Saad 38:16

Saad · from ayah 16

38:16

وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ ۟وَقَالُوۡا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبۡلَ يَوۡمِ الۡحِسَابِ

اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "Our Lord, hasten for us our share [of the punishment] before the Day of Account"

— Saheeh International

Juz 23 · Ruku 2 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Saad

All translations of 38:16

اور یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، یوم الحساب سے پہلے ہی ہمارا حصہ ہمیں جلدی سے دے دے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہماری سرنوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کہتے ہیں کہ : اے ہمارے پروردگار ! ہمار احصہ ہمیں روز حساب سے پہلے ہی جلدی دیدے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے اے ہمارے رب ہمارا حصہ ہمیں جلد دے دے حساب کے دن سے پہلے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ کہتے ہیں: اے ہمارے رب! روزِ حساب سے پہلے ہی ہمارا حصّہ ہمیں جلد دے دے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور انھوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہمیں ہمارا حصہ یوم حساب سے پہلے جلدی دے دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کہتے ہیں : پروردگار ! ہمیں ہماری چارج شیٹ جلدی کرکے روز حساب سے پہلے ہی دے دے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور انہوں نے کہا کہ اب رب ہمارا حساب روز حساب سے پہلے ہی چکا دے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب جلد ہی بھیج دے ہمارے لئے ہمارے حصے کا عذاب یوم حساب سے پہلے

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ روز حساب سے پہلے ہی دے دے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہمارا حصہ ُ تو ہمیں جلدی دے دے یومِ حساب سے پہلے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہتے ہیں کہ ”اے ہمارے رب ! ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے

— محترمہ رفعت اعجاز

They say: “Our Lord, hasten to us our share (of chastisement) before the Day of Reckoning.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And they say, :O our Lord, give us our share (of the punishment) sooner, before the Day of Reckoning.

— Muhammad Taqi Usmani

And they say, :O our Lord, give us our share (of the punishment) sooner, before the Day of Reckoning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They say: "Our Lord! Hasten to us Qittana before the Day of Reckoning!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They say: Our Lord! Hasten on for us our fate before the Day of Reckoning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "Our Lord, hasten for us our share [of the punishment] before the Day of Account"

— Saheeh International

They scornfully said, "Lord, show us the record of our deeds before the day when everyone must present the account of their deeds.".

— Muhammad Sarwar

And they say: O our Lord! hasten on to us our portion before the day of reckoning.

— Muhammad Habib Shakir

And they say: our Lord! hasten our portion unto us before the Day of Reckoning

— Abdul Majid Daryabadi

They say: "Our Lord! hasten to us our sentence (even) before the Day of Account!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 38:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–20

ان سب کے واقعات کئی مرتبہ بیان ہوچکے ہیں کہ کس طرح ان پر ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ کے عذاب ٹوٹ پڑے۔ یہی وہ جماعتیں ہیں جو مال اولاد میں قوۃ و طاقت میں زور زور میں تمہارے زمانہ کے ان کٹر کافروں سے بہت بڑھی ہوئی تھیں لیکن امر الٰہی کے آچکنے کے بعد انہیں کوئی چیز کام نہ آئی۔ پھر ان کی تباہی کی وجہ بھی بیان ہوئی کہ یہ رسولوں کے دشمن تھے انہیں جھوٹا کہتے تھے۔ انہیں صرف صور کا انتظار ہے اور اس میں بھی کوئی دیر نہیں بس وہ ایک آواز ہوگی کہ جس کے کان میں پڑی بیہوش و بےجان ہوگیا۔ سوائے ان کے جنہیں رب نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ قط کے معنی کتاب اور حصے کے ہیں۔ مشرکین کی بیوقوفی اور ان کا عذابوں کو محال سمجھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة صٓ 15 یعنی اللہ کے عذاب کا حال تو ہے وہ جو ابھی بیان کیا گیا، اور ان نادانوں کا حال یہ ہے کہ یہ نبی سے مذاق کے طور پر کہتے ہیں کہ جس یوم الحساب سے تم ہمیں ڈراتے ہو اس کے آنے تک ہمارے معاملے کو نہ ٹالو بلکہ ہمارا حساب ابھی چکوا دو ، جو کچھ بھی ہمارے حصے کی شامت لکھی ہے وہ فوراً ہی آجائے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا۔ ”قط“ اصل میں اس دستاویز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ کسی کو انعام دینے کا وعدہ کیا گیا ہو۔ پھر یہ لفظ مطلق ”حصہ“ کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ یہاں یہی معنیٰ مراد ہیں کہ ”آخرت کی جزا وسزا سے جو کچھ ہمیں حصہ ملنا ہے وہ یہاں دلوا دیجئے۔“

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وقالوا ربنا … الایۃ یہ مطالبہ عذاب کے معاملے میں ان کی رعونت کا بیان ہے کہ یہ پیغمبر ﷺ کی تکذیب کے جوش میں یہاں تک کہہ گزرے کہ اے رب ! اگر یہ شخص اپنے اس دعوے میں سچا ہے کہ ہم نے اس کی تکذیب کی تو ہم پر کوئی عذاب آجائے گا تو وہ عذاب قیامت سے پہلے ہی ہم پر آجائے تاکہ اس کی سچائی ثابت ہوجائے۔ اگر یہ سچا ہے اور (نعوذ باللہ) اس کا جھوٹ ثابت ہوجائے اگر یہ جھوٹا ہے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ قریش کے اس مطالبہ کا ذکر سورة انفال میں بھی بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔ وذ قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمآء اوئتنا بعذاب الیم (32) اور جب کہ انہوں نے کہا، اے اللہ، اگر یہی حق ہو تیرے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی ہمارے نامہ اعمال کے مطابق ہمارے حصے میں اچھی یا بری سزا جو بھی ہے، یوم حساب آنے سے پہلے ہی دنیا میں دے دے۔ یہ و قوع قیامت کو ناممکن سمجھتے ہوئے انہوں نے تمسخر کے طور پر کہا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

8: یہ کافروں کا وہی مطالبہ ہے جس کا ذکر پہلے بار بار گذرا ہے کہ اگر ہم پر عذاب آنا ہے تو ابھی فوراً کیوں نہیں آتا ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 16 بس یہاں آکر قرآن مجید ان کے بارے میں بات ختم کردیتا ہے اور روئے سخن نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ ان کی حماقتوں کی پروانہ کریں۔ یہ عذاب کا مطالبہ کرکے اللہ کے جناب میں سوء ادب کا ارتکاب کررہے ہیں۔ دراصل یہ قیامت کے قیام پر یقین ہی نہیں رکھتے ۔ اللہ کی رحمت پر ناشکری کرتے ہیں۔ آپ کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ انبیائے سابقہ کے حالات پڑھیں کہ ان پر کیا کیا آزمائشیں آئیں۔ اور اسکے بعد اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جب وعدہ قیامت سنتے مسخرا پن سے کہتے کہ ہم کو تو اس وقت کا حصہ ابھی دے دیجئے ابھی ہم اپنا اعمالنامہ دیکھ لیں اور ہاتھ کے ہاتھ سزا جزاء سے فارغ ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 { وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ } ”اور وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! ہمارا حصہ ُ تو ہمیں جلدی دے دے ‘ یومِ حساب سے پہلے۔“ یعنی تو ہمارا حساب روز حساب سے پہلے ہی چکا دے ! قِطّ کے معنی حصہ بھی ہیں اور یہ حساب کے رجسٹر چٹھا کے لیے بھی بولاجاتا ہے ‘ جس میں کسی کاروبار کی آمدن اور خرچ کا سالانہ حساب کتاب لکھا جاتا ہے اور اس سے اس کاروبار کی سالانہ بچت یا نقصان کا پتا چلتا ہے۔ یہ بات مشرکین مکہ استہزائیہ انداز میں کہا کرتے تھے کہ یہ جو محمد ﷺ ہمیں ڈراتے رہتے ہیں کہ ہمیں مرنے کے بعد اٹھایا جائے گا ‘ پھر ہمارے ایک ایک عمل کا حساب ہوگا اور اس کے بعد ہمیں سزا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 کفار کا مطالبہ ہمارا اعمال نامہ ابھی دیا جائے :۔ چونکہ کفار مکہ بعث بعد الموت، روز آخرت، اعمال نامہ اور حساب کتاب سب باتوں کے منکر تھے۔ اس لئے از راہ مذاق جس طرح یہ کہتے تھے کہ جس عذاب کی تم دھمکی دیتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے ؟ اسی طرح یہ بھی کہتے تھے کہ ہمارا اعمال نامہ جو ہمیں قیامت کے دن ملنا ہے ابھی ہمارے حوالے کردیں اور ہمارے حصے جو شامت لکھی ہوئی ہے وہ اس دنیا میں ہی ہم سے حساب لے لے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 15–16

16۔ منکرین بطور استہزاء کہتے تھے کہ جو کچھ عذاب ہم پر ہونا ہے وہ ابھی لے آؤ کل پر کیوں اٹھا رکھا ہے ! اعلم ان الکفار لما بالغوا فی السفاھۃ علی رسول اللہ ﷺ حیث قالوا انہ ساحر کذاب وقالوا لہ علی سبیل لاستھزاء عجل لنا قطنا امرہ اللہ بالصبر علی سفاھتھم (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–26

آیت نمبر 15 تا 26 ترجمہ : انہیں یعنی کفار مکہ کو ایک چیخ کا انتظار ہے، اور وہ قیامت کا نفخہ ہوگا، جو ان پر عذاب نازل کرے گا، اور اس نفخہ کے لئے تو توقف نہ ہوگا فَوَاق میں فاؔ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، جب آیۃ فَامَّا مَن اُوتِیَ کتابہٗ بیمینہٖ نازل ہوئی تو انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار تو ہمارا حصہ یعنی نامہ اعمال حساب کے دن سے پہلے (دنیا ہی) میں دیدے یہ بات انہوں نے تمسخر کے طور پر کہی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان کی باتوں پر صبر کیجئے، اور ہمارے بندے داؤد کو یاد کیجئے جو عبادت میں بڑے قوی تھے، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تو آدھی رات قیام کرتے اور رات کو تہائی حصہ سوتے اور (پھر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا ربنا عجل لنا قطنا اے ہمارے رب ! ہمارا صحیفہ تو (ہم کو دنیا میں ہی) جلد دے دے۔ قِط وہ کاغذ جس میں ہر چیز کا اندارج ہو۔ حضرت ابن عباس نے یہی فرمایا۔ رواہ سعید بن جبیر عنہ۔ قبل یوم الحساب حساب کے دن سے پہلے۔ سعید بن جبیر نے کہا : کافروں کی مراد یہ تھی کہ محمد ﷺ جس جنت کا ذکر کرتے ہیں ‘ اس کے اندر ہمارا جو نصیب اور حصہ ہو ‘ وہ ہم کو یہیں دے دے۔ حسن ‘ قتادہ ‘ مجاہد اور سدی نے کہا : ان کا مطلب یہ تھی کہ جس عذاب آخرت کی محمد ﷺ ہم کو دھمکی دیتے ہیں ‘ اس کا ہمارا مقررہ حصہ یہیں دنیا میں ہم کو دے دے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ مجاہد نے قِط کا ترجمہ حساب کیا۔ عطاء نے کہا : یہ قول نضر بن حارث کا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور اللہ تعالیٰ نے جب اپنی کتاب میں اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال کا تذکرہ کیا تو کفار مکہ کہنے لگے اے ہمارے رب ہمارا نامہ اعمال روز حساب سے پہلے ہی ہمیں دے دے تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ اس میں کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا :”قَطَّ یَقُطُّ قَطًّا“ (ن) قلم وغیرہ کا سرا کاٹنا۔ ”قِطٌّ“ حصے کو کہتے ہیں، کیونکہ ہر ایک کو اس کا حصہ کاٹ کردیا جاتا ہے۔ انعام کے لیے کاغذ کا جو ٹکڑا لکھ کردیا جاتا ہے اسے بھی ”قِطٌّ“ کہتے ہیں۔ مراد عذاب میں سے ان کا حصہ ہے، بعض نے اعمال نامہ مراد لیا ہے۔ یعنی کفار قیامت کو ناممکن سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے جرأت کی اس حد تک پہنچ گئے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی ربوبیت کے واسطے سے دعا کرتے ہوئے کہنے لگے، اے ہمارے رب ! عذاب میں سے ہمارا جو حصہ ہے وہ ہمیں یوم حساب سے پہلے ابھی جلدی دے دے، جیسا کہ ابوجہل وغیرہ نے نہایت دیدہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 15–16

15 ۔ 16: یہاں ینظر ینتظر کے معنی میں ہے اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : انظرونا نقتبس من نور کم ۔ الحدید (13: ھولا سے مراد کفار مکہ ہیں الا صیحۃ واحدہ سے مراد قیامت کا نفخہ ہے بعنی عزوہ بدر میں جو مصیبت انہیں پہنچی اس کے بعد وہ قیامت کے نفخہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے زندہ لوگ اس وقت صرف صیحہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں صیحہ سے مرادصور پھونکنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ان کے زندہ لوگ اس وقت صرف صیحہ کا ہی انتظار کر رہے ہیں صیحہ سے مراد صور پھونکنا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ما ینظرون الا صیحۃ واحدۃ تاخذہم و ھم یجصمون۔ فلا یستطیعون توصیۃ) یس (…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–16

:۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” وعجبوا ان جآء ھم منذر “ (اور انہوں نے اس بات پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انہیں میں ایک ڈرانے والا آگیا) یعنی محمد ﷺ (آیت) ” وقال الکفرون ھذا سحر کذاب (4) اجعل الالھۃ الھاواحدا، ان ھذا لشیء عجاب “ (اور کافروں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا ہے کہ اس نے معبودوں کی جگہ ایک معبود کو دیدی بلاشبہ یہ بہت بڑی عجیب بات ہے) فرمایا کہ کافروں نے تعجب کیا کہ وہ ایک اللہ کو پکاریں اور انہوں نے کہا کہ ہماری ساری حاجتوں کو ایک خدا پورا نہیں کرسکتا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے بدر کے دن کہا کہ وہ نہیں ہیں مگر عورتیں رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالُوْا [اور یہ لوگ کہتے ہیں ] رَبَّنَا [اے ہمارے رب ] عَجِّلْ [تو جلدی کر دے ] لَّنَا [ہمارے لئے ] قِطَّنَا [ہمارا حصہ ] قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ [حساب کے دن سے پہلے ] ۔ ق م م (ن) قطا قلم وغیرہ کو تراشنا۔ قط (1) حساب کا رجسٹر۔ چارج شیٹ (2) جزا و سزا کا حصہ۔ نصیب ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 16 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–16

اہل مکہ کو جب یہ بات بتائی جاتی تھی کہ انکار اور تکذیب پر عذاب آجایا کرتا ہے اور پہلی قومیں کفر پر جمے رہنے اور انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوچکی ہیں تو اس کا مذاق بناتے تھے اور اطمینان کے ساتھ دنیاوی اعمال میں مشغول رہتے تھے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ یہ لوگ بس اسی انتظار میں ہیں کہ ایک چیخ آجائے یعنی صور پھونک دیا جائے گا اس وقت جو چیخ ہوگی وہ رکنے والی نہ ہوگی سمجھداری اسی میں ہے کہ قیامت آنے سے پہلے ہی ایمان قبول کرلیں اور اپنا حال درست کرلیں۔ اور علامہ قرطبی فرماتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جسے سورة یٰسین میں فرمایا ہے، (مَا یَنظُرُونَ اِِلَّا صَیْحَۃً…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–16

تنبیہ وتوبیخ برانکار رسالت سید المرسلین ﷺ ومقابلہ قدرت رب العالمین :۔ قال اللہ تعالیٰ ، (آیت ) ”۔ ء انزل علیہ الذکر ...... الی ....... قبل یوم الحساب “۔ کفار مکہ کے دوسرے شبہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے۔ (آیت) ” ء انزل علیہ الذکر من بیننا “۔ کیا نازل کیا گیا ہے یہ ذکر اور کتاب نصیحت یعنی قرآن ہم سب میں سے صرف اسی شخص پر حالانکہ نہ یہ کوئی دولت مند ہے اور نہ کسی بستی کا سردار ہے حقیقت اس طرح نہیں ہے کہ اگر انکی خواہش کے مطابق قرآن کسی بستی کے سردار یا دولت مند پر اتارا جاتا تو یہ لوگ اسکی اتباع کرلیتے جیسے ان کا یہ قول قرآن کریم نے نقل کیا (آیت ) ” لولا نزل ھذا القران علی رجل من…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17:۔ وقالوا الخ : یہ شکوی ہے اور ابتدائے سورت سے متعلق ہے۔ بل الذین کفروا الخ : کفار و مشرکین غرور و استکبار میں مست ہیں۔ اور ازراہ تعنت و استہزاء کہتے ہیں قیامت کے دن ہمارے لیے جو عذاب تیار ہے وہ ہمیں دنیا ہی میں دیدو۔ قطنا ای قسطنا من العذاب الذی توعدنا بہ (بیضاوی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–16

ربط آیات : گذشتہ آیات میں مشرکین کا رد تھا جب اللہ نے نبی نے ان کو کفر اور شرک سے منع کرکے توحید کا درس دیا تو انہوں نے انکار کردیا اور تعجب کرنے لگے کہ کہا کہ کیا ہم بہت سے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک معبود پر اکتفا کرلیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ پھر وہ اس مجلس سے اٹھ کھڑے ہونے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کہ اس شخص کی دعوت خود غرضی پر مشتمل ہے لہذا اس کی بات نہ ماننا اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہنا کہنے لگے یہ اس شخص کی من گھڑت بات ہے جو ہم نے پہلے کبھی کسی سے نہیں سنی (رسالت پر اعتراض) گذشتہ درس میں مشرکین کی طرف سے توحید کے انکار کا بیان تھا اب آج کی آیات میں رسالت کا انکار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ۝ 16 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 16–26

ترکیب : القط النصیب و الحظ، حصہ والطیر معطوف علی الجبال محشورہ حال من الطیر الخصم فی الاصل مصدر فلذ الاثینی ولا یجمع و جمع الضمیر فی تسوروا اللاثنین جائز و اذا لاولی ظرف لنبا والثانیۃ بدل منھا الا الذین استثناء متصل۔ تفسیر : (3) شب معاد کی بابت تھا جس کو خدا تعالیٰ نقل کرتا ہے۔ وقالوا ربنا عجل لنا الخ کہ وہ قیامت کے قائم ہونے کو نہایت مستعد سمجھ کر پیغمبر ( علیہ السلام) سے کہتے ہیں کہ جو کچھ قیامت کے روز عذاب وثواب کا آپ ہمارے لیے وعدہ کرتے ہیں، وہ ہمارا حصہ جلد ہم کو دنیا ہی میں دے دیجئے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اصبر علی مایقولون ان کی ان بےہودہ باتوں پر صبر کر اور آپ کی تسلی کے لیے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–16

وَمَا یَنْظُرُ ھٰٓـؤُلَآئِ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً مَّا لَھَا مِنْ فَوَاقٍ ۔ وَقَالُوْا رَبّنَا عَجِّلْ لَّـنَا قِطَّنَا قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ ۔ (صٓ: 15، 16) (اور یہ لوگ بس ایک ڈانٹ کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی ڈھیل نہیں۔ اور انھوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ! روزِحساب سے پہلے ہی ہمارا حصہ ہمیں جلدی سے دے دے۔ ) قریش کا متکبرانہ رویہ اور اس کا جواب پہلی آیت میں قریش کے اس رویئے کا ذکر ہے جو ان کے انکارِ حق اور اصرارِ باطل سے پیدا ہوا ہے۔ اور دوسری آیت میں ان کے اس طنطنہ اور غرور کی طرف اشارہ ہے جس کی وجہ سے ان کی زبانوں پر ایسے الفاظ آگئے ہیں جو کوئی شخص بھی اس وقت تک نہیں کہہ سکتا جب تک کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–16

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس سے پہلی اقوام پر اس لیے عذاب آئے کہ وہ اپنے انبیاء کی تکذیب کرنے والے تھے۔ اہل مکہ ! تم بھی وہی وطیرہ اختیار کیے ہوئے ہو جب کہ تم ایک جھٹکے کی ما رہو اور ناکامی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ڈھیل سے مکہ والے اس قدر دلیر ہوچکے تھے کہ وہ نبی ﷺ کو بار بار کہتے کہ جس عذاب کی ہمیں دھمکی دی جاتی ہے اس کے آنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ یہ عذاب کیوں نہیں آتا ؟ وہ لوگ تمرد میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ ایک دن اپنے لیے ان الفاظ میں بد دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب قیامت کی بجائے دنیا میں ہی ہمارا حساب چکادے۔ انہوں نے اس طرح بھی دعا کی کہ ” کافروں نے کہا کہ اللہ اگر یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

استہزائے کفار : 16: وَقَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا (اور یہ لوگ کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمارا حصہ ہم کو پہلے دے دے) جنت والا حصہ۔ کیوں کہ رسول (علیہ السلام) نے مؤمنین کے ساتھ وعدئہ جنت کو ذکر کیا تو کفار بطور استہزاء کہنے لگے۔ ہمیں تو ہمارا حصہ اس میں سے جلدی دے دو یا بقول تمہارے اگر ہم عذاب کے حقدار ہیں تو عذاب والا حصہ جلدی ملا دو ۔ جیسا دوسرے موقعہ پر فرمایا ویستعجلونک بالعذاب ] الحج : 47[ القطؔ کسی چیز کا حصہ۔ کیونکہ وہ اسی کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ یہ قطہؔ سے ہے جبکہ اس کو کاٹا جائے۔ اس لئے انعامی دستاویز کو قطؔ کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ کاغذ کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ قَبْلَ یَوْمِ الْحِسَابِ (قیامت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16، وقالواربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب ، سعید بن جبیر ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں ہمارا لکھا ہواحساب۔ قط اس صحیفہ کو کہا جاتا ہے جس میں سب کچھ شمار کردیا گیا ہو۔ کلبی کا بیان ہے کہ جب سورة الحاقہ نازل ہوئی ، فامامن اوتی کتابہ بیمینہ، ۔۔۔۔۔ ، وامامن اوتی کتابہ بشمالہ ، تو مکہ کے کافروں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا، اے ہمارے رب ! ہمارا لکھا ہواتو ا بھی دے دے۔ سعید بن جبیر تابعی (رح) نے کہا کہ کافروں کی مراد یہ تھی کہ محمد ﷺ جس جنت کا ذکرفرماتے ہیں، اس کے اندرہماراجو نصیب اور حصہ ہو وہ ہم کو یہیں دیدے۔ حسن ، قتادہ، مجاہد اور سدی رحمہم اللہ کا قول ہے کہ ان کا مطلب یہ تھا کہ جس عذاب آخرت کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 16–17

16۔ 17 تفسیرابو العالیہ تفسیر سدی 2 ؎ تفسیر ضحاک اور تفسیر کلبی میں جو شان نزول اس آیت کی چند روایتوں سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے۔ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ سے جب یہ سنا کہ قیامت کے دن دائیں اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیئے جاویں گے اور جو لوگ جنت میں جاویں گے اور جو لوگ جنت میں جاویں گے۔ ان کو بڑی بڑی نعمتیں ملیں گی۔ تو مسخرا پن سے وہ مشرک یہ کہتے تھے۔ کہ وہ جنت کی نعمتیں دنیا میں ہی ہم آنکھوں سے دیکھ لیویں تو شاید ہم کو کچھ یقین آوے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرما دیا۔ کہ اے رسول اللہ کے ان نادانوں کی ایسی باتوں پر صبر کرنا چاہئے۔ وقت پر اپنے کئے کو خود یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–16

آیت 12 اللہ تبارک و تعالیٰ ان مشرکین کو ڈراتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کے ساتھ کیا گیا جو ان سے زیادہ قوت والی اور باطل پر ان سے زیادہ کمر بستہ تھیں :: (آیت) ” قوم نوح اور عاد “ جو کہ حضرت ہود کی قوم تھی : (آیت) ” اور میخوں والا فرعون “ یعنی جو عظیم فوج اور ہولناک قوت کا مالک تھا (وثمود) ” اور ثمود “ صالح کی قوم (وقوم لوط واصحب لئکۃ) ” اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ ‘ یعنی گھنے درختوں اور باغات کی مالک قوم، اس سے مراد، حضرت شعیب کی قوم ہے۔ (اولئک الاحزاب) جنہوں نے اپنی طاقت، افرادی قوت اور دنیاوی ساز و سامان کو حق کو نیچا دکھانے کے لئے جمع کیا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

21 حضرت داؤد کی زندگی سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے مخالفین کی دلآزاریوں پر حضرت ِداؤد کی زندگی سے تسلی حاصل کرنے کی تلقین وتعلیم فرمائی گئی ہے۔ " ایدی " جمع ہے " ید " کی۔ جس کے معنیٰ ہاتھ کے آتے ہیں۔ مگر یہاں یہ کنایہ ہے قوت سے۔ کیونکہ ہاتھ قوت کا ذریعہ اور مظہر ہوتا ہے۔ اور داؤد (علیہ السلام) کو واقعۃً اللہ پاک نے عقیدئہ و ایمان، عمل و اخلاق، دولت و سلطنت اور دین و دنیا کی بہت سی قوتوں سے خاص طور پر نوازا تھا۔ سو یہاں پر آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے توسط سے آپکی امت کے ہر داعی حق کو اپنے مخالفین کی دلآزار باتوں پر صبر و برداشت سے کام لینے کیلئے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–26

سابقہ امتوں پر عذاب اور کفار مکہ کو وعید تشریح : یہاں سب سے پہلے تو اللہ جل شانہ قرآن پاک کی قسم کھا کر نبی اکرم ﷺ کو یقین دلاتے ہیں کہ اس بات میں شک و شبہ کی کوئی بات نہیں کہ آپ بالکل حق پر ہیں۔ یہ آیات تب نازل ہوئیں جب عرب کے بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہو کر آپ کے چچا ابو طالب کے پاس یہ سفارش لے کر آئے کہ آپ اپنے بھتیجے کو توحید کی تعلیم دینے سے منع کریں۔ آپ نے ان کو بھی توحید کی دعوت ہی دی اور وہ ناراض ہو کر چلے گئے اور آپ کی نبوت پر الٹی سیدھی باتیں کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جہالت کا ذکر کیا کہ ان کو قرآن کا کیا پتہ یہ تو فخر و غرور اور لاعلمی کے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ابھی تو انہیں اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–26

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 15 تا 26: اسرار و معارف : انہیں صرف سور اسرافیل کی چنگھاڑ کا انتظار ہے یعنی یہ اپنے جرم کے باعث تباہی کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسی چنگھاڑ واقع ہوگی جس میں کوئی وقفہ بھی نہ ہوگا کہ گستاخی میں اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہتے ہیں اگر قیامت ہے اور اس روز عذاب ہوگا تو ہمارے حصے کا ہمیں ابھی دے دیا جائے آپ ان کی باتوں پہ صبر کیجیے اور اللہ کے بندے داود (علیہ السلام) کی بات یاد کیجیے کہ اللہ نے انہیں کس قدر قوت عطا کردی تھی اور وہ بہت عبادت کرنے الے تھے ہم نے ان کے ساتھ پہاڑوں کو مسخر کردیا تھا جو صبح و شام ان کے ساتھ ذکر کرتے تھے اور اڑتے پرندے تک ان کے پاس ذکر میں جمع ہوجاتے تھے۔ یوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی ہمارا معاملہ قیامت تک کیوں ٹالتا ہے جو سزا ہمیں اس وقت ملنے والی ہے وہ اسی دنیا میں دے ڈال۔ ( ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(38:16) قالوا۔ ضمیر فاعل جمع مذکر غائب کا مرجع وہی کفار قریش ہیں جن کے لئے اوپر ھؤلاء استعمال ہوا ہے۔ ای قالوا بطریق الاستھزاء والسخریۃ مخول اور ٹھٹھا کے طور پر کہتے ہیں۔ عجل لنا۔ عجل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تعجیل (نفعیل) مصدر سے تو جلدی کر ہمارے لئے۔ تو ہمیں جلدی دیدے۔ قطنا۔ مضاف مضاف الیہ۔ قط اصل میں س چیز کو کہتے ہیں جس کو عرض میں کاٹا گیا ہے ۔ جیسے قد اس چیز کو کہتے ہیں جو طول میں کو ٹی گئی ہو پھر جدا کردہ حصہ کو بھی قط کہنے لگے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک یہاں حصہ ہی مراد ہے یعنی ہمارا حصہ ہم کو جلدی دیدے۔ بعض کے نزدیک حصہ سے مراد عذاب کا حصہ ہے (یعنی کافر اسہزاء کہتے تھے کہ ہمیں قیامت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

الوہاب (بہت عطاء کرنے والا) مھزوم ( شکست کھائے ہوئے) حق ( ثابت ہوگیا ، طے ہوگیا) صیحۃ (چنگھاڑ، زور دار آواز) فواق ( مہلت ، ڈھیل) عجل ( جلدی سے دیدے) قط (حصہ) ذوالاید (قوت والا ، طاقت والا) اواب ( بہت رجوع کرنے والا) محشورۃ ( جمع کئے ہوئے) فصل الخطاب ( فیصلہ کرنے کی قوت و صلاحیت) تشریح : آیت نمبر 1 تا 20 :۔ سورة صاد کی ابتداء بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے ۔ قرآن کریم کی انیتس (29) سورتوں کی ابتداء میں یہ حروف آئے ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم وہ عظیم کتاب ہے جو حکمت و دانائی اور نصیحت و عبرت سے بھر پور ہے۔ یہ ان لوگوں کے لئے یاددہانی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) شان نزول : مشرکین مکہ نے نبی ﷺ سے جب یہ سنا کہ قیامت کے دن دائیں اور بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیے جائیں گے اور جو لوگ جنت میں جائیں گے ان کو بڑی نعمتیں ملیں گی تو کفار بطور استہزاء حضور ﷺ سے بولے کہ ہمارے نامہ اعمال تو ہم کو یہاں ہی دکھادیے جائیں ہم دیکھ لیں کہ ہم نے کیا کیا ہے اور ان میں کیا رکھا ہے تب یہ آیت اتری کہ اے محبوب ﷺ یہ کفار قرآن کی خبروں کو نہیں مانتے ہنستے ہیں کہتے ہیں کہ پروردگار حساب کے دن سے پیشتر ہمارے نامہ اعمال کو ہم دیدے تو اے محبوب تم ان خرافات کا کچھ جواب نہ دو ، صبر کروان کی باتوں پر دل ملول نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[8] یعنی جب قیامت کی دھمکی سنتے تو ہنسی کے طور کہتے کہ ہمیں اس وقت کا حصہ یہیں مل جائے اور ہم اپنا اعمال نامہ دیکھ لیں اور ہاتھ کے ہاتھ سزا سے فارغ ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–21

(ف 1) یعنی یہ لوگ تکذیب رسل میں کوئی قدرت سے کام نہیں لے رہے ، ان سے پہلے بھی قوموں نے اپنے پیغبروں کو جھٹلایا اور اللہ کا غضب اور غصہ حرکت میں آیا ہے ۔ اور ان منکرین کو چشم زون میں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے ۔ اس لئے اگر یہ بھی اسی انجام کے منتظر ہیں ۔ اور یہی چاہتے ہیں ۔ کہ اللہ کی غیرت کو آزمائیں ۔ تو یہ بھی دیکھ لیں ۔ اس کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ وہ اب بھی فطرت کے دشمنوں سے پوری طرح انتقام لے گا ۔ اور انہیں بتائے گا ۔ کہ حق وصداقت کا انکار کس درجہ مذموم ہوتا ہے ۔ حل لغات :۔ فلیرتقوا فی الاسباب ۔ غرض یہ ہے کہ اگر آسمان و زمین کی حکومت ان کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ تو پھر یہ کیوں آسمان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) اور ان منکروں نے بطور استہزا کہا اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری سر نوشت اور ہمارا حصہ ہم کو حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب وعدہ قیامت کا سنتے تو کہتے ہمارا حصہ ابھی ہم کو دیدے یہ ٹھٹھے تھے ان کے۔ خلاصہ : یہ کہ قیامت کا عذاب سن کر کہتے کہ قیامت تو آنے والی نہیں کافروں کو جو عذاب اس دن ہونے والا ہے اس میں سے ہمارا حصہ ہو وہ ہم کو یہیں مل جائے اور ہماری سر نوشت ہم کو یہیں دیدی جائے تاکہ ہم کو اپنا انجام معلوم ہوجائے تو ہم کو ہماری چھٹی اور پروانہ یا نامہ اعمال اسی دنیا میں دیدیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–23

ف 7۔ مطلب یہ کہ قیامت نہیں ہے، اور اگر ہے تو ہم کو ابھی عذاب مطلوب ہے، جب عذاب نہیں ہوتا تو معلوم ہوا قیامت نہ آوے گی۔ نعوذباللہ من الجھل۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمارا عذاب کا حصہ ہم کو یوم حساب سے پہلے ہی دے دے 16۔ جب پیغمبر اسلام نے ان لوگوں کو حساب کے دن یعنی قیامت کے عذاب سے ڈرایا کہ ضد سے تمہارا نقصان ہوگا اور تم قیامت کے روز عذاب کی لپیٹ میں آ جائو گے تو وہ مخالفت کے باعث اکڑ کر اور اترا کر کہنے لگے قیامت تو کب آئے گی اور کب نہیں آئے گی اے ہمارے رب ! ہمارا حصہ عذاب ہم کو جلد از جلد اسی جگہ دے دیا جائے اور یہ بات انہوں نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کر کے کہی آپ کو سنا کر کہی گویا مذاق ہی مذاق کے انداز میں وہ حد سے متجاوز ہو کر اپنی بےعقلی اور کوتاہ اندیشی کا ثبوت اس طرح پیش کرنے لگے کہ کھلے بندوں عذاب مانگنے لگ گئے کہ ہمارے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

عَجِّل لَّنَا قِطَّنَا (0 our Lord, give us our share [ of the punishment ] sooner, - 38:16 ). The word: قِطّ (qitt) used here is, in reality, the document through which someone has been promised with a reward. Later, this word came to be used also as a 'share' in an absolute sense. Here, this very sense is meant, that is, 'let us have whatever share is coming to us from the reward and punishment of the Hereafter right here in this world.'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

15 That is, `Allah's torment will be so severe and terrible as mentioned above, but just consider the behaviour of these foolish people: they are telling the Prophet. mockingly: `Do not put off our affairs till the Day of Reckoning with which you are threatening us, but settle our account just now: whatever punishment is to be inflicted on us should be inflicted immediately."

Read the full tafseer →