوت والے تھے۔ 3:۔ عبد بن حمید وابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واذکر عبدنا داؤد ذالاید “ یعنی ان کو عبادت میں قوت دی گئی، اور سلام میں سمجھ بوجھ دی گئی۔ 4:۔ عبد بن حمید نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا (آیت ) ” ذالاید “ سے مراد ہے عبادت کرنے میں قوت اور ہدایت میں بصیرت۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) سب سے زیادہ عبادت گذار تھے : 5:۔ بخاری (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِصْبِرْ [آپ ﷺ صبر کریں ] عَلٰي مَا [اس پر جو ] يَقُوْلُوْنَ [یہ لوگ کہتے ہیں ] وَاذْكُرْ [اور آپ ﷺ یاد کریں ] عَبْدَنَا دَاوٗدَ [ہمارے بندے داؤد (علیہ السلام) کو ] ذَا الْاَيْدِ ۚ [جو قوت والے تھے ] اِنَّهٗٓ [بیشک وہ ] اَوَّابٌ [بار بار رجوع کرنے والے تھے ] ۔ نوٹ۔ 1: کفار کی تکذیب و استہزاء سے رسول اللہ ﷺ کو جو صدمہ ہوتا، اسے دور کرنے اور تسلی دینے کے لئے عموما اللہ تعالیٰ نے پچھلے انبیاء (علیہ السلام) کے واقعات سنائے ہیں۔ چناچہ یہاں بھی آپ ﷺ کو صبر کی تلقین فرماکر بعض انبیاء (علیہ السلام) کے واقعات ذکر کئے گئے ہیں جن میں پہلا واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ہے۔ (معارف القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–20

حضرت رسول اکرم ﷺ کو تسلی اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کو مشرکین کی باتوں سے رنج ہوتا تھا، آیت بالا میں آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کی باتوں پر صبر کریں اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا کہ ہمارے بندۂ داؤد کو یاد کیجیے جو قوت والے تھے اور فرمایا کہ وہ اواب تھے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے، پھر ان کی تسبیح کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرو اور پرندوں کو بھی حکم دیا تھا جو جمع ہوجاتے تھے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے یعنی اس کے ذکر میں مشغول رہتے تھے سورة سبا کے دوسرے رکوع میں بھی یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–26

تلقین صبر و تسلی نبی کریم ﷺ بذکر قصہ حضرت داؤد (علیہ السلام) : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” اصبر علی ما یقولون ...... الی ...... بما نسوا یوم الحساب “۔ (ربط) ما قبل آیات میں مکذبین رسل کا انجام ہلاکت بیان فرمایا گیا اور یہ کہ بڑی قوت و طاقت اور پائیدار سلطنتیں اللہ کے رسولوں کے مقابلہ میں کامیاب نہ ہوسکیں تو یہ کفار مکہ اور قریش کے لوگ جن کے پاس نہ اس طرح کی طاقت وقوت ہے اور نہ حکومت وسلطنت کیسے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں گے تو بطور تسلی حضرت داؤد (علیہ السلام) کا ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے آپ ﷺ کو صبر کی تلقین کی جارہی ہے فرمایا (آیت ) ” اصبر علی مایقولون واذکر عبدنا داؤد ذالاید “۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ اصبر الخ : یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ اور نفی شفاعت قہری پر پہلی نقلی دلیل ہے۔ آپ صبر و تحمل سے کام لیں۔ ہم ان کو ان کی گستاخانہ روش کی سخت سزا دینگے۔ اور ان کو داؤود (علیہ السلام) کا قصہ سنائی کہ اس قدر جلالت شان کے باوجود ایک خلاف اولی فعل پر ان کو بھی تنبیہہ کی گئی۔ بھلا یہ سرکش اور گستاخ کس طرح چھورے جاسکتے ہیں ( واذکر عبدنا داوٗد) وکرامتہ علی اللہ کیف زل تلک الزلۃ الیسیرۃ فلقی من عتاب اللہ مالقی (مدارک ج 4 ص 28) ۔ ساتھ ہی نفی شفاعت قہری پر یہ دلیل نقلی بھی ہے۔ یعنی داؤود (علیہ السلام) ایسے جلیل القدر پیغمبر جو نہایت ہی عابد و زاہد اور ساتھ ہی ایک عظیم بادشاہ بھی تھے لیکن بایں ہمہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–25

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کا رد کیا جو اس بات پر استعجاب کرتے تھے کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے تمام معبودوں کی بجائے صرف ایک معبود کی طرف دعوت دی ہے اس دعوت کے جواب میں مشرکین نے کہا کہ اس شخص کی بات نہ مانو بلکہ اپنے معبودوں پر جمے رہو ، کہنے لگے یہ شخص جھوٹ موٹ گھڑ کرلے آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں سے ہی ایک شخص کو نزول وحی کے لیے منتخب کرلیا گیا ہو اس منصب کے لیے تو کوئی بڑا آدمی ہونا چاہئے تھا اللہ نے فرمایا کہ رسالت کے ان منکرین نے ابھی ہماری سزا کا مزا نہیں چکھا ، نیز فرمایا کہ ان کے پاس خدا کی رحمت کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِصْبِرْ عَلٰي مَا يَقُوْلُوْنَ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَيْدِ۝ 0 ۚ اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ۝ 17 صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–26

ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔ تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔ وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ ذَا الْاَیْدِ ج اِنَّـہٗٓ اَوَّابٌ۔ (صٓ: 17) (اے پیغمبر ان باتوں پر صبر کیجیے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور ان کے سامنے ہمارے بندے دائود زور و قوت والے کا حال بیان کیجیے، بیشک وہ اللہ کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔ ) حضرت دائود (علیہ السلام) کی زندگی کا نمونہ آنحضرت ﷺ کے لیے بھی اور قریش کے لیے بھی اس سے پہلے سورة الانبیاء، نمل اور سبا میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے واقعات کسی حد تک تفصیل کے ساتھ گزر چکے ہیں۔ لیکن قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی بھی بڑی شخصیت کے واقعات کو واقعات کے طور پر یا تاریخ کے انداز میں بیان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–20

فہم القرآن ربط کلام : حالات سے دل گرفتہ ہونے کی بجائے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو صبر کرنے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ ذہن میں رکھنے اور ان کی طرح حوصلہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ کفار مکہ نے عجب صورت حال اختیار کر رکھی تھی۔ ایک مجلس میں کہتے کہ آپ ﷺ جادوگر ہیں۔ دوسری مجلس میں پروپیگنڈہ کرتے کہ آپ ﷺ پر جادو ہوچکا ہے۔ آپ توحید کی دعوت دیتے تو کہتے کہ یہ شخص کذّاب ہے۔ اندازہ کیجیے کہ جس شخص کا جادو اور جادوگروں سے کبھی واسطہ نہ پڑا ہو۔ جس نے زندگی بھر جھوٹ بولنا تو دور کی بات کبھی مغالطہ دینے والی بات نہ کی ہو۔ اس کے خلاف گھر گھر اور ہر مقام پر الزامات لگائے جارہے ہوں بحیثیت انسان اس کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تلقین صبر : 17: اِصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ (آپ ان کے اقوال پر صبر کیجئے) جو آپ کے متعلق کہہ رہے ہیں اور اپنی حد تک جس صبر کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں اس سے مت پیچھے ہٹیں اور ان کی طرف سے پیش آئندہ تکلیف کو برداشت کریں۔ وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ (اور ہمارے بندے دائود کو یاد کیجئے) اور ان کا اکرام بارگاہ الٰہی میں اور وہ معمولی لغزش جو پیش آئی جس سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عتاب ہوا۔ ذَا الْاَیْدِ (وہ بڑی قوت والے تھے) ۔ دین میں بڑے مضبوط اِنَّہٗ اَوَّابٌ (وہ بہت رجوع کرنے والے تھے) یعنی رضائے الٰہی کی طرف بہت رجوع کرنے والے۔ یہ ذا الاید ؔ کی علت ہے۔ روایت ہے : دائود (علیہ السلام) ایک دن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 17، اصبر علی مایقولون، کفار جو کچھ آپ کی تکذیب کرنے کے متعلق کہتے ہیں۔ ، واذکر عبد نا داوذا الا ید، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ عبادت میں بڑے قوت دار تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے زیادہ اللہ کو پسند حضرت داؤ (علیہ السلام) کانفل روزہ رکھنے کا طریقہ ہے۔ داؤد (علیہ السلام) ایک دن روزہ رکھتے تھے، ایک دن ناغہ کرتے تھے اور سب سے زیادہ پسندیدہ نماز اللہ کے نزدیک حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ہے۔ داؤ (علیہ السلام) آدھی رات سوتے تھے، ایک تہائی رات نماز پڑھتے تھے۔ پھر آخرت میں پوری رات کا چھٹاحصہ سوجاتے تھے۔ بعض نے کہا کہ اپنی بادشاہت کی ملک میں بہت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–17

16۔ 17 تفسیرابو العالیہ تفسیر سدی 2 ؎ تفسیر ضحاک اور تفسیر کلبی میں جو شان نزول اس آیت کی چند روایتوں سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے۔ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے جب یہ سنا کہ قیامت کے دن دائیں اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جاویں گے اور جو لوگ جنت میں جاویں گے اور جو لوگ جنت میں جاویں گے۔ ان کو بڑی بڑی نعمتیں ملیں گی۔ تو مسخرا پن سے وہ مشرک یہ کہتے تھے۔ کہ وہ جنت کی نعمتیں دنیا میں ہی ہم آنکھوں سے دیکھ لیویں تو شاید ہم کو کچھ یقین آوے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرما دیا۔ کہ اے رسول اللہ کے ان نادانوں کی ایسی باتوں پر صبر کرنا چاہئے۔ وقت پر اپنے کئے کو خود یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 17 یہ جھٹلانے والے اپنی جہالت اور حق کے ساتھ عناد کی بنا پر عذاب کے لئے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں : (آیت) ” یعنی ہمارے حصے کا عذاب ہمیں جلدی دے دے (قبل یوم الحساب) ” حساب کے دن پہلے “ وہ اپنے اس قوم سے باز نہیں آتے۔ اے محمد ! یہ کفار سمجھتے ہیں کہ اگر آپ سچے ہیں تو آپ کی سچائی کی علامت یہ ہے کہ آپ ان پر عذاب لے آئیں، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے فرمایا : (اصبر علی مایقولن) ” یہ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجیے “ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء ومرسلین نے صبر کیا۔ ان کی باتیں حق کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ آپ کو وہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

21 حضرت داؤد کی زندگی سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے مخالفین کی دلآزاریوں پر حضرت ِداؤد کی زندگی سے تسلی حاصل کرنے کی تلقین وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ " ایدی " جمع ہے " ید " کی۔ جس کے معنیٰ ہاتھ کے آتے ہیں۔ مگر یہاں یہ کنایہ ہے قوت سے۔ کیونکہ ہاتھ قوت کا ذریعہ اور مظہر ہوتا ہے۔ اور داؤد (علیہ السلام) کو واقعۃً اللہ پاک نے عقیدئہ و ایمان، عمل و اخلاق، دولت و سلطنت اور دین و دنیا کی بہت سی قوتوں سے خاص طور پر نوازا تھا۔ سو یہاں پر آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے توسط سے آپکی امت کے ہر داعی حق کو اپنے مخالفین کی دلآزار باتوں پر صبر و برداشت سے کام لینے کیلئے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–26

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–26

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26: اسرار و معارف : انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7” اس جگہ ان کو یاد دلوایا کہ انہوں نے بھی طالوت کی حکومت میں بہت صبر کیا آخر حکومت ان کو ملی اور مخالفوں کو جہاد سے زیر کیا۔ یہی نقشہ ہوا ہمارے پیغمبر کا۔ ( کذافی المواضح)8 جسمانی قوت کے علاوہ علم و فضل و عبادت میں بھی بڑی طاقت تھی۔ ایک روایت میں ہے۔ (کان اعبدالبشر) کہ حضرت دائود بہت زیادہ عبادت گزار تھے۔ ایک صحیح حدیث میں حضرت دائود ( علیہ السلام) کی نماز اور روزے کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب قرار دیا گیا ہے۔ ( روح)9 یعنی وہ اپنے ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اور کوئی قدم اپنی خواہش کی بناء پر نہیں اٹھاتے تھے۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:17) ذا الاید۔ مضاف مضاف الیہ۔ بہت ہاتھوں والا۔ مراد بہت طاقتور بڑی قوی۔ حالت نصب میں ہے بوجہ داؤد کی صفت ہونے کے۔ داؤد منصوب بوجہ عبدنا میں عبد کا بدل ہونے کی وجہ سے ہے اور عبدنا منصوب بوجہ اذکر کے مفعول ہونے کی وجہ سے ہے اور داؤد بوجہ عجمیت اور معرفت ہونے کے غیر منصرف ہے۔ اواب۔ بہت رجوع کرنے والا۔ بہت تسبیح خوان۔ اوب سے بروزن فعال مبالغہ کا صیغہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–23

حضرت داؤد (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 2) حضرت داؤد (علیہ السلام) جب صبح شام ذکر الٰہی کرتے تھے ان کے ساتھ پہاڑ اور جانور بھی ذکرالٰہی کیا کرتے تھے اور حضرت داؤد (علیہ السلام) پہاڑوں اور جانوروں کے ذکرالٰہی کا مطلب سمجھتے تھے اسی کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو فوج ولشکر کی کثرت عطا فرمائی ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ روئے زمین کے بادشاہوں میں حضرت داؤد کی بادشاہت بڑی مضبوط اور قوی بادشاہت تھی چھتیس ہزار مرد آپ کے محراب کے پہرے میں رہتے تھے پھر فرمایا کہ ہم نے حضرت داؤد کو حکمت یعنی نبوت عطا کی ۔ فصل خطاب یعنی وہ کلام وہ عقل جو مدعی ، مدعی علیہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–24

[9] اصل میں لفظ '' اذکر '' استعمال ہوا ہے جو یہاں اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہے۔ ایک کا تعلق نبی ﷺ سے ہے کہ اپنے مخالفوں کی دل آزار باتوں پر صبر اور ہمارے بندے داؤد کے حالات زندگی سے تسلی حاصل کرو کہ وہ طاقت و حکومت رکھنے کے باوجود کس صبروتحمل کے ساتھ لوگوں کے ناگوار روئیے کو برداشت کرتے، نہایت عدل و مہربانی کے ساتھ ان کے معاملات کے فیصلے فرماتے اور دوسروں کے واقعات سے خود اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کرتے تھے۔ دوسرے کا تعلق قریش کے ان سرکش اور ہٹ دھرم لوگوں سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے کہ ان لوگوں کو ہمارے بندے داؤد کے حالات سناؤ کہ باوجودیکہ داؤد کو ان لوگوں سے کہیں زیادہ دولت حشمت حاصل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–21

(ف 1) یعنی یہ لوگ تکذیب رسل میں کوئی قدرت سے کام نہیں لے رہے ، ان سے پہلے بھی قوموں نے اپنے پیغبروں کو جھٹلایا اور اللہ کا غضب اور غصہ حرکت میں آیا ہے ۔ اور ان منکرین کو چشم زون میں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے ۔ اس لئے اگر یہ بھی اسی انجام کے منتظر ہیں ۔ اور یہی چاہتے ہیں ۔ کہ اللہ کی غیرت کو آزمائیں ۔ تو یہ بھی دیکھ لیں ۔ اس کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ وہ اب بھی فطرت کے دشمنوں سے پوری طرح انتقام لے گا ۔ اور انہیں بتائے گا ۔ کہ حق وصداقت کا انکار کس درجہ مذموم ہوتا ہے ۔ حل لغات :۔ فلیرتقوا فی الاسباب ۔ غرض یہ ہے کہ اگر آسمان و زمین کی حکومت ان کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ تو پھر یہ کیوں آسمان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) اے پیغمبر یہ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کیجئے اور سہار سے کام لیجئے اور ہمارے بندے دائود کو یاد کیجئے جو بڑا صاحب قوت تھا بلا شبہ وہ دائود اللہ تعالیٰ کی طرف بڑا رجوع ہونے والا تھا۔ دائود کا ذکر فرمایا شاید ان سے لغزش ہوگئی تھی اور ان پر عتاب ہوا تھا اس لئے اپنے پیغمبر کو فرماایا کہ تم صبر کرنے میں ذرا لغزش نہ کرنا۔ صاحب قوت سے مراد بعض سلف نے عبادت اور ان کی ریاضت لی ہے کہ وہ ایک دن افطار کرتے تھے اور ایک دن روزہ رکھا کرتے تھے رات کو آدھی رات سوتے تھے پھر ایک تہائی رات عبادت کرتے پھر رات کو چھٹے حصے میں سوتے۔ نبی کریم ﷺ حضرت دائود کو اعبدالبشر فرمایا کرتے تھے یعنی انسانوں میں زیادہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–23

ف 7۔ مطلب یہ کہ قیامت نہیں ہے، اور اگر ہے تو ہم کو ابھی عذاب مطلوب ہے، جب عذاب نہیں ہوتا تو معلوم ہوا قیامت نہ آوے گی۔ نعوذباللہ من الجھل۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے اور ہمارے بندے دائود کی سر گزشت پڑھئے 17۔ یہ نبی اعظم وآخر محمد ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان کی باتوں کو سن کر فی الحال خاموش رہیں اور صبر و ثبات سے اپنا کام کرتے جائیں اور ہمارے پیغمبر داودعلیہ السلام کی سر گزشت کو بغور دیکھیں اور پڑھیں کہ اس نے طاقت جمع کرنے کے لیے کیا کیا محنت کی اور کتنے بڑے بڑے کام سر انجام دیئے بلاشبہ وہ صاحب طاقت و قوت تھا اور اس نے جو طاقت و قوت حاصل کی تھی ہمارے قانون کے مطابق اپنے ہاتھوں سے محنت اور کام کرکے حاصل کی تھی بلاشبہ وہ ہماری طرف رجوع کرنے والا تھا اواب اوب سے ہے جس کے معنی کسی صاحب ارادہ کے ارادہ کے ساتھ گناہوں کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary It was said in verse 17 وَاذْكُرْ‌ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْد (and remember Our servant, Dawud, the man of might). Nearly all commentators have explained it in the sense that he used to demonstrate great courage and strength during the course of his acts of worship (` ibadah), therefore, soon after it, comes the sentence: إِنَّهُ أَوَّابٌ (Surely, he was ever-turning to Allah - 38:17). Accordingly, in a Hadith of the Sahihayn (al-Bukhari and Muslim), the Holy Prophet ﷺ said: "In sight of Allah, the most liked Salah is the Salah of Dawud (علیہ السلام) and the most liked fasts…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

16 The allusion is to the absurd conversation of the disbelievers of Makkah, as narrated above, to the effect that the Holy Prophet was a sorcerer and a liar, and to their objection whether he was the only fit person in the sight of Allah to be appointed as a Messenger, and to their some accusation that he had vested interest in preaching the doctrine of Tauhid to the people and not any religious mission. 17 Another translation of this sentence can be: `Remember Our servant David." According to the first translation, it would mean: "There is a lesson in this story for these people," and…

Read the full tafseer →